گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 30)

شانزل کی امی جیسے ہی باہر نکلی شانزل نے نفرت بھری نگاہ مجھ پر ڈالی اور دوسرے کمرے میں چلی گئی۔۔۔۔

میں اپنی نظروں میں گر گیا یہ سوچ کر کہ اس نے میری نظروں کے تعاقب میں دیکھ لیا ہے اسی لیے تو اتنی نفرت سے دیکھ کر گئی ہے۔۔۔۔

میں وہیں بت بن کر بیٹھ گیا اور دماغ میں طرح طرح کے وسوسے آنے لگے۔۔۔

ابھی چند لمحے ہی گزرے ہوں گے کہ شانزل کوئی کمرے لا پھینکی یا مجھے لگا بہرحال ایک زوردار آواز آئی۔۔۔۔

میں ہڑابڑا کر اپنی سوچوں سے باہر آیا اور اس آواز کی سمت میں دیکھا۔۔۔۔

شانزل کمر پر دونوں ہاتھ رکھے مجھے غور رہی تھی میرے دیکھنے پر اس نے غصہ بھری نگاہ ڈالی اور پھر نکل گئی۔۔۔

میں پھر سے پریشان ہو گیا کہ یہ کر کیا رہی ہے مجھے گھورتی ہے اور چلی جاتی ہے میں ایک بار اس کے بارے میں سوچنے لگا ۔۔۔۔

تذبذب کا شکار ہو گیا کہ آیا اس کو مجھ پر غصہ ہے یا صرف دکھاوا کر رہی ہے کیونکہ اگر اس کو غصہ ہوتا تو وہ پھٹ پڑتی لیکن وہ کویی بات نہیں کر رہی تھی ۔۔۔۔

یکدم وہ کمرے سے نکلی اور باہر صحن میں چلی گئی ایک یا دو سیکنڈ بعد دروازہ زور سے بند ہونے کی آواز آئی ۔۔۔۔

پتہ نہیں وہ کر کیا رہی تھی لیکن جو کر رہی تھی میں الجھن کے ساتھ ساتھ اس کے رویے پر حیران بھی ہو رہا تھا کیونکہ وہ جو کر رہی تھی میری سمجھ سا بالاتر تھا ۔۔۔۔

وہ آگ کے بھبھوکے کے طرح واپس آئی اور آتے ہی میرا گریبان پکڑ لیا میری آنکھوں میں دیکھنے لگی۔۔۔۔

اس کی آنکھوں سے موٹے موٹے آنسوؤں جے قطرے گرنے لگے میرے لیے یہ ایک نئی بات تھی کیونکہ ابھی کچھ دیر پہلے جس طرح وہ دیکھ رہی تھی اس کے برعکس اس نے رونا شروع کر دیا ۔۔۔۔

گریبان سے پکڑ کر مجھے جھنجھوڑتے ہوئے سسکیوں سے رونے لگی ۔۔۔۔

میں بت بنا کھڑا رہا میرےپلے اس کے رویے کی الف ب بھی نہیں پڑ رہی تھی۔۔۔۔

روتے روتے بولی بلو تم کتنے ظالم ہو کتنے گھٹیا انسان ہو ذرہ بھی پرواہ نہیں ہے کہ کوئی تمہارے لیے کتنا تڑپ رہا ہے۔۔۔۔

ساتھ ہی ہلکے ہلکے تھپڑ مارنے لگی روتے ہوئے مزید بولی بلو مجھ سے اور برداشت نہیں ہو رہا۔۔۔۔

مجھے کچھ ہو جائے گا میں تمہارے بغیر نہیں رہ سکتی مجھے کوئی کچھ بھی کہے تم جیسے بھی ہو میرے لیے تم ہی ہو بس۔۔۔۔

مجھے کسی کی پرواہ نہیں کسی کی کویی بات نہیں سننی تم بس میرے ہو بلو تمہیں پتہ ہے مجھے کیا ہوا ہے۔۔۔۔

مجھے کویی بخار نہیں ہوا مجھے کچھ بھی نہیں ہے وہ جو شمع ہے ناں وہ کہتی ہے تم اس کی بھی لے چکے ہو تم کسی کی بھی لو کسی سے بات کرو مجھے ناں کویی فرق نہیں پڑتا بس مجھے نہ چھوڑنا بلو میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہوں گی۔۔۔۔

ایک بات پھر وہ زارو قطار رونے لگ گئی میں حیران و پریشاں اس کے اس رویے کر غور کر رہا تھا مجھے تو صرف لن اور پھدی کا چسکا تھا میں کیا جانوں یہ پیار کی بولی کیا ہوتی ہے ۔۔۔۔

میرے اندر اس وقت بھی شیطان نکارے نار کر کہہ رہا تھا موقع اچھا ہے فائدہ اٹھا لو اس کے جسم کا لمس میرے لن میں کرنٹ دوڑا رہا تھا۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ میں کوئی پیش قدمی کرتا وہ مجھ سے الگ ہوئی اپنے ہاتھوں سے رگڑ رگڑ کر آنکھیں صاف کیں اور منہ دوسری طرف کر کے بولی تم ابھی چلے جاؤ ۔۔۔۔

میں نے جب سے وہ آئی تھی یا جب سے میں اس کے گھر آیا تھا اس سے ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا ۔۔۔۔

میں نے مری ہوئی آواز میں کہا شانزل ۔۔۔۔

اتنا ہی بولا تھا کہ وہ ایک دم پلٹی اور میرے سینے سے آ لگی اس کی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی ۔۔۔۔

اس نے مجھے اپنی باہوں میں کس لیا اور بولی بلو ایک بار پھر میرا نام لینا بالکل ویسے ہی پیار سے جیسے ابھی لیا۔۔۔

میں نے پھر سے کہا شانزل ساتھ ہی اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں بھر لیا ۔۔۔۔

اس نے آنکھیں بند کیں اور کہا جی میری جان میری روح میرے جسم و جاں کے مالک بولو۔۔۔۔

