گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 59)

جب ہم ڈیرے کے بالکل قریب پہنچ گئے تو دیکھا کہ ڈیرے کا دروازہ گیٹ کھلا ہے لیکن کوئی بندہ نظر نہیں آرہا۔۔۔

ہم نے وین میں بیٹھے بیٹھے ہی اپنے چہروں کو ڈھانپ لیا تھا کپڑے تو ہم رستے میں بدل چکے تھے ۔۔۔

اس وقت میں ہم کسی گینگ کا حصہ لگ رہے تھے یہ سارا انتظام اس لیے تھا کہ پرویز صاحب کو چھڑوانے کے بعد کوئی ہم پر شک نہ کرے۔۔۔

ہم نے وین سے نکلتے ہی اپنے اپنے ہتھیار سنبھال لیے اور گیٹ سے ایک طرف ہو کر انڈر جھانکنے لگے۔۔۔

دو لڑکوں کو پیچھے والی سائیڈ پر بھیج دیا اور دو کو وہیں روک دیا ۔۔۔

ہم کل آٹھ لوگ تھے باقی چار ہم اندر بڑھنے لگے۔۔۔

جیسے ہی ہم گیٹ سے اندر داخل ہوئے تو سامنے جیپ کھڑی نظر آئی یہ وہی کالی جیپ تھی جو شاہ کی گلی سے نکل رہی تھی۔۔۔

بڑی تیزی سے ہم ڈیرے کے برآمدے میں پہنچ گئے۔۔۔

ڈیرے میں ایک ترتیب سے کمرے بنے ہوئے تھے سامنے دو کمرے میں تھے درمیان والی جگہ خالی تھی جہاں موڑھے پڑے ہوئے تھے۔۔۔

ان کے سامنے ایک لمبا برآمدہ تھا ان کمروں کے دروازے برآمدے میں نظر نہیں آ رہے تھے۔۔۔

ہم نے برآمدے سے جھانک کے دونوں کمروں کے درمیان والی خالی جگہ جھانکا تو ہمیں دروازے نظر آ گئے۔۔۔

دو ہی کمرے تھے لیکن دوسری طرف بھی ویسا ہی سین تھا اس طرف بھی گیٹ لگا ہوا تھا ۔۔۔

وہ گیٹ بند تھا ہم وہیں کھڑے تھے کہ سامنے والے گیٹ سے ہمارے دوسرے دونوں ساتھیوں نے اندر چھلانگیں لگا دیں۔۔۔

ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر ایک ساتھ دونوں کمروں میں گھس گئے۔۔۔

جس کمرے میں شاہد اور میں داخل ہوئے وہاں سامنے دو آدمی بیٹھے تھے اور شاہ کو انہوں نے نشانے پر رکھا ہوا تھا۔۔۔

جیسے ہی ہم داخل ہوئے وہ ایک دم اچھل کر کھڑے ہوئے ان کو امید نہیں تھی کہ کوئی ان تک پہنچ سکتا ہے۔۔۔

جیسے ہی وہ کھڑی ہوئے ہم ان کے سروں پر پہنچ چکے تھے میں نے ایک کے سر سے پستول لگایا ۔۔۔

دوسرے کو شاہد نے نیچے گرا کر قابو کر لیا تھا شاہد کے آنکھوں میں حیرانی تھی اس کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ کوئی اس کو چھڑوانے آ گیا ہے۔۔۔

دوسری طرف بھی کچھ ایسا ہی سین ہوا وہاں بھی دو لوگ تھے لیکن پرویز صاحب کو انہوں نے باندھا ہوا تھا۔۔۔

ہم نے ان لوگوں کو وہاں باندھا اور پرویز صاحب اور شاہ کو لے کر باہر نکل آئے۔۔۔

ڈیرے سے دور ہوتے ہی میں نے اپنے چہرے سٹ نقاب ہٹا لیا مجھے دیکھ کر پرویز صاحب بھی حیران رہ گئے ۔۔۔

وہ ابھی پریشان تھے ان کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ اب آزاد ہیں ۔۔۔

وہ اب تک یہ ہی سمجھ رہے تھے ایک گینگ سے دوسری کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔۔۔

جب ہم اس جگہ پہنچے جہاں بائیک چھپائی تھی میں شاہد اور پرویز صاحب وہاں اتر گئے۔۔۔

شاہ کو ان کے ساتھ بھیج دیا میں نے ان کو ہدایت کی شاہ کو گھر نہیں چھوڑنا جہاں میں کہوں وہاں چھوڑنا ہے۔۔۔

میں نے عاذب سے پوچھا اس نے بتا دیا کہ شاہ کی امی لوگوں کو کہاں چھوڑا ہے یہ پیغام شاہ کو لے جانے والوں کو پہنچا دیا۔۔۔

پرویز صاحب کا بھی اس کو بتا دیا لیکن احتجاج جاری رکھنے کا کہا تاکہ پولیس اور دارے خاں کے ساتھ ساتھ اچھی بھی ڈھونڈتا پھرے۔۔۔

پرویز صاحب کو ہم نے ناصر کے ٹیوب ویل پر رکھا ان کی خدمت کے لیے ایک لڑکا چھوڑ دیا۔۔۔

ہم بھی جا کر احتجاج میں شامل ہو گئے میں آج بڑا مطمئن تھا کہ دارے خاں کو چوٹ پہنچائی ہے ۔۔۔

کچھ نہ کچھ تو بدلا پورا ہوا۔۔۔

شام تک ہم نے احتجاج کیا لیکن کوئی سراغ نہ ملنے کا کہنے کی بجائے پولیس نے کہا ہم نے ٹریس کر لیا ہے کل صبح تک ہم پروفیسر صاحب کو بازیاب کروا لیں گے۔۔۔

ہم نے احتجاج ختم کیا لیکن عاذب کو بھی پرویز صاحب تک رسائی نہ دی۔۔۔

شاہ زیب نے مجھے بڑے فون کیے لیکن میں نے اس سے بات نہ کی۔۔۔

عاذب نے بھی مجھے کہا کہ شاہ زیب کا فون سن لو لیکن میں نے اس کو بھی انکار کیا۔۔۔

مجھے جہاں تک شک تھا شاہ زیب بھی بندہ ٹھیک نہیں ہے اس لیے اس کو بھی کسی کام کا علم نہ ہونے دیا تھا۔۔۔

شاہ زیب کا کافی اثرورسوخ تھا کالج کے پرانے سٹوڈنٹس پر اس لیے میں نے اپنا طریقہ اختیار کیا تھا۔۔۔

شاہ کو اس کی امی کے پاس پہنچا دیا گیا تھا جو دوسرے شہر چلی گئی تھی پرویز صاحب ہمارے پاس تھے۔۔۔

میں رات کو گھر آیا کسی کو کانوں کان خبر نہ تھی کہ آج کیا کچھ ہوا ہے۔۔۔

میں بڑا معصوم بن کر پڑھتا رہا اور سو گیا آج دوسرا دن تھا شانزل کی طرف نہیں گیا تھا ۔۔۔

صبح سو کر اٹھا سیر کے لیے جانے لگا تو مجھے ابا جی روک لیا پرویز صاحب کے بارے میں پوچھا۔۔۔

میں ابا جی کو بتایا کہ ابھی تک تو پولیس بھی کچھ پتہ نہیں لگا پائی۔۔۔

ابا جی کہا کیسا دور آگیا ہے اب لوگوں میں کوئی دید لحاظ ہی نہیں رہا ۔۔۔

پہلے اساتذہ کی ہر طرف عزت کی جاتی تھی اور اب استاد ہی اغوا ہونے لگے ہیں۔۔۔

ایسے لوگوں کو سر عام پھانسی دے دینی چاہئیے جو استاد کے ساتھ ایسا سلوک کرے۔۔۔

میرے دماغ میں ابا جی یہ بات بیٹھ گئی انہوں نے تو ایسے ہی سرسری سا کہا تھا لیکن میں نے اس بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔۔۔

