گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 25)

وہ بولی ہہہا اے میں لیا سی۔۔

میں۔۔۔ ہمممم

وہ لن کو ایک ہاتھ کی مٹھی میں لے کر دوسرے ہاتھ کو اس پر پھیرتے ہوئے بولی۔۔

ایک بات کہوں ۔۔۔

میں ۔۔۔ کہو۔۔

بولی مینوں اوس دن بہت مزہ آیا تھا ساتھ ہی شرمانے لگی۔۔۔

میں نے بیٹھے بیٹھے آگے ہو کر اس کو گلے لگایا جس سے اس کے ایک ہاتھ سے لن نکل گیا۔۔۔

میں نے اس کے ممے پکڑے سہلانے لگا وہ میرے لن کی مٹھ مارنے لگی۔۔۔

کچھ دیر ایسسا کرنے کے بعد میں نے اس کو لٹایا اور لن کو اس کے منہ کے قریب لے آیا ۔۔۔

اس نے ہاتھ کی مدد سے منہ سے تھوک لیا اور لن پر لگایا پھر تھوک لیا لگایا لن کو اچھی طرح سے تر کرنے کے بعد مٹھ مارنے لگی ۔۔۔

میں نے تھوڑا اوپر ہو کر لن اس کے منہ کے بالکل قریب کر دیا۔۔۔

اس نے اشارے سے پوچھا کیا۔۔؟

میں نے لن کی ٹوپی اس کے ہونٹوں سے لگادی ۔۔۔

اس کی آنکھوں میں چمک آگئی اس نے اپنی زبان نکالی اور لن کی اکلوتی آنکھ پر لگا دی۔۔۔

میرے جسم نے جھرجھری لی لیکن مزہ بھی بہت آیا۔۔۔

پھر اس نے لن سے نکلنے والا تھوڑا بہت پانی زبان سے اچھی طرح چاٹا اور زبان کو ٹوپی پر پھیرنے لگی۔۔۔

میں نے مزے سے آ نکھیں بند کر لیں اور ہاتھ اس کے سخت سانولے مموں پر رکھ دئیے اور ممے دبانے لگا۔۔۔

وہ کچھ دیر ٹوپی سے مستی کرنے کے بعد آگے بڑھی اس نے لن پر جڑ والی سائیڈ سے اوپر تک زبان پھیرنی شروع کر دی ۔۔۔

لن کی ٹوپی کو ہاتھ میں پکڑے وہ زبان کو نیچے سے اوپر تک لاتی اور لن کے رنگ کے اردگرد زبان گھماتی۔۔۔

میں مزے کی انتہا کو پہنچ رہا تھا ایسا مزہ اب تک دو بار ہی لے پایا تھا۔۔۔

اس کی زبان میں جادو تھا اگر میری جگہ کوئی اور ہوتا تو اب تک اسکا منہ اپنے پانی سے بھر چکا ہوتا۔۔۔

میں نے بھی پیش قدمی کا فیصلہ کیا اس کے مموں پر جھکا لیکن اس نےمجھے پیچھے ہٹایا اور خود بیٹھ گئی مجھے لیٹنے کا کہا میں نے نیچے دیکھا تو گھاس کا بستر بنا ہوا تھا میں بے فکر ہو کر لیٹ گیا۔۔۔

وہ میرے لن پر جھک گئی اور منہ کے اندر ایک سائیڈ سے ٹکرا کر نکالتی لن پھٹنے والا ہو جاتا۔۔۔

کبھی دائیں سائیڈ سے کرتی کبھی بائیں سے کویی چھ سات بار کرنے کے بعد اس نے لن اپنے منہ میں بھر لیا ۔۔۔

جتنا اندر لے سکتی تھی لیا لن اس کے گلے تک گیا اس نے لیا پھر ایک دم باہر نکالا اففففففف یہ چیز میرے اندر آگ لگا گئی۔۔۔

اتنا مزا کہ بیان نہیں کر سکتا ایک بار نہیں اس نے تین چار بار ایسے ہی کیا اس کے منہ سے تھوک باہر ٹپکنے لگا اس کی آنکھوں سے بھی پانی نکل رہا تھا اس نے ہاتھ سے منہ صاف کیا آنکھیں پونجھ لیں۔۔۔

