شاہد کے قد کاٹھ کو دیکھ کر ایک لڑکا بولا اوہ بھائی تو کدھر گھس رہا ہے یہ فرسٹ والے کاکوں کے لیے میلا لگا ہے۔۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا اوہ بھایا اوہ بھایا یو بھی ہمار ساتھ ہے ہمار کلاش فیلو ہے۔۔۔
ایک لڑکا یکدم چھلانگ لگا کر نیچے ہمارے سامنے آیا ارے یو تو ہمار برادری کا چھورا ہے ۔۔۔
اے قاصد جان دے ایہناں کو ہمار ساتھ خوب جما گی ان کی۔۔۔
شاہد نے میری طرف حیرانی سے دیکھا اور سرگوشی میں بولا۔۔۔
بھوسڑی دیا اے کی ڈرامہ اے میں نے مسکراتے ہوئے کہا سالیا ایتھے مرغا بننا اے یا نکلنا اے۔۔۔
وہ ٹھہرا اڑیل ٹٹو نہ مانا اس نے ان میں کھڑے ایک لڑکے کو بلایا اور پوچھا یہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔
اس لڑکے نے کہا نظر تو تجھے بھی آرہا کے یہاں کیا چل رہا ہے فرسٹ ائیر والوں کی گانڈ مار رہے ہیں تو مروائے گا۔۔۔
شاہ بہن چود جو اب تک چپ تھا گانڈ کا نام سنتے ہی ایک دم بولا کیوں تجھے یہ گانڈو لگتا ہے اتنا لمبا چوڑا انسان۔۔۔
میری ہنسی نکل گئی وہ رانگڑ راجپوت ہمارے پاس آیا مجھے مخاطب کرکے بولا دیکھ ویرے ان لے کر یہاں سے کلٹی جاو ۔۔۔
ام تمہار عزت کر رہے صرف اس واسطے کہ تو ہمار برادری بھرا ہے ورنہ وہ دیکھ کیسے ننگے کھڑے ہیں چھورے۔۔۔
شاہ کی گانڈ میں کھجلی ہو رہی تھی سالے نے پھر منہ پھاڑا اوئے گانڈو ہو تم لوگ بھی یہ کوئی رانگڑ نہیں ہے تم لوگوں کو چونا لگا رہا ہے۔۔۔
بس پھر کیا تھا رنگڑ قوم دماغ سے تو پیدل ہوتی ہے شاہ کا بولنا تھا اور اس رنگڑ کا رنگ بدل گیا۔۔۔
وہ آگے بڑھا اس نے میرا گریبان پکڑ لیا شاہد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر مجھ سے الگ کیا۔۔۔
وہاں موجود کافی سارے لڑکے ہماری طرف متوجہ ہو گئے اتنی دیر میں ہمارے ساتھ میٹرک میں پڑھنے والے اور کچھ اور جاننے والے لڑکے بھی وہاں اکٹھے ہو گئے۔۔۔
ہم کافی لوگ ہو گئے وہ رنگڑ قد کا ناٹا تھا لیکن پھرتیلا محسوس ہو رہا تھا شاہد کو ڈاج دے کر پھر میری طرف بڑھا ۔۔۔
لیکن اب کی بار میں بھی تیار تھا جیسے کی وہ قریب آیا میں نے سامنے سے اس کو سینے میں ایک مکا کس دیا۔۔۔
آخری لفظ جو میں نے واضح سنے وہ اس کے منہ سے غلیظ گالی تھی اس کے بعد وہاں ایک ہلچل مچ گئی ۔۔۔
کسی کو کوئی سمجھ نہیں آ رہی تھی وہاں ہو کیا رہا ہے کون کس کو مار رہا ہے کون کس کا ساتھی ہے مجھے تو بالکل بھی پتہ نہیں چل رہا تھا۔۔۔
لیکن میں نے اپنے ہاتھ خوب صاف کیے شاہ تو اسی وقت کہیں غائب ہو گیا تھا پھر جیسے تیسے کرکے شاہد مجھے کھینچ کر وہاں سے نکل گیا۔۔۔
تھوڑا ایک طرف ہو کر ہم دیکھنے لگے جو لڑ رہے تھے ان میں سے کم از کم میں تو کسی کو نہیں پہچانتا تھا۔۔۔
بعد میں پتہ چلا وہ وہاں کی دونوں تنظیموں کے کارندے تھے جو آپس میں گتھم گتھا ہو گئے تھے ۔۔۔
ہمارا تو ایک بہانہ بن گیا تھا ورنہ وہ لوگ آئے دن ایسے ہی لڑتے جھگڑتے رہتے تھے۔۔۔۔
ہم وہاں سے کھسک گئے اور کینٹین میں جا کر سموسوں کا آرڈر دیا ۔۔۔
ہمارا آرڈر جو لڑکا لا رہا تھا اس سے رستے میں ہی ایک لڑکے نے سموسے پکڑ لیے اور اس کو کہا ان کے کیے پانی لے جا۔۔۔۔
یہ سب ہمارے لیے بڑا انوکھا تھا شاہ کی بولتی بھی بند تھی شاہد بڑا تپ رہا تھا ۔۔۔
میں نے شاہد کو کہا ٹھنڈ رکھ ایک دو دن دیکھتے ہیں ان کے چہرے یاد رکھنا ان کو بعد میں دیکھ لیں گے۔۔۔۔
ہم نیا آرڈر دیا سموسے کھائے جب بل دینے کی باری آئی تو پتہ چلا پہلے والا آرڈر بھی ہمارے کھاتے میں ہے۔۔۔۔
شاہد کو چڑھ گئی اس نے کہا ہم صرف اس کے پیسے دیں گے جو کھایا ہے ۔۔۔
وہ لوگ ابھی وہاں ہی موجود تھے ان کے کانوں تک بھی شاہد کی آواز پہنچ گئی۔۔۔
وہ پھوں پھوں کرتے اٹھے اور آ کر ایک نے شاہد کا گریبان پکڑلیا اب تو کچھ کرنا بنتا ہی تھا۔۔۔
میں نے گریبان پکڑنے والے کے منہ پر ایک گھونسا جڑا اس کی ہائے امی کی چیخ بلند ہوئی۔۔۔
دوسرا جو پیچھے کھڑا تھا وہ میری طرف بڑھا میں نے اس کو رستے میں ہی دبوچ لیا۔۔۔
اس کے پیٹ میں زور دار لات ماری وہ دوہرا ہو گیا جس کے منہ پر گھونسا پڑا تھا وہ منہ پر ہاتھ رکھے نیچے بیٹھ گیا تھا۔۔۔
لات کھانے والا ایک بار پھر کھڑا ہوا تب تک شاہد نے اس کو پکڑ لیا اس کی اچھی خاصی دھلائی کی۔۔۔۔
یہ کالج تھا کہ بدمعاشی کا اڈا ہم جدھر جا رہے تھے وہاں کوئی نہ کوئی اپنی تڑ دکھا رہا تھا۔۔۔
کینٹین والے کو شاہد نے پیسے دئیے اور ہم وہاں سے کلاس رومز کی طرف نکل پڑے ۔۔۔
