لن شڑپ کر اس کی پھدی میں اتر گیا اس کے بعد میں نے آو دیکھا نہ تاو انے واہ گھسے مارے ۔۔۔۔
ہونٹ چھوڑ دئیے سیدھا کھڑا ہو کر اس کی ٹانگیں اٹھائے گھسے پر گھسا مارتا رہا۔۔۔
لگاتار 5 منٹ ایسے ہی لگا رہا اس دوران بسمہ ایک بار فارغ بھی ہوئی اس کے ممے دائیں بائیں ہل رہے میں نے ان کو منہ میں لیا تو سپیڈ میں فرق آیا اس لیے نکال دئیے۔۔۔۔
ایک بار پھر بسمہ کی سسکیاں نکلنے لگیں میرا بھی قریب آ گیا لیکن میری کمر میں درد ہونے لگی تھی میں نے درد برداشت کرتے ہوئے گھسے مارنے جاری رکھے۔۔۔۔
ویسے ایسے موقع پر درد کی پرواہ کون کرتا ہے میں نے آخری گھسے پوری سپیڈ سے مارے اور لن کو جڑ تک اندر اتار کر اس کے اوپر جھک گیا۔۔۔۔
اس کا بھی جسم اسی وقت اکڑا لن پر پھدی کے مسام کس گئے اور فارغ ہونے لگی۔۔۔۔
میرا سانس کافی پھول گیا تھا اس دوران میں لمبے لمبے سانس لیتا اس کے مموں پر سر رکھے جھکا ہوا تھا لن نے اپنا سارا پانی پھدی میں انڈیل دیا۔۔۔۔
اس کی پھدی بھی شانت ہو گئی تو میں نے اٹھنی کوشش کی تو میری کمر میں درد کی شدید ٹیس اٹھی میرا سر بھی چکرانے لگا۔۔۔۔
میں نے اٹھنے کے لیے اس کے مموں پر ہاتھ رکھا دباؤ ڈالا تو اس کی آہ نکل گئی وہ میری حالت سے بے خبر تھی اس نے مجھے برا بھلا کہنا شروع کر دیا ۔۔۔۔
جاہل اجڈ انسان یہ کیا طریقہ ہے اپنا سارا وزن مجھ پر ڈال دیا ۔۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا کتنا دباؤ پڑا اس پر میری طبعیت کافی اوازار تھی سر چکرا رہا تھا ۔۔۔۔
لیکن اس کی باتیں ہتھوڑے کی طرح دماغ میں لگ رہی تھیں مجھ سے سنا نہ گیا ایک تو طبعیت خراب اوپر سے اس کی باتیں ۔۔۔۔
میں خود کو سنبھال رہا تھا اس نے مجھے اپنے مموں کو سہلاتے ہوئے ا نگریزی میں کوئی گالی دی اور میرے تھپڑ مار دیا ۔۔۔۔
گالی سننا میرے لیے ناقابل برداشت تھا مجھ سے برداشت نہ ہوئی میں نے بھی غصے میں چٹاخ چٹاخ دو تین تھپڑ اس کے منہ پر جڑ دئیے اور ایک جھٹکے سے باہر نکلا جیسے ہی اپنے کپڑوں کے پاس پہنچا چکر کھا کر گر پڑا۔۔۔۔
لیکن ایک بات میرے حق میں رہی کہ میں گرنے کے باوجود ہوش میں رہا پہلے کی طرح بیہوش نہ ہوا ۔۔۔۔
ابھی سر پر ہاتھ کر اٹھنے کی کوشش ہی کر رہا تھا بسمہ آگئی اس کے چہرے پر ابھی بھی غصہ تھا ۔۔۔
وہ پھر شروع ہونا چاہتی تھی لیکن اس کی نظر میرے چہرے کر پڑی اس کی گالی جو دینا چاہتی تھی تیرییییہیی منہ میں ہی رہ گئی ۔۔۔۔
اس کو میرے چہرے پر کیا نظر آیا میں نہیں جانتا لیکن ہوش میں تھا اتنا پتہ ہے۔۔۔
وہ آگے بڑھی مجھے سہارا دیا کھڑا کرکے کہا نہا لو تمہاری طبعیت ٹھیک نہیں لگ رہی۔۔۔
مجھے سہارا دے ٹب کے پاس لے گئی اور ٹب میں لٹا کر خود اپنے ہاتھوں سے مل مل کر نہلایا خود بھی نہائی تب تک میری طبعیت میں کچھ بہتری آ گئی۔۔۔
نہا کر کپڑے پہنے اس دوران اس نے کوئی بات نہیں کی ۔۔۔۔
جیسے ہی ہم باہر نکلے اس نے مجھے بٹھایا اور کہا بھی بیٹھو میں آتی ہوں ۔۔۔
کچھ دیر میں وہ جگ گلاس لائی گلاس میں تازہ جوس تھا مجھے گلاس بھر کر پلایا۔۔۔
میں پی کر واپس کیا اس نے ایک اور گلاس دیا میں نے وہ بھی پی لیا جسم میں کچھ توانائی در آئی۔۔۔
اس نے گلاس کو میز پر رکھا اور گلا کھنکارتے ہوئے بولی پہلے تو سوری مجھے ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔
مجھے نہیں پتہ تھا تمہاری طبعیت خراب ہے سچ میں دل سے شرمندہ ہوں۔۔۔
