گاؤں سے شہر تک۔۔۔۔(قسط 35)

میں اب اس انتظار میں تھا کہ

چھنو کس کا نام لیتی ہے لیکن چھنو نے بجائے کسی کا نام لینے کے اس کا ہاتھ پکڑا اور واپس چل پڑی۔۔۔

وہ لڑکی کہتی رہی چھنو ہن دس وی کون اے جنے بلو نوں دتی اے ۔۔۔۔۔

چھنو کچھ نہ بولی وہ لڑکی بار بار پوچھتی رہی مجھے ان کی آواز آنا بند ہو گئی تو میں نے بھی وہاں سے نکلنے میں ہی بہتری سمجھی کہیں کوئی سانپ ہی گانڈ نہ گھس جائے۔۔۔۔

واپس آیا کچھ دیر فجے اور باقی کزنوں کے پاس بیٹھا گپ سپ لگاتا رہا ہنسی مذاق چلتا رہا۔۔۔

ادھر مہندی کی رسمیں ختم ہو رہی تھیں ہم نے سونے کے لیے جگہ ڈھوندی کل جہاں ہم لوگ سوئے تھے وہ جگہ پر ہو چکی تھی کیونکہ آج کچھ اور مہمان آئے تھے جنہوں نے کل جانا تھا۔۔۔

ہم بھی ایک ایک چارپائی کر دو دو لوگ سو گئے۔۔۔

صبح پھر جلدی اٹھنا پڑا نہانے کے لیے ہم لوگ ٹیوب ویل پر گئے رستے میں فجے نے مجھے آہستہ چلنے کا کہا میں آہستہ ہو گیا باقی کزن آگے نکل گئے۔۔۔

فجے نے مجھے کہا سنا رات کا کیا سین بنا لگتا ہے تیرا لن ٹھنڈا نہیں ہوتا ۔۔۔

میں نے اس کو بتایا کچھ بھی نہیں ہوا ۔۔۔

فجے نے کہا خیال رکھا کر کافی لوگوں نے تمہں جاتا ہوا دیکھا تھا لیکن وہ تو ناہید جلدی آگئی تھی نہیں تو تیرا بانڈا پھوٹ جانا تھا۔۔۔

میں بس ہممن کہہ کر چپ ہو گیا ہم جیسے ہی اس کی سہیلی کے گھر کے پاس پہنچے اب یہ تو مجھے نہیں پتہ تھا کہ اس کا نمبر کونسا ہے ۔۔۔

فجے نے کہا تو اس دن چنگا نیں کیتا اے سالی ہن مینوں نیں دیندی گالاں کڈ دی اے۔۔۔

ساتھ کی ہنسنے لگا اور بولا ویسے تم نے چنگا ای کیتا ہے میری جان لینی کی ہوئی تھی اس نے۔۔۔

ایسے ہی باتیں کرتے ہم ان کے دروازے کے پاس پہنچ گئے اب قسمت کی کرنی کہ اسی وقت وہ لڑکی باہر نکلی اس نے فجے کو دیکھا پھر اس کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔۔۔

میں نے اس کی نظروں میں اپنے لیے کافی کچھ دیکھا فجے نے میری طرف دیکھا مجھے کندھا مارا ۔۔۔

میں نے پھر اس کی طرف دیکھا تو اس نے آنکھوں سے کچھ اشارا کیا مجھے سمجھ نہ آئی۔۔۔

اس نے آنکھوں سے پھر اشارہ کرتے ہوئے آگے والے کھیت کی طرف منہ کیا میں نے اس طرف دیکھا تو مکئی کی فصل تھی۔۔۔

میں سمجھ گیا وہ مجھے وہاں بلا رہی ہے میں نے بھی ہلکا سا سر ہلایا اور آگے چل دیا۔۔۔

وہ واپس گھر گئی ہم چلتے ہوئے آگے چلے گئے جب آگے نکل گئے تو فجے نے کہا کی ارادہ اے پہلے پھدی دا ناشتہ کرنا اے یا نہانا اے۔۔۔

میں مسکرا دیا اور بولا ہھدی دا ناشتہ مل جائے تو ہھر اور کیا چاہئیے۔۔۔

میں مڑ کر دیکھا تو وہ دوسری پگڈنڈی پر چلتی ہوئی مکئی کی طرف جا رہی تھی میں نے فجے کو کہا کی ارادہ اے ہن ۔۔۔

فجا بولا جا مزے کر میں آگے کا دیکھ کر آتا ہوں بس خیال رکھیں کویی مسئلہ نہ ہو جائے۔۔۔۔

میں نے ہممن کیا اور مکئی میں داخل ہو گیا ایک سیدھ میں چلتا ہوا آگے نکلتا گیا ابھی کھیت کے درمیان میں بھی نیں گیا تھا کہ۔۔۔وہاں مجھے کسی کی کھسر پھسر سنائی دی اب مجھے تشویش ہونے لگی کہ کہیں یہ اس کی چال کی نہ ہو۔۔۔۔

میں رک کر آواز سننے کی کوشش کرنے لگا مجھے تھوڑا آگے ہونا پڑا جب مجھے آواز واضح سنائی دی تو پتہ چلا کہ وہ میرے تایا کا بیٹا تھا جو کسی کو پھدی دینے کا کہہ رہا تھا۔۔۔۔

لڑکی انکار کر رہی تھی آخر لڑکی مان گئ پھر کچھ ہلچل ہوئی اور اس کے بعد ہلکی سی آہ کی آواز آئی پھر پتوں کے ہلنے اور ہلکی ہلکی آہ ہولی کر کی آوازیں مکس ہونے لگیں۔۔۔

میں لیٹ کر آگے بڑھا اب میں اس جگہ پہنچ گیا جہاں سے مجھے وہ دونوں صاف دکھائی دے رہے تھے۔۔۔

میرے کزن نے لڑکی کی ٹانگیں اٹھائی ہوئی تھیں اور اپنا لن اندر کر کے زور زور سے گھسے مار رہا تھا۔۔۔

چٹا ان پڑھ ہو کر وہ ایک خوبصورت لڑکی کو مکئی میں ہٹائے واجبی سی صورت کے باوجود پھدی بجا رہا تھا۔۔۔

میرے لیے یہ حیرت کم نہیں تھی کہ اس نے جب لن باہر نکالا تو مجھے لگا میں کوئی پورن فلم دیکھ رہا ہوں۔۔۔۔