کلاس کا وقت نہیں ہوا تھا ہم پہلے ہی کلاس میں جا کر بیٹھ گئے۔۔۔
چند منٹوں بعد وہاں ایک بڑا صحت مند بادی بلڈر ٹائپ کا لڑکا آیا اس کو میں جانتا تھا وہ ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلا کرتا تھا۔۔۔۔
اچھی خاصی واقفیت تھی اس کے ساتھ اس نے مجھے کہا تو نے آتے ہی پنگے ڈال دئیے ہیں یہاں ۔۔۔
میں ۔۔۔کیا ہوا بھائی۔۔۔
عابد۔۔۔ پہلے گراؤنڈ کے پاس پھڈا ڈلوا دیا بعد میں کینٹین میں جھگڑا ۔۔۔
یہ سب کیا کر رہے ہو اتنی تیزی اچھی نہیں ہوتی۔۔۔
میں۔۔۔ آپ کو سب پتہ ہے لیکن میں نے آپ کو وہاں نہیں دیکھا تھا۔۔۔
عابد ۔۔۔تمہں بتا دوں یہاں دو تنظیمیں ہیں ایک کا صدر میں ہوں۔۔۔
جس کے لڑکوں کو ابھی مار کر آ رہے ہو وہ دوسری تنظیم کے ہیں۔۔۔
اب ذرہ سنبھل کر رہنا وہ کسی بھی وقت جوابی کارروائی کر سکتے ہیں۔۔۔
شاہد۔۔۔ یار ہمیں کیا پتہ تھا کہ یہاں یہ سب ہوتا ہے وہ ہمارے سموسے کھا گئے تھے اور پھر تڑی لگا رہے تھے۔۔۔
عابد۔۔۔ وہ ایسے ہی چھچھورے ہیں تم لوگ آو میں اپنے سب لڑکوں سے تعارف کرواتا ہوں۔۔۔
جیسے ہی ہم سب اس کے ساتھ باہر نکلے ہمارے ساتھ اور بھی لڑکے شامل ہو گئے۔۔۔
ایک طرف سے پنگا بھی بھاگتا ہوا آیا اس نے مجھ سے پوچھا اوئے آ کی پنگا اے ۔۔۔
شاہ نے اس کو کہا پھدی دیا اے تیری ۔۔۔۔دا پنگا اے سالیا تب کہا تھا جب ہمیں مار پڑ رہی تھی۔۔۔
میں نے شاہ کو دو تین انتہائی غلیظ قسم کی گالیاں دیں اور کہا مار پڑے یا نہ پڑے تیری گانڈ ضرور پھٹے گی ۔۔۔
شاہ ٹھہرا انتہا کا کمینہ انسان ہنستے ہوئے کہنے لگا کوئی نہیں پھٹ گئی تے ۔۔۔
ایسے ہی ایک دوسرے کو گالیاں دیتے ہنستے ہوئے ہم باہر آ گئے وہاں دیکھا تو لڑکوں کا جم غفیر تھا۔۔۔
عابد ہمیں لے کر ایک طرف سے رستہ بناتا آگے بڑھتا گیا ہم سب جب آگے پہنچے تو عابد نے اونچی رعب دار آواز میں سب کو مخاطب کیا۔۔۔
سب اس کی متوجہ ہوئے تو اس نے ان سب سے ہمارا تعارف کروایا اور بتایا کہ یہ میرے دوست ہیں ان کا خیال رکھنا ہے۔۔۔
وہاں سے فارغ ہو کر ہم دوبارہ کلاس میں جانے لگے ابھی نوٹس بورڈ پر اگلا لیکچر ہی دیکھ رہے تھے کہ مجھے کسی نے نام سے پکارا ۔۔۔
میں نے پلٹ کر دیکھا تو بھا ہاشم کا جگری دوست کھڑا تھا میں نے اس کو سلام کیا حال احوال پوچھے۔۔۔
بھا جب کالج پڑھتا تھا تب سے یہ کالج میں تھا پڑھنے کے بعد بھی کالج سے جڑا ہوا تھا اس کا اصل نام تو میں نہیں جانتا تھا لیکن اس کو سب مانی کہہ کر پکارتے تھے۔۔۔
میرے حال احوال پوچھنے پر اس نے کہا کاکے تو لگتا نہیں ہے ہاشم کا بھائی ہے ۔۔۔
میں۔۔۔ مطلب۔۔؟
مانی۔۔۔ جیسے تم نے کالج میں آتے ہی رولا پا دتا اے ۔۔۔
تب تک وہاں شاہد لوگ بھی آگئے تھے وہ میرے اردگرد جمع ہو گئے تھے۔۔۔
میں۔۔ بھائی میرا خیال ہے آپ کو کسی نے غلط فہمی میں ڈال دیا ہے۔۔۔
مانی۔۔۔ مجھے سب پتہ ہے ابھی جو عابد آیا تھا وہ بھی پتہ ہے۔۔۔ہم اتنےبے خبر نہیں رہتے میں بھی یہاں اثر رسوخ رکھتا ہوں۔۔۔
میں۔۔۔ آپ بھی یہاں ہوتے ہیں مجھے بھا نے بتایا ہی نہیں تھا۔۔۔
مانی۔۔۔ اس نے مجھے جو بتا دیا تھا کہ بلو کا خیال رکھنا بچہ ہے ۔۔۔لیکن مجھے لگتا ہے اس کی ضرورت نہیں پڑے گی۔۔۔
کیونکہ جو کچھ میں نے سنا ہے اس کے مطابق تمہارا ہاتھ کافی کھلا ہے ایک ہی دن میں دو جگہ پنگے اور دونوں بار الگ الگ تنظیموں کے لوگوں کے ساتھ۔۔۔
میں کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے ساتھ چلنے کا کہا۔۔۔
میں چلا تو ساتھ شاہ ،شاہد اور پنگا اور پنگے کا دوست ذیشان عرف کوڈو بھی چل پڑے۔۔۔
وہ مجھے لیے ہوئے کینٹین میں گیا وہاں اس نے سموسوں کا آرڈر دیا ساتھ ہی کسی کا نام لے کر بلایا۔۔۔
ایک منٹ سے پہلے وہی لڑکے جن کے ساتھ ہماری دھینگا مشتی ہوئی تھی وہاں آگئے۔۔۔
مانی بھائی نے ان کو مجھ سے معافی مانگنے کا کہا ساتھ یہ ہدایت بھی کی کہ آج کے بعد یہ شکلیں یاد رکھ لو ان کو کسی نے تنگ کیا چاہے ہمارے لڑکوں نے یا عابد بوکسر کے لڑکوں نے خیر نہیں ہو گی۔۔۔۔
ان لڑکوں نے ہم سے معافی مانگی ہم نے بھی بڑا دل کرتے ہوئے ان کو معاف کر دیا ساتھ ہی میں نے مانی کو کہا ۔۔۔
میں۔۔ بھائی یہ تنظیموں میں شامل ہونا ضروری ہوتا ہے کیا۔۔؟
مانی۔۔۔ نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے جس کا دل چاہے وہ شامل ہو جائے جس کا چاہے نہ ہو۔۔۔
میں۔۔ لیکن میں نے تو سنا ہے کسی ایک تنظیم کے ساتھ ملنا ضروری ہوتا ہے۔۔۔
