لن پھدی کے لبوں میں گھس چکا تھا فرحی باجی مزے میں ڈوبی تھی ۔۔۔
لن کی ٹوپی کو پھدی کے لبوں میں گھسا کر پھیرنے لگا جیسے ہی لن اوپر کی طرف پھسلتا ہوا جاتا فرحی باجی کا جسم اکڑنے لگتا۔۔۔
ایسے ہی کوئی دس بارہ بار میں نے لن کو پھدی کی بیرونی سیرگاہ میں گھمایا۔۔۔
فرحی کو دیکھ کر ایسا لگ رہا تھا جیسے سر کٹی بکری تڑپ رہی ہو۔۔۔
اس کی برداشت جواب دے رہی تھی میں نے لن پر دباؤ بڑھانا شروع کیا ۔۔۔
لن کی ٹوپی نے پھدی میں گھسنے سے انکار کر دیا اس کی پھدی اندر ایسے تھی جیسے کسی نے کوئی دیوار کھڑی کر دی ہو۔۔۔
لن کی موٹی ٹوپی اندر گھسنے سے قاصر تھی فرحی نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر میرے گرد لپیٹ لیں۔۔۔
وہ گانڈ اٹھا کر لن پر پھدی کو مارنے لگی میں اسی کوشش میں لگا تھا کہ لن اندر ہو جائے۔۔۔
فرحی کے جھٹکوں کی وجہ سے کامیابی نہیں مل رہی تھی بس کچھ لمحوں میں ہی فرحی پر سکون ہو گئی۔۔۔
اس کی پھدی سے پانی باہر کو نکلا لن کی ٹوپی کو مزید گیلا کر گیا ۔۔۔
پھدی چکنی ہوئی لن بھی پانی سے چمکنے لگا میں نے اندر کی طرف دباؤ بڑھایا ۔۔۔
ٹوپی کو رستہ ملا فرحی باجی کی سییی کی آواز آئی اسی وقت دروازہ بجنے کی آواز آئی۔۔۔
میرے ٹٹے شاٹ ہو گئے میں جلدی سے فرحی کے اوپر سے اترا اور شلوار کا ناڑا باندھا۔۔۔
فرحی اتنی دیر میں قمیض ٹھیک کر چکی تھی اس نے شلوارپہن لی اور مجھے بیٹھک کی طرف اشارہ کیا۔۔۔
خود شلوار پہن کر اپنا چہرہ صاف کرتی باہر کی طرف چل دی چلتے ہوئے اس نے دوپٹہ ٹھیک سے لیا۔۔۔
دروازے سے دور سے ہی اس نے اونچی آواز میں پوچھا کون۔۔۔؟
باہر سے کسی بچے کی آواز آئی فرحی نے دروازہ کھولا میں چھپ کر دیکھ رہا تھا۔۔۔
ایک چھوٹا سا بچہ اندر آہا وہ ہمسائیوں کا تھا فرحی باجی کچن میں گئی اس کو کوئی چیز دی وہ چلا گیا۔۔۔
لیکن تب تک میرا لوڑا سو چکا تھا فرحی باجی نے دروازہ بند کیا اور واش روم میں گھس گئی۔۔۔
میں ٹی کے سامنے بیٹھ گیا وہ کوئی دس پندرہ منٹ بعد باہر آئی تو نہائی ہوئی تھی۔۔۔
اس نے برآمدے میں کھڑے ہو کر بال خشک کیے اس کے چہرے پر مسکراہٹ تھی وہ بہت پرسکون نظر آ رہی تھی۔۔۔
میں ٹی دیکھتا رہا فرحی ابھی بال کی کنگھی کر رہی تھی کہ چاچی بھی آگئی۔۔۔
میں کچھ دیر مزید بیٹھا رہا اور اٹھ کر اپنے گھر آگیا ۔۔۔
باقی کا دن ایسے کی گزر گیا لیکن مجھے آج بہت اوازاری ہو رہی تھی لن پر بار بار کھرک ہو رہی تھی۔۔۔
میں نے جیسے تیسے شام تک گزارا کیا شام کو کھیل کر دیر سے گھر آیا شانزل ہمارے دروازے سے نکل رہی تھی۔۔۔
اس مے تیور بتا رہے تھے کہ وہ مجھ سے ناراض ہے میں نے اس کو اشارہ کیا کہ آج رات آوں گا۔۔۔
شانزل نے نظریں پھیر لیں اس کے چہرے پر کوئی خوشی نظر نہیں آ رہی تھی۔۔۔
خیر رات ہوئی سب سو گئے آج بھا گھر نہیں آئے تھے گاؤں میں ہی تھے ۔۔۔
آج میں اکیلا شہر بیٹھک میں سونے والا تھا اس لیے بے دھڑک ہو سوچا کہ آج رات شانزل کے نام ہو گی۔۔۔
کئی دنوں سے لن پیاسہ تھا ایسے ہی تھوڑی سے رگڑ لگنے سے اکڑ سے کھڑا ہو جاتا تھا۔۔۔
لن کا علاج صرف پھدی تھی کو اتنے دنوں کی خواری کے باوجود نہیں ملی تھی۔۔۔۔
جیسے ہی لن کو پتہ چلا کہ آج شانزل کی خوبصورت پھدی میں جانے کا موقع مل رہا ہے ۔۔۔
لن صاحب سرشام کی سر اٹھا کر کھڑے ہو گئے بڑی مشکل سے وقت گزر رہا تھا ۔۔۔
آج تو وقت ایسے رک گیا تھا جیسے گھڑی جام ہو گئی ہو۔۔۔
بڑی مشکل سے وقت گزرا رات کے گیارہ کا وقت ہوا لن نے مجھے جھٹکا کھا کر الارم دیا۔۔۔
میں بہت آرام سے اٹھا گھر میں نظر دوڑائی ہر طرف امن کا پنچھی پر پھیلائے ہوئے تھا۔۔۔
