گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 60)

دروازے پر دستک ہوئی ایک دم جیسے بھونچال آگیا ہو۔۔۔

ہنی میرے اوپر سے یوں اچھلی جیسے کسی نے اس کے سر پر بم پھوڑ دیا ہو۔۔۔

جب تک میں سنبھل کر اٹھتا وہ غائب ہو چکی تھی کہاں سے آئی تھی کدھر گئی کچھ سمجھ نہ آئی۔۔۔

میں اپنے ہواس بحال کر رہا تھا کہ ایک پھر دروزے پر دستک ہوئی۔۔۔

میں آنکھیں ملتا ہوا اٹھا اور درازہ کھول دیا سامنے ایک ملازمہ کھڑی تھی جس کی عمر بمشکل بیس سال ہو گی ۔۔۔

میں جس حالت سے اٹھ کر آیا تھا ابھی اسی کے زیر اثر تھا میں نے اس کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔۔۔

اس نے کہا صاحب جی اوہ بڑی بیگم صاب آکھدی پئی اے جے اٹھ گئے او تاں تھلے آ جو روٹی کھا لوو۔۔۔

اس کے لہجے سے مجھے کئی باتوں کی تو سمجھ نہ آئی لیکن میں یہ سمجھ گیا کہ وہ مجھے کھانے کے لیے بلانے آئی ہے۔۔۔

میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے میں نہا کر آتا ہوں۔۔۔

وہ باہر پیچھے مڑی تو میری نظر اس کی ابھری ہوئی گانڈ پر پڑی دل کیا ابھی اس کو پکڑ کر لن اس کی گانڈ میں گھسا دوں۔۔۔

خیر وہ گانڈ مٹکاتی چلی گئی میں واپس کمرے میں گھس گیا اور سوچنے لگا ہنی کہاں گئی۔۔۔

مجھے کچھ سمجھ نہ آئی تو میں واش روم گھس گیا کپڑے اتارنے لگا۔۔۔

سارے کپڑے اتار چکا تھا ماسوائے اینڈروئیر کے یکدم مجھے ایسا لگا جیسے کوئی واش روم سے باہر نکلا ہو۔۔۔

واش روم بھی تو اتنا بڑا تھا جس میں نہانے کے لیے الگ حصہ بنا ہوا تھا ٹب الگ تھا ۔۔۔

ضروری حاجات کے لیے الگ حصہ تھا جس کو الگ کیا گیا تھا۔۔۔

میں رک کر دروزے کی طرف دیکھنے لگا لیکن جب کوئی ہلچل نہ ہوئی تو میں نے انڈروئیر بھی اتار دیا۔۔۔

نہانے کے بعد میں نے پھر جسم کو خشک کیا اور کپڑے پہن کر باہر آیا۔۔۔

جب کمرے میں داخل ہوا تو بیڈ پر ایک شلوار قمیض پڑی تھی ۔۔۔

میں نے ادھر ادھر دیکھا یہ تو سمجھ آ گئی کہ وہ ہنی نے رکھا ہے لیکن وہ اس وقت کہاں ہے یہ نہیں جان سکتا تھا۔۔۔

میں نے وہیں کھڑے کھڑے اپنی شرٹ اتاری پھر شلوار اٹھا کر اندر گھس گیا اور پہن کر باہر آیا۔۔۔

قمیض پہنی اور خود کو ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہو کر دیکھا تو دیکھتا رہ گیا۔۔۔

اتنا قیمتی سوٹ زندگی میں پہلی بار پہنا تھا اس لیے خود پر ناز کرنے لگا۔۔۔

ویسے بھی یہ سوٹ جس کا بھی تھا مجھ پر بالکل فٹ تھا میں نے وہیں پرفیوم دیکھا اور اس سے خود معطر کیا اور باہر نکل آیا۔۔۔

تازہ تازہ نہا کر ویسے بھی نکھر گیا تھا اوپر سے اس سوٹ نے بھی مجھے نکھار دیا تھا۔۔۔

میں نیچے آیا تو ملازمہ نے مجھے ایک بڑے کمرے کی طرف اشارہ کیا وہ مجھے بڑی گہری نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔

میں اس کمرے میں داخل ہوا تو وہاں دو عورتیں موجود تھیں جن میں ایک وہی بڑی ماں تھیں اور دوسری اس کی بیٹی لگ رہی تھی جو یقیناً ہنی کی ماں تھی۔۔۔

ایک بڑا سا کھانے کا میز لگا تھا میں نے ان خواتین کو سلام کیا بڑی اماں جی مجھے بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔

دوسری عورت مجھے غور سے دیکھ رہی تھی اس کے چہرے پر شناسائی سی تھی۔۔۔

جیسے وہ مجھے پہچاننے کی کوشش کر رہی ہو ہنی نے مجھے سب سمجھا دیا تھا جو اس نے اپنی نانی کو بتایا تھا ۔۔۔

سب سچ تھا بس نہ انہوں نے پوچھا کہ نہ ہنی نے بتایا کہ ہم ایک دوسرے کو جانتے ہیں یا نہیں۔۔۔

لیکن اب مجھے لگ رہا تھا کہ ہنی کی ماں مجھ سے یہ سوال ضرور پوچھے گی۔۔۔

لیکن اس نے کوئی سوال نہ کیا مجھے بڑی اماں نے بڑی عزت دی تھی ہنی بھی آ گئی بڑے سلیقے سے دوپٹہ سر پر لیے وہ میری طرف دیکھے بغیر ایک کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی۔۔۔

ملازمہ کھانا لگانے لگی جب سب کچھ میز پر لگ گیا تو ملازمہ جلدی سے باہر نکل گئی اگلے ایک منٹ میں بڑی رعب دار شخصیت کا مالک ایک بڑی عمر کا مرد اندر داخل ہوا ۔۔۔

اس نے با رعب آواز میں سلام کیا اس کی آواز سنتے ہی سب کھڑے ہو گئے ۔۔۔

میں اس آواز سے سہم گیا تھا لیکن اپنی ازلی فطرت سے مجبور تھا کسی کو خود پر حاوی نہیں ہونے دیتا تھا۔۔۔

اس مرد کی رعب دار شخصیت سے متاثر ہو رہا تھا ایک بار بھاری آواز سن کر سہم بھی گیا تھا لیکن فوراً اپنے نارمل انداز میں آگیا تھا۔۔۔

میں نے مڑ کر آواز کی سمت دیکھا اور سلام کا جواب دیا۔۔۔

سچ میں کچھ لوگوں پر سفید داڑی بھی خوب جچتی ہے یہ میں اس دن جان پایا تھا ۔۔۔

سرخ و سفید رنگ لمبا چوڑا جسہ تھا آنکھوں میں چمک تھی۔۔۔

اس کو دیکھ کر ہی لگ رہا تھا بڑا ذہین اور رعب و دبدبے والا بندہ ہے۔۔۔

بڑی اماں نے اس سے میرا تعارف کرواتے ہوئے کہا خاں جی یہ وہ لڑکا صائم نے جس نے ہنی کو یہاں بحفاظت پہنچایا ہے۔۔۔

انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا برخوردار ہم آپ کے احسان مند ہیں کہ ہماری بیٹی کو ہم تک پہنچایا۔۔۔

جس طرح سے مشکل حالات میں تم اس کو یہاں لائے ہو مجھے اس کا علم ہے۔۔۔

ہم تو یہ سمجھ بیٹھے تھے کہ ہنی کو کسی نے اغواء کر کے قتل کر دیا ہوگا اگر ہمیں پتہ ہوتا کہ یہ کام دارے خاں کا ہے تو اب تک اس کا نام ونشاں مٹا چکے ہوتے۔۔۔

اب بھی اس کو نہ چھوڑتے لیکن کل رات ا کے گھر پر جو چھاپہ پڑا اور اس کے ٹھکانوں سے جو کچھ برآمد ہوا اس نے ویسے ہی اس کو تباہ کر دیا ہے۔۔۔

میں نے کہا اس میں احسان والی کوئی بات نہیں ہے ایک لڑکی جس کو مدد کی ضرورت ہو ہماری تہذیب ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اس کی مدد کی جائے۔۔۔

