اندر ارشد تھا کو شلوار کے بغیر فریج کے پاس کھڑا تھا اس کمرے سی کسی کی آواز آ رہی تھی ناصر کے گروپ کے ایک لڑکے نے اندر جاتے ہی شلوار اتاری اور ریحان کے سامنے اپنا موٹا تگڑا لن کر دیا۔۔۔
ریحان نے میری طرف دیکھا میں نےنہ پھیر لیا ناصر نے پیچھے سے مجھے دھکا دیا اور اندر کی طرف دھکلیلا میں گرتے ہوئے اندر گیا تو ارشد فریج سے پانی کی بوتل لے کر کمرے میں جا رہا تھا ۔۔۔
میں گرتا گرتا کمرے کے سامنے جا پہنچا اور دیکھا کہ ڈاکٹر آنٹی کی گانڈ میں ایک لڑکا لن گھسائے لگا تھا جبکہ دوسرا اس کی ویڈیو بنا رہا تھا ۔۔۔
ڈاکٹر عمائمہ شاید اس سب سے بچنا چاہ رہی تھی وہ بار بار منہ چھپا رہی تھی جس کو اوپر رکھنے کے لیے اس کے بال کھینچ کر اس کا چہرہ اوپر کر رہے تھے۔۔۔
یہ سب دیکھ کر مجھے شاک لگا تھا میرا پلان یہ نہیں تھا ان سالوں نے سارا پلان خراب کر دیا بجائے اس پر عمل کرنے کے اپنے ناڑے کھول کر لگے تھے ۔۔۔
ارشد چلتا ہوا عمائمہ کے منہ کے سامنے گیا اور اس کے منہ میں اپنا لن ڈال دیا اور زور زور گھسانے لگا۔۔۔
میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو ناصر بلی کے گروپ کا ایک لڑکا ریحان کی گانڈ میں لوڑا گھسا چکا تھا اور اس کی گانڈ مار رہا تھا ریحان کے چہرے پر قرب کے تاثرات تھے۔۔۔
مجھے ان لوگوں نے ایک طرف باندھ دیا اور جہاں سے میں دونوں طرف دیکھ سکتا تھا اندر کمرے کا مںظر بدل چکا تھا اب عمائمہ کو سیدھا لٹا لیا گیا تھا ۔۔۔
جو ویڈیو بنا رہا تھا وہ اس کی ٹانگوں میں آ کر زور زور سے ہل رہا تھا عمائمہ کی آواز بس غوں غوں کہ شکل میں نکل رہی تھیں۔۔۔
میں یہ سوچ کر پریشان ہو گیا تھا اب جو کچھ ہو گا وہ بڑا خوفناک ہو گا عمائمہ کے ساتھ یہ لوگ جو کر رہے تھے ان کو اس بات کا کوئی علم نہیں تھا۔۔۔
یہ نہیں جانتے تھے کہ عمائمہ کیا چیز ہے اس کی پہنچ کہاں تک ہے وہ کیا کروا سکتی ہے میں نے کیونکہ اس کی مکمل ہسٹری پڑھی تھی اس لیے سب جانتا تھا۔۔۔۔
وہ کل دس لوگ تھے پانچ اندر کمرے میں ڈاکٹر عمائمہ کے ساتھ لگے تھے اور پانچ باہر تھے باہر والوں میں سے ایک کو کسی نے میری طرف اشارہ کیا وہ میرے سامنے آیا اور میرے ناک پر ایک رومال لگایا جس کو سونگھتے ہی میں ہوش سے بیگانہ ہو گیا۔۔۔
مجھے جس وقت ہوش آیا اس وقت ایک حسین چہرا میرے اوپر جھکا ہوا تھا میرے چہرے پر پانی کے چھانٹے مار رہی تھی۔۔۔
میں نے آنکھیں کھول کر سب سے پہلے اپنی بائیں طرف دیکھا جہاں کمرے میں عمائمہ کے ساتھ عین غین ہو رہا تھا لیکن اب وہاں صرف عمائمہ تھی باقی سب لوگ شاید جا چکے تھے۔۔۔۔
باہر والی سائیڈ پر تھا تو صوفے پر ریحان موجود نہیں تھا میں اس حسین چہرے کی طرف دیکھا یہ وہی لڑکی تھی جس کے بارے میں عمائمہ نے بتایا تھا کہ اس کی بھانجی ہے۔۔۔
میری آنکھوں میں کئی سوال تھے میں اٹھ کر کھڑا ہوا تو تھوڑا لڑکھڑا گیا اس نے مجھے سہارا دیا میں کمرے کی طرف چل پڑا ۔۔۔
بیڈ پر عمائمہ نڈھال ہو کر لیٹی تھی کپڑے پہنے ضرور ہوئے تھے لیکن ہونے کے برابر جگہ جگہ سے پھٹے تھے ۔۔۔
وہ لڑکی الماری کی طرف بڑھی وہاں سے اس نے کپڑے نکالے اور عمائمہ کو آواز دی میں نے بھی اس کے کندھے پر نرمی سے ہاتھ رکھا۔۔۔
مجھے کسی بات کا پتہ ہی نہیں تھا اور نہ سمجھ آ رہی تھی ایسے موقع پر کیا کہوں عمائمہ سے کس طرح پیش آؤں۔۔۔
عمائمہ نے سر گھما کر میری طرف دیکھا اس کی آنکھوں میں درد تکلیف اور پتہ نہیں کیا کچھ تھا لیکن جو کچھ بھی تھا میرے لیے اس سب کو سمجھنا ناممکن نہیں تھا۔۔۔
میں نے عمائمہ کو سہارا دے کر بٹھایا وہ اٹھ کر بیٹھی تو اس کے منہ سے تکلیف زدہ آواز نکلی اور اس نے اپنی گانڈ کو اٹھ کر اس کے نیچے ہاتھ رکھ۔۔۔
تب تک اس کی بھانجی کپڑے نکال چکی تھی میں نے اور اس لڑکی نے جس کا نام سنبل تھا عمائمہ کو سہارا دے کھڑا کیا ۔۔۔
کھڑے ہو کر عمائمہ نے اپنی پھدی کے پاس ہاتھ رکھ لیا اور چہرے پر کرب بھرے تاثرات تھے۔۔۔
سالوں نے پتہ نہیں کتنا چودا تھا عمائمہ ڈاکٹر کی دونوں سائیڈز ہی درد کر رہی تھیں اس کو واش روم لے گئے واش روم میں چھوڑ کر میں باہر نکلا سنبل بھی آ گئی عمائمہ نے دروازہ ساتھ لگا لیا ۔۔
میں نے ریحان کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ اس کو تو کسی کافون آیا تھا وہ سنتے ہی نکل گیا تھا ۔۔۔
سمیرہ کافی سہمی ہوئی تھی نے اس سے پوچھا تم اس وقت کہاں تھی اس نے بتایا وہ چھت پر کمرے سے باہر تھی مطلب ٹیرس میں تھی وہ یہ دیکھنے گئی تھی گلی میں کیاہو رہا ہے ۔۔۔
اسی دوران کوئی اس کے کمرے میں گھسا تو وہ وہیں دبک کر بیٹھ گئی کمرے کی تلاشی لے کر وہ لوگ واپس گئے تو میں ڈرتے ڈرتے باہر نکلی۔۔۔۔
باقی جو کچھ بھی ہوا میں نے صرف آوازیں سنی ہیں دیکھا کچھ بھی نہیں ہے۔۔۔
انڈرر واش روم سے عمائمہ کی آواز آئی سنبل نے دروازہ کھول کر پوچھا تو اس نے سنبل کو اندر بلا لیا۔۔۔
میں کمرے سے باہر نکل گیا اور وہاں کا جائزہ لینے لگا مجھے ریحان پر ترس آ رہا تھا میرے اندر رحم بہت زیادہ تھا ۔۔۔
لیکن ناصر اور ارشد لوگوں پر بڑا غصہ آ رہا تھا سالوں کو کہا کیا تھا اور یہ کر کیا رہے تھے میں نے صرف ریحان کی چھترول کرنے اور اس کو ڈرانے کا کہا تھا لیکن ان سالوں نے سارا کچھ اتھل پتھل کر دیا تھا۔۔۔