میں نے کہا میں اب چلتا ہوں میں اٹھ کھڑا ہوا جب کھڑا ہوا میرا سر ایسے گرم ہوا جیسے کسی نے آگے رکھ دی ہو آنکھوں کے سامنے تارے ٹمٹمانے لگے۔۔۔
خود کو سنبھالا اور چلنے کے لیے پاؤں بڑھائے تو وہ اگے بڑھی میرا بازو تھام لیا۔۔۔
میں نے اس کا بازو جھٹکا اور اس کو ایک سائیڈ پر دھکا دیا وہ گری تو نہ لیکن گرنے والی ہو گئی۔۔۔
وہ سیدھی ہوئی اور پھر شروع ہو گئی تم ایک دم الو کے پٹھے ہو تمیز نام کی چیز ہی نہیں ہے تم میں۔۔۔۔
وہ اور بھی کچھ کہتی رہی میں وہاں سے نکل آیا لیکن میں یہ سوچتا آیا کہ یہ بہت خطرناک بات ہے ۔۔۔۔
میرا دماغ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا بلو معاملہ کافی سیریس ہے ڈاکٹر نے جو کہا تھا وہ نہیں ہے۔۔۔
جیسے تیسے میں مارکیٹ تک آیا وہاں سے پھر جوس پیا کچھ دیر ایسے ہی فضول بیٹھا رہا اور پھر گھر آگیا۔۔۔
گھر آکر بھی میں اسی ٹینشن میں رہا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے کچھ نہ کچھ گڑ بڑ ہے ایسے ہی نہیں چکر آجاتے۔۔۔
خیر ایسے سوچتے سوچتے میں سو گیا عصر کے قریب اٹھا کھانا اس وقت کھایا اب طبعیت کافی بہتر تھی۔۔۔
ہلکا پھلکا محسوس ہو رہا تھا میں گراؤنڈ گیا کرکٹ کھیلی کافی پسینہ بہایا جسم کچھ اور کھل گیا آج کافی دن بعد گیا تھا اس لیے تھکاوٹ بھی ہوئی۔۔۔
لیکن ایک بات وہاں میرے لیے فائدہ مند ہوئی وہاں ایک دوست سے ڈسکس کیا اس نے بتایا کہ دماغ کا کوئی مسئلہ ہے تم میرے ساتھ چلو۔۔۔۔
وہ مجھے اپنے ساتھ اپنے گھر لے گیا اس کی والدہ ڈاکٹر تھیں ان کو ساری صورتحال بتائی۔۔۔
انہوں نے ساری بات سنی اور ایک سوال کیا ان کی نظریں مجھے اپنے جسم کے آرہار ہوتی محسوس ہوئیں جب پہلی بار یہ ہوا تم اس وقت کیا کر رہے تھے۔۔۔
میں یہ بات سن کر گڑ بڑا گیا اب ان کو کیا بتاتا پھدی مار رہا تھا۔۔۔
میں نے کہا کچھ نہیں گاوں گیا ہوا تھا واپس آیا تو گھر کے دروازے میں گر گیا۔۔۔
ان کے پاس اگلا سوال تیار تھا گاؤں میں کیا تھا میرا مطلب ہے کیا کام کرتے رہے تھے۔۔۔
میں۔۔۔ کام تو کچھ بھی نہیں کیا بس وہاں فوتگی ہو گئی تھی وہاں ہلکا پھلکا کام ہی کیا تھا ۔۔۔
دوسری بار جب ایسا ہوا اس وقت کیا کر رہے تھے ۔۔۔۔
میں پھر گڑبڑا گیا ان کی آنکھیں مسلسل میرے چہرے پر مرکوز تھیں ۔۔۔
جواب سوچ ہی رہا تھا کہ وہ بول پڑیں کوئی محنت والا کام جس میں پسینہ زیادہ آتا ہو خون کی گردش تیز ہو جاتی ہو ایسا کویی کام کرتے ہو۔۔۔
میں ۔۔۔ نہیں سوائے کرکٹ کھیلنے کے کویی ایسا کام نہیں کرتا۔۔۔
اس نے میرے دوست کو کہا پہلی بار تمہارا دوست گھر آیا ہے کچھ کھانے پینے کے لیے لاؤ۔۔۔
وہ جھٹ سے اٹھ گیا جیسے ہی وہ کمرے سے باہر نکلا تو وہ مجھ سے مخاطب ہوئی چلو اب کھل کر بتاؤ کیا کر رہے تھے۔۔۔
میں نے کہا کچھ نہیں جی۔۔۔
اس نے چہرہ نارمل کیا چہرے پر مسکراہٹ لائی اور بولی ڈاکٹر سے کچھ نہیں چھپاتے تمہاری کوئی گرل فرینڈ ہے۔۔۔
میرے لیے اب بیٹھنا مشکل ہو گیا تھا دوست کی امی کو اپنی ماں جیسی عزت دینے والے ہم پینڈو لوگ ہیں ۔۔۔
جب دوست کی والدہ ایسا سوال کرے تو جواب کیسے دیں۔۔۔
میں نے سر جھکا کر کہا نہیں جی کوئی نہیں ہے لیکن اس سب کا ان باتوں سے کیا لینا دینا۔۔۔
وہ بولی مجھے لگتا ہے اس سب کا تعلق ان باتوں سے ہے۔۔۔
تمہارا چہرا بتا رہا ہے تمہیں بہت کمزور ہے تمہارا چہرہ زرد ہو رہا ہے آنکھیں بھی اندر دھنس گئی ہیں اور یہ ہلکے بھی کمزوری کی علامت ہیں۔۔۔
