میں اگر ایک بار دن کی روشنی میں آ کر کمرے میں اندھیرا ہونے کے باوجود آسانی سے چل پھر سکتا تھا تو جو کر گھر کا رہنا والا ہو اس کے لیے تو بہت زیادہ آسانی تھی۔۔۔
وہ لڑکی یا عورت جو بھی تھی بڑی آسانی سے چلتی ہوئی صوفے پر آئی اور ہاتھ سے ٹٹولتے ہوئے بیٹھ گئی۔۔۔
چند لمحے بیٹھنے کے جب بالکل خاموشی ہو گئی تو سانس کی آوازیں آنے لگیں۔۔۔
اس نے ہلکا سا گلا کھنکار کر کہا آ گئے ہو میں آواز سن کر یہ تو سمجھ گیا کہ وہ تہمینہ ہے ۔۔۔
میں نے کہا ہاں میں تو کافی دیر کا آیا ہوا ہوں اور یہاں بیٹھ کر پریشان ہو رہا ہوں۔۔۔
وہ کھسک کر میرے قریب ہوئی اور آہستہ آواز میں بولی گھر میں سب لوگ جاگ رہے تھے ابھی بھی یقین نہیں ہے کہ سب سو گئے ہیں اسی لیے دیر ہو گئی تھی میں تو ڈرتے ڈرتے اس لیے آگئی کہ کہیں تم واپس نہ چلے جاؤ۔۔۔
میں ہممم کیا اور پھر لمبی خاموشی چھا گئی یہ خاموشی میری ہواس پر سوار ہونے لگی۔۔۔
تہمینہ تھوڑا اور کھسک کر میرے قریب آئی اور بولی جب تک وہ نہیں آتی ہمارے پاس وقت ہے کچھ کر نہ لیں۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں کوئی جواب دیتا اس نے خود ہی اپنا ہاتھ میرے لن پر رکھ دیا اور دبانے لگی۔۔۔
میں نے ڈھیلا ڈھالا ٹراؤزر پہنا ہوا تھا لن جو ماحول کی سنگینی دیکھ کر اور میرے اندر پیدا ہونے والے ڈر کی وجہ سے سویا ہوا تھا ۔۔۔
تہمینہ کے گرم ہاتھ لگنے سے سر اٹھانے لگا لن کو دباتے ہوئے اس نے اپنے ممے میرے بازو سے لگا دئیے اور میرے چہرے پر ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔۔
جہاں ہونٹ پہنچے وہاں سے چومنے لگی اس کی سانسیں گرم تھیں اس گرمی سے اور ہاتھوں کی محنت سے لن جلد کی کھڑا ہو گیا۔۔۔۔
وہ اٹھ کر میری گود میں آگئی اور میرے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑی اپنی پھدی کو لن کے اوپر رکھ کر ہل ہل کر اپنے ممے میرے سینے سے رگڑتے ہوئے پھدی کو لن پر رگڑتے ہوئے ہونٹ چومنے لگی۔۔۔
اس نے اپنے دونوں ہاتھوں سے میرا سر پکڑ لیا میرے ہاتھ بھی اس کی گانڈ کے نیچے آگئے اس کی گوشت سے بھری گانڈ بڑے بڑے ممے مزا دینے لگے۔۔۔
میں بھی اس کا ساتھ دینے لگا میرے ذہن پر اس وقت بس پھدی سوار ہونے لگی تھی جس سے ملنا تھا اس کا خیال کہیں پیچھے رہ گیا ۔۔۔۔
تین چار دن سے پھدی نے ملنے کی وجہ لن بھی اکڑ دکھا رہا تھا کپڑے پھاڑ کر پھدی میں گھسنے کے لیے اتاولا ہو رہا تھا۔۔۔
میرا ایک ہاتھ گانڈ کے نیچے رہا دوسرے کو میں نے اس کے بڑے بڑے مموں میں سے ایک ممے پر رکھا اور مما زور زور سے دبانے لگا۔۔۔
ممے پر ہاتھ جاتے ہی وہ جوش سے ہونٹ چوسنے لگی اس کے انداز سے ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ لن لینے کے لیے بہت زیادہ تڑپ رہی ہو۔۔۔۔