تب تک عمائمہ بھی اندر سے نکل آئی تھی سنبل نے اس کو بیڈ پر لٹایا اور عمائمہ کی بتائی گئی کچھ گولیاں اس کو دیں کو اس نے پانی کے ساتھ نگل لیں۔۔۔
میں نے اس کو کہا پولیس کو بلاتے ہیں ان کے خلاف پرچہ کٹواتے ہیں ان کو چھوڑیں گے نہیں۔۔۔
ڈاکٹر صاحبہ نے مجھے روک دیا اور کہا کچھ نہیں کرنا اور ہاں یہ بات باہر بھی کسی کو پتہ نہ چلے میں ایک دو دن میں خود سب کچھ دیکھ لوں گی ۔۔۔
میں کچھ دیر اس کو دیکھتا رہا پھر جب اس کی آنکھیں بند ہو گئیں تو میں اور سنبل کمرے سے باہر آ گئے میں نے سنبل کو ملا آنٹی کے موبائل میں میرا نمبر سیو ہے اگر کوئی مسئلہ ہو تو مجھے فون کر دینا۔ ۔۔
میں وہاں سے نکل کر شاہد سے رابطہ کرنے لگا اس سے بات ہوئی تو اس نے بتایا کہ طارق کی طبیعت ایک دم ہر بھری کر دی ہے اور اس کا موبائل بھی چھین لیا ہے اور لیپ ٹاپ بھی لے آئے ہیں۔۔۔۔
موبائل سے مجھے عمائمہ کا موبائل اور ریحان کا موبائل یاد آیا میں نے شاید سے تفصیلات بعد میں پوچھنے کا کہا اور فون بند کرکے واپس عمائمہ کے دروازے پر گیا ۔۔۔
بیل دی دروازہ کھلا سنبل سامنے تھی وہ ایک طرف ہوئی میں سیدھا عمائمہ کے کمرے میں گیا اور اس کا موبائل ڈھونڈنے لگا لیکن نہ ملا۔۔۔۔
میں نے نمبر ڈائل کیا تو کال گئی فون کسی نے نہ اٹھایا میں نے شاہد کو فون کیا اس سے پوچھا ڈاکڑ آنٹی کا فون اس نے بتایا وہ میں نے ارشد کے ذمے لگایا تھا ۔۔۔
میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے اور سنبل کو کہا گھر سے کوئی اور چیز تو غائب نہیں ہوئی اس نے بتایا کہ کمپیوٹر لے گئے ہیں ۔۔۔
میں سمجھ گیا جو ہماری ضرورت کی چیزیں تھیں وہ لے گئے ہیں میں نے ایک بار پھر سے سنبل کو ہدایات دیں اور وہاں سے نکل کر گھر آگیا۔۔۔
گھر آیا کپڑے بدلے اور نہایا کھانا وغیرہ تو کھا کر آیا تھا اس لیے سو گیا ایسا سویا کہ صبح ابا جی اٹھانے پر ہی آنکھ کھلی ۔۔۔
صبح جب میں نے ٹراؤزر شرٹ پہنا اور بیٹ اٹھایا تو ابا جی نے پوچھا کالج نہیں جانا تو میں نے ان کو بتایا کالج میں آج سپورٹس ڈے ہے ان کو مطمئن کرنا کافی مشکل تھا پھر ان کے سوالات کے جوابات دئیے ان کو مطمئن کیا۔۔۔
ناشتہ کیا امی نے دعائیں دیں ماتھا چوما ماں کی ممتا بھی کمال ہوتی ہے انسان کی ساری پریشانیاں ایک سیکنڈ میں ختم کر دیتی ہے کسی قسم کی کوئی الجھن رہنے نہیں دیتی امی سے پیار لینے کے بعد میں گیٹ کی طرف بڑھا تو اباجی باہر کھڑے تھے۔۔۔
وہ تو ایک منٹ بھی ضائع نہیں کرتے تھے ان کے دفتر کا ٹائم ہو چکا تھا اور انہوں نے کبھی دیر نہیں کی تھی آج باہر کھڑے تھے اور مجھے دیکھتے ہی بلایا اور کہا آؤ تم سے بات کرنی ہے۔۔۔
میں ان کے ساتھ چلنے لگا وہ ہم ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ٹاؤن سے باہر نکلے تھوڑی دور جانے کے بعد انہوں نے بات کرنا شروع کی۔۔۔
ابا جی نے کہا دیکھو بیٹا ہاشم کا مجھے سب پتہ تھا وہ جو بھی کرتا تھا اور اس کو بہت سمجھایا تھا لیکن وہ میری بات سمجھتا نہیں تھا لیکن جب وہ پھنس گیا تھا تو اس کو میری بات کہ سمجھ آئی تھی۔۔۔
تم اس کی طرح نہ کرنا وہ غصے کا بہت تیز ہے جو سوچ لیتا ہے اسی پر ڈٹ جاتا ہے بس یہ سمجھتا ہے جو اس نے سوچا ہے وہ ہی درست ہے باقی کسی کی بات کی اس کے نزدیک کوئی اوقات نہیں ہوتی۔۔۔
تم اس سے بہت مختلف ہو بات کی گہرائی تک جاتے ہو ٹھنڈے دماغ سے سوچتے ہو پھر فیصلہ کرتے ہو۔۔۔
میں تمہارا باپ ہوں میرا فرض بنتا ہے کہ تمہیں اچھے برے کا فرق بتاؤں غلط اور صحیح راستے کی پہچان کرواؤں۔۔۔
میں ان کی بات سے اندازہ لگانے لگا کہ وہ کس طرف جارہے ہیں وہ یہ سب مجھ سے کیوں کہہ رہے ہیں۔۔۔
ابا جی نے کہا ہاشم کا سب سے بڑا مسئلہ اس کے غلط دوست تھے جن کی وجہ سے وہ اصل رستے سے ہٹ گیا تھا ورنہ وہ بہت اچھا لڑکا ہے ذہین وہ تم سب بہن بھائیوں سے زیادہ ہے۔۔۔
اس کے دوستوں نے اس کو خراب کیا تھا اب وہ کچھ سنبھل گیا ہے لیکن ایک اچھا موقع تھا اس کے پاس کچھ بننے کا وہ اس نے اپنے دوستوں کی وجہ سے ضائع کر دیا۔۔۔
دیکھو بیٹا دوست ہمیشہ سوچ سمجھ کر بنانا دوست وہ ہے غلط کام سے روکے بری صحبت ست بچائے دوست وہ نہیں ہے جو غلط کام میں لگائے۔۔۔
میں نے کہا جی ابا جی میں سب سمجھتا ہوں لیکن میں سمجھ نہیں پا رہا آپ کہنا کیا چاہ رہے ہیں۔۔۔
اباجی نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا میں بتاتا ہوں سب پہلے میری بات سن لو سب سمجھ آ جائے گی مجھے تم کر پورا بھروسہ ہے میں تمہیں غلط نہیں کہہ رہا بس سمجھا رہا ہوں ۔۔۔
کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو بظاہر تو بہت ہی اچھے ہوتے ہیں لیکن حقیقت میں وہ ایسے نہیں ہوتے جو ہم ان کو سمجھ رہے ہوتے ہیں۔۔۔
ان کی زندگی دو رخی ہوتی ہے ان کا ظاہر اور باطن دو الگ الگ راہیں ہوتی ہیں مطلب وہ لوگ اچھا ہونے کا دکھاوا کر رہے ہوتے ہیں۔۔۔
میں ان کی ہر بات پر ایک کردار چن رہا تھا اور یہ سوچنے لگ جاتا یہ اس کی بات کررہے ہیں لیکن جب وہ اگلی بات کرتے تو میرا پھر اندازہ بدل جاتا میں کسی اور کے بارے میں سوچنے لگ جاتا۔۔۔
انہوں نے کہا دیکھو بیٹا ٹاؤن میں کافی دوست ہیں تمہارے ان میں سے کچھ ہمارے گھر بھی آتے ہیں میں نے کبھی تمہیں ان سے نہ ملنے یا ان کے ساتھ کھیلنے سے نہیں روکا۔۔۔