مانی۔۔۔ ایسا کچھ بھی نہیں ہے تمہیں کوئی مجبور نہیں کرے گا ایسا کرنے کے لیے اگر کوئی کرے تو بتانا۔۔۔
میں۔۔۔ ٹھیک ہے بھائی۔۔۔
مانی۔۔۔ اچھا وہ تو ٹھیک ہے یہ باکسر کیوں آیا تھا۔۔۔
میں۔۔۔ بھائی اصل میں وہ میرا دوست ہے ہم کرکٹ اکٹھی کھیلتے رہے ہیں۔۔۔
مانی ۔۔۔ ہمممم اس نے تمہیں اپنی تنظیم میں شامل ہونے کا کہا۔۔۔
میں ۔۔۔۔ نہیں تو۔۔۔
مانی ۔۔۔اچھا۔۔۔چلو ٹھیک ہے کوئی مسئلہ ہو تو مجھے بتانا میرا نمبر لکھ لو۔۔۔
اس وقت تک پاکستان میں موبائل کافی عام ہو چکے تھے مانی کے پاس بھی ایک موبائل تھا۔۔۔
میں نے نمبر لکھ کیا کیوں کہ شاہد کے پاس موبائل تھا اس نے اپنے موبائل میں سیو کر لیا۔۔۔
وہاں باقی کا وقت نارمل ہی گزر گیا چھٹی کے بعد میں واپس چل پڑا رستے میں چاچا کے گھر کے پاس سے گزرتے ہوئے میرا دل کیا ادھر چکر لگا لوں۔۔۔
کیوں کہ لن نے کافی تنگ کیا ہوا تھا یہ بھی جب تک اپنی آگ کسی پھدی میں نکال نہ دے سکون نہیں کرنے دیتا تھا۔۔۔
میں نے دروازے کر دستک دی فرحی باجی نے دروازہ کھولا اور شرماتے ہوئے مجھے اندر آنے کا رستہ دیا۔۔۔
میں اندر گیا تو پتہ چلا وہ گھر میں اکیلی کے کیونکہ بالو سکول گیا تھا اور چاچی چاچا کے ساتھ گاؤں گئی ہوئی تھی۔۔۔
میں نے فرحی باجی کو دیکھتے ہوئے کہا آج بھی اکیلی ہو۔۔۔
فرحی باجی۔۔۔ ہمممم۔۔۔
میں نے کتابیں رکھیں اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔
فرحی نے شرماتے ہوئے دو قدم آگے بڑھائے اور مجھے گلے لگا لیا۔۔۔۔
میں نے بھی پیش قدمی کرتے ہوئے اپنے ہاتھ اس کی کمر کر رکھ کر اپنی طرف کھینچتے ہوئے گلے لگا کر بازوؤں میں کس لیا۔۔۔
بڑے بڑے مموں کا سینے میں لگنا تھا کہ لن نے ہنکارا بھرا اور کھڑا ہو گیا۔۔۔
اپنے ہونٹ فرحی کے ہونٹوں پر رکھ کر ان سے رس چوسنے لگا۔۔۔ وہ بھی بھرپور ساتھ دے رہی تھی۔۔۔
میں نے اپنے ہاتھ پیچھے سے قمیض میں ڈال کر ننگی کمر پر پھیرتے ہوئے آگے کی طرف لے آیا۔۔۔
مموں کو برا کے اوپر سے ہی پکڑ کر دبانے لگا فرحی کے منہ سے نکلنے والی سسکاریاں میرے منہ میں دبنے لگیں۔۔۔
میں کئی دن سے خوار ہو رہا تھا آج پانی نکالنا چاہتا تھا گھڑی کی طرف دیکھا تو ابھی بارہ بجے تھے۔۔۔
میں نے اندازہ لگایا کہ بالو کے آنے میں ابھی ڈیڑھ گھنٹا ہے اس سے پہلے پہلے ساری کارروائی ڈالنی ہے۔۔۔
میں قمیض کو اوپر کرتے ہوئے قمیض اتار دی فرحی باجی کی آنکھوں میں چودوانے کا نشہ طاری ہو رہا تھا۔۔۔
ننگے پیٹ پر ہاتھ پھیرنے لگا ساتھ ساتھ اپنے ہونٹ گردن سے نیچے مموں سے اوپر رکھ دئیے۔۔۔
ہونٹوں کو پھیرتے ہوئے کلیویج تک آیا اور مموں کی درمیانی لکیر میں اپنی زبان رکھ دی۔۔۔
فرحی باجی کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اس نے میرا سر دبا لیا میں نے زبان سے چھیڑخانی جاری رکھی۔۔۔
اپنا ایک ہاتھ شلوار میں ڈال کر پھدی پر رکھ دیا جو پانی پانی ہو رہی تھی ۔۔۔۔
گیلی پھدی کا احساس ہوتے ہی میں نے اپنا ناڑا کھولا قمیض اتاری فرحی کی شلوار اتاری ۔۔۔
اس کو ننگا کر لیا اپنی شلوار بھی اتار دی فرحی کے جسم پر اب اکلوتا برا رہ گیا تھا۔۔۔
اس کو بڑے پیار سے گھماتے ہوئے چارپائی پر لٹایا وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے لیٹتی گئی۔۔۔
میں اوپر آیا لن کو ہاتھ میں تھام کر فرحی کے اوپر لیٹا برا کو اوپر کر غباری سائز کے ممے باہر نکال لیے۔۔۔
لن پھدی کر لگا کر پھیرنے لگا مموں کو اپنے ہونٹوں میں کر ان کی چوسائی شروع کر دی۔۔۔
ایک ہاتھ سے ایک ممے کا سرپستان مڑوڑتے ہوئے دوسرے کے سرپستان کو چوسنے لگا۔۔۔
زبان کی رگڑ ممے پر ہاتھ کی رگڑ نپل پر اور لن کی رگڑ پھدی کے دانے پر فرحی باجی کے جذبات میں بھونچال لے آئی۔۔۔
اس کا جسم تھر تھرانے لگا ٹانگوں کو اٹھا کو اپنے کندھوں کر رکھا پھدی کو لن کے سامنے لایا۔۔۔
فرحی میری طرف ایسے دیکھ رہی تھی جیسے کہہ رہی ہو اب ڈال بھی دو کیوں ترسا رہے ہو۔۔۔
لن کو پھدی کے لبوں میں پھیر کر ٹوپی کو اچھی طرح گیلا کیا پھر سوراخ پر رکھ کر دباؤ بڑھایا ۔۔۔۔
جیسے جیسے ٹوپی اندر جا رہی تھی پھدی کے لب بھی اندر دھنس رہے تھے۔۔۔
فرحی کے چہرے کے ایکسپریشن بھی بدلتے جا رہے تھے۔۔۔
ٹوپی اندر ہو جانے کے بعد فرحی نے آنکھیں بند کر لیں میں نے دباؤ بڑھانا جاری رکھا۔۔۔
ٹوپی کے بعد لن کا کچھ حصہ اندر گیا تو لن پھنس گیا میں نے لن کو بڑے پیار سے پیچھے ہٹایا۔۔۔
میں نے لن ٹوپی تک باہر نکالا پھر اسی طرح آرام سے اندر کرنے لگا جیسے جیسے لن اندر جا رہا تھا فرحی کی ویسی ہی حالت ہو رہی تھی۔۔۔
