میں۔۔۔ باجی اب آپ اگر ایسا سمجھ رہی ہیں تو پھر میں کیا کہوں۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ میرا دل کر رہا ہے تم کچھ دن اور یہاں رک جاؤ لیکن تم اس موضوع پر بات نہیں کر رہے تمہیں بس اب جو وقت ملا ہے اس سے فائدہ اٹھانے کی پڑی ہے۔۔۔
میں ۔۔۔ سمیرہ باجی کی بات کاٹتے ہوئے باجی ایسا نہیں ہے کیا آپ کو میرا پیار کرنا اچھا نہیں لگتا ۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ لگتا ہے لیکن تم میری بات سمجھ نہیں رہے۔۔۔
میں۔۔۔ باجی آپ بھی نہیں سمجھ رہی میری بات۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ پہلے تو یہ باجی باجی کہنا بند کرو ابھی بھی باجی ہی کہتے رہو گے اب میں باجی نہیں رہی ۔۔۔
ان کا موڈ اچانک آف ہو گیا مجھے آج کی رات موقع ہاتھ سے نکلتا نظر آنے لگا۔۔۔
میں ۔۔۔ باجی اوہ سوری سمیرہ میری بات سنو اور سمجھو میں بھی سب سمجھ رہا ہوں کیا کہہ رہی ہو ۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔۔ ہاں سمجھاو۔۔۔ بڑے روکھے انداز میں جواب دیا۔۔۔
میں۔۔۔ دیکھیں آپ کیا چاہتی ہیں میں یہاں کچھ دن اور رہوں اور اپ سے پیار کروں۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ ہاں یہ ہی چاہتی ہوں۔۔۔
میں ۔۔۔ میں بھی تو یہ ہی کہہ رہا ہوں وہ بھی دیکھ لیں گے صبح تو ہونے دو ابھی جو پل ملے ہیں ان میں جتنا پیار کر سکتے ہیں وہ تو کریں۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ وہ تو ٹھیک ہے لیکن دن سے میرے جلن ہو رہی ہے اور تمہارے پیار کا مجھے پتہ چل گیا اتنا درد برداشت نہیں ہو گا ۔۔۔
میں۔۔۔ مسکراتے ہوئے بس اتنا ہی میرا پیار برداشت کر پائی ہو۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ نہیں جی ایسی بات نہیں ہے مجھے لگتا ہے کوئی زخم ہو گیا جو اتنی جلن کے ساتھ درد بھی ہو رہا ہے۔۔۔
میں ۔۔۔ لو جی اب کیا میں وہ ہی کروں گا جو آپ کہہ رہی ہیں صرف وہ ہی پیار نہیں ہوتا پیار میں اور بھی بہت کچھ ہوتا ہے۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔۔ مثلآ کیا کچھ ہوتا ہے پیار میں مجھے بتاؤ ذرہ اور تمہارا پیار میں دیکھ چکی ہوں وحشی ہو جاتے ہو۔۔۔
میں۔۔۔ اچھا جی میں بتاؤں پیار میں کیا کچھ ہوتا ہے ۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ شرماتے ہویے نیچے دیکھ کر ہاں بتاؤ۔۔۔
میں نے ان کا ہاتھ پکڑا بڑے رومانٹک انداز میں جھک کر ان کے ہاتھ کو چوما۔۔۔
پھر ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ کر پیار سے ہاتھ کو سہلانے لگا ۔۔۔
سمیرہ باجی کی نظریں زمین پر گڑ چکی تھیں ان کا شرمانا میرے لیے حیران کن بات تھی۔۔۔۔
میں نے اٹھ کر ان کو گلے لگا لیا اور زور سے دبانے لیا کچھ دیر ایسے ہی دبائے رکھا مجھے اندر والے دروازے کے پاس آہٹ محسوس ہوئی ۔۔۔
میں نے سمیرہ باجی کے کان میں کہا کوئی ہے دروازے کے پاس ادھر چلی جاو اور دیکھنے کی کوشش کرو۔۔۔
وہ میری بات سن کر فوراً دروزے کے پاس گئی اور درز میں سے باہر دیکھنے لگیں ۔۔۔۔
میں چارپائی پر لیٹ گیا اور سمیرہ باجی کو دیکھنے لگا۔۔۔
سمیرہ باجی نے کچھ دیر بعد آرام سے دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی میں بھی کچھ دیر پاسے پھیرتا رہا اور سو گیا۔۔۔۔
صبح اپنے وقت کر آنکھ کھل گئی ضروری حاجات سے فارغ ہو کر جب میں ناشتہ کرنے آیا تو مجھے امی نے کہا بلو میں اور تیری مامی قبرستان جا رہے ہیں ۔۔۔
سمیرہ باجی بولی پھپھو میں بھی چلتی ہوں کافی دن ہو گئے ہیں کھیتون میں نہیں گئی امرود کھانے کو بڑا دل کرتا ہے۔۔۔
میرے ماموں لوگوں نے کھیتوں میں امرود کے پودے لگائے ہوئے تھے اور ان کے امرود بہت میٹھے ہوتے تھے ہم جب بھی جاتے تھے کھاتے تھے۔۔۔
امرود کے علاوہ وہاں لوکاٹ اور آم کے درخت بھی تھے ساتھ جامن کے کئی درخت تھے اچھا خاصہ ماحول بنا ہوا تھا۔۔۔۔
میں ناشتہ کیا سمیرہ باجی بھی جانے کے لیے تیار تھی ہم سب اکٹھے کھیت میں چلے گئے ۔۔۔
قبرستان اور کھیت میں کویی چار پانچ ایکڑ کا فاصلہ تھا بس فرق یہ تھا کہ قبرستان ایک طرف تھا جبکہ جو ماموں کے کھیت تھے وہ دوسری طرف ہم سب جب قبرستان سے دو ایکڑ پیچھے رہ گئے تو سمیرہ باجی نے مامی کو کہا امی آپ لوگ قبرستان ہو لو میں اور بلو امرود توڑ لاتے ہیں۔۔۔
