گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 28)

ایسے ہی مستی کرتے سکول ختم ہو گیا تھا لیکن اس شاہ کے بارے میں بہت کم لوگ جانتے تھے ۔۔۔۔

یاروں کا یار تو تھا ہی لیکن یاروں کی سہیلیوں کا بھی یار بن جاتا تھا اس کا معصوم چہرہ دیکھ کر ہر کوئی اس پر یقین کر لیتا تھا اندر سے کتنا کمینہ تھا کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔

ہم وہاں سے باہر نکلے ایک جگہ بیٹھے کچھ کھایا پیا اس سے پوچھا آگے کا کیا پلان ہے میں نے بھی اس کو بتایا کہ میں تو کافی سیلبس پڑھ چکا ہوں اس نے ابھی تک اگلی کلاس کی کوئی کتاب تک نہیں لی تھی۔۔۔۔

کہنے لگا لن تے چڑھ تو انا پڑھ کے کہیڑا بچہ پیدا کر لینا اے۔۔۔۔

میری ہنسی نکل گئی عجیب بندہ تھا سیریس ہوتا تو ایسے کہ جیسے بہت ہی سنجیدہ طبعیت کا مالک ہے ۔۔۔

اکثر عجیب بے تکی باتیں کیا کرتا تھا ہر وقت اوٹ پٹانگ حرکتیں کر رہا ہوتا تھا یہ اس کی ان حرکتوں کی وجہ سے ہی تھا کہ کچھ نہیں بلکہ آدھا سکول اس کو دو نمبر یعنی کہ گانڈو سمجھتا تھا ۔۔۔۔

وہ اکثر چلتے چلتے اپنی گاند مٹکانے لگ جاتا کبھی جان بوجھ کر خوجہ سراؤں والی حرکات کرتا اس کی چال ڈھال میں زنانہ پن جھلکتا تھا یہ اس کی نیچرل چال تھی ۔۔۔۔

آپ بھائی بھی کہو گے کہ کہا شاہ کا رونا رونے لگ گیا ہوں یہ اس لیے کہ اس شاہ نے مجھے زندگی میں بہت کچھ سکھایا یہ آگے والے واقعات ہی بتائیں گے۔۔۔۔

میں تقریباً سارا دن شاہ کے ساتھ ہی رہا کبھی پارک گئے کبھی لڑکیوں کے سکول کے سامنے ایسے ہی چکر لگائے اور مزے کی بات شاہ نے سکول کو چھٹی ہوئی لڑکیوں کے سکول کو تو ایک لڑکی کو تاڑا اس لڑکی نے بھی اس کو لفٹ کروائی شاہ نے دوبارہ نہیں دیکھا ۔۔۔۔

کچھ دیر بعد شاہ مجھے لے کر ایک گلی میں گھس گیا اور تیز تیز چلتا ایک گلی سے دوسری گزرتا ہوا پھر آگے جا کر آرام آرام سے چلنے لگا ۔۔۔۔

میں کہا بھوسڑی دیا آ کی کری جان ڈیا ایں ۔۔۔

شاہ۔۔۔ ٹھنڈ رکھ یار اک کڑی اے بہت دن ہو گئے اس کو دیکھا تھا آج نظر آئی یار کیا لڑکی ہے ابھی وہ پیچھے آ رہی ہو گی۔۔۔

میں نے چھٹ پیچھے مڑ کر دیکھا تو تین لڑکیاں آپس میں اٹھکیلیاں کرتی آ رہی تھیں۔۔۔

شاہ نے میرا بازو پکڑ کر کہا سالیا پیچھے نہ دیکھ بس آرام آرام سے چل آگے ہی ایک دوکان تھی شاہ نے دوکان دار کو اونچی آواز میں سلام ٹھوکا۔۔۔

سلام چاچا۔۔۔

دوکاندار۔۔۔ و علیکم السلام

شاہ ۔۔۔چاچا آ بھلا پپو پٹواری دا گھار کتھے آ۔۔۔

دوکاندار نے اپنے ماتھے پر ہاتھ مارا اور سوچنے لگا۔۔۔

پھر بولا پت پپو ناں دا بندا میں نہیں سنیا ایس محلے اچ تو پٹواری وی لے آیاں نیں۔۔۔

اک منٹ رک میں فیر سوچ لواں وہ دوکان سے باہر نکلا اور گلی میں نظر دوڑائی اتنی دیر میں وہ لڑکیاں ہمارے پاس آ گئیں ۔۔۔۔

