میں تو جو اس کو چوم رہا تھا سو چوم رہا تھا وہ بھی پیچھے نہ رہی اس نے اپنے پیاسے پن کا کھل کر اظہار کیا۔۔۔۔
میں نے جیسے ہی اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے وہ بہت جوش سے چومنے لگی۔۔۔
اس نے میرا نیچے والا ہونٹ اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنا شروع کیا میرے حصے میں اس کا اوپر والا ہونٹ آیا۔۔۔
ہم پیاسو کی طرح ایک دوسرے کی پیاس بجھا رہے تھے میرے ہاتھ اس کے مموں پر پہنچ گئے۔۔۔
میں ہونٹوں سے رس کشید کرنے کے ساتھ ساتھ ہاتھوں سے مموں کو بھی دبانے لگا۔۔۔
شانزل بھی اٹھ اٹھ کر میرے اندر سما جانے کی کوشش کر رہی تھی ہم ایک دوسرے کے جسم کی گرمی میں ڈوبتے جا رہے تھے۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں اور آگے بڑھتا اس نےخود کو مجھ سے پیچھے ہٹایا اور شرماتے ہوئے اپنی طرف کے دروازے کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
میں آگے بڑھنے لگا تو اس نے میرے سینے پر انگلی رکھ کر نہ میں سر ہلایا اور دروازہ کھولنے لگی۔۔۔
میں نے اپنی طرف کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گیا میں مین گیٹ سے باہر نکل کر گلی میں ایسے ہی دو چکر لگا کر واپس آیا۔۔۔
تب تک شانزل کی امی اس کو لینے آگئی تھی میں نے شانزل کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے پر شرمیلی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔
کھانا وغیرہ کھا کر کچھ دیر پڑھنے لگا بھا ہاشم بھی آج گھر آگئے تھے میں جب سونے بیٹھک میں گھا تو وہ بھی وہاں سو رہے تھے۔۔۔۔
میرے سارے ارمانوں پر پانی پھر گیا میں کافی دیر تک جاگتا رہا یہ سوچتا رہا کہ اب کیا کروں۔۔۔
لیکن کچھ سمجھ نہ آئی تو چار و ناچار سونا پڑا رات کو ایک دو بار اٹھ کر میں نے بھا ہاشم کو دیکھا دل کیا کہ اٹھ کر شانزل سے ملنے چلا جاؤں لیکن پھر ہمت نہ ہوئی۔۔۔
صبح اٹھا اور حسب معمول سیر کے لیے گیا آج میرا دل کر رہا تھا کوئی بھی مل جائے لن کا بوجھ ہلکا ہو جائے۔۔۔
لیکن جب کال آتا ہے تو ہر طرف سے مایوسی ہی ملتی ہے میرے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔۔۔
میں نے دائی کے گھر کے سامنے جا کر دیکھا تو وہاں لگا تالا میرا منہ چڑا رہا تھا وہاں سے میں مایوسی میں گھر لوٹ آیا۔۔۔
دوسری آنٹی تھی جس سے میرا دل کھٹا ہو گیا تھا اس لیے وہاں جانے کو دل نہ کیا۔۔۔
گھر آ کر نہایا ناشتہ کیا اور ٹیوشن پڑھنے کے لیے نکل پڑا ٹیوشن گیا تو پتہ چلا کہ آج سر کہیں گئے ہیں ۔۔۔
واپس گھر جاتا تو جلدی آنے کی تفصیلات بتانا پڑتی تو میں نے سوچا کہ وہاں جانے سے بہتر ہے چاچا کے گھر وقت برباد کرتا ہوں۔۔۔
میں وہاں سے چاچا کے گھر آیا باجی فرحی کمرے میں فرش پر مشین رکھے کپڑے سلائی کر رہی تھی۔۔۔
چاچی کہیں گئی ہوئی تھی گھر میں کوئی اور نہیں تھا میں گھر میں داخل ہوتے ہوئے دروازہ اندر سے بند کر آیا تھا۔۔۔
مجھے دیکھ کر فرحی باجی کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی مجھ سے حال احوال پوچھے۔۔۔
مجھے بیٹھنے کا کہا میں اس کے سامنےہی چارپائی پر بیٹھ گیا باجی فرحی کی ایک عادت تھی وہ گھر میں دوپٹہ کم ہی لیا کرتی تھی۔۔۔
