ہم نے اپنے کپڑے درست کیے چھنو نے اپنے بنڈ پر ہاتھ رکھا پھر سئی کی اور مجھے کھا جانے والی نظروں سے دیکھا۔۔۔
پھر مجھے کہا پہلے تم جاؤ میں بعد میں جاؤں گی وہ کمرے میں ادھر ادھر دیکھ کر صفائی کرنے لگی۔۔۔
میں نے باہر والا دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا ابھی دو قدم ہی چلا تھا کہ سامنے سے مجھے عاصمہ آتی دکھائی دی۔۔۔
اس نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا میں نظریں جھکا کر تیزی سے اس کے پاس سے گزر گیا۔۔۔
سیدھا گھر گیا اور جب کوئی لڑکا نہ ملا تو بیٹھک میں چلا گیا وہ تاش کی محفل جمی تھی۔۔۔
میں بھی بیٹھ گیا ان کی بازی ختم ہوئی ایک لڑکا جو ہارا تھا اس نے کھوتی بن کر آواز نکالی سب ہنس رہے تھے۔۔۔
جو دوست تاش کھیلتے ہیں وہ کھوتی کا کھیل بھی جانتے ہوں گے ہمارے گاؤں میں جان بوجھ کر کھوتی اور بھابھی کھیلی جاتی تھی جو ہارتا تھا اس نے ویسا کردار بھی ادا کرنا ہوتا تھا۔۔۔
ہارنے والا اٹھ کر ایک طرف ہو گیا اور مجھے کھیلنے کا کہا میں نے کہا اس میں مزہ نہیں بھابھی کھیلتے ہیں۔۔۔
سب نے ہاں کر دی اور ہم نے تاش کھیلنی شروع کر دی پہلی بار بالو ہارا اس نے بھابھی کی اداکاری کی سب نے نے تالیاں بجائیں ۔۔۔
مجھے الجھن ہو رہی تھی میرے ایک طرف فجا اور دوسری طرف ججی بیٹھا تھا فجے نے آہستہ سے میرے کان میں کہا پھدی دیا نہا وی لیا کر۔۔۔
میں نے کہا لوڑا لینی دیا ہن ایس ٹائم کتھے نہاواں یا تاں چل ٹیوب ویل تے نہا آئیے اے۔۔۔
اس نے بھی دو تین گالیاں دیں اور کھیل ختم کرنے کا اعلان کر دیا ۔۔۔
سب نے بہت کھپ ڈالی لیکن فجا پتے پھینک کر کھڑا ہوا میں بھی اس کے ساتھ ہی کھڑا ہو گیا۔۔۔
سب سے زیادہ رولا بالو نے ڈالا ہوا تھا کیونکہ وہ ایک بار بھابھی بن چکا تھا۔۔۔
میں فجا باہر نکلے میرے ذہن سے صبح والا واقعہ نکل چکا تھا ویسے بھی پھدی مار لینے کے بعد دماغ تروتازہ ہو جاتا ہے۔۔۔
ہم آپس میں کھپ ڈالتے ادھر ادھر کی گپیں چھوڑتے اپنی موج مستی میں پگڈنڈی پر لگے ٹیوب ویل کی طرف چل دئیے۔۔۔
راستے میں فجے نے ایک دو آتی جاتی لڑکیوں کو چھیڑا بھی جنہوں اچھی خاصی عزت افزائی کی۔۔۔
فجے ایک جگہ تو اخیر ہی کر دی یہ تو مجھے پتہ تھا کہ وہ کافی کھلا ہوا ہے ہر ایک سے پنگا لیتا رہتا ہے لیکن اس حد تک چلا جاتا ہوگا یہ نہیں پتہ تھا۔۔۔۔
ہمارے ہی گاؤں کی ہماری ہی برادری کی ایک لڑکی سر پر چارے کی گانٹھ رکھے آ رہی تھی۔۔۔
فجے نے اس کے ممے پکڑ کر دبا دئیے اس نے غصے سے دیکھا فجا ہنسنے لگا اس نے ہم سے آگے گزرنے کی کوشش کی فجا اس کے سامنے رستہ روکے کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
فجے دو تین بار اس کے ممے زور سے دبائے اس نے فجے کو روکا بھی لیکن فجا باز نہ آیا ۔۔۔
میں بیچ میں پڑ گیا میری بنڈ بندوق ہو گئی تھی اگر کوئی دیکھ لیتا یا یہ گھر شکایت لگا دیتی تو بڑی توہ لعن ہونی تھی۔۔۔
بڑی مشکل سے فجے کو ایک طرف ہٹایا فجا ہنستا ہوا اگے چل پڑا اور مجھے اس کے بارے میں بتانے لگا۔۔۔
ویسے وہ لڑکی تھی کمال پر فجے کے مطابق چالو بھی تھی ایسے ہی باتیں کرتے ہم آگے بڑھتے گئے۔۔۔
جیسے ہی اس گھر کے پاس پہنچے جن کی لڑکی کے ساتھ صبح مجھے ایک عورت نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا۔۔۔
مجھے عجیب سا ڈر لگنے لگا میں نے فجے کو کہا بھی کہ یار مجھے ڈر لگ رہا ہے لیکن اس نے کہا کچھ نہیں ہوتا تو بے فکر ہو کر چلتا جا۔۔۔
ہم اس کے گھر کے پاس سے گزر گئے میں سہما سہما سا آگے بڑھ رہا تھا فجا اپنی مستی میں میرے آگے آگے چلتا جا رہا تھا۔۔۔
ابھی ہم ان کے گھر سے چند قدم ہی آگے بڑھے ہوں گے کہ کسی نے میری کمر پر زور دار مکا جڑ دیا۔۔۔
مکا اتنا زور دار تھا کہ میں آگے فجے کے اوپر جا گرا فجا ایک دم پیچھے پلٹا اس کے منہ سے بس یہ ہی نکلا اور تہاڈی پین نوں ۔۔۔
اس کے بعد اس کی بولتی بھی بند پھر تو لاتوں جوتوں ٹھڈوں کے بیچ میں پھنس گئے ۔۔۔
مارنے والا کوئی ایک نہیں تھا لیکن میں نے اپنے سر اور منہ کو بچانے کے لیے اپنے بازو آگے کر لیے۔۔۔
فجے کی آواز کبھی کبھی آتی وہ گالیاں دے رہا تھا گشتی دے دیو ایناں پیواں نوں کیوں مار رہے ہو۔۔۔
وہ دھمکیاں بھی دے رہ تھا لیکن میری بولتی بند ہو چکی تھی میں پہلے ہی کافی ڈرا ہوا تھا اس لیے چپ ہی رہا۔۔۔۔
مارنے والوں نے جب اپنی تسلی کر لی تو وہ پیچھے ہٹ گئے میں ابھی اپنے چہرے سے بازو ہٹانے ہی والا تھا کہ جھاڑو اور جوتے میرے سر پر لگنے لگے۔۔۔۔
لیکن فجا شاید کھڑا ہو چکا تھا اس نے مجھے جیسے تیسے کھڑا کیا میں نے کھڑے ہو کر بازو ہٹائے ۔۔۔