کھوتے جتنا لمبا لن سارا ہی پھدی میں ڈالا ہوا تھا اور وہ لڑکی بہت آرام سے لے رہی تھی۔۔۔

مجھے وہاں رکنا مناسب نہ لگا میں لیٹ کر خود کو گھسیٹتا ہوا وہاں سے دور نکل آیا ابھی میں دوسری طرف کے کنارے کے پاس ہی پہنچا تھا کہ مجھے کسی نے کہا کتھے رہ گیا سی۔۔۔

میں نے اس کو پہلے تو اندر والے سین کا بتانے کا سوچا پھر کہا بلاوجہ کیا ضرورت ہے کسی کے رنگ میں بھنگ ڈالوں۔۔۔

اس کو کہانی سنا دی اس نے کہا ہن جلدی کر آجا میں بہانہ لگا کر آئئ ہوں کہ جنگل پانی کرنے جا رہی ہوں۔۔۔

اس نے جلدی سے شلوار نیچے کی اور لیٹ گئئ میرا لن تو اندر کا سین دیکھ کر کی تپا ہوا تھا ۔۔۔

میں نے بھی شلوار نیچے کی لن نکالا اور اس کی ٹانگوں کے بیچ آ کر بیٹھ گیا۔۔۔

لن پر تھوک لگایا اور پھدی پر سیٹ کرکے گھسا دیا۔۔۔

آرام سے گھسایا کیونکہ لن خشک تھا اس لیے کئی کوششوں کے بعد آدھا اندر گیا۔۔۔

میں نے آدھے کو کہ اندر باہر کرنا شروع کر دیا لیکن زیادہ تیز نہ کر سکا کچھ دیر آرام سے آدھا ہی کرتا رہا اس کے بعد تھوڑا تھوڑا مزید آگے بڑھاتا گیا۔۔۔

ایک وقت آیا کہ سارا ہی اندر ہو گیا میں نے اس کی ٹانگیں اوپر اٹھائیں اور لن کو گیرائی میں اتار کر گھسے مارنے لگا۔۔۔۔

میں نے بہت تیز تیز گھسے مارنے شروع کر دئیے ایک دم اتنے تیز گھسے پھدی میں لن رواں نہیں تھا ۔۔۔

اس کی آہ آہ ارام نال کی آواز کافی اونچی آئی لیکن میں نے اس کی کسی بات پر غور نہ کیا اور گھسے مارتا رہا ۔۔۔

یکدم بھونچال سا آگیا میں گھسے مارنے میں اس قدر مگن تھا کہ مجھے اس کی آواز سنائی ہی نہیں دے رہی تھی۔۔۔

کسی نے مجھے دبوچ لیا میری گردن میں ہاتھ اپنا بازو ڈال کر اوپر کھینچ لیا۔۔۔

میں نے آنکھیں کھولیں تو میری نیچے لیٹی وہ بھی تھر تھر کانپ رہی تھی۔۔۔

کچھ لمحوں کے لیے مجھے سمجھ نہ آئی ہو کیا گیا جب میں کچھ سمجھنے کے قابل ہوا تو میں نے اٹھنے کی کوشش کی ۔۔۔

میری کوشش سے میرا جسم پکڑ نے والے کے جسم سے ٹچ ہوا تو مجھے پتہ چلا وہ بھی کوئی عورت ہے۔۔۔

میں نے اسی طرح ایک ہاتھ سے شلوار کو پکڑتے ہوئے کھڑا ہونے کی کوشش کی اوپر ہو گیا لن ایک جھٹکے سے باہر آیا۔۔۔

لن آج ابھی تک اپنے جوبن پر تھا میں شلوار سنبھالے اٹھنے لگا جیسے جیسے اوپر آتا جاتا اس عورت یا لڑکی جو بھی تھی اس کا جسم میرے ساتھ چپکتا جاتا۔۔۔۔

ساتھ ساتھ اس نے اب مجھے ڈرانے بھی شروع کر دیا اس نے اونچی آونچی آوازیں نکالنا شروع کر دیں۔۔۔

وہ مجھے اچھی خاصی غلیظ قسم کی گالیاں دے رہی تھی میرے اٹھنے کی دیر تھی میرے نیچے سے نکل کر جو اس لڑکی نے جو میرے حق میں اچھا کیا وہ یہ تھا کہ اس نے اس عورت کو قابو کر کے مجھے چھڑوانے کی کوشش کی۔۔۔۔

مجھے موقع مل گیا میں نے جلدی میں الٹا سیدھا ناڑا باندھا تب تک وہ عورت اب نجھ سے چدوانے والی سے الجھ رہی تھی ساتھ میں مجھے بھی ایک بازو میری گردن میں ڈالے قابو کیے ہوئے تھی۔۔۔۔

میں جیسے ہی سیدھا ہوا اس عورت کی گرفت سے نکل گیا تو اس نے مجھے مارتے ہوئے میری ماں بہن ایک کر دی۔۔۔۔

سالی کی زبان بہت غلیظ تھی بہت ہی اشلیل گالیاں دے رہی تھی اس کا ہاتھ بھی بہت بھاری تھا یہ مجھے اج بھی یاد ہے کتنا درد ہوا تھا۔۔۔

اس کی گالیاں بہت اونچی آواز میں تھیں جس کی وجہ سے اس لڑکی نے کہا جلدی نکل جا کویی اور آ جائے گا۔۔۔

میں نے اس کی بات سنتے ہی آو دیکھا نہ تاو وہاں سے مکئی کے اندر ہی دوڑ لگا دی۔۔۔

میں سر پٹ دوڑتا ہوا مکئی سے نکلا اور ٹیوب ویل کی طرف دوڑ لگا دی ابھی تھوڑا ہی دور گیا تھا کہ مجھے فجے نے سامنے سے آواز دے کر روکا۔۔۔۔

میں نے ہانپتے ہوئے کہا وہاں وہ کوئی عورت اس سے زیادہ بول نہ سکا۔۔۔۔۔

فجے نے مجھے کہا ٹھنڈ رکھ تسلی سے بتا کیا ہوا ہے آرام سے بیٹھ کر بات کرتے ہیں اس نے ایک درخت کی طرف اشارہ کیا۔۔۔

میں نے کہا یہاں نہیں آؤ ٹیوب ویل پر چلتے ہیں ہم چلتے ہوئے آگے جانے لگے میں بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہا تھا۔۔۔