ایک تو کنواری پھدی اوپر سے میرا موٹا لمبا لن ساتھ میں زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی تنگ ہو چکی تھی۔۔۔
اس لیے فرحی باجی کو درد بھی ویسا ہی ہو رہا تھا یا وہ جان بوجھ کر ایسا ظاہر کر رہی تھی ۔۔۔
میں ایک دو بار ویسے ہی کیا لیکن لن سارا اندر نہ گیا تو میں اپنی ازلی سرکشی پر آگیا میں ٹانگوں کو اپنے بازوؤں کے نیچے کیا۔۔۔۔
ٹانگیں فرحی باجی کے کندھوں تک لے گیا اپنے ہونٹ فرحی کے ہونٹوں میں دے دئیے ہاتھ اس کے کندھوں پر جمائے اور لن کو پیچھے نکال کر ٹوپی کو اندر گھسا کر کچھ وقفہ لیا۔۔۔
ہونٹ چوسنے لگا نیچے فرحی نے گانڈ ہلا کر اپنی بے چینی کا اظہار کیا لن بھی اب پھدی کی گہرائی ماپنے کے لیے اتاولا ہو رہا تھا۔۔۔۔
لن پر دباؤ بڑھانے کی بجائے اس بار ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں چکڑ کر ٹانگوں کو قابو کرکے میں نے گانڈ کو ٹائیٹ کیا۔۔۔
تھوڑا سا پیچھے ہوا اور ایک دم طوفانی انداز میں گھسا مارا لن پھدی کی دیواروں کو رگیدتا ہوا آدھے سے زیادہ اندر گھس گیا۔۔۔۔
میں نے یہاں بس نہیں کیا نہ ہی فرحی کے تڑپنے پر ترس کھایا میں صرف لن کی سن رہا تھا۔۔۔
ویسے ہی لن کو پیچھے کھینچا پھر ویسا ہی گھسا مارا اس بار فرحی کا جسم ایک دم زور سے کانپا اس کی چیخ میرے منہ میں دب گئی۔۔۔
اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے وہ ایسے تڑپنے لگی جیسے کسی گھوڑے نے کھوتی کی گانڈ میں لوڑا ٹھوک دیا ہو۔۔۔۔
اس کے تڑپنے کی پرواہ کیے بغیر اپنی ہوس کے ہاتھوں مجبور میں نے ایک بار پھر لن باہر کی طرف کھینچا مجھے ایسا لگا جیسے پھدی میں سے کچھ باہر آیا ہو۔۔۔
ایسی ٹائیٹ پھدی پہلی بار میرے لن کے نیچے آئی تھی لن بھی خوشی سے نہال تھا تو کیسے ترس کھا سکتا تھا۔۔۔
ایک بار پھر سے میں نے گھسا مارا تو لن اپنے آخری انچ تک پھدی میں جا گھسا اور فرحی باجی کا جسم ایسے تڑپا جیسے اس کی جان نکل رہی ہو۔۔۔
اس پر کپکپی طاری ہو گئی اس کی آنکھوں سے آنسوؤں کی ندیا بہنے لگی میں بے رحم درندے کی طرح اس کی پھدی میں اپنا موٹا لن گھسائے سکون میں تھا۔۔۔۔
کچھ لمحے توقف کیا اس دوران ہونٹ چوستا رہا آپنی زبان اس کے منہ میں ڈال کر زبان سے زبان کی گھمسان کی لڑائی کی کوشش کی ۔۔۔
لیکن فرحی باجی تو بے جان جسم کی مانند لیٹی تھی آنسو بہہ بہہ کر اس کے کانوں تک جا پہنچے تھے۔۔۔
میں نے جیسے ہی اس کے ہونٹوں سے ہونٹ ہٹائے وہ سسکیاں لے لے کر رونے لگی یہ تو اچھا ہوا وہ میرے قابو میں تھی نہیں تو پتہ نہیں کیا کرتی۔۔۔۔
میں نے اپنے ہونٹوں سے کام لیتے ہوئے اس کے آنسو صاف کرنے شروع کر دئیے آنکھوں سے آنسو پینے کے بعد اس کے گال چومے پھر دھیمی آواز میں اس کے کان کے پاس جا کر کہا۔۔۔
باجی بس اب جو ہونا تھا جتنا ہونا تھا ہو گیا اس کے بعد صرف مزہ ہی مزہ ہے کچھ لمحوں کی بات ہے۔۔۔۔
اس نے تو جیسے میری بات سنی ہی نہیں تھی کوئی ردعمل نہ دیا۔۔۔
اب میں نے اپنے ہاتھ اس کے مموں پر رکھے تھوڑا سا ہلا تو اس نے اپنے ہاتھ میری کمر پر رکھ لیے۔۔۔۔
مموں کو دبانے لگا ساتھ ساتھ کسنگ بھی شروع کر دی بس دو منٹ ہی لگے تھے کہ فرحی نے بھی ساتھ دینا شروع کر دیا۔۔۔
اس نے بھی میرے ہونٹوں سے کھیلنا سٹارٹ کر دیا میری کمر پر ہاتھ پھیرنے لگی کچھ دیر ایسے ہی کسنگ کرنے کے بعد جب میں محسوس کیا کہ فرحی بالکل نارمل ہو گئی ہے ۔۔۔
میں نے لن کو تھوڑا سا باہر نکال کر اندر کیا اسی طرح آرام آرام سے تھوڑا باہر کرتا اندر کرتا رہا۔۔۔۔
اس کے بعد اپنی سپیڈ بڑھانے لگا لن بھی کافی باہر نکال کر اندر کرنے لگا فرحی اب مست ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔
اس کا انگ انگ مستی میں ڈوبتا جا رہا تھا اس کے جسم کی گرمی اس کی آنکھوں کی چمک بڑھتی گئی۔۔۔
میرے گھسوں کی رفتار بھی بڑھتی گئی ایک وقت ایسا آیا کہ لن پھدی میں پھر سے پھنسنے لگا ۔۔۔۔
فرحی کا جسم اکڑنے لگا میں نے اب اس کی ٹانگیں چھوڑ دی تھیں جن کو اس نے میری گانڈ پر رکھ لیا تھا۔۔۔۔
فرحی کے موٹے تازے ممے میرے سینے میں دب رہے تھے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے چوسے جا رہا تھا۔۔۔۔
فرحی کے جسم نے جھٹکا کھایا اس کا جسم اوپر اٹھا لن پھدی کی گہرائی میں جا لگا۔۔۔
وہیں اس نے اپنی ٹانگوں کی مدد سے مجھے اپنے شکنجے میں جکڑ لیا وہ دیوانہ وار میرے ہونٹ چوسنے لگی اپنی باہوں کو میری کمر کے گرد کس لیا۔۔۔۔
