میرے لن کا فائر ضائع گیا۔۔۔۔
جب میں نے گھسا مارا اسی وقت صنم یکدم آگے کو ہو گئی اور لن اپنا سا منہ کے کر رہ گیا۔۔۔۔
صنم نے اپنے ممے میرے منہ کے عین اوپر کر لیے اس کے لٹکتے ممے ان پر اس کے نپل پکے انگور کی طرح چمک رہے تھے۔۔۔
میں نے اپنا منہ کھولا اور گردن کو اثھا کر دائیں ممے کا نپل اپنے لبون میں لے کر کھینچا ۔۔۔۔
صنم نے جلدی سے اپنا ایک ہاتھ اٹھا کر مما پکڑ لیا اور میرے اوپر گرنے والے انداز میں آ گئی جس سے مما میرے منہ کے اوپر آ گیا ۔۔۔۔
نرم وملائم مما مولٹی فوم جیسا تھا اس میں میرا منہ دھنس گیا۔۔۔
وہ ایک بار پھر اوپر ہوئی جس سے اس کا نپل میرے منہ سے نکل گیا ۔۔۔
اس نے اپنی زبان نکالی میری گردن پر پھیرتے ہوئے نیچے کی طرف جانے لگی۔۔۔
چومتی جاتی زبان پھیرتی جاتی نیچے کی طرف اپنا سفر جاری رکھا ۔۔۔
اب کی بار وہ میرے ساتھ بائیں طرف گھٹنوں کے بل بیٹھ گئی تھی ۔۔۔
میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کی گانڈ پر رکھا اور پھیرنے لگا۔۔
اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا اور پھر زبان کا جادو جگاتے ہوئے ناف تک جا پہنچی۔۔۔
ساتھ ہی اس نے میرا لن اپنے ہاتھ میں پکڑ لیا اور اچھی طرح اس کی لمبائی موٹائی ماپنے لگی۔۔۔۔
اس کے ممے لہرا رہے تھے اس کی زبان میرے جسم پر چل رہی تھی ۔۔۔
ناف کے اردگر گرد جب اس نے اپنی زبان پھیری میرا جسم کانپ کر رہ گیا ۔۔۔۔
ایسا مزہ میں نے اج تک کبھی محسوس نہیں کیا تھا۔۔۔
اس کا ہاتھ میرے لن پر اوپر نیچے ہو رہا تھا اس کی زبان میری ناف کے کناروں پر چل رہی تھی۔۔۔
یہ حملے میرے لیے جان لیوا تھے اگر میں سانس نہ روکتا تو آج چودنے سے پہلے ہی لں سے فوارا پھوٹ پڑنا تھا۔۔۔۔
بہت مشکل سے خود کو سنبھال رہا تھا اچھی طرح ناف کے اردگرد جی جگہ کو تر کرنے کے بعد اس نے اپنی زبان کو اور نیچے کھسکایا اور لن پر پہنچ گئی۔۔۔۔۔
اب اس نے اپنی گانڈ کا رخ میری طرف کیا اور میرےپیٹ پر لیٹنے کے انداز میں بیٹھ گئی۔۔۔۔
اپنی زبان لن کی جڑوں میں پھیرنے لگی لن کو ہاتھ سے دائیں بائیں گھماتی جاتی اور زبان سے چاٹتی جاتی۔۔۔۔
دوسرا ہاتھ اس نے میرے ٹٹوں پر رکھ اور گولیوں سے کھیلنے لگی اور گردن گھما کر میری طرف دیکھ کر مسکرائی۔۔۔
پھر یکدم اس نے لن کو ایک سائیڈ پر کیا اور گوٹیوں کو منہ میں پھر کیا آہ اہ اففف کیا مزہ تھا ۔۔۔
اس کے ملائم لب اور زبان کا کھردرا پن جب ٹٹوں پر زبان لگی تو میرا ٹٹے سچ میں شاٹ ہو گئے ۔۔۔
آج مجھے اس کہاوت کی سمجھ ائی جس میں کہتے ہیں کہ ٹٹے شاٹ ہوگئے کیسے شاٹ ہوتے وہ مجھے آج حقیقی معنوں میں سمجھ آئی۔۔۔۔
ٹٹوں کو چوپنے لگی لولی پوپ کی طرح جب گول گول منہ کو ٹٹوں کی گولیوں کو گھماتی تو میری منی لن کی طرف جانے کو بے چین ہو جاتی ۔۔۔۔۔
میں خود پر قابو پایا اور سانس روکی اور اس کی گانڈ کی طرف دھیان دیا ۔۔۔۔
گانڈ کی پھاڑیوں کے نیچے اس کی ابھری ہوئی دو موٹی موٹی پتیوں کی صورت میں پھدی نظر ائی۔۔۔۔
اس کی پھدی کو دیکھتے ہی میں اپنا ہاتھ اگے بڑھایا اور پھدی کے لبوں کو کھول کر پھدی کا معائنہ کیا۔۔۔۔
اندر لال گلابی پھول کی طرح کھلتی پھدی دیکھ کر میرے منہ میں پانی آگیا ۔۔۔۔
اپنے ہونٹ پر زبان پھیری اور ہونٹوں کو جو خشک ہو چکے تھے ان کو تر کیا۔۔۔
پھر اپنا منہ گردن کو تھوڑا اٹھا کر اس کی پھدی میں گھسا دیا ۔۔۔۔
پھدی کی مہک میرے اندر اتری تو کچھ سکون ملا ۔۔۔
میں نے منہ پھدی میں گھسا یا اس نے لن کی ٹوپی پر زبان پھیر کر مجھے شاباش دی۔۔۔
بس پھر کھیل شروع ہو گیا میں نے ہونٹوں سے پھدی کے ہونٹوں کو کھینچنا شروع کر دیا اس نے زبان سے لن کی ٹوپی کو چاٹنا۔۔۔۔
وہ لن کو پوری طرح اوپر سے نیچے تک چاٹتی جاتی پھر ٹوپی کو منہ میں لے چوپالگاتی اور دوبارہ زبان اوپر سے نیچے پھیرتی۔۔۔