دوکاندار لڑکیوں کو دیکھا پھر شاہ کی طرف مجھے دیکھا اور بولا ہمممم تاں اے گل اے ۔۔۔

پپو پٹواری پچھیا سی نا تو۔۔۔

مجھے چاچے دوکاندار کے تیور بدلتے نظر آئے میں نے شاہ کو کہنی ماری شاہ لڑکیوں کی طرف دیکھنے میں مگن تھا۔۔۔

اس نے بھی مجھے کہنی ماری اس چاچے نے شاہ کو بازو سے پکڑا اور کہا پت پپو پٹواری دا گھر لبھ گیا اے آ تینوں اوتھے پہنچا آواں۔۔۔

شاہ کے رنگ اڑ گئے میرے تو ویسے ہی ٹٹے شاٹ رہتے تھے ۔۔۔

شاہ کو بازو سے پکڑ کر کھنچتے ہوئے چاچا دوکاندار اونچی آواز میں کسی کو بلانے لگا ۔۔۔۔

شاہ نے زور لگایا لیکن ہم بچے وہ ہٹا کٹا جوان چاچا تھا نہ چھڑوا سکا۔۔۔۔

میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی مجھے وہاں ایک طرف ڈنڈا سا نظر آیا جس سے شاید وہ دوکان کا شٹر اوپر نیچے کرتے تھے ۔۔۔

میں نے وہ اٹھایا اور چاچے دوکاندار کی طرف لہرایا لیکن وہ پکا آدمی تھا ہنسنے لگا مار مار کاکے مار تے سئی اک وار فیر دسنا تینوں۔۔۔۔

میں گلی میں نظر دوڑائی کچھ لوگ آ رہے تھے میں نے بھی کہا لے فیر چاچا تیار ہو جا۔۔۔۔

بازو اوپر اٹھائے اونچی آواز میں بھڑک ماری ہن تو بچ کے وکھائیں چاچا میرے توں۔۔۔۔

چاچا نے شاہ کا بازو چھوڑا اور اپنے سر پر بازو رکھ کر سر چھپا لیا۔۔۔۔

جیسے ہی شاہ آزاد ہوا وہ آگے کی ظرف بھاگا لیکن ادھر سے کچھ لوگ بھاگے آ رہے تھے میں نے بھی ڈنڈا پھینکا اور شاہ کو آواز دے کر کہا اس طرف اس نے میری ظرف دیکھا اور ہم نے سپیڈ لگا دی ۔۔۔۔۔

ہم بھاگتے بھاگتے کافی دور نکل گئے ایک گھر کے باہر پانی کا پائپ پڑا تھا شاید کوئی صفائی کر رہا تھا گلی میں چھڑکاو کرنے کے پائپ رکھا تھا۔۔۔۔

بھاگ بھاگ کر گلا خشک ہو گیا تھا میں رک گیا پائپ کو دیکھا پانی نہیں آ رہا تھا پائپ اپنے منہ کی طرف کر کے دیکھا ایک فطرت ہے انسان کی کہ جب کچھ نظر نہیں آ رہا ہوتا تو قریب سے دیکھنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔

میں پائپ میں پانی دیکھنے کے لیے اس کا رخ اپنے چہرے کی طرف کیا ہی تھا کہ پانی سپیڈ سے آیا اور میرا سارہ چہرہ اور قمیض تک پانی سے بھیگ گئی شاہ بجی نیچے ہو رہا تھا بیٹھنے کے لیے اس پر بھی پانی کے چھنٹے پڑے۔۔۔۔

شاہ زور زور سے ہنسنے لگ گیا میں نے پانی سے منہ دھونا شروع کر دیا اور شاہ پر پانی پھینکنے لگا ۔۔۔۔

ہم ایک دوسرے سے مستیاں کرنے لگے یہ بھی نہیں سوچا کہ کسی کے گھر کے سامنے کھڑے ہیں۔۔۔۔

ایک دم میری کمر پر کوئی چیز آ لگی میرے منہ سے گالی نکلتے نکلتے رہ گئی میں پیچھے مڑ کر دیکھا تو ایک آنٹی کھڑی تھیں جن کے ہاتھ جھاڑو تھا میں نے جیسے ہی ان کی طرف دیکھا تو انہوں نے ایک بار پھر سے مجھے مارنے کے ہاتھ اوپر اٹھایا ۔۔۔۔

شاہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کھینچا میں توازن نہ رکھ سکا گر گیا آنٹی آگے بڑھی شاہ نے مجھے اسی طرح گھسیٹا اور میری گرتے اٹھتے بھاگ کھڑا ہوا ۔۔۔۔

کچھ آگے جا کر شاہ نے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر ہنسنا شروع کیا تو پھر رکا نہیں ہنستے ہنستے دہرا ہو گیا۔۔۔

ایسے ہی ہنستے رہے وہ اپنے گھر چلا گیا میں اپنے گھر عصر کا وقت تھا میں ڈرتے ڈرتے گھر میں داخل ہوا ۔۔۔

دبے پاؤں واش روم میں گھس گیا ابا جی اندر کمرے میں تھے میں نہایا تازہ دم ہوا رزلٹ کا امی کو بتایا تو امی نے پہلے ہی میرا منہ میٹھا کروا دیا۔۔۔۔

کیونکہ ابا جی اتے ہوئے پتہ کر آئے تھے ماں تھیں بہت خوش تھیں لیکن اباجی کا کہا ردعمل ہو گا میرے لیے یہ ٹینشن ہو رہی تھی کیونکہ انہوں نے مجھے ایک ٹارگث دیا تھا جو میں پورا نہیں کر سکا تھا۔۔۔۔

امی نے میٹھا بنایا تھا کھایا کھانے کی طلب نہیں تھی شاہ کے ساتھ کافی ہلکا پھلکا کھا لیا تھا اس لیے ویسے ہی ٹائم دیکھا تو گراؤنڈ جانے کا ہو گیا تھا۔۔۔۔۔

میں گراونڈ جانے کے لیے بیٹ اٹھا کر نکل گیا گراؤنڈ پہنچا تو کافی لڑکے اکٹھے تھے۔۔۔۔

سب سے پہلے تو رزلٹ کی بات چلی سب ںے اپنا اپنا رزلٹ بتایا مزے کی بات میں جو اپنے نمبروں سے ڈر رہا تھا میرے وہاں موجود سب سے زیادہ تھے۔۔۔

سب نے ایک دوسرے کو مبارکباد دی اور کھیلنے لگ گئے۔۔

وہاں کھیلتے ہوئے میں جب باونڈری ہر فیلڈنگ کر رہا تھا تو تہمینہ گزری اس نے کوئی چیز نیچے گرائی اور میرے پاس بیٹھ گئی چیز اٹھاتے ہوئے بولی کہاں غائب ہو آج کل نظر نہیں آتے کوئی لفٹ نہیں۔۔۔

میں نے منہ پر ہاتھ رکھا اور سامنے دیکھتے ہوا کہا تم بھی لفٹ نہیں کروا رہی ایک کام کہا تھا تمہیں تمہں تو یاد بھی نہیں ہو گا۔۔۔

اس نے کہا کیا کام کہا تھا ۔۔۔

میں نے کہا مجھے پتہ تھا تمہیں یاد نہیں ہوگا۔۔۔

اسی وقت میری طرف گیند آئی اور بھاگ کر گیند پکڑنے چلا گیا جب تھرو کر کے واپس مڑا تو وہ جا رہی تھی ۔۔۔

اس نے جانا اسی طرف تھا جس طرف سے میں آ رہا تھا۔۔۔

میرے پاس سے گذرتے ہوئے بولی اگر ابھی چکر لگا لو تو بات ہو سکتی ہے یا پھر کل اسی ٹائم کر جس ٹائم ہم پہلے ملے تھے ٹائم کم ہوگا لیکن بات ہو سکے گی۔۔۔

اس نے یہ بس چند سیکنڈ میں بول دیا چلتے ہوئے اور اگے نکل گئی میں پھر کھیلنے میں مصروف ہو گیا۔۔۔

اس دن شام کو کھیل کر واپس آنے لگا تو میرا وہی دوست جس امی ڈاکٹر تھیں مجھے کہنے لگا مما پوچھ رہی تھیں کہ تم چیک اپ کروانے نہیں آئے۔۔۔

اس دوست کا بھی تعارف کرواتا جاؤں اس کا نام عثمان تھا بہت پپو ٹائپ کا بچہ تھا خالص ممی ڈیڈی ٹائپ کا تھا دیکھنے میں لڑکیوں جیسا لگتا تھا ۔۔۔

یہ کہنے میں کوئی مذائقہ نہ ہوگا کہ اگر اس کو لڑکیوں کے کپڑے پہنا دئیے جائیں تو وہ لڑکی ہی لگے گا۔۔۔ اور دوسری بات وہ اکلوتا تھا اس کا کوئی بہن بھائی نہیں تھا وہ اور اس کی والدہ اکیلے رہتے تھے۔۔۔