سامنے دیکھا تو وہی لڑکی تھی جو روسی سے یوواہ رہی تھی جس کی پھدی میں میرے تائے کے پتر روسی کا لن گھسا تھا۔۔۔۔
وہ ابھی بھی ہاتھوں سے مجھے مار رہی تھی میرے ذہن میں پتہ نہیں کیا آئی کہ میں نے فجے کو کہا فجے روسی کو بلا۔۔۔۔
یہ سننا تھا کہ اس نے مجھے مارنا چھوڑ دیا میری طرف غور سے دیکھنے لگی پھر منہ اس کے چہرے کے تاثرات بدلے۔۔۔۔
اس نے پیچھے کھڑے ایک لڑکے کو کہا وے اے کون اے کتیا کمینیا پہلے ویکھ تاں لیا کر ۔۔۔۔
فجے نے اسی وقت چڑھائی کر دی ہو گیا شروع میرا انگ انگ پیڑ کر رہا تھا میری درگت خوب بنائی تھی۔۔۔۔
اسی وقت فجے کے منہ سے مغلظات کا طوفان شروع ہو گیا لگا ماں بہن کی گالیاں دینے۔۔۔
گشتی ماں دیو اپنے بہنویاں نو کیںوں ماریا اے تہاڈی پہن دے پھدے اچ مینار پاکستان دیاں میرے پیو دے سالیو۔۔۔
ہن بھونکو یا تہاڈے منہ اچ لن وڑ گیا اے میں نے فجے کو روکنا چاہا اس نے مجھے غصے سے دھیکیلا۔۔۔
مجھے دھیکیلتے ہوئے کہا جا پراں بنڈ مروا ایناں دی میں ماں دی پھدی پاڑنا آں ہنے ساریاں نوں بلانا۔۔۔۔
اسی وقت ایک آدمی اندر سے نکلا اس نے فجے کو دیکھتے ہوئے مجھے کہا ایس حرام زادے دی بنڈ پاڑوں اوئے۔۔۔
ایک لڑکا جو کافی غصے سے دیکھ رہا تھا آگے بڑھا لیکن اب ہم بھی تیار تھے پہلے کی طرح لاپرواہی میں مار نہیں کھا سکتے تھے۔۔۔۔
جیسے ہی وہ آگے بڑھا فجے نے اس کو دبوچ لیا میں نے بھی اس کی کمر پر مکوں کی بارش کر دی بس تیس سیکنڈ ہی لگے ہوں گے وہ ادھ موہا ہو کر نیچے گر گیا۔۔۔۔
میں نے کہا تہاڈی ماں دا پھدا گشتوڑ ماں دیو میں اٹاں سیمنٹ لا کے پھدی اتے اک ٹاور بنا کے اندر گھسیڑ دیاں گا جے ہن کسی نے اپنی بہن دا پھدا پیش کیتا ۔۔۔۔
ان سب کو سانپ سونگھ گیا تھا وہ لڑکی آگے بڑھی اس نے فجے کو آہستہ سے کچھ کہا فجا اور بھڑکا۔۔۔
لیکن میں سمجھ گیا وہ کیا کہہ رہی تھی اس کو میری اشارے میں کی گئی بات سمجھ آ گئی تھی۔۔۔
میں نے فجے کو جانے کا کہا لیکن وہ آپے سے باہر ہو گیا تھا مجھے یہ ڈر تھا کہ اگر ابا جی کو پتہ چل گیا تو مجھے لگ پتہ جانا اے۔۔۔۔
میں نے فجے کو سمجھایا کہ نکل یار معاملہ بڑھ جائے گا وہ لڑکی بھی یہ کہہ رہی تھی اس نے اپنے سب مردوں کو بھی یقین دلایا کہ میں وہ نہیں ہوں۔۔۔۔
فجے کو جیسے تیسے منا کر ہم وہاں سے نکل گئے ان کا گھر آبادی سے کافی دور فصلوں کے درمیان تھا کوئی سڑک نہیں جاتی تھی۔۔۔
صرف پگڈنڈی ہی تھی آبادی سے دور ہونے کی وجہ سے شاید کسی کو پتہ نہیں چلا تھا اس لیے کوئی بھی نہیں آیا تھا۔۔۔۔
ہم کچھ دور ہی چلے تھے کہ ان کا ایک بزرگ اور ایک عورت ہمارے پیچھے آئے انہوں نے ہمیں آواز دی۔۔۔۔
وہ ہمارے پاس آئے ہم سے آج کے سب معاملے کے لیے معافی مانگی اور یہ درخواست کی کہ ہم یہ بات اپنے بڑوں کو نہ بتائیں۔۔۔۔
ہمارا گھرانہ گاؤں کا کھاتا پیتا گھرانہ تھا گاؤں میں کافی رعب و دبدبہ تھا جس کی وجہ سے کافی غریب لوگ ہم سے ڈرتے تھے۔۔۔
ویسے تو ہم کسی سے پنگا لیتے تھے نہیں تھے اگر کوئی اور پنگا لے لیتا تو اس کو چھوڑتے نہیں تھے۔۔۔۔
فجا کافی اچھلتا رہا لیکن میں نے ان بزرگوں کو یقین دلایا کہ کسی کو نہیں بتائیں گے ۔۔۔
ہم ان کو مطمئن کر کے آگے بڑھ گئے میں نے فجے کو کہا یار تو کیوں معاملہ بڑھا رہا ہے ۔۔۔
فجا ان سالوں کو سبق سکھانا ضروری ہے اج ان کی یہ ہمت ہوئی کل اور بڑھ جائے گی۔۔۔
میں نے اس کو سمجھایا کہ لڑکی کے معاملہ ہے آج توروسی کا نام لے کر اس لڑکی کو چپ کروا لیا نہیں تو ہم تو پھنس ہی گئے تھے۔۔۔
فجا ہم نہیں صرف تو پھنسا تھا تیری وجہ سے آج مجھے بھی پڑی ہیں نہیں تو آج تک کسی کی ہمت نہیں ہوئی۔۔۔
ان کی لڑکی کی کتنی بار پھدی ماری اس کی سیل بھی پاڑی لیکن کوئی گڑ بڑ نہیں ہوئی اور تو سالا گانڈو ایسا آیا ہے کہ نہ وہ مجھے دیتی ہےاب آج تجھے بلایا تو پھنسا دیا۔۔۔۔
تو ہے ہی منحوس صنم کی ماری اس کا مسئلہ بن گیا چھنو کی لی وہ سب گاؤں کی لڑکیوں کو پتہ ہے شازی کی پھدی میں لن ٹھوکا وہ بھی مشہور ہو گیا۔۔۔۔
پتر تیرہ ستارہ ای خراب ہے تو جہاں جہاں منہ مار رہا ہے وہاں وہاں سے تری مشہوری ہو رہی ہے۔۔۔۔
فجا آج اپنے دل کی بھڑاس مجھ پر نکال رہا تھا میں سمجھ سکتا تھا اس کو جیلسی ہو رہی تھی۔۔۔
کیونکہ کومل شازی صنم چھنو ان سب کے پیچھے یہ تھا اور میں نے کومل کو چھوڑ کر باقیوں کی مار لی تھی۔۔۔
میرے اندازے کے مطابق اب وہ اس کو ہاتھ نہیں لگانے دے رہی تھیں۔۔۔۔
فجا اسی طرح میری ماں بہن کرتا رہا اور ہم ٹیوب ویل پر پہنچ گئے لیکن ایک بات جو مجھے آج پہلی دفعہ محسوس ہوئی وہ کی باتیں تھیں۔۔۔
