میں جو سمجھ رہا تھا کہ سمیرہ باجی پر نیم بے ہوشی کا دورہ پڑ رہا ہے میری خام خیالی نکلی۔۔۔۔
سمیرہ باجی نے اپنے ہونٹوں کو بھینچ کر آنکھیں کھولیں اور میری طرف دیکھتے ہوئے کہا مجھ سے کون سا بدلا لے رہے ہو۔۔۔۔
میب کچھ نہ سمجھا لن کو آرام سے پیچھے کھینچا اس نے ایک بار پھر آنکھیں بند کر لیں چہرے پر تکلیف کے آثار تھے جو میری مردانگی کو تسکین دینے کے لیے کافی نہیں تھے۔۔۔۔
لن کو آدھا باہر نکال کر رکا تو اس نے اپنے ہاتھوں سے مجھے پیچھے دیکھیلنا چاہا اگر میں نے اس کی گردن کے نیچے بازو نہ رکھا ہوتا تو یقیناً میں پیچھے گر جاتا ۔۔۔۔
مجھے غصہ آگیا میں نے لن کو زور دار گھسے سے اندر گھسا دیا اس کی پھر آہ نکلی لیکن یہ پہلے والی چیخ کے مقابلے میں کم تھی۔۔۔۔
بس پھر کیا تھا سمیرہ باجی کی گردن کے نیچے ایک بازو رکھ کر اس کو قابو کیا اس کی ایک ٹانگ کو دوسرے بازو سے فل اوپر کیا ایک جتنی اوپر اٹھی تھی وہیں رہنے دی ۔۔۔۔
ایک نان ساپ پمپ ایکشن سٹارٹ کر دیا لن کو اتنی سپیڈ اور غصے کو اندر باہر کرنے لگا کہ ایک منٹ سے بھی کم وقت میں میرا سانس پھولنے لگا لیکن رکنے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔
اب اس کی آہوں میں بھی کمی آگئی تھی شاید سمیرہ باجی نے بھی سمجھوتا کر لیا تھا کہ لن جا تو چکا ہے اب کیا فائدہ مزہ لینا چاہئیے۔۔۔۔
سمیرہ باجی نے جسم کو ڈھیلا چھوڑ دیا اور مجھے فل آزادی مل گئی اب لن اور پھدی کا اصل کھیل شروع ہوا ۔۔۔۔
میرے گھسے کا مقابلہ سمیرہ باجی کی پھدی نہ کر سکی اس نے جلد ہی پھڑکنا شروع کر دیا ۔۔۔۔
سمیرہ باجی کے وہ ہاتھ جو مجھے کچھ دیر پہلے دھیکیل رہے تھے اب میری کمر آ چکے تھے اس نے دوسری ٹانگ اٹھا کر میری گانڈ پر رکھ دی۔۔۔۔۔
مجھے اپنی طرف کھینچنے لگیں میں بھی جوش میں اور زور سے گھسے مارتا جا رہا تھا ۔۔۔
سمیرہ باجی کی آہ آہ آہ بببلللوووو مجھے کچھ ہو رہا ہے نہ کرو بلللوووو آہہہ امییی جیییی میری جان نکل رہی ہے کی آوازیں آنے لگیں تھیں۔۔۔۔
وہ مجھے اپنے اوپر کھینچ رہی تھی نیچے سے اپنی گانڈ بھی ایک ردھم سے اٹھا اٹھا کر لن کو لے رہی تھی۔۔۔۔
یکدم اس نے مجھے اتنے زور سے اپنی طرف کھینچا کہ اس کے ناخن مجھے اپنی کمر پر چبھتے ہوئے محسوس ہوئے ۔۔۔۔
اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ کر میرا اور اپنا سانس ایک کر دیا۔۔۔۔
گانڈ کو زور سے لن پر مارا جسم کٹی ہو مچھلی کی تڑپا پھدی نے لن کو جکڑ لیا لن کو اتنی زور سے اپنے قابو میں کیا کہ لن پھٹنے والا ہو گیا ۔۔۔۔
اس کا پورا جسم اوپر کی طرف اٹھا اور پھدی کے مسام کھلے لن پر پانی کی برسات ہونے لگی۔۔۔۔
سمیرہ باجی کی پھدی نے اپنی زندگی کی پہلی چودائی کی خوشی میں میرے لن کو نہلانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔
قریب ایک منٹ تک اس کا جسم جھٹکے کھاتا رہا اور پھدی کھلتی بند ہوتی رہی جب اس کا جسم ڈھیلا ہوا تو میں نے ایک بار پھر سے لن سے اپنا ایکشن سٹارٹ کیا۔۔۔۔
پھدی کے اندر دھواں دار دھکے مارنے شروع کر دئیے گانڈ اٹھا اٹھا کر گھسے مارنے لگا سمیرہ باجی بار بار مجھے کہہ رہی تھی بلو بس کرو مجھ سے اور نہیں ہو رہا میری بس ہو گیی ہے۔۔۔۔
لیکن مجھ تو پھدی کی گرمی سوار ہو چکی تھی اتنی ٹائٹ پھدی کبھی کبھی ہاتھ آتی ہے۔۔۔۔
میں کیسے جانے دیتا مسلسل ایک ہی سٹائل میں لگا ہونے کی وجہ سے اس کی ٹانگیں کانپنے لگیں تھیں اور میں بھی تھک رہا تھا ۔۔۔۔
میں نے لن باہر نکالا اور سمیرہ باجی کو ایک دم پلٹ کر الٹا کر دیا اس کی گانڈ کو اٹھایا اس نے سییی کی اور کہا بلو آرام نال کر لے ہن میں نہیں روکدی۔۔۔۔
اس کی گانڈ اٹھائی ممے اس کے نیچے لگے تھے گانڈ باہر نکل آئی اس کی سفید گانڈ جو گوشت سے بھری ہوئی تھی اس میں سسے موری نظر نہیں آ رہی تھی ۔۔۔۔