میں نے کوئی بڑا کام نہیں کیا بس اس کو یہاں پہنچایا ہے باقی میں بھی اس کی قید میں جا چکا تھا ۔۔۔

کل ہی مجھے اٹھایا گیا تھا میں کالج کا سٹوڈنٹ ہوں ہم اپنے پروفیسر کے اغواء کے خلاف احتجاج کر رہے تھے کہ مجھے وہاں سے اغواء کر لیا گیا۔۔۔

میری بات سن کر یکدم اس نے غور سے مجھے دیکھنا شروع کر دیا ۔۔

میں چپ ہوا تو اس نے میرا نام پوچھا میں نے اپنا نام بتایا صائم نواز ڈانگرا۔۔۔

اس نے زور سے میز پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا ہاں بالکل تم ہی صائم نواز ہو۔۔۔

وہ کھڑا ہوا اور مجھے اپنے گلے لگایا اس کے جسم میں کتنی جان تھی اس نے گلے لگا کر مجھے باور کروا دیا ۔۔۔

اتنی عمر کے باوجود وہ جتنا طاقتور لگ رہا تھا مجھے اس پر رشک آنے لگا۔۔۔۔

اس نے میرے بارے میں ہنی کی والدہ اور نانی کو بتانا شروع کیا کہ کافی عرصے سے ساہیوال کالج میں اور شہر میں ایک نام گونج رہا ہے۔۔۔

وہ یہ برخوردار ہے صائم نواز ڈانگرا عرف بلو اس کے کارناموں کے چرچے یہاں تک ہیں۔۔

مجھے یقین نہیں آ رہا اتنا چھوٹا سا بچہ اور ایسے کارنامے سننے میں آیا تھا کہ اس نے کسی ڈرگ مافیا کی سرغنہ کو بھی شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے۔۔۔

ہنی حیرانی سے میری طرف دیکھ رہی تھی ہنی کی امی تو آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھے جا رہی تھی۔۔۔

اس نے کہا ابا جی یہ لڑکا تو ہمارے ٹاؤن میں رہتا ہے میں اس کو اکثر صبح سیر کے لیے اپنے گھر کے پاس سے گزرتے دیکھتی ہوں۔۔۔

میں نے کہا آپ کہاں رہتی ہیں میرا مطلب کس بلاک میں کونسا گھر ہے۔۔۔

اس نے بتایا کہ بلوچ ہاؤس ہمارا گھر ہے میں نے حیرانی کی اداکاری کرتے ہوئے کہا اچھا وہ والا گھر آپ کا ہے۔۔۔

اس نے کہا ہاں ہم ہی وہاں رہ رہے ہیں۔۔۔

وہ مجھے مشکوک نظروں سے دیکھ رہی تھی خیر ایسے ہی کھانا کھایا گیا اس کے بعد میں نے ان سے اجازت مانگی۔۔۔

لیکن مجھے نہ جانے دیا گیا جب میں نے گھر والوں کی پریشانی کا بتایا تو خاں صاحب نے مجھے موبائل فون دے کر کہا یہ رکھ لو اس میں نئی سم ڈال دیتے ہیں۔۔۔

گھر والوں کو بتاؤ کہ تم بخیر ہو اور ایک دو دن میں گھر آ جاؤ گے۔۔۔

میں نے فوراً ہاشم بھائی کو سب بتایا اور کہا کہ نیا نمبر آپ کو دے دوں گا ابھی کسی کے نمبر سے فون کر رہا ہوں۔۔۔

خاں صاحب مجھے اپنے ساتھ ڈیرے پر لے گئے اور شام تک ان کے ساتھ رہا۔۔۔

شام کو واپسی ہوئی تو مجھے پھر سے اسی کمرے کی راہ لینا پڑی۔۔۔

کمرے میں داخل ہوتے ہی مجھے آج دن میں ہونے والے اس سین کا خیال آیا ۔۔۔

میں اسی امید پر کہ آج کی رات ہنی کے ساتھ مزے کرنے کا موقع ملے گا ۔۔۔

لیکن میرا خیال صرف خیال ہی رہا ساری رات انتظار ہی کرتا رہا کہ ابھی آئے گی ۔۔۔

دروازہ بھی کھول کر دیکھا اندر سے کنڈی بھی نہ لگائی لیکن بے سود۔۔۔۔

اگلی صبح اٹھا تو میں بور ہونے لگا تھا ناشتہ کرنے کے بعد میں نے جانے کی اجازت ایک بار پھر مانگی ۔۔۔