اس نے مجھے مزید کہا کہ مما نے کہا ہے کہ تمہیں ساتھ کے کر آؤں یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا لگ رہا ہے۔۔۔

اس نے کافی زیادہ ڈرا دیا میں اس کی باتوں سے ڈر کر اس کے ساتھ چلا گیا۔۔۔

گھر جاتے ہی اس کی مما نے اس کو کہا کہ آگے ہی لے آو میں کھانا بنا رہی ہوں پھر بات کرتی ہوں۔۔۔۔

میں اس کے ساتھ اندر ان کے ٹی وی لاونج میں جا کر عثمان کے ساتھ ہی بیٹھ گیا۔۔۔

ہم ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے ڈاکٹر صاحبہ کھانا بنا کر آئیں ٹیبل پر کھانا لگایا مجھے بھی بلا لیا۔۔۔

ہم نے ساتھ بیٹھ کر کھانا کھایا اج میں نے آنٹی پر غور کیا وہ بہت دلکش شخصیت کی مالک تھیں ۔۔۔

گورا رنگ سمارٹ جسم اوپر سے ان کی شخصیت سے جھلکتا ان کا پر رعب چہرہ انکھوں پر نظر کا چشمہ سونے پر سہاگے کا کام کر رہا تھا۔۔۔

انہوں نے دوپٹہ لینے کی زحمت نہیں کی تھی کھلی شرٹ پہن رکھی تھی جس میں ان کے دودھ کے جام جب وہ تھوڑاآگے لیچھے ہوتیں تو چھل چھل کر اٹھتے جیسے پانی کی لہروں پر غبارے تیرتے ہیں ۔۔۔۔

ان کو دیکھ کر میرا لوڑا ٹائٹ ہو گیا وہ جھک کر سالن ڈالنے لگیں تو میری نظر سیدھی ان کے مموں پر جا کر ٹک گیی۔۔۔

ان کے غباروں جیسے ممے شرٹ کا گلا پھاڑ کر باہر آنے کو بیتاب تھے۔۔۔۔

میری تیز نظروں کو انہوں نے محسوس کر لیا میری طرف دیکھا آنکھوں میں سختی لائیں میں سہم گیا میں نے نظریں نیچی کر لیں ۔۔۔۔

سر جھکا کر کھانا کھانے لگا اس کے بعد میں نے سر نہ اٹھایا جب کھانا کھا لیا تو آنٹی نے کہا بیٹا کچھ دیر اور انتظار کر لو پھر چیک کرتی ہوں ۔۔۔

میں آنٹی گھر بتا کر نہیں آیا امی پریشان ہوں گی اس لیے ابھی چلتا ہوں۔۔۔

آنٹی نے کہا اس طرح کرو گھر جا کر بتا آو میں تب تک برتن وغیرہ دھو لیتی ہوں بلکہ اس طرح کرو عثمان کو بھی ساتھ لے جاؤ۔۔۔

عثمان تو جیسے حکم کا بندہ تھا بولا ٹھیک ہے مما میں ابھی جاتا ہوں مجھے کہنے لگا چلو آو تمہارے گھر بتا کر آتے ہیں۔۔۔

میں نے دل میں کویی ایک سو دس گالیاں دیں اس کو اور اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔

رستے میں ہی اس کو کہانی فٹ کر کے واپس بھیج دیا اس کو بھیج تو دیا لیکن پھر میرے دل میں آنٹی کے جسم کو دیکھنے کی خواہش نے سر ابھارنا شروع کر دیا۔۔۔۔

لیکن اب کیا ہو سکتا تھا عثمان کو تو بشیر کر دیا تھا اب اس نے جا کر رٹے ہوئے ظوطے کی طرح سب کچھ اگل دیا ہوگا۔۔۔

میں گھر گیا امی سے ہلکی پھلکی ڈانٹ کھایی اندر گیا تو باجی کے پاس شانزل اپنی تمام تر حشر سامانیوں کے ساتھ موجود تھی۔۔۔۔

میں تو یہ بھول بھی گیا تھا کہ اس نے پڑھنے آنا ہے لیکن وہ وقت کی پابند ہونے کا ثبوت دے رہی تھی۔۔۔

