گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 20)

لن کی ٹوپی تہمینہ کی پھدی میں اتری اس نے اپنی ٹانگیں اکڑا لیں۔۔۔

میں رک گیا اور اس کے مموں کو دبانے لگا ساتھ ساتھ مموں ہر مسج بھی شروع کر دیا۔۔۔

کچھ دیر کی محنت رنگ لائی اس نے اپنی ٹانگیں ڈھیلی چھوڑ دیں لیکن اس کا جسم اکڑنے لگا اس کے ہاتھ میری کمر پر آ گئے۔۔۔

میں نے اپنے آپ کو ایڈجسٹ کیا اور اپنے ہاتھوں کی گرفت اس کے کندھوں پر مضبوط کی ۔۔۔۔

ساتھ ہی لن کی ٹوپی کو باہر نکال کر اس کی پھدی کے سوراخ پر کھ کر زوردار گھسا مارا اور اپنا ہاتھ اس کے کندھے سے ہٹا کر منہ پر رکھ دیا ۔۔۔

لن آدھے سے زیادہ اس کی پھدی میں اتر گیا لیکن اس نے مجھے ایک زوردار دھکا دیا میں یہ بھول گیا تھا کہ اس کے ہاتھ آزاد ہیں ۔۔۔۔

اس کے دھکے سے میں پیچھے گرنے سے تو بچ گیا لیکن لن پھدی سے نکل گیا اگر ہاتھ اس کے منہ پر نہ رکھا ہوتا تو آس کی چیخ باہر گلی تک جانی تھی۔۔۔۔

اس نے نہ صرف چیخ ماری تھی بلکہ میرے ہاتھ پر اپنے دانت بھی گاڑھ دییے تھے ۔۔۔

درد سے میری جان نکل گئی تھی اس کی اس حرکت پر مجھے بہت غصہ آیا میں نے دید لحاظ کو ایک طرف رکھا اور اس کی ٹانگیں کھول دیں ۔۔۔۔

خود کو اس پر سوار کرلیا اپنے ہاتھ اس کی گردن کے نیچے رکھے ۔۔۔

وہ چت لیٹی اپنی پھدی پر ہاتھ رکھے دبا رہی تھی اس کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے۔۔۔

میں جو یہ چیک کرنا چاہتا تھا کہ وہ سیل پیک ہے یا اپنا ہردہ بکارت تڑوا چکی ہے اب اس کی گنجائش نظر نہیں آ رہی تھی

۔۔

لیکن ایک بات مجھے ہضم نہیں ہو رہی تھی کہ اگر اس نے پہلے نہیں چدوایا تھا تو لن کو اس کی پھدی میں پھنس کر جانا چاہیئے تھا جبکہ لن کو اندر گھسا لگانے کے بعد کسی خاص رکاوٹ کا سامنا نہیں کرنا پڑا تھا۔۔۔

اس کے بر عکس اس کا ردعمل مختلف تھا جس طرح وہ تڑپی تھی یہ کنواری پھدی والوں سے بھی الگ تھا۔۔۔

اب تک ناہید کی پھدی میں زیادہ زور لگانا پڑا تھا بہت ٹائٹ تھی لیکن اس نے بھی ایسا ری ایکشن نہیں دیا تھا۔۔۔

لیکن میں اب اس طرح نیچے لیٹینے کے بعد بھی اگر جانے دیتا اوپر سے اس نے نو حرکت کی تھی میرا پارہ ہائی ہو گیا۔۔۔۔

اس کی ٹانگیں کھول دیں اور لن کو پھدی پر لایا لن کو پھدی پر لانے کے لیے مجھے ہاتھ کی ضرورت نہیں تھی کیونکہ لن اتنا سخت تھا کہ خود ہی پھدی پر جا لگا اور لبوں میں گھس گیا۔۔۔۔

وہ پھر مچلی اس نے اپنی گانڈ کو نیچے سے ہلا کر لن کو نکال دیا۔۔۔

میں نے اپنے ہاتھ اس کی کمر کے نیچے لے جا کر اس کو تھوڑا اوپر اٹھایا لیکن حیرت کی بات تھی کہ اس نے مجھے ایسا کرنے سے نہیں روکا ۔۔۔

بلکہ خود ہی میرے ساتھ چمٹ گئی اب ایک بار پھر میں نے گانڈ کو ہلا کر لن اس کی پھدی کی سیدھ میں کیا اور گھسا مار دیا۔۔۔۔