ابا جی تو بات کرکے اندر چلے گئے لیکن میں سوچتا ہوا باہر نکل گیا ۔۔۔

آج میرا رخ سیدھا ناصر بلی کے ٹیوب ویل کی طرف تھا میں خلاف معمول تیز دوڑتا جا رہا تھا۔۔۔

میں ابھی ٹیوب ویل سے پیچھے ہی تھا کہ ا س دن والا بندہ میرے ساتھ شامل ہو گیا ۔۔۔

اس نے ہنستے ہوئے کہا یار تجھے ڈر نہیں لگتا اتنی چھوٹی سی عمر میں کیسے کام کرتے پھر رہے ہو۔۔۔

میں نے بھی اسی کے انداز میں جواب دیا اور آپ لوگ مجھ سے پہلے نہ پہچ سکے آپ جو یہ بات بری نہیں لگی۔۔۔

اس نے کہا کل تم نے آنا تھا نہیں آئے اب اگلے پیغام کا انتظار نہیں کرنا پڑے گا ہم بلائیں گے نہیں۔۔۔

وہ آگے بڑھ گیا اور اس نے جاتے جاتے کہا پروفیسر صاحب کو یہاں سے شفٹ کر دو آج ہی ۔۔۔

موبائل میری جیب میں تھا میں نے فوراً ناصر بلی کو فون کیا ۔۔۔

اس سے پوچھا کہاں ہو اس نے بتایا کہ وہ پرویز صاحب کا ناشتہ لے کر ان کے پاس آ گیا ہے۔۔۔

میں نے پوچھا اردگرد دیکھا تھا کوئی مسئلہ تو نہیں ہے یا کوئی مشکوک بندہ نظر آیا۔۔۔

اس نے کہا کافی لوگ سیر کے لیے ادھر آتے ہیں اس لیے غور نہیں کیا۔۔۔

میں نے اس کو کہا ابھی یہاں سے شفٹ کرنا ہوگا پروفیسر صاحب کو اور انہوں نے جو فارم لانے کا کہا تھا وہ لا دیا تھا۔۔۔

اس نے کہا ہاں وہ جمع بھی کروا دیا تھا کل ہی جب تک یہ خبر پھیلتی وہ فارم جمع ہو چکا تھا۔۔۔

اصل میں پرویز صاحب نے اپنا ٹرانسفر لاہور کروانے کے لیے اپلائی کرنا تھا وہ اب یہاں رہنا نہیں چاہ رہے تھے۔۔۔

ویسے بھی وہ اب یہاں کیوں نہیں رہنا چاہ رہے تھے اس کی وجہ بھی میں جانتا تھا۔۔۔

میں نے ناصر کو کہا میں کسی کو فون کرتا ہوں پرویز صاحب کو ہمارے گاؤں والی سائیڈ پر لے کر چلو۔۔۔

میں نے خاری سے رابطہ کیا جو ہمارے ساتھ والے گاؤں میں رہتا تھا اور کافی اثر رسوخ رکھتا تھا۔۔۔

گاؤں میں ان کا ڈیرہ بھی کافی بڑا تھا جس میں کئی کمرے تھے گاؤں میں کوئی ان کی مرضی کے خلاف نہیں جاتا تھا۔۔۔

اس کو پرویز صاحب کے بارے میں بتایا تو اس نے فوراً گاڑی لے کر آنے کا کہا ۔۔۔

میں نے اس کو لوکیشن سمجھا دی ناصر کو وہاں سے نکلنے کا کہا ۔۔۔

میں وہیں نہر کے کنارے ورزش کرنے لگا ٹیوب ویل کے قریب ہی رک گیا تھا۔۔۔

وہاں سے میں وہاں نظر رکھنے لگا مجھے ایک مشکوک شخص نظر آیا جو بار بار ٹیوب ویل کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔

میں نے ناصر کو اس کے بارے میں بتایا اس نے کہا پریشان نہ ہو ابھی اس کا حل نکالتا ہوں۔۔۔

میں نے اس کو کہا جب میں کہوں تب کرنا جو بھی کرو اس نے کہا ٹھیک ہے ۔۔۔

پندرہ منٹ میں کی خاری کا فون آ گیا کہ وہ شہر کے قریب آ گیا میں نے اس کو بتایا کس طرف آنا ہے۔۔۔

خود ناصر کو کال کر دی کہ ایکشن کرو اسی وقت کئی طرف سے بندے کلہاڑیاں اور لاٹھیاں لے کر نکلے اور اس مشکوک شخص کی طرف دور پڑے وہ میری مخالف سمت بھاگ کھڑا ہوا اس کو سمجھ نہ آئی یہ سب کیا ہوا۔۔۔

اس کے ساتھ ہی دو اور لوگ بھی تیزی سے کھیتوں میں گھس گئے۔۔۔

میں اونچی جگہ کھڑا تھا مجھے وہ سب لوگ نظر آ رہے تھے میں نے میدان صاف دیکھا تو جلدی سے ٹیوب ویل پر بنے کمرے میں گیا پرویز صاحب تیار تھے ان کو ساتھ لیا اور نہر کے کنارے کے ساتھ ساتھ درختوں میں چھپتا ہوا پل کی طرف بڑھ گیا۔۔۔

ابھی پل سے تھوڑی دور ہی تھے کہ خاری گاڑی لے کر وہاں رکا میں نے اس کو پہچان ہی لیا۔۔۔

ہم جلدی سے آگے بڑھے پرویز صاحب گاڑی میں پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ گئے اور خاری نے گاڑی آگے بڑھا دی۔۔۔

نہ خاری رکا نہ میں رکا میں اسی طرح چلتا ہوا گھر گیا نہا کر فریش ہوا اور کالج کے لیے نکل پڑا۔۔۔

آج پھر کالج میں پڑھائی کا کوئی امکان نہیں تھا آج دوسرےشہروں میں بھی احتجاج ہونے لگے تھے۔۔۔

خبر دور دور تک پہنچ گئی تھی اب پولیس بھی کافی متحرک ہو چکی تھی۔۔۔

میں بھی احتجاج کرنے والوں کے ساتھ شامل تھا سارا دن احتجاج میں گزر گیا۔۔۔

شام کے قریب گھر آیا سارا شہر بند کر دیا تھا ہم نے بازار مارکیٹیں تک بند تھیں۔۔۔

شام کے قریب مجھے شاہ زیب کا فون آیا میں نے تیسری بار فون آنے کے بعد فون اٹھایا ۔۔۔

شاہ زیب بڑے اکھڑے لہجے میں کہا تم باز نہیں آؤ گے اب یہ کیا ڈرامہ کر رہے ہو۔۔۔

میں نے بھی تھوڑے سخت لہجے میں کیا ہوا ہے اب میں نے کیا کر دیا ہے ۔۔۔

اس نے پوچھا پرویز صاحب کو کہاں چھپایا ہے اور تم ان کو کیوں چھپا رہے ہو۔۔۔

میں نے کہا واہ آپ اس کا الزام بھی مجھ پر لگا دیں آپ کو کیا لگتا ہے میں اغواہ بھی کروانے لگا ہوں۔۔۔

اس نے کہا میرا وہ مطلب نہیں تھا۔۔۔

میں نے کہا کس نے اغوا کروایا ہے یہ تو آپ جانتے ہی ہوں گے اس کو میرا پیغام دے دو اب اس کی خیر نہیں۔۔۔

اس نے کہا کیا مطلب کس نے اغوا کروایا ہے ۔۔۔

میں نے کہا واہ اب آپ اتنے بھولے نہ بنیں آپ کو تو سب پتہ ہوتا ہے یہ بھی پتہ ہوگا۔۔۔

اس نے کوئی جواب نہ دیا تو میں نے کہا اچھی ڈوگر کے بندے تھے جنہوں نے اغوا کیا اور دوسری بات اغوا ایک نہیں دو ہوئے ہیں۔۔۔

دوسرا اغوا ہونے والا تو ہوا جو ہوا اس کی فیملی بھی غائب ہے ابھی اس کی ایف آئی آر بھی درج ہونے والی ہے۔۔۔