میں نے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر گانڈ کے نیچے سے پھدی کے سوراخ پر رکھا اور ایک دم گھسا مارا لیکن اس کی کمر کو پکڑنا نہیں بھولا۔۔۔۔
وہ گرتی گرتی بچی اس کے بعد ایک اور گھسا مارا تو لن سارا اندر چلا گیا پھر تو گانڈ کو پکڑا اور ہو گیا شروع ۔۔۔۔
مجھے چودائی کرتے ہوئے تقریباً بیس منٹ ہو چکے تھے اور اس دوران سمیرہ باجی کی پھدی کا پردہ بکارت بھی پھاڑا تھا ۔۔۔۔
میرا لن بھی اب اپنی گرمی نکالنے کے لیے بے چین ہو رہا تھا اس لیے فل جوش سے گھسے مارنے لگا اس نے بھی گانڈ کو پیچھے دھکیلنا شروع کر دیا ۔۔۔۔
میرے ہر گھسے سے اس کے چوتڑ تھپ تھپ کی آواز دے رہے تھے جوش میں ایک دو بار میں نے چوتڑوں پر تھپڑ بھی جڑ دیا تھا۔۔۔
آخر وہ لمحہ بھی آگیا جو اس سب سین کا سب سے زیادہ مزیدار ہوتا ہے جب انسان کا دل کرتا ہے لن اس سے بھی آگے کہیں ٹھوک دوں ۔۔۔۔
ادھر میں زور سے گھسے مار رہا تھا دوسری طرف سمیرہ باجی چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی اور زور سے بلو اور زور مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔۔۔۔
اس کی ہلا شیری مجھے مزید طیش دلا رہی تھی یکدم سمیرہ باجی کا جسم ایک بار پھر اکڑنے لگا اس نے زور سے اپنی گاند میرے لن پر ماری اور نیچے لیٹتی چلی گئی۔۔۔۔
میں بھی اس کے اوپر لمبا ہوتا گیا اور گھسے مارتا رہا جب مجھے لگا کہ اب لن نے اپنا فوارا چھوڑنا ہے میں لن کو باہر نکالا اور اور سمیرہ باجی کی گاند کی دراڈ میں رکھ کر اوپر لیٹ گیا۔۔۔۔
لن نے اپنی اکلوتی آنکھ کھولی اور گانڈ کی دراڈ میں آنسو بہانے لگا سمیرہ باجی کا بھی جسم کانپ کر ٹھنڈا ہو چکا تھا ۔۔۔۔
میں کچھ دیر اس کے اوپر لیٹا فارغ ہوتا رہا جب لن نے آخری قطرہ بھی بہا دیا تو سمیرہ باجی کے اوپر سے اتر کر ایک طرف چھت کی طرف منہ کر کے لیٹ گیا اور سانس بحال کرنے لگا۔۔۔۔
سمیرہ باجی بھی کچھ دیر الٹی لیٹی رہنے کے بعد سیدھی ہوئی ایک سئی کی آواز کے ساتھ انہوں نے اپنی پھدی پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔
پھر ہاتھ اٹھاتے ہوئے بولیں آہ یہ کیا کر دیا تم نے میری پھاڑ دی ہے اتنا درد تو کبھی زندگی میں نہیں ہوا۔۔۔۔
میں باجی کچھ نہیں ہوتا یہ تو زندگی میں کر لڑکی کے ساتھ ہوتا ہے ایک بار تو کسی نے پھاڑنی کی ہوتی ہے کسی کی جلدی پھٹ جاتی ہے تو کسی کے تھوڑی دیر سے لیکن پھٹنی لازمی ہوتی ہے۔۔۔۔
سمیرہ باجی نے مجھے گھورتے ہوئے کہا بڑا بے شرم ہے ابھی بھی مجھے باجی کہہ رہے ہو میری جان نکال کر رکھ دی اور کہہ رہا ہے کچھ نہیں ہوا۔۔۔۔
میں باجی آپ کو باجی نہ کہوں تو اور کیا کہوں آپ کو بچپن سے باجی کہتا آرہا ہوں اب عادت ہو گئی ہے۔۔۔۔
سمیرہ باجی ۔۔۔۔باجی کی پھاڑتے ہوتے ہیں اور خون بھی نکالتے ہیں ساتھ میں ںے شرمی والی باتیں بھی کرتے ہیں۔۔۔
میں۔۔۔۔ اس میں بے شرمی والی کونسی بات ہے کیا آپ کو نہیں پتہ کہ ہر لڑکی کی پھدی میں لن جانا ہے جلد یا بدیر ہر لڑکی یہ مزہ چکھتی ہے۔۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ شرم کرو کتنے گندے ہو تم کتنی بے حیائی کی باتیں کرتے ہو۔۔۔
میں۔۔۔ لو جی اب پھر آپ لیکچر دینے لگ جاؤ ابھی کچھ دیر پہلے ہم کیا کر رہے تھے۔۔۔۔
سمیرہ باجی ۔۔۔۔ چپ اب اگر تم کوئی ایسی ویسی بات کی تو پھر دیکھنا۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے اٹھنے کی کوشش کی تو درد سے کلبلا اٹھی بڑی مشکل سے اٹھ کر بیٹھی اور اپنی پھدی پر ہاتھ رکھ لیا۔۔۔۔
نیچے جھک کر سمیرہ باجی نے پھدی دیکھی تو اس کی آنکھیں حیرت سے پھٹ گئیں اس نے کہا بلو یہ کیا اتنا خون نکلا ہوا ہے یہاں سے تم سچ میں پھاڑ دی ہے ۔۔۔۔
