گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 23)

وہ دونوں تمہارے جانے کے بعد آ گئے ڈنگی نے صنم کی جم کر چودائی کی صنم کی آواز باہر گلی میں سنائی دی یا کسی نے جا کر صنم کی ماں کو بتایا یہ پتہ نہیں چلا یہ ضرور پتہ چلا کہ ڈنگی نے صنم کی گانڈ بھی ماری تھی جس کی وجہ سے صنم کی آواز بلند ہوئی بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ اس کی چیخیں نکلوا دیں ۔۔۔۔

میں نے اس کی بات ٹوکتےہوئے کہا آواز سن کر صنم کی ماں نہیں آ سکتی یہ ضرور کسی نے اس کو جا کر بتایا ہوگا ۔۔۔

فجا نے کہا پہلے پوری گل سن تا لے پھر اپنی ٹانگ گھسانا۔۔۔

میں نے کہا چل بتا ۔۔۔

فجا بولا چھنو کو بھی یہ شک تھا کہ صنم نے تجھ کو دی ہے شک نہیں بلکہ اس کو پورا یقین ہے کہ صنم نے تجھ کو دی اس لیے چھنو نے اس کی ماں تک یہ بات کسی کے ذریعے پہنچائی اور پہنچانا والی کو اس نے پیسے دئیے تھے کہ اس کا نام نہ آئے ۔۔۔۔

صنم کی ماں بہت چالاک تھی اس نے اپنی بیٹی کو بچانے کے لیے سارا الزام چھنو پر لگایا چھنو کی ماں کو الٹا چھنو کی شکایت لگا دی ڈنگی تو بھاگ گیا تھا صنم کی ماں نے اس کو پہچانا یا نہیں لیکن اس کے بعد ڈنگی اور صنم کی ملاقات نہیں ہوئی ۔۔۔۔

باقی پھر تو جانتا ہے چھنو کی ماں پھر کیسی ہے اس نے خوب ہنگامہ کیا پہلے چھنو سے پوچھا چھنو نے سارا معاملہ بتا دیا بس بیچ میں تمہارا اور اپنا ذکر گول کر گئی تھی۔۔۔۔

میں یہ سب سن کر حیران ہوئے بغیر نہ رہ سکا کہ فجے کو یہ سب اتنی تفصیل سے کیسے پتہ ہے اور اندر کی باتیں بھی لیکن میں نے اس سے یہ پوچھنا مناسب نہ سمجھا۔۔۔۔

پھر ہم وہاں سے نکل کر دکان والی سائیڈ پر چلے گئے ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگ گئے ۔۔۔

میں اس سے کہا یار مجھے اس کی بات کی سمجھ نہیں آتی کہ صنم کے ساتھ میں نے کچھ نہیں کیا لیکن تم بھی کہہ رہے ہو پہلے بھی تم نے کہا تھا اب تم نے کہا چھنو کو بھی شک ہے لیکن یار میں نے اس کی نہیں لی۔۔۔

ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک دن کماد میں کوئی تھی جس نے خود مجھے بے بس کر دیا تھا میں اس کی نہیں کی بلکہ اس نے زبردستی مجھے دی میں نے اس کا چہرہ تک نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔

میں نے فجے کو یہ نہیں بتایا کہ مجھے وہ صنم ہی لگتی ہے اس کے ابھار اس کے اٹھلاتے چوتڑ اس کی بڑی بڑی آنکھیں اور ایک دن اس کے جسم سے اٹھتی خالص زنانہ خوشبو جو ہر ایک کی الگ الگ ہوتی ہے ان سب باتوں سے میں نے بھی یہ ہی نتیجہ اخز کیا تھا کہ وہ صنم ہے۔۔۔۔

اب میں صنم سے تنہائی میں ملنے کے بارے میں غور کرنے لگا اس کے لیے بھی مجھے کسی سے مدد درکار تھی لیکن اچھی فجے کو نہیں بتانا چاہتا تھا ۔۔۔۔

ہم دکان پر گئے وہاں ایسے ہی گپ شپ کرتے رہے پھر گھر آ کر سو گئے۔۔۔

دوسرے ختم تھا صبح اٹھتے ہی ہمارے ذمہ کام لگا دییے گئے پھر وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا اور ختم ہو گیا۔۔۔

ختم مسجد میں دلوایا جو کہ چھنو کے گھر کے ساتھ ہی تھی وہاں میں نے چھنو اور صنم دونوں کو چھنو کی چھت پر دیکھا جو مجھے ہی دیکھ رہی تھیں ۔۔۔۔