مامی سبز سگنل دیا سمیرہ باجی آگے آگے اپنی موٹی گانڈ مٹکاتی امردوں کی طرف چل دی۔۔۔
میں بھی پیچھے ان کی گانڈ کی اتھل پتھل دیکھتے جا رہا تھا۔۔۔
سمیرہ باجی امرود والے درختوں کے پاس جانے سے پہلے ہی ٹیوب ویل کی ظرف مڑ گئی۔۔۔
میں بھی ان کی تقلید میں چلتا گیا ٹیوب ویل کے پاس جا کر وہ رک گئی اور دائیں بائیں دیکھنے کے بعد اس نے وہاں اپنا دوپٹہ رکھا اور نہانے لگ گئی۔۔۔
مجھے بھی اس نے کہا لیکن میں نے منع کر دیا اس نے بھی اصرار نہ کیا اچھی طرح نہانے کے بعد وہ باہر نکلی۔۔۔
اس کے کپڑے جسم سے چپکے ہوئے تھے اور گانڈ میں کپڑا پھنس رہا تھا ۔۔۔
چپکے کپڑوں میں اس کے ممے بڑے بڑے لگ رہے تھے۔۔۔
میرے لن نے انگڑائی لی میں غور سے اس کے جسم ما ایکسرے کر رہا تھا۔۔۔
وہ باہر نکل کر ایک طرف چل پڑی میں بھی اس کے پیچھے چلتا گیا ۔۔۔
وہ امرود کے درختوں کے پاس سے گزری پھر آموں کو کراس کیا جامن بھی پیچھے چھوڑ دئیے لوکاٹ کے نیچے سے گزر گئی۔۔۔
میں پیچھے ہی۔ چلتا گیا آگے جا کر ایک قدرے اونچی جگہ جو کہ ٹیلا نما تھی اس کر چڑھ گئی وہ جگہ خالا لوگوں کی تھی۔۔۔۔
جس کی دیکھ بھال خالا کا بیٹا کرتا تھا وہ آرمی کے انجنیرنگ ونگ میں تھا اس کو پھولدار پودوں کا شوق تھا ۔۔۔
اس نے وہاں جنگل میں منگل کا کام کر دیا تھا جہاں میں جب آخری بار آیا تھا صرف جھاڑیاں ہوتی تھیں وہاں پھول دار پودے لگے تھے ۔۔۔
ان پودوں پر پھول ہی پھول کھلے ہوئے تھے بڑا رومانٹک سا ماحول تھا ہری بھری گھاس بھی اگی ہوئی تھی۔۔۔
پھولوں والے وہ پودے کافی بڑے بڑے تھے کیاریوں کی صورت میں لگے تھے ان کے درمیان بندہ چھپ جاتا تھا۔۔۔
سمیرہ ان میں سے ایک کیاری میں گھس گئی جو قدرے درمیان میں تھی مجھے بھی وہاں آنے کا اشارہ کیا۔۔۔
میں بھی اس کی دیکھا دیکھی وہاں چلا گیا اس نے ایک پھول دار پودے سے چن کر بڑا سا پھول توڑا اور مجھے دیتے ہوئے کہا۔۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ بلو یہ لو میری طرف سے قبول فرماؤ۔۔۔
میں۔۔۔ مسکراتے ہوئے پھول پکڑا اور کہا سمیرہ ایک پھول کے ہاتھ سے پھول لیتے ہوئے فخر محسوس کر رہا ہوں۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ شرماتے ہوئے چل جھوٹا ۔۔۔
میں۔۔۔ باجی دل سے کہہ رہا ہوں میرے امدر اتر کر دیکھو سب بڑا واضح نظر آجائے گا۔۔۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ مجھے پتہ ہے تم رہنے دو ۔۔۔
میں۔۔۔ آگے ان کے قریب جاتے ہوئے ایک پھول توڑا اور ان کی طرف بڑھا دیا ۔۔۔
سمیرہ باجی نے وہ پھول بغیر ہچکچاہٹ کے پکڑ لیا اور بولی شکریہ۔۔۔
وہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی میں بھی سمیرہ باجی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
اس نے کیاری میں باہیں کھول کر گول گول ایک پاؤں پر گھومنا شروع کر دیا ۔۔۔
ایک دو ہی چکروں میں وہ اپنا توازن کھو بیٹھی اور گرنے لگی میں نے آگے بڑھ کر اس کو تھام لیا۔۔۔۔
سمیرہ باجی کو جب میں نے پکڑا تو میرا ایک ہاتھ اس کے دائیں ممے پر جا لگا میں اس کو کس کر پکڑ لیا دوسرا ہاتھ اس کی کمر پر ہاتھ۔۔۔
وہ گرنے بچ گئی لیکن میرے کس کر پکڑنے سے اس تھوڑی آہستہ آواز میں آہ کی آواز نکالی ۔۔۔
جیسے ہی وہ سیدھی ہوئی اس نے میرے اس ہاتھ پر اپنا ہاتھ مارا کو اس کےدائیں ممے پر تھا۔۔۔۔
میں تو کچھ جانتا ہی نہیں تھا نا میں جان بوجھ کر مما پکڑا تھا وہ تو بس اس کو گرنے بچانے کے لیے جو چیز ہاتھ آئی پکڑ لی۔۔۔۔
اس نے جب ہاتھ چھڑانے کے لیے ہاتھ مارا تو مجھے تب پتہ چلا میرا ہاتھ غلط جگہ پر ہے۔۔۔
مما چھوڑتے ہوئے میرے چہرے ہر مسکراہٹ آگئی سمیرہ باجی نے مجھے ہلکی سے چپت رسید کی اور شرما گئی۔۔۔
کچھ دیر شرمانے کا سین چلتا رہا میں آگے بڑھا ایک قدرے بڑے درخت کی طرف دیکھ کر سمیرہ باجی کا ہاتھ پکڑا اور اس کو درخت کے پاس لے گیا۔۔۔۔
وہاں کھڑے ہو کر میں ارد گرد دیکھا تو ہمیں کچھ نظر نہیں آ رہا تھا اس کا مطلب تھا ہمیں بھی کوئی نہیں دیکھ سکتا تھا۔۔۔۔
اطراف کا اچھی طرح جائزہ لے کر میں نے سمیرہ باجی کو تنے کے ساتھ لگا لیا اور جھک کر ان کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔۔
ہمممم کرتے ہوئے سمیرہ باجی نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کر دیا ایک منٹ بعد کی اس نے اپنا منہ مجھ سے الگ کیا اور بولی بلو کوئی آجائے گا۔۔۔
میں نے اس کو اپنی جگہ کیا خود اس کی جگہ ہو کر کہا دائیں بائیں آگے پیچھے نظر دوڑاو ۔۔۔
سمیرہ باجی نے جب دیکھا تو اس کو کچھ بھی نظر نہ آیا ایک وجہ اس کا قد چھوٹا تھا دوسری وجہ وہ درخت کافی پھیلا ہوا تھا اس کی شاخیں تقریباً زمین کو چھو رہی تھیں۔۔۔۔
اپنی تسلی کرنے کے بعد سمیرہ باجی مجھے دیکھ کر مسکرانے لگی اور کہا بڑے تیز ہو پہلے ہی سب دیکھ چکے ہو۔۔۔
میں نے اپنا ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اس کی کمر میں ڈال کر اس کو آگے کھینچ لیا اپنے سینے سے لگا کر اس کے کان کی لو کو اپنے ہونٹوں میں لے کر بولا آخر سمیرہ باجی جو میرے ساتھ ہے۔۔۔۔
اس نے اپنے نازک ہاتھوں سے میرے سینے دوہتھڑ مارا اور اپنا سر وہاں ٹکا کر دھیمی آواز میں بولی ۔۔۔
بلو جو ہم میں ہو گیا ہے یا ہو رہا ہے اس کا انجام کیا ہو گا یہ سب غلط ہے نا۔۔۔
میں میری جان انجام کی فکر کیوں کرتی ہو جو پیار کرتے ہیں وہ انجام سے ڈرا نہیں کرتے ۔۔۔
دوسری بات جو ہم میں ہو رہا ہے وہ غلط کیسے ہو سکتا ہے تمہاری خواہشات میری خواہشات ایک جیسی ہیں تمہارے جسم کی ضرورت میں نے پوری کی تم نے میرے جسم کی تو اس میں غلط کیا ہے۔۔۔
سمیرہ باجی نے اپنا سر اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھا اور بولی تم میری بات سمجھ نہیں رہے یہ سب غلط ہے اگر کسی کو پتہ چل گیا تو۔۔۔۔مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔
میں ۔۔۔ سمیرہ جی آپ بلا وجہ ڈر رہی ہیں ایسا کچھ نہیں ہو گا جس کو آپ غلط کہہ رہی ہیں یہ کائنات کی حقیقت ہے کر جسم کی کچھ ضروریات ہوتی ہیں جن کو پورا کرنے کے لیے کسی کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔
بات سادہ سی ہے آپ بلاوجہ پریشان ہو رہی ہو۔۔
سمیرہ غلط تو غلط ہے نا جو مرضی کہہ لو لوگ غلط کہتے ہیں تو ایسے تو نہیں کہتے۔۔۔
میں بجائے بحث میں وقت ضائع کرنے کے عملی طور پر سمجھانے کا فیصلہ کر لیا اس کے لیے میں اپنا ایک ہاتھ نیچے لیجا کر سمیرہ باجی کے پھدی کر قمیض کے نیچے سے گزار کر رکھ دیا۔۔۔۔
اس کی پھدی والی جگہ سے شلوار بھیگ چکی تھی میں نے جیسے ہی ہاتھ رکھا سمیرہ نے اپنی ٹانگیں جوڑ کر میرا ہاتھ دبا لیا اور میرے گرد اپنے ہاتھوں کسنے کے کے لیے ایڑھیوں کے بل ہو کر اپنے باوزو میری گردن کے گرد لپیٹ لیے۔۔۔۔۔
میں نے آہستہ سے کہا سمیرہ جی یہ سب کیسا ہے ۔۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔ مجھے نہیں پتہ۔۔۔
میں نے اپنے ہاتھ کی مٹھی میں پھدی کو پکڑ لیا اور پھر پوچھا۔۔۔
میں۔۔۔ اب کیسا لگ رہا ہے۔۔
سمیرہ باجی۔۔۔۔وہ مستی ڈوبتی ہوئی آواز سے بولی آہ بلو نہ کرو مجھے کچھ ہو رہا ہے۔۔۔
میرا لن بھی تن چکا تھا میں نے دوسرا ہاتھ استعمال کرتے ہوئے ناڑا ڈھیلا کیا اور پھر لن کو نکال کر دوبارہ باندھنے کے لیے دوسرا ہاتھ اس کی پھدی سے ہٹا لیا۔۔۔
سمیرہ باجی کو یہ ناگوار گزرا اس نے میری گردن پر اپنے دانت گاڑھ دئیے ہلکا سا کاٹا۔۔۔
میں تب تک اپنا ناڑا سیٹ کر چکا تھا لن باہر نکال لیا تھا میں نے اپنی جگہ سمیرہ باجی کو کیا اور خود اس کی جگہ آگیا۔۔۔۔
ایک بار پھر دائیں بائیں دیکھ کر تسلی کی کوئی نہیں آ رہا تھا اس کے بعد سمیرہ باجی کے مموں کو ننگا کرنے کے لیے قمیض کو اوپر کیا ۔۔۔۔
سمیرہ باجی نے ہممم نا کرو کرتے ہوئے اپنے ممے ننگے کر دئیے ۔۔۔
میں نے ننگے مموں کو ہاتھوں میں لیا اور اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔۔۔
سمیرہ باجی سے پیاسے کی طرح ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا وہ بے صبروں کی ظرح چوس رہی تھی۔۔۔
اس کی جوشیلی حرکات کو دیکھ کر میں نے اس کی شلوار تھوڑی نیچے کی اور جھک کر لن اس کی ٹانگوں کے درمیان گھسا دیا۔۔۔۔
لن سمیرہ باجی کی پھدی کے لبوں میں رگڑ کھاتا ہو آگے گزر گیا۔۔۔۔
سمیرہ باجی نے اپنی ٹانگیں ایک ساتھ جوڑ لیں اور میرے اوپر سوار ہونے لگی۔۔۔
میں نے ایک منٹ میں اتنے گھسے مارے کے میرا لن رگڑ کھانے سے درد ہونے لگا۔۔۔
ایک تو سمیرہ باجی کی پھدی پر ہلکے ہلکے بالوں کی رگڑ اور سے خشک لن خشک ٹانگوں میں جا رہا تھا۔۔۔۔