لیکن کچھ دنوں سے تمہارا انداز بدل گیا ہے تم بلکل ہاشم کی طرح ہونے لگے ہو دیر سے گھر آنا کسی سے بات نہ کرنا اور سو جانا۔۔۔
پہلے تم روز بیٹھ کر پڑھا کرتے تھے لیکن میں پچھلے کچھ دنوں سے نوٹ کر رہا ہوں تم رات کو گھر نہیں ہوتے ایک دن اس ڈاکٹر عمائمہ کے گھر سے فون آیا تھا تم وہاں تھے۔۔۔
باقی مظفر ہمارا ہمسایہ ہے وہ ہم پر بڑا اعتماد کرتے ہیں ان پر مشکل آئی ہم ساتھ ہیں کوئی بات نہیں تم ان کے گھر بھی رات رہے لیکن کتابیں لے کر گئے تھے۔۔۔
رات کو تم آئے دیر سے آئے اور آتے ہی سو گئے تمہاری حالت بتا رہی تھی کہ تم ٹھیک نہیں کو کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے جس کی وجہ سے تم دیر سے آئے ہو کسی سے جھگڑا ہوا ہے یہ بات میں سمجھ گیا تھا۔۔۔
کل شام کو ٹاؤن میں کسی نے طارق کو بہت بری طرح مارا تھا اور عمائمہ کا بیٹا بھی کافی مار کھا کر آیا تھا مجھے ڈر ہے کہ تمہارے ساتھ بھی کچھ ایسا نہ ہوا ہو۔۔۔
میں ابا جی باتیں سن کر حیران رہ گیا وہ اتنا سب کیوں کہہ رہے ہیں کہیں ان کو کسی بات بھنک تو نہیں لگ گئی جو وہ یہ سب باتیں مجھ سے کر رہے ہیں۔۔۔
میں نے کہا ابا جی میں اس وقت ٹاؤن میں داخل ہو رہا تھا ریحان کے گھر کے پاس سے گزررہا تھا جب چار پانچ لوگ ریحان کو مار رہے تھے میں نے چھڑوانے کی کوشش کی تو وہاں ان کے ساتھ ہاتھا پائی ہو گئی ۔۔۔
اس کے علاوہ اور کوئی بات نہیں ہے میرا کسی غلط آدمی کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے میرے دوست بس چند ایک ہیں وہ بھی کالج میں ساتھ پڑھتے ہیں سکول میں بھی ہم ساتھ پڑھتے تھے۔۔۔
ابا جی نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا بس ریحان اور اس کی ماں سے دور رہنا یہ ویسے نہیں ہیں جیسے دکھتے ہیں ۔۔۔
میں نے کہا جی ابا جی آپ کی بات سمجھتا ہوں مجھے ان پر پہلے ہی شک تھا اس لیے میں نے ریحان سے کسی قسم کا تعلق نہیں رکھا تھا وہ تو اس کو مار رہے تھے اور مجھے اچھا نہیں لگا کوئی ہمارے ٹاؤن کے لڑکے کو مارے اس لیے مڈبھیڑ کو گئی تھی ۔۔
ابا جی نے چلتے ہوئے کہا چلو کوئی بات نہیں مجھے امید ہے مجھے شرمندہ نہیں ہونا پڑے گا میرا بیٹا میرا سر جھکنے نہیں دے گا۔۔۔
وہ یہ کہہ کر ایک طرف مڑ گیے وہاں سے ان کے دفتر کے لیے شاٹ کٹ تھا میں وہیں رک کر ان کو جاتے دیکھتا رہ اور ایک باپ اپنی اولاد کے لیے کتنا فکر مند ہوتا ہے اس کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔
وہاں سے میں کالج کی طرف چل پڑا میرے ذہن میں بار بار ابا جی کی باتیں گونج رہی تھیں۔۔۔
کالج کا آج ماحول ہی الگ تھا گراؤنڈ میں لڑکے ہی لڑکے اکٹھے تھے میچ تو ہم کلاسوں کا تھا لیکن سب سپورٹ کرنے آئے تھے آج پرویز صاحب بھی پھر رہے تھے اور گراؤنڈ کی صفائی کروا رہے تھے۔۔۔
ہمارے سپورٹس کے پروفیسر بھی موجود تھے میں نے اپنے ہم جماعتوں کو ڈھونڈا اور ایک طرف جا کر کھڑے ہو گئے شاہد ہمارا کپتان تھا وہ ابھی تک نہیں آیا تھا ۔۔۔
کالج کا ٹائم ہو چکا تھا ایم اے والوں کو گراؤنڈ کی ایک طرف دی گئی وہاں ان کی گرلز کے لیے بھی جگہ مختص تھی ۔۔۔
باقی سارا کالج ایک طرف تھا ہمارا کپتان بھی آچکا تھا ایک پروفیسر جو کبھی کالج کی طرف سے ڈویژن لیول تک کرکٹ کھیل چکے تھے ان کو میچ کا ایمپائر اور ان کے ساتھ عاذب کو بھی ایمپائر بنایا گیا جس پر کسی نے کوئی اعتراض نہ کیا ۔۔۔
پھر دونوں طرف سے اپنی اپنی ٹیم کے کھلاڑیوں کے نام دئیے گئے اس کے بعد دونوں ٹیموں کے کپتانوں نے ٹاس کیا ہم ٹاس ہار گئے اور فیلڈنگ کرنا پڑی۔۔۔
ہمارے مخالف ہم سے عمر اور تجربے دونوں میں بڑے تھے انہوں نے جم کر ہمارے باؤلروں کی دھلائی کی اور اچھا ٹارگٹ سیٹ کر دیا۔۔۔
ہماری طرف سے اوپر جانے والوں میں شاہد اور ایک اچھی ہٹنگ کرنے والا ارشد تھا جو بس بیٹ ہی گھماتا تھا جو لگ جاتی تھی وہ باؤنڈری سے باہر جاتی۔۔۔
میچ چلتا رہا ہمارے کھلاڑی جم کر کھیلتے رہے میری باری بھی آگئی تیسرے نمبر پر بیٹنگ کے لیے بھیجا گیا ۔۔۔
میرے گراؤنڈ میں داخل ہونے پر ہماری کلاس نے خوب سیٹیاں بجائیں ایم اے والوں کے علاوہ تقریباً سارے کالج نے تالیاں بجا کر میرا استقبال کیا۔۔۔
میں گراؤنڈ میں جا رہا تھا تو ایک طرف سے آواز آئی بیٹا یہ کرکٹ ہے بیٹ سے کھیلنا پڑتی ہے باتوں سے نہیں ۔۔۔۔
میں نے بات کرنے والے کی طرف دیکھا تو وہ ایم اے کا ایک لڑکا تھا جو مجھے چھیڑ رہا تھا اس کی بات پر اس کے ساتھ کھڑے لڑکوں نے خوب شور مچایا۔۔۔
میں جب بیٹنگ کے لیے گیا تو ہمیں جیتنے کے لیے چھ اوور میں اسی رنز چاہئیے تھا اور ٹینس بال میں یہ معمولی سکور سمجھا جاتا ہے۔۔۔
میں ارد گرد سے بے نیاز ہو کر کھیلنے لگا اب تک جتنے بھی ہمارے کھلاڑی گئے تھے سب نے جاتے ہی ہٹنگ کی تھی لیکن جاتے ہی بال کو سیدھے بیٹ سے روک لیا۔۔۔
ایم والوں کی طرف سے ہوٹنگ ہونے لگی ٹک ٹک ہاہاہاہاہاہاہا یہ میچ جتوائے گا بیٹا ڈر گیا ہے فیڈر گھر بھول آیا اس کو کوئی دودھ پلاؤ ایک لڑکی کی آواز نے اخیر کی کر دی اس نے کہا آ جاؤ میلا شوہنا میلے پاش میں دودھ پلاتی ہوں۔۔۔
میں نے گھوم کر اس طرف دیکھا جہاں سے آوازیں آ رہی تھیں اور پھر سے تیار ہو گیا باؤلر نے گیند کروائی میں ایک زوردار ہٹ لگائی اور گیند گراؤنڈ سے باہر جا گری۔۔۔