بڑی مشکل سے مجھے اجازت ملی لیکن اس شرط پر کہ میں پھر چکر لگاؤں گا۔۔۔

میں نے حامی بھر لی پھر ہنی نے اپنے نانا سے خصوصی اجازت لی کہ وہ مجھے بہاولنگر تک چھوڑنے جائے گی۔۔۔

خاں صاحب نے اجازت دے دی لیکن ہنی کی امی نے بڑے عجیب سے انداز سے مجھے دیکھا اس کو یہ بات اچھی نہیں لگی تھی۔۔۔

میں نے ہنی کو منع بھی کیا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے میں نے کوئی احسان نہیں کیا ہے پھر کوئی مسئلہ ہو گیا تو آپ سب کے لیے پریشانی کا باعث بنو گی۔۔۔

اس بات کر خاں صاحب نے کہا کسی کی اتنی ہمت نہیں کہ وہ میری دوہتی کو میرے ہوتے ہوئے کچھ کہ سکے۔۔۔

میں جانے لگا تو ہنی نے ملازمہ سے کہا ان سامان والا اٹیچی اٹھا لاؤ۔۔۔

میں نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا کیونکہ میرے پاس تو ایک سوٹ تک نہ تھا یہ سامان کہاں سے آگیا۔۔۔

ہم وہاں سے روانہ ہوئے تھوڑی دور جا کر ہنی نے ڈرائیور کو کہا کہ پچھلی گاڑی میں آ جائے یہ گاڑی وہ خود چلائے گی۔۔۔

اس وقت ایسا میں نے پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا کہ کوئی عورت یا لڑکی گاڑی چلا رہی ہو۔۔۔

خاص طور پر لڑکی کو تو بالکل بھی نہیں دیکھا تھا ہنی جیسی گھریلو لڑکی سے تو بالکل بھی مجھے امید نہیں تھی کہ وہ گاڑی چلانا جانتی ہو گی۔۔۔

ڈرائیور اتر کر پیچھے چلا گیا ہنی نے نے مجھے فرنٹ سیٹ پر بٹھایا اور چلانے لگی۔۔۔

اس نے مجھے کہا کہ وہ بہت جلد واپس وہاں آئے گی مجھے ملنے کے لیے۔۔۔

ساتھ ہی اس نے کہا کہ یہ بیگ تمہارا ہے اس میں جو کچھ بھی ہے وہ بھی تمہارا ہے ۔۔۔

تم نے میری زندگی نہیں بچائی بلکہ مجھے ایک نئی دنیا سے روشناس کروایا ہے۔۔۔

تم نے جتنے کارنامے دکھائے ہیں اس عمر میں ایسا کوئی نہیں کرتا یہ خان نانا کہہ رہے تھے۔۔۔

انہوں نے تمہاری بڑی تعریف کی ہے وہ تم سے بڑے متاثر ہوئے ہیں۔۔۔

میں اس کی سنتا رہا میرے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو رہا تھا کہ کیا وہ ہنی تھی یا یہ اصل ہنی ہے۔۔۔

مجھے یہ وہ والی ہنی بالکل نہیں لگ رہی تھی جس سے میں پہلی بار ملا تھا۔۔۔

اس ہنی میں اور اس ہنی میں مجھے بڑا زیادہ فرق لگ رہا تھا۔۔۔

اس نے مجھے بس اڈے پر چھوڑا میرا ہاتھ دبا کر مجھے دیکھا اور میرا نیا نمبر لے لیا۔۔۔

میں اٹیچی لے کر جو کافی وزنی تھا بس میں سوار ہوا اور اپنے شہر آ گیا۔۔۔

اڈے پر اتر کر وہاں سے رکشہ لیا اور سیدھا اس آنٹی کے پاس چلا گیا جو ٹاؤن کے پیچھے نہر کے پار رہتی تھی۔۔۔