اس کی باتیں صرف باتیں نہیں تھیں اس کے پیچھے کہیں نا کہیں کچھ اور تھا جو میں سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔
فجے نے آج غصے میں بہت سی ایسی باتیں کی تھیں جو صرف میں اور فجا جانتے تھے لیکن اس نے ناہید والی بات بھی کر دی کہ اس کا بھی سب کو پتہ ہے اس کی پھدی جب پھاڑی تھی۔۔۔۔
فجا آج بہت سے شکوک وشبہات پیدا کر گیا تھا میں نے اس کو بولنے دیا وہ اور بھی بہت کچھ بولتا رہا۔۔۔۔
ٹیوب ویل پر نہائے تو جسم میں کچھ سکون سا اتر گیا لیکن جو سٹیں لگی تھیں وہ کافی گہری تھیں ۔۔۔۔۔
تازہ پانی سے نہا کر ہم کچھ دیر وہاں بیٹھے باتیں کرتے رہے فجے کا موڈ کچھ بہتر ہو گیا تھا لیکن وہ مجھ سے نظریں نہیں ملا رہا تھا۔۔۔۔
اگر فجے کی جگہ کوئی اور ہوتا تو میں اب تک لڑ مڑ گیا تھا بس فجے سے یارانہ بہت پرانا تھا۔۔۔۔
واپسی پر فجا کافی کھل کر بات کرتا رہا نارمل انداز میں اس میں وہ غصے والی یا کچھ ہوا ہے ویسی کوئی بات نہیں تھی۔۔۔
میں تو لڑائی کو بھی بھول گیا تھا فجے کی کہی گئی باتوں میں الجھا ہوا تھا جو کچھ اس نے آج کہا تھا اس پر غور کرتا جا رہا تھا۔۔۔۔
فجا بولتا رہا میں بس ہوں ہاں کرتا رہا ہم گھر پہنچ گئے کوئی خاص بات نہ ہوئی شام کو سب لڑکے اور لڑکیاں اپنی بچپن کی یاد تازہ کرنے کے لیے لکن میٹی کھیلنے لگے۔۔۔۔
میں بھی شامل ہو گیا کمال تو یہ تھا اس وقت وہاں ناہید اور چھنو بھی آئی ہوئی تھیں۔۔۔
سب سے پہلے بالو کی باری آئی سب ایک ایک کرکے غائب ہونے لگے میں بھی بچپن والی جگہ چھپنے کے لیے بھاگ گیا ۔۔۔۔
اسی جگہ جہاں بھڑولے(گندم رکھنے کے لیے بنایا گیا گودام ٹائپ) تھے جو ابھی بھی جوں کے توں تھے۔۔۔۔
آہ قسمت ناہید بھی وہاں ہی چھپی تھی میں اس کے پیچھے جا کر کھڑا ہوا چاندنی رات تھی کافی کچھ واضح نظر آرہا تھا۔۔۔۔
میں نے ناہید کو پہچان لیا تھا ناہید کے قریب ہوا پیچھے سے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اس نے میرا ہاتھ جھٹک دیا۔۔۔۔
میں نے پھر رکھا اس نے پھر جھٹکا اور میری طرف گھوم کر بولی میرے پاس کیوں آئے آو کہیں اور چھپو جا کر۔۔۔۔
وہی جگہ وہی دو جنس لیکن ایک کا انداز نرالا ایک کا پیارا کچھ تو جس کا غصہ ناہید نکال رہی تھی۔۔۔۔
میں نے دھیمی آواز میں پوچھا کیا ہوا ہے یوں تتے توے پر کیوں چڑھ بیٹھی ہو۔۔۔
اس نے ایک دم پھنکارتے ہوئے کہا تمیز نال آئی سمجھ جا اس سے بات کر جس کے ساتھ مکئی میں تھا۔۔۔۔
میرے دماغ میں چھپاکا ہوا آج کی بات اور آج کے سارے واقعات میرے دماغ میں چلنے لگے۔۔۔۔
میں بھی انتہائی ڈھیٹ انسان ثابت ہوا اگر ڈھیٹ نہ ہوتا تو پھدیاں کیسے ملتیں میں نے کہا کیا کہہ رہی ہو کونسی مکئی کس کے ساتھ ۔۔۔۔۔
ناہید ہاتھ لہراتے ہوئے اچھا تو جناب کو یہ بھی یاد نہیں کہ کس کے ساتھ وہی جس کے لیے لڑائی ہوئی۔۔۔
ایک اور جھٹکا ہم گھر آئے تھے شام سے پہلے فجا غائب ہوا تھا ابھی بھی یہاں نہیں تھا ۔۔۔۔
وہ بات جو صرف میں اور فجا جانتے تھے ناہید تک کیسے پہنچی مطلب صاف ہو گیا فجا ہی تھا۔۔۔۔
میں نے ابھی زیادہ سوچنا مناسب نہ سمجھا ناہید پر فوکس کیا ۔۔۔
ہنستے ہوئے بولا اچھا تو وہ بات جب ہم صبح ٹیوب ویل پر جا رہے تھے میں اکیلا تو نہیں گیا تھا ہم سب گئے تھے۔۔۔۔
بالو تھا ججی تھا نیدی تھا فجا بھی تھا اور باقی لوگ بھی تھے ایسی کوئی بات نہیں ہوئی تھی جو تم سمجھ رہی ہو۔۔۔
ہاں یہ ضرور ہوا تھا کہ میں اور فجا پیچھے پیچھے تھے آرام سے جا رہے تھے اسی وقت وہاں کوئی شور ہوا ۔۔۔۔
کوئی مکئی میں تھا کسی کے ساتھ اور ان کی ہی ایک لڑکی نے اوپر سے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا تھا ۔۔۔۔
ہم وہاں کھڑے رہے تھے اس وقت وہاں پر بھا روسی بھی تھا اس سے پوچھ لینا میں تو بھا روسی سے آگے اگے ٹیوب ویل پر گیا تھا۔۔۔۔
ناہید نے کہا اچھا چلو مان لیا جو تم کہہ رہے ہو وہ سچ ہے تو جو لڑائی ہوئی تمہیں مار پڑی وہ کس وجہ سے تھی ۔۔۔۔
میں ابھی کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ باجی فری پکڑی گئی سب نے شور مچانا شروع کر دیا ناہید سے پہلے ہی میں بھاگ کر باہر گیا سب کے ساتھ شور کرنے لگا۔۔۔۔
باجی فرح کو دروازے کو ہاتھ لگانے کے لیے بھیج دیا اور ہم پھر چھپنے کے لیے بھاگے میں جب بھڑولے کے پاس گیا تو وہاں بالو کھڑا تھا۔۔۔۔
میں نے وہاں سے کھسکنا مناسب سمجھا میں بھینسوں والے کمرے میں جا گھسا یی وہ جگہ تھی جہاں ڈھونڈنے والا داخل بھی نہیں ہوتا تھا۔۔۔۔