ایک دم پورا گراؤنڈ چیخنے لگا ہر طرف شور ہی شور ہو رہا تھا سارے کالج کو ایم اے والوں پر غصہ تھا وہ اپنے بلاک میں کسی کو آنے نہیں دیتے تھے اس لیے سب ہمیں سپورٹ کر رہے تھے ۔۔
اس کے بعد تو میں نے گیند کو روکنا گناہ سمجھا ہر بال پر ہٹ لگائی غرض میچ ایک اوور پہلےختم ہو گیا ہم میچ جیت گئے ایم اے والوں پر جو ہوٹنگ ہو رہی تھی اس سے میں بہت محظوظ ہو رہا تھا ۔۔۔
میچ کے بعد اگلے میچ کا اعلان ہوا جو ایک گھنٹے بعد گریجویشن پارٹ ون والوں کا سیکنڈ ائیر والوں سے تھا ۔۔۔
میں گراؤنڈ سے باہر آتے ہوئے لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا مجھے ان میں ودحت بھی نظر آئی اس نے ایک لڑکی کی طرف اشارہ کرتے کوئے فیڈر کا نشان بنایا ۔۔۔
میں اس طرف گیا اور بڑے ہی سٹائل سے کہا ممی مجھے بھوک لگی ہے دودھو دو ناں میرے ساتھ کھڑے لڑکے بھی ہونے لگے ۔۔۔
ہم تو جو ہنسے سو ہنسے وہاں وہاں اس کی کلاس کی لڑکیاں اور لڑکے بھی ہنسنے لگے میں کہا سوری اگر برا لگا ہو تو صرف مذاق تھا ۔۔۔
چھوٹا پیکٹ بڑا دھماکا کا لفظ تو آپ لوگوں نے سنا ہو گا دیکھا پہلی بار ہو گا ۔۔۔
ودحت بولی چھوٹا پیکٹ بڑا دھماکا یہ صرف کہنے کی بات نہیں ہے آپ تو پورے بم ہو بندوق کی گولی نہیں راکٹ لانچر ہو پستول نہیں نائن ایم ایم ہو۔۔۔
وہ بات کرتے ہوئے ساتھ میں اپنی بازو لمبا کر کے ساتھ کھڑی لڑکی کو دکھا رہی تھی جس کا مطلب میں کچھ اور سمجھ رہا تھا اب پتہ نہیں ودحت اس کو وہ بتا رہی تھی یا کچھ اور میں نہیں جانتا تھا۔۔۔
دوسرا میچ ہوا وہ گریجویشن والے جیت گئے پھر اگلا میچ ایم اے اور سیکنڈ ائیر کا ہوا جو ایم اے والے جیت گئے اس کے بعد ہمارا میچ اور گریجویشن کا میچ ہوا وہ ہم جیت گئے۔۔۔
باقی کے میچ کل ہونے تھے جس میں ہم فائنل میں پہنچ چکے تھے گریجویشن اور ایم والوں کا میچ تھا جو جیتتا ان کا ہمارے ساتھ فائنل ہونا تھا۔۔۔
میچ ختم ہوئے ہم کینٹین میں بیٹھ گئے وہاں شاہ زیب بھی آگیا اس نے آتے ہی مجھ سے کہا کل کیا پنگا ڈال دیا ہے تم لوگوں نے کچھ احساس بھی ہے اتنا بڑا کانڈ کرنے کے بعد آج یہاں اتنے آرام سے میچ کھیل رہے ہو۔۔۔
میں نے کوئی جواب نہ دیا شاہد بولا کیا ہوا بھائی عثمان آج غائب تھا مجھے اس کی فکر ہو رہی تھی میرے دل میں چور تھا اور شاہ زیب نے جو کہا وہ الگ بات تھی ۔۔۔
میں عثمان کے بارے میں سوچی جا رہا تھا شاہ زیب نے میرا کندھا ہلا کر کہا اوہ کاکے میں تجھ سے پوچھ رہا ہوں یہ سب کیا ہے۔۔۔
شاہد او ناصر نے شاہ زیب کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا کیا بات ہے ایسی کیا قیامت آ گئی ہے یوں بات کر رہے ہو اور تم ہو کون۔۔؟؟
شاہد لوگ شاہ زیب کو نہیں جانتے تھے میں نے ان کو روکا اور کہا شاہ زیب بھائی کس حوالے سے بات کر رہے ہیں مجھے سمجھ نہیں آ رہی۔۔۔
شاہد اور ناصر نے جیسے ہی نام سنا فوراً سوری کی تو شاہ زیب نے عمائمہ والا واقعہ سنا دیا اور یہ بھی کہا کہ یہ بات ابھی تک انہوں نے کسی کو بتائی نہیں اور نہ کی وہ پولیس کیس کرنا چاہتے ہیں۔۔۔
لیکن اب تم لوگوں کو احتیاط برتنا ہو گی اس نے ناصر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا تم ناصر ہو ناں۔۔۔
تم اور ارشد لوگ اب ان لوگوں سے دور رہو گے بلو تک اگر وہ لوگ پہنچ گئے تو ہمارا سارا پلان جو ابھی ہم نے شروع نہیں کیا وہ غارت ہو جائے گا۔۔۔
اس لیے بلو پیچھے رہے گا صرف تم لوگوں تک اس کا پیغام پہنچا کرے گا ناصر تو اچھا خاصا سمجھدار لگتا ہے تم سے ایسی بیوقوفی کی امید نہیں تھی کہ تم سامنے آؤ گے ۔۔۔
اگر ایسا کرنا ضروری تھا تو مجھے بتاتے میں بندے بھیج دیتا اور ان وہ سب ہو جاتا جو تم چاہتے تھے۔۔۔
شاہد بولا جو ہم چاہتے تھے وہ نہیں ہو سکتا تھا یہ مانتے ہیں ارشد اور ناصر کو خود نہیں جانا چاہیے تھا ۔۔۔
شاہ زیب نے کافی دیر ہمیں سمجھایا ساری باتیں کھل کر بتائیں اور اس نے ایک اور بات کہی کہ تم لوگ بچپنا کر رہے ہو ۔۔۔
یہ عمائمہ تو صرف مہرہ ہے اس کے تعلقات ہیں جس کا فائدہ اٹھایا جا رہا ہے اس عورت نے اپنا جسم بہت سنبھال کر رکھا ہوا تھا اب تک تم لوگوں کی وجہ سے اس کو بڑی ٹھیس پہنچی ہے۔۔۔
ایک ایسی عورت جس نے اپنے شوہر سے دور ہو کر بھی کبھی کسی مرد کو قریب نہیں آنے دیا تھا تم لوگوں نے اس کے ساتھ وہ سب کیا ۔۔۔
عورت کے لیے سب سے بڑھ کر اس کی عزت ہوتی ہے یہ بہت برا ہوا ہے سب اگر اس کو یہ پتہ چلا کہ اس میں کہیں نہ کہیں بلو کا بھی ہاتھ ہے تو سوچو کیا ہوگا ۔۔۔
بلو ریحان کا دوست ہے پورا ٹاون جانتا ہے بلو اور ریحان ایک دوسرے کے بہت قریب ہیں اوپر سے تم لوگوں نے اپنے چہرے بھی نہیں چھپائے تھے۔۔۔
کچھ دن یہاں سے غائب ہو جاؤ اور بلو سے دور رہو تم لوگ کیا کرو گے کیسے کرو گے مجھے نہیں پتہ کالج میں سب کو اس بات کا یقین دلاؤ کہ بلو کے ساتھ تم لوگوں کی نہیں جم رہی۔۔۔
شاہ زیب اٹھ کر چلا گیا اس کے جاتے ہی ناصر اٹھا اور کینٹین سے نکل گیا اس کے دماغ میں کچھ چل رہا تھا میں نے شاہد کو کہا ناصر اور ارشد ہمارے لیے بہت اہم ہیں اس لیے ان کو خود سے الگ نہیں کر سکتے ۔۔۔
شاہد نے میرا کندھا تھپتھپایا اور مجھے کہا آؤ اس کا بندوبست کرتے ہیں ۔۔۔