سمیرہ باجی کہنے لگی بلو کچھ کرو مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا ۔۔۔۔
میں نے اس کو گھما کر اس کے ہاتھ درخت کے تنے پر رکھے اور جھکا لیا سمیرہ باجی کی گاند باہر کو نکلی اس کی پھدی بھی گانڈ کے نیچے سے نظر آنے لگی۔۔۔
میں نے جھک کر لن کو گانڈ کے کے نیچے اس کی پھدی پر رکھا اور اپنے دونوں ہاتھوں سے اسکی کمر کو کس کر پکڑ لیا ۔۔۔۔
سمیرہ باجی اتنی اتاولی ہو رہی تھی کہ اس نے مڑ کر میری طرف دیکھ کر کہا بللللو اب کرو بھی۔۔۔
میں نے لن پر دباؤ بڑھا دیا اور لن اندر اترنے لگا جیسے جیسے لن اندر جا رہا تھا ویسے ویسے سمیرہ باجی کی سئییییی کی آواز آ رہی تھی۔۔۔۔
میں لن پر دباؤ بڑھانا جاری رکھ رک کر پیچھے نہ کیا مجھے بھی جلدی تھی اس لیے ایک ہی بار میں اندر کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
جب لن آگے جا کر پھنس گیا تو میں نے تھوڑا سا پیچھے کھینچاپھر تھوڑا سا زور لگا کر گھسا مارا لن مزید اندر ہو گیا ۔۔۔۔
اب آدھے سے زیادہ لن اتر چکا تھا میں اسی کو آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا کچھ کی دیر میں سارے کا سارا لن اندر اتر چکا تھا۔۔۔۔
میں نے اب اپنی سپیڈ تیز کر لی تھی سمیرہ باجی نے اپنے دوپٹے کا پلو اپنے منہ میں داب لیا تھا ۔۔۔۔
میرے گھسوں میں تیزی آنے لگی سمیرہ باجی کا جسم بھی اب بھرپور ساتھ دے رہا تھا ۔۔۔
میں تھوڑا آگے ہوا سمیرہ باجی کے مموں کو پیچھے سے پکڑ لیا اب میں زیادہ زور سے گھسے مار ے لگا۔۔۔۔
ممے کھینچتے ہوئے لن زیادہ زور سے پھدی کی گہرائی میں جاتا۔۔۔۔
میں گھوڑی کی لگامیں کھینچ کر لن کو گہرائی میں اتار رہا تھا لن کی تھپ تھپ سمیرہ باجی کے چوتڑوں پر ہو رہی تھی۔۔۔۔
افراتفری میں لن گھسانے کی وجہ سے مجھے جلدی ہی لگنے لگا کہ میں فارغ ہونے والا ہوں ۔۔۔۔
میں گھسوں کی مشین چلا دی سمیرہ باجی کا جسم کانپا اور وہ فارغ ہو گئی لن پھدی کے پانی سے بھیگ کر اور روانی سے اندر جانے لگا۔۔۔۔
ایک دم سمیرہ باجی نے جھٹکے سے ایک سائڈ پر ہوتے ہوئے کہا بلو شلوار پہن لو کوئی آ رہا ہے۔۔۔
میں نے ادھر ادھر دیکھا لیکن مجھے کویی نظر نہ آیا ۔۔۔
میں سوالیہ نظروں سے دیکھا منہ میں قمیض تھی اس لیے بول نہیں سکا ۔۔۔
سمیرہ باجی نے آگے ہو کر خود ہی میرا لن پکڑ کر شلوار کے اندر کیا اور کہا غور سے سنو۔۔۔
میں نے غور کیا تو مجھے زنانہ آوازیں آنے لگیں جیسے عورتیں آپس میں باتیں کرتی ہیں۔۔۔۔
میں نے ناڑا کھول کر شلوار کو ٹھیک کیا لیکن تنا ہوا لن شلوار میں تمبو بنا رہا تھا ۔۔۔۔
سمیرہ باجی نے جب شلوار کا تنبو دیکھا تو بولی اس کو تو سیدھا کرو یہ کیا ہے۔۔۔
میری ہنسی چھوٹ گئی میں ہنسے جا رہا تھا سمیرہ باجی نے غصے سے دیکھا لیکن میری ہنسی رکنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔۔۔
وہ پاؤں ٹپکتی ہوئی وہاں سے باہر نکل گئی میں بھی اپنی ہنسی روک کر باہر نکلا تو دیکھا وہ امرود والے کھیت میں امرود کے ایک پودے کے نیچے کھڑی تھی۔۔۔۔
میں بھاگ کر وہاں گیا اور سیدھا درخت پر چڑھ گیا یہ درخت واحد ایسا تھا جس کے امرود اندر سے گلابی ہوتے تھے اور ہر امرود میٹھا ہوتا تھا۔۔۔۔۔
میں نے درخت پر چڑھ کر امرود توڑ توڑ کر نیچے پھینکے پھر چھلانگ لگانے سے پہلے اس طرف دیکھا جہاں سے ہم آئے تھے تو وہاں امی اور مامی پھول توڑ رہی تھیں۔۔۔۔
مجھے سمیرہ باجی کے کانوں پر رشک ہونے لگا کہ اتنی مستی میں بھی اس کو دور سے آتی آواز سنائی دے گئی تھی۔۔۔
اگر وہ آواز نہ سنتی تو ہم اب امی اور مامی سے جوتے کھا رہے ہوتے۔۔۔
نیچے اتر کر میں نے بھی امرود کھانے شروع کر دئیے پھر وہاں سے ٹیوب ویل پر گیا اور نہایا کھاڈے میں بیڈ کر شلوار میں ہاتھ ڈال کر لن کو اچھی طرح دھویا ۔۔۔
تب تک امی اور امی بھی آگئیں ہم گھر آئے امی نے جلدی سے تیاری پکڑی اور وہاں سے اپنے گھر کے لیے روانہ ہو گئے۔۔۔
رستے میں بس میں بہت رش تھا وہاں ایک لڑکی میری سیٹ کے قریب کھڑی تھی اس کو ایک لڑکا بار بار تنگ کر رہا تھا ۔۔۔۔
مجھے اچھا نہ لگا میں کھڑا ہو گیا اور اس لڑکی کو امی کے ساتھ ولی یعنی اپنی سیٹ دے دی۔۔۔
کچھ ہی دیر گزری تھی کہ اس لڑکی نے مجھے غصے سے کہا ادھر کو کر کھڑے ہو مجھ پر سوار نہ ہو ۔۔۔