آپ کو یہ بھی پتہ ہو گا اچھی کو کس نے حکم دیا تھا یہ سب کرنے جیسے ریحان کا اغوا ہوا تھا یہ بھی ویسا ہی سین ہے ۔۔۔

شاہ زیب نے فون کاٹ دیا ظاہری بات تھی اس سے یہ سب برداشت نہیں ہو رہا تھا کہ کوئی اس حد تک جانتا ہو گا۔۔۔

خاری کا فون آیا اس نے پرویز صاحب سے بات کروائی پرویز صاحب نے بتایا کہ اس کی فیملی میں صرف اس کی بیوی تھی جو کچھ دن پہلے ہی لاہور شفٹ ہو گئی ہے اب وہ بھی وہاں جانا چاہتے ہیں۔۔۔

انہوں نے خاری پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا خاری نے کہا بلو کل تک ان کے ٹرانسفر کے آرڈر آ جائیں گے ۔۔۔

میں نے کہا ٹھیک ہے وہ آرڈر کسی طرح خود لے جانا اور پرویز صاحب کو دارے خان کی حویلی سے بازیاب کروانا ہے اس کے لیے مدد کی ضرورت ہے۔۔۔

خاری کو ساری بات سمجھا کر میں پر سکون ہو گیا اس کے بعد کھانا کھایا ۔۔۔

ابا جی پھر پوچھا کیا بنا کوئی پتہ چلا پرویز صاحب کا ۔۔۔

میں نے نہ میں سر ہلایا۔۔۔

شانزل کی امی نے دیوار سے امی کو کہا بلو کو بھیج دیں شانزل کو پڑھا دے۔۔۔

ہمسائے ہونے کا حق بھی ادا کرنا تھا اس لیے مجھے جانا پڑا اوپر سے امی کا پریشر بھی کم نہ تھا۔۔۔

شانزل کو پڑھانے کے لیے میں جب اس کی بیٹھک میں گیا تو وہاں اس کی امی بھی موجود تھی۔۔۔

شانزل نے مجھے مسکرا کر دیکھا میں اس کو پڑھانے لگا اس کی امی دروازہ کھلا چھوڑ کر باہر نکل گئی اس کا ہمیں فائدہ ہی تھا۔۔۔

شانزل نے اپنی امی کے نکلتے ہی مجھے آنکھ ماری اور ہنسنے لگی۔۔۔۔

میں بھی مسکرا دیا لیکن کوئی بات نہ کی ۔۔

شانزل نے کہا تم رات کو نہیں آئے تھے کل بھی نہیں آئے کیوں۔۔۔؟؟

میں کہا سارا دن کالج میں تھکا رہتا ہوں تمہیں تو پتہ ہمارے ایک پروفیسر اغوا ہو گئے ہیں تو اس لیے احتجاج کرتے ہیں رات کو لیٹتے ہی نیند آ جاتی ہے۔۔۔

شانزل نے کوئی بات نہ کی اور پوچھا آج رات کا کیا ارادہ ہے۔۔۔

میں نے کہا بھا ہاشم گھر ہے ۔۔۔

اس نے منہ بسور کر کہا ہاشم گاؤں ہی کیوں نہیں چلا جاتا پکا پکا۔۔۔

میں اس کی بات سن کر ہنسنے لگا پھر اس کی امی آ گئی۔۔۔

مجھے دودھ پلایا اور کوئی بات نہ ہو سکی۔۔۔

میں شانزل کو پڑھا کر واپس گھر آ گیا۔۔۔

اگلے دن صبح صبح ہی میں پڑا پر جوش تھا آج کا دن بڑا ہنگامہ خیز ہونے والا تھا یہ میرے سوا کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔

شاہد کو یہ تو پتہ تھا پرویز صاحب ہمارے پاس ہیں لیکن کہاں ہیں وہ نہیں جانتا تھا۔۔۔

پولیس نے کئی سٹوڈنٹس کو بھی شامل تفتیش کر لیا تھا جن سے پوچھ گچھ جاری تھی۔۔۔

عاذب نے اس کی بڑی مخالفت کی لیکن پولیس نے ان کو نہ چھوڑا ۔۔۔

ان میں کاشی ٹنڈے کے ساتھ چلنے والے لڑکے تھے لیکن ظاہری بات ہے دارے خاں ان سے مدد نہیں لے سکتا تھا اس لیے وہ کچھ نہیں جانتے تھے۔۔۔

میں کالج گیا میں اس انتظار میں تھا کہ خاری مجھے یہ پیغام دے کہ ٹرانسفر لیٹر اوکے ہو گیا ہے۔۔۔

ایسا اس لیے تھا کہ کہیں بعد میں وہ لوگ پرویز صاحب کو نقصان نہ پہنچا دیں جس سے ان کا ٹرانسفر رک جائے یا کوئی اثر و رسوخ استعمال کرکے رکوا لیں۔۔۔

اس سے پہلے میں نے اپنے خیر خواہ سے رابطہ کیا۔۔۔

اس نے مجھے بلوایا میں اس سے ملا اس نے مجھے کہا اب دارے خاں کو پھنسانے کا وقت آگیا ہے۔۔۔

اس کے کئی اڈے بے نقاب ہو چکے ہیں باقیوں کی تفصیلات ہمیں دے دو ۔۔۔

اصل میں یہ وہی لوگ تھے جو مجھ سے رابطہ کرنا چاہ رہے تھے یہ ایک خفیہ آپریشن پر کام کر رہے تھے ۔۔۔

جس میں منشیات فروشوں کی سرکوبی تھی اس سلسلے میں ان کو میری مدد درکار تھی۔۔۔

میں نے ان کو پرویز صاحب کی تیار کردہ فائل دینے کا وعدہ کیا لیکن ساتھ ہی پرویز صاحب کو دارے خاں کے ڈیرے سے بازیاب کروانے کا بھی کہا۔۔۔

انہوں نے میری ڈیمانڈ مان لی ہمارا وقت طے ہو گیا۔۔۔

میں نے خاری کو ساری بات سمجھائی اور دارے خاں کے اڈے پر اپنے اس دوست سے رابطہ کیا جو ناصر کے ریفرینس سے آیا تھا۔۔۔

اس کے ذریعے ہم نے پرویز صاحب کو دارے خاں کے ڈیرے کے ایک کمرے میں پہنچا دیا۔۔۔

اس کے بعد میں نے ان خفیہ پولیس والوں کو انفارم کیا اور ساتھ ہی میڈیا والوں کو بھی فون کر دیا کہ پولیس آج بہت بڑا آپیرشن کرنے جا رہی ہے۔۔۔

اس کے بعد میں نے وہ فائل لی اور اس آپریشن کرنے والوں کے ہیڈ کو دے دی جس نے میرے سامنے پولیس کو فون کرکے ہائی الرٹ کا پیغام دیا اور ایک بھاری نفری کے ساتھ جانے کا کہا۔۔۔

اب اگلے ایک گھنٹے میں وہ سب ہونے والا تھا جس کا کبھی دارے خاں نے بھی تصور نہیں کیا ہوگا۔۔۔

کبھی کبھی وہ سب نہیں ہوتا جس کی ہم منصوبہ بندی کرتے ہیں ۔۔۔

میں کالج کے لڑکوں کے ساتھ احتجاج میں شامل تھا یکدم پولیس کی بھاری نفری آ گئی میں ان لوگوں میں شامل تھا جو سب سے آگے تھے۔۔۔

پولیس نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے سب ادھر ادھر بھاگے میں بھی ناک پر ہاتھ رکھ کر ایک طرف کو دوڑ پڑا۔۔۔

کسی نے مجھے دبوچ لیا اور میرے بازو پکڑے اسی وقت میرے ناک پر رومال لگا اس کے مجھے ہوش سے بیگانہ ہوتا گیا۔۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ بندہ جو سوچتا ہے وہ سب نہیں ہو سکتا۔۔۔۔