پھر وہ میرے اوپر آ گئی دونوں طرف ٹانگیں رکھیں اور لن کے اوپر آکر لن کو ہاتھ سے پکڑا اور پھدی پر سیٹ کیا۔۔۔

وہ آرام سے اندر لینا چاہتی تھی لیکن مجھ سے اب مزید انتظار نہیں ہو رہا تھا ۔ ۔۔۔

لن نے جب پھدی کو چھویا پھدی کی گرمی کا احساس ہوا میں نیچے سے گھسسا مارا آدھا لن اندر گھس گیا ۔۔۔

میں نے اس کا چہرہ دیکھا اس نے سختی سے ہونٹ بھینچے ہوئے تھے آنکھیں بند تھیں۔۔۔۔

دوسرے گھسے سے پہلے ہی س نے لن پر دباؤ ڈالا اور خود ہی بیٹھ گئی۔۔۔

جب بیٹھ گئی تو اس نے ہاتھ لگا کر چیک کیا جب اس کو تسلی ہو گئی کہ سارا چلا گیا ہے اس نے آنکھیں کھول لیں۔۔۔۔

اس کی انکھوں میں فخر تھا ساتھ ہی وہ میرے اوپر لیٹ گئی اور اپنی زبان میری گردن پر پھیرنے لگی۔۔۔

لیکن میں نے اس کو نیچے سے گھسے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔

لن پھنس پھنس کر جارہا تھا اس کی پھدی ٹائٹ تھی یا اب ہو گئی تھی لیکن مزہ دے رہی تھی۔۔۔

اس کی زبان مسلسل میری گردن پر چل رہی تھی جس سے میرے پورے جسم میں گدگدی ہو رہی تھی۔۔۔

جتنا تیز وہ زبان چلاتی اتنی تیزی سے میں گھسے مارتا۔۔۔

اس پوزیشن میں گھسا اچھا نہیں لگ رہا تھا اس لیے میں نے اس کی کمر کے گرد بازو ڈالے اور اس کو گھما کر اپنے نیچے کر لیا ۔۔۔

اس کی ٹانگیں اپنے کندھوں پر رکھیں اور اندھا دھند گھسے مارنے لگا۔۔۔

اتنے تیز گھسے مارے کہ میری کمر درد کرنے لگ گئی اس کی بھی پھدی نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔

پھدی گیلی ہونے سے لن شڑپ شڑپ کی آواز سے پھدی میں گھس رہا تھا۔۔۔۔

اس کے ممے بھی ہل رہے تھے لیکن زیادہ سخت ہونے کی وجہ سے لٹک نہیں رہے تھے۔۔۔

میں نے اب اس کی ایک ٹانگ اٹھائی دوسری بالکل سیدھی کی اور گھسے شروع کر دئیے ۔۔۔

کوئی 5 منٹ کی مزید چودائی کے بعد مجھے لگا کہ اب فارغ ہونے والا ہوں تو لن نکال لیا۔۔۔۔

اس کو الٹا ہونے کو کہا تو اس نے کہا جب فارغ ہونے لگو تو مجھے دکھانا ہے ۔۔۔

میں نے ہممم کیا وہ گھوڑی بنی میں لن اس کی گانڈ کے نیچے سے پھدی میں گھسایا اور دھے دھکے پے دھکا شروع کر دیا۔۔۔

اس کی گانڈ کو دونوں سائڈ سے پکڑ گھسے لگانے لگا۔۔۔

آج وہ کویی آواز نہیں نکال رہی تھی۔۔۔

میں اس کے منہ آواز نکلوانےکے چکر میں مسلسل گھسے لگا رہا تھا ۔۔۔

مجھے اپنا ٹائم قریب نظر آیا اس کی پھد ی لن پر سخت ہونے لگی وہ جھٹکے کھا کر فارغ ہونے لگی۔۔۔

میں رک گیا جب وہ فارغ ہو گئی تو میں نے پھر سے سپیڈ پکڑی اور سپیڈی گھسے شروع کر دیے کچھ ہی دیر بعد مجھے خون اپنی ٹانگوں میں جمع ہوتا محسوس ہوا۔۔۔