ایک ہی گھسے میں لن اس کی پھدی میں اپنی تمام لمبائی موٹائی سمیت گھس گیا۔۔۔

وہ تڑپی لیکن اس بار اس نے نکلنے کی کوشش نہیں کی مجھے حیرت پر حیرت کا جھٹکا دے رہی تھی۔۔۔

پہلے آدھا جانے پر تڑپنے والی اب پورا جانے کے بعد بھی ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔

میں نے سوچوں کی ماں کو لن دیا اور گھسوں سے پھدی میں اودھم مچا دیا ۔۔۔

جتنی تیزی سے گھسے مار سکتا تھا مارنے لگا وہ بھی آہ آہ آہ کرتی جب لن اندر گہرائی میں جاتا۔۔۔

چند منٹوں کی دھواں دھار چدائی کے بعد ہی میں تھک گیا تھا کیوںکہ ایک ہی انداز میں گھسے مار رہا تھا۔۔۔

اب تہمینہ نے بھی اپنے ہاتھ میری کمر پر اور اپنی ٹانگیں میری گانڈ پر کس لیں تھیں جس سے گھسے لگانے کی رفتار کم ہو گئی تھی۔۔۔

میں اس کے اوپر سے اٹھا ٹانگوں کو اٹھایا لن کو پھدی میں ہی رہنے دیا اس کی دونوں ٹانگیں جوڑیں اور گھسے شروع کر دییے۔۔۔

اب اس کی آوازیں واضح ہونے لگیں آہ اہ اہ اہ آہ اہ آہ اففففففف آئئییی آمممییی ججیجج۔۔۔۔

میں اس کی آواز سن کر اور جوش میں آگیا اور اور زور لگانے لگا گھسوں کی تیزی اور میرے جوش کا نتیجہ کی تھا کہ وہ فارغ ہو گئی لیکن میں اس کے فارغ ہونے کے دوران بھی لگا رہا ۔۔۔

لگاتار لن کو اندر باہر گھساتا رہا جب وہ فارغ ہو رہی تھی تو لن کو رگڑ زیادہ ملنے سے میں مزے کی انتہا پر پہنچ گیا ۔۔۔

اس کے فارغ ہونے کی چند ہی لمحوں بعد میری سپیڈ اپنی اتنہا کو پہنچ گئی ۔۔۔۔

میرے منہ سے بھی آہہہہہہ آہہ اہہہمممممممم کی آوازیں انے لگیں مزے بلندیوں پر لہنچتے ہی میرا لن اس کی پھدی کی گہرائی میں جا رکا اور برسات شروع کر دی ۔۔۔۔

لن نے جب اپنے پانی کا ایک ایک قطرہ تہمینہ کی پھدی میں بہا دیا تو میں اس کے اوپر سے الگ ہوا پسینے سے شرابور ہو چکا تھا اس کے خربوزے جیسے ممے پسینے سے چمک رہے تھے ۔۔۔۔

میں اس کے چہرے پر نظر دوڑائی وہاں کوئی پشیمانی کسی قسم کا غصہ نہیں تھا ۔۔۔

اس کا چہرہ آسودگی سے بھرپور تھا پر سکون لیٹی تھی میں کچھ دیر اس کی طرف دیکھتا پھر اس کے پہلو میں لیٹ کر خربوزوں سے کھلینے کے لیے اپنے ہاتھ ان پر رکھ دییے اور مسلنے لگا اس نے کن اکھیوں سے میری طرف دیکھا اور مسکرا دی ۔۔۔۔

کچھ دیر مموں کو مسلنے کے بعد میں نے اپنے ہونٹ اس کے بڑے بڑے مموں کے کالے موٹے نپلوں پر رکھ دئیے اور ہونٹوں سے کھینچنے لگا اس نے سئی کی آواز کے ساتھ میرے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔

ایک ہاتھ سے اس کے ایک ممے کو پکڑنے کی کوشش کرنے لگا جو کہ ناکام ہی رہی جب کہ دوسرا مما ہونٹوں میں تھا ۔۔۔

کچھ دیر کی کھینچا تانی کے بعد میں نے اپنی زبان کو نپل پر گول گول گھمانا شروع کیا کبھی زبان گھماتا کبھی نپل چوستا ۔۔۔