میری ساری پلاننگ مجھے بے ہوش ہوتے ہوئے خراب ہوتی محسوس ہونے لگی۔۔۔

مجھے کوئی ہوش نہ رہا جب کسی نے مجھے پکڑا تھا تو اسی وقت مجھے شک ہو گیا تھا کہ کوئی گڑ بڑ ہونے والی ہے۔۔۔

لیکن میں تب کچھ نہیں کر سکتا تھا شور سنائی دے رہا تھا ہر طرف افرا تفری کا عالم تھا کسی میری آواز کہا سننی تھی۔۔۔

مجھے جب ہوش آیا تو میں ایک کمرے میں چارپائی پر بندھا ہوا تھا کمرے میں اندھیرا تھا اتنا زیادہ اندھیرا تھا کہ آنکھوں کو کچھ سجھائی نہیں دے رہاتھا۔۔۔

خالی کمرے میں مجھے باندھا گیا تھا کب سے بندھا ہوا تھا کوئی خبر نہ تھی ۔۔۔

کمرے میں مکمل اندھیرا تھا آنکھ کو کچھ سجھائی نہ دے رہا تھا ۔۔۔

میں نے ہاتھ پاؤں چلانے کی کوشش کی لیکن کچھ نہ بن پڑا۔۔۔

خود کو حالات کے دھارے چھوڑ دیا اور آنے والے وقت کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔

میں نے کہا کچھ پلان کیا تھا کیسے کیسے ہونا تھا وہ سب ہوا ہو گا کہ نہیں مجھے سب سے زیادہ پرویز صاحب کی فکر تھی بہت بڑا رسک لیا تھا ۔۔۔

اگر تھوڑی سی بھی گڑ بڑ ہو گئی ہوئی تو سارے کا سارا معاملہ الٹ سکتا تھا اس لیے میں نے جو اگلا پلان بنایا تھا وہ صرف ایک بندہ جانتا تھا ۔۔۔

وہ بندہ جو دارے خان کی حویلی میں تھا اگر کسی وجہ سے ہمارا پلان فیل ہوتا تو وہ پرویز صاحب کو وہاں سے نکال لاتا۔۔۔

جیسے جیسے وقت گزر رہا تھا میری پریشانی بڑھتی جا رہی تھی لیکن وقت تھا کہ گزرنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔

پتہ نہیں کتنا وقت گزر چکا تھا جب سے میں یہاں قید تھا ۔۔۔

وقت گزرتا رہا میں وہاں بندھا رہا بھوک سے بھی میرا برا حال ہو چکا تھا ۔۔۔

اب تو جسم بھی درد کرنے لگا تھا جسم کے ہر حصے سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں ۔۔۔

جس نے بھی باندھا تھا بڑا کس کے باندھا تھا ۔۔۔

یکدم باہر کھٹ پٹ کی آوازیں آنے لگیں جیسے کوئی کچھ دھونڈ رہا ہوں۔۔۔

میرا منہ بھی باندھا ہوا تھا پتہ نہیں سالوں نے مجھ سے کیا بدلہ لینا تھا۔۔۔

باہر آنے والی آوازیں سن کر مجھے کچھ حوصلہ ہوا کہ کوئی تو آئے گا ۔۔۔

اتنا گھپ اندھیرا تھا کہ مجھے اندھیرے میں بھی کئی سائے لہراتے نظر آنے لگتے تھے۔۔۔

پھر وہ آوازیں آنا بند ہو گئیں مجھے ڈر کے ساتھ ساتھ پریشانی بھی ہونے لگی تھی۔۔۔

میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ اگر یہ دارے خاں کے لوگوں کا کام ہے تو پھر برا پھنس گیا ہوں۔۔۔

کیونکہ پولیس نے چھاپا مارا ہو گا اور سب لوگ پکڑے جا چکے ہوں گے یا بھاگ گئے ہوں تو میں یہاں پھنس کر رہ جاؤں گا۔۔۔

مجھے چھوڑنے والا کوئی نہیں ہوگا اور باہر والوں کو میرا علم نہیں ہو گا ۔۔۔

میرا گلا خشک ہو چکا تھا میں تو کھانس بھی نہیں پا رہا تھا سالوں نے میرے میں کپڑا ٹھونس کر باندھا ہوا تھا۔۔۔

میں بھوک سے نڈھال ہوگیا بھوک کے معاملے میں میری حالت بہت خراب تھی بھوک لگتے ہی میرے سر میں درد شروع ہو جاتی تھی۔۔۔

سر پھٹنے لگتا تھا جسم میں جان کپکپی طاری ہو جاتی تھی اگر دیر ہو جائے تو مجھے ایسا لگتا جیسے میں مر جاؤں گا۔۔۔

ابھی بھی کچھ ایسا ہی ہونے لگا تھا جسم کانپ رہا تھا اس ہلکی ہلکی لرزش سے جس چارپائی پر میں بندھا تھا اس کی چیں چیں کی آواز آنے لگی۔۔۔

میں نے اپنا سارا زور مجتمع کیا اور ہلنا شروع کر دیا۔۔۔

چارپائی سے اچھی خاصی آواز پیدا ہونے لگی میں نے ہلنا جاری رکھا۔۔۔

مجھے اندازہ نہیں تھا کہ باہر کون ہے لیکن میں ایک امید کی خاطر ایسا کر رہا تھا کہ جو بھی ہو کم از کم مجھے کچھ تو سہارا ملے گا۔۔۔

کافی دیر ایسا کرنے کے بعد بھی جب کوئی ہلچل نہ ہوئی تو مجھے اپنی امید ٹوٹتی ہوئی نظر آنے لگی۔۔۔

میں نے ہمت نہ ہاری اور مسلسل لگا رہا یہ الگ بات تھی کہ اب وہ طاقت باقی نہ رہی تھی۔۔۔

جب میرا جسم ٹوٹنے لگا میری بس ہو گئی تو میں رک گیا۔۔۔

میں بالکل نا امید ہو چکا تھا کہ کوئی اندر آنے گا۔۔۔

اب مجھے سو فیصد یقین ہو گیا تھا کہ یہ ک دارے خاں کے بندوں کا ہے اور وہ یہاں سے بھاگ گئے ہیں یا پکڑ جا چکے ہیں۔۔۔

میں ذہن طرح طرح کے وسوسے آنے لگے تھے کہ میں بس یہاں ہی تڑپ تڑپ کر مر جاؤں گا وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔

مجھے ہلنے سے رکے ابھی دو منٹ ہی ہوئے ہوں گے کہ دروازہ ہلکا سا کھلا باہر سے ہلکی ہلکی روشنی کی لہریں اندر آئیں۔۔۔

اس کے بعد روشنی کے ساتھ ایک سایہ بھی اندر کی طرف آیا اور دروازے میں ہی رک گیا۔۔۔

میں آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے کی کوشش کر رہا تھا لیکن اندھیرے میں ککھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔

کچھ دیر بعد بڑی دھیمی سے سہمی سی آواز سنائی دی کون؟؟

میں صرف ہل سکتا تھا لیکن میں نے پھر بھی کوشش کی کہ کچھ بول سکوں۔۔۔

اب پتہ نہیں اس کو اندر آنے والے کو میری بے بسی کا پتہ یا نہ چلا لیکن وہ اندر آ گیا۔۔۔

ایک بار ڈری سہمی سی آواز آئی ککون ککون ہو؟؟

آواز مجھے جانی پہچانی لگی اور کسی لڑکی کی آواز تھی جو بڑی سہمی ہوئی لگ رہی تھی۔۔۔

میں نے پھر ہل کر اوں اوں آں کی آواز نکالی اب کی بار شاید اس کو پتہ چل گیا کہ میں بندھا ہوا ہوں۔۔۔

وہ میرے قریب آئی اور بڑی آہستہ آواز میں بولی میں منہ کھولنے لگی ہوں شور نہ کرنا نہیں تو ہم دونوں مارے جائیں گے۔۔۔