میں نے ادھر ادھر دیکھا اور گلی میں ایسے ہی ایک چکر لگانے کے لیے گیا چھنو تو نکلی لیکن صنم چھنو کے گھر سے نکل رہی تھی اس نے مجھے سمائل دی جس میں بہت کچھ واضح تھا ۔۔۔

میں اس کو دھیمی آواز میں کہا مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔۔

اس نے گلی میں نظر دوڑائی اور بولی ختم کے بعد تم شازی لوگوں کی بیری کے پاس آ جانا ہم لوگ ادھر جا رہے ہیں ۔۔۔

میں نے ہاں میں سر ہلایا اور نکل گیا۔۔۔

اب مجھے جلدی لگ گئی تھی کہ جلدی سے اس سب سے فارغ ہوں اور صنم سے ملنے کے لیے جاؤں ختم کا ٹائم صبح 10 بجے کا رکھا گیا تھا جب کہ اب 11 بج چکے تھے لیکن ابھی تک تقریر ہی جاتی تھی۔۔۔

جیسے تیسے ختم ہوا میں چپکے سے وہاں سے نکلا اور پگڈنڈی کے راستے اپنی مقررہ جگہ پہنچ گیا لیکن وہاں مجھے کسی کا نام ونشاں نہ ملا میں بیری کے نیچے رک کر ادھر ادھر دیکھنے لگا۔۔۔۔

مجھے تھوڑا دور ایک پی ٹی آر پر کچھ عورتیں کپڑے دھوتی نظر آئیں ۔۔۔

پی ٹی آر جس کو ہم لوگ پٹیر کہتے ہیں اور کچھ لوگ بمبا بھی کہتے ہیں واقف ہر کوئی ہوتا ہے بس سمجھنے میں مشکل ہو سکتی ہے یہ بمبے ہمارے گاؤں میں کافی تھے کیونکہ ہمارے گاؤں میں بجلی لیٹ آئی تھی اس لیے تقریباً ہر مربع میں ایک تھا۔۔۔۔

میں ایسے ہی غور سے ادھر دیکھنے لگا کچھ دیر میں وہاں سے کوئی اٹھا تو مجھے سمجھنے میں ذرہ بھی دیر نہ لگی کہ وہ کون ہے میں نے جب تسلی کرلی کہ وہ صنم ہے تو میں فوراً بیٹھ گیا کیونکہ اگر صنم کے علاوہ کوئی دیکھتا تو مسئلہ ہو سکتا تھا۔۔۔۔

5 منٹ ہی گزرے ہوں گے کہ مجھے قدموں کی آواز آئی میں نے آواز کی سمت دیکھنا شروع کردیا جلد ہی مجھے صنم کی جھلک دکھائی دی ۔۔۔۔

میں اٹھنے لگا پھر خود ہی بیٹھ گیا کیوں کہ وہ اکیلی نہیں تھی اس کے ساتھ کوئی تھا جس کو میں نے ابھی تک دیکھا نہیں تھا کیونکہ وہ جو بھی تھی اس کے پیچھے تھی۔۔۔

صنم چلتی ہوئی بیری کے نیچے آ گئی اور رک کر بولی کومی تو انج کر ایتھے رک اور بیر توڑ میں آوندی آں۔۔۔۔

مجھے بھی پتہ چل گیا کہ اس کے ساتھ کون تھا فجے کی دوست کومل تھی اب مجھے ساری بات سمجھ گئی کہ فجے کو اتنی ساری باتیں کہاں سے پتہ چلتی ہیں ۔۔۔۔

صنم اس کو یہ کہہ کر میری ظرف آئی اور دیکھ کر کہا میں اوس درخت دے تھلے چلی آں تو وی نیواں نیواں اوتھے آجا فیر کر لیں جو گل کرنی ہووو گی۔۔۔

میں اس کے ہاتھ کے اشارے کی سمت دیکھا ایک ٹاہلی کا درخت گندم کی فصل جے بیچوں بیچ کھڑا تھا وہ نیچے بیٹھی اور پھر کومل کو کہا نی گل سن کوئی آوے تاں سنبھال لیں۔۔۔

کومل نے چل ہن جا چھیتی آیں ۔۔۔

صنم کوڈی ہو کر چلنے لگی میں نے بھی اس کی تقلید کی اور اور ہم اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ گئے۔۔۔۔