اس نے اب ایک ہاتھ مستقل میرے سر پر رکھ دیا تھا ۔۔۔۔

دوسرا ہاتھ اس نے میرے لن پر رکھا اور مٹھ مارنے کے انداز میں پھیرنے لگی۔۔۔۔

میں مسلسل اس کے خربوزوں سے سیر ہو رہا تھا وہ میرے لن کو رگڑ رہی تھی اس کے ہاتھوں کی نرمی سے لن میں کچھ جان آئی تو میری اندر بھی حرارت پیدا ہوئی میں سیدھا ہوا اور اس کے منہ کے قریب بیٹھ گیا۔۔۔

لن کو ہاتھ میں پکڑا اس کے لبوں سے لگایا وہ مسکرائی ۔۔۔

جب سے ہم نے یہ سب شروع کیا تھا پہلی دفعہ اس کے چہرے پر کھلی کھلی مسکراہٹ ائی تھی۔۔۔

اس نے ہاتھ بڑھا کر لن پکڑا تھوڑا گھومی جس سے اس کے ممے بھی ہلے جیسے زلزلہ آگیا ہو۔۔۔

وہ ایک دوسرے پر اس طرح سے گرے جیسے دو تودے اوپر نیچے گرتے ہیں ۔۔۔۔

گھوم کر اس نے اپنا منہ لن کے قریب کیا اور اپنی زبان نکال کر لن کی ٹوپی پر رکھ دی۔۔۔

لن کی ٹوپی پر اپنی زبان پھیرنے لگی میری پورے وجود میں گدگدی ہونے لگی۔۔۔

پوری ٹوپی پر اچھے سے زبان پھیرنے کے بعد اس نے زبان کو لن کی جڑ کی طرف بڑھایا اور جڑ تک لن کو چاٹا کر صاف کیا۔۔۔

اب وہ مسلسل اپنی زبان کو ٹوپی کے علاوہ ہورے لن پر پھیرنے لگی۔۔۔

ٹوپی کے قریب جا کر وہ اپنی زبان کا جادو لن کی ٹولی کے نیچے رنگ کے اردگرد پھیرتی میرا ہورا جسم اس کی اس حرکت سے کانپ اٹھتا۔۔۔

اس کی زبان کے جادو نے لن کو فل گرم کر دیا اچھی طرح لن کو چاٹنے کے بعد اس نے ثوپی کو اپنی منہ میں کے کر لولی پوپ کی طرح چوسنا شروع کر دیا۔۔۔

صرف ٹوپی کو ہی 5 منٹ تک چوستی رہی لن پھٹنے والا ہو گیا ۔۔۔

اس کے منہ میں اتنی گرمی تھی کہ میں آنکھیں بند کرتا تو مجھے لگتا کہ لن پھدی میں اترا ہوا ہے۔۔

تہمینہ کے لن چوسنے کے انداز سے مجھے یہ لگنے لگا کہ میں ابھی کے ابھی اس کے منہ کو اپنے نمکین مشروب سے بھر دوں گا ۔۔۔

اتنی مستی میں لن کو چوس رہی تھی جیسے یہ ہی اس کا سب سے پسندیدہ کام ہو۔۔۔

اس کا لن چوسنے کا انداز بہت ہی کمال تھا لن کو اپنے لبوں سے دباتی زبان کو ٹوپی پر اس انداز سے گھماتی کہ مجھے لگتا جیسے پھدی کی دیواروں سے لن کی ٹولی رگڑ کھا رہی ہو۔۔۔

میں فارغ ہی ہونے والا تھا کہ اس نے لن کو چھوڑا اور گوڈوں کے بل ہو گئی۔۔۔

اپنی گانڈ باہر نکال لی افففف کیا کمال کی گانڈ تھی دو پہاڑیوں کے بیچ گہری وادی تھی جو اوپر سے آپس میں مل کر باہر سے آنیوالی روشنی کو روکے ہوئے تھی۔۔۔۔

ایک لمبی لکیر اوپر سے نیچے کا رہی تھی جو پھدی کے سنگم پر جا کر ختم ہو رہی تھی۔۔۔۔

اس کے بعد گانڈ کے نیچے پانی کے قطرے ٹپکاتی موٹے لبوں والی کھلتی کلی جیسی بھورے رنگ کی جذبات کی شدت سے پھڑکتی کھلتی بند ہوتی لن کو اندھیرے کھوہ میں جانے پر مجبور کر نے والی پھدی تھی۔۔۔