ہم کینٹین سے نکلنے لگے تو لڑکیوں کا ایک گروپ ہمارے سامنے سے آرہا تھا ہم جیسے ہی ان کے قریب آئے تو ان میں سے ایک لڑکی نے مجھے بلایا۔۔۔
میں رک گیا تو اس نے مجھے اپنے پاس بلایا میں نے شاہد کی طرف دیکھا شاہد نے سر ہلایا ۔۔۔
میں ان کے پاس گیا ان میں سے ایک لڑکی نے جھجھکتے کوئے کہا وہ بلی آنکھوں والا لڑکا آپ کا دوست ہے ناں۔۔۔
میں نے کہا کونسا بلی آنکھوں والا وہ بات کرتے ہوئے جھجھک رہی تھی دوسری لڑکی بولی میں بتاتی ہوں ۔۔۔
وہ جو ابھی یہاں سے گیا ہے تمہارے ساتھ دیکھا تھا میں نے اس نے ہمارے ساتھ بڑی بدتمیزی کی ہے ۔۔۔
شاہد کو کال آئی وہ کال سننے لگا میں نے کہا آپ اس کی نشاندہی کر سکتی ہیں اس نے کہا ہاں جی کر سکتی ہوں ۔۔۔
میں نے آ جائیں وہ ہمارے ساتھ چلنے لگی شاہد فون بند کرکے میرے ساتھ شامل ہوا اور میرے کان میں اس نے ایک بات کی۔۔۔
شاہد کی بات سن کر مجھے حیرانی ہوئی لیکن اس کے چہرے پر عجیب تاثرات تھے ہم ان لڑکیوں کے ساتھ چلتے ہوئے گراؤنڈ کے پاس گئے۔۔۔
اس نے ایک طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا وہ رہا جس نے بدتمیزی کی ہے میں نے اور شاہد نے اس کے ہاتھ کی سمت میں دیکھا وہاں ناصر اور ارشد کھڑے ہمیں ہی دیکھ رہے تھے۔۔۔
ہم چلتے ہوئے ان کے قریب گئے ناصر نے ہسنتے ہوئے کہا واہ اب اپنے یار کو لے ائی ہو میں کسی سے نہیں ڈرتا یہ میرا کیا بگاڑ لے گا۔۔۔
شاہد نے آگے بڑھ کر ناصر کے گریبان سے پکڑ لیا اور اس کو مارنے لگا۔۔۔
وہ دونوں گتھم گتھا ہو گئے ارشد نے شاہد کو مکے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔
مجھ سے برداشت نہ ہوا میں نے بھی آگے بڑھ کر ارشد کو دبوچ لیا ارشد نے گھوم کر میرے ایک مکا رسید کر دیا اور بولا مجھے پتہ تھا تو اپنے یار کا بدلا ہم سے لے گا۔۔۔
آجا آج تجھے بھی دکھاتے ہیں ہم کیا ہیں پھر ہم نے ایک دوسرے کی اچھی خاصی چھترول کی ۔۔۔
عاذب اور کچھ دوسرے لڑکے درمیان میں آئے اور ہمیں چھڑوایا شاہد نے کہا کوئی ایسا ہمارا دوست نہیں ہوگا جو لڑکیوں کی عزت نہیں کرے گا۔۔۔
ناصر جس کو عاذب پکڑے میرے پاس کی کھڑا تھا دھیمی آواز میں بولا سوائے ان لڑکیوں کے جو ہماری یار ہیں۔۔۔
میں نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے آنکھ ماری میں اس کی گیم سمجھ گیا تھا ۔۔۔
عاذب اس سب سے انجان تھا وہ ہم کو سمجھا رہا تھا یار کیا ہو گیا تم لوگوں کو آپس میں کتوں کی طرح لڑ رہے ہو۔۔۔
میں نے کہا آج کے بعد ہمارا ان کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے یہ ہمارا حصہ نہ کبھی تھے نہ ہوں گے ۔۔۔
ہمارا مقصد اور ہمارا مشن ان سے الگ ہے ہم ایسے گھٹیا لوگوں کو دوست نہیں رکھ سکتے۔۔۔
ہمیں پکڑ نے اور چھڑوانے والے ہمارے ہی دوست تھے لیکن ہماری باتیں سن کر وہ ہم کو چھوڑ کر دور ہو گئے ارشد اور ناصر کے ساتھ کاشی ٹنڈا اور اس کا گروپ شامل ہو گیا۔۔۔
وہ بہت بڑھ چڑھ کر بولنے لگے ارشد نے اس کو چپ کروایا اور کہا چلو یار آج پتہ چل گیا اس کا بھی ہم ان کے منہ نہیں لگیں گے۔۔۔۔
ناصر نے کہا اب فیصلہ الیکشن میں ہو گا ہم اپنا امیدوار کھڑا کریں گے کالج کے الیکشن میں ہمارا صدر بنے گا ۔۔۔
یہ بلو خود کو کیا سمجھنے لگا ہے اس کی طاقت ہماری وجہ سے تھی ہم ہی تھے جو اس کے پیچھے کھڑے تھے ورنہ اس کو یہاں جانتا کون تھا۔۔۔
شاہد نے بھی اس کو کھری کھری سنا دیں اور ہم وہاں سے نکل گئے کچھ دور جا کر شاہد نے کہا آج کے بعد جو بھی ملاقات ہو گی وہ یہاں سب کے سامنے یا کالج میں نہیں ہو گی۔۔۔
میں نے مڑ کر دیکھا تو ناصر کے چہرے پر مسکراہٹ تھی ارشد بھی ہنس رہا تھا کاشی ان کو بڑھکا رہا تھا۔۔۔
یہ خبر کالج میں آگ کی طرح پھیل گئی تھی ہر کوئی وجہ جاننے کی کوشش کر رہا تھا لیکن ہم بس گول مول جواب دے رہے تھے۔۔۔
پرویز صاحب نے بھی ہم سے وجہ پوچھی تو ہم ان کو بھی مطمئن کر دیا شاہ زیب کا زبردست پلان کا میسج آیا۔۔۔
وہ میرے اور شاہد کے علاوہ واحد بندہ تھا جس کو اصل بات کی سمجھ اگئی تھی۔۔۔
شاہد میرے ساتھ ہی کالج سے نکلا کیوں کہ اس کے بعد وہاں کوئی خاص بات نہ ہوئی۔۔۔
شاہد نے مجھے گھر چھوڑا اور خود چلا گیا میں نے کھانا کھایا اور کچھ دیر سو گیا سو کر اٹھا کھانا کھایا اور ٹیوشن چلا گیا ۔۔۔
پرویز صاحب نے وہاں بھی مجھ سے جاننے کی کوشش کی لیکن میں نے بس ویسا ہی جواب دیا ۔۔۔
وہ مجھے سمجھاتے رہے اس طرح طاقت کم ہو جائے گی یہ غلطی نہ کرو اپنی صفحوں میں اتحاد رکھو ورنہ دشمن کو سرنگ بنانے کا موقع مل جائے گا۔۔۔
میں نے ان کی باتوں کا کوئی خاص جواب نہ دیا بس منہ لٹکائے بیٹھا رہا کیوں کہ میری اور شاہد کی جو بات ہوئی تھی اس میں یہ طے ہوا تھا کہ یہ بات کسی تیسرے کو پتہ نہیں چلنی چاہئیے۔۔۔
ٹیوشن کے بعد گھر آیا کھانا کھایا اور کچھ دیر پڑھنے کی اداکاری کی اور سو گیا آج چھا ہاشم گھر نہیں آئے تھے۔۔۔
صبح اٹھا اور سیر کے لیے گیا آج پتہ نہیں کیوں لن بیٹھ ہی نہیں رہا تھا کافی دور تک واک کرتا ہوا گیا۔۔۔
کھیتوں میں نکل گیا تھا وہاں ایک ٹیوب ویل پر نہایا اردگرد کسی کو نہ پا کر میں نے ٹراوزر اتار دیا تھا ۔۔۔
ایک دم ننگا ہو کر نہانے لگا ٹیوب ویل آبادی سے کافی دور تھا اور کھلا کھیت تھا ۔۔۔
