اس کے بعد وہاں سے فارغ ہوئے تو میں نے سوچا عثمان سے موبائل کا پتہ کرتا جاؤں اس نے کہا تھا میرا فون اس کے پاس ہے ابھی سوچ ہی رہا تھا عثمان خود وہاں آگیا اس نے مجھے فون دیا اور کہا چیک کر لو بار بار کسی کا فون آ رہا ہے ۔۔۔۔
میں نے اس سے فون لیا اور چیک کرنے لگا مس کال چیک کیں تو ڈاکٹر عمائمہ کی تھیں مجھے شمع سے کیا گیا وعدہ یاد آگیا میں نے ناصر اور شاہد سے اس کے بارے میں بات کرنے کا فیصلہ کیا ان کو لے کر ایک کونے میں چلا گیا اور ان سے بڑی تفصیل سے بات کی شاہد کو سب سمجھایا ناصر نے کہا بس اتنی سی بات ہے ۔۔۔
میں نے کہا مسئلہ یہ نہیں ہے دیکھو اگر اس کو ایسے ہی روکنا ہوتا تو کب کا روک چکا ہوتا اس کی دھلائی بھی ہو جاتی اصل معاملہ تم لوگ سمجھے نہیں معاملہ بہت سیریس ہے کالج میں جو منشیات آتی ہیں ان کا اس معاملے سے بڑا تعلق ہے دوسرا یہاں بھی کچھ ایسی لڑکیاں ہوں گی جو اس گروپ کا شکار ہیں لیکن اپنی بے عزتی سے بچنے کے لیے نام نہیں لے رہیں۔۔۔
ہم نے ابتداء کرنی ہے باقی سب خود بخود ہوتا جائے گا ایک ایک کرکے سب لوگ سامنے آتے جائیں گے اس سب کو بڑے رازدارانہ انداز میں کرنا ہوگا وہ لوگ بڑے طاقتور ہیں ان کے پاس طاقت صرف لوگوں کی نہیں بلکہ تھانہ کچہری اور ضلعی حکومت میں بھی ان کے لوگ ہیں۔۔۔
ناصر نے ہممم کیا اور پوچھا تو بتاؤ پھر اس کا کیا کرنا ہے یہ طارق جو بھی ہے اس نے غلط کیا ہے دوسرا کیا نام بتایا تم نے ہاں ریحان جیسا تم نے بتایا کہ وہ گانڈو ہے تو اس کی گانڈ بھی مار لیں گے اور ویڈیو بھی بنا لیں ہمارے پاس ایک کیمرہ ہے بڑی کمال کی ویڈیو بنائیں گے ۔۔۔
میں نے ان کو ایک بار پھر سمجھایا کہ ان دونوں کے موبائل چھین لینے ہیں سارا دیٹا موبائل میں ہے باقی چاہے ان کی گانڈ مارو یا پھاڑو مجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا اور یہ کام آج ہی ہو جانا چاہئیے طارق تو آج ہی مل جائے گا جب کہ ریحان کا کوئی پتہ نہیں کہاں ہے ۔۔۔۔
میں نے ڈاکٹر عمائمہ کو فون کیا کیونکہ اس کی کافی کالیں آئی ہوئی تھیں ایسے ہی حال احوال پوچھا میں سمجھ گیا وہ یہ جاننا چاہ رہی تھی کہ میں کیسا ہوں اس کو بڑی مایوسی ہوئی کہ میرا کوئی نقصان نہیں ہوا بس ایک بڑی ضروری فائل تھی وہ چوری ہو گئی ۔۔۔۔
فائل والی بات میں نے جان بوجھ کر کی تھی تاکہ وہ کم از کم زیادہ نہ صیحیح وقتی طور پر ہی صحیح بھٹک جائیں اور میں کامیاب بھی ہو گیا میں نے سرسری سا کہہ کر ریحان کا پوچھا تو آنٹی نے بتایا وہ آگیا ہے اور اس وقت گھر ہی ہوگا میں نے فون بند کیا اور شاہد لوگوں کو ساری صورتحال بتا دی اس کے بعد ان دونوں کا پتہ بھی سمجھا دیا ۔۔۔
ناصر نے کسی کو فون کیا شاہد نے بھی اپنے دوست ڈوگر کو فون کیا اور وہ دونوں وہاں سے نکل گئے میں عثمان کے ساتھ کالج سے نکلا تو عثمان نے مجھے اپنے گھر آنے کا کہا میں نے ایسے ہی نارمل سے انداز میں انکار کیا لیکن وہ بضد رہا اور مجھے ساتھ گھر لے گیا۔۔۔