گانڈ دیکھ کر لن مچلنے لگا تھا لیکن جب شاندار پھدی کا نظارہ دیکھا تو منہ میں پانی بھر گیا۔۔۔۔

میں بے اختیار اپنی زبان نکال کر پھدی کی طرف بڑھا اس سے پہلے کہ پھدی پر زبان لگتی وہ آگے ہو گئی۔۔۔۔

اس نے گھوم کر میری طرف دیکھا اور آنکھوں میں لن کی طلب لییے غور سے میری طرف دیکھا۔۔۔

میں نے اپنا ہاتھ اس کی گانڈ کی ایک پھاڑی پر رکھا اور اور انگوٹھا گانڈ کی دراڑ میں پھیرا ۔۔۔۔

تہمینہ نے اپنی گانڈ کو سخت کر لیا اور آگے کو مزید جھک گئی۔۔۔

پھدی اور واضح ہو گئی میں نے بھی اپنا دوسرا ہاتھ اس کے پانی سے نہائی پھدی پر رکھا جو گرم تندور بنی ہوئی تھی۔۔۔۔

میں نے پھدی کی گرمی دیکھتے ہوئے چوسائی کو چھوڑا اور لن کو پکڑ کر تھوڑا مسلا لن کی سختی چیک کی پھدی میں انگلی ڈال دی اس نےپھدی کے لبوں کو بھینچ دیا ۔۔۔۔

میں نے انگلی گول گول گھمائی اس نے گانڈ ہلائی اس وقت میں نے ایک اور کام کیا اسی طرح پھدی میں انگلی ڈالے ٹانگیں اس کے منہ کی طرف اپنا لن کر دیا اپنی انگلی اس کی پھدی میں ہی رہنے دی اس کی نظر لن پر پڑی وہ اپنی زبان نکال لن پر ٹوٹ پڑی ۔۔۔۔

لن کو پانی سے تر کرنے لگی اچھے سے اوپر سے نیچے زبان پھیری جب لن اچھی طرح تر ہو گیا تو میں نے پھدی سے انگلی نکالی اور اٹھ کر اس کی پھدی پر لن رکھ دیا ۔۔۔۔

پھدی پر لن رکھتےپھر میری نظر اس کی گانڈ پر ٹک گئی اس کی گانڈ سچ میں کمال تھی میرا دل کر رہا تھا پھدی کو چھوڑ کر اسی وقت لن اس کی گانڈ میں گھسا دوں۔۔۔۔

لیکن ابھی وقت نہیں تھا ایسی سیکس سے بھرپور جسمانی خدوخال والی اور سیکس کے رموز و اوقاف سے واقف کبھی کبھی کسی خوش نصیب کو ہی ملتی ہے۔۔۔۔

میں نے وقت ضائع کرنا مناسب نہ سمجھا لن کو پھدی کے لبوں سے لگایا اور لگاتے ہی گھسا مارا وہ اس گھسے کے لیے تیار نہیں تھی۔۔۔۔

گھسے مارنے سے وہ آگے کی طرف ہو گئی لن پھدی میں داخل ہوتے ہوتے رہ گیا ۔۔۔۔

میں نے اب اس کی گانڈ کو اطراف سے پکڑ کر پیچھے کیا لن کو پھدی کے پھولے لبوں میں گھسایا اور اپنی گانڈ کی مدد سے گھسا مارا لن بہت روانی سے پھدی میں غائب ہو گیا۔۔۔۔

لن پھدی میں غائب ہوا اور میرا اگلا حصہ اس کی ابھری ہوئی گانڈ کے ساتھ لگ گیا۔۔۔

میں نے پھر لن نکالا اور پہلے سے تیز گھسا مارا لن پھدی میں اترا اور اس کی گانڈ سے میرا جسم ٹکرایا جس سے تھپ کی آواز آئی میں اندر تک سرشار ہو گیا ۔۔۔۔

اب نے جان بوجھ کر تھپ تھپ کی آواز کے لیے ویسے ہی گھسے لگانے شروع کر دئیے۔۔۔

وہ ہر گھسے سے آگے کو ہوتی میں جب لن پیچھے کھینچتا وہ بھی پیچھے ہوتی۔۔۔۔

اب نے ایک ردھم سے گھسے مارنے شروع کر دئیے جس سے اس کی گانڈ سے میرا اگلا حصہ لگنے سے بڑی دلکش آواز پیدا ہورہی تھی یا پھر مجھے ایسا لگ رہا تھا۔۔۔۔