حالانکہ میں سیٹ سے بھی ہٹ کر کھڑا تھا مجھے بڑا غصہ آیا میں نے اس کا بازو پکڑا اور کھڑا کر کے اس کے دو زوردار تھپڑ لگا دئیے۔۔۔۔
خود سیٹ پر بیٹھ گیا معاملہ بگڑ گیا اب وہ لڑکا جو اس کو تنگ کر رہا تھا آگے بڑھ کر مجھ سے لڑنے لگا۔۔۔۔
بڑی مشکل سے معاملہ رفع دفع ہوا اور ہم باقی کے رستے کی پریشانی سے بچتے گھر پہنچ گئے۔۔۔۔
گھر پہنچے ہی تھے کہ ابا جی نے کہا سب لوگوں نے گاؤں جانا ہے تیار ہو جاؤ۔۔۔
میرا دل سونے کو کر رہا تھا ایک تو رات کی تھکاوٹ دوسرا دن میں یہ سفر کیا لیکن ابا جی کو کون انکار کر سکتا تھا۔۔۔۔
گاؤں میں کوئی شادی تھی جس میں جانا ضروری تھا شادی میرے ابا جی کے چاچا کے بیٹے کی تھی۔۔۔۔
کپڑے وغیرہ پہلے ہی باجی نکال چکی تھیں میں نہانے چلا گیا نہا کر تیار ہوئے ابا جی نے گاڑی منگوا لی اور ہم سب گاؤں چلے گئے۔۔۔۔
گاؤں میں ماحول ہی الگ تھا ہر طرف گہما گہمی شادی کے ہنگامے جاری تھے ۔۔۔
ہمیں پہنچتے پہنچتے شام ہو گئی تھی ہم پہلے اپنے گھر گئے وہاں کچھ دیر آرام کیا پھر شادی والے گھر باقی لوگ چلے گئے ۔۔۔
میں لمبی تان کر سو گیا رات کے کسی پہر ڈھولک کی آواز اور شور شرابے سے میری آنکھ کھل گئی۔۔۔
جیسا کہ سب بھائیوں کو بتایا تھا کہ میرے دادا لوگ تین بھایی تھے اور تینوں کے گھروں میں کوئی دیوار نہیں تھی ۔۔۔۔
ایک ہی صحن تھا جس کی وجہ سے میرے کمرے تک آواز ایسے ہی آرہی تھی جیسے ہمارے صحن میں ڈھولک بج رہی ہو۔۔۔۔
میری آنکھ تو کھل ہی گئی تھی میں بھی اٹھ کر باہر نکل گیا کھیتوں میں پیشاب کرنے چلا گیا۔۔۔۔
گھر کے ساتھ ہی فصلیں تھیں میں پیشاب کر رہا تھا اپنی مستی میں لن سے لمبی لکیر بنانے میں مصروف تھا ۔۔۔۔
مجھے کہیں سے کھسر پھسر کی آوازیں سنائی دیں میں نے آواز کی ٹوہ لگائی تو وہ قریب سے ہی آرہی تھی۔۔۔
میں دبے پاؤں چلتا ہوا آواز کی سمت بڑھا جیسے جیسے آگے بڑھ رہا تھا آواز واضح ہو رہی تھی۔۔۔۔
میں جو سمجھ رہا تھا یہ آواز کھیت سے آرہی ہے ایسا نہیں تھا یہ آواز ہمارے گھر کے پچھلے طرف بنے بھینسوں کے احاطے سے آ رہی تھی۔۔۔
میں نے چھپ کر دیکھا وہاں دو سایے تھے جو دونوں ہی زنانہ تھیں۔۔۔
مجھے باتیں صاف سنائی نہیں دے رہی تھیں میں اور آگے بڑھا ایک کھرلی (بھینسوں کے چارے کے لیے بنائی جاتی ہے)
کی اوٹ میں ہو گیا ۔۔۔
اب مجھے صاف سنائی دے رہا تھا دو لڑکیاں تھیں جن ایک تو پکا چھنو تھی دوسری کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی اس کی آواز سے پتہ نہیں چل رہا تھا۔۔۔۔
میرا لن چھنو کے بارے میں سوچ کر ہی تن گیا ایک تو آج صبح لن سے پانی نا نکال سکا کچھ اس لیے بھی لن دہائی دے رہا تھا۔۔۔۔
میں نے ان کی باتوں پر غور کیا تو چھنو کہہ رہی تھی تو اک واری جا ویکھ تے آ کویی ہو تا نیں اوتھے فیر میں آپے جاندی رواں گی۔۔۔
دوسری لڑکی نہ بابا نہ اگر وہ جاگ رہا ہوا تو اس مجھے واری لگا دینی اے جیسے تم کہہ رہی ہو اس کا اتنا بڑا ہے تو میری تاں پاٹ جانی اے میں نہیں جا رہی۔۔۔۔
چھنو تو بھی نری ڈرپوکل ہیں اب وہ ایسے کیسے تیری مار لے گا تونے پہلے کبھی اس سے واری لوائی اے۔۔۔
وہ لڑکی نا جی مینوں کوئی شوق نیں تو لوا اوہدے توں تے اک بات اور تو خود جا کر دیکھ بلو اکیلا ہے یا نہیں یا اس کو جگا کر جہاں بلانا ہے بلا لے مجھے نہ آکھیں اب میں جاندی پئی ہوں۔۔۔
مجھے اب اس لڑکی کی آواز کی سمجھ آئی یہ کومل تھی شازی کی کزن اور فجے کی دوست اب نمبر کا تو مجھے نہیں پتہ کیوں کہ فجے کو کوئی اور کام تو تھا نہیں بس پھدیاں ڈھونڈتا رہتا تھا۔۔۔۔
کومل یہ کہہ کر وہاں سے چلی گئی چھنو اس کو آوازیں ہی دیتی رہ گیی آخر میں ایک انتہائی ضخیم گالی دی۔۔۔
جیسے ہی کومل وہاں سے کھسکی میں بھی کہڑے جھاڑتا ہوا کھڑا ہوا اور آہستہ سے کہا چھنو۔۔۔
چھنو نے ایک دم گھوم کر دیکھا اندھیرا تھا پہچان تو لن آنی تھی بس اندزہ لگانے لگی کون ہے۔۔۔
میں نے پھر آواز دیتے ہوئے کہا چھنو میں بلو۔۔۔
چھنو نے ادھر ادھر دیکھا اور میرے پاس آکر میرا بازو پکڑ کر ایک طرف اس سے بھی اندھیری جگہ لے گئی۔۔۔
میں چھنو کے زور کھنچتا چلا گیا وہ اتنی سخت جان گاؤں کی الہڑ مٹیار سخت جسم مضبوط قد کاٹھ کی مالک تھی۔۔۔
اس کے ہاتھوں کی گرفت کسی طاقتور مرد کہ طرح تھی اس کے کھینچنے سے مجھے اپنی کلائی پر درد ہونے لگی۔۔۔