خاص طور پر جب وہ کام کر رہی ہوتی تھیں تو دوپٹہ لینا بالکل پسند نہیں کرتی تھی۔۔۔
اس دن بھی دوپٹہ ایک طرف پڑا تھا اور ان کے بڑےبڑے دودھ کے غبارے قمیض کو پھاڑ کر باہر نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔۔۔
کھلے گلے کی قمیض پہنے ہوئے تھی جس سے ممے آدھے سے زیادہ جھلک رہے تھے میں چارپائی پر اس کے سامنے اونچائی پر بیٹھا تھا ۔۔۔
میرے سامنے مموں کی کلیویج بڑی واضح ہو رہی تھی دو آتش فشاں آپس میں ٹکرا رہے تھے۔۔۔
مموں کو دیکھ کر میرے لن کو بھی جوش آگیا اسی دوران میرے پاؤں میں ایک بٹن آ گرا جو باجی کے کپڑا اٹھانے سے آیا تھا۔۔۔
میں نے وہ بٹن اٹھا کیا باجی فرحی نے مجھے کہا یہ دے دو میری نظر اس کے مموں پر تھی۔۔۔
مموں کی کلیویج کی گہرائی میں ڈوبا تھا اس نے کہا تو میں نے مموں کی کلیویج کو دیکھتے ہوئے بٹن پھینک دیا۔۔۔
بٹن سیدھا مموں میں جا کر غائب ہوگیا میں نے نظر اٹھا کر باجی فرحی کی طرف دیکھا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔
میں ایک منٹ ہی دیکھ پایا کیونکہ وہ پر جو چیز میں دیکھنا چاہتا تھا وہ نہیں تھی۔۔۔
وہاں کوئی ری ایکشن نظر نہ آیا وہ بالکل نارمل تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو لیکن ایک بات اچنبھے کی تھی کہ اس نے اپنے مموں کو ڈھانپنا گوارا نہ کیا۔۔۔
کوئی ایسا ری ایکشن نہ دیا جس سے میں یہ سمجھ پاتا کہ اس کو اچھا لگا یا برا میں نے گلا کھنکارتے ہوئے کہا فرحی ۔۔۔۔ باجی۔۔۔
اس نے نظر اٹھا کر مجھے دیکھا اس کی آنکھوں میں سوال تھا ۔۔۔
میں۔۔۔ میں جا رہا ہوں دروازہ بند کر لو۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ رک جاؤ امی بازار گئی ہے جب تک وہ نہیں آتی تم رک جاؤ۔۔۔
میں۔۔۔ کتنی دیر ہوئی ہے گئے ہوئے۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ تمہارے آنے سے کچھ دیر پہلے ہی گئی ہے۔۔۔
میں ۔۔۔ اچھا بیٹھ جاتا ہوں۔۔۔
فرحی باجی نے میرے بیٹھ جانے والی بات پر کچھ نہ کہا اور پھر سے مشین پر سلائی کرنے لگی۔۔۔
میں اس کو کام کرتے دیکھ رہا تھا ابھی تک اس نے دوپٹہ نہیں لیا تھا وہ اپنے مموں کے درشن کروا رہی تھی۔۔۔
میرا لن فل اکڑ چکا تھا گرمی دماغ کو چڑھنے لگی تھی۔۔۔
میں کبھی ایک ٹانگ کی مدد سے لن کو دباتا تو کبھی دوسری کی مدد سے باربار ٹانگیں اوپر نیچے کر رہا تھا۔۔۔
فرحی باجی نے مجھ سے پوچھ ہی لیا کیا بات بار بار ایسے کیوں کر رہے ہو۔۔۔
میں اس کے مموں کو تاڑتے ہوئے بولا کچھ نہیں بس بیٹھا نہیں جا رہا۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ بیٹھا کیوں نہیں جا رہا۔۔۔
فرحی باجی کے چہرے پر بڑی معنی خیز مسکراہٹ تھی۔۔۔
میں۔۔۔ بس کوئی وجہ ہے بتا نہیں سکتا۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ ایسی کیا بات ہے جو مجھے نہیں بتا سکتے ۔۔۔
میں۔۔۔ بس ہے کوئی وجہ۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ میری ٹانگوں کے درمیان دیکھتے ہوئے اوہ اچھا جی ایسی بھی کوئی خاص وجہ ہے۔۔۔
میں۔۔۔ ہاں ایسی ہی خاص وجہ ہے۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ ویسے اگر میری جگہ کوئی اور ہوتی تو اس کو بتا دیتے۔۔۔۔کیا۔۔؟؟