اندر بہت اندھیرا ہوتا تھا ہم جب بھی یہاں چھپتے تھے کبھی نہیں پکڑے گئے تھے میں وہاں داخل ہو گیا۔۔۔
جیسے ہی اندر داخل ہوا مجھے ایک ہاتھ نے اپنی طرف کھینچ لیا کھینچتے ہی آہستہ آواز سے کہا کرئیے۔۔۔
مجھے آواز کی تو سمجھ نہ آئی لیکن میں نے بھی سرگوشی میں کہا ٹھیک اے۔۔۔۔
وہ جو بھی تھی بہت جلدی میں تھی کیونکہ ہم کافی لوگ کھیل رہے تھے اب پتہ نہیں یہاں کس نے کس کو بلایا تھا۔۔۔۔
جو بھی تھی مجھے کون سمجھ رہی تھی کم از کم میں جان نہیں پایا تھا۔۔۔۔
اس نے میری طرف اپنی بنڈ گھمائی اس کی بنڈ میرے لن سے ٹکرائی لن پہلے ہی ٹائٹ ہو گیا تھا۔۔۔۔
میں نے لن شلوار کا ناڑا کھول کر نکالا اور پھدی کو ہاتھ سے ٹٹولا لن کی ٹوپی پھدی پر رکھی پھدی بہت زیادہ گیلی تھی۔۔۔
اب اس کی آواز نہیں آ رہی تھی بس لن لینے کی جلدی میں اپنی بنڈ پیچھے کر رکی تھی۔۔۔
لن پر دباؤ بڑھایا لن کی ٹوپی اندر اتر گئی سئی کی آواز آئی میں نے لن کو آگے بڑھا دیا لن آدھا اندر گیا تو پیچھے کرکے آہستہ آہستہ کرنے لگا۔۔۔۔
کچھ ہی لمحوں میں لن رواں ہو گیا اور میں نے گھسوں کی رفتار تیز کر دی آگے والی بھی ساتھ دے رہی تھی ۔۔۔
گانڈ کو پیچھے لا کر لن لے رہی تھی لن جس طرح روانی سے جا رہا تھا میں یہ تو سمجھ گیا تھا پھدی کافی چدی ہوئی ہے۔۔۔۔
اب جو کھیل رہی تھیں ان میں میری سمجھ کے مطابق چھنو ہی ایسی تھی جس کی پھدی رواھ تھی ۔۔۔
خیر مجھے کیا لینا تھا یہ سوچ کر کہ کون ہے لن لے رہی تھی میں ٹھوک رہا تھا پھدی میں گھسا لن کسی کی پہچان نہیں کرتا۔۔۔۔
جب گھسے تیز کیے تو اس نے کہا ہاں بالو کتنا مزہ دے رہا ہے مجھے پتہ ہوتا تو روز یہاں ملتے ویسے تو تیری بس ہی ہوئی رہتی ہے۔۔۔۔
اب تو کسی کو نہیں بتائے گا نا میری بات تم وعدہ کیا تھا یہ آخری بار ہو گا۔۔۔۔
یہ ہو کیا رہا تھا وہاں ناہید کے انکشافات اور یہاں ایک نئی بات اور کر کون رہی تھی چھنو ہاں جی جس کہ پھدی میں لن گھسائے چود رہا تھا وہ چھنو ہی تھی ۔۔۔۔
اب بالو اس کو کس بات کے لیے بلیک میل کر رہا تھا چھنو تو خود بہت چالو تھی وہ کسی سے کیسے بلیک میل ہو سکتی تھی۔۔۔
میں انہیں سوچوں میں گم پھدی میں لن گھسائے لگاتار گھسے مار رہا تھا چھنو اپنی لے بولتی جا رہی تھی۔۔۔
میرے فارغ ہونے سے پہلے ہی کسی کے پکڑے جانے کا شور بلند ہوا چھنو نے یکدم اپنی گانڈ آگے کھینچی اور شلوار اوپر کرکے باہر بھاگ گئی۔۔۔۔
یہ ہم سب جانتے تھے کہ بالو بہت ڈرپوک قسم کا انسان تھا جسامت میں چاہے ہم سے ڈبل تھا لیکن دلیری اور عقل میں فارغ تھا۔۔۔
چھنو یہ کیسے بھول سکتی تھی کہ بالو وہاں اندھیرےکمرے میں رات کے وقت آئے گا میرے دماغ کی رو ایک بار پھر بھٹک گئی ۔۔۔
میں شلوار کا ناڑا باندھتے ہوئے سوچتا رہا ابھی میں سوچ ہی رہا تھا کہ فرح باجی کی آواز آئئ بلو کہاں ہے۔۔۔۔۔
میں اس وقت باہر نکل چکا تھا تیزی سے سب میں جا کر مل گیا آج میرے سوچنے کا انداز بدل چکا تھا ۔۔۔۔
میں باری باری سب کے چہروں کو پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا چھنو ،بالو ،فرح اور ناہید سب کے چہروں کو باری باری دیکھا ۔۔۔۔
بالو چھنو کو نہیں ناہید کو دیکھ رہا تھا چھنو اپنی مستی میں کھڑی تھی اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا۔۔۔
ناہید کبھی کبھی مجھے دیکھ رہی تھی لیکن میں کچھ اور سوچ رہا تھا۔۔۔
ایسے ہی کافی دیر کھیلتے رہے جب تایا ابو نے ڈانٹ کر کہا بس کرو ہن کی بچے بنے ہوئے جے چلو سو جاؤ سارے۔۔۔۔
سب دبک گئے چھنو کا گھر گاؤں کی دوسری طرف تھا تو اس نے کہا مجھے کون چھوڑ کر آئے گا۔۔۔۔
فرحی باجی ہم میں سب سے بڑی تھیں انہوں نے بالو کو کہا جاؤ چھوڑ آؤ بالو ٹھہرا ڈرپوکل اس نے کہا نہ جی مجھے ڈر لگتا ہے۔۔۔۔
پھر فرح باجی نے مجھے کہا جا بلو تو چھوڑ آ چھنو کو بالو تو کام چور ہی رہے گا ۔۔۔
میں جی باجی کہتے اٹھ کھڑا ہوا میرے ذہن میں پھر وہی بات گھومنے لگی بالو کے بلیک میل کرنے والی میں سوچا رستے میں پوچھوں گا۔۔۔۔
چھنو نے میرے ساتھ گھر سے نکل پڑی تھوڑی دور جا کر میں نے چھنو کو کہا ایک بات پوچھوں تم سے۔۔۔
چھنو بڑی نٹ کھٹ طبیعیت کی تھی یہ سب ہی جانتے تھے اس نے مجھے کندھا مارتے ہوئے کہا پوچھ لو روکا کس نے ہے۔۔۔ہاہا۔۔۔
میں اب سوچنے لگا کیسے پوچھوں بات کہاں سے شروع کروں کوئی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔
چھنو نے میرے کندھے پر اپنا بازو رکھ اور پوچھا کیا ہوا اب پوچھو چھنو کی اجازت ہے۔۔۔اس نے ہاتھ کو گول گول گھما کر کسی ملکہ کے سے انداز میں کہا۔۔۔