میں دبے پاؤں واپس آیا بیٹھک کو گھر والی سائیڈ سے کنڈی لگائی اور آہستگی سے باہر والا دروازہ کھولا کر باہر سے تالا لگایا۔۔۔
شانزل کی بیٹھک کے دروازے پر پہنچ گیا ادھر ادھر دیکھے بغیر ہی میں نے دروازے کو آہستہ سے دھیکیلا دروازہ کھلتا چلا گیا ۔۔۔
میں نہیں جانتا تھا کہ اس وقت کسی کی دو آنکھیں مجھے دیکھ رہی ہیں میں بے دھڑک ہو کر اندر گھس گیا۔۔۔۔
شانزل سامنے ہی بے چین سی کھڑی تھی جیسے ہی میں دروازہ بند کرکے سیدھا ہوا وہ ایک قدم تیزی سے میری طرف بڑھی۔۔۔
اس نے میری گردن میں بازو ڈال دئیے اور مجھے چومنے لگی ساتھ ساتھ اس کے سسکنے کی آوازیں بھی آرہی تھیں۔۔۔
اس نے مجھے جابجا چومتے ہوئے روتی آواز میں کہا بلو تم مجھے مار کر ہی دم لو گے ۔۔۔
میں نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر تھپکی دی اس نے پھر روتے ہوئے کہا ۔۔۔
شانزل ۔۔۔ بلو مجھے کیوں اتنا تڑپاتے ہو۔۔۔
میں۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے میں جان بوجھ کر ایسا نہیں کرتا۔۔۔
شانزل۔۔۔ جیسے بھی ہے تم ایسا کرتے ہو۔۔۔
میں۔۔۔ سمجھا کرو میں کوئی جان بوجھ کر تو نہیں گیا تھا اتنے دن ہم سب لوگ یہاں نہیں تھے۔۔۔
شانزل ۔۔۔ مجھے بتا نہیں سکتے تھے۔۔۔اور کل رات کو کیوں نہیں آئے ۔۔۔ اس کے لیے بھی کوئی بہانہ سوچ لیا ہوگا۔۔۔
میں ہنسنے لگا شانزل کیا ہو گیا میری شونو اتنا کیوں غصہ کر رہی ہو۔۔۔
میں آج آگیا ہوں ناں میرا دل بھی بہت کرتا ہے تم سے ملنے کو ۔۔۔
شانزل۔۔۔ ہاں کرتا ہے اسی لیے اتنے دن غائب رہے اور یہاں آنے کے بعد بھی مجھ سے نہیں ملے۔۔۔
دیکھ لینا میں کسی دن ایسے ہی تمہارے انتظار میں جان دے دوں گی۔۔۔
میں نے اس کو اپنے سے الگ کیا اور اس کے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا مجھے بہت مس کیا میرے شونے نے۔۔۔
شانزل نے روتے ہوئے ہاں میں سر ہلایا اور میرے سینے کر پیار بھری مکیاں مارنے لگی۔۔۔
میں نے ہائے اوئے شانی نہ کرو میری جان درد ہو رہی ہے ۔۔۔
شانزل نے ایک دم رک کر میرے سینے پر اپنا سر رکھ دیا اور پوچھنے لگی یہاں درد ہوئی میری جان کے۔۔۔
سوری سوری۔۔۔ سوری۔۔۔ سوری میری جان مجھے غصہ آگیا تھا۔۔۔
مجھے کونسا درد ہوئی تھی نازک سی لڑکی کے نازک ہاتھوں سے بھلا کتنی درد ہو سکتی تھی۔۔۔
کافی دیر ایسے کی ناز برداریاں چلتی رہیں شانزل کا موڈ ٹھیک ہوا۔۔۔
اس نے ایک پڑا جگ اٹھایا اور اس میں سے گلاس میں دودھ ڈال کر مجھے دیا اور حکم صادر فرمایا ۔۔۔
شانزل۔۔۔ یہ جگ سارا خالی کرنا ہے کتنے کمزور ہو گئے ہو۔۔۔ پتہ نہیں کیا کرتے رہے ہو۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے گلاس پکڑا ساتھ ہی اس کی کلائی بھی پکڑ لی اس نے جگ میز پر رکھا ۔۔۔
میرے قریب آگئی میرے کندھے پر سر رکھ دیا میں نے دودھ کا گلاس اس کے ہونٹوں کے قریب لاتے ہوئے کہا میٹھا نہیں کرو گی۔۔
وہ شوخی سے بولی نہیں کڑوا کی پیو تمہارے جیسے کے لیے کڑوا کی بہتر ہے۔۔۔
میں۔۔۔ اگر تم پلاؤ تو زہر بھی ہنستے ہوئے پی جاؤں تو کڑوا دودھ کیا چیز ہے۔۔۔
اس نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور گلاس کو ہونٹوں سے لگا کر بولی خبردار اگر آج کے بعد ایسی بات اپنی زبان پر لائے تو۔۔۔
مجھے اس کی بات سن کر احساس ہوا کہ اس نے بھی مرنے کی بات کی تھی لیکن میرے منہ سے ایسے پیاربھرے الفاظ کیوں نہیں نکلے۔۔۔
ان باتوں سے میرے اور شانزل کے درمیان چل رہی اس پیار کی جنگ کا مقصد عیاں ہوتا تھا۔۔۔
شانزل مجھ سے کتنا پیار کرتی تھی مجھے یہ سوچ کر خود پر غصہ آنے لگا۔۔۔