میں۔۔۔ کیا مطلب ہے۔۔؟
فرحی باجی۔۔۔ میرا مطلب ہے کہ اگر کوئی اور لڑکی ہوتی جس سے تم کافی فرینک ہوتے اس کو بتا دیتے۔۔۔
میں۔۔۔ وہ تو اس وقت دیکھتا ہو سکتا تھا اس وقت یہ نوبت ہی نہ آتی کہ مجھے چھپانا پڑتا۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ اوہ اچھا مطلب تم نہ چھپاتے کچھ بھی۔۔۔
میں ۔۔۔ ہاں جس سے فری ہو سکتا ہوں تو اس سے چھپا کیسے سکتا ہوں۔۔۔
فرحی باجی نے مشین پر اپنی ٹھوڑی رکھی اس کے ممے باہر کو ابل پڑے اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ تو یہ ہی سمجھ لو میرے ساتھ فری ہو بتا دو مجھے ۔۔۔
میں۔۔۔ سمجھ کیسے لوں میں نہیں بتا سکتا حقیقت میں اور سمجھنے میں بہت فرق ہے۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ مجھے پتہ ہے جو تمہارے نزدیک فرق ہے ۔۔۔ چلو بتاؤ مجھے ہو سکتا ہے میں کوئی مدد کر سکوں۔۔۔
میں۔۔۔ تم اس معاملے میں مدد نہیں کر سکتی خود اپنی مدد۔۔۔۔
میں نے جان بوجھ کر بات ادھوری چھوڑ دی تھی میرے دماغ میں اگلا پلان بننے لگا تھا۔۔۔
فرحی باجی نے اپنی ٹھوڑی مشین سے اٹھائی اور اپنے ہاتھوں کے بل اگے کو ہو گئی جس سے اس کے دودھ مشین کے اوپر آگئے ۔۔۔
اس کے ممے اتنے بڑے تھے کہ مشین پر ٹک گئے تھے حالانکہ وہ خود اس سے کافی اونچی تھی۔۔۔
کھلے میں گلے میں لٹکتے ممے مجھے مجبور کر رہے تھے کہ بلا تمیز میں فرحی باجی کو پکڑ کر نیچے رکھ لوں اور چود ڈالوں۔۔۔
اتنا گرم ہونے کے باوجود بھی میں گرم کھیر کھانا نہیں چاہتا تھا کہوں کہ اکثر کہا جاتا ہے گرم کھیر کھانے سے منہ جل جاتا ہے۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔۔ آنکھیں مٹکاتے ہوئے کیا کہنا چاہتے ہو میں اپنی مدد ۔۔۔ پوری بات کرو اس طرح پہلیاں نہ بجھاؤ۔۔۔
میں۔۔۔ آپ ناراض ہو جائیں گی رہنے دو۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ میں ناراض نہیں ہوتی تم بات بتاؤ۔۔۔
میں۔۔۔ نہیں آپ ناراض ہو جاؤ گی۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ کہا ناں ناراض نہیں ہوتی۔۔۔
میں۔۔۔ اگر ناراض ہوئی تو۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ جو مرضی سزا دے لینا۔۔۔
میں ۔۔۔ نہیں مجھے ڈر لگتا ہے آپ ناراض ہو جاو گی۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ قسم سے ناراض نہیں ہوتی ۔۔۔
فرحی باجی نے ایک بڑی قسم اٹھائی مجھے اس کے الفاظ پر نہیں اس کے لہجے پر یقین ہو گیا۔۔۔
ویسے بھی بات تو میں نے کرنی ہی تھی بس اس سے کہلوانا چاہتا تھا ۔۔۔
میں۔۔۔ میرا مطلب ہے آپ اپنی مدد خود کر سکتی ہو میری نہیں کر سکتیں۔۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ وہ کیسے میں اپنی مدد کیسے کر سکتی ہوں اور تمہاری کیوں نہیں۔۔۔
میں ۔۔۔ آپ ناراض تو نہیں ہوں گی اگر میں کچھ کہوں تو۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ تمہیں کیوں یقین نہیں آ رہا۔۔۔ قسم پر بھی یقین نہیں ۔۔۔
میں۔۔۔ اچھا اچھا بتاتا ہوں۔۔۔وہ ۔۔۔ اس لیے کہا ۔۔۔
میں پھر رک گیا میں بات تو کرنا چاہتا تھا لیکن ڈر بھی رہا تھا کہ اگر یہ ناراض ہو گئی تو گڑ بڑ نہ ہوجائے۔۔۔