فجے نے پھر کہا اب بتا بھی دو کیا ہوا ہے میں نے اس کو ٹھہر کر سانس بحال کرتے ہوئے کہا وہاں کوئی آگیا تھا۔۔۔

گڑ بڑ ہوگئی ہے یار مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے اس نے مجھے پکڑ لیا تھا میں بھاگ کر آیا ہوں۔۔۔

فجے نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو بولا اوئے یہ کون تیز تیز آرہا ہے میں نے پیچھے نہ دیکھا وہاں سے سپیڈ لگا دی ۔۔۔۔

میں وہاں سے بھاگا تو جا کر سیدھا ٹیوب ویل کے سامنے بنے کھاڈے میں جا کر چھلانگ لگا دی ۔۔۔

مجھے یہ بھی فکر نہیں تھی کہ کپڑے بھیگ جائیں گے بس پتہ نہیں دماغ میں کیا آئی۔۔۔

کچھ دیر پانی کے اندر رہا اپنے آپ کو ایزی کیا جسم کے ساتھ دماغ بھی ٹھنڈا ہوا ۔۔۔

دماغ نے کام کرنا شروع کیا باہر نکل کر دیکھا تو میرے تائے کا بیٹا اور فجا قریب اگئے تھے وہ دونوں کوئی بات کرتے آرہے تھے ۔۔۔

فجے نے مجھے اشارے سے باہر آنے کا کہا میں باہر نکلا وہ کچھ دور ہی رک گئے میں ان کے پاس چلا گیا۔۔۔

فجے نے کہا پھدی دیا تو کوئی نواں ای چن چڑھایا کر تینوں کوئی عقل وی ہے کہ نہیں پتہ نہیں تیرے دماغ وچ پھدی ای وڑی رہندی اے۔۔۔۔

میں نے کہا لوڑا لینی دیا بکواس نہ کر سیدھی طرح بھونک کی ہویا اے۔۔۔

فجے کو بڑا غصہ آیا نے کہا ایک حرامی پن کرتا رہندا ہے اوپر سے مجھے لوڑا دکھاتا ہے ۔۔۔

اس ماں کی پھدی مار رہا تھا آرام سے نہیں کر سکتا تھا یا اس کے منہ میں لن ٹھوک دیتا اس کی آواز نہ نکلتی۔۔۔۔

میں کھسیا گیا اور کہا اب جو ہونا تھا ہو گیا آگے کی بتاؤ کیا کریں۔۔۔

فجا معاملہ گڑ بڑ ہو گیا ہے یہ روسی (میرے تائے کا بیٹا جس کا سیدھا نام تو سعود تھا لیکن ہم اس کو روسی کہتے تھے ) یہ بھی وہاں اس کی کزن کے ساتھ لگا تھا تیرے چکر میں یہ بھی وہاں سے پھنستے پھسنتے بچا ہے یا یہ سمجھ لو پھنس گیا۔۔۔

میں یہ تو جانتا تھا کہ وہ کسی کی پھدی خوب جم کر مار رہا تھا یہ مجھے بھول گیا تھا کہ یا یوں سمجھ لیں میں یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ یہ وہاں سے پہلے ہی نکل گیا ہوگا۔۔۔

جبکہ معاملہ اس کے برعکس ہوا وہ ابھی اس کے ساتھ ہی تھا کر رہا تھا یا فارغ ہو کر بیٹھے تھے جو بھی تھا میری وجہ سے وہ نظر میں آگیا۔۔۔

فجے نے بتایا کہ میں وہاں سے بھاگ آیا جبکہ یہ جب شور سنا تو وہاں ہی چھپ کر بیٹھ گیا جب کہ اس کے ساتھ والی لڑکی ساتھ والی جوار کی فصل میں چلی گئی۔۔۔

اس نے سمجھا کوئی اور معاملہ ہے باہر کوئی لڑائی وغیرہ ہو گئی ہے لیکن جب مکئی کے اندر ہل چل ہوئی تو یہ وہاں سے کھسکتا ہو باہر نکلا ۔۔۔

تیز تیز چلنے لگا پیچھے سے اس عورت جے شور سے جو آدمی اور عورتیں وہاں آئی تھیں وہ بھی اس طرف سے نکل آئے ۔۔۔

آدمیوں نے اس کو دیکھ لیا تھا کہ یہ وہاں سے گزر رہا ہے اب ان کا شک سیدھا روسی پر جانا تھا اس لیے وہ یہ جان کر کہ میں وہاں کسی کی پھدی وجا رہا تھا پریشان ہو گیا تھا۔۔۔۔

پھر فجے نے مجھ سے پوچھا کیا تمہیں اس عورت نے دیکھ لیا تھا مطلب کہ تمہارا چہرہ دیکھا ۔۔

میں نے اس کو ساری کہانی سنائی کہ کیسے اس نے مجھے پیچھے سے دبوچ لیا تھا جبکہ میرا منہ دوسری ظرف تھا ۔۔۔

فجا سب سننے کے بعد بولا یہ تو ٹھیک ہو گیا جیسے تم نے بتایا اس سے تو لگتا ہے کہ اس نے تمہیں نہیں دیکھا۔۔۔۔

میں نے کہا ہو سکتا ہے چھڑوانے کے چکر میں میرا چہرہ ادھر ہو گیا ہو لیکن مجھے یاد نہیں کہ ایسا ہو گا۔۔۔۔

ان دونوں نے کافی دیر میرے ساتھ اس موضوع پر بات کی لیکن جو بھی تھا میری بنڈ پاٹی ہوئی تھی۔۔۔

ہم وہاں نہاتے رہے میں نے واپسی پر گھر جانے کے لیے فجے سے سڑک کا راستہ اختیار کرنے کا کہا ۔۔۔

فجا میری بات سمجھتا تھا اس نے حامی بھر لی باقی سب اسی پگڈنڈی کے راستے گئے ہم دونوں سڑک کے راستے گھر چلے گئے۔۔۔

گھر جا کر بھی میں پریشان ہی رہا جب بھی کوئی عورت گھر میں داخل ہوتی یہ دھڑنا لگا رہتا کہ میری شکایت لے کر آئی ہے۔۔۔