میں۔۔۔ باجی کچھ نہیں ہوا یہ ہر لڑکی کے پہلی بار نکلتا ہے اس کے بعد کچھ نہیں ہوتا۔۔۔۔
سمیرہ باجی نے غصے سے کہا تمہیں بڑا پتہ ہے یہ سب تم پہلے بھی یہ سب کرتے ہو۔۔۔
میں ۔۔۔۔نہیں نہیں باجی یہ تو دوستو سے سنا ہے میں آپ کو ایسا ویسا نظر آتا ہوں۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔۔ ایسا ویسا سے کیا مطلب ہے مجھے تم ایسے تیسے جیسے بھی لگتے ہو تم جو نظر آتے ہو وہ ہو نہیں۔۔۔۔
میں نے ایک کپڑا ڈھونڈا اور سمیرہ باجی کی پھدی کو اس سے صاف کیا اور اپنے لن کو بھی صاف کرنے کی کوشش کی جس پر خون جم چکا تھا۔۔۔
کچھ دیر ایسے ہی ہم بیٹھے باتیں کرتے رہے سمیرہ باجی بار بار اپنی پھدی کو ہاتھ لگا کر چیک کر رہی تھی اس نے ابھی تک شلوار نہیں پہنی تھی۔۔۔۔
میں نے اٹھ کر نئے گانوں کا ایک پورا فولڈر ہی پلے کر دیا گانے کافی ہیجان خیز تھے کبھی بکنی میں لڑکی اور لڑکا رومانوی حرکات کرتے تو کبھی لڑکی صرف برا اور پینٹی میں نظر آتی ۔۔۔۔
ایک سین تو انتہا کر گیا جس میں لڑکا اور لڑکی دونوں ایک ہی کمبل میں تھے لڑکی نیچے لیٹی تھی لڑکا اوپر لیٹ کر آگے پیچھے ہل رہا تھا۔۔۔۔
میں نے یہ سین دیکھتے ہوئے سمیرہ باجی کی طرف دیکھا جو یہ سین دیکھنے میں محو تھیں اور ان کا ہاتھ خود بخود ہی پھدی کو سہلا رہا تھا۔۔۔۔
یہ سین بار بار آرہا تھا لڑکی لڑکا کسنگ بھی انتہا کی کر رہے تھے کوئی تین منٹ کے اس گانے میں ایسے کئی سین آئے ایک سین میں لڑکی کی ننگی کمر نظر آ رہی تھی وہ ایک سٹول پر بیٹھی تھی لڑکا اس کی کمر پر کسنگ کرتا ہے ۔۔۔۔
یہ سین دیکھ کر میرے لن کا سین بھی دیکھنے لائق ہو گیا تھا ایک بار پھر تن کر کھڑا ہو گیا تھا۔۔۔۔
سمیرہ باجی پر بھی ایک بار پھر شہوت کا دورہ پڑ چکا تھا میں نےاس کی آنکھوں میں کال ڈورے دیکھ لیے ہم قریب قریب ہی بیٹھے تھے۔۔۔۔
میں ہاتھ بڑھا کر اس کی پھدی پر رکھ دیا اور مسلنے لگا سمیرہ باجی نے اپنی آنکھیں بند کر لیں اور اپنا ہاتھ میرے ہاتھ کر رکھ کر دبانے لگی۔۔۔۔
میں نے کچھ دیر ایسے ہی کرنے دیا اس کے بعد بڑے پیار سے ان کا ہاتھ پکڑا اور اپنی شلوار کا ناڑا کھول کر اپنے لن پر رکھ دیا۔۔۔۔
سمیرہ باجی نے ایک دم آنکھیں کھول لیں اور میرے لن کو پھٹی پھٹی آنکھوں سے دیکھنے لگیں۔۔۔
ہھر ہکلا کر بولیں بلو اینا وڈااا میری وچ گیا سی اس نے اپنے کانوں کو ہاتھ لگائے۔۔۔۔
میں نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ ایک بار پھر سمیرہ باجی بولی یہ کیسے چلا گیا تھا اپنی پھدی پر ہاتھ لگا کر کہا یہاں تو چھوٹا سا سوراخ ہے۔۔۔۔
اب میں اس کو کیسے سمجھاتا کہ اس سوراخ ہی تو آدھی دنیا پاگل کی ہوئی ہے اس سوراخ بڑے بڑے سورما غرق ہو گئے۔۔۔
میں نے پھر بھی کہا باجی یہ اتنا چھوٹا سا جو نظر آرہا ہے جب اس میں یہ جاتا ہے تو یہ خود بخود ہی کھل جاتا ہے۔۔۔
اس کو سمجھ تو نہ آئی لیکن وہ چپ ہو گیی اور لن کو اوپر نیچے سے دیکھنے لگی۔۔۔۔
میں نے ایک پھر اس کی پھدی کو مسلنا شروع کر دیا اس کی لن پر گرفت سخت ہو گئی وہ مٹھیاں بھرنے لگی۔۔۔۔
میں نے آگے ہو کر اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے اور پھدی میں انگلی ڈال دی اس کی سئیی کی آواز میرے منہ میں دب گئی اس نے میرے ہونٹوں کو جوش سے چوسنا اور لن کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔۔
پھدی پانی سے بھر چکی تھی میری انگلی گیلی ہو گیی تھی مجھے وہ چدنے کے لیے تیار لگی۔۔۔۔
بہت آرام سے اس کی قمیض اتاری اور اپنی بھی اتار دی مموں کو ننگا کیا سمیرہ باجی کو لٹا لیا اور اس کے اوپر آگیا۔۔۔۔
اوپر آکر لن کو پھدی پر لگا کر رگڑنے لگا اور مموں کو دبانے لگا اپنے ہونٹ اس کی گردن کر رکھے اور زبان گھاتے ہوئے نیچے آنے لگا۔۔۔۔