میں نے بھی اپنی زبان اس کی پھدی میں داخل کر دی زبان کے داخل ہوتے ہی اس نے پھدی کو کس لیا۔۔۔۔
اور لن کو منہ میں بھر لیا اور چوسنے لگی۔۔۔
اب وہ مسلسل لن کو چوسنے لگی جتنا منہ میں جاسکتا تھا لے رہی تھی ۔۔۔۔
اور میں اس کی پھدی کا رس پی رہا تھا اس کی پھدی پھڑپھڑا رہی جو اس کے فک گرم ہونے کی علامت تھی۔۔۔
میں اپنی سپیڈ تیز کر دی اس کی سپیڈ بھی ساتھ ہی تیز ہو گئی ۔۔۔
کوئی 5 منٹ اس طرح 69 کی پوزیشن میں رہنے کے بعد اس کے جسم نے جھٹکے کھائے ۔۔۔۔
اگر میں بر وقت پیچھے نہ ہوتا تو میرا منہ اس کی منی سے بھر جانا تھا۔۔۔
اس نے جوش میں سارا لن منہ میں لے لیا میں نے بھی نیچے سے گھسا مار دیا ۔۔۔۔
لن اس کے گلے تک پہنچ گیا ادھر اس نے پانی چھوڑا ادھر اس کو کھانسی آئی ۔۔۔
جلدی سے لن کو منہ سے نکال کر وہ ایک سائڈ پر گر گئی اور سانس بحال کرنے لگی۔۔۔
میں اس کی طرف منہ کر کے بولا سچ میں صنم تم بہت کمال ہو ۔۔۔۔
وہ اکھڑی سانس اور کھانستے ہوئے بولی ابھی تو بہت کچھ باقی ہے میرے راجہ۔۔۔
میں بھی اب اور دیر نہیں کرنا چاہتا تھا اس لیے اس کی ٹانگیں پکڑیں اور کھول کر ان کے بیچ میں آگیا لن کو پھدی پر سیٹ کیا اور اس کی انکھوں میں دیکھا اس نے ہاں کا اشارہ کیا ۔۔۔۔
ایک جاندار گھسا مارا لن شڑڑڑپ کی اواز کے ساتھ پھدی کی گہرائی میں اتر گیا۔۔۔۔
اگر وہ اپنے منہ پر ہاتھ نہ رکھتی تو اس کی چیخ بہت دور تک جانی تھی۔۔۔
اس نے منہ سے ہاتھ ہٹایا اور بولی بندیاں تراں نہیں کر سکدا تو ۔۔۔
میں نے اس کی ٹانگوں کو اس کے مموں سے لگایا اور ہونٹ اس کے لبوں پر رکھ پھر لن کو ٹوپی تک باہر نکالا اور اسی رفتار سے اندر گھسا دیا ۔۔۔۔
اس کے بعد تو پھدی پر تابڑ توڑ گھسے مارنے شروع کر دئیے ۔۔۔۔
اس نے اپنے بازوں میری کمر کے گرد لپیٹ لیے اور گھسے برداشت کرنے لگی۔۔۔۔
گھسوں کی رفتار زیادہ ہونے کی وجہ سے میں اس پوزیشن میں جلد ہی تھک گیا۔۔۔
اس لیے میں نے اس کی ٹانگوں کو چھوڑا اور ایک ٹانگ اٹھا لی دوسری کو لمبا کر دیا ۔۔۔
ایک ٹانگ پکڑ کر پھر اے گھسے مارنے لگا اس کے مموں میں بھونچال آگیا وہ اچھل اچھل کر اپنی بے تابی کی دوہائی دے رہے تھے۔۔۔
اس کی درد بھری آہیں ختم ہو گئیں اور اب مزے کی سسکیوں میں بدل گئیں تھیں۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اس نے باقاعدہ مجھے زور سے کرنے کے لیے اکسانا شروع کر دیا۔۔۔
بلوووو آہہہہہہ آہہہہ اففففف او ہوووو رررر زوررررر نااااللللل کر آہ ایتھے مار اہہہ آہہہ ۔۔۔۔
میں میرے منہ سے بھی بے ربط آوازیں نکلنے لگ گئیں۔۔۔
اتنی دیر کی خواری کی وجہ سے اب مجھ سے بھی اور روکا نہ گیا۔۔۔
چند ہی منٹ اور گھسے مارنے کے بعد جیسے ہی اس کی پھدی نے میرے لن پر اپنی گرفت کسی میرے لن میں بھی منی بھرنا شروع ہوگئی۔۔۔
پھدی کے سارے مسام لن کے گرد کس گئے میں نے آخری زوردار گھسے مارے اس کی پھدی نے پانی کی برسات جیسے ہی لن پر کی لن نے بھی پھدی کی گرماہٹ کے سامنے ہتھیار پھینک دئیے اور میں اس کے اوپر گرتا گیا۔۔۔
لن سے پانی کا فوارہ نکل کر اس کی پھدی کو بھرنے لگا۔۔۔
میں اس کے اوپر لیٹا فارغ ہو رہا تھا اس نے مجھے اپنی باہوں میں کسا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ بہت جذبات سے میرے منہ کو چومنے لگی۔۔۔
کبھی آنکھوں کو چومتی کبھی پیشانی کص کبھی گال چومتی کبھی لبوں پر پاری کرتی۔۔۔
جب دو جسموں کی گرمی ایک دوسرے کے اعضائے تناسل میں اتار لی تو اس نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔
ہن بتا تینوں مزہ ایا کہ نہیں ۔۔۔
میں نے ہمممم کیا۔۔۔
اس نے میری پیٹھ پر ہلکا سا تھپڑ مارا اور بولی گونگا ہو گیا ایں منہ اچ زبان ہے نا اس سے بول یہ کیا مج کی طرح ہممم لگا رکھی ہے۔۔۔