میں ابھی نہا ہی رہا تھا کہ کھیت میں سے ایک سانولی سی لڑکی اور ایک ہٹا کٹا مرد نکلے گندم کا کھیت تھا وہ کیسے نکل آئے وہاں سے میرے لیے یہ سوچنے کی بات نہیں تھی۔۔۔
جب وہ باہر نکلے تو میں ٹیوب ویل کے تالاب میں سے نکل رہا تھا میرا لن سیدھا اکڑا کھڑا تھا۔۔۔
اس لڑکی کی نظر مجھ پر پڑی پھر میرے لن پر ا سکی آنکھوں میں ایک چمک آئی میں نے جلدی سے ٹراؤزر کو اٹھایا اور تالاب میں کھڑے کھڑے پہننے لگا۔۔۔
لڑکی کی آنکھوں میں پیاس مجھے واضح نظر آئی صبح کی چدائی نے شاید اس شانت نہیں کیا تھا۔۔۔
ان کے قریب آنے سے پہلے میں ٹراؤزر پہن چکا تھا میں باہر نکلا تو بھی لن ٹراؤزر میں تنا کھڑا تھا۔۔۔
میں نے اپنی شرٹ اٹھائی اور پہن لی تب تک وہ مرد بھی مجھے دیکھ چکا تھا اس نے حیرت سے مجھے دیکھا اور رعب دار آواز میں بولا اوہ کاکے تو کون ہے۔۔۔
میں نے کہا میں بس سیر کرتا کرتا یہاں پہنچ گیا ٹیوب ویل دیکھا تو نہانے لگ گیا شہر میں رہتا ہوں۔۔۔
اس نے میری ٹانگوں میں دیکھتے ہوئے کہا اچھا ٹھیک ہے کیا کرتا ہے۔۔۔
میں نے اس کو بتایا کہ میں پڑھتا ہوں کالج میں گیارہویں میں۔۔۔
اس نے کہا اچھا میرا پتر وی کالج پڑھدا اے آ جا کاکے تجھے لسی پلاتا ہوں ۔۔۔
اس نے لڑکی کو کچھ کہا وہ وہاں سے نکل گئی لسی کا سن کر میرے منہ میں پانی آگیا ایسا لگ رہا تھا جیسے لسی پئیے صدیاں گزر گئی ہوں۔۔۔
ا س لڑکی کو دیکھ کر مجھے چھنو کی یاد آگئی گاؤں میں گزارے پل یاد آنے لگے کتنا اچھا وقت گزرا تھا وہاں۔۔۔۔
چھنو کی بیباکی اس کی میرے لیے محبت وہ میری سیکس استاد تھی اس نے مجھے تب سیکس کرنا سکھایا تھا جب میں فارغ بھی نہیں ہوتا تھا۔۔۔
پہلی دفعہ میرے لن کا پانی بھی اس نے نکالا تھا یہ سوچ کر میرا لن اور تن گیا تھا وہ آدمی جس کی عمر لگ بھگ چالیس سال بہت ملنسار لگ رہا تھا۔۔۔
وہ مجھے بڑے پیار سے ڈیل کر رہا تھا ویسے یہ تو ہم پینڈو لوگوں کے خون میں شامل ہے ہر ایک سے پیار سے ملنا مہمان نوازی ہماری رگوں میں خون کی طرح بہتی ہے ۔۔۔
اس نے لسی کا گلاس چھنا بھر کر دیا میں ایک ہی گھونٹ میں پی گیا وہ ہنستے ہوئے بولا لگدا پت لسی بڑی پسند اے ۔۔۔
میں نے کہا ہاں جی بڑے دن ہو گئے لسی نہیں پی گاؤں میں تھا تو بہت پیتا تھا اب تو گاوص گئے بھی کافی دن ہو گیے ہیں۔۔۔
اس نے مجھ سے گاؤں کا نام پوچھا جب میں نے گاؤں کا نام بتایا تو اس نے میرے دادا اور چاچو کا نام لیا ۔۔۔
میں نے جب اس کو بتایا کہ انہیں کا لڑکا ہوں تو اس نے کھڑے ہو کر مجھے گلے لگایا اور ضد کرنے لگا کہ ناشتہ کرکے جانا ۔۔۔
لیکن میں نے کالج جانا تھا اس لیے اس سے اجازت لی اور گھر کی طرف واپس چل پڑا۔۔۔
آج وہاں کافی وقت لگ گیا تھا اس لیے رستے میں دل پشوری کرنے کی بجائے سیدھا گھر آیا نہا تو میں آیا تھا اس لیے بس ٹراؤزر بدلا جوگرز پہنے بیٹ اٹھایا اور کالج کے نکل پڑا ۔۔۔
آج ہمارا میچ ہونا تھا جس سے فیصلہ ہونا تھا اس لیے ایک نئے جوش سے کالج کے نکل پڑا۔۔۔
ریحان کے گھر کے سامنے مجھے ریحان مل گیا اس نے مجھے کہا سنا ہے کل تیری کالج میں لڑائی ہوئی ہے ۔۔۔
میں نے کہا ہاں سالے بہن چود بچ گئے ہیں لیکن اب ان کو چھوڑوں گا نہیں ۔۔۔
ریحان نے مجھے منع کرتے ہوئے کہا اس کی ضرورت نہیں ہے میں نے مما کو بتایا تھا مما نے مجھے کہا ہے تم کو روک دوں ۔۔۔
تم اپنی پڑھائی پر توجہ دو میں نے بھی لاہور داخلہ لے لیا ہے اب یہاں نہیں رہوں گا بس مما ہوں گی یہاں اور میری خالا کی بیٹی ہو گی ۔۔۔
میں نے کہا جو بھی ہو میں بدلا تو لوں گا میرے خون میں ڈرنا نہیں ہے ان سالوں کو کسی صورت معاف نہیں کروں گا۔۔۔
اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا دفع کر یار میرے ساتھ جو ہوا تم نے دیکھا ہے اب میں کسی کو بتا بھی نہیں سکتا اس کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔۔۔
میں نے دل میں کوئی ہزار گالی دی ہو گی اس کی اداکاری دیکھ کر سالا حرامی کمال لا اداکار تھا۔۔۔
میں وہاں سے کالج گیا کالج جاتے ہی ہمیں گراؤنڈ میں بلا لیا گیا میچ شروع ہوا۔۔۔۔
آج کا دن بھی ہمارا ثابت ہوا اور کم فائنل میں پہنچے بھی اور جیت بھی گئے ۔۔۔
ناصر اور ارشد کاشی گروپ کے ساتھ نظر آ رہے تھے آج تو مانی کے وہ ساتھی جو خاموش ہو گئے تھے یا نظر نہیں آ رہے تھے اور عابد باکسر کے ساتھ نظر آنے والے وہ بھی ان مے شانہ بشانہ تھے۔۔۔
ہم نے ان پر کوئی دھیان نہ دیا میچ جیت کر ہم نے خوب ہلا گلا کیا اور کینٹین میں جا کر سب نے مٹھائی کھائی۔۔۔
ہم نے فیصلہ کیا کہ آج ٹیوشن کی چھٹی کریں گے پرویز صاحب نے بھی آج چھٹی دے دی ۔۔۔
آج پھر پرویز صاحب کو تھانے بلایا گیا تھا ہم سب ان کے ساتھ تھانے گئے ان سے سوال جواب ہوئے تھانے دار نے مجھے بھی سوال جواب کیے۔۔۔
مانی کا فیصلہ ہونے میں ہی نہیں آ رہا تھا عابد باکسر ان کہ حراست میں تھا مانی ہسپتال سے گھر آگیا تھا۔۔۔
دو دن بعد عدالت میں پیش تھی اس لیے کیس کو مکمل کرنے کے لیے تھانے دار پوری تیاری کر رہا تھا۔۔۔
ویسے کھا تو وک پیسے ہی رہا تھا جدھر سے بھی کھا رہا تھا میرے مطابق وہ دونوں طرف سے کھا رہا تھا۔۔۔
تھانے میں کافی وقت گزر گیا ہمیں پتہ ہی نہ چلا کب عصر ہو گئی ہم وہاں سے فارغ ہو کر اپنے اپنے گھروں کی طرف چل دئیے۔۔۔
گھر آ کر کھانا کھایا اور آج اتنے دنوں بعد اس وقت گھر تھا تو سوچا کیوں نہ گراؤنڈ کا ہی چکر لگا لوں ۔۔۔