اسی کشمکش میں ہی کافی وقت گزر گیا مجھے اردگرد کی کوئی فکر نہیں تھی۔۔۔

جب کچھ حوصلہ ہوا تو دل بہلانے کے لیے میں نے دوکان پر جانے کا ارادہ کیا اس کے لیے میں گھر سے نکل پڑا۔۔۔

دوکان پر جانے کے لیے مجھے چھنو کے گھر کے سامنے سے گزرنا تھا جیسے ہی میں چھنو کے گھر کے سامنے سے گزرنے لگا میرے ایک رشتہ دار لڑکے نے مجھے چھنو کا پیغام دیا۔۔۔

اس نے کہا بھائی میں آپ کو ہی ڈھونڈ رہا تھا دو تین بار آپ کے گھر چکر لگا کر آیا ہوں آپ نہیں تھے۔۔۔

میں نے پوچھا خیریت ہے کوئی کام تھا تو اس نے بتایا مجھے کوئی کام نہیں ۔۔۔

میں نے تو پھر کیوں مجھے ڈھونڈ رہے تھے جب کوئی کام نہیں تھا میں غصے سے اس کو جواب دے کر چل پڑا۔۔۔

تو اس لڑکے نے جس کی عمر بمشکل کوئی آٹھ سال ہو گی مجھے روکتے ہوئے کہا کام مجھے نہیں کسی اور کو ہے۔۔۔

میں رک گیا اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو اس نے دانت نکالنے شروع کر دئیے۔۔۔

جب میں ںے غصے سے اپنی آنکھیں پھیری تو اس نے اپنی ہتھیلی آگے بڑھائی میں کچھ نہ سمجھ سکا ۔۔۔

اس نے ہاتھ کو ہلایا لیکن میرے پلے ککھ نہ پڑا تو میں نے پوچھ ہی لیا کیا۔۔۔۔؟

اس نے کہا آپ بھی بدھو ہو کچھ دو گے تو بتاؤں گا۔۔۔

مجھے اس کی بات پر غصہ تو آیا لیکن ایک سسپنس پیدا کر دیا تھا اس چھوٹو نے میں نے جیب میں ہاتھ ڈالا ایک اٹھنی تھی ۔۔۔

میں نے وہ نکال کر اپنی انگلیوں میں پکڑی اس کو دکھاتے ہوئے کہا یہ دیکھو دیتا ہوں پہلے بتاؤ۔۔۔

بچہ بڑا تیز تھا بولا نہ بھائی اگر پوچھنا ہے تو پہلے مجھے دو بعد والے چکر میں پہلے ہی میرے کافی پیسے لوگوں کی طرف پھنسے ہوئے ہیں۔۔۔۔

میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا ساری پریشانی جاتی رہی ہنسنتے ہوئے میں نے وہ اٹھنی اس کی ہتھیلی پر رکھی ۔۔۔

اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور کر چھنو کے گھر کے ساتھ ساتھ چلتا ہوا چھنو کے گھر کی پچھلی طرف بنی ان کی ڈیرہ کم بیٹھک کے سامنے لے گیا۔۔۔

آخری بار جب میں چھنو سے یہاں ملا تھا تب صرف بیٹھک تھی لیکن اب کافی بڑھا دیا تھا ان لوگوں نے بیٹھک کے سامنے والی جگہ پر بھی چاردیواری کر دی گئی تھی۔۔۔

میں نے اس چھوٹو سے پوچھا یہاں کیا ہے ۔۔

بچہ بھی پوری ٹاکی تھا اس نے کہا اب میں یہ بھی سمجھاؤں کیا کرنا ہے اندر جاؤ خود دیکھ لو کیا کرنا ہے میراکام ہو گیا۔۔۔۔

میں نے ادھر ادھر نظر دوڑائی گلی خالی تھی میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ اندر جاؤں یا نہ جاؤں چھوٹو نے دروازہ دھکیل کر کھول دیا اور مجھے اندر جانے کا کہا۔۔۔

چھوٹو نے یہ بھی کہا یہاں رک کر مجھے خومخواہ مرواؤ گے میری ہنسی چھوٹ گئی میں نے اس کے سر پر پیار سے چپت لگائی اور اندر چلا گیا۔۔۔۔

اندر داخل ہو کر سامنے دیکھا تو کمرے کے دروازے میں چھنو اپنی کمر پر ہاتھ رکھے کھڑی تھی۔۔۔

میں آہستہ چلتا ہوا اس کے پاس گیا اس نے مجھے اندر جانے کا کہا اور بہت ہی دھیمی آواز میں بولی گلی میں کوئی تھا تو نہیں۔۔۔

میں نے نفی میں سر ہلایا وہ دروازے کے پاس گئی اس نے سر باہر نکال کر جائزہ لیا اور دروازہ بند کر دیا ۔۔۔

میں کمرے کاجائزہ لینے لگا جہاں پہلے صرف چارپائی تھی وہاں اب ایک عدد صوفہ سیٹ بھی پڑا تھا۔۔۔۔

الغرض سارا کمرہ کی اچھے سے سجایا گیا تھا دیواروں پر خوبصورت نقش و نگار تھے فرش پر کارپٹ بچھا ہوا تھا ۔۔۔۔

چھنو دروازہ بند کرکے واپس آئی اور ناراضی سے بولی اب تم سے ملنے کے لی مجھے کسی کو آکھنا پڑا کرے گا۔۔۔۔

میں نے کیا ہوا ہے میں نے کب ایسا کہا یا اس رات کے بعد کب موقع ملا تم نے خود ہی مجھے نہیں بلایا۔۔۔۔

چھنو ہاں میں بلاؤں گی تو تم آو گے ویسے تو نے آنا ہی نہیں تمہیں اور جو مل گئی ہے تینوں پتہ نہیں اس کا وہ کیسی کمینی ہے۔۔۔۔

اب میں رولے میں پڑ گیا پتہ نہیں یہ کس کی بات کر رہی ہے کیونکہ میری معلومات کے مطابق چھنو کو شازی ، صنم اور ناہید تینوں کا پتہ تھا۔۔۔

میں نے اس سے کہا کیسی باتیں کر رہی ہو تم مجھ پر شک کر رہی مجھ پر ۔۔۔ میں نے اپنے سینے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس پر جذباتی حربہ استعمال کیا۔۔۔۔

چھنو نے کچھ نرم سے لہجے میں کہا نیں تاں فیر تو ملن کیوں نہیں آیا مینوں سچ سچ بتا ۔۔۔۔