میں چپ رہا تو اس نے خود ہی سمجھ لیا کہ میں اس کی بات سمجھ گیا ۔۔۔

لیکن میں تو یہ سوچ کر حیران ہو رہا تھا کہ یہ یہاں کیسے آ گئی اس کو کون یہاں لے آیا۔۔۔۔

یہ ہنی تھی ہنی خان بلوچ اس کی آواز میرے کانوں پر ہتھوڑے کی طرح لگی۔۔۔

اب سوچنے کی بات یہ تھی کہ مجھے کس نے اٹھایا اور کس لیے اٹھایا اور ہنی کو کس نے اغوا کیا ہوگا۔۔۔

میں اپنی الجھنوں میں پھنس رہا تھا کہاں کہاں کب کب کیا ہو جاتا ہے انسان اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔۔۔

مجھے ہاشم ندیم کے ایک ناول کی ایک سطر یاد آگئی جب جب جو جو ہونا ہوتا ہے تب تب سو سو ہو کر رہتا ہے۔۔۔

اگر میں نے مصنف کا نام غلط استعمال کر لیا ہو تو میری اصلاح کر دینا۔۔۔

میرے ساتھ بھی قسمت کچھ ایسے ہی کھیل کھیل رہی تھی۔۔۔

کہاں میں اپنی منصوبہ بندی کے ذریعے دارے خاں اور اس کے ساتھیوں کو پھنسا رہا تھا ۔۔۔

کہاں میں خود کہیں پھنسا ہوا تھا اور میرے ساتھ ایک انتہائی حسین و جمیل لڑکی بھی قید تھی۔۔۔

وہ لڑکی جس کے پیچھے میں نے جوانی میں قدم رکھتے ہی چکر کاٹنے شروع کر دئیے تھے۔۔۔

جب اس سے راہ رسم بڑھنے لگے تو وہ غائب ہو گئی تھی۔۔۔

اتنے عرصے بعد وہ یہاں اس حالت میں مل جائے گی مجھے نہیں پتہ تھا۔۔۔

خیر جب اس نے میرا منہ کھولا تو لمبی سانس لے کر اپنے جبڑے کو ہلا کر چیک کیا کہ سب سلامت ہے۔۔۔

پھر میں نے بڑی آہستہ آواز میں کہا ہنی ہو۔۔۔

اس نے اسی طرح سہمی ہوئی آواز میں پیچھے ہٹتے ہوئے کہا تم کون ہو۔۔۔

میں ہنسا اور بولا ڈر کیوں گئی ہو میں ہوں میں کیا میری آواز سے نہیں پہچان سکتی۔۔۔

وہ میرے پاس آئی اور حیرانی اور خوشی کے امتزاج بھرے لہجے میں بولی تم یہاں کیسے۔۔۔

میں اس بندھی حالت میں ہنس پڑا اور کہنے لگا بس دیکھ لو تم تک قسمت نے پہنچا ہی دیا۔۔۔

اس نے جلدی جلدی اندھیرے میں ٹٹولتے ہوئے میرے ہاتھ پاؤں کھولنے شروع کر دئیے۔۔۔

وہ نازک مزاج لڑکی تھی ایک گانٹھ کھولتے کھولتے اس کی بس ہو گئی لیکن اس نے میرا ہاتھ بازو کھول دیا تھا ۔۔۔

اس کے بعد میں نے خود ساری گانٹھیں کھول لیں جب میں خود سے کھول چکا تھا اس کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔

اس سے پوچھا پہلے یہ بتاؤ یہاں کیسے پھنسی ہو اور یہ جگہ کون سی ہے۔۔۔

اس نے ہنستے ہوئے کہا یہ میرا اپنا گھر میرے تایا کا گھر ہے اور مجھے اس نے قید کر رکھا ہے۔۔۔

میں تو یہاں اپنی خاندانی دشمنی کی وجہ سے قید ہوں لیکن تم یہاں کیسے۔۔۔۔۔

میں ہنستا ہوا بولا بس قسمت نے مجھے تم تک پہنچانا تھا اس لیے میں آج یہاں ہوں۔۔۔

میں نے اس سے پوچھا تمہارے تایا کا نام کیا ہے۔۔۔

اس نے جب نام بتایا تو میں سب سمجھ گیا کہ مجھے کس نے یہاں پھنکوایا ہے۔۔۔

وہ دارے خاں کی بھتیجی تھی اس کے والد بچپن میں ہی فوت ہو گئے تھے اس کی والدہ اور بڑا بھائی ہیں۔۔۔

دارے خاں اس کی شادی اپنے اکلوتےبیٹے سے کروانا چاہتے ہے جو انتہائی آوارہ اور زانی انسان ہے۔۔۔

اس کے علاوہ وہ منشیات کا دھندہ بھی اپنے باپ کے بل بوتے پر چلا رہا ہے۔۔۔

یہ ساری باتیں مجھے ہنی نے بتائیں اس نے کافی لمبی چوڑی تفصیل بتائی تھی لیکن میں ابھی اس تفصیل میں نہیں جانا چاہتا۔۔۔

وہ صرف اس کی شادی اپنے بیٹے سے نہیں کروانا چاہتا بلکہ اپنی نیم پاگل بیٹی کی شادی بھی ہنی کے بھائی سے کرنا چاہتا ہے۔۔

جب ان بہن بھائیوں نے انکار کیا تو اس نے ان کو اٹھوا لیا اور اس بھائی اور ماں کو منانے کے لیے ہنی کو اپنی حویلی کے تہہ خانے میں قید کر دیا۔۔۔

اس تہہ خانے کے دو رستے تھے کہ ایک رستہ جو حویلی میں ہی نکلتا تھا دوسرا رستہ حویلی کے پیچھے ان کے ڈیرے کے بند کمرے میں نکلتا تھا جس میں کاٹھ کباڑ بھرا ہوتا ہے۔۔۔

یہ بھی ہنی جانتی تھی اس کے بقول اس کے والد کو بھی دارے خاں نے قتل کروایا تھا وجہ صرف یہ تھی کہ اس کا ابا ایک پڑھا لکھا انسان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھا انسان بھی تھا۔۔۔

وہ دارے خاں کو ان گھٹیا کاموں سے روکتا تھا ایک دن جب دارے خاں نے کسی غریب کی بیٹی کا ریپ کیا اور اس کو تہہ خانے میں قید کر دیا تو ہنی کے والد سے برداشت نہ ہوا۔۔۔

وہ اپنے گھر والوں کو لے کر شہر چلا گیا نا صرف شہر چلا گیا بلکہ اپنے بھائی سے جھگڑا بھی مول لے لیا۔۔۔

دارے خاں کو یہ پسند نہیں تھا کہ کوئی اس کے خلاف آواز اٹھائے اس نے اپنے بھائی کو سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔

اس کے سمجھانے کا الٹا اثر ہو ایک ہی خون تھا ضد دونوں میں کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔۔۔

ہنی کے والد نے اس پر کیس کر دیا کیس تو دارے خان ثبوت نہ ہونے کی وجہ سے جیت گیا لیکن اس سے چار دن بعد ہنی کے والد کی لاش نہر میں ملی۔۔۔

تب سے یہ لوگ شہر میں رہ رہے تھے گاؤں میں ان کی جو زمین تھی اس کا کچھ حصہ ان کو دارے خاں نے دیا تھا جس سے یہ لوگ گزارا کر رہے تھے۔۔۔

ہنی کے بھائی نے اپنا کل بزنس شروع کر دیا تھا جس سے ان کا اچھا خاصہ گزارا ہو رہا تھا۔۔۔

پھر دارے خاں نے آ کر اہنی بھابھی یعنی ہنی کی امی سے اپنے رویے کی معافی مانگی ۔۔۔

جب اس کی امی نے معاف کر دیا تو وہ لوگ ایک بار پھر آنے جانے لگے۔۔۔

اس نے ساری زمین جو ان کے حصے کی تھی ان کو واپس کر دی اس کا لگان ان کو ملنے لگا ۔۔۔