میں اب کیابتاتا کہ مجھے جہاں پھدی مل جاتی ہے وہاں وجا دیتا ہوں لن کر وقت تیار رہتا ہے ۔۔۔
دوسرا اگر کمزوری ہوتی تو آج جیسے چدائی کی وہ ممکن نہیں تھا میں اس زاوے کو نظر انداز کر دیا۔۔۔
اس نے کہا دوسری وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ تمہارے دماغ میں کوئی شریان ڈسٹرب ہو یا کمزور ہو جس کی وجہ سے ایسا ہو رہا ہے۔۔۔
دوسری بات میرے دماغ میں بیٹھ گئی پہلی بار جب میرے ساتھ ایسا ہوا تھا تب بھی میں کافی گرمی میں پھرتا رہا تھا ۔۔۔۔
آج بھی پسینے میں نہا گیا تھا بہت زیادہ درجہ حرارت بڑھ گیا تھا۔۔۔
اس بات کی سمجھ مجھے ایسے آئی کہ آنٹی ڈاکٹر نے مجھے تفصیل سے سمجھایا کہ اگر کوئی شریان کمزور ہو تو جب بندہ ایسا کام کرے جس میں جسم کا ٹمپریچر بڑھ جائے ایسا ہو جاتا ہے۔۔۔۔
اس کے لیے مجھے اپنے ہسپتال بلایا اور کہا فیس کی کوئی ٹینشن نہیں لینی سب کچھ فری ہوگا تم میرے بیٹے ہی ہو۔۔۔
میں نے ان کا شکریہ ادا کیا جوس پیا اور وہاں سے گھر آگیا۔۔۔۔
رات کو شانزل اپنی امی کے ساتھ نازل ہو گئی آتے ہی اس کی امی نے کہا بلو تم نے اس کے بعد شانزل کو پڑھایا نہیں اس لیے اس کی سکول سے شکایت آئی ہے۔۔۔۔
میں اب ان کو کیا بتاتا کہ میں کیا کچھ پڑھا چکا ہوں اور سکھا چکا ہوں ۔۔۔۔
شانزل مجھے دیکھ کر سمائل پاس کر رہی تھی کافی دیر اس کی امی مجھے کہتی رہی اب تم ایک ٹائم بتا دو یہ آجایا کرے گی روز پڑھایا کرنا۔۔۔۔
امی کے کہنے پر میں نے ہامی بھر لی وہ چلی گئیں لیکن جانے سے پہلے شانزل نے سب کی نظربچا کر مجھے اشارہ کیا کہ رات کو آنا۔۔۔۔
میں نے کوئی ریسپانس نہ دیا ۔۔۔۔
رات ہوئی میں بیٹھک میں سونے چلا گیا بھائی ہاشم آج گاؤں ہی تھے انہوں نے ساتھ والے گاؤں میں سکول بنایا تھا اس لیے وہ اب اکثر ہی وہاں رہ جاتے تھے۔۔۔۔
ابا جی صحن میں سوتے تھے میں بیٹھک میں سو گیا رات 1 بجے کا وقت ہوگا کہ مجھے ایسے لگا جیسے کسی نے بیٹھک باہر والے دروازے کو دھکا دیا ہے۔۔۔۔
میں اپنا وہم سمجھ کر اگنور کیا کوئی دو منٹ بعد پھر ویسا ہی ہوا۔۔۔
اس بار مجھے واضح پتہ چلا کہ کسی نے دھکا دیا ہے اور تیز تیز چل کر واپس گیا ہے۔۔۔
میں نے اٹھ کر کھڑکی کھول کر دیکھا باہر کویی نہیں تھا میں کھڑا سوچنے لگا کہ کون ہوگا اس وقت اور ایسا کیوں کر رہا ہے۔۔۔
ابھی میں کھڑکی میں ہی کھڑا تھا کہ مجھے ایک ہیولا سا دروازے کی طرف آتا دیکھائی دیا ۔۔۔
وہ ہیولا مردانہ تو بالکل بھی نہیں تھا بلکہ ایک لڑکی کا تھا میرے ذہن میں چھپاکا ہوا ۔۔۔
اس سے پہلے کہ دروازے کو دھکا لگتا میں نے دروازہ کھول دیا وہ جو اپنے خیال میں تیزی سے دھکا دینی لگی تھی آگے کو بڑھتی ہوئی اندر آگئی۔۔۔
میں نے جھٹ دروازہ بند کر دیا اور اس کو جپھی ڈال لی۔۔۔
اس نے ہلکی سے سیی کرتے ہوئے پیچھے ہٹنے کی کوشش کی لیکن میری گرفت سخت تھی کامیاب نہ ہوئی۔۔۔۔
میں نے اس کو اسی طرح پکڑے بیڈ پر لٹا لیا اور اوپر سوار ہوگیا۔۔۔
جب اچھی طرح قابو میں کر لیا تو پوچھا کون ہو اور یہ بار بار دروازے کو دھکا کیوں دے رہی ہو۔۔۔۔
پھولی ہوئی سہمی ہوئی آواز آئی وہ وہہہ شانزززل نے کہا تھا۔۔۔
میں فوراً اس پر سے اٹھنا چاہتا تھا لیکن اس کے جسم کے لمس نے مجھے ٹھرک چھاڑنے ہر مجبور کرنا شروع کیا ۔۔۔
خود پر قابو پایا اور سائیڈ پر ہو گیا وہ تیزی سے اٹھی اور بولی وہ تمہارا انتظار کر رہی ہے ۔۔۔۔