پانچ منٹ تک ایسے کی کھیلتے رہے اس کے بعد وہ پیچھے ہوئی اور اپنی شلوار اتار کر میرا ٹراؤزر نیچے کرنے لگی۔۔۔
ٹراؤزر گھٹنوں تک کرنے کے بعد وہ میری گود میں پھر سے آگئی اور میرے ہونٹ چوسنے لگی۔۔۔
ساتھ ہی ایک ہاتھ نیچے لے جا کر لن پکڑ کر پھدی پر رگڑنے لگی اس کی پھدی پانی سے بھری ہوئی تھی ۔۔۔
لن کی ٹوپی جب پھدی کے لبوں میں گھستی ہوئی اوپر کی طرف جاتی تو سارے لن پر پانی لگ جاتا۔۔۔
لن کو اپنی پھدی کے پانی سے چکنا کرنے کے بعد اس نے پھدی کو لن پر سیٹ کیا اور آہستہ آہستہ پھدی کو لن کر دبانے لگی۔۔۔
لن پھدی میں اترنے لگا ٹوپی سے تھوڑا آگے تک اندر گیا وہ وہ لمبے لمبے سانس لیتے ہوئے رک گئی۔۔۔
اوپر ہو کر تھوڑا باہر نکالا پھر نیچے بیٹھنے لگی ایسے کرتے کرتے آدھا لن پھدی میں اتر گیا۔۔۔۔
میں نے اس کی قمیض کو اطراف سے پکڑ کر اوپر کیا اور ممے باہر نکال لیے۔۔۔
ایک ممے کو ہاتھ دبانے لگا دوسرے کے نپل کو دانتوں میں لے کر کھینچنے لگا اس کے اتنے بڑے ممے ہاتھ میں نہیں آرہے تھے۔۔۔
مموں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کے اثر یہ ہوا کہ وہ ایک دم پاگل ہو گئی اس نے تیز تیز لن پر اچھلتے ہوئے چند ہی سیکنڈز میں سارا لن پھدی میں غائب کر لیا۔۔۔۔
اس کے بعد ممے صرف میرے ہاتھ میں رہ گئے منہ تک لے جانے کا موقع ہی نہیں مل رہا تھا ۔۔۔
وہ تیزی تیزی سے لن پر اٹھک بیٹھک کرنے لگی پھدی مسلسل پانی بہانے لگی پتہ پھدی میں لن آخری بار کب گیا ہوگا۔۔۔۔
مجھے اس کا یوں اچھل اچھل کر لن پر بیٹھنا اچھا لگ رہا تھا۔۔۔
تہمینہ نے میرے سر کو اپنے بازو کے حصار میں لیا میرا منہ اس کے مموں کے درمیان آگیا ۔۔۔
اس کی اچھلنے کی سپیڈ تیز ہو چکی تھی اس کی سینے کی دھک دھک مجھے واضح سنائی دے رہی تھی۔۔۔۔
ایسے ایسے ہی اچھلتے اچھلتے اس نے اپنی پھدی سے پانی بہا دیا جو کہ میرے لن سے ہوتا ہوا نیچے میرے گانڈ تک جا پہنچا ۔۔۔
صوفہ بھی اس جگہ سے گیلا ہو گیا تھا جہاں میں بیٹھا ہوا تھا تہمینہ نے آہستہ آواز میں کہا جتنا مزہ تمہارا یہ اتنا موٹا لمبا دیتا ہے دل کرتا ہے اس کو اپنے اندر ہی رہنے دوں۔۔۔۔
میں نے اس کے کان میں کہا میرا کیا موٹا لمبا ہے اور تمہاری کس میں رکھنے کو تمہارا دل کرتا ہے۔۔۔
وہ میری نقل اتارتے ہوئے میرے انداز میں بولی تمہارا لن موٹا اور لمبا ہے میری پھدی اس کی عاشق ہو گئی ہے یہ چاہتی ہے تمہارا گھوڑے جیسا لن اس کے اندر ہی گھسا رہے۔۔۔۔
یہ کہہ کر اس نے زور سے میرا سر اپنے مموں کر دبا لیا ۔۔۔
تہمینہ تو فارغ ہو چکی تھی لیکن میں ابھی بہت دور تھا اس لیے میں نے نیچے سے اپنی گانڈ اٹھا کر ایک گھسا مارا ۔۔۔
تہمینہ نے سرگوشی کرتے ہوئے کہا میں ابھی اندر کی صورتحال دیکھ کر آتی ہوں۔۔۔
یہ بھی دیکھ کر آ تی ہوں باجی ہنی آ رہی کہ نہیں اس نے مجھے اس لیے بھیجا تھا کہ میں تمہیں یہاں بیٹھا کر اس کو بتا دوں۔۔۔