میں دو چار جاندار گھسے مارے اور لن باہر نکال کر اس کو سیدھا کیا وہ ایک دم لن کو ہاتھ میں پکڑ کر مٹھ مارنے لگی۔۔۔۔

ایک دو تین چار اور لن کی آنکھ سے ایک زودار پچکاری نکلی جو سیدھی اس کے منہ پر جاگری ۔۔۔

اس نے جلدی سے لن کا رخ اپنے مموں کی طرف کیا اور باقی کے قطرے اس کے مموں پر گرنے لگے اس نے مٹھ مار مار کر اچھی طرح لن سے آخری قطرہ بھی نچوڑ کر اپنے مموں پر گرایا۔۔۔

اس کے بعد اس نے لن کو اپنے منہ لے کر چوسنا شروع کر دیا میں اس کی حرکات کو دیکھ کر حیران ہو رہا تھا ۔۔۔

وہ اپنے کام میں مگن تھی اس نے ایک بار پھر زبان سے لن کی ٹوپی پر اکلوتی آنکھ پر زبان پھیرنے شروع کر دی اور جو قطرے رہ گئے تھے وہ چوس لیے۔۔۔

لیکن اس کی اس حرکت سے لن پھر سے جوش میں آگیا لیکن مجھے لگنے لگا کہ میں اگر اب کچھ کروں گا تو واپس گھر نہیں جا سکوں گا۔۔۔

پتہ نہیں جیسی کمزور ہو گئی تھی سالی مجھے کہ ایک بار چدائی کے بعد کی جسم میں ایسے لگ رہا تھا جیسے جان ہی نہیں رہی۔۔۔

میں خود پر قابو پایا اس کو کہا کوئی آ نہ جائے اب چلتا ہوں۔۔۔

اس نے لن کی ظرف اشارہ کیا اور بولی یہ تو کچھ اور آکھ رہا اے۔۔

میں نے کہا اس کی سنیں گے تو پھر تم ایک بار نہیں کئی بار کئی لوگوں کو پھدی دو گی اور ہو سکتا ہے مجھے بھی گانڈ مروانی پڑ جائے۔۔۔

وہ منہ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنے لگی اور بولی جا اوئے کوئی حال نیں تیرا وی۔۔۔

مجھے ایک دم خیال آیا کہ اس کا نام تو پوچھا ہی نہیں اور نہ ہی اس نے بتایا۔۔۔

میں اس سے نام پوچھنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور ٹراؤزر پکڑا دیا خود تیزی سے اپنے کپڑے پہننے لگی ۔۔۔

میں نے بھی اس کی دیکھا دیکھی ٹراؤزر پہن لیا اس نے تھوڑا سا باہر نکل کر دیکھا ۔۔۔

پھر مجھے جانے کا کہا۔۔۔

میں وہاں سے کھسک کر باہر نکلا اور ایک طرف چل دیا ۔۔۔۔

ابھی چند ہی قدم چلا تھا کہ ایک سائیڈ سے تیزی سے کتا نکلا اور میرے سامنے آ کر گھورنے لگا۔۔۔

کتوں سے مجھے بہت ڈر لگتا تھا میری ہوا کتے کو دیکھ کر ٹائٹ ہو گئی۔۔۔۔

وہ تو بھلا ہو ایک اور کتے کا جو اس پر بھونکا اور پیچھے لگ گیا دونوں ایک دوسرے کے آگے پیچھے بھاگتے چلے گئیے۔۔۔۔

میں وہاں سے نکل کر گھر آیا نہایا کچھ تازگی آئی ناشتہ کیا اور ٹیوشن پڑھنے چلا گیا ۔۔۔

پھر کئی دن یہ ہی روٹین رہی ٹیوشن گھر گراؤنڈ کچھ نہ ہوا لیکن حقیقت یہ تھی کہ میں ڈر گیا تھا مجھے جو اس چکر آیا پھدی اور پھر دوسرے دن پھدی مارنے سے باز نہ آیا تو وہاں بھی مجھے کمزوری کا احساس ہوا۔۔۔۔۔

