میں اپنا سا منہ لے کر دیکھتا رہ
گیا لیکن دل میں اک امید تھی کہ رات کو ضرور ملے گی ۔۔۔
یہ ہی سوچ کر میں گھر آیا کھانا کھایا ابا جی نے مجھ سے رزلٹ کے بارے میں تفصیلاً بات کہ اور احکامات صادر فرمائے کہ کل جا کر کالج کا فارم جمع کروا آؤں۔۔۔
میں حیران ہوا فارم تو ابھی لیا ہی نہیں تو جمع کیا کروانا ہے۔۔۔
اباجی نے مجھے فارم دیا جو وہ آج واپسی پر لے آئے تھے اور مجھے وہ فارم پر کر کے دکھایا ساتھ میں جہاں میرے دستخط کی ضرورت تھی وہ جگہ بھی دکھائی میں نے دستخط کیے اور فارم رکھ لیا۔۔۔۔
اس کے بعد ایسے ہی کتاب اٹھائی اور پڑھنے کی اداکاری کرنے لگا لیکن یہاں بھی ایک بات بتاتا چلوں کتاب تو کھلی ہوتی تھی لیکن اس میں بھی کوئی نا کوئی ناول ہوتا تھا ۔۔۔۔
دیکھنے والے کو کہا پتہ کہ یہ کیا پڑھ رہا ہے بس پڑھتا نظر آتا تھا نیچے چاہے کما سوترا کھولی ہو۔۔۔
ابا جی نے مجھے دیکھا میں پڑھ رہا ہوں وہ مطمئن ہو کر سونے چلے گئے میں اسی طرح پڑھنے میں لگا رہا مجھے بھی ان دنوں دیوتا کا چسکا لگ گیا تھا ایسا منہمک ہوا کہ وقت گزرنے کا پتہ ہی نہ چلا۔۔۔۔
اچانک نظر اٹھا کر گھڑی کی طرف دیکھا تو 1 بج رہا تھا میں نے جلدی سے کتاب اوہ سوری ناول بند کیا اور گھر میں نظر دوڑائی سب اوکے دیکھ کر واپس بیٹھک میں آیا اور آہستہ سے باہر کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا۔۔۔۔
دبے پاؤں چلتے شانزل کی بیٹھک کے دروازے پر گیا اہستہ سے دھکا لگایا دروزہ کھلتا چلا گیا میں ادھر ادھر دیکھ کر اندر گھس گیا۔۔۔۔
اندر داخل ہو کر میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھنے کی کوشش کی مجھے کوئی نظر نہ آیا۔۔۔۔
میں ڈرتے ڈرتے آگے ہوا دو قدم بڑھائے اور صوفے کے قریب جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
ابھی چند لمحے ہی گذرے تھے کہ مجھے اندر والا درووزہ کھلنے کی آواز آئی آواز بہت ہی ہلکی تھی لیکن میرے لیے کسی ہتھوڑے سے کم نہ تھی۔۔۔
میں وہیں صوفے کے پیچھے ہو کر بیٹھ گیا مجھے سرگوشی میں آواز سنائی دی شانزل میں کہہ رہی ہوں ناں وہ نہیں آئے گا اس کو تم سے کوئی پیار ویار نہیں ہے وہ بہت بڑا ڈرامے باز ہے اس کو تم سے نہیں تمہارے جسم سے لگاؤ ہے۔۔۔
سب لڑکے ایسے ہی ہوتے ہیں شانزل نے جواب دیا تم جو مرضی کہو وہ ایسا نہیں ہے میرا دل کہتا ہے وہ مجھ سے بہت پیار کرتا ہے۔۔۔
دوسری لڑکی جو اس سے بات کر رہی تھی وہ اس کی چھوٹی بہن شمع تھی کس کا تعارف میں پہلے کروا چکا ہوں یہ ایسا کیوں کر رہی تھی اس کو میرے خلاف بھڑکا رہی تھی اس کے پیچھے کیا راز ہے یہ جاننے کے لیے مجھے چھپا ہی رہنا مناسب لگا۔۔۔۔
شمع ۔۔۔۔ نی تینوں سمجھ آندی پئی اوہ تیری پھدی مارن واسطے سب کردا پیا سی تو اہنوں پھدی دے دتی ہن تیری پھدی ای مارے گا توں سمجھدی کیوں نہیں۔۔۔
شانزل۔۔۔ تو بکواس نہ کر تیرا جھتا(پھدی) میں اوہدے کولوں پڑوا دیاں گی جے ہن تو اوہدے بارے کوئی گل کیتی تاں۔۔۔