میں نے اسکے پاس آ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا تمہیں پتہ تو ہے شادی تھی وقت ہی نہیں ملا۔۔۔

وہ بھی سب جانتی تھی اس نے کہا اچھا ٹیم نیں ملیا تینوں تے وہ جو تم نہیدی کو ملنے واہن(کھیت) میں رات کو بھی چلا گیا تھا اوس ویلے ٹیم مل گیا تھا۔۔۔۔

میں کھسیا سا گیا لیکن ایسے کیسے ہار مان لیتا میں نے کہا وہ تو تم نے اس کو اشارہ کیا تھا میں سمجھا تم بھی پیچھے آو گی میں وہاں جا کر انتظار کرتا رہا جب تم نہیں آئی تو اس کو بھیج دیا اور خود بھی آگیا تھا۔۔۔۔

مجھے تم بہت عزیز ہو چھنو تم نے مجھے بہت پیار دیا میں تمہارے لیے سب کچھ کر سکتا ہوں۔۔۔

بس یہ شک نہ کرو کوئی بھی نہیں ہے جو بھی تمہیں ایسا بتاتا ہے وہ ہم سے جلتا ہے کسی کی باتوں میں نہ آیا کرو۔۔۔

چھنو کو اسی طرح کافی ٹھنڈی مٹھی لگائی وہ خوش ہو گئی لڑکی ہو اور تعریف سے نہ پٹے میں نے ایسا کبھی نہیں دیکھا۔۔۔

میں نے بھی یہ طریقہ اپنا لیا ویسے بھی اس طریقہ سے بہت سی لڑکیوں کو پٹایا ہے اب تک کامیاب ہوں۔۔۔

چھنو کے نرم ہونے کی دیر تھی میں نے اس کے نرم نرم ہو چکے مموں کو دباتے ہوئے اپنے ہونٹ اس کے نمکین لبوں پر رکھ دئیے ۔۔۔۔

اس کے ہونٹوں سے رس چوستے چوستے اپنے ہاتھوں سے مموں کو دباتا رہا۔۔۔

ابھی ایک منٹ بھی نہیں ہوا تھا کہ چھنو نے مجھے پر حاوی ہونا شروع کر دیا ۔۔۔

جس کی شروعات میں نے کی تھی اب لگام چھنو نے سنبھال لی اور لگی ہونٹ چوسنے میں اس کا ساتھ دینے لگا۔۔۔

اس نے میرا لن شلوار کے اوپر سے ہی پکڑ کر دبانا شروع کر دیا لن جیسے ہی فل موڈ میں آیا چھنو نے مجھے پیچھے دھکیلتے ہوئے صوفے پر گرا لیا۔۔۔

میرا ناڑا کھولا اپنی شلوار نیچے کی پھر دونوں ٹانگوں کو دائیں بائیں رکھ کر لن پر سوار ہو گئی۔۔۔

اپنی پھدی پر ہاتھ سے پکڑ کر لن کو رکھا اور اس پر بیٹھنے لگی تھوڑا سا اندر لیتی پھر رک جاتی۔۔۔

ہاتھ اس نے لن پر رکھا ہوا تھا جیسے جیسے لن اندر جا رہا تھا جلتا جا رہا تھا پتہ نہیں اس کی پھدی میں کونسا تندور فٹ تھا ٹھنڈا ہونے کا نام ہی نہیں لیتا تھا۔۔۔۔

جب آدھے سے زیادہ لن پھدی میں غائب ہو گیا تو وہ اپنی ٹانگوں کو لمبا کرتی میرے اوپر لیٹ گئی۔۔۔

اس کے ممے میرے سینے میں دب گئے اس نے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر جما دئیے۔۔۔۔

اپنی گانڈ کو اوپر اٹھائے میرے اوپر لیٹی آدھا سے زیادہ لن پھدی میں لیے چھنو لیٹی تھی۔۔۔

اس کے میرے ہونٹوں کو چوسنے میں لگے تھے مسلسل ہونٹ چوستے جارہی تھی۔۔۔۔

بہت ہی دھیرے دھیرے اپنی گانڈ کو اوپر نیچے کرکے لن کو اندر باہر کرنے لگی۔۔۔۔

جس طرح سے وہ لیٹی تھی اس طرح لن پھدی اور ٹانگوں میں پھنس گیا تھا لن پر رگڑ بہت زیادہ لگ رہی تھی۔۔۔۔

کچھ دیر ایسے ہی آرام آرام سے گانڈ ہلاتے ہونٹ چوستی رہی میں نے اپنے ہاتھ اس کی گانڈ پر رکھ کر نیچے دبانے کی کوشش کی چھنو نے میرے ہاتھ جھٹک کر دور کیے۔۔۔۔

میرے ہونٹوں سے ہٹ کر اس نے گال چومے میری گردن پر اپنا ہاتھ رکھ کر اپنے ہونٹوں میں میرے دائیں کان کی لو لے کر چوسنے لگی۔۔۔۔

میرے پورے جسم میں سرور کی لہر دوڑ گئی میں نے نیچے سے اوپر کی طرف زور لگایا ۔۔۔۔

لن پھنستا ہوا پھدی میں جانے لگا لیکن ابھی بھی کافی باہر تھا ۔۔۔۔

چھنو نے میرے دائیں بائیں ہاتھ رکھ کر خود کو اوپر اٹھایا اس کے ممے کھلے گریبان میں سے جھانک رہے تھے ۔۔۔۔

ہاتھ سے اس کے مموں کو پکڑ کر دبانے لگا چھنو نے آنکھیں بند کیں اور گانڈ کو اوپر اٹھا کر لن کی ٹوپی کو اندر رہنے دیا ۔۔۔۔

ایک دم نیچے گری لن جڑ تک پھدی میں اتر گیا چھنو نے آنکھیں بھینچ کر آہ آہ کی آواز نکالی۔۔۔۔۔

میرے ہاتھ میں چھنو کے ممے تھے جن کو کپڑوں کے اوپر سے ہی دبا رہا تھا۔۔۔۔

چند سیکنڈ وہ لن پر بیٹھی رہی پھر آگے طرف جھک کر اپنے ہاتھ میرے سینے پر رکھے اور لن پر اٹھک بیٹھک کرنے لگی۔۔۔۔