اس کے لیے میں نے ایک دوست سے مشورہ بھی کیا لیکن اس نے جو علاج بتایا وہ مہنگا تھا اس لیے بس چپ ہی ریا۔۔۔

اسی طرح پندرہ بیس دن نکل گئے ان دنوں میں نے باقاعدگی سے دودھ پیا اور موقع ملتے ہی دودھ میں شہد ملا کر پی لیتا ۔۔۔

لن بہت تنگ کرنے لگا تھا کچھ سکون نہ تھا جب بھی اکیلا بیٹھتا لن صاحب جھٹکے سے کھڑے ہو جاتے۔۔۔۔

ایک دن جب لن نے زیادہ تنگ کیا تو ٹیوشن سے واپسی پر ایک کوشش کرنے کا سوچا ۔۔۔۔

میں تہمینہ کے چکر میں بلوچ ہاؤس کی طرف جانے کی پلاننگ کرتا ہوا گھر آیا۔۔۔

گھر آ کر کتابیں رکھیں پانی پیا اور باہر نکل گیا۔۔۔

یہاں ایک بات بتاتا چلوں کیونکہ ابھی میٹرک کا رزلٹ نہیں آیا تھا اس لیے میں صبح کے وقت ٹیوشن پڑھنے جاتا تھا۔۔۔۔

گھر سے نکل کر میں بلوچ ہاوس کی طرف چل پڑا مارکیٹ پہلے آتی تھی اس لیے وہاں ہم سب ایک بار حاضری ضرور لگواتے تھے اس لیے میں بھی ایسے ہی مارکیٹ پر رکا وہاں سے کچھ چیونگم لیں منہ میں ڈالیں چیونگم چباتا میں ابھی نکل ہی رہا تھا کہ مجھے آواز آئی بات سنو۔۔۔۔

میں نے آواز کی سمت دیکھا تو ایک نقاب پوش عورت مجھے بلا رہی تھی۔۔۔

میں نے دائیں بائیں دیکھا جب یقین ہو گیا کہ وہ مجھے ہی بلا رہی تو میں اس کے پاس گیا۔۔۔

میں۔۔۔ جی۔۔

عورت ۔۔۔ یہ مجھے اندر شاپ سے کچھ سامان لا دو۔۔۔

اس نے مجھے لسٹ پکڑائی میں جو کسی کا کام کرنا بھی حرام سمجھتا تھا بلکہ اب بھی سمجھتا ہوں پتہ نہیں کیسے اس کو انکار نہ کر سکا۔۔۔

انکار نہ کر سکنے کی بھی ایک وجہ تھی مجھے یہ آواز سنی ہوئی لگ رہی تھی۔۔۔۔

خیر میں اندر گیا سامان لیا اور باہر آیا تو وہ عورت مجھے ایک طرف جاتی ہوئی نظر آئی ۔۔۔۔

مجھ بڑا غصہ آیا کہ مجھے سامان کا کہہ کر یہ خودکدھر جا رہی ہے کیسی عجیب عورت ہے۔۔۔۔

خیر میں غصے میں اس کے پیچھے چل پڑا وہ آگے آگے چلتی جارہی تھی میں کافی فاصلے پر اس کے پیچھے بھاگنے کے انداز میں جا رہا تھا۔۔۔۔

میں قریب سے قریب ہوتا گیا اور چند فٹ فاصلہ رہ گیا۔۔۔

میں نے ان کو آواز دی بات سنیں۔۔

لیکن اس نے ایسا ردعمل دیا جیسے میں اس سے نہیں کسی اور سے مخاطب ہوں۔۔۔

لیکن میں نے ایک بات نوٹ کی کہ وہ گانڈ کو بہت مٹکا کر چل رہی تھی۔۔۔

میری نظر گانڈ کے نشیب و فراز پر پڑی تو ٹھرک پن جاگ اٹھا۔۔۔۔

میرا سارا غصہ جھاگ کی طرح بیٹھ گیا اور میں اسی فاصلے سے گانڈ کی مٹک مٹک دیکھتے ہوئے چلنے لگا۔۔۔۔