گھر میں اس کی والدہ نہیں تھی وہ کہیں گئی ہوئی تھیں عثمان مجھے بٹھا کر اندر جانے لگا تو میں نے اس کو کہا یار بیٹھک کھول دو وہاں بیٹھ جاتا ہوں اچھا نہیں لگتا خالا بھی گھر نہیں ہیں۔۔۔
عثمان نے مسکراتے ہوئے کہا جگر مرضی ہے تیری اب تو اس گھر کو پرایا سمجھ رہا ہے میں بس دوکان تک جا رہا ہوں تم بیٹھو وہ باہر نکل گیا دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی ساتھ ہی جہاں میں بیٹھا تھا اس کمرے کے دروازے میں ودحت آ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔
میں نے اس کو دیکھا تو دیکھتا ہی رہ گیا نیلے رنگ کا سوٹ جو اس کے جسم کے اعضاء کو چھپانے میں ناکام ہو رہا تھا قمیض اتنی چست تھی کہ اس کے پیٹ پر موجود ناف کی گہرائی تک محسوس کی جا سکتی تھی نیچے کالی لکیروں والا ٹراؤزر اس کے گوشت سے بھری ٹانگوں کی گولائیاں واضح کر رہا تھا۔۔۔۔
گلے میں دوپٹہ ڈالے ہوئے مسکراتی آنکھوں سے مجھے دیکھ رہی تھی اس کی مسکان کا مطلب سمجھنے سے میں قاصر تھا دروازے کی چوکھٹ سے کندھا ٹکائے ایک پاؤں سے دوسرے پاؤں کو ہلاتے ہوئے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔۔
میں نے سر سے پاؤں تک اس کو دیکھا میرے منہ سے ںے اختیار واؤ نکل گیا وہ کھلکھلا کر ہنسی اس کے موتیوں کے سے دانت چمکے تو اس کے چہرے پر بھی لالگی پھیل گئی وہ سبک رفتاری سے پاوں اٹھاتے اندر آئی اور میرے سامنے کھڑی ہو گئی۔۔۔
میں بھی پتہ نہیں کہاں کھو گیا تھا اس کے جسم سے اٹھتی خوشبو کے حصار میں گھرا اٹھ کھڑا ہوا وہ آگے بڑھی میرا ہاتھ پکڑا بڑے پیار سے اپنے دونوں ہاتھوں میں میرا ہاتھ تھام لیا اور اپنے گال سے لگاتے ہوئے آنکھیں بند کیں ۔۔۔
ایک لمحے کے بعد اس نے آنکھیں کھول کر مجھے دیکھ میرے اور قریب ہوئی میرا ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگا کر بڑی میٹھی اور دھیمی آواز میں بولی بلو آئی لو یو۔۔۔۔
اس یہ کہنا میرے لیے حیران کن تھا دو دن کی ملاقات میں ایسا ہو گیا مجھے یقین نہیں آرہا تھا کہ اس نے یہ بول دیا ہے میں اس وقت تک اس کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔۔۔
مجھے اس بات کا نہیں پتہ تھا کہ ودحت ہی وہ لڑکی ہے جس کے کہنے پر کینٹین میں ہمیں سب کچھ مفت میں ملتا تھا چائے سموسے پیسڑی ہر روز ہمارے لیے نئی چیز چائے کا ساتھ آتی تھی ۔۔۔
میں تو میں عثمان کو بھی اس بات کا نہیں پتہ تھا کم از کم میں تو یہ سمجھتا تھا ۔۔۔
جب ودحت نے یہ بولا تو میں حیرت سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی کیا کہوں مجھے پریشان دیکھ کر اس نے کہا کیا ہوا میں جانتی ہوں تم مجھے پسند نہیں کرتے اس دن تم نے سب کچھ بتا دیا تھا۔۔۔
میں نے اس سے پوچھا کس دن اور کب میں تمہیں بتایا تھا میں حیرت زدہ ہو گیا تھا۔۔۔
ودحت نے مجھے اس دن کینٹین والی بات بتائی اور بتایا کہ وہی تھی جو تم سے بات کرنے آئی تھی اور کینٹین میں جو کچھ آپ لوگوں کو مفت میں مل رہا ہے وہ بھی میرے کہنے پر ہی مل رہا ہے جس کا بل میں دوسرے دن دیتی ہوں مجھے اس وقت پتہ چلا کہ مجھ پر مہربان ہونے والی ودحت ہے۔۔۔