میں۔۔۔ کیا ہوا تمہیں ایسا کیا ہو گیا ہے جو اپنا یہ حال کر لیا یے۔۔۔

شانزل ۔۔۔ وہ جو شمع ہے نہ وہ کہتی ہے تم مجھے دھوکا دے رہے ہو تم مجھے چھوڑ جاؤ گے۔۔۔۔

اس کی آواز اس کا انداز اس کے اندر کی کیفیت بیان کر رہا تھا مجھے وہ ہوش سے بیگانہ لگ رہی تھی ۔۔۔۔

اس کو کوئی ہوش نہیں تھی وہ کیا بول رہی بہت زیادہ ڈپریشن کا شکار لگ رہی تھی۔۔۔۔

میں ۔۔۔۔ وہ جھوٹ بول رہی ہے میں ایسا بھلا کیوں کروں گا ۔۔۔

میں نے یہ الفاظ اس کی کیفیت دیکھتے ہوئے کہے تھے کیوںکہ مجھے لگ رہا تھا کہ میرے اچھے الفاظ ہی اس کو ٹھیک کر سکتے ہیں۔۔۔

شانزل ۔۔۔۔ خوش ہوتے ہوئے اس کا مطلب ہے وہ وہ وہ جو شمع کہہ رہی تھی وہ سب جھوٹ ہے ایسا ہے ناں بولو ناں بلو کہو وہ جھوٹ بول رہی ہے۔۔۔

وہ رونے لگ گئی ایک بار پھر سے اس نے میرا گریبان پکڑ لیا۔۔۔

میں اس کی حالت دیکھ کر ڈر گیا اگر اس کو اس حال میں اس کی امی نے دیکھ کیا تو میری خیر نہیں۔۔۔

میں۔۔۔ میں سچ کہہ رہا ہوں ایسا کبھی نہیں ہو گا تم بس اپنا خیال رکھو میں کبھی تمہیں دھوکا نہیں دوں گا۔۔۔۔

یہ الفاظ مجھے دود ہی کھوکھلے لگ رہے تھے کیونکہ اس کی حالت دیکھ کر مجھے اس پر ترس ضرور آ رہا تھا لیکن اس کے لیے دل میں کوئی جذبہ پیدا نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔

وہ بچوں کی طرح خوش ہو گئی میرا منہ چومنے لگی پھر پیچھے ہو کر اداس چہرہ بنا کر کھڑی ہو گئی اور بولی تم مجھے بیوقوف سمجھتے ہو ۔۔۔۔

سر کو ایک جھٹک کر وہ دوبارہ دوسرے کمرے میں چلی گئی واپس آئی اور بڑے ٹھہرے ہوئے انداز میں بولی بلو ایک بات یاد رکھنا کسی کی چاہت کا مذاق نہیں بناتے ۔۔۔۔

میں نے دل سے تمہیں چاہا ہے اور مرتے دم تک چاہتی رہوں گی تم کچھ بھی سوچو کچھ بھی کرو میری چاہت کم نہیں ہو گی آج میں نے تمہاری نظروں میں ہوس دیکھی تو مجھے شمع کی بات سچ لگی ۔۔۔۔

میں یہ نہیں پوچھوں گی کہ تم نے جان بوجھ کر وہ سب کیا یاد انجانے میں لیکن تم نے وہ کیا اس سے انکار نہیں کر سکتے۔۔۔۔

اس وقت اس کا انداز ہی الگ تھا کسی بھی زاویے سے ابنارمل نہیں لگ رہی تھی۔۔۔۔

وہ مزید بولی تم سمجھ رہے ہو گے ابھی یہ کیا کہہ رہی تھی اب بدل گئی اس کا انداز بدل گیا ۔۔۔۔

میں تمہاررے اندر چھپی سچائی نکلوانا چاہ رہی تھی تمہارے کھوکھلے الفاظ نے سب کچھ عیاں کر دیا ہے۔۔۔

وہ کچھ اور بھی کہتی باہر کی گھنٹی بجی اس نے جا کر دروازہ کھولا اس کی امی آئی میں اٹھ کر گھر آگیا۔۔۔۔

گھر آ کر بھی میرے دماغ سے اس کی باتیں نہیں نکلیں یہ سب نکالنے کے لیے مجھے آرام کی ضرورت تھی چنانچہ میں سو گیا۔۔۔۔

سو ہی رہا تھا کہ مجھے امی نے اٹھایا اور کہا بلو اٹھ جا تیرے ماموں لوگوں کے پاس جانا ہے۔۔۔۔

میں نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا کی اے امی سون دیو ۔۔۔

امی نے مجھے کان سے پکڑ کر اٹھایا اور کہا جلدی اٹھ اور نہا لے کپڑے استری ہو گئے نیں تے چل ۔۔۔۔

میں اٹھا نہایا امی تب تک تیار ہوئی کھڑی تھیں میرے بال شال بنانے تک وہ مکمل طور پر تیار تھیں ۔۔۔

مجھے یہ بھی پوچھنے کا موقع نہ دیا کہ ہوا کیا ہے بس اپنے ساتھ لیا اور چل دیں۔۔۔

باہر سے ہم نے رکشہ لیا اور اڈے سے بس میں سوار ہو کر ہم ماموں لوگوں کے شہر پہنچ گئے وہاں سے پھر رکشہ لیا اور سیدھی ماموں کے گھر جا پہنچے۔۔۔۔

امی نے دھڑا دھڑ زور زور سے دروازہ ناک کیا ایک منٹ میں کوئی پانچ بار دروازے کی شامت آئی ہو گی ایک بار پھر وہ دروازی بجانے لگیں تھیں کہ دروازہ کھل گیا ان کا اٹھتا ہاتھ رک گیا۔۔۔

میں تو دروازہ کھولنے والے کو دیکھ کر مبہوت ہو گیا کیا حسن تھا ابھرتی جوانی بڑی بڑی آنکھیں ان میں چمکتی شناشائی کی لہریں ۔۔۔۔

کھلے لمبے بال موٹے لال لب گلابی رنگت اوپر سے سرخ سوٹ پہنے اپنے بھاری بھاری مموں کو دوپٹے سے چھپانے کی ناکام کوشش کرتے سامنے کھڑی حسن کی مورت ۔۔۔۔