میں مسکرایا اور بولا مج نہیں کٹا ہوں تمہیں یہ بھی نہیں پتہ کہ مج کا لن نہیں ہوتا۔۔۔
اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور بولی گندا کتنی گندی باتیں کرتا ہے۔۔۔
ہم ایک دوسرے سے اٹکھیلیاں کرنے لگے میں نے اس کے ممے دبایا اس نے آںکھیں مٹکائیں اور بیٹھ کر میرا لن پکڑ کر کھینچا جو اب مردہ ہو چکا تھا۔۔۔۔
مردہ سے مراد یہ نہیں کہ ختم ہو چکا تھا بلکہ سو گیا تھا۔۔۔
اس نے لن کو پکڑا اور میری طرف دیکھتے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھ کر بولی آہا یہ اتنا سا ہو گیا۔۔۔۔
پھر بولی دیکھا اس کی اکڑ کیسے ختم کی میں نے ۔۔۔۔
میں نے کہا ہاں جی تمہاری پھدی نے بیچارے کا سارا خون نچوڑ لیا۔۔۔
اس نے آںکھیں نکالتے ہوئے کہا تیوں چنگی گل نیں آندی۔۔۔
میں نے کہا پھدی کو پھدی نہ کہوں تو کیا کہوں اب اگر ان کو ان کے ناموں سے نہیں بلائیں گے تو کیا کہیں گے۔۔۔۔
اس نے اپنے کپڑے اٹھائے اور پہننے لگی ۔۔۔
میں نے اس کی دیکھا دیکھی اپنی شلوار اٹھائی اور بیٹھے بیٹھے ٹانگیں سیدھی کیں اور شلوار پہن لی۔۔۔۔
وہ کپڑے پہن کر میری طرف دیکھتے ہوئے بولی میں تمہیں بہت سیدھا سمجھتی تھی لیکن تم بہت کمینے ہو اتنی گندی باتیں کرتے ہو ۔۔۔
میں نے دانت نکالتے ہوئے کہا شکریہ جو تم نے اتنی تعریف کی۔۔۔
اس نے ایک مکا گھما کر میرے کندھے پر مارا ۔۔۔۔
میں نے ایسا ری ایکشن دیا جیسے بہت درد ہوئی ہو کندھے پر ہاتھ رکھ کر دوہرا ہو گیا۔۔۔
وہ بہت تیز تھی میرے ایک اور مارتے ہوئے بولی زیادہ ڈرامے نہ کر نیہں تاں منہ توڑ دیا گی تیرا۔۔۔
میں سیدھا ہو گیا اور کہا کتنی ظالم ہو یار تم ۔۔ مجھ معصوم پر کتنا ظلم کر رہی ہو۔۔۔
اس نے اوہو کرتے ہوئے کہا معصوم اور تو توبہ توبہ اگر تمہارے جیسے ایک دو اور ہو جائیں ہمارے گاؤں میں تو لڑکیاں تو لڑکیاں عورتیں بھی نہ بچیں سب کی مار لیں۔۔۔
میں نے معصوم منہ بناتے ہوئے کہا توبہ ہے یار کتنے بڑے الزام لگا رہی ہو اب ایسا بھی نہیں ہوں میں۔۔۔
اس نے کہا سب جانتی ہوں تمہارے بارے میں تم کتنے معصوم ہوں اگر ہماری ماؤں کو پتہ چل گیا نہ تمہارا تو جب تم گاؤں آ یا کرو گے تو ہمارے اوپر گھر سے باہر نکلنے پر پابندی لگا دیا کریں۔۔۔
میں نے کانوں کو ہاتھ لگائے کتنی لمبی لمبی چھوڑتی ہو لیکن دل میں ڈر گیا کہ کیا سچ میں میرا نام ایسا ہو گیا ہے۔۔۔۔
اس نے کہا ابھی تک یہ بات ہم لڑکیوں کے درمیان ہے اس لیے تم بچے ہوئے ہو ورنہ ۔۔۔۔
اس نے ہاتھ لہرایا میرا خون خشک ہو رہا تھا اس کی باتیں سن کر سالی کو پتہ نہیں کیا پتہ تھا۔۔۔
میں نے کہا چل جا یار تیری مار لی تو یہ سمجھنے لگ گئی ہو کہ میں ہر ایک کی مارتا پھر رہا ہوں۔۔۔
تمہاری بھی اس لیے ماری کہ اس دن تم نے میرے ساتھ زیادتی کی تھی ۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے بولی کتنے معصوم بن رہے ہو میرے شاتھ ژیادتی کی شدقے یاواں شوہنے تے کنا معشوم اے ۔۔۔۔
تو کہیڑا اوس دن مزا نیں لیا اور جیسے اس دن میری ہی ماری تھی تم نے مجھے سب پتہ ہے تم کہاں سے آ رہے تھے اور کس کی مار کر آئے تھے۔۔۔۔
میرے پا س کوئی جواب نہیں تھا ابھی میں جواب سوچ ہی رہا تھا کہ کومل کی آواز آئی نییی جلدی آ تیری امی ا گئی اے۔۔۔
صنم نے مجھے کہا تم ادھر ہی بیٹھے رہو جب تک یقین نہ ہو جائے کہ امی چلی گئی ہیں باہر نہ نکلنا۔۔۔
اور وہ اپنے کپڑے درست کرتی چلی گئی میں بیٹھا کچھ دیر اس کی باتوں ہر غور کرتا رہا پھر آہستہ آہستہ بیٹھے بیٹھے دوسری سمت جانے لگا۔۔۔۔
تھوڑا آگے جا کر کھیت سے نکل گیا سامنے کھالا تھا جو خشک تھا میں اس میں اتر گیا ۔۔۔
سب بھائی جانتے ہیں کہ کھالے زمین کے اندر کھیت سے کچھ گہرے ہوتے ہیں اور جو نہری پانی والا ہوتا ہے وہ کچھ زیادہ ہی گہرائی میں ہوتا ہے یہ بھی کافی گہرا تھا کہ اگر میں اس میں اس میں کھڑا ہو کر چلتا تو بھی باہر سے نظر نہیں آ سکتا تھا۔۔۔