پھر سے خوشحال زندگی گزارنے لگے لیکن یہ نہیں جانتے تھے کہ یہ سب کچھ وقتی ہے دارے خاں لمبی پلاننگ کیے بیٹھا ہے۔۔۔

اس نے ایک دن آ کر ہنی کی امی سے ہنی کے رشتے کی بات کی ہنی کی ماں ایک سمجھدار خاتون تھیں انہوں نے وقت مانگا ۔۔۔

لیکن جب یہ بات اس کے بھائی کو پتہ چلی تو اس نے گھر میں ہنگامہ کھڑا کر دیا۔۔۔

یہ لوگ نہیں جانتے تھے کہ ان کے گھر میں کام کرنے والے ملازم بھی دارے خان کے وفادار ہیں۔۔۔

دارے خان کو ایک ایک پل کی رپورٹ ملتی تھی دوسرے دن دارے خاں پھر پوچھنے آ گیا۔۔۔

جس پر ہنی کے بھائی کی اس سے تلخ کلامی ہو گئی اور بات بڑھ گئی۔۔۔

وہاں ہی دارے خاں نے اپنی بیٹی کے رشتے کی بھی بات کر دی اور ان کو دھمکایا بھی کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر سب کو گولی سے اڑوا دوں گا۔۔۔

اس کی امی نے راتوں رات گھر کو تالا لگایا سارے ملازموں کو چھٹی دی اور ہنی کو لے کر اپنے میکے چلی گئی۔۔۔

اس کے ننھیال فورٹ عباس کے بہت بڑے زمیندار تھے بارڈر کے ساتھ ساتھ ان کی کافی زمین تھی۔۔۔

وہ سمجھ رہی تھی کہ اس طرح سے وہ اپنی بیٹی کو بچا لے گی ۔۔۔

ہنی کا بھائی اپنی ضد پر اڑا رہا اس نے ساتھ چلنے سے انکار دیا تھا۔۔۔

اس نے دارے خاں پر ایف آئی آر درج کروا دی تھی اور لاہور ہائیکورٹ میں اس کے ناجائز دھندوں کے خلاف رٹ دائر کر دی۔۔۔

نتیجہ صفر نکلا دارے خاں نے اپنے ذرائع استعمال کرکے لاہور ہائیکورٹ سے رٹ خارج کروا دی۔۔۔۔

وہ کروا بھی سکتا تھا کیونکہ اس کی پارٹی اس وقت اقتدار میں تھی۔۔۔

اس کے بعد ہنی کا بھائی بھی اسلام آباد چلا گیا اس نے وہاں اپنا سارا کاروبار منتقل کر لیا۔۔۔

دارے خاں کچھ دن خاموش رہا اس کے بعد اس نے اپنے آدمیوں کے ذریعے ہنی کو اغوا کروا لیا۔۔۔

ہنی کو دس دن ہو گئے تھے اس تہہ خانے میں قید ہوئے یہ سب بتا کر ہنی زار و قطار رونے لگی۔۔۔

میں اب رسیوں سے آزاد ہو چکا تھا میں نے اس سے تہہ خانے کے متعلق ساری معلومات لیں اس نے بتایا کہ اس کے بارے میں صرف گھر کے لوگ اور کچھ پرانے وفادار ملازم جانتے ہیں۔۔۔

اس کو بھی ایک ملازمہ نے یہاں سے نکلنے کا رستہ بتایا تھا جو وہ جانتی ہے۔۔۔

میں نے اس کو ساری بات بتائی کہ کس طرح دارے خاں پر آج کا دن بھاری گزرنے والا تھا ۔۔۔

اس کی ساری اکڑ ساری طوں تراں آج اپنے انجام کو پہنچنے والی تھی لیکن افسوس میں دیکھ نہیں پایا۔۔۔۔

میں نے اس سے پوچھا کہ اس کو یہ نہیں پتہ تھا کہ اس کے علاوہ بھی کسی کو یہاں قید کیا گیا ہے۔۔۔

اسنے کہا مجھے ایک آرام دہ کمرے میں رکھا گیا ہے جو صرف اس وقت کے لیے بنایا گیا تھا جب کوئی مشکل وقت آئے تو ہم لوگ یہاں آ کر چھپ سکیں۔۔۔

ہماری تاریخ میں ایسے کی واقعات ہیں خاندانی دشمنیاں قتل و غارتگری ہمارے خون میں ہے۔۔۔

میں نے کہا یہاں سے نکلنے کے بارے میں کیا خیال ہے۔۔۔

اس نے کہا ڈیرے والا رستہ زیادہ بہتر ہے کیونکہ وہاں زیادہ لوگ نہیں ہوتے وہ صرف خانہ پری کے لیے بنایا گیا۔۔۔

اصل ڈیرہ تو حویلی کا مردانہ ہی ہے جہاں تایا جی بیٹھتے ہیں۔۔۔

میں اس کی راہنمائی میں چل پڑا اندھیرا حد سے زیادہ تھا لیکن ہم گرتے ڈھتے اپنی مطلوبہ جگہ پہنچ گئے۔۔۔

چھ ساتھ سیڑھیاں چڑھنے کے بعد ہمیں ایک چھوٹا سا دروازہ دروازہ نظر آیا جس کے سامنے صرف جالی لگی تھی۔۔۔

لیکن اس پر کاٹھ کباڑھ پڑا ہوا تھا جالیوں میں کافی فاصلہ تھا جس سے میں نے ہاتھ گزار کر سامنے سے چیزوں کو ہٹانا شروع کر دیا ۔۔۔

کافی دیر کی محنت کے بعد اتنی جگہ بن گئی کہ دروازے کو اٹھا یا جا سکتا تھا۔۔۔

میں نے نیچے سے زور دے کر دروازے کو اوپر کیا جس سے اوپر پڑا سامان کھڑ کھڑ کی آواز سے پیچھے ہونے لگا۔۔۔

جب اس میں سے اوپر چڑھنے کا رستہ بن گیا تو میں نے ہنی کو اوپر چڑھا دیا۔۔۔

اس نے اوپر جا کر مزید سامان کو پیچھے ہٹایا اور دروازے کو پکڑ کر کھول دیا۔۔۔

لیکن اب ایک رکاوٹ باقی تھی وہ اس کمرے کا دروازہ تھا جو بند نظر آ رہا تھا لیکن اس کی درزوں سے اندر آتی روشنی کی وجہ سے ہم کافی تسلی میں تھے۔۔۔

ہنی کے چہرے پر پسینے کے قطرے چمک رہے تھے جن کو دیکھ کر مجھے اس نازک اندام لڑکی پر ترس آنے لگا۔۔۔

میں نے اپنے ہاتھوں کو دیکھا تو اس کے چہرے سے پسینہ صاف کرنے کا ارادہ بدل دیا۔۔۔

جب سانس بحال ہوئی تو میں نے آگے بڑھ کر دروازے کو تھوڑا سا ہلایا تو کھلتا چلا گیا۔۔۔

حیرت کی بات تھی کہ اس دروازے کو کنڈی بھی نہیں لگائی گئی تھی۔۔۔

میں نے باہر جھانکا کوئی بھی نہیں تھا اچھی طرح دیکھنے کے بعد جب یقین ہو گیا کہ کوئی نہیں ہے تو میں نے ہنی کو بھی باہر بلا لیا۔۔۔

وہاں مجھے ایک طرف واش روم نظر آیا تو میں اسمیں گھس گیا پیشاب وغیرہ کرکے منہ ہاتھ دھویا اور باہر آیا۔۔۔

میں ٹھٹھک کر رک گیا کیونکہ وہاں ہنی نہیں تھی بلکہ ایک سلحہ بردار آدمی کھڑا تھا جس کے ہاتھ میں رائفل تھی۔۔۔

اس کی بڑی بڑی مونچھوں کے نیچے اس کے ہونٹ چھپے ہوئے تھے شکل سے ہی سفاک انسان لگ رہا تھا۔۔۔