آہستہ آہستہ وہ لن کی سواری کرتے ہوئے اپنی سپیڈ بڑھانے لگی میں بھی نیچے سے گانڈ اٹھا کر گھسے مارنے لگا۔۔۔۔

وہ اوپر سے نیچے آتی میں نیچے سے اوپر کو گھسا مارتا لن ٹھا کر کے اس کی پھدی میں گھس جاتا۔۔۔۔

چھنو آہ ہممم ہمم اہہممم کی آواز کے ساتھ اپنی سپیڈ بڑھاتی جا رہی تھی میرا لن پھدی کی گرمی سے تپ گیا تھا۔۔۔۔

آج مجھے اپنا لن پہلے سے زیادہ سخت لگ رہا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے میرا لن بھی پھدی کی گرمی سے اتھرا ہو گیا ہے۔۔۔۔

میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کی قمیض کو اطراف سے پکڑ کر اوپر کرتے ہوئے اتارنے کی کوشش کی۔۔۔

چھنو نے میرے ہاتھ پکڑ کر روک دیا اور مموں سے اوپر تک لے گئی اور ممے سفید برا سے نکال کر میرے ہاتھ اپنے مموں پر رکھ دئیے۔۔۔۔

ننگے ممے ہاتھ میں لیکن نرم ہونے کے ساتھ ساتھ گرم بھی تھے وہ اتنے سپیڈ سے لن پر اچھل رہی تھی کہ ممے بار بار ہاتھوں سے نکل جاتے تھے۔۔۔۔۔

پہلے کی نسبت اس کے ممے کافی نرم ہو گئے تھے اب ان میں وہ والی سختی تھی اور ایک بات جو میں نے نوٹ کی وہ یہ تھی کہ اب اس کے ممے نیچے ڈھلکنے بھی لگ گئے تھے۔۔۔۔

مموں کو زور سے دباتے ہوئے میں نے نیچے سے گھسے مارنے جاری رکھے ایک دم چھنو کی آواز بدل گئی۔۔۔

وہ آہ آہ آہم بللووووو مار میری پھدی پاڑ آہ آہ بلوووووا ووووےےے بلووووااا ایتھے ماررررر آہ آہ ۔۔۔

ایسابولتے ہوئے وہ میرے اوپر سے اتری مجھے کھڑا کیا اور خود میری جگہ لیٹ گئی اپنی ٹانگیں اٹھا کر میری طرف دیکھا۔۔۔۔۔

میں لن کو ہاتھ میں پکڑے اس کی ٹانگوں کے بیچ آیا لن کو پھدی پر رکھا اور ایک دم زور سے پھدی میں گھسا دیا۔۔۔۔

چھنو کی آہ آہ کی آواز آئی اس نے کہا شاباش میرے راجہ ایسے ہی ٹھوک میری پھدی میں پاڑ دے اج ۔۔۔

آہ آہ آہ ہہمممممم بلوووو تیرے جئی چس نیں آندی ہور زور نال مار آہہہہہہممم آہہھ اوئئئییی آہہہہ ہممممم۔۔۔۔

میں نے گھسوں کی مشین چلا دی چھنو نے مجھے اپنے اوپر گرا لیا اور میرے ہونٹوں کو چوسنے لگی۔۔۔۔

اس کی انداز میں وحشیانہ پن جھلک رہا تھا اس کی ٹانگیں میری گانڈ کے گرد اکٹھی ہو گئی تھیں۔۔۔۔

لن فل سپیڈ سے پھدی میں گھس رہا تھا اس کا پورا جسم ہلنے کے ساتھ ساتھ صفہ بھی ہل رہا تھا ۔۔۔۔

لن جب پھدی میں جاتا تو گھپ گھپ شڑپ کی آواز آتی اس نے اپنے بازوؤں میں مجھے کس لیا ۔۔۔۔

میرے گال ہونٹ گردن جہاں جگہ ملی چومنے لگی اس کے انداز میں والہانہ پن تھا جس سے وہ اپنی گانڈ اٹھا کر لن بھی لے رہی تھی مجھے چوم بھی رہی تھی۔۔۔۔

اس کی گرفت میرے گرد سخت ہو گئی اس نے گانڈ کو زیادہ زور سے اٹھا اٹھا کر لن لینا شروع کر دیا اس کے چومنے میں بھی دیوانگی کی حد تک جوش آگیا۔۔۔۔۔

چومتے ہوئے عجیب غوں غاں کی آوازیں اس کے منہ سے نکلنے لگیں۔۔۔

اممممم اہہہمممم کرتے اس کا جسم اکڑا میں نے گھسا مارا اس نے گانڈ اٹھائی لن گہرائی تک گیا ۔۔۔

اس نے مجھے وہیں قابو کر لیا میں گھسا نہ مارسکا اس کے جسم نے ایک جھٹکا کھایا اس کےمنہ سے آااااااہہہہہہہہہہہمممممم کی آواز نکلی لن شکنجے میں پھنس گیا۔۔۔۔

پھدی نے ایک دم لن پر آب بکارت گرانا شروع کر دیا لن پھدی کے نیم گرم پانی سے سرشار ہو کر نہانے لگا اور پھدی میں پھولنے لگا۔۔۔۔

کچھ دیر وہ فارغ ہوتی رہی اس کے جسم کی سختی کم ہوتی گئی ہلکے ہلکے جھٹکے کھا کر وہ فارغ ہوتی رہی۔۔۔۔

جب چھنو کا جسم ڈھیلا ہو گیا تو چھنو نے بہت پیار سے میرے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور بولی بلو تم سچ میں کمال کر دیتے ہو ایسا مزہ آتا ہے کہ میں آسمانوں میں اڑنے لگتی ہوں۔۔۔۔

میں مسکرانے لگا اور بولا جو مزہ مجھے تم دیتی ہو وہ مجھے کبھی نہیں بھولتا میں جب تک دوبارہ تمہاری نہیں مار لیتا وہ مزہ قائم رہتا ہے۔۔۔۔

میرا دل کرتا ہے میں ایسے ہی تمہارے ساتھ کرتا رہوں چھنو کے چہرے پر مسکراہٹ آگئی۔۔۔۔

میں اوپر کو ہوا اس کے ٹانگوں کو کندھوں پر رکھا اس کے پھدی اوپر کو اٹھ گئی لن کو ایک بار پھر سے اندر باہر کرنے لگا ۔۔۔