میں اس نوازش کے لیے اس کا شکریہ ادا کیا لیکن اس کو پیار کا جواب پیار سے نہیں دے سکتا تھا وہ بہت حسین تھی لیکن میرے دل میں اس کے لیے پیار والے جذبات نہیں تھے۔۔۔
اس کا فگر مجھے اچھا لگتا تھا اس کے چہرے کو دیکھ کر بار بار دیکھنے کو دل کرتا تھا اس کی گہری سیاہ آنکھوں میں ڈوبنے کو دل کرتا تھا لیکن اس سے پیار نہیں تھا۔۔۔
میں نے جواب دیتے ہوئے کہا ودحت تم ایک خوبصورت لڑکی ہو اچھی ہو لیکن یہ پیار ویار میرے بس کا روگ نہیں ہے میں ایک آزاد پنچھی ہوں میرے معاملات بہت الجھتے جا رہے ہیں اور میں نہیں سمجھتا میں کسی کو اپنے دل میں بسا سکتا ہوں۔۔۔
ودحت نے مسکراتے ہوئے کہا میں نے کب کہا کہ مجھے پیار کا جواب پیار سے دو میں نے صرف اپنے دل کا حال دل بیان کیا ہے میں بس یہ چاہتی ہوں تمہارے ساتھ میرا تعلق قائم رہے چاہے ہو جس صورت میں مرضی ہو۔۔۔
اس کی بات سن کر میرے اندر شیطان نے انگڑائی لی میرے اندر سے آواز نکلی لے بھئی بلو اک ہور پھدی تیار اے بس وجان دی تیاری کر۔۔۔
میں ایک بھرپور نظر اس پر ڈالی اور کہا جس مرضی صورت میں اس کا کیا مطلب ہے ۔۔۔
اس نے اپنی پلکیں گراتے ہوئے کہا اس کا وہی مطلب ہے جو ہوتا ہے میں صرف تم سے جڑی رہنا چاہتی ہوں کسی بھی قیمت پر باقی تم پر ہے مجھے کس مقام پر رکھتے ہو۔۔۔
میں اس کو کوئی جواب نہ دے پایا اس کی وجہ عثمان کے ساتھ میرا تعلق تھا ورنہ میں اس سے کھل کر بات کرتا صاف صاف بتا دیتا کہ میں اس کے ساتھ صرف جسمانی تعلق رکھ سکتا ہوں۔۔۔
اس نے میری طرف ہاتھ بڑھایا اور کہا دوست تو بن ہی سکتے ہیں میں کچھ دیر سوچا اور اپنے ہاتھ میں اس کے کومل ہاتھ کو تھام لیا۔۔۔
اس نے ہاتھ کو کھینچا میں کھڑا ہو گیا وہ مسکرائی اور بولی شکریہ مجھے یقین تھا کہ تم میری بات سمجھ جاؤ گے کسی بھی قسم کی کوئی چیز مجھ سے چاہئیے ہو تو بلا جھجھک مانگ سکتے ہو مجھے پیچھے نہیں پاؤ گے۔۔۔
اس کی آنکھوں میں واضح اشارہ تھا جو بھی مانگ لو اس کے الفاظ بھی صاف صاف بتا رہے تھے وہ عمر میں مجھ سے بڑی تھی اور کالج میں سئنیر تھی اس لیے اس کا اعتماد بھی مجھ سے زیادہ تھا۔۔۔
وہ دو قدم آگے آئی اور میرے گلے میں باہیں ڈال کر مجھے اپنے سینے سے لگا لیا اس کے جسم سے نکلتی حرارت اس کے مموں کے رستے میرے سینے سے ہوتی ہوئی میرے لن تک جا پہنچی اور لن نے انگڑائی لی اور کھڑا ہو گیا۔۔۔
اس کے ممے موم کی ٹکیوں کی طرح میرے سینے میں چبھنے لگے میں نے بھی اپنے ہاتھ اس کی کمر پر رکھ دئیے اور اس کو اپنی طرف دبا لیا۔۔۔
اسی وقت باہر سے کسی کی آواز آئی ودحتتتت یہ آواز ہم پر کسی بم کی طرح گری ہم ایک دم ایک دوسرے سے الگ ہو گئے اور وہ کانپتی ہوئی آواز میں بولی ابھی آئی وہ باہر نکل گئی اور میں وہیں ڈھ گیا۔۔۔
میں جیسے ہی صوفے پر گرنے کے انداز میں۔ بیٹھا میرا سر پیچھے جا لگا تو میرے منہ سئی کی آواز نکلی میرا ہاتھ خود بخود ہی سر پر چلا گیا۔۔۔