جب میری ٹانگیں تھک گئیں تو میں اسی طرح لن پھدی میں گھسائے اس کے اوپر ہوا اور بڑے بڑے مموں کو پکڑ لیا۔۔۔۔

لیکن گھسے نا رکنے دییے لگاتار تواتر سے لن اندر باہر جا رہا تھا اب اس کے مموں کو بھی کھینچتے ہوئے دبا رہا تھا دونوں مموں کو دونوں ہاتھ سے پکڑ کر پیچھے سے لن سے ٹھکائی کر رہا تھا ۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں اس نے اپنی گانڈ کو لن کی سمت میں دھکیلنا شروع کر دیا۔۔۔۔

میں جب گھسا مارتا وہ اپنی گانڈ سے لن کی طرف زور لگاتی جس سے گھسا تیز لگتا لن اپنی تمام لمبائی سمیت اندر اترجاتا وہ سسکی بھرتی پھر سے وہی عمل دہراتی۔۔۔۔۔۔۔

اس کے آخری مراحل شروع ہو گئے اس آواز بھی بدل گئی اب وہ باقاعدہ آہہہہہہ آہہہہہ ہہہممممممممممم کر رہی تھی یہ بھی میرے لیے نیا تھا کیونکہ ایک راؤنڈ پہلے بھی لگا چکا اس وقت وہ نخریلی گھوڑی بنی ہوئی تھی ۔۔۔۔

سب ایک دم چدکڑ رانڈ بن چکی تھی فل مزے سے چدوا رہی تھی۔۔۔۔

اس کی آوازیں میرا جوش بڑھا رہی تھیں جتنا وہ سسکتی اتنا ہی میں زور لگاتا لن اتنی ہی تیزی سے پھدی کی گہرائی میں اتر جاتا۔۔۔۔

وہ اور سیکسی انداز سے آواز نکالتی اب اس نے باقاعدہ چیخنے جیسی آوازیں نکالنا شروع کردیں تھیں چیخ نہیں رہی تھی لیکن چیخ نما تھی۔۔۔

میں ڈر گیا میں نے اس اپنا ہاتھ آگے بڑھایا اور اس منہ پر رکھ دیا اب اس کی گردن بھی اوپر ہو گئی اس نے اپنی گانڈ تیزی سے پیچھے کرنی شروع کر دی مجھ سے گھسے مارنے محال ہو گئے میں رک گیا لیکن اس نے اب گھسے سٹارٹ کر دئیے چند ہی گھسوں میں اس کے جسم نے اپنی اکڑن پکڑلی اور اس کی تندوری پھدی نے میرے لن کے گرد اپنے تمام مسام کس لیے۔۔۔۔

اس کے جسم نے زوردار جھٹکا کھایا اس نے میرا ہاتھ جو منہ پر تھا اس پر اپنے دانت گاڑھ دئیے پھدی کے تمام مسام ایک دم کھل گئے اور لن کی نہلائی کا کام شروع کر دیا۔۔۔۔

کچھ دیر وہ جھٹکے کھاتی رہی پھر بے جان ہو کر آگے کو لیٹ گئی لیکن میرا لن ابھی تیار تھا وہ آگے کو ہو کر لیٹ گیی لن پھدی سے نکل گیا۔۔۔۔

میں بھی اس کے اوپر ہی لیٹ گیا اور لن کو گانڈ کے نیچے سے پھدی میں گھسا دیا ۔۔۔۔

پھدی گیلی ہونے کی وجہ سے لن اندر اتر گیا لیکن اب مزہ زیادہ آیا۔۔۔۔

مزہ آنے کی وجہ پھدی کی پوزیشن تھی اس انداز میں پھدی میں لن رگڑ بھی زیادہ لگاتا ہے اور ایک ٹکٹ میں دو مزے بھی ملتے ہیں۔۔۔

لن تو پھدی کی سیر کر رہا ہوتا ہے جبکہ گانڈ می نرمی بھی مزہ دے رہی ہوتی ہے جلد ہی اس کو مزہ آنے لگ گیا اس نے آہ اہ اہ ہمممم کرنا شروع کر دیا ۔۔۔۔