میری ہنسی چھوٹ گئی میں نے اس کی نقل اتارتے ہوئے کہا چھنو کی اجازت ہے اور منہ کو ٹیڑھا کر کے بدھی آواز میں کہا۔۔۔
چھنو نے میری کندھے کر ایک چپیڑ لگائی اور بولی دفعہ ہو نہیں پوچھنا تو نہ پوچھ ہوں ہوں۔۔۔ ناک کو سکیڑ کر منہ پھیر کر چلنے لگی۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا بندریا لگ رہی ناک پھلا کر ۔۔۔
چھنو۔۔۔ تو باندر ہویں گا اپنا منہ ویکھیا ای شیشے اچ ۔۔۔
میں۔۔۔ ہاں روز دیکھتا ہوں لیکن تمہیں دیکھ کر یقین ہو گیا کہ بندریا تم ہی ہو کبھی کبھی چھپکلی جیسی حرکتیں بھی کرتی ہو۔۔۔
اس نے میرے تین چار تھپڑ جڑ دئیے ۔۔۔ زور سے نہیں ۔۔۔ پیار سے۔۔
چھنو۔۔۔ پھر چھپکلی کے پیچھے کیوں آتے ہو۔۔جاو کسی پری کے پیچھے۔۔۔
میں۔۔۔ اصل میں چھپکلی مجھے بہت اچھی لگتی ہے ۔۔۔ خوبصورت جسم کو امممم چومنے کو دل کرتا ہے۔۔۔
چھنو یہ سن کر شرما گئی پھر بھی باز نہیں آئی چل جا ایڈا تو یہ مکھن کسی ہور نوں لا میں پاگل نہیں آں۔۔۔
ایسے ہی چھیڑ چھاڑ کرتے اس کا گھر آگیا وہ گھر میں چلی گئی میں نے واپسی کی راہ لی۔۔۔
ابھی تھوڑا ہی دور چلا تھا کہ ایک کتا بھونکتا ہوا پیچھے لگ گیا میں نے آنکھیں سر پر رکھیں اور دوڑ لگا دی پھر گھر آ کر ہی بریک لگی۔۔۔
سونے کے لیے لیٹا تو بھی کافی دیر آج کے واقعات کے بارے میں سوچتا رہا ۔۔۔۔
لیکن ہر بار سوئی فجے پر آ کر ٹکتی مجھے شک فجے پر نہیں ہونا چاہئیے تھا میرا یار تھا لیکن سارے تانے بانے وہیں آ کر رکتے تھے۔۔۔
پھر چھنو نے جو کہا مجھے اس کی سمجھ نہیں آ رہی تھی بالو کو دیکھ کر نہیں لگتا تھا کہ وہ چھنو میں دلچسپی رکھتا ہے۔۔۔۔
ایسے ہی سوچتے سوچتے رات ہو گئی صبح صبح اباجی امی اور باجی کو لے کر شہر کے نکل گئے مجھے تاکید کر گئے کہ شام سے پہلے پہلے آجانا۔۔۔
ابا جی نے چاچا کی موٹر سائیکل لی تھی انہوں نے ڈیوٹی پر جانا تھا اس لیے ساتھ امی اور باجی کو بھی لے گئے۔۔۔۔۔
اس کے کچھ دیر بعد چاچا اور چاچی فرح اور اس سے چھوٹی چاچا کی بیٹی کو لے کر شہر کے لیے نکل پڑے ۔۔۔۔
پیچھے شہر جانے والے میں اور بالو رہ گئے بالو نے مجھے کہا اب یہاں ہم کیا کریں گے شادی ختم ہو گئی ہم بھی چلتے ہیں۔۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے آ جاؤ ٹیوب ویل پر نہا کر آتے ہیں پھر چلے جائیں گے یا وہاں سے ہی نکل جائیں گے۔۔۔
بالو نے ایک شاپر لیا جس میں کچھ کپڑے تھے میں خالی ہاتھ تھا میرا سارا سامان امی لے گئیں تھیں۔۔۔
ہم ٹیوب ویل پر چلے گئے میں نہاتے ہوئے بالو کو چھیڑا تیری توں موجیں لگی ہیں۔۔۔
بالو ۔۔۔۔ کیا مطلب میری کیسے موجیں لگی ہیں۔۔۔
میں۔۔۔ چھنو کی پھدی مارتے ہو اور مجھے لگتا ہے ناہید کی بھی مارتے ہو۔۔۔
بالو۔۔۔ مسکرانے لگا بس بلو تجھے کیا بتاؤں چھنو تو میرے پیچھے ہی پڑ گئی ہے۔۔۔
میں ۔۔۔ وہ کیسے ۔۔۔؟
بالو۔۔۔۔ بتایا تو تھا تمہیں اب بھولا نہ بن۔۔۔
میں۔۔۔ اوہ اچھا اس وقت ہاں مجھے یاد ہے ویسے کل بھی لی تھی تم نے۔۔۔
بالو۔۔۔ نہیں تو تمہیں کس نے کہا۔۔۔۔
میں۔۔۔ میں خود سنا تھا تم رات کو چھنو کو کہہ رہے تھے کسی جگہ چھپنے کا ۔۔۔
بالو۔۔۔ نہیں ایسے نہ لمبی لمبی چھوڑ میں تو ایسا کچھ نہیں کہا ۔۔۔
میں ۔ ۔۔ تم نے نہیں کہا تھا۔۔۔
بالو۔۔۔ نہیں تو۔۔۔
میں ۔۔۔ ہممم پھر مجھے غلط فہمی ہوئی ہو گی ۔۔۔ اچھا یہ ناہید کا کیا سین ہے۔۔۔
بالو۔۔۔ کچھ نہیں یار چھنو کو کہا تھا کہ اس کی بھی لے دو لیکن وہ بس ٹال مٹول کر رہی ہے۔۔۔
میں نے بالو سے باتوں باتوں میں اور بھی کئی باتیں اگلوا لیں یہ تو پکا ہو گیا کہ چھنو بالو سے مرواتی ہے ۔۔۔
چھنو تھی ایک نمبر کی چدکڑ اس کی پھدی ٹھنڈی ہی نہیں ہوتی تھی ۔۔۔
اب فجے والی بات کا پتہ چلنا باقی تھا مجھے سو فیصد یقین ہو گیا کہ چھنو کو فجا بتاتا ہے اور چھنو آگے نشر کرتی ہے۔۔۔۔
اب چھنو ایسا کیوں کرتی ہے یہ سمجھنا بھی باقی تھا میں نے فیصلہ کیا کہ اب اگلی بار جب آوں گا تو سارا کچا چٹھا کھول کر جاؤں گا۔۔۔۔
اب کیا ہوگا میں دوبارہ یہاں کب آوں گا نہیں جانتا تھا کہ آنے والے حالات مجھے کہاں سے کہاں لے جائیں گے۔۔۔۔
ہم نہا کر نکلے بالو نے کہا یہاں سے ہی نکل جاتے ہیں ایک رستہ بس سٹاپ کی طرف جاتا تھا لیکن میں نے کہا نہیں گاؤں سے ہو کر جاتے ہیں۔۔۔
ہم وہاں سے چل پڑے ابھی تھوڑی دور ہی گئے تھے مطلب پگڈنڈی تک نہیں پہنچے تھے کہ فجا ٹریکٹر لے آیا وہ گاؤں جا رہا تھا ۔۔۔۔
ہم ٹریکٹر پر بیٹھ گئے فجے کو کہا ہمیں بس سٹاپ تک چھوڑ آؤ۔۔۔