مموں کے دائیں بائیں زبان گھما کر میں نے نپل منہ میں لے لیا دوسرے ممے کے نپل کو مسلنے لگا۔۔۔۔
میرا لن جو پھدی پر رگڑ کھا رہا تھا سمیرہ باجی اس کو پھدی میں لینے کے لیے تڑپنے لگی۔۔۔
اس نے پھدی کو لن پر مارنا شروع کر دیا میں اس کی تڑپ سمجھ گیا میں نے لن کو پھدی کے لبوں میں گھسایا ہاتھ سے سیٹ کیا ۔۔۔۔
اس کے بعد لن پر دباؤ بڑھانے لگا کچھ کی دیر میں آدھا لن اندر ہو چکا تھا میں اب کبھی ایک مما چوستا تو کبھی دوسرا چوستا۔۔۔۔
لن جتنا اندر تھا اتنے کو ہی رہنے دیا اور اور ہاتھ اور منہ سے مموں سے کھیلنے لگا۔۔۔۔
لیکن سمیرہ باجی سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا وہ بہت گرم ہو چکی تھیں انہوں نے۔ نیچے سے خود ہی ہلنا شروع کر دیا لن تھوڑا سا باہر نکلتا پھر وہ گانڈ اٹھا کر اپنی پھدی میں سما لیتیں۔۔۔۔
سمیرہ باجی کی تڑپ کو دیکھتے ہوئے میں نے لن کو ایک دو باہر کرکے اندر کیا اور ہر بار کچھ زیادہ کر دیتا جب تھوڑا سا رہ گیا تو میں ایک ہی بار میں زوردار گھسا مار کر اندر کر دیا۔۔۔۔
سمیرہ باجی نے میرے سر پر ایک ہلکی سی چپت لگائی اور بولی تیرے کولوں آرام نال نہیں ہوندا۔۔۔۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا مزا نہیں آرہا تھا سوچا ایک ہی بار میں کر دوں۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ ایک ہی بار میں کر دوں اگلے کا چاہے اندر پاٹ جائے تیرا مزا ہو جائے گا۔۔۔۔
میں نے صرف مسکرانے پر ہی اکتفا کیا اور اہستہ آہستہ گھسے مارنے شروع کر دئیے ۔۔۔
سمیرہ باجی نے اپنے ہاتھ میری کمر پر رکھ لیے اور ٹانگیں جتنی کھول سکتی تھی کھول لیں۔۔۔
کچھ دیر ایسے ہی گھسے مارنے کے بعد میں نے سمیرہ باجی کی ٹانگیں اپنے بازوؤں میں لے کر اس کے سینے سے لگا لیں۔۔۔
اس ظرح سے پھدی میں لن زیادہ گہرائی تک جاتا ہے اس لیے ٹانگیں اس کے سینے سے لگائیں۔۔۔
پھر تو وہ میرے شکنجے میں آگئیں میں نے گھسوں کی برسات شروع کر دی ۔۔۔
اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر گھسے مارنے لگا سمیرہ باجی کی پھدی پہلے بھی دو بار پانی چھوڑ چکی تھی اس لیے کافی پانی تھا جس سے لن کو اندر جانے میں زیادہ دشواری نہیں کو رہی تھی۔۔۔۔
لن پھدی میں جاتا اور میرے ٹٹے شریف اس کی گانڈ اور پھدی کے درمیان والی جگہ پر جا لگتے۔۔۔۔
سمیرہ باجی کی آہ اہ اہ کی آوازیں ابھی سے آنا شروع ہو گئیں تھیں اس کی وجہ لن کا گہرائی میں سٹ مارنا تھا۔۔۔۔
لن جب پھدی میں جاتا تو ٹھپ کی آواز آتی اور ٹٹے جب اس کی موٹی گانڈ کے گوشت سے ٹکراتے تو اس وقت بھی ٹپ ٹلپ کی آواز آتی۔۔۔۔
یہ آوازیں میرے جوش کو بڑھاوا دے رہی تھیں میں اور جوش سے ٹھکائی کرتا ۔۔۔
سمیرہ باجی بھی اسی ظرح آہ آہ اہ ببللللوووو کہتی ۔۔۔
اس کی ٹون ایکدم بدلنے لگی کیونکہ پانچ منٹ ہو چکے تھے اسی ظرح پھدی میں کن گھسائے اور ٹھکائے کرتے۔۔۔۔
اس نے آہہہہہہہہہ آہہہہہہ آئییہییی امممییییی ایسے ہی مارو اور زور سے نارو میری پیاس بجھا دو بلووو تتتتووومممم بہہہیتتت اچچھھھےےے ہو۔۔۔
کہتی ایک دم اس کی پھدی میں لن پھنس گیا پھدی اتنی ٹایٹ ہو گئی کہ مجھ سے گھسا نہ لگا ۔۔۔۔
چند سیکنڈ بعد اس کی پھدی نے میرے لن کو اپنی منی سے نہلا دیا۔۔۔۔
جب وہ فارغ ہو گئی تو میں بیڈ سے نیچے اترا اس کو گھوڑی بنایا اپنا لن ہاتھ میں پکڑا اور اس کی گانڈ کے نیچے سے گزار کر پھدی میں اتار دیا۔۔۔۔
اب نے بغیر ہچکچاہٹ کے سمیرہ باجی کے پھدی میں لن اتار دیا تھا یک ہی جھٹکے میں۔۔۔۔
اس نے صرف سئیی کیا تھا اور پھر اس کی موٹی گانڈ کو دونوں طرف سے تھام کر لن کو ایسا گھسایا کہ سمیرہ باجی کا انجر پنجر ڈھیلا کر دیا۔۔۔۔