میرے سر پر ایک گلٹی بنی ہوئی تھی جو کالج میں ہونے والے پنگے کا نتیجہ تھی میں آگے ہو کر بیٹھ گیا باہر کسی کے بولنے کی آواز آ رہی تھی کافی بحث چل رہی تھی کچھ دیر بعد ودحت اندر آئی اور ہنستے ہوئے بولی اس نے تو میری جان نکال دی تھی میں سمجھی آنٹی آ گئی ہیں میں اب دروازہ بند کر آئی ہوں تاکہ وہ آئیں تو پتہ چل جائے ۔۔۔
میں نے عثمان کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ آنٹی کو لینے گیا ہے جو اپنی بہن کے گھر گئی ہوئی ہیں کو کہ شہر کی دوسری طرف رہتی ہیں میں نے ودحت کو کہا تو مجھے کیوں ساتھ لے کر آیا تھا اگر اس نے چلے جانا تھا۔۔۔
ودحت نے بڑے معنی خیز انداز میں کہا اگر برا لگا تو چلے جاؤ میں لاجواب ہو گیا میں ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کہوں وہ چلتی ہوئی آ کر میرے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی وہ اتنا قریب بیٹھی تھی کہ اس کی ران کا لمس اور گرمی مجھے محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
اس کے جسم کی گرمی نے میرا لن لوہا کر دیا جو کچھ دیر پہلے ایک دم چھوہارا بن گیا تھا اس نے بات کرنے کی بجائے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور انگلیوں میں انگلیاں پھنسا کر کھیلنے لگی ساتھ ہی اپنا کندھا میرے کندھے سے لگا لیا۔۔۔
میں اب دوہری الجھن میں پڑ گیا تھا میرا لن ایسے ہر موقع پر پھدی میں گھسنے کو تیار رہتا تھا جب کہ میری دوستی مجھے اس سب سے روک رہی تھی لیکن ودحت سامنے سے آفر کروا رہی تھی اس کا ایک ایک اشارہ مجھے یہ بتا رہا تھا کہ پھدی میں لن گھسا دو ۔۔۔
میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے پوچھا باہر کون تھا ودحت نے میرے کندھے سے سر لگاتے ہوئے کہا وہ مہوش تھی عثمان سے چھوٹی اس کی سسٹر کے میرے ساتھ ایک دن کالج بھی گئی تھی وہ تمہارے لیے کھانا بنا رہی ہے مجھ سے پوچھنے آئی تھی میٹھے میں کہا بناؤں اور کب کھانا ڈالوں میں نے اس کو کہہ دیا ابھی تو ۔۔۔۔
میں نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا اس کا چہرہ میرے بہت قریب تھا اس نے ترچھی نگاہوں سے مجھے دیکھتے ہوئے آنکھیں میچ لیں اور مسکرانے لگی۔۔۔
میں نے اس سے جان چھڑوانے کے لیے کہا تھا جو بھی کہا تھا لیکن وہ تو سب کچھ کروانے کے لیے تیار تھی اب وہ اتنی سمجھدار تو تھی کہ میری ذومعنی باتیں سمجھ سکتی تھی۔۔۔
میں نے ہمت کرکے اس سے کہا تو تم اس سب کے لیے تیار ہو جو کہا تھا کسی بھی قیمت پر اس نے میرے کندھے پر سر رکھے ہی ہلاتے ہوئے کہا ہمممم۔۔۔
میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کی کمر پر رکھا دوسرا ہاتھ اس کے چہرے پر رکھا اس کو سیدھا کیا اس کے ہونٹ کپکپا رہے تھے چہرہ لال سرخ ہو چکا تھا جسم گرمی برسا رہا تھا۔۔۔
میرے ہاتھ پر اس نے ہاتھ رکھ کر اپنے گال پر پھیرا اور ہونٹ پر لا کر چوم لیا میرے اندر شیطان ایک بار سے ہوشیار ہو گیا میں نے اس کو کھڑا کیا اور اپنے سامنے لے آیا وہ شرما رہی تھی لجا رہی تھی ۔۔۔