لیکن اندر گھسے شیطان کو کیسے شکست دے سکتا تھا میرا لن جو کب سے اکڑ کر مجھے دوہائیاں دے رہا تھا۔۔۔
شیطان میرے دماغ میں سرگوشیاں کر رہا تھا پھدی سامنے ہے لوڑا گھسا اور مزے میں ڈوب جا۔۔۔
میں شیطان کی باتیں مان رہا تھا میں نے گلاس خالی کیا اور شانزل کو اپنے گلے سے لگا لیا۔۔۔
اس کے چہرے کو اپنے ہاتھوں کے پیالے میں لیا ہونٹ اس کے شربتی ہونٹوں پر رکھ دئیے۔۔۔
اس نے بھی اپنے ہونٹوں کو میرے حوالے کر دیا اور اپنی باہیں میری گردن میں حمائل کر دیں۔۔۔
میرا لن دن کی ادھوری چدائی کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی اکڑ دکھا رہا تھا ۔۔۔
مجھ سے زیادہ برداشت نہیں ہو رہا تھا اس لیے جلدی ہی شانزل کی قمیض اتر چکی تھی۔۔۔
اس کے ممے برا کی قید سے آزاد ہو گئے تھے اس کے ممے پہلے سے بڑے لگ رہے تھے۔۔۔
میں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں دونوں تھین پکڑ لیے اور انگلیوں کی مدد سے نپلوں سے کھیلنے لگا۔۔۔
ہونٹ چوستے چوستے میں نے ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر پھیرتے ہوئے شلوار تک پہنچا دیا۔۔۔
شلوار کے اوپر سے پھدی کو چھوا تو اس کے جسم میں جھرجھری سی ہوئی۔۔۔
میں نے ہوںٹ چھوڑ کر نیچے جھکتے ہوئےمموں کے درمیان منہ رکھ کر زبان نکالی اور پھیرنے لگا۔۔۔
نیچے میرا ہاتھ اس کے پھدی پر تھا پھدی والی جگہ سے شلوار گیلی ہو چکی تھی ۔۔۔
ہاتھ کو شلوار کے اندر ڈالا اور پھدی تک لاتے لاتے شلوار بھی نیچے سرکا دی۔۔۔
پھدی تک شلوار نیچے ہو چکی تھی مموں کے درمیان والی جگہ کو تسلی سے چاٹنے کے بعد زبان کو ایک ممے کو دھونے کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا۔۔۔
زبان سے ایک ممے کو چاٹ کر گیلا کیا پھر دوسرے کو گیلہ کیا شانزل میرے سر کو ممے پر دبانے لگی ۔۔۔
انگلی اس کی پھدی کی لکیر میں پھیرنے لگا شانزل نے اپنی ٹانگیں دبا لیں ہاتھ کو دبانے لگی۔۔۔
اپنے ہاتھوں سے میرا سر دبانے لگی میں نے ہونٹ کھولے اور ایک ممے کا نپل دانتوں میں لے کھینچا ۔۔۔۔
شانزل کی ٹانگیں کانپ اٹھیں لیکن اس نے مجھے روکا نہیں۔۔۔میں لگا رہا دو تین بار کھینچ کر چھوڑنے کے بعد میں نے نپل کو اچھے سے منہ میں لے لیا ۔۔۔
نپل کو منہ لے کر اس پر زبان پھیرتے ہوئے چوسنے لگا لیکن لن مجھے چین نہیں لینے دے رہا تھا۔۔۔
جب بات میری برداشت سے باہر ہو گئی تو میں نے اپنا ناڑا ڈھیلا کیا شلوار نیچے کر لی۔۔۔
شانزل کو صوفے پر لے گیا اور لٹا لیا اس نے مجھے کھینچ کر اپنے اوپر لٹایا میرے سینے کے نیچے اس ممے نرم تکیہ بن گیے۔۔۔
میرا لن پھدی پر دستک دینے لگا وہ بھی بے چین ہو رہی تھی اس کے اندر بھی آگ برابر لگی تھی۔۔۔
جب دو جسم میں آگ لگی ہو دونوں کے ٹکرانے سے مزہ بھی کمال آتا ہے میں نے لن کو ہاتھ سے پکڑ کر پھدی کے سوراخ میں سیٹ کیا۔۔۔
پھدی رو رو کر گیلی ہو چکی تھی لن کی ٹوپی پھدی کو چھو کر گیلی ہو گئی ۔۔۔
میں نے لن سیٹ کرکے لن پر زور ڈالا لن کی ٹوپی اندر اتر گئی سرور کی اک لہر پورے جسم میں دوڑ گئی۔۔۔
میں دباؤ بڑھاتا گیا لن پھسل کر اندر اترتا گیا آدھے سے کم لن اتر کر پھنس گیا پھدی کا سارا پانی جو وہ چھوڑ چکی تھی لن نے جذب کر لیا تھا۔۔۔
اب لن خشک تھا اس لیے میں اس نے آگے بڑھنے سے انکار کیا لن کو پیچھے کھینچا پھر دباؤ ڈالا لن صاحب اندر ہوئے ۔۔۔
ایسے ہی کرتے کرتے جب لن تقریبآ سارا اندر ہو گیا تو میں نے باہر کھینچ کر ایک زور ما جھٹکا مارا ۔۔۔
لن جڑ تک اندر اتر گیا شانزل کے منہ سے چیخ نکلتے نکلتے رہ گئی کیونکہ میں نے اسی وقت اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا تھا۔۔۔