اس نے اتنے زور سے مجھے کسا کہ مجھے اپنا سانس رکتا ہوا محسوس ہوا میں نے اس کے ہونٹوں سے ہونٹ ہٹا لیے۔۔۔۔
اس کی سانس بے ترتیب ہو رہی تھی منہ سے ہوں ہوں ہممممم کی غرغراہٹ برآمد ہو رہی تھی۔۔۔
آنکھیں بند کیے وہ مجھے گردن سے گالوں سے چومنے لگی اس نے میری گردن گال اپنے لعاب سے بھر دئیے۔۔۔۔
ایسے چوما چاٹی کرتے اس نے اونچی آواز میں آہ آہ آہ اہمممم کیا اور وہ فارغ ہو گئی میرے لن پر اس کی پھدی کے مساموں نے پانی برسانا شروع کر دیا۔۔۔
کچھ دیر جھٹکوں سے وہ فارغ ہوتی رہی میرا لن سرشار ہوتا رہا میں مزے میں ڈوبا رہا ۔۔۔۔
جیسے ہی اس کا جسم نارمل ہوا میں نے ایک بار پھر سے گھسے مارنے شروع کر دئیے اب کی بار لن بڑی روانی سے جانے لگا۔۔۔
فرحی کے منہ سے ہائےآہ آہ بلو آرام نال در ہندی پئی اے آہ آہ ایسا بولتے ہوئےاس کے ہاتھ میرے پیٹ پر آگئے لیکن میں نے اس کے ہاتھوں کو اپنے ایک میں پکڑ لیا۔۔۔۔
ایک بار پھر سے دما دم چودائی شروع کر دی لن پھدی کی گہرائی میں جا کر ٹکراتا تو فرحی کے منہ سے ہائے آہہہہہ ہممممم امممم اوہہ ہہااوہ آہ آہ آہ آہ کی آوازیں ایک تسلسل سے نکلنے لگیں۔۔۔۔۔
تین سے چار کی منٹ کے جاندار گھسوں کے بعد اس کی ٹون بدلنے لگی آآآہ ہمم آہمممن آہممممم کی آوازیں آنے لگیں ۔۔۔
میں نے اس کے ہاتھ چھوڑ دئیے تھے اس نے اپنے ہاتھ میری کمر پر رکھ کر پھیرنے شروع کر دئیے۔۔۔۔
ایک ہی پوزیشن میں لیٹ کر گھسے مارتے میں تھک گیا تھا اس لیے اوپر سے اٹھ کر اس کی ٹانگوں میں بیٹھ کر دونوں ٹانگوں کو جوڑ کر پکڑ لیا۔۔۔
لن کو اسی رفتار سے اندر ٹھوکنے لگا اس طرح سے ایک بار پھر لن پھنس پھنس کر جانے لگا۔۔۔۔
مجھے اپنے جسم میں سنسناہٹ محسوس ہوئی سارے جسم میں کیڑیاں دوڑنے لگیں میرا انگ انگ مزے میں ڈوبنے لگا۔۔۔
آنکھیں انگارہ ہو گئیں۔۔۔
اتنے دنوں کی ذلالت کے بعد آج لن اپنا مادہ نکالنے جا رہا تھا دوسری طرف فرحی کی بھی سسکاریاں چیخوں کا روپ دھار چکی تھی ۔۔۔
میں اپنے آخری لمحات میں داخل ہو گیا تھا ٹانگوں کو کھول کر ایک بار پھر اوپر لیٹ گیا فرحی نے فوراً سے بیشتر اپنے بازو میری کمر کے گرد لپیٹ لیے۔۔۔
میں اٹھ اٹھ کر گھسے مار رہا تھا دل کر رہا تھا لن کو پھدی سے گزار کر کہیں اور پہنچا دوں ۔۔۔
ایسا مزہ مجھے پہلی بار فارغ ہونے پر آیا تھا جب چھنو کی پھدی میں لن ٹھوکا تھا ایسے ہی کچھ دیر میں میرا جسم آگ بن گیا ۔۔۔
پسینے سے سارا جسم شرابور ہو گیا فرحی کا گلا آہ آہ اہ ہائےےےےے کرکر کے بیٹھ گیا تھا ۔۔۔
اب عجیب بے ربط آوازیں نکل رہی تھیں فرحی نے اپنے ناخن میری کمر میں گاڑھ دئیے ۔۔۔
اس نے اب کی بار اپنے دانت میرے کندھے کر گاڑھے نیچے سے گانڈ کو اٹھا اٹھا کر لن پر مارا ۔۔۔
دو تین بار ایسا کرنے کے بعد وہ رک گئی اس کا جسم اتنے زور سے کانپا کہ میں دہل کر رہ گیا۔۔۔
لن پر نیم گرم پانی گرنے لگا لن بھی ہمت ہار گیا مجھے جیسے ہی لگا کہ لن فوارا چھوڑنے والا ہے۔۔۔
میں نے لن کھینچ کر باہر نکالا اس کی ناف کے قریب لن کی ٹوپی رکھ دی اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں کر رکھ کر زور سے چوسنے لگا۔۔۔
لن نے ایک پچکاری ماری میرے منہ سے آہممممممم نکلا میرا جسم آج پہلی بار کانپا تھا ۔۔۔
لن نے اس کے پیٹ پر پانی گرانا شروع کر دیا۔۔۔۔
جسم اکڑتا رہا ڈھیلا ہوتا رہا لن اپنے پانی کی برسات فرحی کے پیٹ پر کرتا رہا۔۔۔۔
جب آخری قطرہ بھی لن نے نکال دیا تو میں فرحی کے اوپر سے ایک طرف گر گیا ۔۔۔
میرا جسم ایک دم شانت ہو گیا ایسا لگا جیسے جسم سے کوئی بہت بڑا بوجھ اتر گیا ہو۔۔۔۔
میں نے آنکھیں بند کر کے اپنی سانس بحال کی تب تک فرحی بھی پر سکون ہو چکی تھی۔۔۔
میں نے فرحی کی طرف دیکھا وہ بڑے پرسکون انداز میں لیٹی تھی اس کے چہرے پر اطمینان جھلک رہا تھا۔۔۔۔
میں ہلکے سے آواز دی فرحی اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اس نے ہممم کہا۔۔۔۔
میں نے اس کی طرف کروٹ بدلی اور ہونٹوں پر انگلی پھیرنے لگا۔۔۔
اس نے ایک ادا سے اممم کیا اور میرا ہاتھ جھٹک دیا میں نے اپنا بازو اس کے مموں کے اوپر سے گزار کر اس کو اپنی طرف گھمایا۔۔۔
اس کے غباروں جیسے مممے اچھلتے ہوئے اس سے پہلے میرے سینے سے آ لگے۔۔۔۔
اس نے شرماتے ہوئے اپنا سر میری گردن کے ساتھ لگا لیا اور اپنا بازو میری کمر پر لیجا کر میرے ساتھ چمٹ گئی۔۔۔