اس نے مجھے ایک کمرے کی طرف چلنے کا اشارہ کیا میں جب کمرے میں پہنچا تو وہاں ایک بوڑھا آدمی اور عورت فرش پر بیٹھے تھے جبکہ ہنی صوفے پر بیٹھی تھی۔۔۔

ہنی نے ان کو میرا بتایا کہ میں نے اس کو وہاں سے نکالا ہے انہوں نے مجھے بھی ہاتھ جوڑ کر سلام کیا۔۔۔

باہر جو آ دمی کھڑا تھا وہ اس ڈیرے کا پہرے دار تھا جو پولیس کے آتے ہی یہاں سے غائب ہو گیا تھا اور ابھی واپس آیا ہے۔۔۔

یہ بوڑھی اماں اور بابا حویلی کے ملازم ہیں جو ہنی کے بارے میں جانتے ہیں ان کو پتہ تھا یہ اماں ہی تھی جس نے ہنی کو اس رستے کا بتایا تھا۔۔۔

جب وہ لوگ تہہ خانے میں دیکھنے گئے ہنی نہ ملی تو وہ لوگ یہاں آ گئے۔۔۔۔

اس چوکیدار نے ان کو ادھر آتے دیکھا تو وہ بھی سامنے آگیا۔۔۔

ساری بات سن کر میں نے ہنی سے پوچھا اب کیا کرنا ہے کہاں جانا ہے۔۔۔

ہنی نے کہا وہ اپنی امی کے پاس اپنے ننھیال جانا چاہتی ہے اس کے لیے میں اس کی مدد کر سکتا ہوں۔۔۔

میں نے اس کے ساتھ جانے کی حامی بھر لی لیکن بات پیسوں کی تھی اس کے لیے ہنی نے اماں بابا سے پوچھا اندر کون کون ہے۔۔۔

انہوں نے بتایا کہ کوئی بھی نہیں ہے سب کو پولیس لے گئی ہے اور دارے خاں کے بیوی اور بیٹی تو پہلے ہی کہیں گئے ہوئے تھے۔۔۔

ہنی اور میں حویلی میں گئے ہنی نے ایک کمرے کا دروازہ کھولا اور میرے ساتھ اندر گئی اس نے ایک جگہ سے چابی نکالی اور بڑی الماری کھول لی۔۔۔

اس میں نوٹوں کی تہہ لگی ہوئی تھی میں نے اپنی پوری زندگی میں اتنے پیسے نہیں دیکھے تھے پوری الماری نوٹوں سے بھری ہوئی تھی۔۔۔

ہنی نے دو بڑے بیگ لیے اور ان کو پیسوں سے بھرنا شروع کر دیا دو بیگ کم پڑ گئے تو اس نے ایک اٹیچی نکالا اس کو بھی پیسوں سے بھر لیا۔۔۔۔

دو بیگ اور ایک اٹیچی لے کر ہم باہر نکلے لاونج میں آئے تو سامنے وہی دو ملازم کھڑے تھے۔۔۔

ہنی نے ان سے کسی کا پوچھا بابے نے کہا میں ابھی بلا کر لاتا ہوں۔۔۔

ٹھوڑی دیر بعد باہر بابا آیا اس نے ہمیں باہر بلایا میں تب تک الماری کو دیکھتا رہا تھا۔۔۔

حویلی بہت بڑی تھی ایسے جیسے کوئی محل ہو بڑے بڑے کمرے ہر چیز نایاب ہی لگ رہی تھی۔۔۔

ایسی حویلیںاں کنالوں میں نہیں بلکہ ایکٹروں میں ہوتی ہیں یہ بھی کئی ایکڑ میں تھی ۔۔۔۔

ہم باہر نکلے تو ایک گاڑی کھڑی تھی چھوٹے ماڈل کی گاڑی تھی جس میں ہنی اور میں جانے والے تھے۔۔۔

ان دونوں ملازموں نے ہمارا سامان گاڑی میں رکھا ڈرائیور نے دروازہ کھول کر ہنی کو بٹھایا۔۔۔

ہنی نے اس کو شہر والے گھر چلنے کا کہا وہ ہمیں ٹاؤن چھوڑ کر واپس مڑ گیا تو ہنی نے مجھے کہا اب ہمیں یہاں سے جانا ہوگا۔۔۔۔

رات کا پتہ نہیں کونسا پہر تھا گلی سنسان تھی میں نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔۔

ان کے گھر کو تو تالا لگا ہوا تھا ہم دونوں وہاں سے چل پڑے دونوں بیگ میں سے ایک ہنی نے اٹھا لیا ایک میں نے اور اٹیچی ہاتھ میں پکڑ لیا۔۔۔

ہم وہاں سے چلتے ہوئے روڈ پر آئے ہمیں ایک رکشہ مل گیا اس پر بیٹھ کر ہم بس اسٹیشن آئے ۔۔۔۔

ہمیں وہاں لاہور سے آنے والی بس جو بہاولنگر جا رہی تھی مل گئی ہم اس میں سوار ہوئے ۔۔۔

دونوں بیگ اور اٹیچی کو سنبھال کر رکھا خوش قسمتی سے ہمیں سیٹیں ساتھ مل گئیں۔۔۔

بس روانہ ہوئی تو ہنی نے میرے کندھے پر سر رکھا اور سو گئی جب ہم بہاولنگر پہنچے تو اذانیں ہو رہی تھیں۔۔۔

بس اڈے پر ہی ہم ضروری حاجات سے فارغ ہوئے اور ہلکا پھلکا ناشتہ کیا ۔۔۔

پھر وہاں سے ٹیکسی سٹینڈ کا پوچھا قریب ہی ٹیکسی سٹینڈ تھا ہم نے وہاں سے ٹیکسی لی جس کا ڈرائیور بزرگ تھا۔۔۔

اس کو ایڈریس بتا کر ہم آرام سے بیٹھ گئے میں نے ڈرائیور کو ہدایت کی کہ جہاں کوئی اچھا سا ہوٹل نظر آئے روکنا ہم ناشتہ کر لیں ۔۔۔

اس نے پوچھا صاحب جی کہاں سے آ رہے ہیں میں نے اس کو بتایا کہ لاہور سے آ رہے ہیں ایک ایمر جنسی ہو گئی تھی جس کی وجہ سے گھر والوں نے ہمیں بلایا۔۔۔

اس نے زیادہ سوال نہ کیے کیونکہ میں بڑے سخت لہجے میں جواب دیا تھا جس کا مطلب تھا کوئی اور سوال نہیں ۔۔۔

وہ بھی سمجھ گیا کہ ہم اتنے لمبے سفر سے تھکے ہوئے ہیں اس لیے جان چھڑوا رہے ہیں۔۔

بہاولنگر سے نکلے ہمیں کوئی گھنٹہ ہو گیا ہوگا کہ ڈرائیور نے کہا باؤ جی ہارون آباد آنے والا ہے یہاں کوئی ہوٹل مل جائے گا ناشتہ کرنے کے لیے۔۔۔

میں نے کہا ٹھیک ہے کوئی اچھا سا دیکھ کر روک لینا اس نے کہا جی ٹھیک ہے۔۔۔

اس نے ایک ہوٹل پر گاڑی روکی ہنی جو کہ سو گئی تھی اس کو میں نے جگایا ہم نے وہاں سے اچھا سا ناشتہ کیا۔۔۔

پھر آگلی بریک فورٹ عباس شہر میں جا کر لگی جیسے جیسے سورج نکل رہا تھا باہر ریت ہی ریت نظر آ رہی تھی۔۔۔

دور دور تک ریت کے ٹیلے تھے ہلکی سی ہوا بھی ریت کو اڑاتی پھر رہی تھی۔۔۔

ویسے تو میں ریتلے علاقوں میں کا چکا تھا لیکن ریت کے پہاڑ میں نے پہلی بار دیکھے تھے۔۔۔

مجھے تو یہ ہی لگ تھا کہ یہ ریت کے پہاڑ ہیں کیونکہ میں کونسا پہلے کبھی اس علاقے میں آیا تھا۔۔۔