حالانکہ مجھے اس سے ڈرنا نہیں چاہئیے تھا جو کچھ وہ کر چکی تھی اس کو بھی معلوم تھا اور اس کے ری ایکشن بھی صاف بتا رہے تھے۔۔۔
میں۔۔۔ اس رات کو۔۔۔
میری پھر بریک لگ گئی میری ہمت نہیں ہو رہی تھی ۔۔۔۔لیکن فرحی باجی سب سمجھ گئی تھی میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں ۔۔۔
پھر بھی اس نے مجھ سے سننا چاہا وہ ایسے ظاہر کرنے لگی جیسے وہ کچھ نہ سمجھی ہو جب کہ اس کا چہرہ سب بتا رہا تھا۔۔۔
اس بار اس کا لہجہ ذرہ بدلا ہوا تھا اس نے کہا۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ کیا اس رات ساری بات ایک ہی بار میں بتاؤ یہ اٹک اٹک کر نہ بولو۔۔۔
میں۔۔۔ اس رات میں جاگ رہا تھا ۔۔۔
فرحی باجی کا چہرہ ایک دم بدل گیا اس پر پریشانی چھا گئی۔۔۔
میں مزید بولا۔۔۔
میں۔۔۔ آپ نے جو کچھ بھی کیا وہ سب مجھے پتہ ہے۔۔۔ اس لیے کہا آپ اپنی مدد کر سکتی ہیں جو اس رات کی اور۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ کافی پریشان ہو گئی تھیں۔۔۔
فرحی باجی نے ہکلاتے ہوئے کہا بلو ۔۔۔کسی کو بتایا تو نہیں۔۔
میں ۔۔۔ نہیں تو میرا دماغ خراب ہے جو کسی کو بتاؤں گا۔۔۔۔
فرحی باجی نے نظریں جھکا لیں اور پریشانی سے بولی تم اس وقت سچی جاگ رہے تھے۔۔۔
میں ۔۔۔ ہاں سچی جاگ رہا تھا اور سب کچھ مجھے پتہ ہے جو آپ نے کیا ۔۔۔
میں نے دوسرے دن تم سے مذاق میں بات بھی کرنی چاہی لیکن تمہارے غصے کی وجہ سے ڈر گیا تھا۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ بلو ایک بات بتاؤں ۔۔۔
میں ۔۔۔ ہاں بتاؤ۔۔۔
فرحی باجی ۔۔۔ مجھے پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا گاؤں میں تمہارے بارے میں ہر لڑکی بات کر رہی تھی ۔۔۔
میں۔۔۔ کیا باتیں کر رہی تھیں ۔۔۔
فرحی۔۔۔ ہر کوئی تمہاری کی تعریف کر رہی تھی ۔۔۔ سچ بات تو یہ ہے کہ ان کے دل میں تمہارے لیے بہت پیار ہے۔۔۔
میں۔۔۔ اس سے اس رات جو تم نے کیا اس کا کیا تعلق ہے۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ سب ان کی باتوں کا اثر تھا اور دوسرا تم نے وہاں اتنی لڑکیوں کے ہوتے ہوئے مجھے جس طرح دیکھا۔۔۔
تمہارے دیکھنے کو بھی سب نے نوٹ کیا انہوں نے کی مجھے تمہارے بارے میں بتایا میں خود پر کنٹرول کھو بیٹھی تھی۔۔۔
بس اسی لیے اس رات یہ سب ہو گیا تھا اگر تمہیں اچھا نہیں لگا تو میں معافی مانگ لیتی ہوں۔۔۔
میں۔۔۔ اس میں معافی مانگنے والی کونسی بات ہے دیکھو میری اپنی ایک سوچ ہے ہر لڑکی کی ایک ضرورت ہوتی ہے جو لڑکا کی پوری کر سکتا ہے۔۔۔
اگر کوئی لڑکی اپنی ضرورت پوری کر لے تو اس میں کچھ غلط نہیں ہے ۔۔۔
فرحی باجی ۔۔۔ حیرانی سے میری طرف دیکھتے ہوئے۔۔۔ یہ کیا کہہ رہے ہو یہ غلط تو ہے ۔۔۔
میں۔۔۔ کچھ غلط نہیں ہے اگر خواہشات پر بند باندھا جائے تو الٹا نقصان ہوتا ہے۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ یہ بات تو درست کہی ۔۔۔
میں ۔۔۔ دیکھو اگر میری جسمانی ضروریات پوری نہیں ہوں گی تو میں کوئی غلط قدم اٹھاوں گا ۔۔۔۔
اگر لڑکی کی کوئی قدم اٹھائے تو اس کو غلط کہا جاتا ہے لڑکے کو کیوں نہیں کہا جاتا۔۔۔