میں تو اس کو پہچان کر بھی پہچان نہ پایا اس نے امی سے پیار لیا امی تیزی سے آگے بڑھ گئی میں بت بنا اس حسن کی دیوی کو دیکھنے میں مگن تھا۔۔۔۔

اس نے گلا کھنکار کہا بلو کی گل آ اندر نہیں آونا تے میں بوہا بند کر دیواں ۔۔۔۔

اس کی آواز نے میرے کانوں میں رس گھول مجھے یاد آیا یہ تو وہ ہی موٹو سی مائرہ ہے ۔۔۔۔

ہاں جی میرے ماموں کی بیٹی مائرہ جس تھی وہ ہی مائرہ جس کی میں نے زندگی میں پہلی بار لینے کی ناکام کوشش کی تھی ۔۔۔۔

ایک ہی بار میں وہ ساری فلم میرے دماغ میں گھوم گئی۔۔۔۔

اگر مجھے پتہ ہوتا کہ وہ بڑی ہو کر اتنی حسین ہو جائے گی تو میں اس کے لیے چکر لگاتا رہتا۔۔۔۔

امی تو سیدھی اندر گئیں پہلی بات میرے لیے حیرانی کی یہ تھی کہ ہم جب بھی وہاں جاتے پہلے خالا کے گھر جاتے تھے اس کے بعد ماموں لوگوں کی طرف چکر لگاتے تھے۔۔۔۔

آج امی سیدھی ماموں کے گھر گئیں اور وہ بھی اتنی جلدی میں میرے لیے حیرانی کی بات تھی ۔۔

امی کے اندر جانے کے بعد مائرہ کے پیچھے میں بھی اندر چل دیا مائرہ مجھے بڑے کمرے میں لے گئی جہاں مامی سے امی مل رہی تھیں۔۔۔

ماموں گھر نہیں تھے بلکہ کوئی بھی گھر نہیں تھا میں مائرہ کی مٹکتی گانڈ دیکھتا ہوا اندر داخل ہوا مامی سے پیار لیا ۔۔۔

مامی نے مائرہ کو پانی لانے کا کہا وہ باہر نکل گئی امی اور مامی ایک دوسرے سے حال چال پوچھنے لگ گئیں۔۔۔

کچھ ہی دیر میں مائرہ شربت بنا کر لے آئی امی نے ایک گلاس پی کر بس کر دی جب کہ میرا دل مائرہ کے ہاتھ سے بار بار پینے کو دل کر رہا تھا۔۔۔۔

میں نے تین گلاس پی لیے جب پھر آگے گلاس کیا تو اپنی ڈانٹ دیا مائرہ کی ہنسی نکل گئی اور مامی نے امی کو منع کیا باجی فیر کی ہویا پی لین دے پیاس لگی ہووو پی لے میرا پت ۔۔۔

لیکن مائرہ کے سامنے بے عزتی مجھے بہت کھلی میں نے کہا نہیں بس مامی مائرہ کو گلاس پکڑا دیا مائرہ نے بھی ایسے ہی ایک دو بار کہا مامی نے بھی لیکن میں نے نہ پیا۔۔۔۔

کچھ دیر امی اور مامی کی باتیں سنتا رہا ہھر بور ہونے لگا مائرہ شاید کھانا وغیرہ بنانے لگ گئی تھی عصر کے بعد کا وقت ہو گیا تھا۔۔۔

میں اٹھ کر باہر آیا لیکن کوئی نہ تھا اس لیے مائرہ کو دیکھنے کے لیے کچن میں جھانکا وہ لکڑیاں جلا رہی تھی۔۔۔

اس نے گردن گھما کر دیکھا اور پوچھا کچھ چاہئیے اوہ ہاں مجھے یاد آیا اور شربت پینا ہے میں ابھی دیتی ہوں ساتھ ہی مسکرا دی۔۔۔

اٹھنے لگی تو میں شرمندہ ہو کر دائیں بائیں دیکھتے ہوئے وہاں سے کھسک گیا۔۔۔۔

ماموں لوگ جس گھر میں رہتے تھے وہ میرے نانا نے بنوایا تھا پرانی طرز کا گھر تھا سامنے صحن تھا ایک ظرف پہلے چولہا ہوتا تھا پھر اسی جگہ کچن بن گیا اس کے بعد دو کمرے تھے ایک بڑا کمرہ اس میں بھی ایک دروازہ تھا جو ایک چھوٹے کمرے میں کھلتا تھا۔۔۔۔

چھوٹے کمرے میں کا ایک دروازہ صحن میں تھا جبکہ ایک دروازہ پیچھے بنی بیٹھک اور اس کے ساتھ بنے ڈائیننگ روم میں کھلتا تھا اگلے دونوں دروازوں کے برابر پیچھے بیٹھک اور بیٹھک میں ڈائننگ روم طرز کا ایک چھوٹا کمرہ تھا لیکن ان کے درمیان صرف پردہ لگا تھا ۔۔۔۔

میں چھوٹے دروازے سے گزر کر پیچھے بیٹھک میں چلا گیا وہاں کمپیوٹر پڑا تھا میں نے اس کو آن کیا اور اس پر گیم کھیلنے لگ گیا۔۔۔

لیکن مزہ نہ آیا کیونکہ میں نے زیادہ کپیوٹر استعمال نہیں کیا تھا اسی وقت اندر والا دروازہ کھکا وہاں سے ماموں کی بڑی بیٹی جس کا نام سمیرہ تھا وہ عمر میں مجھ سے کافی بڑی تھی لیک قد میں وہ چھوٹی رہ گئی تھی۔۔۔

پتہ نہیں کس پر گئی تھی حالانکہ ماموں اور مامی دونوں کے قد لمبے تھے اور خوبصورت بھی تھی باقی بچے بھی خوبصورت تھے۔۔۔۔

اس نے مجھے بلایا اس کی ایک عادت تھی وہ ایسے ہی گال پر چٹکی کاٹ لیتی تھی بچپن سے کی مجھے اس سے الرجی تھی ۔۔۔