میں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو آگے بڑھا کر اس کے دونوں ممے پکڑ لیے یعنی گھوڑی کی لگامیں تھام لیں ۔۔۔۔
ہیچھے سے پمپ ایکشن سٹارٹ کر دیا لن اس سٹائل سے ایک خاص رفتار سے اندر باہر ہو رہا تھا ۔۔۔
سمیرہ باجی کے مموں کو تھامے پیچھے سے لن دھسا دھوس گھسا رہا تھا سمیرہ باجی آہ او آہ اہ ہممم کی آوازیں نکال رہی تھی۔۔۔۔
مسلسل گھسے مارنے سے میرے ٹٹے کو اس کے نرم رانوں کے بیچ میں ٹکرا رہے درد ہونے لگ گئے۔۔۔۔
میں نے سمیرہ باجی کو کہا باجی بیڈ سے نیچے اتر آئیں لن پھدی سے نکال لیا۔۔۔۔
اس نے سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا میں اس کو پکڑ کر پیچھے کی طرف کھینچ کر بیڈ سے نیچے کیا ۔۔۔
جب وہ بیڈ سے نیچے ہو گییں تو ایک بار پھر ان کو کوڈا کر لیا اب میں میرا لن اوپر ہو رہا تھا اس پوزیشن میں مجھے جھک کر لن گھسانا پڑتا ۔۔۔۔
جب بات نہ بنی تو میں بیڈ پر بیٹھ گیا اور سمیرہ باجی کو اپنی گود میں میری طرف کمر کے بیٹھنے کا کہا وہ مان گئیں۔۔۔۔
گھوم کر میری طرف پیٹھ کی میں نے لن کو پکڑ ان کی پھدی پر ایڈجسٹ کرتے ہوئے نیچے انے کا کہا وہ بہت آرام سے ڈرتے ڈرتے لن کر بیٹھ رہی تھیں جب زیادہ دیر لگی تو میں نے نیچے سے ایک گھسا مار کر سارا کن اندر اتار دیا۔۔۔۔۔
سمیرہ باجی کے منہ سے آہ کی آواز آئی اس کے بعد میں نے ان کی کمر پر دونوں طرف ہاتھ رکھے اور ان کو اوپر نیچے کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔
سٹارٹ میں مجھے کافی زور لگانا پڑا لیکن جب ان کو سمجھ آگئی تو وہ خود ہی اوپر نیچے ہو کر لن کی سواری کرنے لگیں۔۔۔۔
ان کی سپیڈ بہت آہستہ تھی اس لیے مجھے مزہ نہیں آرہا تھا میں زوردار گھسائی چاہتا تھا جس یہاں گھسوں کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا۔۔۔۔۔
اس پوزیشن میں دو منٹ میں ہی سمیرہ باجی تھک گئیں وہ آرام سے لن پر بیٹھ گئیں ۔۔۔۔
میں نے ان کو اٹھایا اور بیڈ پر لے گیا ان کو لٹا کر ایک ٹانگ اٹھا کر سیدھی کر کی دوسری کو سیدھا بیڈ پر رہنے دیا ۔۔۔۔۔
پھدی پر لن رکھا اور ایک گھسا مارا آدھا لن اتر گیا دوسرا گھسا مارا تو سارا لن پھدی میں گھس گیا۔۔۔۔
سمیرہ باجی اپنے چہرے کے تاثرات سے باور کرایا کہ لن نے ان کو بڑی چنگی سٹ ماری ہے۔۔۔۔
اس کے بعد ہوا میرے لوڑے کی سپیڈ کا اصل امتحان شروع میں نے لن کو انے واہ گھسانا شروع کر دیا۔۔۔۔
اس پوزیشن میں پھدی اور ٹائٹ ہو گئی تھی اس لیے لن کو بھی رگڑ زیادہ لگ رہی پھدی کو جو لگ رہی تھی اس کا اظہار سمیرہ باجی کی آہیں دے رہی تھیں۔۔۔۔
میں ایک ٹانگ تھامے لن کو پھدی میں ایسے گھسا رہا تھا جیسے کوئی نلکے کا بور کرتے ہوئے پلی سے پائپ کو اٹھا اٹھا کر مارتے ہیں۔۔۔۔
سمیرہ باجی اتنی زیادہ رگڑ برداشت نہ کر سکیں ان کی پھدی نے لن کو جکڑ کر اپنی بے بسی کا اظہار کر دیا۔۔۔۔
جب پھدی نے اچھے سے لن پر برسات کر دی تو سمیرہ باجی نے اپنی ٹانگ کر ہاتھ رکھ کر کہا بلو اب یہ درد کر رہی ہے ۔۔۔
میری ٹانگوں میں جان نہیں رہی بس کر دو لیکن میں کہاں بس کرنے والا تھا میرے لن کو ایسی پھدی کب نصیب ہو کیا پتہ اس لیے آج ساری کسر نکالنا چاہتا تھا۔۔۔۔
میں نے اس کو ٹانگ کو بھی نیچے رکھ دیا دونوں ٹانگیں بیڈ کر کے میں ٹانگوں کے درمیان آیا ٹانگوں کو اتنا کھولا کہ میں درمیان میں آگیا۔۔۔۔
لن کو پھدی کر رکھ کر اوپر لیٹتے ہوئے لن پھدی میں گھسا دیا۔۔۔۔
مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے پہلی بار اس پھدی میں لن گھسا رہا ہوں ایسا تو کبھی سوچا ہی نہیں تھا اس ہوزیشن میں بھی لن پھدی میں واڑا جا سکتا ہے۔۔۔۔
تھوڑی مشکل سے لن اندر گیا لیکن پھر بھی سارا نہ گیا جتنا اندر گیا اتنا کی کافی تھا ۔۔۔۔