اس کے بعد تو مجھ پر جنون طاری ہو گیا دھے دھکے پے دھکا لگانے لگا لن بھی ایک تواتر سے اندر جانے لگا۔۔۔۔
شانزل کا کیا حال ہو رہا تھا اس بات سے بے فکر ہو کر میں مسلسل گھسے ماری جا رہا تھا۔۔۔
میں مسلسل پانچ منٹ تک ایک ہی پوزیشن میں گھسے مارتا رہا اور ایسے گھسے مارے کے میں پسینے سے بھیگ گیا ۔۔۔
میں نے اپنی قمیض اتار پھینکی شانزل کو سانس لینے کا موقع ملا تو اس نے مجھے کہا بلو میری بس ہو گئی ہے۔۔۔
میں نے اس کو الٹا کیا گھوڑی بنایا لن کو پھدی کے سوراخ پر پیچھے سے سیٹ کیا اور زور کا گھسا مارا لن پھدی کے دیواروں سے رگڑتا ہوا اندر تک اتر گیا۔۔۔
کچھ پھدیاں ایسی ہوتی ہیں جتنی مرضی بج جائیں ان کی شیپ خراب نہیں ہوتی لن کے مطابق ہی رہتی ہیں۔۔۔۔
شانزل کی پھدی کا شمار بھی انہیں پھدیوں میں ہوتا تھا ابھی بھی ویسی کی ٹائٹ تھی جیسے پہلی بار اس میں لن جا رہا ہو۔۔۔
یہ بات بھی سچ تھی کہ زیادہ چدی نہیں تھی لیکن پھر بھی اتنا بڑا لن وہ کئی بار لے چکی تھی۔۔۔
میں نے پھر سے پھدی کی دھلائی شروع کر دی لن کو زور زور سے پھدی میں اتارنے لگا ۔۔۔
پیچھے سے پھدی میں لن اتارنے کا بھی اپنا ہی مزہ ہوتا ہے جب جسم کا اگلا حصہ باہر کو نکلے ہوئے چوتڑوں سے ٹکراتا ہے تو ایک سرور سا اندر اتر جاتا ہے۔۔۔
اسی سرور میں ڈوبے میں پھدی مارے جارہا تھا مجھے اپنے لن پر پانی کی برسات کا احساس ہوا ۔۔۔
اسی احساس نے مجھے مزے کی اتھاہ گہرائیوں میں اتار دیا میں اس شاندار گانڈ پر نظریں جمائے پھدی مارتا رہا۔۔۔
اس کے اوپر جھکا ہاتھ آگے بڑھائے اور ممے دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیے مموں کو کھینچتے ہوئے لن اتارنے لگا۔۔۔
لن اندر گہرائی تک جارہا تھا میں مزے میں ڈوب چکا تھا اسی مزے میں ڈوبے میرے لن نے اس کی پھدی کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے۔۔۔
میں نے لن کو اخری جھٹکے اتنے زور سے مارے کہ شانزل آگے جا گری اور میں اس کے اوپر گرتا چلا گیا لن پھدی سے نکل کر گانڈ کی دراڈ میں لمبا ہو گیا۔۔۔
لن نے ایک زور دار پچکاری ماری اور اس کی گانڈ کی دراڑ میں اپنا پانی چھوڑنا شروع کردیا۔۔۔
کچھ دیر ایسے کی پانی چھوڑتا رہا اور جب میں اچھے سے فارغ ہو گیا تو میں اس کے اوپر سے اٹھ کر سائیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔
اپناسانس بحال کیا شانزل کے چہرے پر ہاتھ رکھا تو اس کا چہرہ آنسوؤں سے تر تھا وہ رو رہی تھی میں نے بڑی مشکل سے اس کو سیدھا کیا۔۔۔
اس سے پوچھا کیا ہوا ۔۔۔
شانزل۔۔۔ کچھ نہیں ہوا۔۔۔
اس کی آواز میں لڑکھڑاہٹ تھی اس لیے میں نے پھر اس سے پوچھا۔۔۔
میں۔۔۔ کیا ہوا ہے مجھے بتاؤ۔۔۔
شانزل۔۔۔ زبردستی مسکراتے ہوئے کچھ نہیں ہوا ۔۔۔
میں۔۔۔ تم رو کیوں رہی ہو۔۔۔
شانزل۔۔۔ ایسے کی آج مجھے لگا تم مجھ سے کتنا زیادہ پیار کرتے ہو۔۔۔
میں۔۔۔ نہیں بات کچھ اور ہے تم جھوٹ بول رہی ہو۔۔۔
شانزل۔۔۔ میرے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے پریشان نہ ہو میری جان میں ٹھیک ہوں۔۔۔
میں نے اس کے گالوں کو باری باری چوما اس کی آنکھوں سے آنسو اپنی انگلیوں کی پوروں سے صاف کیے۔۔۔۔
وہ ہنسنے لگی اس کی ہنسی کی کھنک میں ایک آسودگی تھی اس کے اندر سے نکلتے اس کے جذبات کی تسکین کا اظہار تھا۔۔۔
کچھ دیر ایسے ہی ہم ایک دوسرے کے ساتھ اشاروں سے ہاتھوں سے ہونٹوں سے پیار نچھاور کرتے رہے۔۔۔
شانزل نے میرے سینے پر اپنا سر رکھا اور اپنے بازو میرے گرد حمائل کر دئیے اس کے مموں کی نرمی اور گرمی کی حرارت میرے سینے کے رستے اندر اترنے لگی۔۔۔۔