وہاں جا کر اس کو گلے ملا اور کمرہ کھولنے کا کہا کمرے میں جا کر میں نے اٹیچی کھول کر دیکھا تو وہ نوٹوں سے بھرا ہوا تھا۔۔۔

میں نے وہ اٹیچی وہاں رکھا اور آنٹی کو کہا یہ میری امانت ہے میں کسی دن آ کر لے جاؤں گا۔۔۔

اس نے مسکراتے ہوئے کہا ایک امانت اور ہے میرے پاس وہ تو لینے نہیں آو گے۔۔۔

میں مسکرا کر اس کو گلے لگایا اور ہونٹوں پر کس کرتے ہوئے کہا بالکل بھی نہیں وہ صرف آپ کی ہے۔۔۔

اس نے بھی جوابی کس کرتے ہوئے کہا آج بھی تمہیں خوش کرتی لیکن مجھے آج ہی ڈاکٹر نے منع کیا ہے کہ اب وہ کام نہیں کرنا۔۔۔

میں نے کہا کوئی بات نہیں آپ خوش رہو میں چلتا ہوں۔۔۔

میں وہاں سے اپنے گھر آگیا گھر میں داخل ہوا تو ابا جی سامنے ہی کھڑے تھے۔۔۔

انہوں نے کوئی بات نہ کی کیونکہ بھا ہاشم نے ان کو اپنی طرف سے کوئی بات بتا دی تھی۔۔۔

دو دن بعد گھر آیا تھا امی جی نے میری خوب خاطر مدارت کی اور امی کی نے بتایا کہ اب ہم واپس گاؤں جا رہے ہیں ۔۔۔

تمہارا ابا جی ریٹائر ہو رہے تو یہاں رہ کر کیا کرنا ہے تم ہو گے تو ہوسٹل میں رہ لینا یا اپنے چاچا کے گھر رہ لینا۔۔۔

میں نے کہا جی جیسے آپ مناسب سمجھو میں وہیں رہ لوں گا۔۔۔

اس کے بعد کوئی خاص بات نہ ہوئی میں شام کو کرکٹ کھیلنے گیا وہاں بھی دارے خان کا ذکر چلتا رہا۔۔۔

مجھے ڈاکٹر عمائمہ کا نمبر زبانی یاد نہیں تھا کیونکہ اس سے رابطہ کرنا ضروری تھا ۔۔۔

میں نے ایک دوست سے ریحان کا نمبر لیا لیکن وہ نمبر مجھے بند ملا ۔۔۔

میں یہ بھول گیا تھا کہ ڈاکٹر نے مجھے کہا تھا اب اس کا پرانا نمبر بند ہو جائے گا نیا نمبر چلے گا۔۔۔

اس کے بعد میں طارق کے پاس گیا اس نے مجھے خونخوار نظروں سے دیکھا ۔۔۔

میں نے اس کو سمجھا بجھا کر اس سے ریحان کا نیا نمبر لیا۔۔۔

ریحان سے بات چیت ہوئی ایسے ہی گپ شپ لگائی اس نے مجھے کہا تم نے اچھا کیا اس حرامی کا پتہ صاف کروا دی اس نے ہمارا یہاں بھی جینا حرام کر دیا تھا۔۔۔

میں نے اس کو کہا کوئی بات اب اگر کوئی بھی مسئلہ ہو کہیں بھی ہو مجھے بتانا تیرا یار تمہارے ساتھ کھڑا ہوگا۔۔۔

میں نے اس کو یہ بھی بتایا کہ میرا پرانا نمبر بند ہو گیا ہے اب سے یہ نمبر چلے گا۔۔۔

مجھے پتہ تھا وہ اپنی ممی کو ضرور بتائے گا کہ میرا فون آیا تھا اور میں نے نمبر بند کر لیا ہے۔۔۔