شمع ۔۔۔ پڑوا اپنی پھدی مینوں کی اے مینوں کوئی کوڑ نیں اوس کولوں پھدی مروان دا آئی سمجھ اک ہو گل سن کے میں سوچیا سی تینوں ناں دساں بلو نے میرے تے وی کئی واری ڈورے پائے نے تے ایک واری تاں مینوں چھپی وی پا لئی سی تے اپنا لن میری بنڈ نال لائی رکھیا مینوں تاں اوہ زیر لگدا ہماے بجو جیا نا ہوئے تاں تینوں پتہ نہیں کی نظر آندا اے۔۔۔۔
میرا دماغ سائیں سائیں کرنے لگا یہ سالی شمع کیا بکواس کر رہی تھی اتنے جھوٹ بول رہی تھی۔۔۔
میں یہ سوچنے لگا شمع کو شانزل کو بڑھکانے سے کیا ملنے والا ہے وہ ایسا کیوں کر رہی ہے ۔۔۔۔
ابھی شاید شمع اور بھی کچھ کہتی ایک تھپڑ کی آواز آئی تڑاخ پھر دوسرا تراخ میں نے سر نکال کر دیکھا اب آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہو گئیں تھیں۔۔۔
شمع نے اپنے منہ کر ہاتھ رکھا ہوا تھا شانزل نے اس کے بال پکڑ رکھے تھے۔۔۔
شمع غصے سے بولی تم نے مجھے اس گند کے لیے تھپڑ مارا دیکھنا ایک دن وہ تیری پھدی سارے ٹاون کے لڑکوں سے پڑوائے گا پھر تمہیں میری بات سمجھ آئے گی۔۔۔۔
شانزل نے اس کو دھکا دیا اور بیٹھک سے نکال دیا خود بھی اس کے پیچھے گئی اب میرا وہاں رکنا درست تھا یا نہیں مجھے نہیں معلوم تھا میں اسی کشمکش میں تھا کہ جاؤں یا نہ جاؤں شانزل واپس آگیی میں تب تک کھڑا ہو چکا تھا۔۔۔۔
شانزل نے آتے ہی عجیب بے رکھے پن سے کہا ہاں بولو کیا بات کرنی ہے جلدی بولو بہت ٹائم ہو گیا ہے امی کسی بھی وقت اٹھ سکتی ہیں۔۔۔
میں نے انتہائی دلخراش لہجے میں کہا شانزل تمہیں کیا لگتا ہے میں ایسے ہی بھاگ گیا تھا ۔۔۔
اس نے کہا مجھے نہیں پتہ ۔۔۔
میں تھوڑا آگے ہوا اس کا ہاتھ پکڑا اس کا جسم آگ کی طرح تپ رہا تھا جسم میں لرذش بھی تھی۔۔۔
ایک لمحے کی لیے تو میں ڈر گیا کہ پتہ نہیں یہ کیا ہے اس کا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگایا اور بولا شانزل میں اس دن تمہارے پیار کی شدت سے ڈر گیا تھا ۔۔۔
مجھے سمجھ نہیں آئی کہ میں کیا جواب دوں تم اس قدر مجھ سے پیار کرتی ہو میں نہیں جانتا تھا ۔۔۔۔
میں بہت ہی کم ظرف ہوں گا جو اس طرح تمہارے پیار کی لاج نہ رکھ سکوں ۔۔۔
تمہارے پیار کے سامنے میری چاہت ہیچ لگنے لگی تھی اس قدر پیار کرتی ہو اگر مجھے پتہ ہوتا تو میں ۔۔۔۔
یہ کہتے ہوئے پتہ نہیں مجھے کیا ہوا کہ میری آواز بھرا گئی گلے میں ایسے لگا جیسے کوئی چیز اٹک گئی مجھ سے آگے بولا نہ گیا۔۔۔
شانزل خود آگے بڑھی میرے گلے لگ گئی اس کا جسم اتنا گرم تھا کہ میں بیان نہیں کر سکتا وہ بخار سے تپ رہی تھی ۔۔۔
بس ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت میں اس نے مجھے پیچھے کیا اور کہا بس یا اور بھی کچھ کہنا ہے ۔۔۔۔
میری زبان گنگ ہو گئی کچھ نہ بول پایا وہ گلے بھی لگی اس نے میری بات بھی سنی پھر اب یہ بے اعتنائی کیوں۔۔۔۔
میرے پلے کچھ نہ پڑا اس نے منہ دوسری طرف کیا اور کہا اب جاؤ۔۔۔
میں دل پر پتھر رکھ کر ایک بار پھر بولا شانزل میری بات تو سنو ایسا کیا ہو گیا ہے جو تم اس طرح کر رہی ہو ۔۔۔۔