میرا جسم گرم ہونے لگا میرے ہاتھ اس کی کمر پر چلنا شروع ہو گئے بہت دھیرے دھیرے ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔۔
میرا ہاتھ اس کے کندھوں سے سے لے کر گانڈ تک جاتا گانڈ کی پھاڑیوں کے درمیان سے پھرتا ہوا واپس آتا۔۔۔
وہ اوں اوں ہوں کرتی میرے سینے میں اور دبنے لگتی میرا لن ایک بار پھر اکڑ چکا تھا بہت پیار سے میں نے اس کا سر اٹھایا۔۔۔
سر اٹھا کر اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں کے قریب لایا اس نے چھٹ سے اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔۔۔۔
ہونٹوں کی چوسائی شروع ہو گئی اب کی بات شانزل کے انداز میں وارفتگی تھی اک جنون سوار تھا۔۔۔
وہ پورے جوش سے ہونٹ چوس رہی تھی ساتھ ہی زبانیں بھی آپس میں گتھم گتھا ہو گئیں۔۔۔
اس نے اپنی ٹانگیں میرے دائیں بائیں رکھیں لن کے قریب اپنی پھدی کو سجاتے ہوئے میرے اوپر جھک گئی۔۔۔
وہ مدہوشی میں میری پیشانی سے چومتے ہوئے نیچے جانے لگی گال چومے پھر ناک پر پاری کی۔۔۔
اس کے بعد ٹھوڑی پر گردن کے دونوں طرف اپنے ہاتھ میرے سینے کر پھیرے ساتھ ہی اپنی زبان نکال کر سینے کو غسل دینے لگی۔۔۔
حد درجہ جنونیت کے عالم میں وہ چومتی جا رہی تھی میرے سینے پر دونوں طرف چھوٹے چھوٹے سخت نپلوں کو اپنے دانتوں میں لے کاٹا۔۔۔۔
میرے پورے جسم میں کرنٹ دوڑ گیا میرا لوں لوں کھڑا ہو گیا اس کے ہاتھ میرے جسم پر گردش کر رہے تھے۔۔۔
ایسے ہی پاریاں کرتے اس نے میری ناف میں زبان ڈال دی افففف میری جان نکلنے والی ہو گئی۔۔۔
آج پہلی بار ناف میں زبان گھومنے کے بعد جو مزہ آتا ہے اس کا احساس ہوا مجھے سمجھ آئی جب کسی لڑکی کی ناف میں زبان پھیرتے ہیں تو اس کا جسم کیوں کانپ جاتا ہے۔۔۔۔
میری بس ہوتی جا رہی تھی میں نے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اوپر لانے کی کوشش کی اس نے میرے ہاتھ جھٹک دئیے۔۔۔
لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اس کو دبانے لگی ساتھ ساتھ دوسرے ہاتھ کو رانوں پر پھیرنے لگی۔۔۔۔
اس کی آنکھیں نشے میں ڈوبی تھیں پیار کا نشہ جسم کی بھوک کا نشہ تھا ۔۔۔
میں اٹھ کر بیٹھ گیا اس کے کومل ہاتھوں کو تھام لیا اور اسے اپنے گلے لگایا۔۔۔
میری ٹانگیں لمبی تھیں وہ میری ٹانگوں کے دائیں بائیں اپنی ٹانگیں رکھ کر بیٹھ گئی۔۔۔
لن نے پھدی کر دستک دی دونوں نے ایک دوسرے کو سگنل دے کر الرٹ کیا۔۔۔
پھدی نے اپنے آنسو بہا کر لن کو بلایا لن کے پھدی کو چھو کر یقین دلایا دونوں کی آپس میں اشارے بازیاں جاری تھیں ۔۔۔
شانزل اپنے بھرپور سینے کے ساتھ میرے گلے میں باہیں ڈالے ہونٹوں سے جادو جگا رہی تھی۔۔۔
لن نے جھٹکے مار مار کر پھدی کو بے بس کر دیا میں نے اپنے ہاتھ شانزل کے بھاری کے گانڈ کے بڑے بڑے کوہانوں پر رکھے۔۔۔
اس کو آگے سرکایا لن نے پھدی کے لبوں میں گھس کر پھدی کے آنسو اپنے اندر سمو لیے۔۔۔
لن کی ٹوپی گیلی ہوئی شانزل نے خود کو لن کے حساب سے ایڈجسٹ کیا پھدی کو لن کے لیے تیار کیا۔۔۔
میں نے نیچے سے لن کو آگے بڑھایا شانزل نے تھوڑا اوپر ہو کر لن کو پھدی تک رستہ دیا۔۔۔
لن نے اپنی بڑی سی ٹوپی کو پھدی کے اندر اترتے دیکھ کر مستی میں جھٹکا کھایا۔۔۔
میں نے شانزل کی گانڈ کو پکڑ کر آگے کی طرف دھکیلا لن آدھا اندر اتر گیا۔۔۔
اس کا جسم میرے جسم میں پیوست ہونے لگا شانزل کے منہ سے آہمممم کی آوازیں نکلنے لگیں ۔۔۔
جتنی وہ گرم ہو چکی تھی اس نے خود ہی ہلنا شروع کر دیا اس کا جنون انتہا کو پہنچا ہوا تھا۔۔۔