میں اسی کو اندر باہر ٹھوکنا شروع کر دیا اس پوزیشن میں میں گانڈ کو اگے پیچھے کر گھسانے لگا۔۔۔
اب تو ڈبل مزے ہو گئے تھے سینہ سمیرہ باجی کے مموں پر تھا میرے ہونٹ اس کے منہ کے پاس تھے ۔۔۔
سمیرہ باجی نے کچھ دیر انتظار کیا پھر میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں کے کر چوسنے لگی۔۔۔۔
میں نے ایک ہاتھ ان کے ایک ممے پر رکھا اور دبانے لگا سمیرہ باجی نے جلد ہی سسکیاں بھرنی شروع کر دیں مجھے بھی اب اپنا وقت قریب لگ رہا تھا ۔۔۔۔
سمیرہ باجی نے دونوں ٹانگیں اٹھا کر میری کمر کے گرد لپیٹ لیں مجھے کھلا رستہ مل گیا جس کا میں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اور لن کو تیزی سے اندر باہر کرنے لگا۔۔۔۔
سمیرہ باجی اب جوش سے مجھے چوم رہی تھیں کبھی گال کبھی ہونٹ کبھی گردن پر کس کرتی کبھی کبھی کاٹ بھی لیتی ۔۔۔۔
میں مزے میں ڈوب گیا تھا مجھے کوئی درد نہیں فیل رہا تھا ۔۔۔
ایسے کرتے کرتے میں نے آخری جاندار گھسے مارنے شروع کر دئیے اب اتنی زور سے گھسے ما رہا تھا کہ نیچے بیڈ کی چون چون ہونے لگی تھی۔۔۔۔
میں پسینے سے بھیگ چکا تھا میرے سینا اور سمیرہ باجی کے ممے اب پسینے کی وجہ پچ پچ کر رہے تھے لیکن ایک جنون سوار ہو چکا تھا سمیرہ باجی مجھے ہلا شیری دینے لگیں۔۔۔۔
بلو کر آہ اہ آہ ایسے ہی کر اور زور سے اور آگے کر ایسی سٹ مار کہ اندر پاٹ جائے آہ آہ بلو میں ہواؤں میں اڑ رہی ہوں ۔۔۔۔
میں بھی مزے کی بلندیوں پر تھا میرا لن بھی پھدی کی گہرائیوں میں سیر کر رہا تھا میرا بس نہیں چل رہا تھا کہ لن اتنا اور ہوتا اور میں سمیرہ باجی کا اندر پاڑ دیتا ۔۔۔۔
اسی جوش سے گھسے مارتے مارتے میں آخری چند گھسے ایسے مارے کہ سمیرہ باجی کے منہ سے آئی امییی جیییی کی آوزیں نکل گییں ۔۔۔
میں ان کے اوپر گرتا چلا گیا لن کو پھدی کی گہرائی میں اتار کر بھی دل نہیں بھر رہا تھا میں ہھر بھی آگے کی طرف اور دھکیل کر لیٹا تھا مزید آگے کرنے کی کوشش میں تھا ۔۔۔۔
اسی زور آزمائی میں میرے لوں کنڈے کھڑے ہوئے اور لن نے پہلی پچکاری ماری میرے جسم ہلکورا کھایا میں مزے میں ڈوبتا چلا گیا۔۔۔۔
دوسری طرف میری گرم منی کی ایک ہی پچکاری نے سمیرہ باجی کی پھدی کو بے ہار ماننے پر مجبور کر دیا ۔۔۔۔
سمیرہ باجی کی پھدی نے بھی لن کو ایک بار پھر سے اپنے لیس دار پانی سے نہلانا شروع کر دیا۔۔۔۔
میرا لن بھی آج کچھ زیادہ بپھرا ہوا تھا اس نے بھی کافی ساری منی سمیرہ باجی کی پھدی میں ڈالی۔۔۔۔
لن پھدی کو اپنے پانی سے بھرتا رہا میرا جسم بار بار کانپتا میں مزے کے جھٹکے کھاتا رہا۔۔۔
جب پھدی نے لن منی کا آخری قطرہ بھی نچوڑ لیا تو میں سمیرہ باجی کے اوپر ویسے لیٹ گیا ۔۔۔۔
میری آنکھیں ایسے بوجھل ہو گییں جیسے میلوں سفر ظے کر کے آیا ہوں۔۔۔۔
میں نیند کی آغوش میں اتر گیا پتہ نہیں کتنی دیر آنکھ لگی رہی۔۔۔
جب نیند سے جاگا تو دیکھا کہ میں نے کپڑے پہنے ہوئے ہیں اور سمیرہ باجی میرے سر میں اپنی انگلیوں سے کنگھی کر رہی ہیں ان کے گیلے بالوں سے پانی کے قطرے میرے چہرے پر گر رہے تھے۔۔۔
دھلا ہوا چہرہ اور پھر پھر چودائی کے بعد نہانے سے کسی عورت کے چہرے پر جو چمک ہوتی ہے اس سے بھرپور وہ بھی اج مجھے خوبصورت ترین لگ رہی تھیں۔۔۔۔
میں کبھی اتنے غور سے ان کو دیکھا ہی نہیں قد چھوٹا تھا لیکن ان کے جسم میں مموں کو چھوڑ کر کوئی کمی نہیں تھی بس ممے ہی چھوٹے ٹھے باقی رنگت بھی شفاف تھی۔۔۔
لمبے بال وہ بھی ابھی جب کھلے دیکھے تو پتہ چلا تھا وہ بھی ان کہ شخصیت کا حصہ تھے۔۔۔
میں خود پر رشک کرنے لگا اور وہ آخری مزے کے لمحات یاد کر کے شرسار ہو گیا۔۔۔۔
سمیرہ باجی نے مجھے آنکھیں کھولتے دیکھ کر کہا اٹھ گیا میرا لاڑا ساتھ ہی میری پیشانی پر ایک پیار بھرا بوسہ دیا ۔۔۔۔