وہ ایک جھٹکے پلٹی میری پاس آئی بہت ہی ٹھہری ہوئی آواز میں بولی بلو میں نے تمہیں اپنے جسم وجان کا مالک مانا ہے میرے لیے تم تھے تم ہو تم ہی رہو گے ۔۔۔۔
لیکن اب بس اور کچھ نہیں آج کے بعد مجھ سے بات کرنے یا ملنے کی کوئی کوشش نہیں کرنا سمجھ لو کہ شانزل۔۔۔۔
یہ کہہ کر وہ روتے ہوئے اندر کی طرف چلی گئی اور میں بت بنا کھڑا اس کو دیکھتا رہا۔۔۔
کچھ دیر وہاں کھڑا رہا پھر بھاری قدموں کے ساتھ پاوں گھسیٹتا ہوا واپس گھر آگیا ۔۔۔
لیٹ کر یہ سوچتا رہا کہ یہ سب شمع کا کیا دھرا ہے ہو سکتا ہے اس دن بھی اس نے ہی شانزل کو وہ سب کہنے کو کہا ہو اور سونے پے سہاگا میں چپ کر کے وہاں سے نکل گیا ۔۔۔
لیکن اگر وہ مجھ سے سچ میں اتنا پیار کرتی ہے تو آج اس کو اس طرح ری ایکٹ نہیں کرنا چاہیے تھا۔۔۔
لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ عورت کو اج تک کوئی سمجھ نہیں پایا عورت ہو یا لڑکی جب پیار کرتی ہے تو اس شدت سے کہ انسان دنگ رہ جاتی ہے اور جب نفرت کرنے پر آتی ہے تو اس میں بھی ہر حد پار کر جاتی ہے۔۔۔۔
یہ سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ گئی پھر انکھ تب کھلی جب اباجی کی گرجدار آواز گونجی ۔۔۔
میں ہڑابڑا کر اٹھا اور بھاگ کر واش روم گھس گیا ضروری حاجات سے فارغ ہو کر سیر کے لیے نکل گیا کیونکہ اس طرح ہی ابا جی کی ڈانٹ سے بچا جا سکتا تھا۔۔۔
لیکن رات دیر سے سونے اور دماغی کشمکش کی وجہ سے جسم میں کافی سستی چھائی تھی۔۔۔
میں اپنے روز کے رستے سے ہوتا ہوا آنٹی بسمہ کے گھر کے سامنے سے گزر رہا تھا کہ گیٹ کر بسمہ اپنے تمام تر حسن کے ساتھ کھڑی تھی۔۔۔
مجھے دیکھ کر سمائل پاس کی میں نے نظر گھمائی اور اگے نکل گیا نہرے کے کنارے ننگے پاؤں کچھ دیر چلتا رہا پھر وہاں سے نیچے اتر کر واپس آنے لگا لیکن دماغ ابھی بھی شانزل کی باتوں میں الجھا تھا اس کا رویہ اس میں چھپا درد پیار مجھے الجھا رہا تھا رات سے اب تک جتنا سوچ رہا تھا اتنا ہی الجھتا جا رہا تھا۔۔۔۔
اسی الجھن میں واپس آ رہا تھا کہ مجھے کسی نے شی شی شی کی آواز سے بلایا میرا دھیان کہیں اور تھا رک کر ادھر ادھر دیکھا کسی کو نہ پاکر آگے چلنے لگا ابھی ایک قدم ہی بڑھایا تھا کہ پھر وہی آواز آئی۔۔۔
میں اس بار رک گیا اس وقت میں ٹاؤن میں سیوریج کے اس کوارٹر کے سامنے تھا جہاں دائی اپنی فیملی کے ساتھ رہتی تھی۔۔۔
میں نے اس بار آواز کا درست اندازا لگایا اور آواز کی سمت دیکھا تو سامنے دائی کی بیٹی دروازے میں کھڑی مسکرا رہی تھی۔۔۔
میں اپنی سوچوں میں گم تھا اس پر کویی خاص توجہ نہ دی آگے چل پڑا ۔۔۔
ابھی چند قدم ہی چلا تھا کہ میری کمر پر کوئی چیز لگی میری آہ اہ نکل گئی۔۔۔
میرے منہ سے او تیری میں بہن نوں کون ایں نکلا ۔۔۔۔
میں نے مڑ کر دیکھا تو وہ وہیں کھڑی مجھے بلا رہی تھی۔۔۔
میں نے دائیں بائیں دیکھا پوری گلی سنسان تھی میں واپس مڑنے ہی لگا تھا کہ سامنے سے گلی میں کوئی آنٹی داخل ہوئی میں نیچے بیٹھ کر ایسے کی تسمے کسنے لگا۔۔۔۔