میں اس کی کمر پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگا اور اس نے کان میں سرگوشی کی فرحی۔۔۔
اس نے پھر ویسے ہی کہا ہمممم۔۔
میں نے پوچھا مزہ آیا ۔۔
اس نے بجائے کوئی جواب دینے کے خود کو اور میرے ساتھ چمٹا لیا۔۔۔
میں نے کہا فرحی بتاؤ بھی ۔۔۔
فرحی نے کہا کیا ۔۔۔
میں نے پھر سے پوچھا کیسا لگا۔۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا پتہ نہیں۔۔۔
میں نے اس کی گانڈ پر تھپڑ مارتے ہوئے کہا پھر کس کو پتہ ہے۔۔۔
فرحی نے میرے ہاتھ پر پیار سے تھپڑ مارا اور بولی مجھے نہیں پتہ۔۔۔
میں نے کہا اچھا تو پھر میں اسی سے پوچھ لیتا ہوں جس کو مزہ آیا ہے۔۔۔
وہ اور سکڑنے لگی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ میرے اندر دھنس جائے ۔۔۔
میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ فرحی جیسی لڑکی بھی ایسے شرمائے گی وہ جس قدر غصیلی اور لڑاکا مشہور تھی ۔۔۔
لڑکے تو لڑکے لڑکیاں بھی اس سے کتراتی تھیں بہت کپتی تھی چھوٹی چھوٹی بات پر پر لڑ پڑتی تھی۔۔۔
باقی لوگ تو ایک طرف میں نے اس کو اپنی امی سے بھی غصے سے بولتے دیکھا تھا۔۔۔
چاچی بھی اس سے کوئی بات کرتے ہوئے ڈرتی تھی ۔۔۔
لیکن میرا لوڑا لینے کے بعد اس کے رویے میں جو تبدیلی آئی تھی وہ بہت حیران کن تھی۔۔۔
اس میں بھی عام لڑکیوں جیسے انداز پائے جاتے تھے ۔۔۔
وہ بھی شرماتی تھی ادائیں دکھاتی تھی اب دیکھنا یہ تھا کہ یہ کب تک چلتا تھا۔۔۔
میں نے اپنا ہاتھ اس کی ران پر پھیرتے ہوئے ٹانگوں کے درمیان کر لیا اور اس کی پھدی پر اپنی انگلیوں کی پوریں لگائیں۔۔۔
وہ سئی کرتی میرے اور نزدیک ہونے کی کوشش کرنے لگی اس کے ناخن میری کمر پر چبھے ۔۔۔
اس کی پھدی کے باہر تک پانی لگا ہوا تھا میں اپنا سر تھوڑا پیچھے کیا اس کا چہرہ سامنے آیا ۔۔۔
اپنے ہونٹ اس کے گال کر رکھ کر گال چومے پھر اس کے ہونٹوں پر پاری کی اس نے اپنی آنکھیں بند کی رکھیں۔۔۔
میں سویا ہوا لن تھوڑا سا ہلا اتنی جلدی لن میں جان واپس آنا بھی میرے لیے حیران کن تھا۔۔۔
اس میں بھی فرحی کے پر شہوت جسم کا کمال تھا اس کی مچلتی جوانی کا کارنامہ تھا ۔۔۔۔
میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئیے اور چومنے لگا ایک منٹ کے بعد اس نے بھی ساتھ دینا شروع کر دیا ۔۔۔۔
لن آہستہ آہستہ انگڑائیاں لیتا کھڑا ہوتا گیا تین چار منٹ کی چوسائی کے بعد لن ایک بار پھر سے اکڑ کر فرحی کی ٹانگوں میں گھس چکا تھا۔۔۔۔
میں نے اس کو سیدھا کرنا چاہا تو اس نے ہممم کرتے ہوئے سیدھا ہونے سے نا صرف انکار کیا بلکہ میری کمر پر اپنے ہاتھ کی گرفت سخت کر لی۔۔۔۔
میں نے اس کی ٹانگ اٹھا کر اپنی گانڈ کے پیچھے کر لی لن سیدھا اس کی پھدی پر جا لگا۔۔۔
وہ ایک دم جھٹکا کھا کر پیچھے ہو گئی اور میری طرف کمر کر لی ۔۔۔
میں نے اس کے پیچھے سے لن ٹانگوں میں گھسا کر ہاتھ آگے لیجا کر اس کے ممے پکڑے ۔۔۔
اپنے ہونٹ اس کی گردن پر رکھ کر چومنے لگا مموں کو ہاتھ میں سمانے کی کوشش کرتے ہوئے دبانے لگا۔۔۔
اس کی پوزیشن کچھ ایسی تھی کہ اوپر والی ٹانگ کافی آگے جا کر فولڈ کی ہوئی تھی ۔۔۔
جس کی وجہ سے گانڈ کا سوراخ اور اس کے نیچے پانی سے چمکتا پھدی کا سورخ نظر آرہا تھا۔۔۔۔
میں نے اس کے مموں کو زور سے دباتے ہوئے لن گانڈ اور پھدی کر ایک ساتھ لگا کر آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا۔۔۔
وہ میری باہوں میں مچلنے لگی لیکن اس نے انکار نہیں کیا لن پہلے سے زیادہ سخت ہو چکا تھا۔۔۔۔
میں مسلسل ہل کر لن کو رگڑ رہا تھا لن گانڈ کے اوپر سے رگڑ کھاتا ہوا پھدی کے لبوں میں پھرتا اس کے دانے کو چھیڑ رہا تھا۔۔۔
لن پر پانی لگ رہا تھا جس سے لن کافی حد تک چکنا ہو گیا تھا ۔۔۔
اس کی ران کو گانڈ کے قریب سے میں نے اگے کی طرف اور فولڈ کیا تو اس نے کوئی ریسپانس نہ دیا۔۔۔
لن کو ہاتھ سے پکڑ کر پھدی کے سوراخ میں سیٹ کیا ٹوپی کو پھنسا کر لن پر دباؤ ڈالا۔۔۔
ٹوپی بڑے سکون سے اندر اتر گئی فرحی نے گانڈ سخت کر لی ۔۔۔
میں نے اس کے چوتڑ پر ہاتھ رکھا خود کو ایڈجسٹ کیا اور لن پر مزید دباؤ بڑھا دیا۔۔۔
لن کچھ اندر گیا اس کا ہاتھ میرے ہاتھ پر آگیا اور اس نے بڑے نشیلے انداز میں کہا بلو بہت درد ہوئی تھی آرام سے کرنا۔۔۔
میں نے اس کی کمر پر کس کرتے ہوئے کہا اب نہیں ہو گی ۔۔۔
یہ کہہ کر میں نے ایک بار پھر لن پر دباؤ بڑھایا اس کے چوتڑ کو اپنے ہاتھ سے مزید کھول کر پھدی تک کا رستہ صاف کیا۔۔۔