لیکن میں تمہارے لن کو لیے بغیر نہیں رہ سکی میں ابھی دیکھ کر آتی ہوں اور ہاں ساتھ واش روم کے تم اپنا وہ دھو لو ۔۔۔
وہ میری گود سے اتر گئی میرا اکڑا ہوا لن اس بات کو نہیں مان رہا تھا لیکن کیا کر سکتا تھا۔۔۔
اس نے شاید اپنی شلوار ٹھیک کر لی تھی اسی لیے میرا ہاتھ پکڑ کر ایک دروازے کے پاس لے گئی ۔۔۔
دروازہ کھول کر کہا یہ واش روم ہے ایک بٹن دبا کر اس نے لائٹ آن کر دی اندر زور کا بلب جل اٹھا۔۔۔
اتنے اندھیرے میں زیرو کا بلب بھی پانچ سو واٹ کے برابر تھا۔۔۔
میں نے لن کو دھویا کلی وغیرہ کی اپنے چہرے کو بھی دھو لیا اور تولیے سے منہ صاف کرکے باہر آ گیا۔۔۔۔
باہر آیا تو وہاں موجود میز پر ایک موم بتی طرز کی کا لیمپ جل رہا تھا جس کہ روشنی ماحول میں رومانچک بنا رہہ تھی۔۔۔
روشنی میں مجھے ایک حسین چہرہ اپنی روشنی بکھیرتا نظر آیا میری آنکھیں اس حسین مورت کے حسین و جمیل چہرے پر ٹھہر سی گئیں۔۔۔
میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کے پاس گیا وہ بھی کھڑی میری طرف دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں بھی پیار کے جگنو جگمگا رہے تھے۔۔۔
میں نے اس کے قریب پہنچ کر اپنا ہاتھ اس کی طرف بڑھایا ہماری آنکھیں ایک دوسرے کی آنکھوں میں جم چکی تھیں۔۔۔
ہم آنکھوں کے ذریعے باتیں کر رہے تھے وہ اپنے پیار کا اظہار کر رہی تھی میں اس کے پیار کو قبول کر رہا تھا۔۔۔۔
میرا لن اس کے چہرے کی خوبصورتی دیکھ کر پھدی کا تصور کر رہا تھا اور پھڑ پھڑا رہا تھا۔۔۔
اس نے آگے ہاتھ بڑھایا میرے کھردرے ہاتھ میں اس کے کومل سا ہاتھ آیا میرے اندر تک ایک نرماہٹ بکھر گئی۔۔۔
اس کی نازک کلائی پر میرا انگوٹھا تھا ایسا لگ رہا تھا جیسے میرے ہاتھ میں برفی کی ڈلی ہو۔۔۔
میں نے ہاتھ کو اوپر اٹھایا آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ہاتھ کو اپنے ہونٹوں کے قریب لا کر چوم لیا ۔۔۔
اس کا رنگ ایک دم بدل گیا شرم کی لال چادر اس کے چہرے پر بکھر گئی آنکھیں جھک گئیں ہونٹوں پر شرمیلی مسکراہٹ آ گئی۔۔۔۔
میں اس کے چہرے کے بدلتے تاثرات ہونٹوں کی کپکپاہٹ دیکھ رہا تھا اس کے کی لرزش محسوس کر رہا تھا۔۔۔۔
میں نے ایک قدم آگے بڑھا کر اس کے کندھوں کو دونوں طرف دے اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور مجھے میرے سب جاننے والے بلو کہتے ہیں ۔۔۔
میں جانتا ہوں تم اس وقت گبھرا رہی ہو ان سے کون گھبراتا ہے جن سے پیار کیا جاتا ہے ۔۔۔
میں جانتا ہوں ہنی تم بہت ڈر رہی ہو لیکن یہ بھی تو دیکھو میں کتنے سالوں سے تمہارے پیار کی ایک بوند کو ترس رہا ہوں ۔۔۔
میرے دل کا سمندر اب تک صحرا بن چکا ہوتا اگر کبھی کبھی تمہاری دید سے اس پر بارش کی بند بوندیں نہ گرتیں۔۔۔