اب لن شڑپ شڑپ شڑووووپ کی آواز سے پھدی میں گھسنے لگا چھنو کی پھدی سےنکلنے والے پانی نے لن کو حد سے زیادہ رواں کر دیا تھا۔۔۔

میں نے لن باہر نکالا ادھر ادھر کپڑا ڈھونڈا نہ ملا تو اس کی شلوار اٹھا کر اس سے لن کو صاف کیا اور پھدی کو بھی صاف کیا۔۔۔۔

صاف کرنے کے بعد ایک ٹانگ اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھی اور لن کو ترچھا کر کے اندر گھسانے لگا اب لن پھنس کر جا رہا تھا۔۔۔۔

دو تین گھسوں میں لن سارا اندر چلا گیا اس کے بعد اصل گھمسان کا رن پڑا پھدی اور لنڈ کی لڑائی ہونے لگی۔۔۔

پھدی کو اپنی گرماہٹ پر مان تھا تو لن کو اپنی سختی پر فخر تھا لن پھدی کے مورچے میں گھس کر پھدی کی دیواروں کو تہس نہس کرنے میں لگا تھا تو پھدی اس کو اپنے بس میں کرنے می تگ و دو کر نے لگی۔۔۔۔

پھدی میں لن سے حملے کرتے ہوئے میں نے چھنو کے دائیں بائیں ہلتے مموں میں سے ایک ممے کو پکڑ کر نپل نچوڑنے لگا ۔۔۔۔

اپنی انگلیوں کے درمیان لے کر کھینچتے ہوئے لن کا ایکشن جاری رکھا اس پوزیشن میں جلد ہی چھنو تھک گئی میری بھی بس ہو گئی تھی۔۔۔۔

چھنو کے کہنے پر میں نے لن نکالا اور اس کو گھوڑی بنا لیا وہ صوفے پر گھڑی بن گئی میں نیچے کھڑا ہوا لن کو پیچھے سے پھدی میں گھسایا ۔۔۔۔

تھوڑا سا اندر گیا اس کو ٹوپی تک باہر نکالا اور پھر ایک زوردار گھسا مار کر سارا ہی اندر کر دیا۔۔۔

چھنو نے ایک ہاتھ پیچھے لا کر اپنی گانڈ کی ایک پھاڑی کو ایک طرف کھینچتے ہوئے آہ آہ بلوووو کی کردا پیاں ایں ہولی کر میری جان کڈ دتی اووو۔۔۔

میں نے ایک دو بار پھر ویسے ہی لن کو گھسایا لن رواں ہوا چھنو نے آہ آہ کرتے ہوئے اپنے دونوں ہاتھ گانڈ کی پھاڑیوں کو کھولنے میں مصروف کر لیے اور اپنے ممے صوفے پر جما دئیے۔۔۔۔

اس کے اس طرح ہونے سے پھدی کافی باہر نکل آئی گاند بھی اوپر کو اٹھ گئی میں نے گانڈ کو اطراف سے پکڑ کے گھسے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔۔

اس پوزیشن میں بہت آرام سے پھدی میں لن گہرائی تک جا رہا تھا لیکن میری نظر بار بار اس کی گانڈ کے چھوٹے سے سوراخ پر جا رہی تھی۔۔۔۔

گھسوں کی سپیڈ بڑھتی گئی میرا خون ٹانگوں کی طرف دوڑنے لگا چھنو کی بھی ایک بارپھر سے آہ آہ آہ انج ای بلو ایتھے مار ہور زور نال مار کی رٹ شروع ہو گئئ۔۔۔۔

میں نے اس کی گانڈ کے سوراخ پر دو تین بار تھوکا لیکن لن کو پھدی میں گھسانا جاری رکھا۔۔۔۔

میرا جسم بھی گرم ہوتا جارہا تھا چھنو نے بھی صوفے پر سر مارنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔

ایسے ہی گھسے مارتے مارتے چھنو نے آہ و پکار شروع کر دی کافی اونچی آواز میں مجھے کہنے لگی پھاڑ دو میری اس نے بہت تنگ کیا ہوا ہے۔۔۔۔

بجھا دو آج میری پیاس بلو یک صرف تمہارا بڑا لوڑا ہی کر سکتا ہے آہ اہ آہ بلوووووا انج ہی پاڑ میری بچے دانی وچ واڑ دے۔۔۔۔

جسم نے گانڈ پیچھے کی طرف کرتے ہوئے لن کو اور اندر تک جانے کا رستہ دیا مجھے بھی ایسا لگنے لگا جیسے لن اندر کسی چیز سے ٹکرا رہا ہے۔۔۔۔

ادھر چھنو کی بے ربط آوازیں نکل رہی تھیں دوسری طرف میرے منہ سے بھی ہہہووں ہوں ہوں آہ آہ اہم کی آوازیں آنے لگیں۔۔۔۔

جب مجھے لگا کہ میں فارغ ہونے والا ہوں اور چھنو کی پھدی بھی ٹائٹ ہو گئی میں نے ایک بار پھر اس کی گانڈ کی موری پر تھوک کا گولا پھینکا۔۔۔۔

لن کو نکالا اس کے گانڈ پر رکھا اور گھسا مارا لن پھدی کے پانی سے گیلا ہونے کی وجہ سے کافی سارا اندر گھس گیا۔۔۔۔

میں نے گانڈ میں گھسا نے سے پہلے ایک کام کیا تھا کہ س کے پیٹ پر دونوں ہاتھ رکھ کر اس کو قابو کر لیا تھا۔۔۔۔

جیسے ہی لن گانڈ میں گھسا اس کی ایک چیخ نکلی جس کو اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر دبایا ۔۔۔۔

وہ نیچے لیٹتی چلی گئی وہ فارغ ہو رہی تھی میں نے ایک اور گھسا مارا لن مزید گھس گیا ۔۔۔۔

اس سے آگے لن نے جانے سے انکار کر دیا لیکن لن کی نسیں پھول چکی تھیں س لیے لن سے ایک زوردار پچکاری نکلی اور گانڈ کو بھرنے لگی۔۔۔۔

میں اس کے اوپر ڈھ گیا اور فارغ ہونے لگا چھنو کا جسم بھی جھٹکے کھا رہ تھا میں بھی کچھ دیر جھٹکے کھا کر فارغ ہوا ۔۔۔۔