ایک تو اس کی گانڈ گوشت سے بھرپور تھی ایسے چوتڑوں والی لڑکی کے پیچھے سے جب لن پھدی میں ڈالتے ہیں تو ایک ٹکٹ میں دو مزے ملتے ہیں۔۔۔
لن کو ہلکا سا جھٹکا دیا اس کے منہ سے آہ آہ کی آواز آئی میں رک گیا اور اپنا ہاتھ ایک بار اس کے مموں پر رکھ دیا۔۔۔
اب کی بار میں نے اس کے دونوں مموں کے نپل ایک ہاتھ سے پکڑ کر مسلنے شروع کر دئیے۔۔۔
وہ درد بھول گئی اس نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ دیا ۔۔۔
میں نے پھر جتنا لن اندر تھا اس کو ہی اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔
لن دود بخود ہی ہر بار پہلے سے زیادہ اندر جانے لگا۔۔۔
اس کے موٹے چوتڑوں سے جب میرا اگلا حصہ چھوتا تو مزہ دوبالا ہو جاتا ۔۔۔
اس کی پھدی بہت ٹائیٹ لگ رہی تھی لیکن لن اپنا رستہ بناتا اندر جا رہا تھا۔۔۔
میں رگڑ کا مزہ لیتا گانڈ کے گوشت سے لطف اٹھاتا لن کو اندر باہر کرنے لگا۔۔۔
کوئی چار منٹ تک ایسے ہی آرام سے لن اندر کرتا رہا۔۔۔
اس کے بعد وہ ہاتھ جو اس کی چوچیوں سے اٹھکیلیاں کر رہا تھا میں نے اس کے پیٹ پر رکھ دیا۔۔۔
پھر تھوڑے زور سے گھسے مارنے لگا مجھے اس پوزیشن میں مزہ تو بہت آرہا تھا لیکن کھل کر گھسا نہیں مار پار رہا تھا۔۔۔
اس لیے لن نکالا اور اٹھ کر بیٹھ گیا وہ ویسے ہی لیٹی رہی میں نے بیٹھ کر ویسے ہی لن پھدی میں گھسا دیا۔۔۔
ابھی تین چار گھسے کی مارے تھے کہ دروازے پر دستک ہوئی فرحی ایک دم کرنٹ کھا کر اٹھی۔۔۔
میں بھی جلدی سے اٹھا اور شلوار پہنی وہ اپنے کپڑے اٹھا کر مموں مو ڈھانپتے بیٹھک والی سائیڈ پر چلی گئی۔۔۔
جاتے جاتے مجھے دروازہ کھولنے کا اشارہ کر گئی۔۔۔
میں نے شلوار پہنتے دیکھا کہ اس کا برا نیچے گرا پڑا ہے میں نے اس کو پاؤں کی مدد سے چارپائی کے نیچے کیا ۔۔۔
شلوار کا ناڑا باندھتا باہر نکلا جلدی سے دروازے کے پاس گیا تب تک دروازہ ایک بار پھر بج چکا تھا۔۔۔
دروازہ کھولا تو سامنے ہماری ایک رشتہ دار لڑکی کھڑی تھی ساتھ اس کا بھائی تھا ۔۔۔
جو دروازہ کھلتا دیکھ کر اپنی سائیکل گھمانے لگا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا۔۔۔۔ وہ لڑکی تیزی سے اندر داخل ہوئی ۔۔۔ اس کوشش میں اس کے ممے میرے کندھے سے لگے۔۔۔۔
میں نے دروازہ بند کیا تب تک وہ اندر کمرے میں پہنچ چکی تھی۔۔۔
میں بھی اس کے پیچھے کمرے میں آیا ۔۔۔ وہ ہمارے شہر میں ہی رہتی تھی ۔۔۔ اس کے بھائی لاہور کسی فیکٹری میں کام کرتے تھے۔۔۔
وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں اور امی کے ساتھ ایک چھوٹے سے محلے میں رہتی تھی۔۔۔
غریب سے لوگ تھے ۔۔۔ لیکن محنتی تھے۔۔۔
میں اس لڑکی کا انداز کچھ اچھا نہ لگا۔۔۔
میں جب کمرے میں داخل ہوا ۔۔۔ وہ چارپائی پر بیٹھ چکی تھی۔۔۔ اس کی آنکھوں میں کئی سوال تھے۔۔۔ میری اس سے زیادہ جان پہچان نہیں تھی ۔۔۔ بس ایک دوسرے کو جانتے تھے ۔۔۔
چاچی لوگوں کے ساتھ ان کی کافی قریبی رشتہ داری تھی۔۔۔ اس لیے وہ بلاجھجھک اندر گھس آئی تھی۔۔۔
لیکن اب وہ سوالیہ انداز میں بیٹھی ۔۔۔ میری طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔ میں نہیں جانتا تھا وہ کیا پوچھنا چاہ رہی ہے۔۔۔
میں نے پھر بھی اس کو کہا۔۔۔ چاچی کہیں گئی ہوئی ہے۔۔۔
وہ کچھ نہ بولی بس میری طرف دیکھتی رہی۔۔۔ میں اس کی گود میں دیکھا۔۔۔ تو میری سانس رک گئی ۔۔۔
اس سکی گود میں ۔۔۔ فرحی کا بریزئیر تھا۔۔۔ جو میں باہر جاتے ہوئے چارپائی کے نیچے کر گیا تھا۔۔۔
میری نظروں کو سمجھتے ہوئے ۔۔۔ اس نے برا چھپا لیا۔۔۔ میں کچھ نہ بولا ۔۔۔ کچھ توقف کے بعد وہ بولی باجی فرحی کتھے وے۔۔۔
میں نے کہا۔۔۔ اوہ صفائی کر دی پئی سی ۔۔۔ پتہ نہیں شاید بیٹھک اچ ہوئے۔۔۔ اتنی دیر میں فرحی بیٹھک والی سائیڈ سے اندر داخل ہو گئی۔۔۔
وہ بھی شاید اسی انتظار میں تھی۔۔۔ میری بات سنتے ہی اندر آگئی۔۔۔
سب سے پہلے فرحی نے میرے چہرے کی طرف دیکھا۔۔۔۔ پھر اس سے ملی ۔۔۔ حال احوال پوچھے ۔۔۔
پھر اپنا پرس ڈھونڈ کر اس نے اس میں سے پیسے نکالے۔۔۔ مجھے باہر بلایا ۔۔۔ میں اس کے پیچھے باہر گیا۔۔۔
فرحی نے مجھے پیسے دیتے ہوئے کہا ۔۔۔ وہ ۔۔میرا۔۔۔۔ رہ گیا تھا۔۔۔
میں نے کہا کیا ۔۔۔
فرحی نے کہا تمہیں نہیں پتہ ۔۔۔ وہ جو نیچے پہنتے ہیں۔۔۔
میں اچھا وہ۔۔۔ میں نے سوچا اگر فرحی کو بتا دیا کہ ۔۔۔ وہ اس لڑکی نے اٹھا لیا ہے ۔۔۔ فرحی پریشان ہو جائے گی۔۔۔
میں نے کہا میں نے تو نہیں دیکھا ۔۔۔ شاید چارپائی کے نیچے ہو۔۔۔