اخبار سے مجھے یہ پتہ چل گیا تھا کہ سب کچھ ہمارے پلان کے مطابق ہوا تھا ۔۔۔

اس لیے میں اب پر سکون تھا کسی سے کوئی رابطہ کرنے کی جلدی نہیں تھی۔۔۔

اگلی صبح اٹھا اپنی روٹین کے مطابق سیر کے لیے گیا تو بلوچ ہاؤس کا تالا کھلا ملا میں اس گھر کے سامنے سے بڑی گہری نظر سے دیکھتے ہوئے گزرا لیکن مجھے کوئی خاص بات سمجھ نہ آئی۔۔۔

سیر کرتے ہوئے میں ناصر کے ٹیوب ویل پر گیا مجھے وہاں ناصر کا ملازم ملا اس سے ناصر کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ سب لوگ رات دیر تک یہاں تھے کافی پریشان لگ رہے تھے۔۔۔

میں واپس آیا اور کالج چلا گیا آج کا دن میرے لیے سپیشل ہونے والا تھا یہ میں نہیں جانتا تھا۔۔۔

کالج میں داخل ہوا تو سارا کالج حیران تھا گیٹ میں داخل ہوا تو وہاں جو پہلا لڑکا مجھے ملا اس نے زور سے کہا بلو بھائی آ گئے ہیں۔۔۔

پھر تو جیسے جیسے میں آگے بڑھ رہا تھا لڑکے اکٹھے ہوتے جا رہے تھے میرے گرد دائرک بنتا جا رہا تھا اور میرے ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔۔۔

تھوڑا ہی آگے بڑھا تھا کہ شاہد دوڑتا ہوا آیا اور اس نے مجھے گلے لگا لیا ۔۔۔

اس کے ساتھ ہی شاہ بھی تھا پھر تو ایسا شور شرابہ شروع ہوا کہ تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا۔۔۔

عاذب کو بھی پتہ چلا تو وہ بھاگتا ہوا میرے پاس آیا۔۔۔

جب کچھ سکون ہوا تو میں نے ان کو سب کچھ بتایا کس طرح میرا اغواء ہو کیسے میں وہاں سے نکلا ۔۔۔

کچھ باتیں میں جان بوجھ کر حذف کر گیا تھا کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ ہنی کے بارے میں کسی کو پتہ چلے۔۔۔

کینٹین کی طرف گئے تو شاہ نے کہا بلو اب سے کینٹین پر جو بھی کھائے گا سب فری ہوگا۔۔۔

میں نے اس کی طرف دیکھا اور کہا گانڈو تو باز نہیں آئے گا اپنی بنڈ مروانے سے۔۔۔

شاہ نے کہا یہ میری طرف سے نہیں ہے بلکہ اسی کی طرف سے ہے جس کی طرف سے پہلے تھا۔۔۔

میں نے غور سے شاہ کی طرف دیکھا تو اس کے چہرے میں مجھے کسی قسم کا کوئی مذاق یا چالاکی نظر نہ آئی۔۔۔

اس نے میرا ہاتھ پکڑ کر بلو یار معاف کر دے میں نے تمہیں بہت غلط سمجھا تھا۔۔۔

میں نے کہا تم لوگوں کو تو کہیں اور پہنچایا تھا تو یہاں کیسے آیا۔۔۔

اس نے کہا جب ہمیں پتہ چلا کہ سب کچھ ٹھیک ہو گیا تو امی نے کہا اب ہم واپس چلتے ہیں کسی بات سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

اب تو پولیس نے بھی مجھ سے باقاعدہ بیان لیا ہے جس میں اچھی کے بارے میں سب کچھ بتایا ہے۔۔۔

آج اچھی کے ڈیرے کر چھاپا پڑنا تھا رات بھی اس کے کافی لوگ پکڑے گئے ہیں۔۔۔

پولیس مقابلہ ہوا ہے جس میں اچھی زخمی ہو گیا تھا۔۔۔

میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے اس نے مجھے کہا آج ہمارے گھر میں تمہاری دعوت ہے۔۔۔

پولیس کا اعلیٰ افسر آج خصوصی طور پر مجھ سے ملنے آیا اس نے سارے کالج کے سامنے مجھے خصوصی انعام دیا۔۔۔