ایک طرف لیجا کر مجھے کس کر گلے لگا لیا اور میرے گال ہونٹ ٹھوڑی گردن جہاں تک ممکن تھا وہ چومنے لگی۔۔۔
مجھے سنبھلنے کا موقع ہی نہیں دے رہی تھی کہ میں بھی کچھ کر سکوں ۔۔۔
اس کی کسنگ کی بے ساختگی اس کا جوش اس کے اندر ابلتے جذبات کی ترجمانی کر رہا تھا۔۔۔
یکدم اس نے اس اندھیرے میں ٹٹول کر میرا لن پکڑ لیا اور اپنی زبان میری منہ میں ڈال دی ۔۔۔
میری زندگی میں اب تک ایسا موقع کم کی آیا تھا کہ کسی کی زبان میرے منہ میں گئی ہو یا میری زبان کسی نے چوسی ہو۔۔۔
اپنی زبان میرے منہ میں گھماتے ہوئے اس نے لن پر اپنا ہاتھ گھمانا جاری رکھا لن تو پہلے ہی اپنی اکڑ دکھا رہا تھا ایک تو پھدی کا ترسہ اوپر سےچھنو جیسی پھدی کا چانس ایک ایسی پھدی جس نے لن کو اس نئے مزے سے روشناس کرایا تھا۔۔۔
میں نے بھی اب اس کا ساتھ دینا شروع کر دیا اپنا ہاتھ اس کے مموں کر رکھ دیا اور دبانا شروع دئیے ۔۔۔
زبان چوستے چوستے چھنو نے لن کو چھوڑا اور اپنی ٹانگوں میں لے کر دبانے لگی وہ اپنی دانست میں لن کو پھدی پر رگڑ رہی تھی۔۔۔۔
جب مزہ نہ آیا تو اس نے میرا ناڑا کھولا اور لن نکال کر ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔
لن پر مساج کرتے کرتے اس نے اپنی شلوار بھی نیچے کر لی اور دیوار کی طرف رخ کرکے کھڑی ہو گئی۔۔۔۔
میں اب بچہ تو تھا نہیں سب سمجھ گیا اور کے پیچھے جا کر لن کو پھدی کے لبوں پر پھیرنے لگا۔۔۔
وہ تڑپ رہی تھی اس کو لن کی اتنی شدید طلب ہو رہی تھی کہ اس نے میرے ڈالنے کا انتظار نہ کیا خود ہی لن کو پکڑ کر پھدی میں سیٹ کرکے پیچھے گھسا مارا ۔۔۔۔
خشک لن پھنس کر رہ گیا اس نے ایک بار آگے ہو کر پھر گھسا مارا کچھ اور اندر ہو گیا۔۔۔۔
یہاں سے میں نے کمان سنبھال لی اس کی کمر پر دونوں طرف ہاتھ رکھے اور اس کو قابو کرکے گھسا مارا ۔۔۔
لن پہلے کی طرح ہی تھوڑا سا اور اندر گیا اب میں نے جتنا لن اندر گیا تھا اس کو باہر نکالا پھر سے پھدی کے لبوں میں اچھی طرح پھیرا ۔۔۔
پھر دوبارہ پھدی میں پھنسا کر گھسا مارا آدھا لن اندر ہو گیا اس کے بعد آہستہ آہستہ گھسے مارتے میں نے سارا لن اندر اتار دیا۔۔۔۔
جب لن سارا اندر چلا گیا تو چھنو کے منہ سے ایک واضح سسکی سنائی دی جس سے اس کے اندر اٹھتے طوفان کر کچھ مرہم لگنے کا احساس ہوا۔۔۔
کچھ دیر آرام آرام سے گھسے مارنے کے بعد میں نے گھسوں کی سپیڈ بڑھا دی اور لن کو ایک ردھم سے اس کی گانڈ کی پھاڑیوں پر ہاتھ رکھے گھسے مارنے لگا۔۔۔۔
گھسے پے گھسا مارتا رہا اس میں اتنا مگن ہوا کہ ارد گرد سے بے نیاز ہو گیا ۔۔۔۔
یکدم چھنو نے پیچھے کی طرف گھسے مارنے شروع کردیے وہ زور زور سے پیچھے ہو کر لن کو ہھدی میں لینی لگی۔۔۔۔
میں گھسا مار کر لن کو اندر کرتا ادھر وہ گانڈ پیچھے لا کر لن کو اندر لیتی اس طرح سے لن زیادہ گہرائی میں جا رہا تھا۔۔۔۔
لن کی سپیڈ بڑھتی جا رہی تھی چھنو کا جوش بھی بڑھتا جا رہا تھا اس نے ایک زودار گھسا مار کر اپنی گانڈ میرے اگلے حصے سے چپکا لی ۔۔۔۔
پھدی نے لن کو جکڑا ایک دم اس کا جسم اکڑا اور میرے لن پر اس نے آب پھدی انڈیلنا شروع کر دیا۔۔۔۔
اس کی پھدی نے میرے لن کو اپنے لیسدار پانی سے سیراب کر دیا۔۔۔
جھٹکے رکے تو میں نے دائیں بائیں نظر گھمائی تو مجھے کچھ فاصلے پر ایک سایہ بے چین نظر آیا ۔۔۔۔
میں نے لن چھنو کی پھدی سے نکال کر اس کے اوپر جھکتے ہوئے اس کے کان میں کہا وہ کون ہے۔۔۔
اس نے فوراً گردن گھما کر ادھر دیکھا اور اسی طرح جھکے جھکے اپنی شلوار پہن لی میرا لن بھی ڈھیلا ہوگیا تھا ۔۔۔
پکڑے جانے کا ڈر لن کو سب سے پہلے چھوارا بناتا ہے یہ میں اب تک اچھے سے سمجھ چکا تھا۔۔۔
میں نے اسی سائے کی طرف دیکھتے ہوئے اپنا آزار بند باندھا اور دیوار کے ساتھ لگ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
چھنو نے آہستہ آہستہ دیوار کے ساتھ چلتے ہوئے ایک طرف جانا مناسب سمجھا میں اس کی مخالف سمت چلنے لگا۔۔۔
ابھی آدھا کی سفر طے کیا ہو گا کہ ایک آواز نے میرے قدم روک دئیے۔۔۔۔
یہ آواز اسی سائے کی تھی جو چھنو کو بلا رہی تھی زنانہ آواز کسی اور کی نہیں بلکہ شازی کی تھی جو اس کو ڈھونڈتے ہوئے وہاں آئی تھی ہا شاید۔۔۔۔
خیر شازی نے اپنا رخ میری مخالف سمت میں کیا تو میں جھٹ سے باڑے سے نکل گیا۔۔۔۔