صنم وہاں جا کر بیٹھ گئی اور سستانے لگی میں بھی اس کے پیچھے پہنچ کر بیٹھ گیا اور اپنی کمر پر ہاتھ رکھ کر سانس لینے لگا۔۔۔

صنم نے میرے کول اتنا ٹیم نیں ہے جو گل کرنی ہے جلدی کر لے۔۔۔

میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولا ایک نہیں دو باتیں پوچھنی ہیں لیکن مجھے دوسری بات سے کوئی غرض نہیں تم بتاؤ یا نہ بتاو پہلی بات جو پوچھو وہ سچ سچ بتا دینا۔۔۔۔

یہ کہہ کر میں کھسکتے ہوئے اس کے قریب ہو گیا اس کا بھی ایک مقصد تھا کہ اگر وہ اس مقصد سے آئی ہے تو لگے ہاتھوں اس کی بھی مار لوں گا۔۔۔۔۔

اس نے کوئی ردعمل نہ دیا بس میری طرف بڑے معنی خیز انداز سے دیکھتی رہی۔۔۔

میں جیسے ہی اس کے قریب ہوا اس کے جسم سے نکلنے والی خوشبو نے مجھے اپنی طرف متوجہ کر لیا۔۔۔

یہ خوشبو میرے ذہن ودماغ پر اس دن بھی ایسے ہی حاوی ہو گئی تھی مجھے اب یقین ہو گیا تھا کہ اس دن صنم ہی تھی ۔۔۔

اس کا جسم پسینے سے شرابور تھا جس کی وجہ سے اس کے مموں سے نکلنے والی زنانہ خوشبو کافی پھیلی ہوئی تھی۔۔۔

میں نے اپنے ہواس کو بحال رکھتے ہوئے پوچھا صنم سچ سچ بتانا ۔۔۔

وہ بولی پوچھو گے بھی یا نہیں۔۔۔

میں نے کہا اس دن کماد میں نقاب کیے تم ہی تھی نا۔۔۔

وہ مسکرائی اور بولی کیوں تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے کہ میں تھی۔۔۔

میں نے اس کی آنکھوں میں جھانکا اور مزید قریب ہو گیا اور بولا تمہارے جسم سے اٹھتی یہ مدہوش کر دینے والی خوشبو مجھے چیخ چیخ کر کہہ رہی ہے کہ میرے ہوش اڑانے والی مجھے نیئے جہاں سے متعارف کروانے والی میرے اندر سیکس کی بھوک بڑھانے والی اپنے مر مریں جسم سے میرے اندر ہلچل مچانے والی اپنی انتہا کے خوبصورت جسم کے خدوخال سے مسحور کر دینے والی کوئی اور نہیں بلکہ تم ہو۔۔۔

تمہارے جسم کے اتار چڑھاؤ ایک ایک انگ ایک ادا ایک عضو مجھے یاد ہے۔۔

میں جس زاویے سے بھی دیکھوں مجھے تم لگتی ہو۔۔۔

وہ صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کر رہی تھی اس کی آنکھوں کی چمک سے اس کے اندر اٹھتے جوار بھاٹے کا اندازہ کیا جا سکتا تھا۔۔۔۔

میں کچھ اور اس کے قریب کھسک گیا اپنی آنکھوں کو بند کیا اس کے جسم سے اٹھتی پسینے اور اس کے بدن کی آتشیں خوشبو میرے اندر تک کو سلگانے لگی میں اس سے بات کرنا بھول کر اس پر زور خوشبو کو اپنی نتھنوں سے اپنے اندر اتارنے لگا اور اپنی ناک خوشبو کے منبع کی طرف بڑھا دی۔۔۔۔

آہہہ جیسے جیسے میرا چہرہ قریب ہوتا جا رہا تھا مجھ پر نشہ سا طاری ہو رہا تھا مجھے گرمی کا احساس ہونے لگا اپنے ناک کے بالکل قریب بھاپ سی اٹھتی محسوس ہوئی جو سیدھی نتھنوں سے ٹکرا رہی تھی اتنی مسحورکن گرمی اس گرمی میں لپٹتی شہوت انگیز مہک نے میرے جذبات میں بھونچال پیدا کر دیا۔۔۔۔۔

میں رکا اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا ناک کی سیدھ میں شہوت سے معطر چشمے پر رکھ دیا افففففف اتنی نرم و گداز دو پھولوں کی وادی کہ میرے ہاتھ کی انگلیاں پھسل کر وادی میں گھس گئیں ۔۔۔۔