دوپہر کا وقت سنسان گلی اور اس میں چلتی آگ میرے اندر آگ لگا رہی تھی۔۔۔

میرا لن جو پتہ نہہں کب سے ترس رہا تھا یہ نظارہ دیکھ کر اپنا سر پھڑپھڑانے لگا۔۔۔

بڑی مشکل سے خود کو کسی غلط حرکت سے باز رکھے میں اس کے پیچھے چلتا رہا یکدم وہ چلتا پھرتا نظارہ رک گیا۔۔۔۔

میری نظر گانڈ پر اٹک گئی میں بھی اس کے پاس جا کر رک گیا لیکن میری نظر اببھی بھی گانڈ کی بناوٹ پر تھی۔۔۔

ایک بار پھر مجھے آواز سنائی دی صرف دیکھتے کی رہو گے یا آج بھی بھاگ جاو گے۔۔۔

بس تم ٹھرک ہی جھاڑ سکتے ہو لگتا ہے اندر سے فارغ ہو۔۔۔

میں نے نظر اٹھا کر دیکھا بات کو سمجھا تو بہت کچھ سمجھ میں آتا گیا ۔۔۔۔

ہاں جی صیح سمجھے آپ لوگ یہ وہی آنٹی تھی جس نے مجھے بلا یا تھا لیکن میں اس دائی کی لڑکی کی پھدی مار کر سیدھا گھر پہنچ گیا تھا ۔۔

اس کے بعد میں کافی دن اس سے سب سے بچنے کی کوشش کرتا رہا لیکن آج لن نے مجھے مجبور کر دیا۔۔۔۔

اس لیے لن کے لیے پھدی کا شکار ڈھوندنے نکلا تھا۔۔۔

اب یہ بات آنٹی کو تو سمجھا نہیں سکتا تھا نہ یہ کہہ سکتا تھا کہ میں بہت ماہر ہوں ۔۔۔

ا س لیے معصوم بن گیا اور کہا وہ ہہہہہ نا میں ڈر گیا تھا ۔۔۔

وہ عورت بولی چل آجا یہ سامان اندر کمرے میں رکھ دو ۔۔۔

میں ۔۔۔ جی اچھا کہتا اس کے پیچھے چلتا ہو اندر چلا گیا۔۔۔۔

کیا گھر تھا میں نے تو ایسا گھر اپنی زندگی میں بھی نہیں دیکھا تھا کمرے میں لے گئی جو شاید ان کا ڈرائنگ روم تھا ۔۔۔۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی ٹھنڈک کا حساس ہوا نیچے پاؤں قالین میں دھنس رہے تھے اتنا سافٹ قالین کمرے ایک خوشبو سے بھرا تھا۔۔۔

وہ مجھے کہنے لگی اندر آجاؤ جو میں وہاں پڑے صوفے پر بیٹھنے کی سوچ رہا تھا اس کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔

اس نے مجھے ہاتھ سے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا میں سامان والا شاپر ہاتھ اسی طرح پکڑے آگے جانے لگا ۔۔۔

وہ رک گئی اور بولی بدھو وہ سامان تو رکھ دو۔۔۔

میں نے جلدی سے سامان وہاں ہی رکھ دیا میں صیح معنوں میں کہوں تو پنجابی کا ایک لفظ ہے بوندل جانا جس کا مطلب ہوتا کچھ سمجھ نہ آنا بیوقوفانہ حرکات کرنا۔۔۔

اس وقت میری بھی وہی حالت تھی جیسے اس نے کہا سامان تو رکھ دو بدھو۔۔۔

میں گھر کو اندر سے دیکھ کر ایسا رعب میں آیا کہ بس سمجھ ہی نہیں آرہی تھی کیا کروں بہت مرعوب ہوگیا تھا۔۔۔

میں سامان کو وہیں رکھ دیا یہ دیکھے بغیر کہ وہاں کیا پڑا ہے ایک دم کڑچ کی آواز آئی اور کوئی چیز ٹوٹ گئی۔۔۔

کسی چیز کے ٹوٹنے کی آواز مجھ پر بم بن کر گری میری ٹانگیں کانپنے لگیں میں کبھی اس کی طرف دیکھتا تو کبھی نیچے جہان سامان رکھا تھا۔۔۔