جیسے جیسے گاڑی آگے بڑھ رہی تھی میری پریشانی بھی بڑھتی جا رہی تھی ۔۔۔

پریشانی اس بات کی تھی کہ میں جذبات میں آ کر اس کے ساتھ آنے کی حامی تو بھر لی تھی کہ لیکن اس کے ننھیال والے میرے بارے میں کیا سوچیں گے ۔۔۔

دوسرا ہنی کی مدد کے چکر میں یہ تو بھول ہی گیا تھا کہ پیچھے کیا حالات ہوں گے میرے گھر والے کتنے پریشان ہوں گے۔۔۔

یہ سب سوچ سوچ کر میں پریشان ہو رہا تھا ہنی نے شاید میری پریشانی بھانپ لی تھی ۔۔۔

اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر میرا کندھا ہلایا ۔۔۔

میں نے ہنی کی طرف دیکھا تو اس نے کہا کچھ نہیں ہوتا سب ٹھیک ہوگا ۔۔۔

پریشان نہ ہو اوپر والا سب خیر کرے گا وہ کھل کر بات نہیں کر رہی تھی کیونکہ ڈرائیور کے سامنے اس سے زیادہ بات کرنا مناسب نہ تھا۔۔۔

فورٹ عباس سے پہلے ہی رانی نے ڈرائیور کو ایک طرف مڑنے کا کہا پھر اس کو بتایا کہ جو پہلی بڑی لال حویلی آئے وہاں جانا ہے۔۔۔

ڈرائیور نے ہاں میں سر ہلا دیا ہنی نے میرا ہاتھ پکڑ کر دبانا شروع کر دیا۔۔۔

اگلے دس منٹ میں ہم اس حویلی کے سامنے تھے ڈرائیور نے گاڑی کا ہارن بجایا تو بڑا آہنی گیٹ کھل گیا۔۔۔

گاڑی اندر داخل ہوئی پچھلی سیٹ سے جیسے ہی ہنی اتری گارڈ بھاگ کر آیا اس نے گاڑی کا دروازہ پکڑ لیا اور جھک کر سلام کیا۔۔۔

میں دوسری طرف سے اترا گارڈ نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا۔۔۔

ہنی نے گارڈ سے کہا گاڑی سے سامان نکالو اور میں نے جیب سے پیسے نکال کر گاڑی والے کو دئیے جتنے اس سے طے ہوئے تھے اس سے زیادہ ہے دئیے۔۔۔

ہنی نے کہا بابا کھانا کھا کر جانا آپ تھک گئے ہو گے تھوڑا آرام کر لو۔۔۔

تب تک اندر سے کئی ملازم آ گئے تھے ہنی نے ان کو بھی ہدایات دیں۔۔۔

گاڑی والا بابا حیران تھا وہ کبھی ہنی کو دیکھتا کبھی مجھے دیکھتا کیونکہ کوئی مجھے منہ نہیں لگا رہا تھا۔۔۔

اندر سے ایک بڑی عمر کی عورت نکلی کس کے کان میں ہنی نے کچھ کہا اس عورت نے میری طرف دیکھ کر سر سے اشارہ کیا۔۔۔

میں پاس گیا سلام کیا اس نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا اور مجھے بھی اندر آنے کا کہا۔۔۔

یہ گھر بھی اندر سے کسی محل سے کم نہ تھا ایسا کمال کا بنا ہوا تھا کہ بیان نہیں کر سکتا۔۔۔

میں پھٹی آنکھوں سے سب دیکھ رہا تھا اس بڑی اماں نے مجھے کہا بیٹا تمہارا نام کیا ہے۔۔۔

میں نے بتایا کہ میرا نام صائم نواز ہے ہنی نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور مسکرانے لگی۔۔۔

بڑی اماں نے کہا ہنی بیٹا اس کو بھی کمرا دکھاؤ اور آرام کرنے دو خود بھی آرام کرو باقی باتیں بعد میں کریں گے تب تک تمہاری امی اور نانا بھی آجائیں گے۔۔۔

اس نے جی نانو جیسا آپ کا حکم۔۔۔

ہنی نے ملازمہ کو کہا ان کا سامان ان کے کمرے میں پہنچا دو ۔۔۔

میں نے حیرانی سے ہنی کی طرف دیکھا میرا سامان ۔۔۔

ہنی نے آنکھوں سے اشارہ کیا چپ کرکے کمرے میں چلو۔۔۔

میں ہنی کی رہنمائی میں کمرے میں چلا گیا ملازمہ نے اٹیچی کیس کمرے میں لا کر الماری میں رکھا۔۔۔

ہنی نے واش روم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا نہا کر تازہ دم ہو جاؤ پھر آ کر بات کرتی ہوں۔۔۔

میں نے کپڑوں کی طرف دیکھا تو اس نے الماری کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا بڑے کپڑے ہیں جو مرضی پہن لو۔۔۔

پھر اس نے خود ہی ایک ٹی شرٹ اور جینز کی پینٹ نکال کر دی۔۔۔

میں وہ کے واش روم گھس گیا اچھی طرح مل مل کر نہایا اور پھر تازہ دم ہو کر بیڈ پر لیٹ گیا۔۔۔

ایسا لیٹا کہ کچھ ہوش ہی نہ رہا کتنی دیر سویا میری آنکھ کسی نرم میٹھے لمس سے کھلی۔۔۔

کوئی میرے ہونٹوں کو چوم رہا تھا کسی کے نازک ہاتھ میرے گالوں پر پھر رہے تھے۔۔۔

کوئی نرم نرم چیز میرے سینے پر دب رہی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے میں کسی اپسرہ کے خوشبوؤں سے مہلتے بدن کے نیچے ہوں۔۔۔

کوئی نرماہٹ بھرا لمس تھا جو مجھے نیند کی وادیوں سے دھیرے دھیرے ہوش کی دنیا میں لا رہا تھا۔۔۔

میں اپنی آنکھیں کھول دیں میرے اوپر جھکا حسن اپنی آنکھوں میں سارے جہاں کا پیار سموئے ہوئے تھا۔۔۔

اس کے سینے کے ابھاروں سے اٹھتی خوشبو کے بھبھکے میرے نتھنوں تک آ رہے تھے۔۔۔

اس کے ہونٹوں کے پر شباب لمس مجھے دنیا کے لذیذ ترین پھل سے زیادہ سرور دے رہے تھے۔۔۔

ایسا حسن کا شاہکار تھا دل کے کسی نہال خانے میں ڈوبی کوئی خواہش پوری ہونے کا احساس ہونے لگا۔۔۔

ہنی اپنے حسن کی تمام حشر سامانیوں کے ساتھ میرے اوپر سوار ہو چکی تھی۔۔۔

آج اس کے انداز میں کچھ نیا تھا وارفتگی تھی سپردگی تھی اپنانے کی چاہت تھی۔۔۔

میں نے آنکھیں کھولیں تو اس کے چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی اس نے اہنی لمبی پلکیں جھپکائیں ۔۔۔

پھر اپنے شربتی ہونٹ میرے ہونٹوں سے الگ کئے اور میرے گال چومنے لگی۔۔۔

میرے ہاتھ اس کی کمر پر خودبخود چلے گئے ۔۔۔

میں اس کا ساتھ دینے لگا وہ بھرے گھرے جسم کی مالک تھی۔۔۔

اس کے وزن سے مجھے بڑا سکون محسوس ہورہا تھا۔۔۔

میرے ہاتھوں کی گستاخیاں بڑھنے لگیں میرے ہاتھ اس کی گانڈ کے ابھرے ہوئے ابھاروں پر پھرنے لگے۔۔۔

ہم بہکنے لگے تھے یا یوں کہہ لیں ہم بہکنا چاہ رہے تھے ۔۔۔

اس سے پہلے کہ ہم اپنے لباسوں سے آزاد ہوتے یا جسم در جسم ہوتے۔۔۔۔​​



Source link

Leave a Comment