میں کبھی دائیں طرف کی پتی کو انگلیوں سے رگڑتا تو کبھی بائیں طرف کی پتی کو الٹی سائیڈ سے میری انگلیاں بھیگ گئیں میں ہاتھ پیچھے ہٹانا چاہا تو مخروطی ہاتھ نے بڑی نرمی سے میرے ہاتھ کو وہیں دبا دیا۔۔۔۔

اک احساس جاودانی لیے میں نے اپنے ہاتھ سے دو پھولوں کی وادی کے رقبہ کو ماپنا شروع کر دیا ۔۔۔۔۔

اگر پیمائش کرنے کے لیے ایسا نرم وگداز رقبہ ہو اور پیمائش بھی اپنے ہاتھوں سے کرنی ہو تو کون انکار کر سکتا ہے۔۔۔۔

میں نے بھی دونوں پھولوں کے ارگرد گرد ہاتھ چلانے شروع کر دئیے کمال کے گول گول پھول تھے دونوں ہی کسی بھی چاردیواری کی بندش سے آزاد تھے ۔۔۔۔

میں نے ہاتھ کی دو بڑی انگلیوں سے ایک پھول کے ابھری ہوئی کونپل کو پکڑ کر کھینچا صنم کے منہ سے بے اختیار سی نکلا اس نے میرا ہاتھ دبا دیا اور اپنا چہرہ میرے چہرے کے قریب لے آئی اس کی سانس کی حدت مجھے اپنے بائیں گال پر آگ برساتی محسوس ہوئی۔۔۔۔

میں نے ایک کونپل سے سے کھیلنے کے بعد اپنے ہاتھ کو پھول سے اتار اپنے ہاتھ کی پشت سے رگڑ لگاتے ہوئے وادی سے گزر کر دوسرے گول مٹول سے پھول جیسے ممے پر ہاتھ کی پشت سے رگڑ لگائی اور اسی طرح سے دو انگلیوں میں نپل کو کس لیا اور مسلنے لگا میری آنکھیں ابھی بھی بند تھیں لیکن جذبات جاگ چکے تھے میرا گھوڑا بھی اپنی گردن گردن اکڑا کر سر کو دائیں بائیں مار رہا تھا۔۔۔۔

دوسرے ممے کو مسلنا صنم سے برداشت نہ ہوا اس نے اپنےہونٹ میرے بائیں گال پر رکھ دئیے۔۔۔۔

صنم کے ہونٹ اپنی گرماہٹ میرے گال پر انڈیلنے لگے ہونٹوں کی گرفت سخت ہو گئی گال کو کھانے کے انداز میں دبانے لگی ساتھ ساتھ اپنا ایک ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ کر دبانے لگی ۔۔۔۔

میں نے ابھی کچھ اور کرنے کا ہی سوچ رہا تھا کہ صنم اٹھی اور میری گود میں اپنی ٹانگیں دائیں بائیں رکھ کر بیٹھ گئی اور میرے چہرے کو چومنے لگی۔۔۔۔۔

اس کے چومنے سے میرے چہرے پر جا بجا تھوک لگ گیا اس نے میری پیشانی پر اپنے نرم ہونٹوں چمی کی بہت پیار سے اس نے میرے بالوں میں انگلیاں پھیریں میرے بال پیچھے کیے اور جھک کر میری آنکھوں کو باری باری چوما پھر دونوں گال چومے اس کے بعد ٹھوڑی کو پر اپنی ہونٹ رکھ کر ایک چوسا لگایا۔۔۔۔

اوپر وہ چوما چاٹی کر رہی تھی نیچے اسکی پھدی لن سے رگڑ کھا رہی تھی ۔۔۔۔

مجھے اندازہ تھا کہ وہ کتنی جوشیلی ہے اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھے اپنی زبان نکال کر میرے منہ میں ڈال دی زبانیں گتھم گتھا ہو گئیں کبھی اس کی زبان میری زبان کے گرد لپٹ جاتی کبھی میری زبان اس کی زبان کے گرد کس جاتی ایک دوسرے کی زبان کا ذائقہ اندر اتارنے لگے ۔۔۔۔

اس کے ہر انداز میں جوشیلہ پن تھا اک پیاس تھی زبانیں چوستے ہوئے اس نے اپنا ہاتھ نیچے کیا اور میں ناڑا کھول کر لن باہر نکال لیا اپنی گانڈ اٹھا کر وہ اوپر ہو گئی اور لن کی مٹھ لگانے لگی ساتھ ساتھ کسنگ جاری رکھی ۔۔۔۔۔