فرحی ہممم چلو جاؤ ۔۔۔ بوتل لے آو ۔۔۔ اس نے بھی ابھی آنا تھا۔۔۔
میں بوتل لینے چلا گیا۔۔۔ بوتل لے کر آیا۔۔۔ اس کو دی ۔۔۔ فرحی نے کچن سے گلاس اٹھایا لا کر اس کو بوتل پلائی۔۔۔
میں کچھ دیر بیٹھا رہا ۔۔۔ لیکن اس نے اٹھنے کا نام نہ لیا ۔۔۔
کچھ دیر اور گزری تھی کہ بالو بھی آگیا۔۔۔میں پھر اٹھ کر گھر آگیا۔۔۔
گھر آ کر آج کے سارے واقعات کو ذہن میں دہرایا۔۔۔ سب سے بہترین واقعہ فرحی کے ساتھ سیکس والا تھا۔۔۔۔
میں نے نہا کر کھانا کھایا ۔۔۔ اور سو گیا ۔۔ عصر سے کچھ پہلے اٹھا تھوڑی دیر ٹی وی دیکھا۔۔۔۔
میں پھر سوچنے لگا اب ٹیوشن کس ٹائم جاؤں گا۔۔۔ ایسے ہی وقت گزرا ۔۔۔ میں گراؤنڈ کھیلنے چلا گیا۔۔۔ اج گراونڈ میں بڑا اچھا وقت گزرا۔۔۔
بڑا مزہ آیا ۔۔۔ پتہ نہیں کیا بات تھی ۔۔۔ اج میں خوش تھا ۔۔۔ جسم ہلکا پھلکا تھا ۔۔۔ کھیل میں خوب مزہ آیا۔۔۔
بیٹنگ اور بولنگ دونوں میں انجوائے کیا ۔۔۔ اج تو اتنے عرصے بعد مجھے تہمینہ بھی نظر آئی۔۔۔
لیکن اس کو دیکھ میرا موڈ وقتی طور پر بدل گیا۔۔۔۔ پھر سوچا خیر ہے ۔۔۔ اس کی پھدی کو لن کی طلب ہو گی اس نے بھا کا لے لیا۔۔۔ کیا فرق پڑتا ہے۔۔۔۔
میری سوچ کافی بدلتی جا رہی تھی۔۔۔ میں سوچتے ہوئے بھی پھدی اور لن کا موازنہ کرتا تھا۔۔۔
لن کی طلب کیا ہوتی ہے یہ سوچتا تھا۔۔۔ پھدی میں لن جانا چاہئیے پھدی جس کی بھی ہو۔۔۔
بس ایک بات ہو وہ پھدی ہو ۔۔۔ اب تو ہم دوست بھی کھل کر بات کرتے تھے۔۔۔ کئی دفعہ تو یہ بھی کہہ چکا تھا پھدی ہو چاہے نبض ہی چل رہی ہو۔۔۔
بجا دوں گا ۔۔۔ لن کا پانی نکلنا چاہئیے۔۔۔ سب میری بات پر ہنستے تھے۔۔۔
گراونڈ میں آج پھر میرے لیے میری ڈاکٹر آنٹی کا پیغام آیا تھا۔۔۔ اسنے اپنے بیٹے یعنی میرے دوست کو کہا تھا ۔۔۔ مجھے گھر لے کر آئے۔۔۔
مزے کی بات یہ تھی کہ وہ دوست اور میں ایک کی کلاس میں تھے۔۔۔ لیکن وہ کسی پرائیویٹ کالج میں چلا گیا تھا۔۔۔
سکول بھی اس کا اچھا انگلش میڈیم تھا ہم اردو میڈیم کے پڑھے ہوئے تھے۔۔۔ ان کا سٹیٹس اور میرا سٹیٹس میچ نہیں کرتے تھے۔۔۔۔
اس دن میں کافی خوش تھا ۔۔۔ اس لیے اس کے ساتھ جانے کی حامی بھر لی۔۔۔ میں اس کے ساتھ گھر چلا گیا۔۔۔
ڈاکٹرآنٹی نے مجھے گلے لگا کر پیار دیا ۔۔۔ اس کے پیار میں کم از مجھے تو ممتا دکھائی دی۔۔۔
اب اس کے دل میں کیا تھا ۔۔۔ وہ کی جانتی تھی۔۔۔ اس کے بعد اس نے میری طبیعیت کے بارے میں پوچھا۔۔۔
میں سب اچھا ہے کی رپورٹ دی۔۔۔ لیکن اس نے کہا میری بات مانو ۔۔۔ ایک بار ٹیسٹ کروا لو۔۔۔
میں نے جی ٹھیک ہے۔۔۔ اس نے مجھے کارڈ دیا ۔۔۔ اور کہا کسی بھی وقت کلینک آجانا۔۔۔ میں کروا دوں گی۔۔۔
میں نے جی اچھا کہا۔۔۔ اس نے میرے یار عثمان کو مطلب میرے دوست کو ۔۔۔ دوکان پر کوئی چیز لینے بھیجا۔۔۔۔
میں نے اجازت مانگی ۔۔۔ آنٹی نے کہا بیٹھ جاؤ اتنی جلدی بھی کیا ہے۔۔۔
اسی وقت اندر سے ایک لڑکی باہر آئی۔۔۔ مجھے دیکھ کر وہ ٹھٹھک گئی۔۔۔ بڑی سمارٹ سی لڑکی تھی۔۔۔ گورا چٹا رنگ پتلی سی کمر۔۔۔ بمشکل کوئی پندرہ سال کی ہو گی۔۔۔
لیکن میری کمینی نظر نے اس کا ایکسرے کیا۔۔۔ اس کے ممے بڑے تھے۔۔۔ مطلب اس کی عمر زیادہ تھی۔۔۔
چہرے سے معصوم بچی ہی لگتی تھی۔۔۔وہ ایک منٹ بھی نہیں رکی ۔۔۔ واپس اندر چلی گئی۔۔۔
آنٹی کی اس کی طرف کمر تھی ۔۔ اس لیے آنٹی نے اس کو نہیں دیکھا تھا۔۔۔
آنٹی اور میں خاموش بیٹھے تھے۔۔۔ میں نے ان کی طرف دیکھا ۔۔۔ وہ مسکرا دیں۔۔۔
آج بھی آنٹی نے ڈھیلی ڈھالی سی شرٹ اور نیچے ویسا ہی ٹراؤزر پہنا تھا۔۔۔ اس میں ان کے بیالیس سائز کے ممے اور ان کے بڑے بڑے نپل ۔۔۔ واضح ہو رہے تھے۔۔۔
میری نظر بہکی آنٹی مسکرائی۔۔۔ لیکن میں پیش قدمی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔ ایک تو وہ میرے دوست کی ماں تھیں۔۔۔
دوسرا وہ مجھ سے عمر میں بڑی تھیں۔۔۔ اس نے آگے ہو کر مجھ سے پوچھا۔۔۔ اب تو سچ بتا دو ۔۔۔
میں۔۔۔ کیا آنٹی۔۔۔
آنٹی نے کہا۔۔۔ وہی جو اس دن پوچھا تھا۔۔۔ تمہاری کوئی گرل فرینڈ ہے۔۔۔
میں نے نہ میں سر ہلایا ۔۔۔ لیکن آنٹی کھرانٹ عورت تھیں ۔۔۔ ہنستے ہوئے بولی۔۔۔ لیکن تمہارا چہرہ تو کچھ اور کہہ رہا ہے۔۔۔
میں نے پوچھا کیا کہہ رہا ہے۔۔۔ آنٹی نے غور سے میری طرف دیکھا ۔۔۔ ہھر بولی یہ کہہ رہا ہے تم جھوٹ بول رہے ہو۔۔۔
میں نے کہا ۔۔۔ آنٹی ایسی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔
آنٹی نے کہا۔۔۔ میں کیسے مان لوں۔۔۔ اچھا ایک بات سچ سچ بتانا ۔۔۔ اب جھوٹ بولا تو پکڑے جاؤ گے۔۔۔