فرحی باجی میری اس بات سے کافی ریلیکس ہو گئی تھی۔۔۔
میں ۔۔۔ اگر تم نے اپنی خواہش کے لیے میرے ساتھ کچھ کیا ہے تو اس میں کچھ غلط نہیں بلکہ مجھے تو اس بات پر خوشی ہوئی ہے کہ تم نے مجھے اس قابل سمجھا۔۔۔
بس دکھ اس بات کا ہے کہ سوئے ہوئے کیا سب مجھے خود کہہ دیتی میں نے کوئی انکار کرنا تھا۔۔۔
فرحی نے اپنا سر جھکا لیا وہ لڑکی تھی پھر ایک مڈل کلاس فیملی سے تھی دوسرا ایک ایسے علاقے سے جہاں لڑکیوں کو سیکس کے بارے میں بہت کچھ کہا جاتا تھا۔۔۔
یہاں تک کہ اگر کوئی پکڑی جاتی تو اسکے خاندان والے اس کو کاٹ دیتے تھے بہت کم لوگ ایسے تھے جو کسی مجبوری کی وجہ سے یا بدنامی کی وجہ سے ایسا نہیں کرتے تھے۔۔۔
ورنہ غیرت کے نام پر لڑکی کی بلی چڑھا دی جاتی تھی۔۔۔
میں اپنا پتہ پھینک چکا تھا ویسے میری سوچ بھی ایسی ہی تھی جب لڑکی کے ساتھ پھدی لگی ہے تو اس میں کسی کا تو لن جانا ہی ہے تو میرا کیوں نہ جائے۔۔۔
اگر لڑکی نے لن لینا ہی ہے تو پھر شادی کا انتظار کیوں کیا جائے جب دل کرے جس طرح ہم لڑکے لڑکی کو پھنساتے ہیں لڑکی کیوں نہیں پھنسا سکتی۔۔۔
جس طرح لڑکوں کو حق حاصل ہے ویسے لڑکیوں کو بھی حق حاصل ہے کہ وہ اپنی مرضی کا لن لے سکیں۔۔۔۔
فرحی باجی گہری سوچ میں ڈوب گئی تھی میری باتیں اس کے لیے ہضم کرنا مشکل تھیں۔۔۔۔
میں اٹھا اور فرحی باجی کو کہا اگر میری کوئی بات بری لگی ہو تو اس کے لیے معذرت لیکن میرے نزدیک جو سچ ہے وہ ایسا ہی ہے۔۔۔۔
میں جانے لگا ہوں اگر تمہیں لگے کہ میں غلط ہوں تو مجھے کچھ نہ کہنا ایک غلط بندے کی باتیں سمجھ کر بھول جانا۔۔۔
اگر لگے کہ میں صحیح کہہ رہا ہوں تو پھر میری باتوں پر عمل کرنا جیسا مرضی کرنا لیکن یہ ڈر خوف نہیں رکھنا اچھا برا کچھ نہیں ہوتا سب خواہشات کے پجاری ہیں یہاں۔۔۔
میں نے دروزے کی طرف قدم بڑھائے ہی تھے کہ فرحی باجی بولی۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ مجھے الجھن میں ڈال کر خود جا رہے ہو میری خواہشات کا کیا جو پیدا ہو چکی ہیں۔۔۔
میں۔۔۔ تم تو پوری کر لو گی کیسے بھی کرکے میں اپنا سوچ رہا ہوں۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ کیا کہنا چاہ رہے ہو ۔۔۔
میں۔۔۔ دیکھو میرے اندر جو خواہشات کا بھونچال بپا ہے اس کا کیا۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ مطلب۔۔۔؟؟
میں۔۔۔ اس رات جو کچھ ہوا تم نے اپنے جذبات کی تسکین کر لی لیکن میرے اندر نئےلطیف جذبات کو جنم دیا۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ منہ نیچے کر کے بولی ابھی تو اتنا کچھ کہ رہے تھے بھول گئے سب۔۔۔
میں۔۔۔ وہ تو تمہارے لیے کہہ رہا تھا اپنا بھی تو سوچنا ہے۔۔۔
میں نے جو کچھ کہا اس میں یہ تو نہیں کہا کہ تم نے غلط کیا یا ایسا کچھ کیا جس سے مجھے برا لگا ہو۔۔۔
میں نے تو صرف تسکین جذبات کی بات کی تھی اپنی خواہشات کی تکمیل کی بات کی تھی اندر ابلتے منہ زور طوفانوں کی بات کی تھی۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ میرے قریب آتے ہوئے بولی اگر میں کہوں کہ ۔۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ رک گئی اس کے چہرے کی رنگت بدل گئی اس کے انداز سے اس کے اندر چلتی کشمکش کا پتہ چل رہا تھا۔۔۔