میں نے کہا اچھا جاؤ میں سوچتا ہوں آوں یا نہ آوں۔۔۔
اس نے کوئی جواب نہ دیا اور جانے لگی میں اس کے پیچھے پیچھے دروازہ بند کرنے کے لیے گیا۔۔۔
وہ یکدم رکی اور بولی یہاں تم اکیلے ہوتے ہو۔۔۔۔
میں ۔۔۔۔ ہاں اکیلا ہوں آج تو ویسے کبھی کبھی اکیلا ہوتا ہوں لیکن زیادہ تر بھائی ہوتا ہے۔۔۔۔
اس نے ہممم کیا اور چلی گئی۔۔۔
میں سوچنے لگا کیا کروں جاؤں یا نہ جاؤں۔۔۔
یہ تو پتہ چل گیا تھا کہ یہ شانزل کی چھوٹی بہن تھی شمع جس کا ذکر پہلے بھی کیا تھا ۔۔۔۔۔
کچھ دیر سوچتا رہا پھر اٹھا اور شانزل کے گھر چلا گیا۔۔۔۔
شانزل نے دروازہ کھولا ہوا تھا جیسے ہماری بیٹھک تھی ویسے ہی ان کی بیٹھک تھی ساری کالونی کے ہر بلاک کے گھروں کا ڈیزائن ایک جیسا تھا جس بلاک میں ہم رہتے تھے اس کے ہر گھر کی بیٹھک باہر ہی تھی۔۔۔۔
میں اندر داخل ہوا شانزل نے دروازہ بند کیا اور مجھے پیچھے سے جپھی ڈال کر رونے سسکنے گئی ۔۔۔۔
پہلے تو میں ایسے ہی مذاق سمجھا لیکن جب آنسوؤں نے میری کمر کو گیلا کیا تو میں نے اس کے ہاتھوں کو تھام کر گھمایا اور سامنے لے آیا۔۔۔۔
اس کے آنسو ہاتھوں سے پونچھے اور پوچھا کیا ہوا ۔۔۔۔
وہ پھر رونے لگ گئی میں نے بڑی مشکل سے اس کو چپ کروایا ۔۔۔۔
گلے سے لگا کر پیار کیا اس کے آنسو اپنے ہونٹوں سے چنے نمکین پانی سے میرے منہ کا ذائقہ بھی نمکین ہو گیا۔۔۔۔
وہ کچھ ریلیکس ہوئی اس سب میں مجھے آدھا گھنٹہ لگ گیا تھا۔۔۔۔
پھر بولی بلو مجھے چھوڑ تو نہیں دو گے۔۔۔۔
میں ۔۔۔۔ نہیں میری جان ایسا کیوں سوچ رہی ہو ہوا کیا ہے۔۔؟
شانزل۔۔۔ پہلے وعدہ کرو پھر بتاؤں گی۔۔
میں۔۔۔ بھلا اپنوں کو بھی کوئی چھوڑتا ہے۔۔۔اور تم میری ہو بہت خاص میرے دل کے پاس۔۔۔
شانزل۔۔۔ مجھے بہت ڈر لگتا ہے تم مجھے چھوڑ جاؤ گے۔۔۔
میں۔۔۔ میری شوہنی کبھی نہیں چھوڑوں گا ۔۔
شانزل ۔۔۔۔ تمہیں کیا ہوا ہے اس دن بیہوش بھی ہوئے تھے ۔۔۔
میں ۔۔۔ وہ اس دن کچھ بھی نہیں بس تھکاوٹ کی وجہ سے گر گیا تھا۔۔۔
وہ میرے گلے لگ گئی اور بہت پیار سے میری گردن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے بولی تمہیں نہیں پتہ اس دن میری کیا حالت ہوئی تھی۔۔۔
تم بہت ظالم ہو میری بالکل پرواہ نہیں کتنے دن ہو گئے مجھ سے ملے آج بھی زبردستی بلایا ورنہ تم نے آنا نہیں تھا۔۔۔
میں۔۔۔ نہیں میری جان ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔
اس نے ہاتھ میرے ہونٹوں پر رکھا میرا منہ بند کیا پھر اپنے ہونٹ اپنے ہاتھوں پر رکھ کر چوما۔۔۔۔
اس کے بعد اس نے کہا میرا دل کرتا ہے کہ میں اور تم ہوں اور ایسی جگہ ہو جہاں ہمیں دیکھنے والا کوئی نہ ہو۔۔۔
جی بھر کر پیار کریں اپنی ہی دنیا آباد کریں سارا جہاں اپنا ہو نہ دنیا کا ڈر ہو نہ کسی کی
شانزل کی پیار بھری باتیں سن کر اس کے دل اپنے لیے چھپے جذبات کا اظہار سن کر میں اپنے آپ میں شرمندہ ہونے لگا۔۔۔۔
میں کتنا برا ہوں اس کے دل میں میرے کتنے ارمان ہیں وہ مجھے کتنا چاہتی ہے اس کے پیار میں اس کے الفاظ میں تو جو تھا سو تھا لیکن اس کے لہجے میں جو بات تھی اس نے مجھے اندر تک ہلا دیا تھا۔۔۔۔
میں کچھ لمحے گنگ ہو گیا میں جو اس کو دھوکا دے رہا تھا اس کے جذبات کی قدر کہاں کر سکتا تھا میرے اندر تو اک طوفان بدتمیرزی چھپا ہوا تھا جو ہر وقت پھدی کی تلاش میں رہتا تھا ۔۔۔۔۔
میں ٹھہرا لن کا غلام وہ مجھے پیار کی پجارن لگ رہی تھی اس کا لہجہ پیار جی حلاوت لیے ہوئے تھا ۔۔۔