مجھے بھی مزہ آنے لگا میں نے اپنے ہاتھوں سے اس کے اوپر نیچے ہلتے مموں کو کپڑوں کے اوپر سے پکڑ کر دبانا شروع کر دیا جتنے زور سے میں ممے دباتا اس سے دگنے زور سے وہ میرا لن مسلتی ۔۔۔۔۔

میں بھی جوش میں اس کے ممے دبانے کے ساتھ ساتھ اس کی کسنگ کا جواب دے رہا تھا۔۔۔۔

اس نے اپنی قمیض اوپر کی ممے باہر نکال دییے۔۔۔۔

میں نے جھٹ ممے پکڑے اور نپل دبانے لگ گیا۔۔۔

اس نے اپنی آنکھیں بند کر سئیی کی اور شلوار نیچے کر لن کو اپنی ٹانگوں میں پھنسا لیا۔۔۔

اس کے بیٹھنے سے ممے میرے منہ سے نیچے ہو گئے جن کو اس نے اپنے ہاتھوں کی مدد سے اوپر کر میرے ہونٹوں پر رگڑا۔۔۔۔

میں نے اپنی زبان نکالی اور مموں کا رس چھکھنے لگا۔۔۔۔

اپنی زبان سے ایک ممے کے نپل کو اچھی طرح رگڑا دوسرے کو اپنے ہاتھ میں پکڑ کر دبانے لگا۔۔۔

اس نے مزے سے آنکھیں بند کیں اور میرا سر اپنے دودھیا مموں پر دبا دیا۔۔۔

میں نے اپنی زبان نپل کے ارد گرد پھیرتے ہوئے پورے ممے کو تر کر دیا۔۔۔

وہ مسلسل اپنی ٹانگوں کو میرے لن پر اس طرح رگڑ رہی تھی کہ لن پھدی کے لبوں مو چھو جاتا تھا پھدی کی گرمی محسوس کر کے میرا لن جھومنے لگتا۔۔۔۔

لن کی خواری بڑھتی جا رہی تھی ادھر صنم کا جوش بھی دوگنا ہو گیا تھا۔۔۔۔

اب وہ لن کو پھدی کے لبوں میں گھسانے کی کوشش کر رہی تھی اس نے اٹھ کر لن کو پھدی میں لینے کی کوشش بھی کی لیکن میں نے ناکام بنا دی۔۔۔۔۔

لن جو صرف پھدی کے اوپر ہی رگڑ کھانے دی۔۔۔

میں مسلسل اس کے مموں سے رس کشید کر رہا تھا اایک ہاتھ اس کی گانڈ کے نیچے رکھ دیا تھا جس سے اس کو لن پھدی میں لینے سے باز رکھ رہا تھا ۔۔۔۔

ایک ممے کے نپل سے کھیلنے کے بعد میں اس کا دوسرا مما اپنے لبوں میں لیا اور جتنا ہو سکتا تھا اندر لے گیا اور چوسنے لگا۔۔۔۔

اس کی آواز اب سسکیوں میں بدل گئی تھی اب پھدی کو لن دیوانہ وار رگڑنے لگی۔۔۔

لن پھدی کے لبوں میں اوپر نیچے ہونے لگا تھا جس سے اس کے دانے کو رگڑ لگ رہی تھی ۔۔۔

اس سے میں بھی فل جوش میں آ گیا ایک پھدی کے لبوں کی نرمی اوپر سے پھدی سے نکلنے والے پانی کی گرمی دونوں مجھے مدہوش کر رہی تھیں۔۔۔

لیکن اس سے پہلے کہ میں کچھ سوچتا اس نے جنونی انداز میں میرا سر اپنے مموں پر دبانا شروع کر دیا اس کے منہ سے غوں غوں کی آواز آنے لگی ۔۔۔۔

لن پر پھدی کو زور زور سے مارنے لگی اس نے اتنی زور سے میرا سر اپنے مموں میں دبایا کہ میرا سانس لینا محال ہو گیا۔۔۔

کچھ ہی لمحوں میں اس کا سانس اکھڑا اور مجھے اپنے لن اور ٹانگوں پر گرم گرم مادے کا احساس ہوا اس کے جسم جھٹکے کھائے ۔۔۔۔