وہ بھی گانڈ کو دائیں بائیں گول گول گھمانے لگی نیچے سے ہلنے لگی۔۔۔۔

میں نے اپنا سارا وزن اس پر ڈالا اور لیٹ گیا اپنا منہ اس کی گردن پر رکھا اور زبان نکال کر پھیرنے لگا۔۔۔۔

ساتھ ساتھ کبھی کبھی ہلکے سے دانت بھی کاٹ لیتا لیکن وہ مزے میں ڈوبی سسکاریاں ہی بھر رہی تھی دس منٹ اور پھدی کی گہرائی ناپنے کے بعد لن نے پھولنا شروع کر دیا۔۔۔

اب اس کی روان پھدی بھی تنگ لگ رہی تھی اسی تنگی میں تیزی سے لن گھسا رہا تھا پھر لن میری تیزی کی وجہ سے پھدی سے نکل گیا میں نے اسی تیزی سے بغیر دیکھے پھر سے گھسا دیا ۔۔۔۔۔

اس کا پورا جسم کانپا اس نے نیچے سے نکلنے کی کوشش کی اور چیخ ماری لن بھی پھنس گیا۔۔۔۔۔

تہمینہ ہاتھ نیچے مارتے ہوئے رونے لگی لیکن میں مزے کی گہرائیوں میں پہنچا ہوا تھا لن پر دباؤ بڑھاتا جا رہا تھا ۔۔۔۔

جب لن نے آگے جانے سے انکار کیا تو میں رک گیا لن کو پیچھے کھینچا لیکن لن اسی طرح پھنستا ہوا نکلا۔۔۔۔

میں نے پھر بھی غور نہ کیا سارا لن باہر نکالا صرف ٹوپی اندر رہنے دی اس نے سکون کا سانس لیا اس سے پہلے کہ میں پھر اندر گھساتا اس نے اپنی گردن گھما کر میری طرف دیکھا اور بولی یہ کدھر کر دیا میری پھاڑ دی ہے تم نے پاگل ہو گئے ہو۔۔۔۔

میں نے پھر اس کی بات کو نہ سمجھا ایک بار پھر لن پر دباؤ بڑھایا اور اندر گھسا دیا وہ پھر تڑپی نیچے سے نکلنے کی کوشش کرنے لگی ۔۔۔۔

میں اس پر سارا وزن ڈالا اور اپنے بازو اس کے بازوؤں کے نیچے سے گزار کر اس کے کندھے تھام لیے۔۔۔۔

اور لن کو اندر باہر کرنے لگا اب سپیڈ کم ہو گئی تھی کیونکہ لن پھنس پھنس کر جا رہا تھا ۔۔۔۔

میں نے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا اتنی ٹائٹ کیسے کر لی ہے تم پہلے تو روانی سے جا رہا تھا۔۔۔۔

اس نے رونی آواز میں کہا پہلے دیکھ تو لو کہاں گھسایا ہوا ہے بدھو تمہیں پھدی اور بنڈ کا فرق بھی نہیں پتا۔۔۔

میں بجائے حیران ہونے کے خوش ہو گیا اور مسکراتے ہوئے بولا فرق بہت پتہ ہے بس تمہاری گانڈ ہی اتنی زبردست ہے کہ مجھے پتہ ہی نہیں چلا پھدی ہے یا گانڈ۔۔۔۔

وہ بولی اب اگر ڈال ہی لیا ہے تو آرام سے کرو کچھ دیر اب تکیلف کم ہو گئی ہے۔۔۔۔

پتہ نہیں یہ کیا چیز تھی آج مجھے جھٹکے پر جھٹکا دے رہی تھی پہلے پھدی میں جانے پر واویلہ کیا پھر خود چوسائی کی پھدی مروائی اور اب گانڈ میں لن جانے پر بھی اس کو کوئی اعتراض نہیں تھا۔۔۔۔

مجھے ایک بات واضح ہو گئی کہ اس کی پھدی تو کنواری نہیں تھی لیکن گانڈ کا فیتہ میں نے کاٹا ہے ۔۔۔۔۔

میں نے کچھ دیر آرام سے کیا لیکن چس نہ آئی بند بنڈ مارے تے آرام نال مارے لوڑا چس آنی اے۔۔۔۔