اس کا شرمیلہ حسن بھی قیامت ڈھا رہا تھا وہ میری ٹانگوں کے دونوں طرف پاؤں رکھ کر میری طرف منہ کرکے بیٹھ گئی بیٹھتے ہی اس نے میرے ہونٹ چوم لیے ایک بار دو بار پھر تو وہ شروع ہو گئی نیچے سے میرا لن بھی چار پردوں میں سے نکل کر اس کی پھدی تک پہنچنے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔
میں بھی اس کی کسنگ میں ساتھ دینے لگا کچھ کی دیر میں میرا ہاتھ اس کی کمر سے ہوتا ہوا مموں پر آ گیا میں نے پولے پولے ممے دبانے شروع کیے تو وہ لن پر پھدی رگڑنے لگی ۔۔۔
میں نے اس کو گھما کر صوفے پر لیٹا لیا اور اس نے ٹانگیں کھول لیں میں ٹانگوں میں لیٹ گیا میرا لن سیدھا کپڑوں سمیت اس کی پھدی پر جا لگا ۔۔۔
میں اس کے ہونٹ چومتے ہوئے نیچے آیا اور اس کی قمیض کو ایک طرف سے پکڑ کر اوپر کیا اور ممے ننگے کر لیے برا بھی قمیض کے ساتھ ہی اوپر کر دیا۔۔۔
ممے ننگے ہوتے ہی میرے منہ میں پانی بھر آیا ایسے صاف شفاف سفید دودھ جیسے ممے ان پر گلابی رنگ کے چھوٹے چھوٹے نپل مموں کے حسن کو دوبالا کر رہے تھے۔۔۔
میرا منہ مموں پر پہنچا میں نے زبان نکالی اور نپلوں سے چھیڑ خانی کرنے لگا نپلز پر زبان پھیرنے لگا وہ تڑپنے لگی اس کی پھدی لن پر لگنے لگی ۔۔۔
میں ہاتھوں میں نرم و ملائم مموں کو پکڑ لیا اور باری باری دونوں کے نپلز پر زبان پھیر کر اس کو تڑپا رہا تھا ابھی تک اس نے میرا لن نہیں دیکھا تھا اور میں دکھانا بھی نہیں چاہتا تھا مجھے شک تھا وہ عین موقع پر بھاگ جائے گی۔۔۔
مموں سے انصاف کرنے کے بعد میں نے اس کی شلوار کو نیچے سرکایا اور ٹانگوں کی مدد سے اتار دی اس کی پھدی پر ہاتھ رکھا تو اس نے میرا ہاتھ ٹانگوں میں دبا لیا۔۔۔
میں نے ناڑا کھولا اور پھدی میں انگلی گھسا دی اس کی پھدی پانی سے بھری ہوئی تھی۔۔۔
لن کو پھدی پر لایا اس کی ٹانگیں اٹھا کر لن کو پھدی کے لبوں میں پھنسا لیا اس کا چہرہ اس کی اندرونی کہانی بیان کر رہا تھا۔۔۔
میں نے لن ہاتھ میں پکڑ کر پھدی پر سیٹ کیا اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے اور ہونٹ چوسنے لگا نیچے سے لن کو پھدی کے لبوں میں پھیرنے لگا ۔۔۔
پھدی کے اندر سے نکلنے والے پانی سے لن کافی گیلا ہو گیا لن کو پھدی کے پانی سے گیلا کر کے میں نے ٹوپی پھدی میں پھنسا لی۔۔۔
اس کے بعد میں نے لن پر دباؤ بڑھایا اب مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا تھا اس لیے کچھ زیادہ ہی دباؤ ڈال دیا اور لن اندر اتر گیا اس کے منہ سے آہ سئییی کی آواز نکلی۔۔۔
میں نے لن کو تھوڑا پیچھے کیا اور پہلے کچھ زیادہ زور لگایا لن اندر اترتا چلا گیا اور پھدی کی گرمی میں گم ہونے لگا۔۔۔
ایک دو بار آرام سے کرنے کے بعد میں نے تھوڑا زور سے گھسا مارا لن تقریباً سارا اندر ہو گیا ۔۔۔
اس کے بعد میں نے ایک تسلسل سے تھوڑے تیز گھسے مارے اس کے گلابی ممے مجھے بار بار اپنی طرف کھینچ رہے تھے۔۔۔