میں نے ٹراوزر پہنا ہوا تھا لیکن انڈروئیر نہیں پہنا تھا۔۔۔
میں نیچے بیٹھا تسمے کھول کر باندھ رہا تھا مجھے نہیں پتہ کیا ہوا لیکن جب وہ آنٹی پاس سے گزری تو اس نے کہا بدتمیز ۔۔۔
مجھے بڑی تپ چڑھی یہ کہا بات ہوئی میں نے کیا اس کی گاند میں انگلی دے دی جو ایسے ہی گالی دے گئی ہے۔۔۔
میں اس کے جانے کے بعد کھڑا ہوا واپس مڑا مجھے بڑا غصہ آیا تھا سالی گانڈ مٹکاتی مجھے بدتمیز کہہ گئی جب پیچھے مڑا تو وہ اپنی گانڈ سمیت گلی کا موڑ مڑ گئی۔۔۔
میں دائی کی چھوری کی طرف بڑھی گیا جو ایک بار پھر دروازے میں آگئی تھی۔۔۔
میں نے اشارے سے پوچھا ہاں اس نے کہا اشارہ کیا آ جاو آج میدان صاف رج کے پھدی مار میری لن گھسا دے کھل کے وجا دے سارا پانی میری پھدی اچ پا دے۔۔۔۔
میں ایک بار پھر دائیں بائیں دیکھتا ہوا آگے بڑھنے لگا تو سامنے سے وہ آنٹی واپس آ رہی تھی ۔۔۔۔
اب پتہ نہیں اس موٹی گانڈ والی آنٹی کو کیا مسئلہ تھا میرے لن کا پانی نہیں نکلنے دینا چاہتی تھی ادھر کونسا پارک تھا جہاں گانڈ مروا رہی تھی۔۔۔
کوئی ہزار گال ایک منٹ میں نکال لی لیکن صرف اپنے من میں۔۔۔
میں سیدھا اس آنٹی کی طرف بڑھ گیا دائی کی پٹاخہ چھوری اندر کہ کھڑی تھی دروازے کی اوٹ میں وہاں ہی رہی ۔۔۔
میں کچھ آگے گیا ساتھ ہی گلی کا موڑ تھا وہاں گلی کی نکڑ پر رک کر گردن گلی میں نکال کر دیکھنے لگا آنٹی جیسے ہی کچھ آگے گئی۔۔۔
میں سپیڈ لگائی اور کوارٹر میں گھس گیا اتنی تیزی سے گیا تھا کہ سامنے دروازے کی اوٹ میں کھڑی دائی کی کالوزادی سے ٹکرایا اس کو ساتھ لیے نیچے جا گرا۔۔۔
اس کے منہ سے نکلا تیری پھدی پاڑاں آ کی کیتا ای۔۔۔
اس کے منہ سے یہ گالی سن کر میری ہنسی نکل گئی میں نے ہنستے ہوئے کہا آج تومیری پھدی پاڑیں گی ہاہاہا ۔۔۔۔
وہ شرمندہ ہو گئی اپنے کپڑے جھاڑتے ہوئے اٹھی اور مجھے اندر لے گئی ایک ایسے کمرے میں جو بیٹھک ٹائپ تھا بلکہ بیٹھک ہی کہہ لیں کیونکہ اس کا ایک دروازہ گلی میں کھلتا تھا۔۔۔
مجھے اندر ایک چارپائی پر بستر پڑے ملے ایک پر صرف چادر بچھی ہویی تھی صاف چادر تھی۔۔۔
اس نے کمرے کا دروازہ بند کیا میری طرف آئی میں نے اس سے نام پوچھا کیونکہ پچھلی بار جب نام پوچھا تھا کتے نے کام خراب کر دیا تھا۔۔۔۔
اس لیے آج پہلے نام ہی پوچھا اس نے اپنا نام پلوشہ بتایا نام بتانے پر میں نے اس کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔۔۔
کیونکہ اس وقت تک میں نے یہ نام صرف پٹھان لڑکیوں کا ہی سنا تھا اور وہ تو پٹھان لڑکی کی پھدی کے بالوں سے کے برابر بھی نہیں لگ رہی تھی۔۔۔
خیر میں نے پھر بھی اس کی تعریف کی وہ خوش ہو گئی جلدی سے اپنے کپڑے اتارنے لگی اور بولی کریں اب ۔۔۔۔
میں نے ہممم کیا اور اس کے قریب ہو گیا اس نے جلدی سے اپنی قمیض اور شلوار دونوں اتار دیں ۔۔۔۔