میرا لن پھنکارتا ہوا پھدی کی گہرائی میں اپنی تمام موٹائی اور لمبائی سمیت اتر گیا۔۔۔۔
شانزل بھی جوش میں ہلنے لگی میں نے اس کی گردن پر ہونٹ رکھ کر اس کی کمر پر ہاتھ جمائے ۔۔۔
شانزل نے اپنے دونوں ہاتھ میرے کندھوں پر رکھے میں ا سکو اٹھا اٹھا کر لن پر مارنے لگا ۔۔۔
جیسے جیسے کن رواں ہوتا جا رہا تھا اس شانزل کی سپیڈ بڑھتی جا رہی تھی پھر ایک وقت آیا۔۔۔
شانزل میرے کندھے سے ہاتھ اٹھا کر پیچھے کی طرف ہاتھ رکھ کر خود لن پر گھسے مارنے لگی۔۔۔
اس اینگل میں لن پر پھدی کی رگڑ بہت زیادہ ہو گئی وہ پیچھے کو جھکی تھی ۔۔۔
پھدی کا اینگل بدل گیا تھا لن کو جھٹکے لگ رہے تھے مجھے خود ہر جھٹکے پر اپنی گانڈ اٹھانا پڑتی تھی۔۔۔
وہ جوش میں اپنے ہونٹ بھینچے لن پر پھدی کو مارے گئی اس کا جسم پسینے سے بھیگ گیا ۔۔۔
وہ ویسے ہی پیچھے لیٹتی چلی گئی لن پھدی سے نکل گیا میں جلدی سے اٹھا اس کی ٹانگیں اٹھا کر کندھے پر رکھیں۔۔۔
لن کو پھدی پر رکھا اور ایک کی جھٹکے میں لن پھدی کی گہرائی میں اتار دیا ۔۔۔
اس کے پاس جھٹکوں کی مشین چلا دی شانزل کا جسم اکڑنے لگا وہ مجھے خود پر کھینچنے لگی اس نے اپنی ٹانگیں میری کمر کے گرد لپیٹ لیں ۔۔۔
مجھے اپنے اوپر گرا کر میرے ہونٹوں کو کاٹنے چوسنے چومنے لگی اس کے جوش سے میں بھی مزے میں اپنے مزے کے آخری مقام تک پہنچ گیا۔۔۔
شانزل کے جسم نے جھٹکا کھایا اس کی پھدی نے لن کو نہلانا شروع کر دیا لن پھدی کے پانی سے نہا کر سرشار ہو گیا ۔۔۔۔
میں نے جھٹکوں کو آخری حد تک تیز کر دیا شانزل اب درد برداشت کر رہی تھی اس کے ہاتھ میرے پیٹ پر تھے وہ مجھے روکنے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
میں نے آخری بند جھٹکے اتنی سپیڈ سے مارے کہ شانزل نے اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر چیخ کو روکا ۔۔۔
جیسے ہی لن پھولا سارا پانی ٹولی کی طرف دوڑا میں نے ایک جھٹکے سے لن باہر نکالا اور پیٹ پر کر دیا۔۔
لن نے ایک پچکاری ماری اپنا گرم گرم پانی پیٹ پر گرانا شروع کر دیا۔۔۔
لن سے منی کے فوارے نکل کر پیٹ پر گر رہے تھے میرے پورے جسم میں سکون اترتا جا رہا تھا۔۔۔۔
شانزل بھی پر سکون ہو کر اپنی سانسیں بحال کر رہی تھی اس کے چہرے پر سکون کی سکون تھا۔۔۔
لن نے جب اپنا آخری قطرہ بھی بہا دیا تو میں اس کے ساتھ لیٹ گیا اس نے اپنی باہوں کے حصار میں مجھے لے کر اپنے گرم سانسیں میرے کان کے قریب لینا شروع کر دیں۔۔۔
پورے جسم میں سکون ہی سکون تھا اتنے دن کی بے چینی ایک دم ختم ہو گئی ۔۔۔
ایک دم گھڑی پر نظر گئی تو تین بج رہے تھے میں نے شانزل کو کہا شانزل ٹائم دیکھو ۔۔۔
وہ ہڑ بڑا کر اٹھی اس نے جلدی سے ایک گندہ کپڑا لیا اپنے پیٹ سے منی صاف کی میرا لن صاف کیا۔۔۔
اسی سے اپنی پھدی کو صاف کیا کپڑے پہننے لگی میں نے بھی اپنے کپڑے پہنے اور شانزل کو اچھے سے گلے لگایا۔۔۔
گلے لگا کر ایک بھرپور کس کی اور اسی طرح واپس آ کر اندر والا دروازہ کھول کر سو گیا۔۔۔
صبح پھر وہی روٹین پورے ٹائم پر ابا جی نے اٹھایا جلدی سے واش روم گھس گیا اچھے سے نہایا۔۔۔
رات کی تھکن اتارنے کی کوشش کی لیکن ناکام رہا سیر کے لیے گیا واپسی پر آج بھی دائی کا کواڑ بند ملا ۔۔۔
ہاں بلوچ ہاؤس کے سامنے سے گزرتے ہوئے تہمینہ نظر آئی اسی طرح جب بسمہ آنٹی کے گھر کے سامنے سے گزرا تو وہ بھی باہر پانی کا چھڑکاؤ کرتی ملیں۔۔۔
لیکن بسمہ آنٹی کو دیکھ کر کوئی خوشی نہ ہوئی اس کا رویہ مجھے دل پر لگا تھا جس کی وجہ سے میرا دل اس کی طرف دیکھنے کو نہ کیا۔۔۔