تمہاری ایک جھلک کے لیے میں اس گلی میں کتنے چکر لگایا کرتا تھا تم سوچ بھی نہیں سکتی۔۔۔
اس کے لب پھڑپھڑائے جیسے کوئل کا بچہ اپنی پہلی پرواز کے لیے پروں کو پھڑ پھڑا کر خود تسلی دیتا ہے کہ میں اڑ سکتا ہوں ۔۔۔
اس نے لب وا کیے پہلا لفظ جو اس کے منہ سے نکلا وہ تھا لو یو۔۔۔۔
میں اس کی سریلی آواز دلنشین انداز اس مدھم روشنی میں بھی سرخ ہونٹوں سے نکلے ان الفاظ پر فدا ہو گیا ۔۔۔
میں اپنے جذبات پر قابو نہ رکھ سکا اور اس کے نشیلے ہونٹ چوم لیے اس کے نے اپنے دونوں ہاتھ میرےسینے پر رکھ دئیے۔۔۔
تین چار سیکنڈ کے اس کس میں میرے اندر نشہ و سرور دونوں بھر گئے۔۔۔
میں نے اپنا منہ پیچھے کیا تو وہ آنکھیں کھولے مجھے دیکھ رہی تھی ان آنکھوں میں جگمگاتے موتی کیا کچھ نہیں کہہ رہے تھے پیار کا اظہار الفاظ سے زیادہ انداز سے ہو تو انسان کو اندر سے سرشار کر دیتا ہے۔۔۔
حسنہ بھی اس سرشاری میں آنکھوں میں پیار کے موتی جگائے مجھے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
میں ایک قدم پیچھے ہوا اس کے کندھے سے ہاتھ ہٹا لیے اس کے سامنے کھڑا ہو کر اس کو پیار بھری نظروں سے دیکھنے لگا۔۔۔
وہ شرما گئی آنکھیں جھکا کر اپنے دوپٹے کو انگلیوں سے مروڑنے لگی۔۔۔
میں بازو پھیلائے اس نے اپنی پلکوں کی جھالریں اٹھائیں پھر شرما کر پردے گرا لیے ۔۔۔
میں ویسے ہی مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا وہ ایک قدم آگے بڑھی اور میری کمر کے گرد بازو پھیلا کر میری باہوں میں سما گئی۔۔۔
اس کے جسم کا لمس میرے اندر سکون پھیلا گیا میرے دماغ سے پھدی پھک کر کے اڑ گئی۔۔۔
ہم ایک دوسرے کی باہوں میں سما کر سرگوشیوں میں باتیں کرنے لگے۔۔۔
آہستہ آہستہ چلتے ہوئے لیمپ کے سامنے صوفے پر بیٹھ گئے۔۔۔
وہ میرے ساتھ چپک کر کندھے پر سر رکھ بیٹھی میرا بازو اس کی کمر کے گرد تھا ۔۔۔
ہم ایک دوسرے سے وعدہ کرنے لگے پیار کا اظہار ہونے لگا۔۔۔
ہم نے عہدو پیمان کیے ایک دوسرے کا ساتھ نبھانے کی قمسیں کھائیں ۔۔۔
ایک عاشق اور معشوق کے درمیان ہونے والی ساری گفتگو کی ۔۔۔
وقت گزرنے کا احساس ہی نہ ہوا اس کا سر میری گود میں آگیا تھا۔۔۔
میں جھک کر اس کی پیشانی چوم رہا تھا وہ میری چہرے پر اپنی مرمریں انگلیاں پھیر کر میرے چہرے کا سکیچ آنکھوں سے سکین کر رہی تھی۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ میری گود میں بیٹھی میری گردن کے گرد اپنا ایک بازو پھیلائے تھی۔۔۔
میرا ہاتھ اس کے گیسوؤں سے کھیل رہا تھا اس کے گالوں کو چھوتی ایک آوارہ لٹ کو لپیٹ رہا تھا۔۔۔
اس نے اپنے کپکپاتے ہوئے ہونٹ میرے گال پر رکھ دئیے ۔۔۔
جواب میں میں نے بھی اس کے سرخ تپتے انار جیسے گال چوم لیے۔۔۔
وہ شرما گئی اور دونوں بازو میرے گردن کے گرد لپیٹ کر میرا منہ اپنے سینے سے لگا لیا۔۔۔