میں نے اس کے مموں کو دیکھا سالی نے کیا کمال کے ممے پائے تھے اتنے سخت تھے کہ بغیر برا کے بھی اکڑے رہتے تھے پیٹ بالکل بھی نظر نہیں آ رہا تھا پتلی سی کمر اس کا گھر غضب تھا رنگ بے شک سانولا تھا لیکن جسم میں ایک کمال کی نسوانیت تھی ۔۔۔
ایسی کشش کہ اگر اس کو کسی کے سامنے کھڑا کر دیا جائے تو وہ بھوکے کتے کی طرح اس پر جھپٹ پڑے۔۔۔
میں آگے بڑھا اس کے مموں کو ہاتھوں سے پکڑ دبانے لگا اس نے آنکھیں بند کیں اور میرے ہاتھوں پرہاتھ دیکھ دئیے۔۔۔۔
کچھ دیر ممے دبانے کے بعد میں نے اس اپنا ٹراؤزر نیچے کیا لن باہر نکالا لن کو اس کی ٹانگوں میں گھسایا اور جھک کر ممے چوسنے لگ گیا۔۔۔
اس نے میری گردن پر ایک ہاتھ رکھا دوسرا میرے سر پر پھیرنے لگی میں نپل چسنے لگا اس نے میرا سر مموں پر دبانا شروع کر دیا ۔۔۔۔
میں نے ایک ہاتھ اس کے گانڈ پر رکھا اس کو لن کی طرف دھکیلا وہ پہلی ہی بہت گرم ہو چکی تھی ۔۔۔
اس نے مجھے پیچھے دھکیلا اور چارپائی پر گرا لیا خود اوپر آئی لن کو ہاتھ سے پکڑ کر اپنے ٹانگیں میرے دائیں بائیں رکھیں اور لن کے اوپر سیدھی ہوئی ہاتھ سے لن کو پھدی میں گھسایا۔۔۔
پھر آہستہ آہستہ نیچے ہونے لگی اس نے کچھ دیر میں آہستہ اہستہ سارا لن اپنی پھدی میں اتار لیا۔۔۔۔
لن جب سارا اندر لے لیا تو وہ کچھ دیر کے لیے بیٹھ گیی اور سانس لینے لگی اس کے بعد وہ میرے سینے پر اپنے سخت اکڑے ممے لگاتے ہوئے لیٹ گئی۔۔۔۔
اس کے لیٹتے ہی میں نے نیچے سے گھسے مارنے شروع کر دئیے میرے ہر گھسے سے اس کے ممے میرے سینے میں دبتے جاتے۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں اس نے مجھے انے واہ چومنا شروع کر دیا میرے گال جو کاٹنے لگی۔۔۔
میری گردن پر زور زور سے کس کرنے لگی ساتھ کی اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن پر مارنے لگی اس کی سپیڈ سے لن باہر نکل گیا اس نے ویسے ہی لیٹے لیٹے ہاتھ پیچھے لے جا کر لن کو پھدی ڈالا اور پھر ذور زور سے اوپر نیچے ہونے لگی۔۔۔
چند سیکنڈ میں ہی اس نے میری گردن کے نیچے سے ہاتھ گزارا میرا منہ اپنی سینے میں دبا لیا میں نے نیچے سے زوردار گھسا مارا ۔۔۔۔
اس کا جسم اکڑا لن کو پھدی نے جکڑ لیا اتنی سخت گرفت کہ میرے لن کا منکا ہوتا تو ٹوٹ جاتا لن درد ہونے لگ گیا اس نے سانس روکا مجھے اتنی زور سے دبایا کہ میرا سانس بند ہونے لگا ۔۔۔
پھر ایکدم اس کا جسم کانپا اور پھدی نے آب آب ہونا شروع کر دیا لن کو اپنے گرم پانی سے غسل کروانا شروع کر دیا وہ میرے اوپر ٹھہ سی گئی۔۔۔
اس کا جسم کچھ دیر ہلکے ہلکے جھٹکے کھاتا رہا ہھدی آنسو بہاتی رہی جب اچھی طرح فارغ ہو گیی تو ایک سائیڈ پر گر گئی۔۔۔
لیکن میں اب کہاں اس کی جان چھوڑنے والا تھا وہ تو پتہ نہیں کب سے گرم تھی جو اتنی جلدی فارغ ہو گیی تھی۔۔۔
میں اٹھا اس کی ٹانگیں اٹھائیں اپنے کندھون پر رکھیں اور لن کو نشانہ دیا ٹوپا پھدی کے پانی سے لبریز لبوں میں پھنسایا اور اور اس کی ٹانگوں کو اس کے مموں سے لگاتے ہوئے اس کے اوپر آ گیا اس کے پھدی بھی کافی اوپر اٹھ گئی ۔۔۔