جب اس کو دیکھ کر آگے گزرا تو مجھے اس کے ساتھ گزارے لمحات یاد آئے اس کے شہوت سے بھرپور جسم جیسے ہی یاد آیا لن نے انگڑائی لی۔۔۔
لن کو دباتے بٹھاتے گھر آیا گھر آ کر ابا جی سے جیب خرچ لیا کیونکہ آج کالج کا پہلا دن تھا۔۔۔
ابا جی نصیحتیں کیں امی جی نے بھی دعائیں کیں ابا جی کے جانے کے بعد ہمارے ٹاؤن کا ہی ایک لڑکا جس کا میرے ساتھ ایڈمیشن ہوا تھا ۔۔۔
وہ آگیا کیونکہ وہ کافی ممی ڈیڈی تھا اس کو کسی نے بتایا تھا کہ پہلے دن کالج میں کافی فولنگ ہوتی ہے۔۔۔
کالج کے سئینیرز نئے آنے والوں کا مذاق بناتے ہیں اس لیے وہ ڈر رہا تھا ۔۔۔
مزے کی بات تو یہ تھی کہ جس کالج میں میں نے داخلہ لیا تھا وہ ہمارے ضلع کا سب سے بڑا گورنمنٹ کالج تھا۔۔۔
اس کالج کا کوئی یونیفارم نہیں تھا ہم بڑے بن ٹھن کر میں نے نیا کاٹن کا سوٹ پہنا ہوا تھا ۔۔۔
دوسرے لڑکے نے اچھا ڈریس سوٹ پہنا تھا ہم دونوں کی جوڑی بھی عجیب لگ رہی تھی ۔۔۔
ہم وقت پر کالج پہنچے تو پتہ چلا کہ کالج میں ہو کا عالم ہے ہمیں حیرت کا جھٹکا لگا کیسا کالج ہے۔۔۔
نہ کوئی بندہ نہ بشر چند ایک سٹوڈنٹ موجود تھے جو گروپ کی شکل میں گراؤنڈ میں بیٹھے تھے۔۔۔
وہ بھی ہماری طرح نئیے تھے اس دور میں کالج میں جانے کا رواج تو تھا لیکن اپنی مرضی سے جاتے تھے۔۔۔۔
ہم جس کالج میں داخل ہوئے تھے وہ دو تنظیمیں بنی ہوئی تھیں ایک پی ایس ایف جو کہ پی پی پی کے ذیل کام کرتی تھی۔۔۔
دوسری ایم ایس ایف یہ مسلم لیگ کے انڈر تھی ان دونوں کی آئے دن ہنگامہ آرائی ہوتی رہتی تھی۔۔۔
کالج میں آنے والے ہر نئے سٹوڈنٹ کے لیے لازمی ہوتا تھا کہ وہ ایک تنظیم کا ممبر شپ کارڈ لے ۔۔۔
اس کے بغیر تو وہاں رہنا ہی مشکل ہو جاتا تھا یہ سب مجھے بعد میں شاہ کے توسط سے پتہ چلا۔۔۔
ہم نوٹس بورڈ کو ڈھونڈتے ہوئے خود ہی پہنچ گئے جیسے ہی نوٹس بورڈ پر اپنا رول نمبر ملا ہم اپنے اپنے کمرے کی تلاش میں نکل پڑے۔۔۔۔
بڑی مشکل سے اپنے کمرے میں گیا تو دیکھا وہ مجھ سے پہلے ہی کوئی سو کے قریب بچے موجود تھے۔۔۔
میرا رول نمبر اناسی تھا میں نے اپنی سیٹ ڈھونڈنے کی کوشش کی کیوں کہ مجھے بتایا گیا تھا کہ رول نمبر کے حساب سے سیٹس ہوتی ہیں۔۔۔
لیکن وہاں ایسا کوئی سین نہیں تھا خیر میں بھی ایک کرسی پر بیٹھ گیا جو کہ قدرے آخر میں تھی۔۔۔
کالج کی گھنٹی بجنے میں کچھ وقت باقی تھا اس لیے ایک روسرے سے تعارف کرنے لگے۔۔۔۔
زیادہ تر بچے دیہاتی تھی جو شہر سے تھے ان میں سے بھی اکثریت گورنمنٹ کے سکول سے میٹرک کرنے والوں کی تھی۔۔۔۔
کالج کی بیل بجنے تک میں کافی جاننے والوں کو ڈھونڈ چکا تھا جن میں ہمارے گاؤں سے بھی ایک تھا ۔۔۔
دو لڑکے اس سکول سے تھے جس میں میں پڑھتا تھا تین لڑکے گاؤں کے اس سکول سے تھے جہاں میں ششم کلاس تک پڑھتا رہا۔۔۔
ہم ابھی تعارف ہی کر رہے تھے کہ ایک چھوٹی چھوٹی داڑھی والا ینگ سا لڑکا ڈائس پر آ کر کھڑا ہو گیا ۔۔۔
اس کے پیچھے پیچھے دو اور لڑکے بھی آئے ان کو میں جانتا تھا وہ بھی اسی سکول سے فارغ التحصیل تھے جہاں سے میں نے میٹرک کیا تھا۔۔۔
میں نے ڈائس پر آنے والے پر غور کیا تو وہ بھی میرا کلاس فیلو تھا قد کاٹھ کافی تھا وہ سکول میں بھی استاد ہی لگتا تھا۔۔۔
یہاں پینٹ کوٹ پہلنے پروفیسر لگ رہا تھا سب لڑکے اس کے احترام میں کھڑے ہو گئے تھے۔۔۔
اس نے رعب دار آواز میں اپنا تعارف کروانا شروع کیا اس کا نام شاہد تھا میرا بڑا اچھا دوست تھا ۔۔۔
پیپروں میں میرے پیچھے اس کا رول نمبر تھا سارے پیپروں میں اس کو نقل کروائی تھی۔۔۔
اس کو پروفیسر بنے دیکھ کر میری ہنسی چھوٹ گئی اس نے ایک دو لڑکوں کی اچھی خاصی انسلٹ کی۔۔۔