اس دن بھی وہ میرے پاس آئی اس نے میری گال کر چٹکی کاٹنے کی بجائے مجھے اپنے گلے لگایا اور پوچھا کیا حال ہیں۔۔۔

جب اس نے مجھے گلے لگایا تو مجھے احساس ہوا اس کے ممے بہت چھوٹے ہیں جسم بھاری ہے اور ایک اضافی بات جو مجھے پتہ چلی وہ یہ تھی کہ اس کے جسم سے شہوت کی خوشبو آ رہی تھی۔۔۔

مطلب وہ بہت گرم لڑکی تھی اس نے مجھے کس کر گلے لگایا تھا اور اسی طرح ہی میری گال پر چٹکی کاٹی میری جان نکال دی میں نے آج تک اس کو کچھ نہیں کہا تھا ۔۔۔۔

شاید اس لیے نہیں کہا تھا کہ اس وقت بچہ ہوتا تھا لیکن آج میں نے کہا باجی نہ کریں اب میں بچہ نہیں رہا ۔۔۔

وہ ہنستے ہوئے میری نقل اتارتے ہوئے بولی باجی نہ کرو میں بچہ نہیں رہا اور ہسننے لگی ۔۔۔

پھر بولی اچھا تو اب تم بڑے ہو گئے ہو ذرہ مجھے بھی تو پتہ چلے کتنے بڑے ہو گئے ہو پہلے تو میری گود میں بیٹھ جاتے تھے اب پورے نہیں آو گے یا مجھے اپنی گود میں بٹھا لو گے۔۔۔۔

میں بھی ضد میں آگیا میں نے کہا اب آپ میری گود میں بیٹھ جاو حساب برابر آج کے بعد مجھے یہ بات نہ کہنا ۔۔۔۔

وہ جھٹ سے تیار ہو گئی چلو بٹھاو مجھے اپنی گود میں پتہ چلے گا کتنی دیر بٹھا سکتے ہو کیا اتنی دیر بٹھا لو جتنی دیر میں نے تمہیں بارات کے ساتھ جاتے ہوئے بٹھایا تھا۔۔۔۔

یہ بھی ایک واقعہ تھا ایک دفعہ ہم شادی پر گئے تھے یہ اسی شادی کی بات ہے جس میں مائرہ کے ساتھ میں لکن چھپن کھیلا تھا۔۔۔

سب بچوں کو بارات کے ساتھ جانے کے لیے تیار کرلیا اور سیٹیں کم ہو گئیں تھیں تو بچوں کو بڑوں کی گود میں بٹھا کر لے گئیے تھے۔۔۔

مجھے سمیرہ کی گود ملی تھی بارات کو پہنچنے میں دو گھنٹے لگے تھے اس دوران میں مسلسل سمیرہ کی گود میں بیٹھا رہا تھا اور جان بوجھ کر اس کے مموں سے اپنی کمر رگڑتا رہ تھا ۔۔۔۔

اور تو کچھ نہیں پتہ تھا لیکن مجھے اچھی فیلنگ آ رہی تھیں میں تو بچہ تھا مجھے کیا پتہ تھا لیکن وہ اس وقت بھی جوان تھی سترہ سال کی تو ہو گی اس نے میرے پیٹ پر اپنے دونوں ہاتھ رکھ کر میری کمر کو اپنے مموں سے لگا لیا تھا۔۔۔۔

اج جب اس نے گود والی بات کی تو مجھے وہ سب یاد آگیا میں نے بھی کہا ٹھیک ہے بیٹھ جاو وہ تو تیار تھی ۔۔۔

میں چارپائی پر بیٹھ گیا اور اس کو کہا آجاؤ بیٹھ جاو وہ میرے پاس آئی گھوم کر میری گود میں اپنی گانڈ اس طرح سے رکھی کہ لن گانڈ کی دراڑ میں آ گیا۔۔۔۔

وہ بیٹھ کر گاند کو ہلکا ہلکا ہلانے لگی لن نے سر اٹھانا شروع کر دیا اب میں ڈبل مصیبت میں پھنس گیا ایک تو اس کا وزن کافی تھا دوسرا لن کھڑا ہونے لگا ۔۔۔۔

میں ڈر رہا تھا کہ اگر یہ کھڑا ہوگیا تو سمیرہ باجی میرے بارے میں کہا سوچیں گی ۔۔۔

میں نے سانس روکی بہت کوشش کی کہ لن کھڑا نہ ہو لیکن لن کو جب موقع ملے وہ اپنی اوقات دکھا کر رہتا ہے۔۔۔۔

میری لاکھ کوشش کے باوجود وہ کافی حد تک سخت ہوگیا اور گاند کی دونوں پھاڑیوں میں لمبا ہونے لگا ۔۔۔۔

دوسری طرف اب سمیرہ نے بھی ہلنا بند کر دیا تھا اس کے جسم سے اٹھنے والی مہک بہت تیز تھی ایسی مہک میں نے کسی کے بھی جسم سے نہیں سونگی تھی۔۔۔

اس نے کہا بلو اگر میں گر گئی تو ویسے بٹھاو جیسے میں نے بٹھایا تھا۔۔۔

میں۔۔۔ کیسے بٹھایا تھا مجھے یاد نہیں۔۔۔

اس نے میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور اپنے پیٹ پر رکھ لیے اور کہا ایسے پکڑو ۔۔۔

میرے ہاتھ اس کے پیٹ پر کم مموں کے قریب زیادہ تھے کیونکہ وہ قد میں کافی چھوٹی تھی اس لیے اس کا جسم بھی اسی حساب سے تھا پیٹ اور مموں کے درمیان فاصلہ کم تھا ۔۔۔

اس نے میرے ہاتھ اس جگہ رکھے تھے جہاں سے پیٹ شروع ہوتا تھا ۔۔۔

اب میرے لیے لن کو روکنا نا ممکن ہو گیا تھا کیونکہ لن تقریبآ فل سخت ہو چکا تھا اور سمیرہ باجی نے اپنی کمر میرے سینے سے لگا دی تھی ۔۔۔