گراؤنڈ گیا سب دوستوں سے ملا سب سے مل کر بڑی خوشی ہوئی میرا آج کھیلنے کا دل نہیں تھا پھر بھی کھیلنے لگا۔۔۔
ایک ہی میچ کھیلا اور بیٹھ کر دیکھنے لگا ایک طرف باؤنڈری کے پاس بیٹھ گیا تھا۔۔۔
جس جگہ میں بیٹھا تھا وہاں سے مارکیٹ میں پوری نظر پڑتی تھی میں ایسے ہی ہر آنے جانے والے کو تک رہا تھا۔۔۔
میرے پاس سے تہمینہ گزری اس نے کھانس کر مجھے اپنی طرف متوجہ کیا آنکھوں سے اشارہ کیا اس نے ایک بچے کو اٹھایا ہوا تھا ایک کی انگلی پکڑی ہوئی تھی۔۔۔
میں اس کا اشارہ نہ سمجھ سکا پھر سے گراؤنڈ کی طرف متوجہ ہو گیا وہ مارکیٹ سے واپس آئی تو بھی اس نے آنکھ سے مجھے اشارہ کیا ۔۔۔
میں ا سکے اشارے کا مطلب سمجھ گیا اس لیے اس کے گزرنے کے دو منٹ بعد اٹھ کر گھوم کر دوسری طرف سے اس کے آگے پہنچ گیا۔۔۔
اس نے مجھے دیکھ لیا اور آہستہ چلتے ہوئے میرے پاس آئی ادھر ادھر دیکھتے ہوئے پوچھا اتنے دن کہان رہے ہو۔۔۔
میں نے کہا بس کالج جاتا ہوں وقت کی نہیں ملتا ۔۔۔
اس نے کہا جس کے لیے تم چکر لگاتے تھے وہ پوچھ رہی تھی اس نے کہا تھا جب نظر آؤ تو اس کو بتا دوں ۔۔۔
تم گھوم کر ایک منٹ بعد ہمارے دروازے کے پاس سے گزرنا میں اس کو بتا دوں گی جو وہ کہے گی وہ تم کو بتا دوں گی۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے اور میں وہاں سے واپس چل پڑا ایسے کی ایک چکر کاٹ کر بلوچ ہاوس کی طرف چل پڑا ۔۔۔
گلی میں داخل ہوتے ہی مجھے ٹیرس میں چکمتا چہرہ نظر آیا جس کی نظروں کا محور میں ہی تھا۔۔۔
میں اوپر نظر اٹھائے دیکھتا آگے بڑھ رہا تھا اس خوبصورت چہرے کی چمک میں کھو سا گیا تھا۔۔۔
جیسے ہی ان کے گھر کے قریب پہنچا مجھے ایک آنٹی نے روک لیا اس کی آنکھوں میں غصہ تھا۔۔۔
میں آنٹی کی آنکھوں میں غصہ دیکھ کر ڈرتے ڈرتے رک گیا یہ وہ ہی آنٹی تھی جس نے مجھے دائی کی سانولی سلونی لڑکی کی چدائی کرکے نکلتے ہوئے دیکھا تھا یہ صرف میرا خیال تھا ۔۔۔
میں جیسے ہی رکا اس نے بڑی گہری نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا تم لگتے تو اچھے گھر کے ہو پھر سن نوکرانیوں اور چھوٹی ذات کی لڑکیوں کے پیچھے کیوں اپنا وقت برباد کرتے ہو۔۔۔
میں کوئی جواب نہ دے سکا صرف سر جھکا لیا اس نے پھر کہا دیکھو یہ جو کام کرنے والی ہوتی ہیں ناں ان میں سے زیادہ تر کسی ایسے ہی لڑکے یا مرد کی تلاش میں رہتی ہیں جو ان کو اچھے سے کھلا پلا سکے ۔۔۔
تم جوان ہو خوبصورت ہو اچھے گھرانے کے ہو تمہیں بس یہ چھی چھی۔۔۔ مجھے بولتے ہوئے بھی گھن آ رہی ہے وہ لڑکی جو دائی کی بیٹی ہے ہر وقت میلی کچیلی پھرتی رہتی ہے اس کے ساتھ بھی ۔۔۔
تمہیں کوئی اور نہیں ملی تھی بس اب یہ ہی رہ گئی تھی کیا مجھے آنٹی کی غصے میں کہی گئی اس بات سے حوصلہ ملا کہ یہ مجھے کچھ نہیں کہے گی ۔۔۔
میں نے کہا وہ جی کیا کروں بس اور کوئی ملتی ہی نہیں۔۔۔
اس کا لہجہ ایک دم غصیلہ ہو گیا پہلے بھی غصے میں تھی میری یہ بات سن کر تو اس کی آواز درشتگی بھی آگئی ۔۔۔
اس نے تیز لہجے میں کہا شرم تو نہیں آتی یہ سب کہتے ہوئے کوئی ملتی ہی نہیں اگر نہیں ملتی تو ایسے کی کسی کے پیچھے بھاگتے رہو گے۔۔۔
میں اس کی باتوں اور لہجے کے تال میل میں الجھ گیا تھا وہ کہنا کیا چاہ رہی تھی اگر ڈانٹنا تھا تو سیدھی طرح ڈانٹتی یہ کیا کہہ رہی تھی نہ ادھر کی نہ ادھر کی بس بیچ میں ہی لٹکا رہی تھی ۔۔۔
ایک طرف ڈانٹ رہی تھی تو دوسری طرف مجھے کوئی اشارہ دے رہی تھی اب وہ کہنا کیا چاہ رہی تھی میں یہ جاننا چاہتا تھا۔۔۔
اسی وقت کسی گھر کا دروازہ کھلنے کی آواز آئی اس نے چلتے ہوئے کہا کل جب صبح واک کے لیے یہاں گزرو تو میرے گھر کے سامنے سے گزرنا ۔۔۔
وہ تو یہ کہہ کر چلی گئی لیکن میرا سارا کام خراب کر گئی کیونکہ جس مقصد کے لیے آیا تھا وہ تو کھوہ کھاتے میں ڈال گئی ۔۔۔
میں مرے قدموں سے واپس مڑنے لگا تو مجھے تہمینہ کی آواز سنائی دی وہ ڈرائنگ روم کا دروازہ تھوڑا سا کھول کر کھڑی تھی۔۔۔
میں نے پہلی اقساط میں بلوچ ہاؤس کا سٹرکچر بتایا تھا ۔۔۔
میں نے اس طرف دیکھا تو اس نے ایک کاغذ کا ٹکڑا باہر میری طرف پھینکا میں نے وہ اٹھایا اور واپس چل دیا۔۔۔۔
میرے ساتھ اکثر ایسا ہی ہوتا تھا جس مقصد کے لیے جاتا تھا وہ نہیں ہوتا تھا کوئی اور نیا کھاتہ کھل جاتا تھا۔۔۔
میں وہاں سے واپس گراؤنڈ میں آنے کی بجائے گھر چلا گیا گھر میں داخل ہوا تو اس کاغذ کے رقعے کا خیال آیا میں وہ کھول کر پڑھا تو اس میں بڑی خوبصورت لکھائی میں چند سطور لکھی ہوئی تھیں۔۔۔
آداب عرض ہے:
مجھے آپ کا نام نہ تو تہمینہ نے بتایا اور نہ ہی میں جانتی ہوں تہمینہ بتاتی بھی کیسے اس کو بھی آپ کا نام معلوم نہیں ۔۔۔
اس نے مجھے آپ کی میرے لیے چاہت کا بتایا جس کا اندازہ مجھے پہلے سے ہی تھا آپ جب مجھے دیکھتے ہیں تو مجھے اچھا لگتا ہے۔۔۔
ہمارے گھر کا ماحول ایسا ہے کہ کسی مرد سے بھی بات کرنے کی اجازت نہیں ہے مجھے پانچویں کے بعد سکول بھی نہیں جانے دیا گیا ۔۔۔
ہمارے خاندان میں لڑکیوں کے پڑھنے لکھنے کو معیوب سمجھا جاتا ہے ۔۔۔
میں اگر اپنے خاندان کے بارے میں لکھنے بیٹھوں گی تو بات لمبی ہو جائے گی اور کاغذ کم پڑ جائے گا۔۔۔