اس نے اکھڑی سانسوں میں کہا بلوووو ۔۔۔

میں نے کہا ہوں۔۔۔

وہ پھر بولی بلووو تو کی کھانا ایں ۔۔۔۔

اے سب کتھوں سکھیا تو ۔۔۔

میری بس کروا دتی سی اس دن تو اج وی لگدا اے تو چھیتی جان نہیں چھڈنی۔۔۔

میں صرف مسکراتا رہا۔۔۔

وہ میری گود سے نیچے اتری اور اپنی شلوار ساری اتار کر رکھ دی اور میری طرف اپنی کمر کر کے لن پر اپنی پھدی ایڈجسٹ کرتے ہوئے بولی جلدی کر کوئی آ جاؤ گا۔۔۔

بہت دیر ہو گئی اے ۔۔۔

میں نے بھی سوچا سچ کہہ رہی کھیت میں اتنی دیر کرنا مناسب نہیں ۔۔۔۔

لن کو اس کی پھدی پر سیٹ کیا اس نے خود ہی اپنے ہاتھ سے لن کو پکڑ کر پھدی کے لبوں پر رکھا اور پیچھے کی طرف دھکا لگایا ۔۔۔

جب اس نے دھکا لگایا اسی وقت میں نے بھی دھکا لگا دیا لن گھڑپ کی آواز سے اس کی پانی سے بھری پھدی میں اتر گیا۔۔۔۔

اس نے گردن گھما کر میری طرف دیکھا لیکن بولی کچھ نہیں۔۔۔

سیدھی ہوئی اور آگے پیچھے ہلنے لگی لن بڑی روانی سے پھدی میں جا رہا تھا ۔۔۔۔

اس کی گانڈ کی شیپ بہت کمال تھی گول مٹول چٹی سفید گانڈ چمکدار جلد جو پسینے سے بھیگی ہونے کی وجہ سے اور بھی دلکش مںظر پیش کر رہی تھی۔۔۔

اوپر سے جب لن پھدی میں جاتا تو گانڈ کا سکڑنا افففف ۔۔۔

میں اپنے ہاتھ بڑھا کر اس کی گانڈ کو تھام لیا اور خود آگےپیچھے کرنے لگا۔۔۔۔

لن صنم کی پھدی میں روانی سے جا رہا تھا گھپ گھپ گھپ کی آوازیں آ رہی تھیں ۔۔۔۔

وہ ٹانگیں کھول کر جھکی ہوئی تھی اس کے ممے قمیض سے باہر تھے میں نے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھایا اس کے اوپر جھک کر اس کا دایاں مما پکڑ لیا دوسرے ہاتھ سے اس کی گانڈ ہر آہستہ آہستہ تھپڑ مارنے لگا۔۔۔۔

لن کو رگڑ نہیں مل رہی جس سے مزہ کرکرا ہو گیا ۔۔۔

میں نے لن نکال کیا صنم سے گردن پیچھے کر میری طرف دیکھا اور کھڑی ہو گئی جس سے اس کا مما ہاتھ سے نکل گیا۔۔۔۔

لیکن وہ فوراً بیٹھ گئی جب اس کو احساس ہوا کہ کھڑا ہونے سے وہ باہر کسی کی نظر میں آ سکتی ہے۔۔۔

میری طرف منہ کر کے میری رانوں پر ہاتھ رکھ کر بیٹھتے ہوئے پوچھا کی ہویا۔۔۔

میں کہا مزا نہیں آ رہا کچھ اور کرتے ہیں یہ کہتے ہوئے میں نے اس کی پھدی کی طرف دیکھا جو اس کی منی سے لتڑی ہوئی تھی۔۔۔

وہ میری گود میرے دونوں طرف ٹانگیں کر چڑھ گئی اور میرے ہونٹوں کو چومنے لگی چھوٹی چھوٹی پاریاں کرنے کے بعد بولی اب کیسے مزا ائے گا جناب کو۔۔۔۔

میں نے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں کے چوسا اور بولا کچھ نیا کرتے ہیں تیری بہت کھلی ہے اس کو ٹائٹ کرو گی تو مزا زیادہ آئے گا۔۔۔

اس کو یہ بات بہت بری لگی وہ ہتھے سے اکھڑ گئی اور بولی کی مطلب اے تیرا میری کھلی اے میں ہر اک توں یواہندی پھرنی آں۔۔۔