پھر مجھے کہا اٹھ کر نہا لو میں دودھ گرم کر لاتی ہوں پی لو جسم کی تھکاوٹ اتر جائے گی۔۔۔
میں ۔۔۔ باجی مجھے کونسی تھکاوٹ ہو گئی۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ میرا شونا کتنا بھولا ہے اتنی محنت کی ہے اور پسینے سے بھیگ کر ایسا سویا تھا کہ کچھ ہوش نہیں تھا ۔۔۔
میں نے اتنی مشکل سے کپڑے پہنائے تم کتنے بھارے ہو یہ تو مجھے آج پتہ چلا اور تمہارا وہ اتنا چھوٹا چوہا بنا ہوا تھا ۔۔۔
میں نے اس کو کافی چھیڑا اور اس کو تھپڑ بھی مارے لیکن جناب تو گھوڑے بیچ کر ایسے سوئے کہ کچھ پتہ ہی نہیں تھا۔
سمیرہ باجی کی باتیں سن کر مجھے بڑی شرمندگی ہوئی کہ میں اتنا بیہوش ہو کر سو گیا تھا ۔۔۔
اس شرمندگی سے بچنے کے لیے میں اٹھ کر نہانے چلا گیا اور نہاتے ہوئے میرا لوڑا پھر کھڑا ہو گیا ۔۔۔۔
میرے دماغ میں ایک آئیڈیا آیا میں نے واشروم کا دروازہ کھول کر اپنا سر باہر نکالا اور سمیرہ باجی کو آواز دی ۔۔۔
وہ آواز سن کر صحن میں آئیں اور پوچھا کیا ہوا ۔۔۔
میں۔۔۔ باجی یہ پتہ نہیں کیا ہوا ہے پانی نہیں آ رہا ٹوٹی بند ہو گیی ہے میں نے ابھی نہانا ہے۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔۔ گھماو اس کو کھل جائے گی۔۔۔
میں۔۔۔ باجی میں نے کافی کوشش کی نہیں ہو رہا آپ ایک بار چیک کر لو۔۔۔
سمیرہ باجی نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور ہنستی ہوئی آ گییں میں دروازے کے پیچھے ہوا اور ان کو اندر انے کے لیے رستہ دیا۔۔۔
وہ اندر آئیں اور ٹوٹی کو کھولا تو پانی آنے لگا میں تب تک دروزہ بند کر چکا تھا ۔۔۔
میں اپنا تنا ہوا لن ہاتھ میں پکڑ کر ان کو دکھاتے ہوئے کہا آپ کہہ رہی تھیں کہ یہ چوہا بنا ہوا ہے یہ دیکھو۔۔۔
انہیوں نے پہلے میری طرف دیکھا پھر لن کی طرف اور بولی۔۔۔
سمیرہ باجی ۔۔۔ اوہ تو تم نے مجھے یہ دکھانے کے لیے ٹوٹی خراب ہونے کا بہانہ بنایا ہے۔۔۔
میں ہنسنے لگ گیا اور ان کے قریب ہوا۔۔۔
وہ پیچھے ہٹتے ہوئے بولیں پچھاں رہ میرے کپڑے گیلے ہو جان گے۔۔۔
لیکن میں نے مسکین صورت بنا کر کہا باجی ایک بار ہاتھ میں پکڑ لیں۔۔۔
سمیرہ باجی ۔۔۔ نا کرو ناں اب میں نے نہا لیا کپڑے بھی بدل لیے ہیں۔۔۔
میں۔۔۔ میں کون سا کپڑے خراب کر رہا ہوں صرف اس کو ہاتھ میں پکڑنے کا کہہ رہا ہوں آپ میری خوشی کے لیے اتنا بھی نہیں کر سکتیں۔۔۔
سمیرہ باجی پر میرا اموشنل وار کری گر ثابت ہوا وہ آگے بڑھیں اور اپنا ہاتھ لن کر رکھ دیا۔۔۔
لن کو پکڑ کر بولیں اففف یہ کتنا گرم ہے پہلے تو اتنا گرم نہیں تھا۔۔۔
سمیرہ باجی نے لن کو دبانا شروع کر دیا کچھ دیر دبانے کے بعد لن کو ٹٹول کر کبھی اوپر سے کبھی نیچے چیک کرنے لگی۔۔۔
مجھے ان کے ہاتھ لن دے کر بہت اچھا لگ رہا تھا میرا ایک بار پھر دل کرنے لگا کہ ایک واری اور لگا دوں لیکن سمیرہ باجی نے لن کو چھوڑا اور کہا چلو شاباش اب اچھے بچون کی طرح نہا کر باہر آنا میں دودھ گرم کر رہی ہوں۔۔۔
میں منہ بنا کر کہا باجی کچھ دیر تو کریں ناں۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ نا کچھ دیر کرتے کرتے بہت دیر ہو جائے گی میں ابھی کام بھی کرنے ہیں ۔۔۔
اس نے دروازہ کھولا اور باہر نکل گئ میں بجھے دل کے ساتھ اور اکڑے لن کے ساتھ نہانے لگا۔۔۔۔
نہا کر باہر نکلا میرا ایک سوٹ استری کیا ہوا سمیرہ باجی نے مجھے دیا میں نے اس کے سامنے ہی شلوار اتار دی ۔۔۔
سمیرہ باجی نےاپنی آنکھوں ہر ہاتھ رکھ کر کہا گندہ کتنے بے شرم ہو وہ اپنی آنکھوں کے جھروکوں سے دیکھ بھی رہی تھیں۔۔۔۔
پتہ نہیں کیوں آج لن بار بار کھڑا ہو رہا تھا اب پھر کھڑا ہو چکا تھا میں نے لن کو پکڑ کر مٹھ مارنے کے انداز میں لن پر ہاتھ پھیرہ۔۔۔
سمیرہ باجی نے منہ دوسری طرف کر لیا میں نے کپڑے بدلے سمیرہ باجی نے دودھ دیا میں نے پیا اور بیٹھک میں چلا گیا۔۔۔۔