میں نے گھسے مارتے ہوئے ممے پکڑ لیے اور ممے دباتے ہوئے گھسے مارنے لگا انسان کی چھٹی حس بہت کم غلط نشان دہی کرتا ہے۔۔۔۔
میں گھسے مارتے ہوئے اس کی پھدی کی گرمی کو اپنے لن سے ٹھنڈا کرنے کی کوشش کر رہا تھا اس کا وجود بھی تپتا ہوا تندور بن چکا تھا۔۔۔۔
میرے گھسے آہستہ آہستہ تیز ہونے لگے وہ بھی مچلنے لگی اس کی تڑپ دیکھ کر میں تھوڑا زور سے گھسا مارا تو لن سارے کا سارا اس کی پھدی کی دیواروں سے رگڑتا ہوا اندر جا گھسا۔۔۔۔
جیسے ہی سارا لن اندر گیا اس کے چہرے پر ایک دم سختی آگئی اور اس نے آنکھیں بند کیں ساتھ ہی ہونٹ بھینچ لئے۔۔۔
میں نے اپنے گھسوں کو اسی رفتار سے جارک رکھا وہ تڑپتی رہی کچھ ہی دیر میں اس کا جسم اکڑنے لگا وہ ایک بار پھر سے اپنی گانڈ کو اٹھا اٹھا کر لن لینے لگی۔۔۔۔
میں بھی اپنی منزل کے نزدیک تھا اس لیے میری سپیڈ بھی تیز ہوتی گئی وہ ہونٹ بھینچے مجھے اپنی طرف کھینچنے لگی میں اس کے اوپر لیٹ گیا اور مموں کو دبانے لگا ۔۔۔
اس نے اپنی رسیلے ہونٹ میرے ہونٹوں سے پیوست کر دئیے اور پیاسے لبوں کی پیاس بجھانے لگی میرا انگ انگ سرشار ہو گیا ۔۔۔
ایسے ہی ہونٹ چوستے میں گھسے مارنے جاری رکھے عین اسی وقت جب اس نے مجھے اپنے اوپر دبا لیا مجھے کمرے کے دروازے میں کسی کی موجودگی کا احساس ہوا ۔۔۔
لیکن میں جس مقام پر تھا رک نہیں سکتا تھا اس لیے ہر ڈر خوف دیکھے جانے کی فکر کو بھی لن پر رکھ کر ودحت کی پھدی میں اتار دیا۔۔۔
وہ ہانپنے لگی تھی لن زیادہ روانی سے اندر باہر ہو رہا تھا اس کی پھدی اپنا پانی میرے لن پر چھوڑ چکی تھی ۔۔۔۔
میں بھی قریب تھا اس لیے بغیر رکے میں نے گھسے مارنے جاری رکھے ودحت نے میرے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کہا اندر نہ چھوڑنا میں نے جب دیکھا کہ اب نکلنے والا ایک دم لن کو باہر نکالا اور اس کے پیٹ کی طرف کرکے لن کو نیچے دبا کر لیٹ گیا ۔۔۔
اس کے مموں کو دبانے لگا ہونٹوں کو چوسنے لگا اپنا سارا زور لگا کر اس کو دبایا لن نے پچکاری ماری میرا جسم کانپ کر رہ گیا۔۔۔۔
میں اس کے پیٹ پر فارغ ہو گیا جیسے ہی لن نے سارا پانی بہا دیا میں ایک دم دروازے کی منہ کرکے کھڑا ہوا ۔۔۔
میرے سامنے ایک پری صفت ماہ وش خوبصورت و جمیل مہکتی جوانی شربتی آنکھیں کھولے نچلے لب کو دانتوں تلے دابے ایک ہاتھ اپنی ٹانگوں میں دبائے مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
میں تو اس کے حسن کو دیکھ رہا تھا اس کی شکل عثمان سے ملتی تھی اس کی فزیک بھی عثمان جیسی ہی تھی لیکن چہرے کی معصومیت میں اس سے آگے تھے۔۔۔۔
میں نے جب غور کیا تو اس کی نظر میری ٹانگوں میں تھی میں نے لن ہاتھ میں پکڑا تھا جو اب آہستہ آہستہ ڈھیلا ہوتا جا رہا تھا ۔۔۔
جیسے ہی مجھے ہوش آیا میں نے جلدی سے شلوار اٹھائی اور پہن لی جب شلوار پہن کر دیکھا تو وہ غائب تھی۔۔۔
میں نے صوفے پر نظر ڈالی تو ودحت آنکھیں موندھے لمبی لمبی سانس لے رہی تھی اس کی پھدی سے آب بکارت اور سرخ رنگ ملا جلا نکل رہا تھا۔۔۔۔