میں نے اپنی گانڈ کو کسا لن کو تیار کیا سانس روکی ایک اور اج تک جتنے بھی گھسے مارے جس کی بھی پھدی میں مارے ان سب سے اپنی دانست میں زیادہ زوردار گھسا مارا ۔۔۔۔
میرا گھسا اتنا زوردار تھا کہ اس کی چیخ نکل گیی کمرا اس جی چیخ سے گونج اٹھا ۔۔۔
میں نے ایک بار پھر لن باہر نکالا ہاتھ سے پھدی پر رکھا اس نے اپنا ہاتھ لن پر رکھا میں نے اس کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے ۔۔۔
اس کا ہاتھ فوراً لن کو چھوڑ کر میری کمر پر آ گیا۔۔ اس کا منہ بند ہو گیا میں نے ہھر اسی سپیڈ سے لن کو گھسایا ۔۔۔
اس بار اس کی چیخ میرے منہ میں ہی دب گئی پھر میں نے ایک دو بار اور ویسے ہی گھسے مارنے کے بعد ایک ردھم سے گھسے مارنے شروع کر دئیے ۔۔۔
اس نے بھی اب میرا ساتھ دینا شروع کر دیا میں مسلسل اس کی پھدی کی گہرائی کو لن اے ناپ رہا تھا وہ بھی اب نیچے سے گانڈ ہلا ہلا کر لن کے لیے رستہ بناے لگی تھی۔۔۔
جلدی ہی اس نے میرے سینے کر ہاتھ رکھ کر مجھے کہا اس طرح درد ہو رہی ہے ثانگیں پیچھے کر لو۔۔۔
میں نے ٹانگیں نیچے کر لیں اور اس نے جتنی کھول سکتی تھی کھول لیں۔۔۔
اب میں زیادہ روانی سے گھسے مارنے لگا وہ ایک بار ہھر اے آہ اہ اہ ہہہہ امی امہییی کرنے لگی۔۔۔
وہ آہ اہ اہ کرنے لگی میری سپیڈ تیز سے تیز ہوتی جارہی تھی ایک ہی پوزیشن میں وہ زیادہ دیر ٹک نہ سکی شاید وہ حد سے زیادہ گرم ہو چکی تھی اس وجہ سے دوسری بار بھی فارغ ہونے لگی۔۔۔
اس بات وہ پہلے سے بھی زیادہ جوش میں تھی اس کی آہ آہ سے کمرہ گونج رہا تھا اس کی مزے سے بھرپور سسکیاں ماحول کو بہت رومانوی بنا رہی تھیں۔۔۔۔
وہ جلد ہی آہہہہہہہ اااننننننججججج اییییییییی کررررررر ہہہہووووررررر زوووررر نال مار پاڑ دے میری پھدی آہہہہہہ میری پھدی دا پھدا بنا دے ۔۔۔
اس نے میری کمر پر اپنی ٹانگیں کس لیں اور زور زور سے کرنے کے لیے کہنے لگی۔۔۔
اس کی ہلہ شیری نے مجھ میں ایک نیا جوش بھر دیا میں نے بھی اپنی آخری حد تک زور لگاتے ہوئے گھسے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔۔
اس کی پھدی لن پر کسنے لگی میرے لن کی شریانیں بھی پھولنے لگیں وہ اب ااافففففففف کے ساتھ مجھے اپنے اوپر گر کر میرا منہ چومنے لگی نیچے میرا لن اس کی پھدی کی کھدائی میں مصروف تھا ۔۔۔۔
میں بھی مزے کی گہرائیوں میں پہنچ گیا ایک طرف اس نے اپنی گانڈ اٹھا کر لن کو اپنی پھدی کی آخری حد تک لینے کی کوشش کی دوسری طرف میں نے لن کو جڑ تک پھدی میں اتارنے کے گھسا مارا۔۔۔۔
اس کا جسم کانپا پھدی نے لن کو جکڑا اس کے دانت میری گردن پر چبے میرے لن نے بھی اپنا پانی پھدی میں گرانا شروع کر دیا ۔۔۔۔
پھدی نے سکڑ کر پانی کی برسات شروع کی لن کو نہلانا شروع کردیا۔۔۔۔
میں بھی نڈھال ہو کر اس کے اوپر گر گیا وہ بھی اپنی سانسیں بحال کرنے لگی۔۔۔۔
میرا پورا جسم پسینے سے بھیگ چکا تھا وہ بھی پسینے میں نہائی ہوئی تھی۔۔۔
کچھ دیر فارغ ہوتے رہے میرے لن سے جب آخری قطرہ بھی اس کی پھدی میں نکل گیا میں نے لن نکالا اور پیچھے ہو گیا۔۔۔