اس نے مجھے اندر تک زخمی کر دیا میرے پاس اس کے الگ دنیا بسانے کے خواب کی تعبیر کے لیے کچھ نہ تھا ۔۔۔۔
کہا جاتا ہے کہ کسی کا پیار انسان کو بدل کر رکھ دیتا ہے اب دیکھنا یہ تھا کہ اس کے پیار میں کتنی طاقت ہے جو مجھ جیسے دھرتی کے ناسور کو بدل کر رکھ سکے۔۔۔۔
میں اپنے آپ کو آج بھی ایک انتہائی گھٹیا اور گرا ہوا انسان سمجھتا ہوں جو آج تک خود کو بدل نہ سکا۔۔۔۔
مجھے چپ دیکھ کر اس نے پیار کے موتی نچھاور کرتے ہوئے کہا جانو کچھ تو بولو میرا دل ہول رہا ہے ۔۔۔
کیا تمہارے دل میں میرے لیے اتنی بھی جگہ نہیں ہے کہ کم از کم مجھے جھوٹی آس ہی دے سکو۔۔۔
میں اس کے چہرے کی طرف دیکھا جو آنسوؤں سے تر ہو چکا تھا۔۔۔۔
مجھ اور برداشت نہ ہوا میں ایک جھٹکے سے اٹھا شانزل مجھے آوازیں دیتی رہ گئی لیکن میں اس کی بات سنی ان سنی کرتا ان کے گھر سے نکلا اور گلی میں آ گیا۔۔۔
ابھی دو قدم ہی چلا تھا کہ چوکیدار کی سیٹی سنائی دی میں نے ایک دم بھاگ کر بیٹھک کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔۔۔
میں دروازہ بند کرنے کے لیے پیچھے مڑا تو میرے پیچھے شانزل بھی اندر داخل ہو رہی تھی اس نے مجھے دھکیلا اور اندر آ گئی۔۔۔
اس کو دیکھ کر میرے رہے سہے حواس بھی ہوا ہو گئے۔۔۔
میں دروازہ بند کرنا بھول گیا وہیں کھڑا رہا اس نے دروازہ بند کیا اور میرے گلے لگ کر سسک سسک کر رونے لگی۔۔۔
میں جو پہلے ہی اس کی باتیں سن کر پشیمان تھا اب مجھے لگا کہ اس سے بچنا محال ہے ۔۔۔۔
میں نے کچھ دیر اس کو رونے دیا اور آگے کا لائحہ عمل تیار کرنے لگا میں اس انتظار میں تھا کہ اس کے آنسو تم جائیں گے لیکن اس کی سسکیاں بڑھتی جا رہی تھیں ۔۔۔۔
اس وقت عین ہماری بیٹھک کے سامنے چوکیدار نے سیٹی بجائی وہ ایک دم جھٹکا کھا کر مجھ سے الگ ہوئی جیسے کسی نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہو اور تھر تھر کانپنے لگی۔۔۔۔
مجھے اس وقت کسی اور دنیا کی باسی لگی اجھڑا چہرہ آنسوؤں سے دھلا ہوا بکھرے بال عجیب جنونی حالت تھی۔۔۔
اس کو دیکھ کر مجھے سچ میں اپنی آپ پر شرمندگی محسوس ہونے لگی لیکن کیا کرتا دل میں اس کے لیے وہ جذبات نہیں تھے ۔۔۔
دل تو کسی اور کے لیے دھڑکنے لگا تھا دل میں ایک ماہ رخ نے دیپ جلائے تھے ا سکو دیکھ کر میں یہ سوچنے لگا کیا پیار میں انسان ایسا ہو جاتا ہے کہ اپنی حالت سے ہی بے خبر ارد گرد کی صورتحال سے مبرا ہو جاتا ہے ۔۔۔۔۔
اگر اس کی یہ حالت مجھ سے پیار کرنے سے ہوئی ہے تو کیا اس حسن و جمال کی مورت کی میرے پیار میں یہ حالت ہو جائے گی ۔۔۔
میں اس کے چہرے ہر نظریں گاڑے کسی اور کو دیکھ رہا تھا اس کے چہرے کے نقوش میں کسی اور تلاش کر رہا تھا۔۔۔۔
ہائے رے قسمت میرا کہاں جا لگا جس کی جھلک بھی نظر نہ آئی میں کھو گیا۔۔۔
میری یہ حالت کافی دن بعد ہویی تھی ایسا شاید اس لیے ہوا تھا کہ مجھے کسی کے پیار کا احساس ہو رہا تھا۔۔۔
کسی کے دل ٹوٹنے کے درد سے آشنا ہو رہا تھا اب مستقبل میں کیا ہو گا کیا میں اپنے اس کو پیار کو حاصل کر پاؤں گا جس جس سے ابھی تک اظہار تک نہ کر پایا ۔۔۔
جس کو ایک دو بار کے علاوہ دیکھ تک نہ پایا یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا۔۔۔
میری محویت تب ٹوٹی جب شانزل نے میرا بازو ہلایا میں سر جھٹکا اور بولا ہوں کیا ہوا زبردستی مسکرانے کی کوشش کی۔۔۔