اصل میں جہاں سامان رکھا تھا وہاں ایک ٹیبل پڑی تھی جس پر گلدان تھا جو ٹوٹل کرسٹل کا تھا اور ٹیبل شیشے کی بنی ہوئی تھی۔۔۔

جب میں سامان والا شاہر رکھا تو وہ اس گلدان سے ٹکرایا اور گلدان ٹھا کی آواز سے ٹیںل پر گرا اور گلدان ٹوٹ گیا۔۔۔

لیکن کمال جاؤں اس عورت کر اس نے بجائے غصہ کرنے کے اپنے ماتھے کر ہاتھ مارا اور بولی اف یار تم بھی نہ ۔۔۔

میں اس گلدان کو اٹھانے کے لیے جھکا تو وہ بولی ایسے کی رہنے دو میں خود کر لوں گی تم آجاو۔۔۔

میں افسردگی سے سر جھکائے اس کے پیچھے چل پڑا وہ ایک کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔

میں بھی اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہو گیا آہ کمال کا کمرہ تھا کیا خوبصورت بستر لگا تھا ۔۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی جو چیز سب سے پہلے مجھے نظر آئی وہ تھی اس کا خوبصورت بیڈ اور اس پر بچھی شیٹ ایسا آج تک میں نے ڈراموں اور فلموں میں ہی دیکھا تھا۔۔۔

پینڈو ہونے کی وجہ سے میرے لیے یہ اب بہت ہی فلمی سا تھا۔۔۔

میں نے اتنا خوبصورت بیڈ ایسا شاندار کمرا پھر اس کمرے کے دیواروں پر لگی پینٹنگز اور دبیز پردے ایک سائیڈ پر ڈبل سیٹڈ صوفہ پڑا تھا ۔۔۔۔

کمرے کے ایک طرف ایک شیٹ سی لگی تھی جس میں چھوٹا دروازہ لگا تھا یہ میرے لیے بہت حیران کن تھا کہ کمرے میں یہ سب کیا ہے۔۔۔

دوسری طرف ایک انتہائی خوبصورت ڈریسنگ ٹیبل پڑا تھا میں پینڈو جس کو سنگھار دان کا پتہ تھا جو کہ ایک بڑا سا شیشہ ہوتا تھا سب گھر والے اس میں چہرہ دیکھ کر بال بھی بناتے اور عورتیں اپنے منہ پر کوئی کریم وغیرہ لگا لیتیں وہ بھی کبھی کبھار جب کوئی شادی وغیرہ ہوتی۔۔۔

اس وقت کی سادگی آج کے دور کی عورتوں کو کہیں کہ یہ کر لو تو وہ ہمیں احمق سمجھنے لگتی ہیں ۔۔۔

کپڑے رکھنے کے ٹرنک کا پتہ تھا سونے کے لیے چارپائی مل جاتی تھی۔۔۔۔

برتنوں کے لیے گاؤں میں ایک ڈولی ہوتی تھی یہاں آکر کچن میں الماری کا پتہ چلا۔۔۔۔

ایسا بندہ جس نے زندگی میں کبھی بیڈ پر لیٹ کر نہ دیکھا ہو اس کو میٹرس کی نزاکت کا کہاں احساس ہوتا ہے وہ کیا جانے دبیز قالین کی شان اس کو کہاں پتہ ہوگا شاہی بیڈ کیا ہوتا ہے میں اس وقت اس کمرے کی سیٹنگ اور کمرے میں بچھے قالین تو ایک طرف وہاں لگی پینٹنگز بیڈ کی خوبصورتی جو کسی شہنشاہ کا بیڈ لگ رہا تھا کم از کم مجھے تو ایسا ہی لگ رہا تھا ۔۔۔

آپ لوگ بھی کہیں گے کہ کہاں بور کر رہا ہوں اب کہانی کی طرف آتے ہیں۔۔۔

میں کمرے کی خوبصورتی میں اس قدر کھو گیا کہ یہ بھول ہی گیا اس وقت کہاں ہوں ۔۔۔۔

میں کمرے کے درمیان میں کھڑا ہونقوں کی طرح کبھی گھوم کر دائیں دیکھتا تو کبھی بائیں۔۔۔