وہ بہت آہستہ آواز میں بولی بلو یہ نیچے کیا چب رہا ہے۔۔۔

میں کہاں کیا چب رہا ہے۔۔۔

سمیرہ ۔۔۔۔ میرے نیچے ۔۔۔

اس کی آواز میں کچھ تھا شاید وہ گرم ہو رہی تھی۔۔۔

میں۔۔۔ کہاں نیچے اور کیا مجھے تو کچھ نہیں پتہ۔۔۔

سمیرہ۔۔۔ بلو اب تم جھوٹ نہ بولو تمہیں سب پتہ ہے کہاں کیا چب رہا ہے۔۔۔

میں۔۔۔ سچ میں نہیں پتہ ۔۔۔

سمیرہ نے ایک گہری نظر مجھ پر ڈالی اور میرے گال پر اپنا ہاتھ پھیر کر میری گود سے اٹھ گئی۔۔۔۔

جیسے ہی وہ اٹھی میرا گھوڑا بھی اسی کے ساتھ ہی شلوار میں تنبو بنا کر کھڑاہو گیا۔۔۔۔

سمیرہ نے اٹھنے کے بعد میری گود میں دیکھا تو اس کے آنکھوں میں حیرت بپا تھی۔۔۔۔

اس نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھا اور مجھے گہری نظروں سے دیکھتی ہوئی چلی گئی۔۔۔

میں وہیں چارپائی پر لیٹ کر سمیرہ کے رویے کے بارے میں سوچنے لگا سوچتے سوچتے میری آنکھ لگ۔۔۔۔

میری آنکھ کسی کے زور زور سے کندھا ہلانے سے کھلی ہلانے والا کوئی تھا نہیں بلکہ تھی ۔۔۔۔

مائرہ میرے سرہانے کھڑے میرا کندھا ہلاتے ہوئے کہہ رہی تھی نواب صاحب ایتھے سون آئے او اٹھ جا ہن منجیاں توڑن ڈیا ایں۔۔۔

میں نے نیم وا آنکھوں سے اس کی طرف دیکھا دھندلا لیکن چمکتا چہرہ نظر آیا ایک لمحے کے لیے تو مجھے لگا میں کسی پرستان میں ہوں اور کوئی پری میرے سرہانے کھڑی ہے۔۔۔۔

لیکن سادی ایڈی قسمت کتھوں اسیں ٹھہرے کھاڈے دے ڈڈو( نالے کے مینڈک)۔۔۔

جب اس نے پھر اپنے لب ہلائے ہن کی آ اٹھ جا کہ پھپھو آپے ای آ کے تینوں روٹی دیاں برکیاں کھواوے۔۔۔۔

مجھے اس بار اس کی آواز سے کم از کم یہ اندازہ ہوا کہ میں اسی جہان میں ہوں۔۔۔۔

میں اپنی آ نکھیں ملیں اور اٹھ کر بیٹھ گیا اور جان بوجھ کر انگڑائی لی کیونکہ مائرہ میرے بہت قریب تھی میرے انگڑائی لینے سے میرا ہاتھ اس کے سینے سے لگتا ۔۔۔۔۔

لیکن وہ بھی کچھ کم نہ تھی جیسے ہی میں نے انگڑائی لی اپنے اندازے کے مطابق اس کے مموں سے ہاتھ کو ٹچ کرنا چاہا وہ پیچھے ہو گئی۔۔۔۔

جب میں نے اس کی طرف دیکھا تو وہ مسکراتے ہوئے گویا ہوئی واہ لاٹ صاحب اب انگڑائیاں لیتے رہیں میں کھانا لگا رہی ہوں اگر لاڈ صاحب کا موڈ ہو تو کھا لیں ۔۔۔۔

وہ چل دی پھر رک کر پلٹی اور بولی اور ہاں پھپھو کہہ رہی تھیں کہ تین چار دن یہاں رہنا ہے کوئی کام ہے ان کو یہاں اس لیے اگر تم جانا چاہو تو کل چلے جانا۔۔۔۔۔

میں صرف اس کی طرف دیکھ رہا تھا وہ پھر بولی ویسے اگر رہنا چاہو تو ۔۔۔۔۔

اتنا کہہ کر وہ چپ ہو گئی میں نے پوچھا بھی تو ۔۔۔۔۔۔

وہ ہنس کر چل دی لیکن مجھے ایک سسپنس میں ڈال گئی۔۔۔۔

میں اٹھا باہر آیا منہ ہاتھ دھویا تھوڑا تازہ دم ہوا کھانا کھانے کے بعد امی تو ماموں کے ساتھ خالا کے گھر چلی گئیں پیچھے ماموں کے بیٹے بھی آ گئے ۔۔۔۔

ہم نے بیٹھ کر خوب گپ شپ لگائی پہلے ذکر ہو چکا ہے ماموں کے بیٹوں کا ان میں جو میرا ہم عمر کہہ لیں یا دوست کہہ لیں وہ میرے ساتھ بیٹھا رہا دوسرا اٹھ کر باہر نکل گیا ٹائم بھی کافی ہو گیا تھا۔۔۔۔

گاؤں میں پاس کہ گھر ہونے کی وجہ سے ماموں اور امی خالا کے گھر ہی تھے ابھی میرا کزن جس کا نام تو کچھ اور تھا ہم اس کو ککا (بھورا) کہتے تھے۔۔۔۔

وہ میرے ساتھ بیٹھا تھا ایک دم اس نے میرے کان میں کہا آج تمہیں ایک سین دکھاتا ہوں۔۔۔۔

میں نے ناسمجھی میں اس کی طرف دیکھا تو اس نے کہا آ جا باہر چلتے ہیں۔۔۔۔

ہم دونوں باہر نکل گئے ایک دو گلیاں گھوم کر جب ہم آگے جانے لگے تو میں کہا کہاں جا رہے ہیں کیونکہ یہ وہ ہی رستہ تھا جدھر خالا کا گھر تھا۔۔۔۔