میں۔۔۔ کیا ۔۔۔؟
فرحی باجی۔۔۔ اگر ۔۔۔ میں ۔۔۔کہوں کہ۔۔۔ میری خواہش پوری نہیں ہوئی تھی۔۔۔تو ۔۔
میں۔۔۔ تو کیا کھل کر کہو جو بھی کہنا ہے میں نے اپنی سوچ بتا دی مجھ سے کیسی پریشانی ۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ میں یہ کہہ رہی ہوں کہ اگر ۔۔۔تم خود کی سمجھ لو۔۔۔
میں سمجھ تو چکا تھا وہ کیا چاہ رہی ہے لیکن پھر بھی میں اس کے منہ سے کہلوانا چاہتا تھا۔۔۔
میں۔۔۔ اب میں کیسے سمجھ سکتا ہوں تم کیا کہنا چاہ رہی ہو۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ پہلے تو بڑی بڑی باتیں کر رہے تھے ۔۔۔
فرحی باجی کا لہجہ یکدم بدل گیا اس کی جھجھک اتر گئی تھی ایک دم ۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ اب ایسا ظاہر کر رہے ہو جیسے کچھ بھی نہیں جانتے۔۔۔
میں۔۔۔ صحیح تو کہہ رہا ہوں دیکھو کوئی نہیں جان سکتا کہ کسی کے دل میں کیا ہے۔۔۔
فرحی باجی میرے بہت قریب آگئی تھی اتنا قریب کہ اس کے بڑے بڑے ممے میرے بازو سے ٹچ ہونے لگے تھے۔۔۔
اس نے میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا بلو اب بھی نہیں سمجھے میں کیا کہنا چاہ رہی ہوں۔۔۔
میں۔۔۔ کچھ کچھ سمجھا ہوں لیکن اگر بتا دو تو سب کچھ واضح ہو جائے گا ۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ اس رات میری خواہش پوری نہیں ہوئی بلکہ تمہیں پانے کی تڑپ بڑھ گئی ۔۔۔
ایسا کہتے ہوئے اس نے میرے بازو کے ساتھ اپنا آپ چپکا لیا اور اپنا سر میرے کندھے پر ٹکانے کی کوشش کی۔۔۔
کوشش اس لیے کہا کہ اس کا قد مجھ سے چھوٹا تھا اس لیے اس کا سر میرے کندھے تک نہ پہنچ پایا صرف بازو پر کی رہ گیا۔۔۔
میں بھی بہت دیر سے خود پر کنٹرول کر رہا تھا جب میرے جسم سے اس کا جسم چھوا تو اتنے دن سے ابلتی گرمی دماغ کر چڑھ دوڑی۔۔۔
میں نے اپنے دوسرے ہاتھ سے فرحی باجی کو بازو سے ہٹایا اور سامنے کھڑا کیا ۔۔۔
جیسے ہی اس کو سامنے کھڑا کیا وہ شرماتے ہوئے میرے سینے سے لگ گئی۔۔۔
میں نے بھی اپنے بازو ا سکی کمر پر رکھ دئیے اور اس کے دہکتے جسم کی حرارت اپنے اندر اتارنے لگا۔۔۔
کچھ دیر ایسے ہی ہم ایک دوسرے کی باہوں میں رہے میں نے اس کو خود سے الگ کرنے کی کوشش کی۔۔۔
لیکن میری کوشش کو فرحی باجی نے ہوں ہوں کرکے ناکام بنا دی۔۔۔۔
میں اس کو گلے لگائے ہوئے ہی اس کے مموں کو پر ہاتھ رکھ دیا دائیں ہاتھ میں ایک مما آیا ۔۔۔
اس کو دبانے لگا میرے مما دبانے سے وہ اور زور سے میرے سینے میں خود کو چھپانے لگی۔۔۔
جب میں نے مما دبانا نہ چھوڑا تو فرحی نے پیچھے ہو کر میرا ہاتھ جھٹک دیا اور پھر اوپر کو ہو کر میرے گلے میں باہیں ڈال دیں۔۔۔
افففف اس کے بڑے بڑے ممے میرے سینے سے لگے تو ایک نرماہٹ کا احساس اندر اترنے لگا۔۔۔
میرا راڈ بنا لن کی پیٹ اور پھدی کے درمیان ااوپر کی طرف ہو چکا تھا۔۔۔
مجھے ایسا لگنے لگا جیسے لن میں کوئی راڈ فٹ ہو گیا اتنا سخت ہو گیا تھا وہ جسم میری باہوں میں تھا۔۔۔
جس جسم کی لچک کو دیکھ کر میرا لن اتھل پتھل کرنے لگ گیا تھا ۔۔۔
جس جسم کی نزاکت دیکھ کر میرے اندر گرم گرم جذبات ابھرے تھے۔۔۔