میں کھالے میں چلتا ہوا کافی آگے نکل گیا اور اپنا رخ ٹیوب ویل کی طرف کیا اور ٹیوب ویل پر چلا گیا۔۔۔
وہاں جا کر کپڑوں سمیت ہی نہانے لگا نہانے کے بعد وہاں اپنے کزن کے پاس بیٹھ کر کچھ دیر گپ شپ لگائی اور واپس گاؤں کی طرف آنے لگا۔۔۔
رستے میں ہمارے ٹیوب ویل سے تھوڑے فاصلے پر ایک ڈھاری تھی جس کو کچھ لوگ چاہ بھی کہتے ہیں باقی زبانوں میں کچھ اور کہا جاتا ہوگا ۔۔۔
چاہ اصل میں کھوہ کو کہتے ہیں ہمارے گاؤں کے کچھ لوگ اپنے کھیتوں میں ہی گھر بنا کر رہتے تھے اس وقت تو کچھ گھر ہی رہتے تھے اب تو تو تقریبآ آدھے سے زیادہ گاوں باہر نکل گیا ہے۔۔۔
خیر اس کھوہ کے پاس سے گزر کر جب میں اگے گیا تو مجھے ایک کماد کے کھیت میں ہل چل محسوس ہوئی ۔۔۔۔
میں رک گیا کیونکہ گرمی کے موسم میں اکثر سانپ وغیرہ نکل اتے تھے یا کماد کی فصل کو خراب کرنے کے لیے ثور آ جاتے تھے جس کو ہمارے ہاں باہرلا کہتے ہیں ۔۔۔۔
جب غور کیا تو کچھ اور ہی سین محسوس ہوا جیسے کوئی مسلسل ایک ردھم سے ہل رہا ہو۔۔۔
میں نے بلا سوچے سمجھے اندر جانے کا فیصلہ کر لیا ۔۔۔
میں اندر گھس گیا سنبھل سنبھل کر یا یہ کہ لیں پھونک پھونک کر قدم بڑھاتے ہوئے گیا تاکہ میرے اندر آنے کا کسی کو پتہ نہ چلے۔۔۔
ابھی کوئی پانچ قدم ہی اندر گیا تھا کہ مجھے ایک لڑکے کے پیٹھ نظر آئی جو زور زور سے گھسے لگا رہا تھا ۔۔۔۔
تھوڑا جھک کر دیکھا تو نیچے مجھے رنگین کپڑے نظر آئے مطلب کہ بازو تھے جو اگے کو جھک کر نیچے زمین پر لگے ہوئے تھے۔۔۔
لڑکے کو میں نے پہچان لیا تھا میں نے آگے جانے کا فیصلہ کیا ابھی ایک قدم بڑھایا تھا کہ اس لڑکے گردن گھما کر پیچھے دیکھا ۔۔۔
اس نے مجھے دیکھا میں نے اسے دیکھا دونوں کی نظریں ملیں اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی اس نے آ نکھوں سے اشارہ کیا آجا۔۔۔۔
میں نے اسی طرح اشارے سے پوچھا کون یے ۔۔
اس نے تھوڑا ایک طرف ہو کر مجھے اس کی گانڈ دکھائی گوری چٹی گانڈ اففف دیکھ کر ہی لن اکڑ گیا۔۔۔
آپ لوگ کیا سمجھ رہے ہیں وہ کون تھا ۔۔۔
ہاں جی وہ میرا کزن میر ایار فجا تھا جو سارا دن بس پھدیوں کے چکر میں ہی رہتا تھا ۔۔۔۔
اس کا لن گوری گانڈ والی لڑکی کی پھدی میں جا رہا تھا سپیڈ سے گھسے مار رہا تھا ۔۔۔
میں ایک قدم اگے بڑھا اس نے مجھے دوسری طرف سے انے کا اشارہ کیا میں اس کے اشارے کی سمت دیکھا تو وہاں رستہ صاف تھا میں ادھر ہوا فجے نے اس لڑکی کے بال پکڑ کر پیچھے کق کھینچ لیے جس سے اس کا دھیان کہیں اور نہ گیا اور میں فجے کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔۔۔۔
فجے نے ایک دو زوردار گھسے مار کر میری طرف دیکھا اور نیچے دیکھتے ہوئے اشارہ کیا اتار لے ہن ۔۔۔
میں سمجھ گیا میں ناڑا کھول کر لن نکال لیا فجے نے لن نکالا اور میں اس کی جگہ لن اس کی پھدی پر سیٹ کیا فجے نے بال چھوڑ دئیے۔۔۔۔
وہ پیچھے کھسکا میں نے گھسا مارا لن کی ٹوپی ہی اندر گئی وہ لڑکی تڑپی آہہہ فجے آرام نال ۔۔۔۔
میں نے فجے کی طرف مڑ کر دیکھا وہ میرے کندھے پر منہ کر بولا ہن برداشت کر تینوں میرا پتہ اے ناں ۔۔۔
فجے اگے ہو کر میرا لن دیکھا اور اس کی انکھوں میں حیرت پھیل گئی۔۔۔
لیکن میں اس کی حیرت کو لن کہ ٹوپی پر رکھا اور پھر ایک زوردار گھسنے مارنے سے پہلے اگے جھک کر اس لڑکی کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔
پوری طاقت سے گھسا مارا اور لن آدھے سے زیادہ اندر گھس گیا۔۔۔
میرا لن فجے سے بہت بڑا تھا فجے کا لن پتلا سا تھا جبکہ میرا لن اس سے تین گنا موٹا تھا اس لیے اس کی پھدی میں میں پھنس گیا تھا۔۔۔