ککے نے کہا تھوڑا صبر رکھ ابھی پتہ چل جائے گا ۔۔۔۔

میں پھر اس کے ساتھ چل پڑا کچھ آگے جا کر اس نے میرا بازو پکڑا اور کان میں بولا اب بولنا نہیں بس چپکے چپکے میرے پیچھے آ جا۔۔۔۔

وہ ایک خالی پلاٹ ٹائپ جگہ تھی جس میں لکڑیاں وغیرہ رکھی ہوئیں تھیں اس جگہ کے بارے میں مشہور تھا کہ وہاں جن ہیں لوگ دن میں بھی وہاں جانے سے ڈرتے تھے۔۔۔۔

جبکہ ککا مجھے رات کے اندھیرے میں وہاں لے کر جا رہا تھا میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں ۔۔۔۔

میں بزدل نہیں تھا لیکن جیسا لوگ کہتے تھے یا جو واقعات اس جگہ کے بارے میں میرےکانوں تک پہنچے تھے وہ بہت خوفناک تھے۔۔۔۔

میں نے بازو چھڑوانے کی بھی کوشش کی لیکن ناکام رہا تھوڑا آگے جا کر لکڑیوں کے ڈھیر کے پاس وہ تک گیا اور مجھے اشارے سے کہا اندر دیکھو۔۔۔۔

میں نے اس کی طرف دیکھ کر ہاتھ سے کہا کیا ہے وہاں ۔۔۔۔۔

اس نے مجھے جواب دینے کی بجائے کھینچ کر میرا منہ اس طرف کر دیا۔۔۔۔

میری نظر لکڑیوں کے درمیان ایک جگہ جا ٹکی وہاں کچھ اس طرح کا سین تھا کہ لڑکیوں کو جوڑ کر ایک قسم کی جھونپڑی بنائی گئی تھی جس کے اندر ہلکی ہلکی روشنی تھی مزے کی بات یہ تھی کہ دور سے وہاں صرف روشنی ہی نظر آتی تھی جس جگہ ہم کھڑے تھے وہاں سے اندر کا سارا ماحول نظر آرہا تھا۔۔۔۔

میں نے وہاں دیکھا کہ ککے کا بڑا بھائی یعنی کہ میرا ماموں زاد جس کو ہم نیلی کہتے تھے یہ اس کی چھیڑ بھی تھی وہ اپنا لن ہاتھ میں پکڑے کسی لڑکی کے منہ میں ڈال رہا تھا لڑکی کا منہ ایک طرف تھا مجھے صاف نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔

میں نے پوری توجہ اس طرف کر لی اور آہستہ آہستہ جگہ ڈھونڈتے ہوئے آگے بڑھنے لگا۔۔۔

میں اس حد تک آگے چلا گیا تھا مجھے لن کے چوسنے کی آوازیں بھی آنے لگیں۔۔۔۔

کزن کی آواز بھی مزے بھری نکل رہی تھی لیکن سرگوشی کی صورت میں وہ لڑکی جو بھی تھی اس کے چہرے کی ایک سائیڈ نظر آ رہی تھی جو نظر آ رہی تھی اس سے اس کی خوبصورتی کا اندازہ لگایا جا سکتا تھا۔۔۔۔

لن جن ہونٹوں میں جا رہا تھا اور جس مہارت سے چوپے لگا رہی تھی اس کے چدکڑ ہونے کی دلیل تھی ۔۔۔۔

پورا لن منہ کے کر چوس رہی تھی ابھی تک لن باہر نہیں نکالا تھا نیلی کی بھی یہ کوشش تھی کہ منہ کو ہی چودتا رہے وہ اپنی گانڈ کو اٹھا اٹھا کر گھسے مارنے کے انداز میں لن گھسا رہا تھا۔۔۔۔

کچھ دیر لن چوسائی کا سین چلتا رہا میرا لن بھی تن کر کھڑا ہو گیا پھر اس لڑکی نے لن کو منہ سے نکالا اور ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔۔

اب میری چونکنے کی باری تھی ہاں جی نیلی کا لن عجیب طرح کا تھا میں نے غور سے دیکھا اس کے لن کی ٹوپی نہیں تھی اس وقت تک تو یہ پتہ تھا کہ لن کی ٹوپی ہوتی ہے ۔۔۔۔۔

یہ سمجھ نہ آئی کہ ٹوپی کی شیپ بنانے کی ذمہ داری نائی کی ہوتی ہے ۔۔۔۔

تو بات کر رہا تھا نیلی کے لن کی جس کی شیپ مختلف تھی یعنی کہ ابھی تک اس نے ختنے نہیں کروائے تھے یہ میرے لیے نئی بات تھی۔۔۔۔۔

اس کالن موٹا تو تھا لیکن لمبائی میں اتنا نہیں تھا میرے لن سےآدھا ہی ہوگا ۔۔۔۔

لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اس نے اس لڑکی کو کچھ کہا وہ لڑکی گھومی اس کا چہرہ میری ظرف ہوا میرے منہ سے نکلا اوہ تیری میں بہن نوں لن ٹھوکاں اوئے ککے آ کی اے سالی حرامزادی اے بھا نیلے نال ۔۔۔

میری آواز اونچی ہو گئی تھی شاید یہ آواز ان تک بھی پہنچ گئی تھی اس لیے تو بھا نیلا مجھے وہاں سے کھسکتا نظر آیا ۔۔۔۔

وہ دوسری طرف سے اپنا ناڑا باندھتے ہوئے نکل گیا میں تیزی سے اڈ لڑکی کے سر پر پہنچ گیا مطلب اس جھونپڑی میں گھس گیا جبکہ ککا میرے پیچھے آنے کی بجایے وہاں ہی کھڑا رہا۔۔۔۔

یہ وہ ہی لڑکی آسیہ تھی جس کے ساتھ بچپن میں ہم کھیلا کرتے تھے خالا لوگوں کے ہمسائے میں رہتی تھی اس وقت بچی تھی ہم بھی تو بچے تھے ۔۔۔۔

اس عمر میں بھی اس نے مجھ پر خط لکھنے کا الزام لگا دیا تھا وہ بات آج بھی مجھے کچوکے لگاتی ہے بس پھر مجھے آج موقع مل گیا تھا اپنی بے عزتی کا بدلا لینے کا۔۔۔۔