جا کر سو گیا جب اٹھا تو عصر کا وقت تھا سب لوگ گھر میں تھے میں باہر آیا تو امی برقہ پہن رہی تھیں ۔۔۔
مجھے دیکھ کر بولی تم کہاں تھے میں تمہیں دیکھنے جا رہی تھی چلو تیار ہو جاو ہم نے آج گھر جانا ہے۔۔۔
میں نے جی امی کہا لیکن مامی کی آواز میرے کانوں میں پڑی باجی کل چلے جائیو ہن کی ہو جاو بس رات نو ای گھر پہنچنا فیر کی فیدا ۔۔۔
امی نے کہا نیں بلو کے ابا جی ناراض ہوں گے دو دن ہو گئے ہیں۔۔۔
مامی نے کافی اصرار کیا اور امی کو منا لیا میں نے اس وقت وہاں موجود مائرہ کے چہرے کی طرف دیکھا جو ناگواری سے مامی کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
جبکہ سمیرہ باجی خوش تھیں اب کر ایک اپنی اپنی جگہ سوچ رہا ہوگا ۔۔۔
خیر میں واشروم سے فارغ ہوا مجھے سمیرہ باجی نے کھانا دیا کھانا کھا کر میں خالا کے گھر چلا گیا ایسے ہی وقت برباد کرتا رہا۔۔۔
وہاں سے گراؤنڈ گیا کرکٹ کھیلی شام کو واپس ماموں کے گھر آیا رات ہوئی میں بیٹھک میں سونے چلا گیا ۔۔۔۔
میرے دونوں کزن آج گھر نہیں تھے ماموں بھی کام کے سلسلے میں کھیتون میں تھے امی اور مامی مائرہ ایک کمرے میں سو گئیں۔۔۔
میں اپنے ٹھکانے یعنی بیٹھک میں سونے چلا گیا ۔۔۔۔
رات دیر تک فلم دیکھتا رہا نیند تو آ نہیں رہی تھی سارا دن سویا جو رہا تھا۔۔۔۔
پچھلی رات کا کوئی پہر تھا جب میں نے سونے کا ارادہ کیا کپیوٹر بند کیا اور کمرے لائٹ آف کی چارپائی پر لیٹنے ہی لگا تھا کہ مجھے اندر والے دروازے پر آہٹ سنائی دی۔۔۔۔
میں نے اپنا وہم سمجھا اور چارپائی پر لیٹ گیا ابھی اپنے آپ کو چارپائی پر ایڈجسٹ ہی کر رہا تھا کہ کوئی میرے ساتھ لیٹ گیا۔۔۔۔
میرا تو اوپر کا سانس اوپر اور نیچے کا نیچے رہ گیا ایک تو مجھے میرے کزن نے ڈرایا ہوا تھا کہ یہاں ہوائی چیزیں رہتی ہیں اوپر سے اندھیرے میں کوئی میری ساتھ لیٹ گیا میری حالت پتلی ہو گئی۔۔۔
اس سے پہلے کہ میری حالت مزید خراب ہوتی ساتھ لیٹنے والے نے میرا مطلب لیٹنے والی نے سائیڈ بدلی اور میرے ساتھ اپنے ممے لگا کر اپنا ہاتھ میری دوسری طرف کر دیا۔۔۔
میں ابھی بھی یہ سوچ رہا تھا یہ پکی جننی ہے لے بھئی بلو ہن تاں تو ہیں بچدا۔۔۔
میں اسی سوچ میں بھی مموں کے لمس کو محسوس کر رہا تھا اور مموں کے سائز سے اندازا کر رہا تھا کہ اس کی عمر کتنی ہو گی۔۔۔
یکدم اس نے اپنے ہونٹ میری گال پر رکھ کر کس کیا اور بولی بلو۔۔۔
میرا سارا خوف سارا ڈر ایک سیکنڈ میں اڑن چھو ہو گیا یہ کوئی جننی نہیں تھی بلکہ سارا دن میرے لن کو کھڑا رکھنے والی سمیرہ باجی تھی۔۔۔۔
اس کی آواز سن کر میری سانس بحال ہوئی میں نے نارمل ہوتے ہوئے کہا جی باجی۔۔۔
کل تم چلے جاؤ گے تو میرا دل نہیں لگے گا نہ جاو نا یہاں ہی رہ جاؤ۔۔۔۔
میں نے ان کی طرف منہ کیا اور پوچھا دروزہ بند کیا ہے ۔۔۔
میرا سوال اس کے الفاظ سے میچ نہیں کر رہا تھا کیونکہ میرا لن اس کی آواز سن کر ہی تن گیا تھا۔۔۔
ایک منٹ میں ہی سارا سین دماغ میں گھوم گیا اس کی ٹائٹ پھدی نے لوڑے کو گرما دیا۔۔۔
میں اس کی پیار بھری باتیں نہیں سننا چایتا تھا بلکہ اس کی پیاری پھدی میں لن ٹھوکنا چاہتا تھا۔۔۔
سمیرہ باجی نے کہا ہاں لگا کر ہی آئی ہوں۔۔۔
میں نے اس کے گال کو چوم کر کہا جانا تو پڑے گا مجبوری ہے۔۔۔
سمیرہ باجی نے کہا ایک دن اور رک جاؤ کیا ہو جائے گا۔۔۔
میں ۔۔۔ باجی آپ نے امی کی بات سنی تھی ابا جی ناراض ہوں گے ۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن ایک دن سے کیا ہو جائے گا۔۔۔
میں۔۔۔ باجی جانے دیں اس بات کو جو وقت ملا ہے اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ بس تمہیں ایک ہی کام آتا ہے اپنا فائدہ ڈھونڈ رہے ہو۔۔۔