اس لڑکی کی ٹانگیں کانپنے لگ گئیں اس نے پیچھے مڑ کر دیکھنے کی کوشش کی لیکن میرے ہاتھ کی گرفت نے اس کو یہ موقع نہ دیا۔۔۔
میں ایک بار پھر لن کو ٹوپی تک باہر نکالا اور اپنی گانڈ کی مدد سے ایک جاندار گھسا مارا لن اس کی پھدی کی گہرائی میں اپنی تمام موٹائی اور لمبائی سمیت گھس گیا ۔۔۔
دوسری طرف وہ لڑکی نیچے بیٹھتی گئی میں بھی اس کے اوپر لیٹتا گیا ۔۔۔
پھر بغیر رکے گھسے مارنے لگا بہت تیز تیز گھسے مارنے شروع کر دئیے فجے نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ مجھے آرام سے کرنے کا اشارہ کیا۔۔۔
لیکن میں نے کوئی ردعمل نہ دیا اگر میرا ہاتھ اس لڑکی کے منہ پر نہ ہوتا تو اب تک پورا گاؤں وہاں ا چکا ہوتا جتنا وہ تڑپ رہی تھی مچل رہی تھی۔۔۔
جھکنے سے تو لن کی رگڑ کم لگتی ہے لیکن جس طرح وہ گری ہوئی تھی گانڈ کے نیچے اے جب لن پھدی میں جاتا ہے تو بہت زیادہ رگڑ لگاتا ہے ۔۔۔
ادھر سے تو ان کو بھی بہت رگڑ لگتی ہے جو بہت ذیادہ چدوا چکی ہوں جبکہ مجھے تو یہ اتنی زیادہ چدی ہوئی نہیں لگی تھی۔۔۔
میں نے کوئی دو منٹ مسلسل اسی سپیڈ اے گھسے مارے تھے کہ اس کی جسم کی ہلچل رک گئی میں نے بھی ہاتھ اس کے منہ سے ہٹا دیا ۔۔۔۔
اب لن کو بھی پھدی نے اپنے اندر جگہ دے دی تھی اس لیے قدرے روانی سے جا رہا تھا۔۔۔۔
میں اس کے اوپر لیٹا گھسے لگا رہا تھا اب وہ بھی ساتھ دینے لگی تھی۔۔۔۔
لیکن اس نے ابھی تک میرا چہرہ نہیں دیکھا تھا ۔۔۔
اس نے مزے سے گانڈ کو پیچھے دھیکیلنا شروع کر دیا۔۔۔
اففف اتنا مزہ کبھی بھی نہیں آیا تھا شاید آج زیادہ مزہ اس لیے آیا تھا کافی عرصہ بعد کوئی ٹائٹ پھدی ملی تھی ۔۔۔
میں نے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر گھسے مارنے شروع کر دئیے دوسری طرف وہ بھی اپنی گانڈ کو پیچھے دھکیل کر لن کو اندر لے رہی تھی ۔۔۔
مجھے اپنا خون ٹانگوں کی دوڑتا محسوس ہونے لگا اس کی پھدی بھی ٹائٹ ہو گئی لن کو اپنی گرفت لینے لگی ۔۔۔۔
جیسے ہی اس کی پھدی نے پہلا قطرہ بہایا میں لن باہر نکالا اور گانڈ کی دراڈ میں رکھ کر گھسا مارا ۔۔۔۔
اففففف لن پھسل کر اندر گھس گیا اندازے سے گانڈ کے سوراخ کا نشانہ لیا جو کہ سیدھا بیٹھا۔۔۔۔
لن آدھے سے زیادہ گانڈ میں اتر گیا اس کا جسم کانپ کر رہ گیا اس کی چیخ نیچے زمین میں دب گئی۔۔۔۔
کچھ پسینے کی وجہ سے اور کچھ اس کی پھدی کے پانی سے گیلا لن آسانی سے گانڈ میں گھس گیا ۔۔۔۔
اس کی گانڈ بھی مجھے پھدی سے کھلی تھی پتہ نہیں وہ کس سے مرواتی رہی تھی فجا تو ہرگز نہیں ہو سکتا۔۔۔
جیسے ہی لن آدھے سے زیادہ اندر گیا لن کی اکلوتی آنکھ نے اپنے آنسو بہانا شروع کر دئیے ۔۔۔۔
ادھر لن آنسو بہا رہا تھا ادھر اس کی رونے کی سسکیاں نکل رہی تھیں۔۔۔
لن نے جب اپنا اخری قطرہ بھی بہا دیا تو میں اس پر سے اٹھا اور گانڈ کو دیکھا جو کافی پھولی ہویی تھی اور اس کی موری بھی کھلی تھی۔۔۔
میں پیچھے ہو کر اپنا ناڑا باندھنے لگا وہ بھی سیدھی ہوئی جیسے ہی اس کی نظر مجھ پر پڑی اس کی چیخ نکل گئی ۔۔۔
میں نے پیچھے دیکھا تو فجا غائب تھا میں نے اگے بڑھ کر اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور بولا چپ ہو جاؤ کوئی آگیا تو تمہاری بدنامی ہو گی۔۔۔
وہ چپ تو ہو گیی لیکن اس کی آ نکھوں میں غصہ تھا اس نے مجھے اشارے سے دوسری طرف سے نکلنے کا کہا اتنے میں باہر سے آواز آئی کون اے۔۔۔۔
میں آواز سنتے ہی دوسری طرف نکل پڑا اور کماد کے اندر ہی اندر چلتا ہوا بہت اگے نکل گیا ۔۔۔۔
کوئی ایک ایکڑ بعد ایک پگڈنڈی آئی میں اس پر چل پڑا اور گاؤں آگیا۔۔۔
گاؤں آکر میں گھر آیا اور اپنے کپڑے لیے شہر ساتھ والے گاؤں جانے کے لیے ایک کزن سے سائیکل لی اور چلا گیا۔۔۔