شاہ زیب بھی دارے خاں کے ساتھ پکڑا گیا تھا وہ بھی نشے میں دھت تھا۔۔۔

ہمارے کالج کے پرنسپل نے مجھے اپنے دفتر بلا کر داد دی الگ سے ۔۔

سارے کالج کے سامنے تو اس نے جو کہا تھا سو کہا تھا لیکن اپنے دفتر میں اس نے مجھے جو باتیں کیں وہ میرے مستقبل کے لیے بڑی اہم تھیں۔۔۔

ان کی باتوں سے مجھے اپنے لیے ان کے دل میں جو محبت تھی وہ نظر آئی۔۔۔

لیکن ساتھ ہی انہوں نے مجھے ہدایت بھی کی کہ اب میری زندگی مشکلات میں پھنسنے والی ہے۔۔۔

پہلے کی طرح آسان نہیں ہوگا کیونکہ میں نے جو کیا ہے وہ صرف پولیس ہی نہیں میڈیا ہی نہیں بلکہ سارا شہر جان چکا ہے۔۔۔

میں ابا جی کے رویے کے بارے میں سوچنے لگا یکدم امی کا یہ کہنا کہ ابا جی ریٹائر کو ہو رہے ہیں ہم واپس گاؤں جا رہے ہیں ۔۔۔

اچانک سے یہ سب ہونا بھی میرے ذہن میں نہ آیا کہ اس کے پیچھے کوئی بات ہو سکتی ہے۔۔۔

کالج میں مجھے بڑی عزت مل رہی تھی تو کوئی ایسا بھی تھا جو اس سب سے جیلس ہونے لگا تھا۔۔۔

کسی کو میرا یوں دنوں میں اوپر جانا پسند نہیں آ رہا تھا کوئی کتنا ہی مخلص کیوں نہ کو حسد انسان کو بہت کچھ کرنے پر مجبور کر دیتا ہے۔۔۔

میری شہرت کی وجہ سے کئی لوگوں کے دل میں میرے خلاف نفرت پیدا ہونے لگی تھی۔۔

میں اس سب سے انجان تھا لیکن میرے یار میرا اثاثہ تھے جو میرے خلاف ہونے والی ملاقاتوں کے ایک ایک پل کی خبر رکھتے تھے۔۔۔

شاہد اور ناصر کے علاوہ بھی ایسے لوگ تھے ایسے جگری دوست بن چکے تھے جو میرے لیے کچھ بھی کر سکتے تھے۔۔۔

ان میں سے دو تین ایسے بھی تھے جن کی میں نے مدد کی تھی جن کے گھر والوں کو مشکل سے نکالا تھا۔۔۔

پھر جب دارے خان کا باب بند ہوا تو اس سے بھی کئی لوگ میرے بارے میں سوچ بدلنے پر مجبور ہو گئے تھے۔۔۔

میں پرنسپل صاحب نے دفتر سے نکلا تو مجھے سامنے لڑکیوں کا ایک گروپ کھڑا نظر آیا ۔۔۔

انہوں نے مجھے اپنی طرف بلایا میں جب ان کے پاس گیا تو ان میں سب سے آگے ودحت تھی۔۔۔

ودحت کو اس کی آنکھوں سے میں پہچان سکتا تھا سو میں نے پہچان لیا تھا۔۔۔

اس نے مجھے اپنے ساتھ چلنے کا کہا میں ان کے ساتھ چل پڑا وہ مجھے اپنے بلاک کے حال کمرے میں لے گئیں۔۔۔

وہاں اور بھی کئی لڑکیاں موجود تھیں ودحت نے ان سب سے مجھے ملوایا ۔۔۔

سب نے میری تعریف کے پل باندھ دئیے کسی نے کہا کہ اس کو لڑکے تنگ کرتے تھے جب میں نے آپ کانام لیا تو وہ تنگ کرنا تو دور کی بات رستے میں نظر بھی نہیں آتے۔۔۔

کسی نے کچھ کہا کسی نے کچھ کہا لیکن ایک لڑکی نے بڑی عجیب بات کی اس نے کہا تمہاری وجہ سے میری تعلیم ختم ہو جائے گی میرے گھر کا چولہا نہیں چلے گا۔۔۔