مجھے یقین تھا کہ چھنو بھی اس کی طرف دیکھ رہی ہو گی اس لیے میں باڑے سے نکل کر ایک بڑا سا مٹی کا کنکر جس کو پنجابی میں روڈا کہتے ہیں اٹھایا اور باڑے میں پھینک دیا۔۔۔۔
خود چھپ کر دیکھنے لگا شازی مڑتی ہے یا نہیں شازی آواز سن کر مڑی ادھر میں نے چھنو کو وہاں سے نکل کر بھاگ کر اندر والی طرف جاتے دیکھا۔۔۔۔
ادھر چھنو اندر گئی ادھر میں گھوم کر دوسری طرف سے گھر میں داخل ہوگیا اور سیدھا شادی والے گھر جا پہنچا۔۔۔
وہاں ماحول ہی اور تھا دیدے اور لالٹین کی روشنی میں لڑکیاں ڈانس کر رہی تھیں جن میں تقریباً سب ہی رشتہ دار تھیں۔۔۔
ڈھولکی پر ہماری میراثن میرے بھایی کی معشوق عاصمہ تھی ایک ردھم کے ساتھ بجا رہی تھی جس ردھم سے ڈھولکی بجتی اسی ردھم سے لڑکیوں کے جسم تھرکتے۔۔۔
اس سیکسی ڈانس کو دیکھ کر مجھے اپنے ادھورے مزے ہر غصہ انے لگا۔۔۔
میں لن کو گالیاں دیتے وہاں سے نکل کر فجے کی تلاش میں نکل پڑا بڑی مشکل سے فجا ملا۔۔۔
فجے سے میں نے حال چال پوچھا اس نے کہا موجاں بابا جی موجاں اج کل پھدی تے پھدی ملدی پئی اے۔۔۔
ہن ای اک پھدی مار کے آیا واں تو سنا شام تو پہلے دا آیا ہویا ایں مینوں ملن دا ٹائم نہیں لبھیا سنا کویی ملی یا بس ۔۔۔۔
میں نے اس کو سب سمجھایا کہ کیسے آئے اور تھکاوٹ کی وجہ سے نیند آگئی اور سو گیا بھی سو کر اٹھا ہوں۔۔۔۔
ہم ایسے ہی باتیں کرتے ایک بار اس طرف آگئے جہاں عورتیں اپنی محفل جمائے لگی تھیں۔۔۔
وہاں آئے تو دیکھا کہ بالو کی بہن میرے چاچی کی بیٹی سانولی سلونی سب کزنوں میں یہ سب سے سیکسی جسم کی مالک تھی ۔۔۔
عمر میں مجھ سے پانچ سال بڑھی ہو گی لیکن اس کا سیکسی فگر کر ایک کو مات دیتا تھا۔۔۔
اوپر سے اس کی ڈریسنگ بھی انتہائی شہوت انگیز ہوتی تھی ۔۔۔
اس کا نام فرحی تھا بڑے بڑے غباروں جیسے ممے باہر کو نکلی ہوئی گانڈ پیٹ نہ ہونے کے برابر جس کی وجہ سے اس کا سینہ بہت بڑا محسوس ہوتا تھا۔۔۔۔
سب لڑکیاں تھک چکی تھیں شاید لیکن وہ اکیلی اپنی کمر مٹکاتی ممے ہلاتی اچھل اچھل کر ڈانس کر رہی تھی۔۔۔
اس کے ہلتے ممے پھر جب وہ نیچے جھکتی تو باہر کو ابلتے ہوئے مموں کا نظارہ لن کو سکڑانے کے لیے کافی دیکھا۔۔۔۔
میں فرح کے پرشباب جسم پر آنکھیں سینکنے میں مگن ہو گیا ۔۔۔
لن اس کی پھدی کے تصور میں ٹن ہو گیا اور اپنی ازلی ہٹ دھرمی پر اتر آیا اور شلوار میں تنبو بنا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
میں مگن ہو کر فرحی کا ڈانس دیکھ رہا تھا اس کا تھرکتا جسم میرے لن پر بجلیاں گرا رہا تھا ۔۔۔
اس کے اچھلتے ممے اس کی مٹکتی گانڈ لہراتی کمر اور اس کی بل کھاتی چال کے ساتھ کمر پر بکھرتے بال میرے اندر ابال پیدا کر رہے تھے۔۔۔
میں فرحی کے آتشیں فگر کو دیکھنے میں اس کے ڈانس سٹیپ دیکھنے اس کے باہر کو ابلتے مموں کو دیکھنے میں محو تھا کہ فجے نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا بس کر کہ ہن ایٹھے ای ٹلی ہویا رہنا اے۔۔۔
ایک تعارف اور کرواتا جاؤں فرحی میرے چاچے کی اور فجے کی خالا کی بیٹی تھی اس رشتے سے فجا فرحی کا زیادہ قریبی تھا۔۔۔
لیکن سالا ایک نمبر کا حرامی تھا اس کو پھدی سے غرض تھی چاہے کسی کی بھی مل جائے۔۔۔
میں نے فجے کی طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں فرح کے کیے ہوس واضح نظر آ رہی تھی۔۔۔
اس سے پہلے کہ ہم کچھ دیر اور رکتے ایک ہماری بڑی اماں نے ہمیں ڈانٹ کر بھگا دیا اس نے چار پانچ پنجابی کی سٹھنیاں بھی سنا دیں۔۔۔
سٹھنیاں تو پنجابی ثقافت کا حصہ ہیں جو لوگ پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں وہ تو سب جانتے ہیں جو بھائی پنجاب سے نہیں ہیں ان کی زبان میں سٹھنیوں کا نام کچھ اور ہوگا لیکن وہ کلچر میں شامل ہوں گی۔۔۔
ہم دم دبا کر بھاگے لیکن دوسری طرف سے ایک اور عورت نے جو رشتے میں ہماری پھپھو لگتی تھی اس نے ہمیں پکڑ لیا اور ہم نے کانوں میں انگلیاں دے کر وہاں سے نکلنے کی کی۔۔۔
اس دوران میری نظر فرحی پر پڑی جو مجھے دیکھ کر ہنس رہی تھی میں نے بھی نظر بھر کر اس کو دیکھا آج شاید اس نے بھی میری نظر کا مفہوم سمجھ لیا تھا اس لیے نظر چرا گئی۔۔۔۔
ہم وہاں سے نکل کر اپنے ایک خفیہ اڈے پر گیے جہاں سب کزن اکٹھے تھے اور وی سی آر لگائے بیٹھے تھے۔۔۔
ہم نے بھی ان کے ساتھ بیٹھ کر فلم دیکھی رات کے پچھلے پہر بالو نے ایک کزن کو کہا جا باہر ویکھ کر آ سب امن اے۔۔۔۔