میرے لیے حیرانی کی بات تھی اتنا موٹا لن آسانی سے اندر گھس گیا تھا بس آدھے سے زیادہ جانے کے بعد زور لگانا پڑا تھا ۔۔۔
میں تو سوچ رہا تھا کہ یہ کنواری نہیں ہے لیکن اس کی پھدی سے رستا خون بتا رہا تھا کہ اس کا پردہ بکارت ابھی ابھی لن اور پھدی کی دھینگا مشتی کے نتیجے میں پھٹ چکا ہے۔۔۔۔
میں اس کو ہلایا تو اس نے آنکھیں کھولتے ہوئے مجھے مسکرا کر دیکھا میں نے آہستہ سے اس کو بتایا کہ کوئی لڑکی آئی تھی ۔۔۔
وہ جلدی سے سیدھی ہوئی ایک آہ اس کے منہ سے نکلی اس نے اپنی پھدی پر ہاتھ رکھ لیا۔۔۔
میں نے میز سے ٹشو اٹھا کر دیا اس نے اپنے پیٹ اور پھدی کو صاف کیا جب ٹشو دیکھا اس کر خون دیکھا تو حیرانی سے میری طرف دیکھا ۔۔۔۔
خون دیکھ کر وہ بھی پہلےحیران ہوئی پھر مسکرا دی اس نے شلوار پہنی اور اٹھ کر جانے لگی آہستہ آہستہ چلتی ہوئی گئی اس کی چال بدل چکی تھی۔۔۔
وہ ٹانگیں کھول کر چل رہی تھی جس کا مطلب تھا کہ اس کی پھدی چیری جا چکی ہے کیونکہ وہ جسمانی لحاظ سے تو فٹ تھی لیکن سمارٹ قسم کا جسم تھا زیادہ کھلا جسم نہیں تھا ۔۔۔
وہ باہر گئی پھر واپس آئی اور مجھے کہا جلدی سے نہا لو پھر کھانا کھاتے ہیں میں نے کہا نہیں اب چلتا کافی دیر ہو چکی ہے ۔۔۔۔
لیکن اس نے ضد کی مجھے ماننا پڑا اور میں نہانے چلا گیا نہا کر نکلا تو ٹیبل پر کھانا لگایا جا چکا تھا ۔۔۔
میں کھانے پر انتظار کرنے لگا کہ ودحت یا کوئی اور آئے تو شروع کروں ودحت آ گئی اس نے آتے ہی مجھے کھانا ڈال کر دیا۔۔۔۔
میں کھانا کھانے لگا کھانا کھاتے ہوئے ودحت سے پوچھا وہ لڑکی کون تھی اس نے بتایا کہ عثمان کی چھوٹی بہن ہے اس کی میرے ساتھ کافی بنتی ہے ۔۔۔
میں ہممم کیا اور پوچھا اس نے کچھ کہا تو نہیں ۔۔۔
ودحت نے کہا نہیں بس یہ پوچھا کتنا درد ہوا تھا۔ میں نے اس کو بتایا کہ درد کم مزہ زیادہ آیا ہے۔۔۔
ایسے ہی باتیں کرتے کھانا ختم کیا میں ودحت کے روکتے روکتے ہی وہاں سے نکل آیا ۔۔۔
واپسی کر آج بڑے دنوں بعد میں فرحی کے گھر گیا فرحی کو سلام کیا چاچی سے پیار لیا ۔۔۔
فرح نے مجھ سے شکایتی لہجے میں کہا آج یہ چاند کہاں سے نکل آیا ۔۔۔
میں نے بھی ہنستے ہوئے کہا چاند جب چڑھتا ہے تو دنیا دیکھتی ہے اس لیے زیادہ نہیں چڑھتا۔۔۔
فرحی نے واہ کے انداز میں ہاتھ لہرایا اور مجھے پانی لا کر پلایا۔۔۔
میں ابھی پانی پی رہا تھا کہ میرا فون بجا میں فون نکال کر دیکھا تو اس پر شاہد کی کال تھی ۔۔۔
میں نے باہر نکل کر فون کان سے لگایا اور پوچھا ہاں بھئی کیا بنا کام کا۔۔۔
میں نے آج شاہد نے ذمے ایک کام لگایا تھا اس نے بھی اسی سلسلے میں مجھے فون کیا تھا ۔۔۔
اس کے لڑکے طارق کو ڈھونڈ چکے تھے مطلب اس تک پہنچ گئے تھے کسی نہ کسی طرح انہوں نے طارق کو پہنچان لیا اب تصدیق کر رہے تھے کہ وکی طارق ہے یا کوئی اور ہے۔۔۔
میں نے شاہد کو اس کی ساری نشانیاں بتائیں شاہد نے ان کو بتا دیں۔۔۔