کہا جاتا ہے کہ عورت کر روپ کو پہچاننے کی طاقت رکھتی ہے اس نے بھی شاید میری آنکھوں میں کسی اور کا چہرہ دیکھ لیا تھا۔۔۔۔
اسی لیے تو وہ آنکھوں میں آنسو لیے ایک دم دکھ بھری نظر ڈالتے چلی گئی۔۔۔۔
میں بت بنے کافی دیر وہاں اسی حالت میں کھڑا رہا میری محویت اس وقت ٹوٹی جب مجھ پر روشنی پڑی ۔۔۔۔
چوکیدار ایک بار پھر وہاں سے گزرتے ہوئے آیا تھا اس نے دروازہ کھلا دیکھا تو اندر لائٹ ماری جو مجھ پر پڑی ۔۔۔۔
یہ اچھا ہی ہوا تھا ورنہ شاید میں اور کتنی دیر وہاں ایسے ہی کھڑا رہتا۔۔۔
چوکیداد پٹھان تھا اپنی اردو میں بولا او کوچا یہ اپنا دروازہ کھول کر بھوت بنے کیوں کھڑی ہے کیا کرتی ہے اس ٹیم کوئی جن ون تو نہیں آیا تم پر مجھ کو بتاو میں اس کو فائر ٹھوک دوں گا۔۔۔۔
اس کی اردو سن کر میری ہنسی چھوٹ گئی۔۔۔
میں نے اس کی زبان سن کر اسی کے انداز میں جواب دیا خانا ام کو گرما لگ رہی تھا اس واسطے ام بوہا کھول کر کھڑی تھی ۔۔۔۔
خان تو میری بات سن کر شاٹ ہو گیا اس نے اپنی رائفل سیدھی کی اور بولا ۔۔۔
تم امارا نقل اتارتی اے ہم تمہارا گانڈ میں گولی مار دے گا کیا بولتی اے مارے تیری گانڈ میں گولی۔۔۔
رائفل دیکھ کر میری تو جان نکلنے والی ہو گئی اوپر سے بندہ پٹھان جو عقل سے بھی پیدل ہوتے ہیں ۔۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا اوہو خان صاحب آپ برا مان گئے میں تو آپ سے شغل کر رہا تھا مجھے خان لوگ بہت پسند ہیں اگر آپ چاہتے ہو کہ میں خان لوگوں کو پسند نہ کروں تو جو آپ کا دل چاہے وہ کرو۔۔۔۔
خان نے اوہ تو ایسا ہے پہلے بتانا تھا نہ چلو اب کھل کر مذاق کرو۔۔۔
میں اب کوئی رسک نہیں لینا چاہتا تھا اس لیے کہا خان صاحب ٹائم کیا ہوا ہے۔۔۔
خان نے گھڑی دیکھی اور بولا اوہ تیری ماں نوں دو بج گئے چل کاکی تو دروازہ بند کر تے بھوت بن کر نہ کھڑا ہونا نہیں تو ام کا تو پتہ چل گیا ہوگا ام بات بعد میں کرتی اے گولی پہلے مارتی اے۔۔۔
خان یہ کہہ کر سیٹی بجاتا آگے نکل گیا میں نے بھی دروازہ بند کیا اور سو گیا۔۔۔
اگر پہلے والی حالت ہوتی تو شاید نیند آنکھوں سے کوسوں دور ہوتی خان کے ساتھ ہونے والی بات نے موڈ بحال کر دیا اس لیے جلد ہی نیند آگئی ۔۔۔۔
صبح اپنے وقت پر اٹھ گیا رات کے جگ راتے کی وجہ سے طبیعیت بوجھل تھی لیکن روٹین کے مطابق سیر کو گیا اس کے بعد گھر آیا ناشتہ کر رہا تھا کہ ابا جی نے کہا کچھ پتہ بھی ہے آج رزلٹ آرہا ہے بس سارا دن آوارگردی کرتے رہنا ہی آتا ہے۔۔۔
میں نے کمال ڈھیٹ بنتے ہوئے کہا جی آپ جانتے ہی ہیں سب اب کیا کہہ سکتا ہوں۔۔۔
ابا جی کو تو چڑھ غصہ گیا انہوں نے تو پھر خوب سنائیں صبح صبح ناشتے میں جب باپ کی ڈانٹ کھا لیں تو پورا دن بندہ تازہ دم رہتا ہے ۔۔۔۔
یہ بات بھی وہ لوگ ہی سمجھ سکتے ہیں جو اس سے گزر چکے ہیں ۔۔۔
باپ کا سایہ جب تک سر پر ہوتا ہے انسان کو دنیا میں کسی قسم کا خوف نہیں ہوتا باپ کے بعد دنیا میں پھونک پھونک کر قدم رکھنا پڑتا ہے۔۔۔
ابا جی ڈانٹ بھی کھائی ناشتے سے بھی پیٹ بھرا اور اضافی طور بھی ناشتے میں ڈانٹ مل جائے تو کچھ لوگ اس کو اچھا سمجھتے ہیں۔۔۔۔
اباجی ڈانٹ کر ڈیوٹی کے لیے نکل گئے اور میں رزلٹ کا پتہ کرنے۔۔۔
اس وقت نیٹ کا دور دورا نہیں تھا ایک گزٹ بورڈ سے آتا تھا جس میں سے ڈھونڈ کر بتانے کے دکاندار پیسے لیتے تھے۔۔۔۔
خیر میں بھی رزلٹ کا پتہ کرنے کے لیے کئی دکانوں پر گیا لیکن رش ہی رش سکول جانا نہیں چاہتا تھا ۔۔۔۔