اتنی وقت کی پابند کیوں بنی ہویی تھی وہ میں اچھے سے سمجھتا تھا۔۔۔

دوپٹہ ایک طرف رکھے بال کھولے جھکی کچھ کر رہی تھی۔۔۔

میں کچھ دیر رک کر اس کو دیکھنے میں کھو گیا کھلے لمبے سلکی بالوں کی آوارہ لٹیں اس کے گالوں پر اٹکھیلیاں کر رہی تھیں ۔۔۔

وہ ہر ایک سیکنڈ میں ان کو اپنے چہرے سے ہٹا رہی تھی لیکن شیطان لٹیں پھر آ کر گالوں کو چھونے کی غلطی دہرا رہی تھیں۔۔۔

اس نے شاید میری محویت کو محسوس کر لیا اس لیے جلدی سے سائیڈ پر پڑا دوپٹہ اٹھایا اور اپنے سر کو بھی ڈھانپ لیا ۔۔۔

باجی نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا اس لیے باجی بولی بلو آجا کب سے یہ تمہارا انتظار کر رہی ہے اس کو پڑھا دو۔۔۔

میں دل پر پتھر رکھے اپنے سلگتے جذبات کو دبائے اس کے پاس ایک طرف کچھ فاصلے پر بیٹھ گیا۔۔۔

رات ہونے والی باتیں میرے دماغ میں گونجنے لگیں اس کے جذباتی الفاظ میرے اندر چھبھنے لگے۔۔۔

اس نے کےاب نکالی میں نے پڑھانا شروع کر دیا کوئی ایسی ویسی بات نہ کی باجی کچھ دیر بیٹھی رہی پھر وہ اٹھ کر باہر چلی گئی۔۔۔

ہمارے درمیان آج کسی قسم کی بات نہیں ہو رہی تھی بس وہ پڑھ رہی تھی میں پڑھا رہا تھا۔۔۔

لیکن میرا دل کر رہا تھا وہ بات کرے کوئی تو بات کرے لیکن آج اس نے قسم کھا لی تھی کہ ایسی ویسی کویی بات نہیں کرنی۔۔۔۔

جب اس کے کام ہو گئے تو وہ کہنے لگی میرے کام ہو گئے ہیں میں اب جاؤں۔۔۔

میں نے نظر بھر کر اس کو دیکھا اور بولا بس اور کچھ نہیں کہنا آج۔۔۔

وہ بولی نہیں اب جاؤں۔۔۔

میں نے کہا ہوں جاؤ لیکن شاید کچھ بھول رہی ہو۔۔۔

وہ بولی بھول نہیں رہی ہم لڑکیاں جو ہوتی ہیں وہ بھولتی نہیں ہیں بھولنے کہ کوشش کرتی ہوتی ہیں میں بھی کوشش کر رہی ہوں۔۔۔

یہ کہہ کر وہ اٹھی اور جانے کے لیے دروازے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

وہ باہر برآمدے میں جا کر امی سے بولی خالا مجھے چھوڑ آئیں میں نے پڑھ لیا ہے۔۔۔

میں نے بھی اس کی آواز سن لی تھی میں باہر نکلا اور گیٹ کی طرف بڑھا تو امی نے آواز دی کدھر چلیا ایں ہں تے آیا سی فیر باہر نکلدا پیا ایں تیرے ابا جی ناراض ہون گے۔۔۔

میں ۔۔۔ امی بس مارکیٹ تک جا رہا ہوں ابھی آ جاوں گا۔۔

امی۔۔۔ اچھا چل فیر شانی نوں وی گھر چھڈ دییں۔۔۔

میں نے بس اتنا کہا جی امی۔۔۔

شانزل تو پہلے ہی تیار کھڑی جانے کے لیے لیکن میرے ساتھ نہیں میں تو ایسے ہی بیچ میں آگیا تھا۔۔۔

میں آگے چلا شانزل بھی چاروناچار میرے پیچھے چل پڑی۔۔۔

میں دروازے سے نکل کر کھڑا ہوا وہ آئی آگے جانے لگی تو میں نے کہا رات کو میں آوں گا دروازہ کھلا رکھنا ۔۔۔

وہ بولی کیوں آو گے ساتھ ہی آہستہ سے آگے چل پڑی۔۔۔

میں نے اس کے ساتھ چلتے ہوئے کہا تمہاری بات کا جواب دینا ہے جو اسی وقت دے سکتا ہوں جب کھل کر بات ہو سکے یہ کہہ کر میں وہیں رک گیا وہ آگے بڑھی اور اپنے گھر داخل ہو گئی۔۔۔





Source link

Leave a Comment