فجے نے کہا بس سٹاپ تک تو نہیں ہاں میں تمہیں ساتھ والے گاؤں تک چھوڑ دیتا ہوں وہاں سے دس ایکڑ پر بس سٹاپ ہے سڑک کی بجائے یہ رستہ ٹھیک ہے۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے بالو نے آئیں بائیں شائیں کی لیکن فجا ٹریکٹرکو بھگاتا لے گیا۔۔۔
گاؤں کے پاس سے گزرتے ہوئے میرے دل کو کچھ ہوا جیسے میں کچھ کھو رہا ہوں۔۔۔
آج پہلی بار گاؤں سے جاتے ہوئے عجیب سے تاثرات تھے دل ڈوب سا رہا تھا پتہ نہیں ایسا کیوں ہو رہا تھا۔۔۔
ایسالگ رہا تھا جیسے اب کی بار گیا تو پتہ نہیں کب آوں گا ۔۔۔۔آ بھی پاؤں گا یا بس کہیں کھو جاؤں گا۔۔۔
میں نے ایک نظر اپنے گاؤں کو دیکھا فجے کو کہا روکنا نیچے اترا کر گاؤں کی مٹی کو ہاتھ میں لے کر اس کی سوندھی خوشبو کو نتھنوں میں اتارا ۔۔۔
نا چاہتے ہوئے بھی مجھے جانا پڑا ایسا پہلی بار ہو رہا تھا کہ دب بوجھل ہو رہا تھا۔۔۔
فجا ہمیں ساتھ والے گاؤں چھوڑ کر خود وہیں قریب کسی کی زمین میں ہل چلانے کے چلا گیا اور ہم پگڈنڈی پر چلنے لگے۔۔۔
میں تھکے قدموں سے آگے بڑھنے لگا میں پاوں گھسیٹ رہا تھا میرے پاؤں من بھر کے ہو گئے تھے۔۔۔
مجھے کوئی چیز واپس بلا رہی تھی کچھ تو تھا جو میری سمجھ سے بالا تر تھا۔۔۔۔
میں بالو کے پیچھے پیچھے تھکے ہارے مسافر کی طرح چلتا جارہا تھا۔۔۔۔
یکدم مجھے ٹھنڈی ہوا کا جھونکا محسوس ہوا ایسا لگا کسی نے ہوا میں چنبیلی کی خوشبو پھیلا دی ہو۔۔۔
چار سو خوشبو پھیل گئی میرے اندر تک خوشبو اتر گئی میں سانس اندر کھینچ کر اپنے آپ کو معطر کیا۔۔۔
آنکھیں کھول کر اپنے آگے چلتے بالو کو دیکھا تو اپنی مستی میں چلتا جا رہا تھا اس کو اردگرد کی کوئی خبر نہیں تھی۔۔۔
میں سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا یہ خوشبو کا جھونکا کدھر سے آیا تھا جو مجھے معطر کر گیا ۔۔۔۔
بس ایسے ہی لگا تھا یہ سوچ کر میں آگے بڑھتا گیا پھر ایک بار مجھے بھینی بھینی سی خوشبو محسوس ہوئی ۔۔۔
میں رک ہی گیا دائیں بائیں نظریں گھمانے لگا جیسے ہی بائیں طرف نظر پڑی ۔۔۔
ہائے رے قسمت حسن کی دیوی اپنی تمام تر ہوشربائی کے ساتھ مجھ سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی اپنی حسن کی مہک بکھیر رہی تھی۔۔۔
حسن تھا تو کمال تھا دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا اس بھاری پلکیں اٹھیں مجھ پر نظر پڑی ۔۔۔۔ مجھے اپنی نظروں کا خراج مل گیا۔۔۔
اس کی آنکھوں میں شناسائی کی چمک نے مجھے سمجھنے بوجھنے کی حس سے ہی بیگانہ کر دیا ۔۔۔
اس کے چہرے پر آئی ہلکی سی مسکان سے اس کی بائیں گال پر پڑنے والے ڈمپل نے اس کے چہرے کی چمک کو دوبالا کر دیا۔۔۔۔
میں اپنی کھلی آنکھوں سے اس پر نظریں جمائے خود پر قابو کھو بیٹھا بے اختیار میرے قدم اس حسن کی مورت کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔
سرسوں کے کھلے پھول اپنی زردی بکھر رہے تھے ان کے درمیان وہ کسی پری کو مات دے رہی تھی۔۔۔
اس ماہ جبیں کے حسن کے سحر میں جکڑا میں آگے بڑھتے بڑھتے اس کے قریب جا رکا۔۔۔۔
کب ہلے منہ سے لفظ ایسے برآمد ہوئے جیسے میلوں کی مسافت منٹوں طے کر کے آیا مسافر پیاس کی شدت سے سوکھے گلے سے کچھ بولتا ہے۔۔۔
وہ حسن بےپرواہ صرف اتنا بولی جاؤ اس کی مخروطی انگلیوں کے اشاروں کو نہ سمجھ سکا ۔۔۔۔
اس کے لب کھلے ہوا کے دوش پر اس ہلتے لبوں سے موتی بکھیرتے لفظ میری سماعت میں رس گھول گئے۔۔۔۔
میرے پیر تھمے اس کے حکم کو مانا سر جھکایا پاؤں نے واپسی کا رخ لیا ۔۔۔
اس کے ہاتھوں نے شکریہ کے انداز میں مجھے اشارہ دیا میرا دل باغ باغ ہو گیا۔۔۔
ایک دیدار حسن اوپر سے مسکان کی نچھاوری میری ڈھتے قدموں میں جان آ گئی۔۔۔
وہ وہاں سے تیز قدم اٹھاتی اپنے گھر کی طرف چل دی لیکن بار بار اس کا مڑ کر دیکھنا میرے اندر بہت سی خوش فہمیوں کو جنم دے گیا۔۔۔۔
میں نے ایک بار پھر سے اپنا رستہ ناپنا شروع کر دیا اور جس راہ جا رہا تھا سی راہ چلتا سٹاپ تک جا پہنچا۔۔۔۔
اب کی بار چہرے پر مسکراہٹ تھی بجھا دل ایک دم ہشاش بشاش ہو گیا تھا۔۔۔۔
جیسے ہی سٹاپ پر آ کر رکا بالو کی آواز نے میرا سارا موڈ کرکرا کر دیا۔۔۔
وہ مجھے کہہ رہا تھا کہاں مر گیا تھا اگر بس آجاتی تو میں کیسے جاتا۔۔۔
ایسا بزدل انسان میں نے زندگی میں نہیں دیکھا تھا اکیلا بس پر سوار بھی نہیں ہو سکتا تھا۔۔۔۔
میں کھا جانے والی نظروں سے اس کو دیکھا لیکن وہ بھی کوئی ڈھیٹ مٹی کا بنا تھا ۔۔۔۔
خیر اپنی خیالی دنیا سے باہر آتے ہی میں یہ سوچنے لگا میرے ساتھ یہ سب کیا ہوتا ہے ۔۔۔
پہلے بھی جب اس حسین و جمیل پری چہرہ کو دیکھا تھا کئی دن تک ایسے ہی کھویا رہا تھا۔۔۔۔
آج بھی میری ساری تکان سارا بوجھل پن ایک جھلک میں ختم کر گئی۔۔۔۔