میں فون سنتا ہوا ہی گھر کی طرف چل پڑا میں ابھی رستے میں ہی تھا کہ کہ مجھے ریحان کی کال آ گئی اس نے بتایا کہ بلو کسی نے طارق کو بہت مارا ہے اور اس کو موبائل بھی لے گئے اور مجھ پر بھی حملہ ہوا ہے۔۔۔۔
میں نے حیرانی سے کیا کہہ رہے ہو یار ایسا کیسے ہو سکتا ہے طارق کی کسی کے ساتھ کیا دشمنی ہو سکتی ہے وہ تو بڑ بیبا لڑکا ہے۔۔۔
ریحان نے کہا یار یہ تو پتہ کرنا پڑے گا چلو خیر تم اس وقت کہاں ہو میں نے اس کو بتایا کہ میں رستے میں ہوں ٹاون کی طرف ہی آ رہا ہوں ۔۔۔
اس نے پوچھا کس جگہ ہو میں نے اس کو جگہ بتائی اس نے فون بند کر دیا اور میں ان کے بارے میں سوچتے ہوئے گھر کی طرف بڑھنے لگا۔۔۔۔
ابھی تھوڑا دور ہی چلا تھا کہ ریحان بائیک پر میرے سامنے آیا اس نے مجھے بائیک پر بٹھایا اور واپس لے کر چل پڑا۔۔۔
وہ سیدھا کلینک گیا اور وہاں اس نے پٹیاں وغیرہ لگوائیں وہاں موجود نرس نے شاید اس کی مما کو بتا دیا تھا اس لیے عمائمہ آنٹی بھی وہاں آگئی۔۔۔
اس نے سارا واقعہ سنا میں تو پہلے ہی سب جانتا تھا اس لیے میں نے غور نہ کیا۔۔۔
عمائمہ آنٹی نے بڑے دلربا انداز سے مجھے دیکھا اور چلی گئی ریحان کے ڈریسنگ وغیرہ ہو گئی تو ہم واپس ٹاؤن آگئے۔۔۔
ٹاؤن واپس آ کر ریحان نے مجھے کہا بلو اگر اس سب میں تیرا تھوڑا سا بھی ہاتھ ہوا تو دیکھ لینا۔۔۔
ہم ابھی یہ باتیں کر ہی رہے تھے کہ ایک طرف سے ناصر بلی اور اس کے ساتھ کچھ اور لڑکے آئے ناصر نے مجھے دور سے ہی دیکھا لیا تھا ۔۔۔۔
ریحان اپنی رو میں بولتا جا رہا تھا میں نے ناصر بلی کو دیکھ کر ہلکا سا اشارہ کیا اس نے اپنے ساتھیوں کو کچھ سمجھایا ۔۔۔
میں ریحان کی طرف متوجہ ہو گیا ریحان نے مجھے کافی دھمکی بھری باتیں سنائیں میں نے اس کو کہا دیکھ ریحان اس دن کالج میں برداشت کر گیا تھا لیکن اگر اب کوئی بہن یہکی کی تو میں ایک بات بتا دوں میں نے چوڑیاں نہیں پہن رکھیں۔۔۔
مجھے پتہ ہے کیا کرنا ہے تو کچھ زیادہ ہی اڑنے لگا ہے تیرے لیے بھی میرے پاس گفٹ ہے ابھی جاکر آرام پھر تجھے دکھاؤں گا ۔۔۔
بس یہ یاد رکھنا کہ اگر تو نے کوئی بیغیرتی کی مجھے یا شمع کو تنگ کیا تو پھر پورا ٹاون دیکھے گا اور تم لوگوں پر تھوکے گا ۔۔۔
اس کو میری دھمکی نہ سمجھنا میں جو بول رہا ہوں تو اس کے پیچھے جو کچھ ہے وہ اگر میں نے دکھا دیا تو تیری گانڈ پھٹ جائے گی جو کہ پہلے ہی پھٹی ہوئی ہے۔۔۔
باقی غیرت تو تجھ میں ہے نہیں پھر بھی کوشش کرنا اپنی عزت کی خاطر خود کو سنبھال کر رکھو۔۔۔
میں نے بات کو طول اس لیے دیا تھا کہ ناصر لوگ قریب آ جائیں اور وہ اگئے ناصر آتے کی ریحان کے ایک تھپڑ جڑ دیا۔۔۔
میں نے اس کو پکڑا تو اس نے مجھے زور دار دھکا دیا میں پیچھے گر گیا ناصر کے ساتھ آئے لڑکوں نے ریحان کو دبوچ لیا اور ا کی دھلائی شروع کر دی۔۔۔
پھر اس کو اس کے ہی گھر میں لے گئے ناصر نے مجھے کافی نرم ہاتھ سے چپیڑیں ماریں میں نے بھی اس کو کافی گالیاں دیں۔۔۔
ناصر مجھے کالر سے پکڑ گھسیٹتے ہوئے ریحان کے گھر میں لے گیا۔۔۔
جیسے ہی ہم اندر داخل ہوئے تو اندر کا سین دیکھ کر میں حیران رہ گیا ۔۔۔