وہاں جانے کا ایک مقصد تو یہ تھا کہ اگر اس لڑکی نے میرا نام لے دیا تو میں وہاں سے ہی نکل جاؤں گا دوسرا وہاں حمام تھا اور دھوبی بھی ہوتا تھا وہاں سے کپڑے استری کروا کر پہن سکتا تھا اور نہا بھی سکتا تھا۔۔۔
میں وہاں گیا اور نہا دھو کر نیا سوٹ پہن کر سائیکل پر بیٹھا گھر واپس آگیا۔۔۔
واپس آ کر فجے کو ڈھونڈا لیکن گھر کے قریب قریب وہ نہ تھا۔۔۔
سب کزنوں سے پوچھا اور پھر دوکان کی طرف گیا رستے میں صنم کے گھر کے سامنے سے گزرتے ہوئے مجھے چھنو اور صنم دونوں ایک ساتھ صنم کے گھر سے نکلتی ملیں ۔۔۔۔
میں نے ایک نظر صنم پر ڈالی اور پھر چھنو پر صنم نے کوئی ردعمل نہ دیا لیکن چھنو مسکرائی ۔۔۔
میں سر جھکا کر آگے نکل گیا دوکان پر مجھے فجا مل گیا ۔۔۔
فجا کا بازو پکڑا اور اس کو کھینچ کر ایک ظرف لے گیا ۔۔۔
فجا پوچھتا رہا کیا ہوا کیوں اس طرح کھینچ رہا ہے۔۔۔
جب سب سے دور ہو گئے تو میں نے کہا گانڈو تو مجھے وہاں چھوڑ کر بھاگ آیا ۔۔۔
وہ بولا فیر کی ہویا تو پھدی مار لئی نا ہن کی پریشانی۔۔۔
میں نے بہن چود وہاں اس نے چیخ مار دی تھی اور باہر کوئی آ گیا تھا۔۔۔
میں بڑی مشکل اے چھپ کر آیا ہوں وہاں سے۔۔۔
تجھے کچھ نہیں پتہ تو ادھر نہیں تھا۔۔۔
وہ ہنستے ہوئے بولا سالیا تو کی سمجھنا ایں میں ایویں ای وہاں سے نکل گیا تھا۔۔۔
میں تھوڑا دور ہی تھا جب اس نے چیخ ماری تھی اس کی امی آئی تھی باہر اس نے پوچھا تھاکون اے۔۔۔۔
میں اس کی چیخ سن کر بھاگ کر وہاں آگیا تھا اس سے پہلے کہ کوئی اور اندر جاتا میں سب سے پہلے اندر گیا ۔۔۔۔
جب وہاں گیا تو وہاں وہ اکیلی تھی اس نے مجھے گالیاں دیں جو میرے لیے عام بات ہے۔۔۔
لیکن مجھے جب یہ تسلی ہو گئی کہ تو وہاں نہیں ہے تو سب سیٹ ہو گیا ۔۔۔
اس کو باہر لایا اس نے سب کو بتایا کہ سانپ تھا جس سے ڈر کر میں گر گئی تھی کیونکہ اس کے سارے کپڑے گرد آلود ہق چکے تھے۔۔۔
میں سب کچھ سن کر پر سکون ہو گیا اور ہم کچھ دیر وہاں رکے اور واپس گھر آگئیے ۔۔۔
دوسرے دن جب سب گھر والے بھی جانے کو تیار ہو گئے تو ہم سب شہر واپس آ گئے۔۔۔
شہر آ کر بھی مجھے چھنو اور ناہید سے ناملنے کا دکھ رہا ۔۔۔
لیکن خود کو یہ کہہ کر تسلی دی کہ کوئی نہ تجھے کون سا ان سے پیار ہے ۔۔۔
تجھے تو پھدی سے غرض ہے جو ایک نہیں دو دو مل گئیں ایک دن میں اتنا بہت ہے۔۔۔
گھر پہنچے ابھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی کہ شانی اور اس کی امی دونوں ا گئیں اور اس کی امی میری امی کے پاس بیٹھ کر ہمارے دادا یعنی کہ میرے ابا کے چاچا کی ڈیتھ کا افسوس کرنے لگی۔۔۔
ابا کے چاچا میرے دادا کے بھایی میرے بھی تو دادا ہی لگتے تھے۔۔۔
وہ کافی دہر بیٹھیں گی یہ سوچ کر میں باہر نکل گیا مارکیٹ جا گیا وہاں سب دوستوں نے محفل جمائی ہوئی تھی سب گپ شپ ہنسی مذاق کر رہے تھے۔۔۔۔
میں بھی ان میں شامل ہو گیا ان سب نے مجھ سے افسوس کا اظہار کیا میں ۔۔۔۔ کا حکم مانا کہہ کر افسردگی کا اظہار کیا۔۔۔
وہ سب چپ ہوگئے تھے کچھ دیر بعد سب نارمل ہو گیا۔۔۔
وہاں کوئی ایک گھنٹہ ضائع کرنے کے بعد میں گھر واپس آگیا۔۔۔
گھر آتے ہی میں اندر گھس کر سو گیا۔۔۔
امی نے مجھے اٹھا کر دودھ پلایا میں دودھ پیتے ہی پھر سو گیا۔۔۔
صبح اپنے وقت پر اٹھا تو جسم ٹوٹ رہا تھا پورے جسم میں درد ہو رہی تھی۔۔۔
پھر بھی اٹھنا تو تھا ہی اسلیے اٹھ کر ضروری حاجات سے فارغ ہو کر میں باہر نکل گیا۔۔۔
لیکن پورا جسم درد کی شدت سے کانپنے لگا زیادہ دور نہیں گیا تھا اس لیے واپس اگیا۔۔۔
گھر آتے آتے میری بس ہو گئی جیسے ہی میں گیٹ سے اندر آیا میری آںکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا۔۔۔۔
بڑی مشکل سے خود کو سنبھالا اور برآمدے تک آیا وہاں چارپائی کے اوپر بیٹھنے کی کوشش میں گر گیا پھر دماغ ماؤف ہوتا چلا گیا ۔۔۔
میرے ہوش سے بیگانہ ہونے کے بعد جو کچھ مجھے بعد میں پتہ چلا وہ بتاتا ہوں۔۔۔