ایسی مست گانڈ کہ جس کو دیکھ کر میرے لن نے بھونچال مچا دیا تھا۔۔۔
آج میری دسترس میں تھی جس جسم کو میں کپڑوں میں دیکھ کر سکین کرتا رہا تھا ۔۔۔
آج وہ جسم بغیر کپڑوں کے میرے سامنے آنے والا تھا میں یہ سب سوچ رہا تھا میرا لن بھی کچھ زیادہ ہی جوش دکھانے لگا تھا۔۔۔
میں نے اپنا نچلا حصہ تھوڑا پیچھے کرکے لن کو اس کی ٹانگوں میں ایڈجسٹ کیا لن شاید پھدی پر لگا تھا ۔۔۔
فرحی باجی کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اس نے اپنی ٹانگوں کو آپس میں ملا کر کس لیا۔۔۔
میں نے اس کی گردن پر ہونٹ رکھے اور اپنا ایک ہاتھ اس کی کمر پر پھیرتے ہوئے گانڈ پر لے گیا۔۔۔
وہ دوہرے وار کے لیے تیار نہیں تھی اس کا جسم ایک دم سخت ہو گیا اس کی گردن پر گرفت بھی سخت ہو گئی۔۔۔
اس کی گردن کو چومنے لگا ساتھ ساتھ گانڈ کو دبانے لگا اس کے بڑے بڑے چوتڑ اب سخت ہو چکے تھے۔۔۔
شاید اس پر کسی مرد کا لگنے والا پہلا ہاتھ تھا اس لیے وہ اتنے نکھرے دکھا رہی تھی۔۔۔
جیسے جیسے میرے ہونٹ اس کی گردن پر چلتے جارہے تھے ویسے ویسے وہ اپنا سر پیچھے کرتی جا رہی تھی۔۔۔
جیسے ہی اس کی ٹھوڑی سامنے آئی میں نے اپنے منہ میں ٹھوڑی کو لے کر چوما ٹھوڑی کے بعد اس کے ہونٹ کو چوما ۔۔۔
ہونٹ چوم کر میں نے گال کی طرف رخ کیا اس نے نیچے سے لن پر پھدی رگڑنا شروع کر دی تھی۔۔۔
ایسی خماری چھا رہی تھی کہ دل کیا لن کو پھدی میں گھسا دوں۔۔۔
لیکن مجھے فرحی باجی کے انداز میں پتہ چل رہا تھا کہ وہ اناڑی ہے میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ابھی پردہ بکارت باقی ہے۔۔۔
اس لیے تحمل سے کام لینا ہوگا اتنا بڑا لن اسی کی پیک پھدی کو کھولے گا تو خون خرابہ ہو سکتا ہے۔۔۔
اس لیے آہستہ آہستہ اس کو اس مقام تک لانا مقصود تھا اس لیے میں نے اس کے مموں کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔
وہ بھی بھرپور ساتھ دے رہی تھی میرے لن کر پھدی کو زور زور سے رگڑ رہی تھی۔۔۔
میں جوش میں گال گردن ٹھوڑی ہر جگہ چوم رہا تھا ۔۔۔
آہستہ آہستہ اس کو پیچھے دھیکیلتے ہوئے چارپائی پر لے گیا اس کو دھکیل کر چارپائی پر لٹایا۔۔۔
خود اس کے اوپر لیٹ گیا مموں کو زور زور سے دبانے لگا لن کو پھدی پر کپڑوں کے اوپر سے رگڑنے لگا۔۔۔
لن کی رگڑ کپڑوں کی وجہ سے زیادہ لگ رہی تھی فرحی تڑپنے لگی اس کے منہ سے سئی سیی کی آوازیں آنے لگیں۔۔۔
اس کے گلے کے اوپر سے مموں کی لکیر واضح کو رہی تھی ممے بھی اوپر کو نکل رہے تھے۔۔۔
میں نے اپنی زبان نکال کر وہاں رکھی اور چاٹنے لگا اففف نمکیں نمکیں ذائقہ میری زبان پر آیا ۔۔۔
لن ایک دم کڑک ہو گیا اب بات میری برداشت سے باہر ہو گئی میں نے فرحی باجی کو اٹھا کر بٹھایا۔۔۔
اس کی قمیض کو پکڑ کر اوپر کرنے لگا فرحی باجی کسی نشئی کی طرح جھوم رہی تھی۔۔۔
اس کی آنکھوں میں سرخ ڈورے چمک رہے تھے اس کے اندر ابلتے جوش کا پتہ دے رہے تھے۔۔۔
جیسے جیسے قمیض اوپر ہو رہی تھی میرا لن پھڑک رہا تھا دودھ جیسا سفید پیٹ ننگا ہوتا جارہا تھا۔۔۔
میری آنکھیں پیٹ کی سفید کو دیکھ کر پھٹ رہی تھیں میرے اندر عجیب سا طوفان بپا ہو گیا تھا۔۔۔