چھنو نے مجھے ایک طرف دھکیلا لن گانڈ کی دیواروں سے رگڑ کھاتے ہوئے باہر نکلا مجھے لن پر جلن محسوس ہوئی ۔۔۔۔

میں نے لن کو اپنا سر اٹھا کر دیکھا اس پر خون لگا تھا چھنو سئیی کرکے اپنے ہاتھ سے گانڈ پر مل رہی تھی۔۔۔۔

کچھ دیر ایسے ہی چھنو سئی سئی کرتی لیٹی رہی میں بھی لیٹا رہا جب سانس بحال ہوئے تو اٹھ کر بیٹھ گیا لیکن چھنو اسی طرح الٹی لیٹی تھی۔۔۔۔

میں اس کی گانڈ کو غور سے دیکھا جس میں سے منی کے باہر کو نکل رہی تھی اور گانڈ پر ہلکا ہلکا خون بھی لگا تھا۔۔۔۔

میں اٹھ کر وہاں کپڑا ڈھونڈنے لگا مجھے ایک الماری میں کپڑا مل گیا وہ لے کر اپنا لن صاف کیا اور چھنو کی گانڈ کو صاف کرنے لگا ۔۔۔۔

جیسے ہی میں نے وہ کپڑا گانڈ کی موری کے پاس رکھا چھنو نے ایک دم غصے سے اپنے ہاتھ سے میرا ہاتھ جھٹک دیا اور بولی پراں مر ہتھ نہ لائیں۔۔۔

میں نے اس کے ہاتھ کو پکڑ کر پھر صاف کرنے کی کوشش کی اس نے اسی درشت لہجے میں کہا دفع ہو تینوں سمجھ نہیں آ رہی ۔۔۔۔۔

میری بنڈ پاڑ کے رکھ دتی ہن ہتھ نہ لائیں پاگل جیا نہ ہوئے تاں ۔۔۔

میں نہ رکا کپڑے سے صاف کرنے لگا اس نے اپنی ٹانگ اٹھائی ایک آزاد ہاتھ کی مدد سے میرا ہاتھ پکڑا اس کی ٹانگ بھی میرے بازوپر لگی۔۔۔۔

میں نے صاف کرنے کا ارادہ ترک کر دیا اور اس کے ساتھ لیٹ گیا اپنے ہاتھ سے اس کے چہرے پر آئے بال ہٹانے لگا۔۔۔۔

اس نے میرے ہاتھ جھٹک دئیے نے پھر بال ایک ہٹائے اس نے اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیا۔۔۔۔

میں نے بہت پیار سے پچکارتے ہوئے کہا چھنو ایک بار میری بات تو سن لو ۔۔۔

اس نے بپھری ہوئی شیرنی کی طرح اپنی گردن اٹھا کر میری طرف دیکھا اور بولی اب کی گل کرنی ہے تجھے شرم نہیں آئی گندے کام کرتے ہوئے۔۔۔۔

میں ہنستے ہوئے اب کیا بتاؤں مجھے تمہاری یہ اچھی ہی اتنی لگی کہ بس پتہ ہی نہ چلا ورنہ تم جانتی ہو میں تمہیں تکلیف نہیں دے سکتا ہے۔۔۔۔

چھنو اچھا تکلیف نہیں دے سکتے اور اگر اچھی لگی تو اس کو پاڑ دو گے بولو وڈا آیا تکلیف نہ دینے والا۔۔۔

میں نے تینوں پہلے وی آکھیا تھا کہ یہاں نہیں کرنا پڑ تینوں یاد ہو تاں ای ناں تم جو ان گشتیوں کی مارتے رہتے ہو انہوں نے ہی تینوں یہ سب سکھایا ہے۔۔۔

میں چھنو اب قسم اٹھاؤں کہ تمہارے علاوہ کسی کی نہیں ماری پتہ نہیں کس نے تمہیں ایسی الٹی سیدھی پٹی پڑھا دی ہے۔۔۔۔

میں نے بڑے پیار سے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے گردن کے قریب کس کی اور کہا چھنو تم ہی میری زندگی کی وہ لڑکی ہو جس نے مجھے اس مزے کی دنیا کا پہلا سبق سکھایا۔۔۔

میں تمہارے ہوتے ہوئے کسی ایری غیری کی کیوں ماروں گا وہ سب ہم جلتی ہیں تم کسی کی باتوں میں نہ آیاکرو۔۔۔

اس نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا اور سیدھی ہونے لگی سیدھا ہوتے ہوئے اس کے چہرے پر درد کے تاثرات نمایاں تھے۔۔۔۔

مجھے اپنے وحشی پن پر غصہ آنے لگا یہ سچ تھا کہ چھنو کا میری زندگی میں بڑا اہم کردار تھا اور بعد میں بھی رہا ابھی بھی اتنے سالوں بعد چھنو میری زندگی کے بہت سے معاملات میں مدد کرتی ہے۔۔۔

میں نے اس کو کہا میں کانوں کو ہاتھ لگاتا اب کبھی تمہاری مرضی کے بغیر کچھ نہیں کروں گا۔۔۔

چھنو نے کہا اچھا تو باز پھر بھی نہیں آنا کرو گے ضرور جو ابھی معافی مانگ رہے ہو۔۔۔

میں نے کہا نہیں میری جان میرا وہ مطلب نہیں ہے جو تم سمجھ رہی ہو۔۔۔

چھنو گانڈ کو اٹھا کر ٹیڑھی ہو کر بیٹھی تھی مجھے بڑا افسوس ہونے لگا لیکن یہ بھی حقیقت تھی کہ آج سے پہلے کبھی کسی لڑکی کی گانڈ مارنے کے بعد مجھے ایسا افسوس نہیں ہوا تھا۔۔۔۔

یہ بھی سچ ہے کہ مجھے گانڈ مارنے میں مزہ بھی آتا تھا جب بھی کسی لڑکی کی گانڈ ننگی سامنے ہوتی تو گانڈ میں لن گھسانے کو دل مچلنے لگتا تھا۔۔۔۔

چھنو نے کہا نہیں تو اور کیا مطبل اے تیری ایس گل کا جو تم کہنا چاہتے ہو کھل کر بتاؤ۔۔۔

چھنو نے اپنی شلوار سیدھی کی اور پہننے لگی میں نے بھی اپنی شلوار اٹھائی اور پہننے لگا۔۔۔



Source link

Leave a Comment