میں اس کے پاس جا بیٹھا وہ اپنی شلوار پہن رہی تھی میں نے اس کے ہاتھ سے شلوار پکڑ لی۔۔۔

اس کو کہا اتنی جلدی بھی کیا ہے یاد کرو۔۔۔

ہم بھی رسوا ہوئے تھے تیرے عشق میں

جب تم نے مجھ کر الزام لگایا تھا خط لکھنے کا اور آج یہ سب کر رہی ہو وہ بھی ہم سب سے بڑے ہمارے ہی کزن سے۔۔۔۔

اب تو میں سارے گاؤں کو اس جگہ کیا ہوتا ہے بتاوں گا یہ آگ کا کیا سین ہے جو تم یہاں کارنامے کرتی ہو ایک ایک بات پورے مرچ مسالے کے ساتھ لائیو ٹیلیکاسٹ ہو گا۔۔۔۔

میں نے شلوار اپنے قبضے میں کر لی تھی۔۔۔

وہ مسکین صورت بنا کر بولی بلو نا کرو کسی کو بھی نہ بلاو کیا مل جائے گا تمہیں یہ سب کر کے مجھے بدنام کر کے تم خوش ہو جاؤ گے لیکن میری زندگی برباد ہو جائے گی۔۔۔۔

میں یہ سب پہلے سوچنا تھا جب یہاں آئی تھی میں سب کچھ دیکھ رہا تھا کافی دیر سے کس طرح لولی پاپ چوس رہی تھی۔۔۔۔

آسیہ بولی اب نہیں کروں گی ابھی مجھے جانے دو میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔۔۔

لیکن میرا تو لن اس کے چوسنے کے انداز کو دیکھ کر فل ٹن ہو چکا تھا میں کیسے جانے دیتا اس کو وہ بھی اس کو جس کی پھدی مارنے کا خواہش مند میں تب سے تھا جب سے اس نے مجھ پر الزام لگایا تھا۔۔۔۔

میں نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا یہ نہیں ہو سکتا کچھ تو دینا پڑے گا نہیں تو آبھی تمہاری شلوار لے کر چلا جاتا ہوں۔۔۔۔

اس نے میرے پاؤں پکڑ لیے اور بولی ایسا نہ کرنا پلیز میں تمہارے پاؤں پڑتی ہوں پتہ اس وقت مجھے کیا ہو گیا تھا میں اس کو چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔۔۔۔

میں نے کہا ٹھیک ہے ایسا نہیں کرتا تم مجھے کرنے دو جو نیلا بیچ میں چھوڑ گیا ۔۔۔۔

وہ بولی پلیز نہ کرو ایسا لیکن اس کی آواز میں دم نہیں وہ تقریباً رضا مند تھی۔۔۔

میں نے اٹھتے ہوئے کہا ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی میں پھر وہی کرتا ہوں جو کہہ رہا ہوں۔۔۔

وہ جلدی سے بولی اچھا کر لو جو کرنا ہے وہ لیٹ گئی ۔۔۔

میں نے اپنا ناڑا کھولا اور لن کو تولا وہ ابھی کچھ ڈھیلا تھا اس کو ہاتھ میں پکڑ کر سہلایا کر ٹائٹ کیا اس دوران اس کی پھدی سے قمیض ہٹائی جس کو اس نے ہلکی سے مزاحمت سے چھوڑا دیا تھا۔۔۔۔

لن ٹائٹ ہوا میں نے اس کی ٹانگیں اٹھائیں اور لن کو اس کی پھدی کے لبوں میں پھنسا دیا اور اس کے اوپر لیٹتے ہوئے ایک زور کا جھٹکا مارا لن پھسل کر باہر نکل گیا۔۔۔۔

لیکن اس کے منہ سے ہائے کی آواز نکلی میں نے پھر سے اسی طرح لیٹے لیٹے ہاتھ نیچے لیجا کر لن کو اس کی پھدی میں پھنسایا اس بار تھوڑا سا دباؤ ڈالا لن کی ٹوپی اندر اتر گئی اس کی پھدی گیلی تھی مطلب وہ چدنے کے لیے تیار تھی ایسے ہی ڈرامے کر رہی تھی۔۔۔۔

اب میں نے اس کے منہ کر ہاتھ جمایا اور اچھا خاصا زور لگا کر لن کو مادر گھسا دیا آدھے کے قریب لن اندر چلا گیا اس کی گھٹی گھٹی سی آواز نکلی اس نے اپنا سر دائیں بائیں بھی مارا ۔۔۔۔

لیکن لن جب پھدی میں اتر جائے تو رکتا نہیں اسی کے مصداق میں نے لن کو دو تین جھٹکوں میں جڑ تک اندر اتار دیا۔۔۔۔

آسیہ کٹے ہوئے بکرے کی طرح تڑپنے لگی اس کی وجہ میں سمجھ سکتا تھا شاید اس نے نیلے کے لن کے علاوہ کسی کا لن نہیں لیا تھا اس کا لن ان کٹ تھا یعنی بغیر ختنوں کے اور اتنا بڑا بھی نہیں تھا۔۔۔۔

کچھ دیر رکنے کے بعد میں نے جھٹکے سٹارٹ کیے شروع میں آہستہ آہستہ کرتا رہا پھر اپنی سپیڈ بڑھانے لگا کیونکہ لن پھدی میں اپنی جگہ بنا چکا تھا ۔۔۔۔

ویسے بھی اب آسیہ نے مچلنا چھوڑ دیا تھا اس لیے بھی اب میں کھل کر گھسے مار سکتا تھا۔۔۔۔

کچھ ہی دیر میں آسیہ نے نیچے سے اپنی گانڈ اٹھا کر لن لینا شروع کر دیا ساتھ ہی اس نے اپنی ٹانگیں میری کمر پر کس لیں ۔۔۔۔

وہ مزے میں ہلنے لگی تھی اس کے ہاتھ جو نیم جان کو کر ایک طرف تھے اب میری کمر پر پھرنے لگے۔۔۔۔