اس سینے کے جانباز ابھاروں سے اٹھتی شہوانی مہک میرے نتھنوں میں سے ہوتی ہوئی دماغ پر چھانے لگی۔۔۔
میرے اندر شیطان نے انگڑائی لی لن سے چھیڑ خانی کرنے لگا میں لمبی سانس اندر کھینچ کر اس حسن ماہ جبیں کے ابھاروں سے پر شہوت مہک کو اندر اتارنے لگا۔۔۔
وہ ایک ٹانگیں کرکے میری گود میں بیٹھی تھی کافی دیر سے بیٹھی تھی لیکن مجھے اس کی گانڈ کا احساس تک نہیں تھا۔۔۔
اب ایک دم سے لن پر گانڈ کی نرمی محسوس ہونے لگی اس کے بازو بھی مجھے دبانے لگے تھے ۔۔۔
لن گانڈ پر چبھ رہا تھا لن کو گانڈ کی نرمی اچھی لگ رہی تھی۔۔۔
میرے ہاتھ حسنہ کی ملائم کمر پر پھرنے لگے وہ بھی گانڈ کو دبانے لگی۔۔۔
میں پرستان کی پری کو اپنی گود میں بٹھانے کے احساسات کا شکار ہو رہا تھا۔۔۔
حسنہ نے ویسے ہی بیٹھے بیٹھے اپنی گردن کو پیچھے کیا میں چہرہ اوپر کی طرف کیا ۔۔۔
اس کا چہرہ لال سرخ ہو چکا تھا اس نے جھک کر میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے ۔۔۔
میں نے کمر کو پکڑ کر اسے گھمایا وہ میرے دائیں بائیں ٹانگیں رکھ کر گود میں عین لن کے اوپر بیٹھ گئی ۔۔۔
لن لمبا ہو کر پھدی کو رگڑتے ہوئے پیٹ کی طرف ہو گیا ۔۔۔
اس کی منہ سی تیز سانس نکلی ہمارے لب آپس میں لبم لبا ہو گئے۔۔۔
اب وہ تھوڑا تھواڑ ہل رہی تھی جس سے لن پھدی کو چھو رہا تھا۔۔۔
اس نے زور زور سے ہونٹ چوسنے شروع کر دئیے مجھے اپنے ساتھ کسنے لگی۔۔۔
اس کا جوش دیدنی تھا تیز تیز سانس لیتے ہوئے وہ مسلسل میرے ہونٹ چوس رہی تھی ۔۔۔
اس کی پھدی بھی مسلسل لن سے رگڑ کھا رہی تھی یکدم اس نے میرے ہونٹوں کو کاٹتے ہوئے کہا۔۔۔
جانو مجھے کچھ ہو رہا ہے میری جان نکل رہی ہے میرے ہاتھ پاوں سن ہو رہے ہیں۔۔۔
اتنا کہہ کر اس نے میرے ہونٹ چھوڑے اور اپنا سر میرے کندھے پر رکھ دیا ۔۔۔
جسم نے ہلکے ہلکے جھٹکے کھائے وہ اٹھ اٹھ کر گود میں گری ایک بار تو لن اس کی گانڈ کے نیچے دب گیا تھا۔۔۔
کچھ ہی لمحوں میں وہ پر سکون ہو گئی اور اس کا سانسوں کی آواز کمرے میں گونجنے لگی۔۔۔
میں نے اس کو پیچھے کرنے کی کوشش کی تو اس نے ہممم نہ کرو کہا۔۔۔
میں نے پیار سے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرا اور کہا کچھ نہیں ہوا ہنی ۔۔۔
میرے منہ سے ہنی سن کر وہ ایک دم پیچھے ہوئے ۔۔۔
حیرانی سے میری طرف دیکھنے لگی پھر اپنے لب کھولے اور سریلی مدھ بھری آواز میں گویا ہوئی۔۔۔
میرا یہ نام کیسے پتہ ہے ۔۔۔
میں نے بھی اسی کے انداز میں کہا جن سے پیار کیا جاتا ہے ان کے بارے میں جاننے کے لیے انسان سب حدیں پار کر جاتا ہے۔۔۔
وہ مسکرانے لگی اور کہا مجھے پتہ ہے کس نے بتایا ہے۔۔۔
میں نے پوچھا کس نے بتایا ہے تو اس نے کہا اور کس نے بتانا ہے وہی تہمینہ نے بتایا ہوگا۔۔۔
میں نے نہ میں سر ہلاتے ہوئے کہا نہ جی ۔۔۔
اس نے پوچھا پھر کیسے پتہ چلا۔۔۔