جاتا بھی کیسے سکول کی فیس جو کھائی ہوئی تھی اور سکول میں ریپوٹیشن کچھ اچھی تھی سوائے فیس کھانے کے کوئی شکایت نہیں آتی تھی۔۔۔
متوسط قسم کا طالبعلم ہونا بھی اعزاز سمجھتا تھا لیکن جس طرح کرکٹ کھیلتے پیپر دییے تھے آدھے ادھورے پیپر کیے تھے اس لیے سکول سے رزلٹ پتہ کرنے میں ڈر رہا تھا۔۔۔
جب شہر کی اسی فیصد دوکانوں پر چکر لگا چکا تو میرا ایک کلاس فیلو جس کو ہم شاہ جی کہتے تھے مل گیا۔۔۔
شاہ جی نے کہا وہ سکول سے رزلٹ پتہ کر کے آرہا ہے تیرا بھی پوچھ رہے تھے سر تیرا اچھا رزلٹ ہے تو بھی پتہ کر لو۔۔۔
میں نے کہا یار مجھے ڈر لگ رہا ہے تو بھی چل میرے ساتھ۔۔۔
شاہ جی اوئے گانڈو اس میں ڈرنے کی کیا بات ہے استاد نے تیری بنڈ نییں مار لینی۔۔۔
میں۔۔۔۔ آہو اوہ تیری بنڈ جو مار لئی ہونی اے اہناں نے وکھا تے صیح بنڈ دے وچ پانی کڈیا یا باہر چھڑکیا۔۔۔۔
شاہ جی۔۔۔ سالے پراں مر پھدی دیا تو وی ہن گلاں کرن لگ گیا ایں پہلے تاں تیرے منہ وچ لن وڑیا رہندہ سی۔۔۔
میں۔۔۔ شاہ یار تو استاد ایں میرا لن منہ اچ لین دا تینوں ویکھ کے سکھیا اے اوہ یاد اے تینوں جدوں تو استاد دا لن چوچن ڈیا سی تے اتوں فوجی صاحب آ گئے تاں فیر میں ای اوہ پہلا بچہ سی جنہے فجی تو بعد تیرے منہ وچ لن ویکھیا سی۔۔۔۔
شاہ غصہ کر گیا اسنے سچ میں مجھے برا بھلا کہا۔۔۔۔
میں ہنسنے لگا اور کہا چل چھڈ یار غلطی ہو جاندی مٹی پا تے آ چلئیے سکول۔۔۔
اسنے مجھے دھکا دیا اور کہا پراں مر بھوسڑی دیا میرے نیڑے ناں آئیں نیں تاں گانڈ میں لوڑا ٹھوک دوں گا۔۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے اس کے کندھے کے گرد بازو رکھا اور کہا جگر تو جانتا ہے کہ میں مزاق کر رہا ہوں پھر بھی غصہ کر گیا ہے۔۔۔۔
اس نے غور سے میرے چہرے کی طرف دیکھا پھر بولا لگتا نہیں ہے کہ تو یہ سب مذاق میں کر رہا ہے۔۔
میں نے کہا سالیا لگدا اے تو سچی میں چوپے لگاتا تھا ۔۔۔۔
اس نے میرا بازو جھٹکا اور چل نکل ادھر تو میری گانڈ مارنے کے لیے ساتھ لے جانا چاہتا ہے یا رزلٹ پتہ کرنے ۔۔۔۔
میں سمجھ گیا کچھ گڑ بڑ ہے میں نے دفع کر یا میں صرف مذاق کر رہا مجھے ککھ کا بھی شوق نہیں ویسے بھی تیری گانڈ میں اب وہ دم نہیں رہا ۔۔۔۔
اس نے بھی میری بات کو مذاق ہی سمجھا لیکن مشکوک نظروں سے دیکھتا رہا پھر کہا چل آجا چلتے ہیں۔۔۔
ہم ایسے ہنسی مذاق کرتے سکول پہنچ گئے سکول میں داخل ہوتے ہوئے میں نے ایک بار پھر نکر لگا دی شاہ یار سچ بتانا ۔۔۔
شاہ۔۔۔ کیا۔۔؟
کیا وہ استاد بھی آئے ہیں۔۔
نام دانستہ نہیں لے رہا کیونکہ استاد کا شعبہ ایک معتبر شعبہ ہے کچھ کالی بھیڑوں کی وجہ سے سب کو بدنام نہیں کرنا چاہئیے۔۔۔
شاہ نے مجھے غور کر دیکھا اور کہا بس اب تو خود ہی جا میں جا رہا ہوں تو باز نہیں آئے گا۔۔۔
میں نے اس کی منتیں کیں اور اس کو منایا بہت مشکل سے مانا لیکن مان گیا ۔۔۔
میں نے رزلٹ چیک کروایا میں فرسٹ ڈویژن میں پاس ہوا تھا نمبر بہت اچھے تو نہیں تھے لیکن اچھے تھے اب یہ ٹینشن ہونے لگی کہ ابا جی سے بھی خوب عزت افزائی ہو گی۔۔۔
اب آتا ہوں شاہ کی طرف شاہ ایک پپو قسم کا ممی ڈیڈی ٹائپ کا بچہ تھا جو ہر پینڈو کے لیے کسی سویٹ ڈش سے کم نہیں تھا لیکن تھا بہت تیز کسی کو بھی ہاتھ نہیں لگانے دیتا تھا ۔۔۔۔۔
دوستی ہر ایک سے کر لیتا تھا اس کی وجہ سے کافی لڑکوں میں مارا ماری بھی ہوئی تھی۔۔۔۔