میں ابھی شاید اور بھی کھویا رہتا میرے کانوں میں آواز آئی بس یا ابھی کچھ رہتا ہے جس کو دیکھنا باقی ہے۔۔۔

میں نے چونک کر آواز کی سمت دیکھا پھر دیکھتا ہی رہ گیا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا آنکھیں چندھیا گئیں دل کی دھڑکن بے ترتیب ہو گئی سانس لینا بھول گیا۔۔۔۔

اک پرشباب جسم ایک حسین چہرہ گلبدن نازنین میرے پاس الفاظ نہیں جو اس حسن کی مورت کے لیے استعمال کر سکوں۔۔۔

اس وقت پاکستانی پنجابی فلم انڈسٹری میں سب سے خوبصورت اداکارہ جو مجھے پسند تھی وہ اداکارہ نور تھی۔۔۔۔

اگر اس وقت وہ بھی سامنے ہوتی تو میں اسے گھاس نہ ڈالتا اتنا حسین چہرہ آنکھوں میں کاجل لگائے لبوں پر کپ سٹک سینے دوپٹہ غائب گلے میں نہ تھا۔۔۔

سینہ کے نشیب و فراز ادارہ صائمہ کے جیسے تھے بال لمبے جو اس نے ایک سائڈ پر آگے کو ڈالے ہوئے تھے۔۔۔۔

کھکا گلا جس میں سے جھانکتے اس ابھار اپنی قید سے رہائی کی دوہائی دے رہے تھے۔۔۔

میں بت بنا کھڑا اس حسن کی مورت کو تک رہا تھا میرا گلا خشک ہو گیا تھا دماغ کی نسیں نارمل ہونے لگیں ۔۔۔

میں جو کسی پری کے خیال سے سہم گیا تھا چہرے پر نظر پڑی غور کیا تو سمجھ آئی یہ کوئی پری نہیں لیکن پری پیکر حسینہ ہے۔۔۔۔

میرا تو بس نہیں چل رہا تھا کہ اس کی خوبصورتی کو اپنے اندر اتار لوں۔۔۔

مجھے کھویا دیکھا کر پھر بولی اب بس بھی کرو یا مجھے نظر لگانی ہے ۔۔۔

میں شرمندہ سا ہو گیا لیکن اس کے حسن کی تعریف نہ کرتا تو رستہ جلدی کیسی کھلتا ۔۔۔۔

میں۔۔۔۔ تیرے حسن کی تعریف کیا کروں۔۔

تیرے حسن می تعریف کیا کروں۔۔۔

حسن کا شاہکار ہو تم۔۔

تیرا حسن میری جان

تیرا حسن میری روح

میری آنکھ کا نور ہو تم۔۔۔

تیر ےحسن کی کیا تعریف کروں۔۔۔

تیرے جسم کی خوشبو

تیرے بدن کی نازکی

گلاب کا پھول ہو تم

تیرے حسن کی کیا تعریف کروں۔۔

تیرا بدن چمکتا موتی

تیری آنکھ کی روشنی

چاند کا ٹکڑا ہو تم

تیرے حسن کی کیا تعریف کروں۔۔

تیرے لبوں کی لالگی

تیرے سینے کی ابھارگی

میری روح کی غذا ہو تم

تیرے حسن کی کیا تعریف کروں۔۔۔

تیرے گیسوؤں کی لمبائی

تیری گردن کی بنائی

دہکتی ہوئی آگ ہو تم

تیرے حسن کی کیا تعریف کروں۔۔۔

مجھے پتہ نہیں کیا ہوا کہ میری زبان سے نکلنے والے یہ الفاظ فل بدیح تھے کیسے نکلے کیوں آئے یاد نہیں یاد تھا تو صرف یہ کہ یہ الفاظ کس کےلیے آئے صرف یہ یاد تھا کس کے لیے ادا ہوئے ۔۔۔۔

میرے منہ سے اور نکلتے چلے جاتے اگر اس ماہ رح ماہ پروین کا مکھن جیسا ملائم ہاتھ میرے منہ پر نہ آتا۔۔۔