میں نے بیت آرام سے لن نکالا ہاتھ سے ٹٹول کر پھدی پر رکھا اور زور سے گھسا دیا پھر نکالا پھر گھسا دیا تین بار ایسے کیا ہر بار تہمینہ سسکاری بھرتے کہتے آہ آہ آہ ظالماں آرام نال کر اس کے منہ سے پہلی بار پنجابی کے الفاظ سن رہا تھا۔۔۔۔۔

میں نے لن کو اچھی طرح تر کیا اس کے بازوؤں سے ہاتھ نکالے اس کے اوپر دونوں طرف اپنی ٹانگیں کر کے بیٹھ گیا لن ہاتھوں سے اس کی گانڈ کی پھاڑیوں کو کھول کر دیکھا ۔۔۔۔۔۔

افففف ایک چھوٹا سا ہلکے بھورے رنگ کا سوراخ جو کچھ دیر پہلے کے حملوں کی وجہ ابھی بھی کھل اور بند ہو رہا تھا۔۔۔۔

میں نے جلدی سے تھوک پھینکی سوراخ لر تھوک دائیں بائیں بھی لگ گئی میں دو تین تھوک کے گولے بنا کر پھینکے پھر لن می ٹوپی سوراخ پر ٹکائی اس کی گاند کی پھاڑیوں کو چھوڑا تو آدھا لن اس کی گانڈ کی بھاری پھاڑیوں میں چھپ گیا۔۔۔۔۔

میں لن سوراخ رکھ کر اس کے اوپر لیٹ گیا اور زور سے گھسا مارا اور اس کے کندھوں لر دباؤ ڈال کر اس کو قابو میں رکھا۔۔۔۔

پھر انے واہ گھسے مارتا رہا اس کے کسی بات کو نہ سنا کوئی 4 سے 5 منٹ اسی سپیڈ سے لگا رہا لن پھولنے لگا اگر بیچ میں وقفہ نہ آتا تو اب تک میں فارغ ہو چکا ہوتا۔۔۔۔

میرا سارا خون ٹانگوں کی طرف دوڑتا محسوس ہوا میں مزے انتہا تک پہنچ گیا گھسے بھی طوفانی ہو گئے تہمینہ کی آہ بکا بھی بڑھ گئی ۔۔۔۔

ایک دم بہت زور کا گھسا مارا سارا لن اس کی گانڈ میں اتارنے کی کوشش کی جو کہ پوری نہ ہوئی کیونکہ اس کے چوتڑ بہت بھاری تھے۔۔۔

میں جھٹکے کھاتے فارغ ہونے لگا اچھی طرح فارغ ہو کر میں اس کے اوپر سے ایک سائیڈ پر لیٹ گیا وہ ویسے ہی الٹی لیٹی رہی کچھ دیر بعد میں ایزی ہوا اور اٹھ کر کپڑے پہنے اس نے بھی اپنے کپڑے پہنے اور بولی ابھی بھی میری گانڈ میں جلن ہو رہی ہے ۔۔۔۔

میں صرف مسکرایا بولا کچھ نہ وہ پھر بولی ویسے تم یہ سب کرنے کا سوچ کر ائے تھے۔۔۔۔

میں نے کہا نہیں لیکن تمہارے جسم کی گرمی اور جسم میں چھپی شہوت سیکسی فگر نے مجھے ہوش سے بیگانہ کر دیا تھا ۔۔۔۔

وہ میری طرف دیکھتے ہوئے بولی باتیں بہت اچھی کر لیتے ہو اچھا ابھی جاؤ پھر تم نے اچھا نہیں کیا اگر مجھے ذرہ بھی شک ہوتا کہ تم یہ سب کرو گے میں کبھی بھی تمہیں نہ بلاتی۔۔۔۔

میں نے اب اس کی باتوں کو سمجھنے کی کوئی کوشش نہ کی اور نہ ہی اس پر کوئی خاص توجہ دی ۔۔۔۔

میں سمجھ گیا تھا کہ یہ بہت بڑی توپ چیز ہے جس نے مجھے استعمال کیا اور

میں سمجھ رہ تھا کہ میں نے اس کو شکار کیا میں شکاری نہیں تھا بلکہ شکاری وہ تھی اس نے مجھے شکار کیا تھا۔۔۔۔