کچھ دیر بعد اپنے کپڑے پہنے اور گلی میں جھانک کر میں باہر نکل گیا۔۔۔
کچھ قدم ہی چلا تھا کہ سامنے سے مجھے وہ ہی آنٹی آتی دکھایی دی جو میرے اس کے گھر جانے سے پہلے ملی تھی۔۔۔
میں جب اس کے پاس سے گزرنے لگا تو اس نے مجھے بڑی گہری نظروں سے دیکھا میں نے فوراً نظریں جھکائیں اور آگے نکل گیا۔۔۔۔
گھر آیا نہایا ناشتہ کیا اور داخلہ فارم اٹھایا اور باہر نکل گیا۔۔۔۔
ٹاؤن کے ہی ایک لڑکے کو ساتھ لے کر کالج پہنچ گیا وہاں جا کر دیکھا تو ہمارے سکول کے تقریباً سارے ہی لڑکے جو دہم کا امتحان پاس کر چکے تھے وہاں فارم لینے آئے تھے۔۔۔
کوئی ایک آدھ ہی تھا جو فارم جمع کرانے آیا تھا۔۔۔۔
مجھے اس بھیڑ میں شاہ بھی مل گیا میں کافی مشکل سے کالج میں داخل ہونے کے بعد داخلہ آفس تک پہنچ پایا کیونکہ وہاں ہر طرف لڑکے ہی لڑکے تھے ۔۔۔۔
کیونکہ ہمارے شہر کا اکلوتا کالج تھا اس لیے ہر کوئی داخلہ لینے کے لیے آ دھمکا تھا کر ایک کو یہ ہی ڈر تھا کہ کہیں سیٹیں پوری نہ ہو جائیں۔۔۔۔
خیر میں نے شاہ کو آواز دی اس نے بھی مجھے دیکھ لیا تھا وہ ایک دو لڑکوں کو دھکا دے کر میرے پاس آ پہنچا۔۔۔۔
میں نے اس کو بتایا کہ میں تو فارم جمع کروانے آیا ہوں لیکن اس رش میں مجھے وہ دفتر بھی نہیں مل رہا جہاں فارم جمع ہو گا۔۔۔
اس نے مجھے بتایا کہ وہ بھی فارم جمع کروانے آیا ہے جو اس کے بھایی نے کسی تعلق کی بنا پر کل ہی حاصل کر لیا تھا۔۔۔۔
بس پھر اس نے کہا وہ جانتا ہے دفتر کہاں ہے لیکن اس بھیڑ کو چیر کر جانا ہو گا۔۔۔۔
اس نے کچھ دیر سوچا پھر میرا بازو پکڑ کر ایک طرف لے گیا اور چلتے چلتے اس نے کئی لڑکوں کی گانڈ میں چپا چڑھا دیا۔۔۔۔
چپا چڑھانا پنجابی لوگ تو جانتے ہی ہوں گے انگلی دینا اور ایک ساتھ چاروں انگلیاں کسی کی گانڈ میں چڑھا دینا چپا چڑھانا کہلاتا ہے۔۔۔۔۔
وہ سالا حرامی اپنا حرام پن دکھا رہا تھا مجھے اس بات کا سر لگنے لگا کہ وہ بہن چود اپنے ساتھ مجھے مار پڑوائے گا۔۔۔۔
اس نے یکدم ایک جگہ رک کر کہا رک بہن چود ہن تماشا ویکھ کی ہوندا اے۔۔۔
میں نے اس کو کہا نکل گانڈو کیوں مجھے بھی مروائے گا۔۔۔
اس نے میرا منہ پیچھے کی طرف گھمایا میں جب پیچھے دیکھا تو ماحول ہی الگ تھا ہر کوئی ایک دوسرے سے گتھم گتھا تھا ۔۔۔۔
وہ مییری طرف دیکھ کر مسکرایا اور کہا آجا کاکے فارم جمع کرائیں۔۔۔
کچھ آپس میں لڑ رہے تھے کچھ چھڑوا رہے تھے باقی جو تھے وہ بھاگ بھاگ کر تماشا دیکھنے آ رہے تھے سب لڑکے جو فارم لینے یا جمع کروانے آئے تھے وہ اس طرف جانے لگے۔۔۔۔
ہم دونوں بہت آسانی سے فارم جمع کروا کر واپس آئے تو دیکھا کہ ابھی تک معاملہ گرم تھا۔۔۔۔
باہر آتے ہوئے بھی سالے نے کسی کا پرس مار لیا کالج سے نکل کر مجھے دکھاتے ہوئے کہا آج کاکے آج تیری دعوت کرتا ہوں کیا یاد کرے گا کس سخی سے واسطہ پڑا ہے۔۔۔۔۔