میں چارپائی پر گرتے ہی بے ہوش ہو گیا امی اس وقت کچن سے باہر آ رہیں تھیں اور باجی برآمدے میں ہی بیٹھی تھیں۔۔۔
مجھے گرتا دیکھ کر باجی نے چیخ ماری امی کے ہاتھ میں چائے کے کپ تھے جو ابا جی کو دینے ان کے کمرے میں جا رہیں تھیں۔۔۔
امی نے کپ نیچے گرائے اور بھاگ کر میرے پاس آ گئیں۔۔۔
باجی بھی اٹھ کر میرے پاس آئیں اور میرے ہاتھ پیر مسلنے لگیں منہ پر پانی کے چھینٹے مارے لیکن کچھ فرق نہ پڑا ۔۔۔
امی اور باجی کی آواز سن کر ابا جی اور بھا ہاشم بھی اندر سے نکل آئے۔۔۔
بھاہاشم کو ابا جی نے کہا جاؤ ڈاکٹر کو بلا کر لاؤ۔۔۔
ہمارے ٹاؤن میں ایک ڈاکٹر رہتا تھا جو قریب ہی تھا بھا اس کو بلا لائے۔۔۔
اس نے چیک کیا نبض وغیرہ بھی چیک کیا اور کہا کچھ نہیں ہوا بس ایسے ہی چکر وغیرہ آگیا کوئی مسئلہ تو نہیں ہے پھر بھی چیک کروا لینا ایک بار کچھ ٹیسٹ لکھ کر دئیے کروانے کے لیے اور کہا یہ ابھی ہوش میں آجائے گا۔۔۔
دوسری طرف شانزل کی امی نے ڈاکٹر کو ہمارے گھر سے نکلتے دیکھا تو وہ بھی آگئی۔۔
پیچھے پیچھے شانزل بھی آ دھمکی اسی طرح ایک دو ہمسائیہ عورتیں اور بھی آ گئیں ۔۔۔
امی اور باجی رونے لگ گئیں تھیں جن کی آواز سے وہ لوگ آئے ۔۔۔
خیر کوئی ایک گھنٹے بعد مجھے ہوش آیا تو اپنے اردگرد اتنے لوگوں کو دیکھ کر پریشان ہوگیا۔۔۔
مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کیا ہو رہا ہے میں ادھر ادھر دیکھ رہا تھا۔۔۔
میرا سر امی کی گود میں تھا اور وہ سر دبا رہی تھیں باجی بھی ساتھ بیٹھی تھیں۔۔
دوسری عورتیں اور شانزل کی امی شانزل ساتھ والی چارپائیوں پر بیٹھی تھیں۔۔۔
میں نے آنکھیں کھولی تو امی نے میرا ماتھا چوما اور شکر ادا کرنے لگیں۔۔
میں نے جلدی سے اٹھنے کی کوشش کی تو پھر سر چکرانے لگا میں لیٹ گیا۔۔۔
اتنی دیر میں بھا ہاشم بھی آگیا اس کے ہاتھ جوس کے پیکٹ تھے اس نے ایک پیکٹ میں سٹرا لگا کر مجھے دیا میں نے تھوڑا سا اٹھ کر جوس پیا ۔۔۔
جوس پینے سے اندر کچھ حرارت سی آگئی میرے دماغ نے کام کرنا شروع کیا ۔۔
اسی وقت اباجی ڈیوٹی پر جانے کے لیے تیار ہو گئے اور بھا ہاشم بھی تیار ہو گئے۔۔۔
بھا ہاشم نے ہمارے ساتھ والے ایک گاؤں میں پرائیویٹ سکول بنایا ہوا تھا جہاں وہ روز شہر سے جاتے تھے۔۔۔
وہ بھی چلے گئے اور اباجی نے جاتے جاتے امی کو تاکید کی کہ مجھے دودھ میں شہد ملا کر پلائیں اور یخنی بھی دن پلائیں خاص تاکید یہ تھی کہ مجھے گھر سے باہر نہ نکلنے دیں۔۔۔
امی نے جھٹ باجی کو دودھ گرم کر کے اس میں شہد ڈال کر لانے کا کہا ۔۔۔
خیر سارا دن اسی طرح لیٹے گزرا مجھے بھی کچھ آرام کرنے موقع مل گیا۔۔۔
میں کافی سوچتا رہا کہ یہ سب کیسے ہوا جب امی نے پوچھا کہ کل تو نے کیا کھایا تھا تو یاد آیا کہ کل دن میں تو کچھ بھی نہیں کھایا تھا بس دو دو پھدیاں ہی ماری تھیں۔۔۔
پھر یہ بھی یاد آیا کہ شہر آ کر بھی کچھ نہیں کھایا رات کا کھانا بھی نہیں کھایا۔۔۔
مجھے سمجھ آ گئی اور امی کو بھی بتا دیا کل صبح کا ناشتہ کیا ہوا تھا ۔۔۔
امی نے کہا بس پھر اسی وجہ سے تمہیں چکر آیا اور تم گر گئے تھے۔۔۔
خیر کسی نہ کسی طرح وہ دن اور رات گزر گئے ۔۔۔
اگلی صبح تروتازہ اٹھا اور باہر نکل گیا سوچا کیوں نہ آج کہیں آنکھ مٹکا کیا جائے صبح صبح ٹاؤن کی عورتیں خوب اپنی گانڈ مٹکاتی پھر رہی ہوتی تھیں ۔۔۔
میں نکل پڑا آج کافی صحت مند محسوس کر رہا تھا اس کہ وجہ ایک دن میں ملنے والی غذا تھی۔۔۔
میں آج جان بوجھ کر مختلف گلیوں میں گھوم کر نہر والی سائیڈ پر گیا رستے میں کئی آنٹیوں کہ مست گانڈ دیکھی ایک دو کے مموں کے نظارے بھی ہوئے ۔۔۔
کچھ گھروں میں عورتیں خود صبح کے وقت گھر کے سامنے لگے پودوں پر پانی سے چھڑکاؤ کرتی تھیں اس وقت ان کے جسم کا انگ انگ چمک رہا ہوتا تھا۔۔۔