اس کے لب ہلے پھول کی پتیوں کی طرح الفاظ نکلے بس کر جاو اتنی تعریف ۔۔۔۔۔۔۔

شاید وہ کچھ اور بھی کہنا چاہتی تھی میں نے اس کے منہ پر انگلی رکھ دی وہ چپ ہوئی میں نے کہا۔۔۔

آپ کی خوبصورتی کا میں دیوانہ ہو گیا ہوں آپ کا فگر آپ کے لب کیا بتاؤں میری جان نکال رہے ہیں ۔۔۔

لبوں کی نزاکت مجھے چوسنے کی دعوت دے رہے ہیں آپ کے یہ لمبے سیاہ بال کسی حسین پری کو بھی مات دیتے ہیں۔۔۔

میں تو آپ کو دیکھ کر مبہوت رہ گیا تھا آپ اس جہاں کی تو لگتی ہی نہیں ۔۔

آپ تو پرستان کی پریوں کی سردار لگتی ہیں۔۔۔۔

آپ پر یہ دل فدا ہو گیا عاشق تو پہلے ہی تھا اب پاگل دیوانہ بھی ہو گیا ہے۔۔۔

وہ شرمانے لگی میں نے کچھ مزید پتے پھینکنے کا سوچا اور بولا ۔۔۔

آپ کسی سولہ سال کی کم سن حسینہ سے کسی طور کم نہیں اپ کی خوبصورت آواز ہر سو ترنم پھیلاتی ہے۔۔۔۔

وہ جھکی اور میرا ہاتھ اپنے لبوں سے ہٹایا اور اپنے لب میرے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔۔۔

کچھ دیر چوسنے کے بعد پیچھے ہوئی ایسا لگ رہا تھا جیسے کئی میل کا سفر پیدل طے کر کے آیا ہوں۔۔۔۔

اس کا سینہ بھی دھونکنی کی طرح اتھل پتھل ہو رہا ٹھا۔۔۔

میرے لب ہلے۔۔۔

سینہ ان کا کمال ہے

ابھار اس کے لاجواب ہیں

سینے کے موتی کی قسمت

ہائے شباب پر ایک شباب ہے۔۔۔

وہ بے قابو ہونے لگی اس کی بے تابی کا اندازہ اس بات سے لگا سکتے ہیں ۔۔۔

اس نے مجھے دھکا دیا بیڈ پر گرایا خود اوپر آئی۔۔۔۔

میرے منہ ہونٹ گال غرض ہر جگہ چومنے لگی۔۔۔

اس کا آدھا جسم میرے اوپر تھا اس کے ممے میرے سینے میں مرہم کا کام کر رہے تھے ۔۔۔

یہ میرے الفاظ کا نتیجہ تھا کہ مجھے کچھ بھی نہ کہنا پڑا اس کو بھی کچھ سوچنے می ضرورت نہ ہوئی سب کچھ شروع ہو گیا اب انتہا کیسے ہونی ہے میں یہ سوچنے لگا۔۔۔۔

اس کے بڑے بڑے ممے مجھے سکون دے رہے تھے مزے ہی مزے کی لہریں نکل دہی تھیں۔۔۔

میں نے ہاتھ نیچے سے نکالا اس کی کمر ہر رکھا اور پھیرنے لگا۔۔۔

وہ دیوانہ وار مجھے چومنے لگی ہونٹوں سے انصاف کرنے کے بعد وہ میری گردن پر ٹوٹ پڑی گردن کو چومنے لگی۔۔۔

کان کی لو کو منہ میں لےکر چوسا ایک کان پھر دوسرے کان کی ۔۔۔

میرا ببر شیر نیچے سے اپنا سر اس کی ٹانگوں سے ٹکرانے لگا۔۔

حالانکہ میں انڈر وئیر بھی پہنا تھا ۔۔۔۔

پھر بھی اس کو بھی لن کی دستک کا پتہ چل چکا تھا ۔۔۔۔

جلدی سے وہ اوپر اٹھی اور میرے کپڑے اتارنے لگی ۔۔۔۔

میں جب انڈر وئیر میں رہ گیا تو اس نے مجھے کہا۔۔۔۔۔​​



Source link

Leave a Comment