دو لڑکوں کو تو اس نے کلاس کے سامنے مرغا بنا دیا تھا اس سے پہلے کہ وہ کسی اور کو نشانہ بناتا ۔۔۔
دروازے میں سے کسی نے کہا سر آگئے وہ بھاگ کر میرے ساتھ والی کرسی پر آگیا۔۔۔
وہاں موجود لڑکے کو دھکا دے کر پیچھے کر دیا۔۔۔
میری ہنسی رکنے کانام ہی نہیں لے رہی تھی سالا ایک نمبر کا ڈھونگی تھا۔۔۔
خیر پروفیسر آئے بڑے اچھے سے سب نے تعارف کروایا پہلی کلاس تھی تعارف میں ہی وقت گزر گیا۔۔۔۔
حاضری لگانے کا وقت آیا سب نے رول نمبر کے حساب سے حاضری لگوائی ۔۔۔
وہاں بھی ایک مزے کی بات ہو گئی میری پچھلی سیٹ کر ایک لڑکا بیٹھا تھا جس کو ہم ٹیوشن میں پنگا کہتے تھے اس کا اصل نام تو مجھے اب بھی یاد نہیں ۔۔۔
میرا رول نمبر اناسی تھا اس کا رول نمبر پچھتر تھا اس کی عجیب سی عادات تھیں۔۔۔
سر نے حاضری لگاتے گئے میں نے جب حاضری بول دی تو اس نے کھڑے ہو کر کہا اکسوز می سر (یہ بھی وہ ہمیشہ غلط کی بولتا تھا ) ۔۔۔
سر نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا لیکن سارے بچے ہنسنے لگ گئے سر نے سب کو ڈانٹ کر چپ کروا دیا۔۔۔
پنگے نے کہا سر پچھتر ۔۔
سر ۔۔۔ کیا ۔۔۔؟
پنگا۔۔۔ سر پچھتر رول نمبر میں ہوں ۔۔۔
سر نے ہنستے ہوئے کہا اچھا بیٹھ جاؤ اس کے بعد جب بھی اس نے حاضری بولی ایسے ہی بولی۔۔۔
کچھ دنوں بعد اب اس کے عادی ہو گئے سارے پروفیسر بھی اس کے اکسکوز می کو سمجھنے لگ گئے تھے۔۔۔
پہلا لیکچر لینے اوہ سوری لیکچر تو ہوا کی نہیں تھا پہلی کلاس کے بعد ہمارا لیکچر فری تھا ہم باہر آ گئے۔۔۔
شاہد کے ساتھ ہیلو ہائے ہوئی شاہ بھی مل گیا سالے نے بڑے آسان سے مضامین رکھے تھے۔۔۔
شاہد نے اس کی گانڈ پر تھپڑ مارت ہوئے کہا اوئے گانڈو تو بھی یہاں آگیا ہے۔۔۔
اس نے کہا استاد جہاں گرو وہاں چیلا میں تمہیں چھوڑ سکتا ہوں بھلا۔۔ ہاہاہا۔۔۔
میں اور شاہ دونوں ہنسنے لگے شاہد بھی ہنسنے لگا ۔۔۔
شاہد ۔۔۔ آ ہو گرو نے ای اید کھاتہ کھولیا سی دو صفحیاں والی کاپی پاڑی سی۔۔۔ہاہا۔۔۔
میں۔۔۔ اوئے شاہ سچی تو شاہد کولوں پڑوائی سی پہلی واری ۔۔۔۔
شاہ نے میری کمر پر ایک دوہتھڑ جڑ دیا میں ہنستے ہوئے شاہد کے پیچھے ہو گیا۔۔۔
شاہد کا قد ہم دونوں سے لمبا تھا اس نے شاہ کو پکڑ کر ایک طرف کیا۔۔۔
شاہ۔۔۔ دیکھو اگر تم لوگوں نے یہاں بھی یہ سب کیا تو میرا لوڑا یہاں پڑھے گا۔۔۔
ہم ہنسی جا رہے تھے شاہ کو غصہ آرہا تھا سالا غصہ ایسے کرتا تھا جیسے اس کی گانڈ میں کسی نے سچ میں لن ڈال دیا ہو۔۔۔
شاہ اوئے بہن چودو ایتھے نیو فرینڈ بناتے ہیں پھر اس نے بڑا رازدارانہ انداز میں کہا۔۔۔
تم لوگوں کو ایک بات بتاتا ہوں۔۔۔
ہم اس کی طرف متوجہ ہو گئے کیونکہ ہم جانتے تھے اس گانڈو کے پاس ہمیشہ کوئی نہ کوئی نئی بات ہوتی تھی۔۔۔
اس نے ایک بلاک کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہاں شہر کا سارا جوان مال آتا ہے اوہ سوری شہر نہیں پورے ضلع کا جوان میچور مال یہاں ہوتاہے۔۔۔
ہم نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے سینہ چوڑا کرتے ہوئے کہا اوئے چوتیو کوئی حال نہیں ۔۔۔
یہاں لڑکیاں پڑھتی ہیں ماسٹرز کی کلاسیں لگتی ہیں وہ بھی کمبائینڈ ۔۔۔
ہمارے لیے اس وقت لڑکیوں کا کالج میں ہونا کی انہونی بات تھی کہاں کمبائنڈ ۔۔۔
یہ سوچ کر کی ہم اپنے اپنے دماغ میں پلاننگ کرنے لگے۔۔۔
ہم آگے چلتے جارہے تھے کہ ایک طرف سے کچھ لڑکوں آگے آ کر ہمیں روک لیا وہاں پہلے بھی کچھ لڑکے کھڑے تھے۔۔۔
جن میں میرے ٹاؤن کا ممی ڈیڈی بچہ بھی تھا شاہد مسکراتا ہوا ہمارے ساتھ ان کے پاس چلا گیا۔۔۔۔