آخر یہ سب کیا ہے کیوں ہے کس لیے ہے میرے ساتھ یہ سب ہو کیا رہا ہے ۔۔۔
میں ایسے ہی سوچتا رہا بس آئی اس میں سوار ہوئے اڈے پر اترے میں بالو کے ساتھ ہی ان کے گھر چلا گیا۔۔۔
ہائے رہے ماڑی قسمت بالو جی جیسے ہی گھر میں داخل ہوئے چاچی کہیں جانے کے لیے تیار کھڑی تھی ۔۔۔۔
بالو کو اس نے ساتھ لیا مجھے کہا آج تم یہاں ہی رک جاؤ میں باجی کو فون کرکے بتا دیتی ہوں تمہارے چاچا شام کو آئیں تیری بہنیں گھر میں اکیلی ہیں ۔۔۔
ان کا خیال رکھنا کہیں باہر نہ نکلنا میں کل ہم کل آ جائیں گے ۔۔۔
چاچی کی خالا جو ہمارے ہاں سے کوئی 100 کلومیٹر دور رہتے تھے کافی عرصے سے بیمار تھی فوت ہو گئی تھی۔۔۔
چاچا دوسری شہر میں دوکان چلاتے تھے وہ وہاں تھے ان سے رابطہ نہ ہو سکا اس لیے چاچی اکیلی ہی جا رہی تھی ۔۔۔
چاچی نے امی جی بتا دیا اور تب تک بالو نے نہا لیا اور وہ روانہ ہو گئے میں اندر کمرے میں بیٹھ کر ٹی وی دیکھنے لگا۔۔۔۔
اس دن پاکستان اور ویسٹ انڈیز کا ورلڈ کپ کا میچ چل رہا تھا میں میچ لگا کر بیٹھ گیا ۔۔۔
لیکن چھوٹی گڑیا نے رولا ڈال لیا میں نہیں میں نہیں مجھے کچھ سمجھ نہ آئی۔۔۔۔۔
وہ چارپائی سے نیچے اتری اور فرش ہر لیٹ لیٹ گئی میں نے اس کو پچکارتے ہوئے پوچھا کیا ہوا ۔۔۔
اس نے آنسو بہاتے ہوئے کہا میں نے کالٹون ڈیکھنے ہیں ہوں ہوں ہوں ۔۔۔۔
ایک بار پھر اس کا رونے کا ریکارڈ چالو ہو گیا۔۔۔
میں نے جلدی سے چینل چینج کیا اور اس کو اٹھا کر چارپائی پر بٹھا دیا۔۔۔
وہ ایک روبوٹ کی طرف بیٹھتے ہی چپ ہو گئی ایک سیکنڈ بھی نہ گزرا ہو گا کہ وہ تالیاں بجا کر ہنسنے لگی۔۔۔
مجھے مجبوراً اس کے ساتھ کارٹون دیکھنے پڑے مجھے خیال آیا باجی فرح کہاں ہیں وہ تو صبح ہی چاچی کے ساتھ آگئی تھی۔۔۔
میں سوچ ہی رہا تھا کہ غسل خانے کا دروازہ کھلا اور باجی فرحی کھلے بالوں کے ساتھ باہر نکلی۔۔۔
چاچا کا گھر دو کمروں ایک بیٹھک کچن اور ایک غسل خانہ اور اس کے ساتھ ایک الگ لیٹرین پر مشتمل تھا ۔۔۔
لیٹرین میں بھی نہانے کی جگہ تھی لیکن الگ نہانے کے لیے بھی غسل خانہ بنایا گیا تھا۔۔۔۔
باجی فرحی کو گیلے اور کھلے بالوں کے ساتھ دیکھ کر میں دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔۔
نہانے کی وجہ سے ان کے کپڑے بھی گیلے ہو کر جسم سے چپکے تھے جو ان کے فگر کو اور قیامت خیز بنا رہے تھے۔۔۔۔
جگہ جگہ سے گیلے کپڑوں سے جھلکتا بدن بڑے بڑے ممے جو کہ برا کی قید سے آزاد تھے گیلے کپڑوں کو پھاڑ کر باہر آرہے تھے۔۔۔۔
میں منہ کھولے باجی فرحی کے جسم کے نشیب و فراز کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
وہ صحن میں کھڑے ہو کر اپنے بالوں کو تولیے سے خشک کر رہی تھی میری آنکھوں کی تپش تو پہنچی یا نہیں پہنچی لیکن میرے اندر کا ٹھرک پن برقی لہروں کی صورت ان کے جسم سے آر پار ہو رہا تھا۔۔۔
کہتے ہیں عورت ذات بہت حساس ہوتی ہے وہ مرد کی نظروں سے اس کے اندر چھپی سوچ کا اندازہ لگا لیتی ہے۔۔۔
باجی فرحی نے مجھے اپنی طرف دیکھتے نہیں پایا تھا لیکن پھر بھی ان کی چھٹی حس نے انہیں متنبہ کر دیا تھا ۔۔۔
وہ بال خشک کرتی کرتی ایک دم مجھے دیکھ کر ایک طرف ہٹ گئی۔۔۔
میں پھر سے ٹی وی پر چھوٹی کے ساتھ کارٹون دیکھنے لگ گیا چاچا لوگوں نے وہاں ایک احاطہ کرائے پر لے کر بھینس رکھی ہوئی تھی ۔۔۔
چاچی جاتے جاتے مجھے بھینس کا خیال رکھنے کا بھی کہہ گئی تھی اور چونکہ فرحی باجی بھینس کا دودھ بھی دوہو لیتی تھی اس لیے مجھے یہ بھی کہہ گئی تھی۔۔۔
میں بار بار دروازے سے باہر دیکھ رہا تھا اس نیت سے کہ مجھے پھر سے ابلتے شباب کا نظارہ مل جائے ۔۔۔
پھر دماغ میں چاچی کی بات آئی میں نے سوچا کہ اور اس پر عمل کر لیا۔۔۔
میں اٹھ کر باہر صحن میں گیا باجی فرحی کو کہا چاچی مجھے کہہ گئی تھی کہ بھینس کا خیال کرنا میں وہ دیکھ آوں مجھے بتا دو کہاں ہے بھینس ۔۔۔
فرحی باجی نے مجھے بڑے غور سے دیکھا اور بولی میں جاتی ہوں تمہارے ساتھ تم کیا دیکھو گے پہلے کبھی بھینس کا چارہ وغیرہ بھی کیا ہے۔۔۔
میں اس کی بات سن کر شرمندہ سا ہو گیا کیونکہ اس کی بات کا مطلب وہ نہیں تھا جو وہ کہہ رہی تھی۔۔۔
اس کی آنکھیں اور لہجہ کچھ اور کی کہہ رہے تھے اس نے کہا ایک منٹ رکو وہ اندر گئی چھوٹی کو ساتھ لیا چابی اٹھائی اور چادر لے کر باہر آگئی۔۔۔
ہم نے گھر کو باہر سے تالا لگایا اور ساتھ والی گلی میں بھینس والے احاطے میں چلے گئے۔۔۔
وہاں جا کر اس نے کہا لو دیکھ لو بھینس اور رکھو خیال اس کا اس کے چہرے پر بڑی ذو معنی مسکراہٹ تھی۔۔۔