وہ میری گود سے اتر گئی اور اپنی شلوار پہنے لگی۔۔۔

میں جلدی سے اس کے پاس ہوا اور بولا میری بات تو سن ۔۔۔

میری بات تو سن وڈا آیا تو چل پراں ہٹ میرے نیڑے ناں آیں میں تیوں دساں۔۔۔

میں نے دل میں سوچا لے بھئی بلو آ تاں گئی ہن اپنا کم شروع کر۔۔۔

میں اس کو اپنے نیچے گرایا اور اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا چپ اب پہلے میرے بات سن بعد میں بولنا جو بھی بولنا ہو۔۔۔۔

میں جو کہہ رہا ہوں وہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے جو تم سمجھ رہی ہو تمہارا یہ خوبصورت بدن آہ جب پیچھے سے کر رہا ہوں نہ تو تمہارے گول گول خوبصورت دودھ نظر نہیں آ رہے میری جان ان کو دیکھ کر ہی تو مزہ آتا ہے ۔۔۔۔

ایسے میں مجھے یہ لگ رہا یے جیسے تمہاری کھلی زیادہ ہے بس ایسے ہی منہ سے نکل گیا تمہارے جسم کا ایک ایک عضو اپنی جگہ کمال ہے تم حسن کی دیوی ہو میں تمہارے بارے میں ایسا سوچ سکتا ہوں بھلا ۔۔۔۔

یہ کہتے ہوئے میں نے اپنے چہرے پر دکھ بھرے تاثرات پیدا کئیے اور مزید گویا ہوا صنم اگر اب بھی تم سمجھتی ہو کہ میں ایسا سوچ سکتا ہوں تو جیسے تم چاہو ۔۔۔۔۔

میں نے اس کے منہ سے ہاتھ ہٹا دیا اس نے لمبا سانس چھوڑا میں اس کے اوپر سے یٹ کر ساتھ لیٹ گیا۔۔۔

سانس بحال کرنے کے بعد وہ اسی طرح لیٹے لیٹے میرے اوپر آ گئی اس کے فوم جیسے نرم نرم ممے میرے سینے پر لگے اس نے میرا چہرہ اپنے دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور میرے بالون میں انگلیاں پھیرتے ہوئے مسکرائی اس کا چہرہ جذبات کی شدت سے تمتما رہا تھا ہونٹ کپکپا رہے تھے ۔۔۔۔

آنکھوں میں ایک جنون برپا تھا اس کے دل کی دھڑکن مجھے اپنے سینے میں واضح سنائی دے رہی تھی۔۔۔

اس نے اپنے کپکپاتے ہونٹ میری پیشانی پر رکھے چوم لیا اس کے بعد آہستہ آواز میں گویا ہوئی ۔۔۔۔

بلو میری جان تمہیں مزا نہیں آ رہا تھا مجھے کھل کر بتاتے میں تمہیں اتنا مزہ دیتی کہ سب کچھ بھول جاتے میرے راجہ اس نے اپنی ہی بات مکمل نہیں اور میرے گال چومنے لگی۔۔۔۔

اس کے انداز میں دیوانہ پن جھلک رہا تھا اس اس کے سینے کی رگڑ مجھے سکون بہم پہنچا رہی تھی میرا لوڑا جو نیم مردہ ہو گیا تھا اب سر اٹھانے لگا۔۔۔۔

اب صنم نے میری آنکھوں کو باری باری چوما پھر اپنے زبان میری ٹھوڑی ہر رکھ کر پھیرنے لگی آنکھوں میں شہوت بھرے جذبات لیے اس نے اپنے دائیں ہاتھ کے انگلی کو میری پیشانی سے پھیرتے ہوئے کان کی لو تک پھر وہاں سے میرے ہونٹوں تک لائی اور اپنے انگوٹھے کو میرے ہونٹوں ہر پھیرا اور مسکراتے ہوئے اپنی لمبی زبان نکالی اور بولی میں آج تمہارا خون پی جاؤں گی۔۔۔

میں نے کہا سوہنیو پی جاؤ سارا خون یہ جان تمہاری ہی تو ہے میرے جسم سے سارا خون میرے میں لن سے سارا رس نچوڑ لو ۔۔۔۔

اس اپنے لب کھولے میرے ہونٹوں کے قریب آئی آنکھوں میں شرارت لیے میں نے بھی ہونٹ کھولے لیکن اس نے اپنا ہاتھ میرے لبوں پر رکھا اور نہ میں سر ہلایا۔۔۔۔