قمیض مموں تک آئی اس نے بازو اوپر کیے میں نے قمیض اتار دی آہ آہ بڑے بڑے دودھ کے ڈبے میری آنکھوں کے سامنے تھے۔۔۔
مموں کی اٹھان دیکھ کر میرے منہ میں پانی بھر آیا کیا آتش فشاں پہاڑ تھے ۔۔۔
اپنے ہونٹوں پر زبان پھیر کر میں نے فرحی باجی کو بہت پیار سے چارپائی پر لٹایا اور اپنے ہاتھوں کو دودھ جیسے سفید ابھرے ہوئے مموں پر رکھ دیا۔۔۔
بہت ہی پیار سے مموں پر ہاتھ پھیرنے لگا جیسے خدشہ ہو کہ یہ خواب کہیں ٹوٹ نہ جائے ۔۔۔
مموں کے اطراف میں ہاتھ پھیر کر میں نے دونوں مموں کو آپس میں ملا لیا ۔۔۔
مموں پر جھکا اپنا لن اس کی ٹانگ کے ساتھ لگایا اور ہونٹ کھول کر ایک ممے کے نپل پڑ ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔
ہونٹ رکھ کر دل نہ بھرا زبان نکال کر نپل پر پھیرنے لگا
دل میں جاگے سو ارماں
لن نے ماری چنگھاڑیاں
ممے تھے کہ روئی کی پہاڑیاں
لبوں نے کی ان پے بےشمار پاریاں
میں مموں پر ٹوٹ پڑا مموں کو کھینچ کھینچ کر چوسنے لگا نیچے لیٹی فرحی باجی تڑپ رہی تھی۔۔۔
میں کسی بھوکے شیر خوار بچے کی طرح ممے کے نپل باری باری بڑی بیتابی سے چوس رہا تھا۔۔۔
میرا دل تھا کہ بھرنے کا نام نہیں لے رہا تھا فرحی باجی بے قابو ہوتی جا رہی تھی ۔۔۔
میں نے اپنا ناڑا ڈھیلا کیا لن باہر نکالا اور فرحی کے ہاتھ میں پکڑا دیا ۔۔۔
وہ لن کو پکڑے رہی میں نے اس کے ہاتھ کو لن کی مٹھ لگانے پر لگا دیا۔۔۔
اپنا ایک ہاتھ اس کی شلوار میں ڈال کر پھدی کو مسلنے لگا فرحی باجی کی پھدی پانی پانی ہو چکی تھی۔۔۔
پتہ نہیں کب سے وہ آنسو بہا رہی تھی پھدی کے پانی سے ارد گرد کی جگہ بھی بھیگ چکی تھی۔۔۔
پھدی کے لبوں میں دو انگلیاں نیچے سے اوپر پھیرنے لگا جب انگلیاں پھدی کے لبوں میں اوپر کی طرف جاتیں۔۔۔
فرحی اپنی ٹانگوں کو ملا کر ہاتھ کو دبانے لگتی لن پر اس کی گرفت سخت سے سخت تر ہو جاتی۔۔۔
وہ اتنی بے قابو ہوئی کہ اس نے مجھے اپنے اوپر گرا لیا خود کروٹ بدل کر لن کو ٹانگوں میں لے لیا۔۔۔
لن شلوار میں گھس گیا پھدی پر لگنے لگا میں نے مموں سے منہ ہٹایا تو اس نے میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے۔۔۔
بے تحاشہ ہونٹ چوسنے لگی اپنی ٹانگوں کو کس کر لن کو پھدی پر رگڑنے لگی۔۔۔
میں نے بہت نزاکت سے اس کی شلوار کو کچھ نیچے کیا پھدی کو ننگا کیا ۔۔۔
لن کو پھدی کے لبوں میں رگڑنے لگا اس کی پھدی اتنی گیلی تھی کہ لن بھیگ گیا ۔۔۔
لن پھدی کے پانی سے بھیگ کر اور مست ہو گیا اور اچھلنے لگا۔۔۔
میں نے پیار سے اس کی شلوار پاؤں سے نکال دی اپنی شلوار بھی اتار دی ۔۔۔
اس کی گوشت سے بھرپور پھدی کو دیکھ کر مجھے سے برداشت نہ ہوا ایسی نرم پھولی ہوئی پھدی اس کے مموں کی نسبت بہت زیادہ سرخ تھی۔۔۔
میں نے اپنی ایک انگلی پھدی میں گھسا دی وہ بن پانی کی مچھلی کی طرح تڑپنے لگی۔۔۔
فرحی باجی کی آنکھیں بند تھی اس کے ہاتھ مدہوشی میں اپنے مموں کر تھے ۔۔۔
اس کا جسم کافی فربی مائل تھا اسی وجہ سے وہ بہت زیادہ سیکسی لگتی تھی۔۔۔
لن کو بے دھیانی میں پھدی پر رکھا اس کی ٹانگوں کو اٹھایا اور پھدی کو اپنے سامنے کیا۔۔۔
لن سے پھدی کا نشانہ لیا اور ٹوپی پھدی کے لبوں میں پھنسا لی۔۔۔