آپ کی میرے لیے الفت مجھے پسند آئی شروع شروع میں تو میں نے غور نہیں کیا میں چھپ جاتی تھی پھر جب آپ روز گزرنے لگے تو غیر محسوس انداز میں آپ کے لیے دل میں جذبات پیدا ہونے لگے۔۔۔
میں آپ کے گزرنے کا وقت نوٹ کرنے لگی کبھی کبھی تو چھپ کر آپ کو دیکھتی تھی۔۔۔
جب آپ مڑ مڑ کر دیکھتے تھے آپ کی متلاشی نگاہوں نے میرے دل میں پیار کی چنگاری جلا دی۔۔۔
چھوٹی سی چنگاری آپ شعلہ بن چکی ہے باقی جب مجھے تہمینہ نے آپ کی بات مجھ تک پہنچائی تو مجھ سے برداشت نہ ہوا۔۔۔
میں جو اب تک خود پر قابو رکھے ہوئے تھی آپ کے کچھ دن نہ آنے کی وجہ سے ہمت ہار گئی ۔۔۔
میرے دل میں آپ کے لیے پیار ہی پیار ہے یہ دل صرف آپ کے لیے دھڑکتا ہے اگر آپ کے دل میں بھی میرے لیے اتنی ہی شدت کا پیار ہے جو کہ یقیناً ہے تو آج رات 9بجے آپ کو ہماری بیٹھک کا دروازہ کھلا ملے گا ۔۔۔
آپ آ جانا میں آپ سے ملنے کو بیقرار ہوں آپ کے ساتھ اپنے دل کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرنا چاہتی ہوں۔۔۔
فقط آپ کی۔۔۔۔
حسنہ۔۔۔۔
خط پڑھ کر کافی دیر تو میں صرف اس کو دیکھتا رہا کیا ایسا بھی کو سکتا ہے وہ بھی مجھے چاہتی ہو ۔۔۔
مجھے اس خط میں لکھے گئے الفاظ پر یقین نہیں آرہا تھا شروع سے آخر تک ایک بار پھر پڑھا مجھے الفاظ میں تال میل نہ ملا۔۔۔
میں سوچنے لگا کہ جاؤں یا نہ جاؤں یہ ہی سوچتے سوچتے رات ہو گئی امی جی کھانا دیا میں نے کھانا کھایا اور ٹی وی پر آج الف نون آجا تھا اس کا انتظار کرنے لگا۔۔۔
لیکن مجھے ٹی وی دیکھنے کا موقع کم ہی ملتا تھا کیونکہ خبروں کا چینل ہی زیادہ چلتا تھا اس لیے میں اٹھ کر اپنے حجرے یعنی بیٹھک میں آگیا۔۔۔
ایک بار اسی بارے میں سوچنے لگا جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا میں الجھتا جا رہا تھا جب آٹھ بج کر تیس منٹ ہوئے تو میں نے فیصلہ کیا کہ جاتا ہوں جو ہو گا دیکھا جائے گا۔۔۔
میں اٹھ کر واش روم گیا بال صاف کیے کیونکہ کافی دن ہو گئے تھے بال صاف نہیں کیے تھے وقت ہی نہیں مل رہا تھا۔۔۔
تیل سے لوڑے کو اچھے طرح مالش کرکے چمکایا نہا کر تازہ دم ہوا اور باہر نکل کر بال شال بنانے کے بعد باہر نکل گیا ۔۔۔
مجھے باہر جا کر خیال آیا کہ اگر وہاں دیر ہو گئی تو ابا جی سے ڈانٹ پڑے گی اس لیے واپس آیا بیٹھک کی لائٹ بند کی اندر سے کنڈی کھولی اور باہر سے لگا کر نکل گیا۔۔۔
ٹائم نو بجنے میں صرف تین منٹ رہ گئے تھے اس لیے میں مارکیٹ والی سائیڈ کی بجائے دوسرے رستے سے گیا کیونکہ مارکیٹ پر اکثر کوئی نہ کوئی مل جاتا تھا میری سوچ تھی کہ اگر کوئی مل گیا تو اس کے پاس رکنا پڑے گا۔۔۔
میں جیسے ہی ان کی گلی میں داخل ہوا تو میرے دل کی دھڑکن ایک دم بڑھ گئی میں کوئی پہلی بار کسی سے ملنے نہیں جا رہا تھا جو ایسا ہو۔۔۔
یہاں معاملہ کچھ الگ تھا ایک ایسی لڑکی تھی جس کے لیے میں جوان ہونے سے پہلے سے چکر کاٹ رہا تھا آج اس کی طرف سے بلاوہ آیا تھا ۔۔۔
میں دھڑکتے دل لڑکھڑاتی ٹانگوں سے چلتا ہوا ان کے گھر کی طرف بڑھ رہا تھا ہلکی سی آواز سے بھی میں کانپ اٹھتا تھا۔۔۔۔
دائیں بائیں ایسے دیکھ رہا تھا جیسے دیواریں بھی مجھے ہی دیکھ رہی ہوں۔۔۔
گلی میں ایک طرف سے ایک آدمی داخل ہوا اور تیز تیز چلتا ہوا میری طرف آنے لگا میرا سانس اس کو دیکھ کر رکنے لگا ۔۔۔
اس کا اندازہ ایسا تھا کہ جیسے وہ میرے ہی انتظار میں تھا مجھے آتا دیکھ کر کہیں سے نکل کر میری طرف بڑھ رہا ہے ۔۔۔
میں نے دل میں سوچ لیا کہ لے بھئی بلو اج تیری خیر نہیں آہ بندہ تینوں نہیں چھڈ دا۔۔
وہ میری طرف بڑھتا آرہا تھا میری ٹانگیں کانپ رہی تھیں مجھ سے چلنا محال ہو گیا میں رک کر دائیں بائیں دیکھتا پھر چل پڑتا وہ آدمی میرے قریب سے قریب ہوتا گیا۔۔۔
فاصلہ اتنا رہ گیا کہ میں اس کا چہرہ اچھے سے دیکھ سکتا تھا اس نے ایک نظر مجھ پر ڈالی پھر سیدھا دیکھنے لگا میرے قریب آ کر چلتے ہوئے ہی اس نے پوچھا مارکیٹ پر دوکانیں کھلی ہیں۔۔۔
میں ہکلاتے ہوئے بس اتنا ہی کہا جی۔۔۔
اس نے کوئی جواب نہ دیا اور میرے پاس سے گزر گیا ۔۔۔
میں خود پر لعنت ملامت کرتا آگے بڑھ گیا جیسے ہی ان کے گھر کے قریب پہنچا میں نے دائیں بائیں دیکھا اور تیزی سے ان کی بیٹھ کا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا۔۔۔
اندر اندھیرا تھا لائیٹ بند تھی ذرہ سی بھی روشنی کہیں سے نہیں آ رہی تھی میں اندازے سے چلتا ہوا صوفے تک پہنچ گیا۔۔۔
میں ایک بار یہاں آچکا تھا اس لیے کچھ اندازہ تھا یہ تو شکر تھا کہ سیٹنگ ویسی کی تھی ورنہ یہاں بھی گڑ بڑ ہو جانی تھی۔۔۔
میں نے اندر بیٹھ کر انتظار شروع کر دیا اتنا سناٹا تھا کہ مجھے اپنے دل کے دھڑکنے کی آواز بھی سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔
مجھے وہاں بیٹھے کافی دیر ہو گئی تھی لیکن کوئی نہ آیا اور نہ ہی کسی کے آنے کا کوئی اشارہ ملا۔۔۔
لیکن مجھے وہاں بیٹھنے کا یہ فائدہ ہوا کہ میری آنکھیں اندھیرے میں دیکھنے کے قابل ہو گئیں۔۔۔
کافی دیر بعد دروازہ کھلنے اور بند ہونے کی آواز آئی ایک ہیولہ کمرے میں داخل ہوا اور دروازہ بند کرکے وہیں کھڑا ہو گیا ۔۔۔
ہیولے کو دیکھ کر میں یہ تو سمجھ گیا کہ وہ زنانہ ہے لیکن مجھے بولنا چاہیے یا نہیں اسی تذبذب میں تھا۔۔۔
ہیولہ آہستہ آہستہ میری طرف آنے لگا میری دھڑکن پھر سے تیز ہونے لگی ۔۔۔