اس بات کا ایک استاد کو پتہ چل گیا وہ ویسے بھی ایک اور بچے کی وجہ سے بدنام ہوا تھا پرنسپل نے اس کو سکول ریپوٹیشن کی وجہ سے فارغ نہیں کیا تھا بس وارن کر کے چھوڑ دیا تھا۔۔۔۔
اس استاد نے ان لڑکوں کی خوب چھترول کی اور ان کو پرنسپل سے بھی ڈانٹ پڑی گھر بھی شکایت گئی۔۔۔
اب آتے ہیں اصل مدے کی طرف فوجی ہمارے سکول میں ایک ریٹائرڈ فوج تھے جو ڈسپلن انچارج اور سکول میں پی ٹی ٹیچر تھے ان کو جب اس واقعہ کا پتہ چلا تو انہوں نے نظر رکھنا شروع کر دی ۔۔۔۔
ایک طرف پی ٹی استاد کی نظر شاہ پر تھی دوسری طرف وہ استاد جو لڑکوں کو مار چکے تھے ان کی نظر بھی شاہ پر تھی۔۔۔۔
انہوں نے شاہ کو کہا ہوا تھا کہ اب اگر کوئی تمہیں تنگ کرے تو مجھے انفارم کرنا۔۔۔
ایک تیسری پارٹی بھی بن چکی تھی وہ لڑکے جن کو مار پڑی تھی اب وہ یکجان ہو گئے تھے شاہ پر اور استاد پر نظر رکھے ہوئے تھے یہ بات شاہ نہیں جانتا تھا نہ وہ استاد کہ ان پر کوئی کڑی نظر رکھے ہوئے ہے۔۔۔۔
کافی دن گزر گئے کوئی مسئلہ نہ ہوا ایک دن ایسا ہوا کہ سکول میں ایک نیا سیکشن بنا جس میں بہت بڑے لڑکے شامل کر دئیے گئے وہ سب کے سب ایک نمبر کے لفںٹر تھے شاہ کو بھی اس کی پرسنٹیج کم ہونے کی وجہ سے اس گروپ میں رکھ دیا گیا۔۔۔۔
اب شاہ کا برا دور شروع ہوا ان لڑکوں شاہ کو تنگ کرنا شروع کر دیا وہ تو اتنے اوباش تھے کہ سالے کلاس میں ہی شاہ کی گانڈ مارنے کے پلان بناتے رہتے ایک تو وہ سکول میں سب سے لمبے اور بڑے تھے باقی سکول کے بچوں میں وہ اونٹ نظر آتے تھے دوسرا وہ گاؤں کے لڑاکا تھا ڈرتے کسی سے بھی نہیں تھے ۔۔۔۔
استاد کی مار تو ان کے لیے مذاق تھی ہنسی خوشی مار کھا لیتے لیکن کام پھر بھی نہیں کرتے تھے۔۔۔۔
شاہ کو انہوں نے بہت زچ کیا جب شاہ کی برداشت ختم ہو گئی تو اس نے اس استاد کو شکایت لگا دی ۔۔۔
اب شاہ کی بدقسمتی کہہ لیں یا کچھ بھی اس وقت جب وہ سٹاف روم میں جا رہا تھا اس کا مخالف گروپ اس کو دیکھ رہا تھا ۔۔۔۔
میں بھی کسی وجہ سے کلاس سے باہر نکل رہا تھا میں شاہ کو سٹاف روم داخل ہوتے دیکھا ان لڑکوں میں سے ایک کو پی ٹی کے روم کی طرف جاتے دیکھا۔۔۔۔
مجھے کچھ گڑ بڑ کا احساس ہوا ہماری کلاس گیلری کے ایک کونے میں تھی جبکہ سٹاف روم اور پی ٹی صاحب کا روم دوسرے کونے میں ساتھ ساتھ تھا۔۔۔
میں نے سوچا کیوں نہ سٹاف روم جا کر شاہ کو بتادوں ۔۔۔۔
میں ابھی سٹاف روم سے کچھ کی فاصلے ہر تھا کہ پی ٹی صاحب آگ کا گولا بنے اپنے روم سے نکلے اور سٹاف روم میں داخل ہو گئے اور وہ لڑکا بھاگ کر اپنی کلاس کے دروازے پر پہنچ گیا۔۔۔
ادھر میں سٹاف روم کے دروازے کر پہنچا ادھر پی ٹی دھارا یہ سب کیا حرکات ہو رہی ہیں آپ کو پہلے بھی وارننگ دی جا چکی ہے آپ پھر بھی اپنی حرکات سے باز نہیں آ رہے۔۔۔
میں نے آگے ہو کر دیکھا تو شاہ استاد کی کرسی کے پاس کھڑا تھا جبکہ استاد بیٹھے تھے ان کا ہاتھ شاہ کی کمر پر تھا ۔۔۔
لیکن جو پی ٹی کہہ رہا تھا اس بات کا اس ان کی پوزیشن سے کوئی تال میل نہیں تھا۔۔۔
شاہ کے پسینے چھوٹ رہے تھے استاد کو بھی غصہ آگیا دونوں میں کافی تو تو میں میں ہوئی شاہ کو میں نے وہاں سے نکلنے کا اشارہ کیا شاہ ان کی آپس کی لڑائی کا فائدہ اٹھا کر نکل گیا۔۔۔
اصل بات جو تھی وہ یہ تھی شاہ کو کوئی ایسی ویسی عادت نہیں تھی وہ خود ایک بہت بڑی فلم تھی سالا ایک نمبر کا حرامی تھا۔۔۔۔