کئی تو فرش دھو رہی ہوتی تھیں اس وقت جو ان لٹکتے غبادے منظر پیش کرتے تھے میںرے جیسے کا لوڑا وہ دیکھ کر ہی پھٹنے والا ہو جاتا تھا۔۔۔
ویسا ہی اس دن بھی ہوا میں آخری گلی میں اسی آس پر گیا کہ کوئی ممے کا نظادہ ہی مل جائے میں جانتا تھا کہ اس وقت اس گلی میں اکثر ایک آنٹی گھر کے باہر پائپ پکڑے کھڑی ہوتی ہیں اور وہ بہت ماڈرن لباس پہنتی تھیں۔۔۔
اکثر ہی وہ بغیر دوپٹے کے ہوتی تھیں ان بڑے بڑے ممے کپڑوں کو پھاڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہے ہوتے تھے۔۔۔
میں جب ان کے سامنے پہنچا تو اپنی آنکھیں جھپکانا بھول گیا ۔۔۔
سفید سوٹ پہنے ہوئے تھی وہ اور پانی سے گیلے کپڑے یہاں تک کہ ان کے ممے بھی صاف نظر آ رہے تھے ۔۔۔
ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ننگی ہیں میں یہ ہی دھوکا کھا گیا تھا اس لیے تو منہ کھولے آنکھیں پھاڑے ان کو مموں کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
میں وہیں رک کر دیکھنے لگا میں اتنا کھو گیا تھا کہ مجھے یہ بھی پتہ نہ چلا کہ اس آنٹی نے مجھے آواز بھی دی ہے۔۔۔
خیر مجھے کندھے سے پکڑ کر ہلانے پر ہوش آیا تو میں نظر گھمائی تو وہ حسن وجمال کی پیکر کھلکھلاتے لبوں سے گویا ہوئی۔۔
کیا ہوا اس طرح کیا دیکھ رہے ہو ۔۔
میں اس کی اور مدھرتا میں کھو گیا ۔۔۔
پھر نہ بولا اتنی سریلی آواز لگتا تھا جیسے کوئی کوئل نغمہ کناں ہو جیسے کسی موسیقار نے کوئی تار چھیڑ دیا ہو۔۔۔
وہ پھر مسکراتے ہوئے گویا ہوئیں کیا ہوا ہے لگتا ہے بہت پسند آگئی ہوں۔۔۔
میں نے ان کی آنکھوں میں دیکھا وہاں شرارت نظر آئی۔۔۔
مجھے کندھے سے ہلا کر بولی ابھی جاؤ تمہارے انکل آفس چلے جائیں تم آنا پھر تم سے بات کروں گی ۔۔۔
میں جانے لگا تو اس نے آواز دی اور ہاں تمہیں خوش کر دوں گی۔۔۔
میں کچھ سمجھی اور کچھ ناسمجھی کی حالت میں وہاں سے چل دیا اور نہر کنارے چلنے لگا ۔۔۔
اپنی واک کا کوٹا پورا کرنے کے لیے آگے نکل گیا جہاں اکثر دل پشوری کرنے جاتا تھا شہر کی حدود سے نکل کر ساتھ ساتھ فصلوں میں لگے ٹیوب ویل پر جہاں اکثر و بیشتر عورتیں اور لڑکیاں نہا بھی رہی ہوتی تھیں اور کپڑے بھی دھو رہی ہوتی تھیں ۔۔
وہاں مجھے کچھ خاص نہ ملا تو واپسی کا رستہ ناپا۔۔۔
ابھی میں ٹاؤن کے پاس نہر سے اتر کر نرسری کے پاس ہی پہنچا تھا کہ مجھے آواز سنائی گل سنیں۔۔۔
میں اپنا وہم امجھا اور آگے بڑھ گیا لیکن ابھی ایک قدم ہی چلا تھا کہ پھر آواز آئی تینوں ای آں گل سن ایدھر آ۔۔۔
میں گردن گھما کر آواز کی سمت دیکھا تو مجھے دائی کی بیٹی نظر آئی جس کی ایک بار پھدی بجا چکا تھا نمکین تھی۔۔
رنگ تو سانولا تھا پر جسم کمال تھا اس کو دیکھ کر لن نے انگڑائی لی ۔۔۔
ایک بات ذہن میں آیا اس آنٹی نے بھی بلایا ہے وہاں جانا ہے لیکن لن صاحب بضد تھے نہ کاکا نہ پھدی ملدی پئی اگر نہ بجائی تو بہت برا ہوگا۔۔۔۔
میں لن کا غلام ٹھہرا سو چل دیا جیسے ہی میں مڑا وہ نرسری میں غائب ہو گئی۔۔۔۔
لیکن میں جانتا تھا کہاں ہو گی چنانچہ میں بغیر ڈرے اس کے پیچھے ہی اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ گیا۔۔۔
جیسے ہی اندر اترا دیکھا تو وہ اپنے کپڑے اتار رہی تھی مجھے دیکھ کر سرگوشی میں بولی جلدی کر ٹیم نیں ہیگا۔۔۔
میں نے بھی ٹراوزر نیچے کیا لن پھنکارتے ہوئے باہر نکل آیا اس نے قمیض اور شلوار دونوں اتار دیں ۔۔۔
اس کے مموں کی اکڑں دیکھ کر میرے منہ میں پانی بھر آیا میں آگے بڑا اور اس کے مموں کو پکڑ لیا اور دبانے لگا ۔۔۔
اس نے میرے ہاتھ جھٹکے اور لن کو دیکھنے لگی پھر اپنے ہاتھ میں پکڑ کر اسکا معائینہ کیا ۔۔۔
ساتھ ہی آہستہ سے بولی اے وڈا نیں ہو گیا۔۔
میں نئی او ای اے ۔۔۔
وہ بولی نئی اس دن تاں اے ادا ڈا نیں سی ۔۔
میں تینوں ایویں لگدا اے۔۔۔