ہم ایک جگہ سے کھانا کھایا کیونکہ وہاں کافی وقت لگ گیا تھا فارم جمع کروانے کے بعد ہمیں بتایا گیا کہ 15 دن بعد آپ لوگوں کا انٹرویو لیا جائے گا اس کے بعد کالج میں داخلہ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ ہو گا۔۔۔۔
ہم ایک دوسرے کو ٹاٹا کرتے اپنے اپنے رستے روانہ ہونے سے پہلے کرکٹ کا میچ لگا چکے تھے جس کے لیے آج شام کو شاہ اپنی ٹیم لے کر ہمارے گراؤنڈ آنے والا تھا۔۔۔۔
میں گھر گیا گھر میں داخل ہونے سے پہلے مجھے شانزل کی امی کی آواز آئی بلو گل سن میری۔۔۔۔۔
میں واپس مڑا اس کے پاس گیا اس نے کہا بلو تھوڑا سا کا ہے بیڈ کو کھینچ کر ایک طرف کرنا ہے تم مدد کر دو ایک سائیڈ سے میں اٹھا لوں گی دوسری سے تم اور شانزل اٹھا لینا۔۔۔۔
میں جی ٹھیک ہے کہتا ہوا ان کے گھر داخل ہو گیا میں ویسے انکار ہی کر دیتااگر وہ شانزل کا نام نہ لیتی ۔۔۔۔
میں نے ان سے یہ بھی پوچھ لیا کہ شانزل سکول نہیں گئی تو اس نے بتایا کہ اس کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے۔۔۔۔
میں نے کہا اچھا زیادہ کریدنا مناسب نہ سمجھا کہیں وہ شک نہ کرنے لگ جائے۔۔۔۔
وہ مجھے اندر کمرے میں لے گئی جہاں وہ کمرے کی ایٹنگ چینج کر رہی تھیں دونوں ماں بیٹی ہی گھر میں تھیں۔۔۔۔
ایک سائیڈ سے اس نے بیڈ کو اٹھایا دوسری سائیڈ سے میں نے اور شانزل نے اٹھایا۔۔۔۔
شانزل کی امی ایک خوبصورت عورت تھیں بھرا بھرا جسم چار بچوں کی ماں ہونے کے باوجود وہ فٹ تھی ۔۔۔۔
میرے سامنے وہ دوپٹے کی پرواہ نہیں کرتی تھی اس وقت بھی اس نے دوپٹہ ایک طرگ رکھا اور بیڈ اٹھانے کے لیے جھک گئی۔۔۔
میں نے اور شانزل نے بھی جھک کر بیڈ اٹھایا جب میں نے شانزل کی امی طرف دیکھا تو ان کے بڑے بڑے دودھ کے تھن باہر نکل رہے تھے۔۔۔۔
قمیض کا گلا کھلا ہونے کی وجہ سے تقریباً سارے کے سارے ممے ہی باہر نکل آئے تھے صرف نپل اندر تھے۔۔۔۔
میرے منہ میں ایسے شاندار ممے دیکھ کر پانی بھر آیا میں ان کو دیکھنے میں کھو گیا اور جب وہ آیک طرف بیڈ کو اٹھائے چلنے لگیں تو میری نظر بھی اس کے مموں کے تعاقب میں گھومنے لگیں۔۔۔۔
میں یہ بھی بھول گیا کہ یہ شانزل کی امی ہے جو میرے ساتھ ہے اور میرے ساتھ ناراض ہے اور ناراضی کی وجہ بھی کچھ ایسی ہی یے شمع نے اس کے ذہن میں میرا امیج ٹھرکی سے بھی آگے کا بنا دیا ہے۔۔۔۔
میں شانزل کی امی کے مموں کو دیکھنے میں کھویا تھا کہ شانزل نے میرےپاوں پر زور سے اپنا پاؤں مارا۔۔۔
میری توجہ وہاں سے ہٹی ساتھ ہی یہ بھی احساس ہوا کہ شانزل نے سب دیکھ لیا اس کے دل میں میرے لیے اور بھی نفرت بھر گئی ہو گی۔۔۔۔
خیر اس کے بعد میں نے دوبارہ اس منظر کو دیکھنے کہ ہمت نہ کی حالانکہ دل بہت چاہ رہا تھا۔۔۔۔
بیڈ کی جگہ بدلنے کے بعد شانزل کی امی نے مجھے کہا بلو تم کچھ دیر یہاں شانزل کے پاس بیٹھ جاؤ میں ابھی آجاوں گی مجھے تھوڑا سا کام ہے ساتھ والی گلی میں۔۔۔۔۔
میں نے کہا جی ٹھیک ہے بیٹھ جاتا ہوں۔۔۔
شانزل نے برا سا منہ بنایا اور باہر نکل گئی اس کی امی نے مجھے ٹی وی لگا کر دیا اور جلدی سے چادر لی اور باہر نکل گئی۔۔۔