میں نے کہا بس پتہ چل ہی گیا۔۔۔
بڑے پیار سے میرے گال پر ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ میری گود سے اتر کر میرے ساتھ بیٹھ گئی اور بولی مجھے پتہ نہیں کیا ہو گیا تھا اور ساتھ کی شرماتے ہوئے سر جھکا لیا۔۔۔
میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اپنے دونوں میں ہاتھوں میں لے کر کہا جو بھی ہوا اچھا ہوا ۔۔۔
کیا اس احساس سے تمہیں کوفت ہوئی یا برا لگا۔۔۔
اس نے نہ میں سر ہلایا اور بولی برا تو نہیں لگا لیکن کچھ ایسا ہوا جو بتاتے ہوئے مجھے شرم آ رہی ہے۔۔۔
میں نے چھیڑتے ہوئے کہا کیا ہوا مجھے نہہں بتاؤ گی۔۔۔
جواب دینے کی بجائے اس نے میرے کندھے میں منہ چھپا لیا اور بولی ایسی باتیں نہ کرو مجھے شرم آتی ہے۔۔۔
میں سمجھ چکا تھا کہ وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے ۔۔۔
اس نے بعد میں جب ہم ساری حدیں پار چکے تھے ایک دن مجھے وہ سب بتا دیا تھا ۔۔۔
اس نے بتایا تھا کہ اس کو ایسا لگا جیسے اس کا پیشاب نکل گیا ہو۔۔۔
ہوا کیا ہو گا وہ بتانے کی مجھے ضرورت نہیں ہے وہ آپ سب بھائی سمجھ سکتے ہیں۔۔۔
ایسے ہی کچھ دیر ہم بیٹھے رہے پھر اس نے کہا جانو کافی وقت ہو گیا کوئی اٹھ نہ جائے اب تم جاؤ۔۔۔
میں نے اس کو بیٹھے بیٹھے ہی گلے سے لگا لیا اور کہا مگر میرا دل نہیں کر رہا۔۔۔
اس نے بڑے پیار سے کہا ہم پھر ملیں گے ناں میں بتا دوں گی ہو سکتا ہے کل سب گھر والے جائیں۔۔۔
میں نے کہا سچی سب جائیں گے ۔۔۔
اس نے ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
پھر بولی میری ماموں کے سسرال میں شادی ہے اور امی نے لازمی جانا ہے ایسی جگہوں پر ہمارے خاندان والے بیٹیوں کو لے کر نہیں جاتے اگر مجھے چلنے کا کہا بھی تو میں انکار کر دوں گی۔۔۔
میں نے کہا مجھے کیسے پتہ چلے گا کہ گھر پر کوئی نہیں ہے۔۔۔
اس نے کہا میں تہمینہ کو بھیج کر پیغام پہنچا دوں گی۔۔۔
میں ایسا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا تھا اس لیے میں نے اس کو اپنا نمبر لکھ کر دے دیا۔۔۔
ساتھ بھی بھی تاکید کی کہ جب گھر والے چلے جائیں مجھے فون کرنا اور ہاں زیادہ فون نہ کرنا نہیں تو جب بیل آئے گا گڑ بڑ ہو جائے گی۔۔۔
وہ میری بات سمجھ گئی اس نے کہا ٹھیک ہے میں نہ چاہتے ہوئے بھی کھڑا ہوا۔۔۔
وہ بھی میرا ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہو گئی ہم ایک دوسرے کے سامنے کھڑے آنکھوں میں آنکھیں ڈالے دیکھنے لگے۔۔۔
اس کے ہاتھ میں میرے نمبر والی پرچی تھی میں نے وہ پرچی پکڑی اور اس کو اپنے گلے سے لگا کر بڑے پیار سے اس کے مموں کے درمیان برا میں رکھ دی ۔۔۔
ساتھ ہی میں نے ہاتھ سے ممے کو ہلکا سا دبا دیا ۔۔۔
ابھی ہم الگ ہی ہوئے تھے کہ اندر والی سائیڈ والا دروازہ ایک دم کھلا جس کے کھلنے کی آواز سن کر ہم بوکھلا گئے۔۔