میں اس کی بات کا مطلب نہ سمجھا میں نے اس سے پوچھا بھی کیا مطلب ہے لیکن اس نے مجھے چپ کر کہہ کر خاموش کروا دیا۔۔۔
وہ لڑکا باہر سے گھوم کر آیا اور کہا سب اوکے ہے بالو اٹھا اس نے جو فلم چل رہی تھی وہ نکال دی اور باہر والا دروازہ بند کر دیا۔۔۔
پھر فکم کو روائنڈ کیا اور چلا کر پیچھے آ کر بیٹھ گیا۔۔۔
جیسے کی فلم چلی میرا لن پہلے سین پر کی تن گیا اس فلم میں سیکس تھا مطلب وہ سیکسی فلم تھی ۔۔۔
ٹرپل ایکسس بولتے تھے ہم یا اس کو بلیو فلم کہتے تھے اب بھی کئی لوگ بلیو فلم بولتے اور جدت کے ساتھ اس کے کئی نام پڑھ گئے ہیں جیسے ٹوٹا مکھن ملائی یا من و رنجن کا سامان وغیرہ وغیرہ۔۔۔
مجھ سے اب برداشت کرنا مشکل ہو گیا تو فجے سے کہا یار کچھ کر اب تو لن پھٹنے والا ہو گیا ہے۔۔۔
فجا ہنسا اور بولا مٹھ مار لو بالو کی طرح اب اور کیا کر سکتے ہیں۔۔۔
لیکن میری ضد جاری رہی تو فجا بولا چل آ فیر اج تینوں اک ہور جگہ وکھاواں۔۔۔
وہ مجھے لے کر باہر نکلا اور گاوں کی دوسری طرف جہاں دوکان تھی وہاں آگیا میں نے حیرانی سے پوچھا ادھر کہاں۔۔۔
فجے نے کہا صبر کر ہن ٹھنڈ رکھ بس بولیں ناں تینوں پھدی بس ایتھوں ای لبھ سکدی اے۔۔۔
اس نے ایک دروازے پر رک کر کہا چپ کرکے اندر آ جائیں بولنا نیں۔۔۔
اس نے دروازے کو ہلکا سا کھڑکایا وہ گھر نجاں لوہاری کا تھا جس کا شوہر آرمی تھا اور اس کا چکر میرے بھایی کے ساتھ بھی تھا لیکن ایک میرے بھائی سے نہیں تھا کئیوں کے بھائیوں سے اور چاچوں سے بھی تھا۔۔۔
ایک منٹ بعد اندر سے کسی نے دروازہ کھولا فجا بغیر ہچکائے اندر داخل ہو گیا۔۔۔
میں بھی اس کی تقلید میں اندر چلا گیا نجاں تھی یا جو بھی تھا اندھیرے میں لن نظر آنا تھا اس نے دروزاہ بند کیا ۔۔۔
وہ ہمیں لے کر ایک کمرے میں آگئی کمرے میں دیا ہلکی ہلکی روشنی پھیلا رہا تھا وہاں دو چارپائیاں تھیں دونوں خالی تھیں ایک پر فجا بیٹھ گیا میں بھی اس کے پاس ہی بیٹھ گیا۔۔۔
نجاں نے پوچھا ہاں فجے اہنوں کیویں نال لئی پھرنا ایں آ شہری بچہ اے ایویں مروا نہ دینا۔۔۔
فجا تو بے فکر رہ تے اس کو خوش کر وہ مسکرائی اور بولی میں خوش کروں یا ثوبیہ کو کہوں ۔۔۔۔
فجا تو میرے نال چل اس کے لیے ثوبیہ ٹھیک ہے میں نے فجے سے پوچھا کیا مطلب ۔۔۔
فجے نے نجاں کو اشارہ کیا وہ باہر نکل گئی تو فجے نے مجھے کہا پھدی دیا ہن وی پچھدا پیا ایں کی اے وہاں تو بڑی آگ لگی تھی ۔۔۔
لینی دیا ثوبیہ بڑی پولٹ بچی اے تو خوش ہو جائیں گا اس کی پھدی مار مزہ کر ۔۔۔
میں۔۔۔ سالیاں لن تے دندیاں نا وڈ تجھے پھدی مارنے کا کہا تھا تو نے ماں یوائی نہیں کہ یہاں پھدی مل جائے گی۔۔۔
فجا ہن دس دےا ہے اب وہ ثوبیہ کو بھیجے گی ٹائم ضائع نہ کرنا سیدھا کپڑے اتار کر پھدی مار لینا۔۔۔
فجا اسی وقت باہر نکل گیا اس کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ جہاں کافی بار آچکا ہے اس لیے وہ اس گھر اے اچھے سے واقف تھا۔۔۔
کچھ کی دیر میں ایک چھوٹی عمر کی لڑکی اندر۔ داخل ہوئی گورا رنگ بڑی بڑی آنکھیں ان آنکھوں میں چمک اور مجھے دیکھ کر حیرانی تھی۔۔۔
ایک نظر میں دیکھ کر وہ معصوم بچی کی نظر آئی لیکن جب وہ دروازہ بند کرکے گھومی تو اس کے سینے کا ابھار بتا رہا تھا کہ کلی نہیں ہے بلکہ اب پھول بن چکی ہے۔۔۔
میں اس خوش کی قسمت پر رشک کرنے لگا جس نے اتنی خوبصورت کلی کو پھول بنایا ہوگا۔۔۔
وہ چلتی ہوئی قریب آئی اپنا دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا پھر اپنی قمیض اتارنے لگی قمیض جیسے ہی اتاری اس کا گورا بدن دیوے کی روشنی میں دمکنے لگا۔۔۔
اتنا گورا رنگ اوپر سے بے داغ بدن جس کو دیکھ کر میں بچی سمجھ رہا تھا اس کے ممے ایک بڑے سائز کے کینوں سے بڑے تھے۔۔۔۔
مموں کو لال برا میں قید می سزا دی ہویی تھی اس نے جھک کر شلوار اتاری اور اپنی ٹانگوں سے نکال دیا۔۔۔
اس کے بعد وہ میرے قریب آئی۔۔۔۔۔
اس کا جسم سنگ مر مر کی طرح تراشا ہوا تھا مموں کو لال برا میں قید کیے اپنے خوبصورت ہاتھوں سے اس نے میری قمیض کے بٹن کھولے۔۔۔
بٹن کھول کر اس نے قمیض اتار دی پھر میرا ناڑا کھول کر شلوار اتارنے لگی تو میں نے اس کو کہا چارپائی پر آجاؤ۔۔۔
وہ چارپائی پر میرے ساتھ بیٹھی پھر لیٹ گئی۔۔۔