اس نے اپنے آپ کو تھوڑا اوپر اٹھایا اس کے ممے قمیض کے گلے کو پھاڑ کر باہر نکلنے کی کوشش میں جھول رہے تھے اس کی گہری کلیویج سفید مموں کے درمیان کھائی سا منظر پیش رہی تھی۔۔۔

میں اس کے مموں کی بناوٹ اور اس ہوشربا منظر میں کھویا تھا کہ اس نے اپنے گلے کے سامنے ہاتھ رکھا اور نہ کی انداز میں انگلی ہلائی ۔۔۔

وہ اٹھ کر میرے اوپر بلکل لن کے قریب اپنی گانڈ رکھ کر بیٹھ گئی اور میری قمیض کے بٹن کھولنے لگی جب سارے بٹن کھل گئے تو اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے سینے پر قمیض کے اندر ڈالے اور پیار سے پھیرنے لگی۔۔۔۔

اس لن نے اپنا اکڑ دکھانی شروع کر دی سیدھا کھڑا ہونے کی بجائے اس کی گانڈ کی جھک کر دراڑ کے ساتھ جا لگا۔۔۔۔

لن کو محسوس کر کے وہ تھوڑا اوپر ہوئی اپنی قمیض کو گانڈ سے ہٹایا اور لن کو اپنے نیچے لے لیا پھر سامنے کی طرف جھکی اپنی زبان میرے سینے پر بالکل درمیان میں رکھ دی۔۔۔

ابھی میرے سینے پر بال نہیں اگے تھے کوئی اکا دکا ہی تھے صاف سینہ تھا اس نے زبان سے میرا سینہ چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔۔

اپنے ہاتھوں میرے دونوں نپلز کے اوپر لے گئی اب منظر یہ تھا کہ میرا لن اس کی گانڈ کے نیچے لیٹا تھا جس کی ٹوپی پھدی کے قریب تھی اور گانڈ کی نرمی میں مست تھا اس کی زبان میرے سینے پر اپنا تھوک لگا رہی تھی اور ہاتھ نپلز پر تھے ۔۔۔۔

میں مستی میں ڈوب رہا تھا اس کی ایک ایک ادا میرے جوش کو بڑھا رہی تھی۔۔۔

پھر اس نے نیچے سے لن کے اوپر اپنی گانڈ کو رگڑنا شروع کر دیا اور دونوں نپلز کو ایک ساتھ اپنی انگلیوں میں پکڑ کر مسلنے لگی۔۔۔

میری تو جان پر بن آئی ایسا مزا دل کیا ابھی لن پھدی میں گھسا دوں ۔۔۔۔

میری آنکھیں مزے کی شدت سے جلنے لگیں وہ ہاتھوں کے انگوٹھوں اور ایک ایک انگلی سے ایک روانی سے نپل مسلے جا رہی تھی گانڈ کو بھی اسی طرح سے رگڑ رہی تھی اپنی زبان سے بھی چوسائی کر رہی تھی اس نے اتنا چوسا کہ میری قمیض کا گلا تھوک سے بھیگ گیا۔۔۔۔

میں نے اس کی گانڈ پر ہاتھ رکھے اور اس کو اگے پیچھے ہلانے لگا اس کی پھدی سے نکلنے والا گاڑا لیس دار پانی میری ناف پر لگ رہا تھا ۔۔۔۔

اب تو باقاعدہ میں کوشش شروع کر دی کہ لن کو کسی طرح اس کے کسی بھی سوراخ میں ڈال دوں لیکن وہ یہ موقع نہیں دے رہی تھی۔۔۔

اس نے اپنی زبان کا رخ بدلا اور قمیض کے اندر ہی گھماتے ہوئے دائیں طرف والے نپل ہر پہنچ گئی اس زبان نپل کے ساتھ ساتھ اردگر گھمانے لگی۔۔۔۔

میرا جسم کانپ کر رہ گیا ابھی اس سے ہی سنبھل نہیں پایا تھا کہ اس نے نپل کو اپنے منہ میں بھر کیا اور چوسنے لگی ۔۔۔۔

اب مجھ سے برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا وہ کافی اگے جھک گئی تھی میں لن کو ہاتھ میں پکڑا اور اس کی پھدی کا انداز سے نشانہ لیا اور ٹوپی کو پھدی کے لبوں پر لگا دیا جو خوش قسمتی سے نشانے پر تھی اور نیچے سے گانڈ اٹھا کر گھسا مارا لیکن لن صاحب ہوا میں ہی رہ گئے۔۔۔۔



Source link

Leave a Comment