میں آگے بڑا بھینس کے سامنے چارہ دیکھا کافی پڑا تھا میں پانی پلانے والا برتن اٹھایا اس میں پانی ڈال کر بھینس کے سامنے رکھ دیا۔۔۔
وہ بڑے غور سے مجھے دیکھتی رہی میں نظریں جھکائے اپنے کام میں مگن رہا ۔۔۔
بھینس نے پانی پیا اور پھر سے چارہ کھانے لگی۔۔۔
باجی فرحی نے ایک دودھ والا برتن لیا اور بھینس کے نیچے بیٹھ گئی چھوٹی وہاں ایسے ہی بھاگنے لگی۔۔۔
لیکن میری ساری توجہ بھینس کے نیچے بیٹھی باجی فرح کی طرف تھی۔۔۔
اس نے پانی سے بھینس کے تھن دھوئے اور تھنوں پر اپنے ہاتھ کی مٹھی بنا کر اوپر نیچے کرنے لگی۔۔۔
میں اس کے ہاتھ کو دیکھنے کے ساتھ ساتھ اس کے بیٹھنے سے باہر کو نکلی گانڈ کو بھی بار بار نظر بچا کر دیکھ رہا تھا۔۔۔
افففف گانڈ نے تو میرا لوڑا ٹائٹ کر دیا تھا لیکن ڈرتا کیا کرتا بس صبر ہی کیا۔۔۔
جیسے جیسے وہ تھنوں پر مٹھی پھیرتی جاتی ویسے ویسے تھن ٹائٹ ہوتے جاتے۔۔۔
وہ نظریں گھما کر مجھے بھی دیکھ لیتی ادھر تھن ٹائٹ ہوتے جارہے تھے ادھر میری حالت تھن ٹائٹ ہوتے دیکھ کر ٹائٹ ہوتی جا رہی تھی۔۔۔
فرح باجی کے چہرے کے تاثرات بھی تھن ٹائٹ ہونے کے ساتھ ساتھ بدلتے جا رہے تھے۔۔۔
میں لن کو چڈوں میں دبا کر ایک ٹانگ دوسری ٹانگ سے گزار کر دیوار کے ساتھ ٹیک لگا لی تھی۔۔۔
جب تھن ٹائٹ ہو گئے تو فرحی باجی نے برتن نیچے رکھا اور دبا دبا کر دودھ نکالنا شروع کر دیا ۔۔۔
اب کی بار وہ اپنا ایک ہونٹ دوسرے کے نیچے دبائے دونوں ہاتھوں سے تھنوں کو نیچے کھینچ رہی تھی۔۔۔
لیکن اس کی آنکھوں میں جو بار بار میری طرف اٹھ رہی تھیں کچھ انوکھا تھا جیسے کہہ رہی ہو کہ یہ دیکھ لو میں ان کا یہ حال کر رہی ہوں تم کس کھیت کی مولی ہو۔۔۔
میں بھی باز آنا والا نہیں تھا میں نے کہا باجی میں کوشش کروں دودھ نکالنے کی ۔۔۔
وہ مسکرائی اور تھوڑا سا ایک طرف کھسک کر مجھے کہا آجاؤ کوشش کرکے دیکھ لو۔۔۔
میں ان کے ساتھ نیچے بیٹھ گیا انہوں نے مجھے میرا ہاتھ پکڑ کر مٹھی بنا کر سمجھایا میں نے تھن کو پکڑا اور دودھ دوہنے لگا۔۔۔
ایک منٹ میں ہی میرے بازو درد کرنے لگ گئیے لیکن میں ہار ماننے والوں میں سے نہیں تھا ویسے بھی میرے کندھے سے فرح باجی کا کندھا ٹچ ہو رہا تھا۔۔۔۔
اس لیے اپنی مردانگی دکھانا ضروری تھا لگاتار لگا رہا جب میرے بازو شل ہونے لگے تو فرح باجی نے خود ہی کہا بس کرو باقی میں نکال لیتی ہوں۔۔۔
میں نے کچھ نہ کہا فوراً کھڑا ہو گیا لیکن کھڑا ہوتے ہوئے جان بوجھ کر اپنا کندھا آگے کرکے پیچھے ہوا جس سے میرا کندھا ان کے مموں کو چھو گیا۔۔۔۔
میں نے موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا میں اٹھ کر پیچھے ہو گیا اور انہوں نے ایک منٹ میں بھینس کا دودھ دوہو لیا۔۔۔
اس کے بعد اس نے بھینس کے سامنے بنی کھرلی میں کافی سارا چارہ ڈالا اور دودھ والا برتن اٹھا کر چھوٹی کو آواز دی اور ہم واپس گھر آگئے۔۔۔
گھر کے سامنے آکر میں نے تالا کھولا اور اندر داخل ہوئے چھوٹی بھاگ کر اندر گھس گئی پھر اس نے جاتے کی ٹی لگا لیا۔۔۔
چاجی فرح دودھ لے کر کچن میں گئی شام ہونے والی ہو گئی تھی اس نے دودھ گرم کرنے لیے رکھ دیا اور ااندر کمرے میں اپنا دوپٹہ لے لیا۔۔۔
پھر کنگھا لے کر ایک بار پھر صحن میں جا کر بال بنانے لگی لیکن اس بار وہ ایک طرف ہو بیٹھی تھی جس سے میری نظروں کے سامنے نہ آئی۔۔۔
بال کنگھی کرکے وہ اندر آئی اور مجھ سے پوچھا کتنی روٹیاں کھاؤ گے میں بتایا اور وہ روٹیاں بنانے کچن میں گھس گئی۔۔۔
چھوٹی کے لیے دودھ ڈال کر اس نے مجھے آواز دی میں کچن میں گیا تو میری سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی۔۔۔
باجی فرحی بغیر دوپٹہ اوڑھے روٹیاں بنا رہی تھی کیا نظارہ تھا بڑے بڑے ممے قمیض کے گلے کو پھاڑ کر اچھل اچھل کر باہر آ رہے تھے۔۔۔
نیچے سے مموں نے قمیض کو پیٹ کے اوپر ہی اپنے نیچے دبا رکھا تھا میری نظر ان کے مموں پر جا رکی اور میں بھول گیا کس لیے آیا تھا۔۔۔
تھوڑی اونچی آواز سے فرح باجی نے مجھے کہا یہ لو دودھ اور چھوٹی کو دے دو وہ بھوکی نہ سو جائے۔۔۔
میں نے نا چاہتے ہوئے بھی اپنی نظریں جھکا لیں دودھ کا فیڈر پکڑا اور کمرے میں آنے سے پہلے پھر ان کی مموں کا نظارہ دیکھا لیکن اب فرح نے اپنی سمت بدل کر چولہے کی طرف کی ہوئی تھی۔۔۔
ایک طرف کا مما چھوٹے سائز کے غبارے کی طرح ان کی بغل سے مجھے اپنی طرف بلا رہا تھا۔۔۔
میں پھر رک گیا وہ روٹی کو پرت کر سیدھی ہوئی مجھے ہونقوں کی طرح منہ کھولے دیکھتا پایا تو بولی اب جاؤ بھی کہ سارا دودھ خراب کر کے جاؤ گے۔۔۔۔۔۔۔۔