میں نے اس کی ان حرکات کو ہلا شیری سمجھا اور جھٹکوں کی برسات کر دی ۔۔۔

جاندار گھسوں کی وجہ سے وہ جلدی کی اپنے پیک پوائنٹ پر پہنچ گئی اس کی پھدی نے اپنے پانی سے میرے لن کو نہلا دیا ۔۔۔

میں ابھی تک تھکا نہیں تھا اسی سپیڈ سے گھسے مار رہا تھا وہ فارغ ہو کر ایک بار پھر اسی طرح ہو گئی۔۔۔

جب کہ اب میں نے گھسوں کی انتہا کر دی ہر گھسے پر اس کی آہ نکلنے لگی اب اس نے سرگوشی میں کہنا شروع کر دیا بس کر دو پلیز اور کتنا کرو گے۔۔۔۔

لیکن میں ابھی بہت دور تھا اس لیے اس کی بات کی پرواہ نہ کرتے ہوئے لگا رہا اس نے اپنی ٹانگیں نیچے کرتے ہوئے کہا اب میری ٹانگیں درد کرنے لگ گیی ہیں ۔۔۔۔

میں نے لن نکالا اس کو الٹا کیا ٹانگوں کو تھوڑا سا کھولا وہ کچھ نہ سمجھ سکی میں نے لن کو ہیچھے سے اس کی پھدی میں گھسا دیا۔۔۔۔

اففففف اس اینگل سے جب لن اندر گیا تو سچ میں پھنس گیا میں نے بھی بے دردی کی انتہا کرتے ہوئے لن کو گھسا دیا۔۔۔۔

ساتھ ہی اس کے اوپر لیٹ کر گھسے مارنے لگا اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کو گانڈ کی موری کے پاس سے اس کی پھدی میں اتار رہا تھا میں ٹٹے اس کی نرم نرم رانوں میں لگ رہے تھے۔۔۔۔

اس کا جسم ایک بار پھر اکڑنے لگا لیکن اب مجھے بھی لگنے لگا کہ اب فارغ ہونے والا ہوں ۔۔۔۔

اس کا جسم اکڑا لن کو پھدی نے جکڑ لیا اس کی پھدی اتنی ٹائٹ ہو گئی کہ لن اندر باہر کرنا مشکل ہو گیا مجھے جھٹکے مارنے روکنا پڑے۔۔۔۔

میں اس کے اوپر لیٹ گیا میں مزے کی اتھاہ گہرائیوں میں پہنچ گیا اس کے جسم نے جھٹکا کھایا پھدی نے اپنے مسام کھولے لن پر پانی کا چھڑکاؤ شروع کیا ۔۔۔۔

اتنا گرم پانی تھا کہ مجھ سے برادشت نہ ہوا میرے لن نے بھی اپنا پانی ایک دم پریشر کے ساتھ جھوڑ دیا۔۔۔۔

وہ کچھ دیر ہلکے ہلکے جھٹکے کھاتی رہی میں بھی اس کی پھدی میں فارغ ہوتا رہا جب لن سے منی کا آخری قطرہ بھی اس کی پھدی نے نچوڑ لیا تو میں اس پر سے اترا اور اس کی شلوار سے لن کو صاف کیا اور آزار بند باندھنے لگا ۔۔۔۔

وہ بھی سیدھی ہوئی لیکن آیک آہ کے ساتھ سیدھی ہوئی اور بولی میری جان کڈ دتی تو انسان نہیں لگدا مینوں ۔۔۔۔

میں نے کوئی بھی جواب دینا مناسب نہ سمجھا اس کو اس کی شلوار پکڑا دی ۔۔۔

اس نے غصے سے شلوار پکڑی اور پہننے لگی میں وہاں سے اٹھ کر باہر نکلا تو ککا مجھے کہیں نظر نہ آیا۔۔۔۔

پھر مجھے خیال آیا کہ آسیہ اتنا بڑا رسک اکیلے نہیں لے سکتی کوئی تو اس کے ساتھ آیا ہوگا۔۔۔۔

میں واپس مڑا تو آسیہ اپنے کپڑے درست کرکے باہر نکل رہی تھی اور اس نے وہ آگ بھی بجھا دی تھی جس کی آڑ میں یہ سب ہو رہا تھا۔۔۔۔

میں نے اس کا بازو پکڑا اور اس راز کے بارے میں جاننے کی غرض سے بات شروع کی۔۔۔

اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا آسیہ نے میرے منہ پر ہاتھ رکھ دیا اور مجھے کھنچتے ہوئے ایک طرف لے گئی۔۔۔۔

ہم ابھی کچھ ہی دور ہوئے تھے ایک آڑ میں گئے تھے کہ وہاں اسی جھونپڑی میں ہمیں دو سائے جاتے نظر آئے ۔۔۔۔

میں نے آسیہ کے کان میں کہا یہ سب کیا سین ہے کون ہے یہ مجھے کچھ سمجھاؤ گی۔۔۔

اس نے کہا ابھی وقت نہیں ہے پھر کسی دن بتاوں گی سب ویسے تو تمہیں بتانا کیا تم سے بات بھی نہیں کرنی چاہئیے ۔۔۔

پھر بھی تمہیں یہاں کا راز بھی بتا دوں گی بلکہ تم مجھ سے کیوں پوچھ رہے کو اپنے کزن سے پوچھ لینا۔۔۔

میں کس سے نیلے سے وہ مجھے بھلا کیوں بتائے گا اس نے ہی تو پہلے والی کہانی سنائی تھی اس جگہ پر جنوں والی بھوتوں والی کئی کہانیاں سنائیں اس نے جو آج میں اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔۔۔

اس نے کہا اس سے کون کہہ رہا ہے اس کے چھوٹے بھائی سے جو تمہارا دوست یے وہ تمہیں سب بتا دے کیونکہ وہ بھی یہ سب جانتا ہے۔۔۔

میں۔۔۔ وہ کیسے جانتا کیا میں جان سکتا ہوں۔۔۔​​





Source link

Leave a Comment