میں اس سوچ کو ذہن سے جھٹکتے ہوئے کہا جو بھی ہو لن پھدی میں جائے یا پھدی لن پر آئے بات ایک ہی ہے میں اس کی پھدی ماری ہے چاہے اس نے مجھے گھیرا یا میں نے اس کو گھیرا کوئی معنی نہیں رکھتا۔۔۔۔

میں نے نکلنے سے پہلے اس کو گلے سے لگایا اور ہونٹوں پر ہونٹ رکھے ایک لمبی کس کی اس کے بڑے بڑے سنگتروں کو دبایا اور باہر نکلنے لگا تو وہ بولی ایک منٹ رکو۔۔۔۔

مجھے روک کر وہ گھر والی طرف گئی پھر واپس آئی کھڑکی کھول کر گلی میں جھانکا اور مجھے کہا ب جاؤ اور پلیز اب کچھ دن ادھر سے نہ گزرنا جب ملنا ہو گا میں گراؤنڈ کے پاس سے گزرتے ہوئے تمہیں بتا دوں گی۔۔۔

میں اوکے کہا اور نکل گیا باہر نکلا تو دیکھا کہ دھوپ بہت اوپر آگئی ہے جیسے دن کے بارہ بج گئیے ہوں ۔۔۔

میں کب اس کے پاس اندر گیا تھا کوئی 7:30 کا وقت تھا لیکن اب 11:00 سے اوپر ٹائم تھا ۔۔۔۔

میں اتنی دیر اندر رہا تھا ہا مجھے غلط فہمی ہوئی تھی۔۔۔

جو بھی تھا مزہ بہت آیا تھا۔۔

میں تیز فیز چلتا گھر گیا دراوزے پر دستک دی تو بھا ہاسشم نے بوہا کھولا اور غصے سے بولے کہاں تھا۔۔۔

میں بہانہ بنایا کالونی سائیڈ پر سیر کرنے گیا تو وہاں لڑکے کرکٹ کھیل رہے تھے میں بھی ان کے ساتھ کھیلنے لگ گیا اس لیے اتنا ٹائم ہو گیا ہے۔۔۔۔

کرکٹ کا بہانہ بھائی ہاشم کے سامنے اس لیے چل جاتا تھا کیونکہ وہ بھی میرے فین تھے میری بیٹنگ ان کو بہت پسند تھی خاص طور پر جو کور میں سکس لگاتا تھا یا فور لگاتا تھا اس کو بہت انجوائے کیا کرتے تھے۔۔۔۔

بھائی سے بچ گیا امی ویسی ہی بہت پیار کرنے والی تھیں وہ بس سمجھاتی تھیں کہ آوارہ گردی نہ کیا کرو پڑھائی کی تمہارے ابا جی ماریں گے ان کی یہ دھمکی بھی بہت پیار بھری ہوتی تھی نہ آج تک اباجی نے مجھے مارا ہاں ڈانٹا ضرور کرتے تھے اور اچھا خاصہ ڈانٹتے تھے لیکن میں ان کی ڈانٹ کو ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دیتا تھا۔۔۔۔

امی نے باجی کو کھانا دینےکو کہا کھانا کھایا اور سو گیا آج سچ میں بہت تھکاوٹ ہو گئی تھی ۔۔۔۔

اتنی سوفٹ پھدی اور گانڈ جس کو مار کر آیا تھا اس کے مموں کے مارے میں آج بھی جب سوچتا ہوں تو لن کھڑا ہو جاتا ہے ۔۔۔۔

میں تہمینہ کے رویے اس کی پھدی کی چکناہٹ گانڈ کی تنگی چوتڑوں کی گولائی کے بارے میں سوچتے سوچتے نیند کی وادی

یں اتر گیا۔۔۔۔

عصر سے کچھ دیر پہلے آنکھ کھلی اٹھا نہایا نہا کر کرکٹ کھیلنے کے لیے گراؤنڈ چلا گیا لیکن وہاں ابھی کوئی نہیں آیا تھا ساتھ ہی ٹاؤن کی مارکیٹ تھی اس مے سامنے ایک چھوٹا سا پارک تھا جس کے ارد گرد باڑ لگی ہوئی تھی وہاں ہم اکثر بیٹھا کرتے تھے وہاں بیٹھ گیا۔۔۔۔

ایک منٹ ہی ہوا ہوگا کہ وہاں ایک لڑکا آگیا ۔۔۔​​



Source link

Leave a Comment