سب کو چھوڑ کر میں اس کے پاس گیا تو وہ بیٹھی رو رہی تھی میں نے وجہ پوچھی تو اس نے کہا میری ماں دارے خاں کے گھر کام کرتی تھی جس کے بدلے وہ میری فیس بھی ادا کرتا تھا اور ہمارے گھر کا راشن بھی وہاں سے آتا تھا۔۔۔

میرا باپ مر چکا ہے میں اکلوتی ہوں میری ماں اس کے گھر کام کرتی تھی صرف میرے لیے۔۔۔

ودحت نے اس کو گلے لگایا اور کہا بس اتنی سی بات ہے اس کا بھی ہم کوئی نہ کوئی حل نکال لیں گے۔۔۔

میں نے اس سے اس کے گھر کا پتہ پوچھا اور ودحت کو کہا اس سے ساری ڈیٹیل لے لو باقی جو اوپر والے کو منظور ہوا وہ ہو جائے گا۔۔۔

ودحت نے کہا ٹھیک ہے میں باہر نکلا شاہد کو کہا میرے ساتھ آو میں اس کے ساتھ آیا اس نے بائیک نکالی ہم وہاں سے سیدھے اس گھر گئے میں اندر گیا۔۔۔

آج پہلی بار کسی کو میں وہاں لے کر گیا تھا شاہد بڑ حیران ہو رہا تھا کہ یہ سب کیا ہے۔۔۔

میں نے وہاں سے کچھ پیسے اٹھائے اور شاہد کو کہا یار کوئی اچھی سی بائیک ڈھونڈ یا بائیک لینی ہے نئے ماڈل کی۔۔۔

اس نے کہا ٹھیک ہے اس کو میں پتہ بتایا وہ مجھے وہاں لے گیا گھر کا دروازہ کھٹکٹایا اندر سے ایک اچھی شکل و صورت کی عورت باہر نکلی۔۔۔

اس کے چہرے سے بیچارگی جھلک رہی تھی میں نے اس سے کچھ سوال پوچھے اس نے جوابات دئیے۔۔۔

جب مجھے تسلی ہو گئی کہ یہ اسی لڑکی کی ماں ہے تو میں نے اس کو کہا ماں جی کیا ہم ایک منٹ کے لیے اندر آ سکتے ہیں۔۔۔

اس نے ہاں میں سر ہلایا اور ہم اندر داخل ہو گئے میں نے جیب سے پیسے نکالے اور اس کو دیتے ہوئے کہا یہ رکھ لیں ۔۔۔

جب بھی ضرورت ہو یہ میرا نمبر ہے مجھے فون کر دینا اور ہاں اپنی بیٹی کو بالکل بھی نہ بتانا کہ کوئی اس کے جاننے والا دے گیا ہے۔۔۔

بڑی خودار لڑکی ہے مجھ سے نظر نہیں ملا پائے گی آپ کی ملازمت میری وجہ سے گئی تو میرا فرض بنتا ہے کہ میں اس کا مداوا کروں۔۔۔

میں وہاں سے چپ کر کے نکل آیا شاہد میری طرف دیکھ رہا تھا لیکن بول کچھ نہیں رہا تھا۔۔۔

میں نے شاہد کو کہا یار کسی اچھے کام کے لیے تنظیم ہونی چاہئیے جس سے لوگوں کی مدد کی جاسکے۔۔۔۔

شاہد نے بھی میری بات سے اتفاق کیا لیکن اس نے کہا اس کے لیے فنانسر کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔

میں نے کہا شروع کرتے ہیں اس کا بھی کوئی جگاڑ ہو جائے گا۔۔۔

ہم وہاں سے ایک شو روم گئے بائیک دیکھی پسند کی میں نے بائیک کا ایڈوانس دیا لیکن میرے نام ہو نہیں سکتی تھی۔۔۔

میں نے ارادہ بدل دیا کسی اور کے نام لے لوں گا فی الوقت ارادہ مئوخر کر دیا۔۔۔

کالج آنے کے بعد مجھے فون آیا میں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف ڈاکٹر عمائمہ تھی اس نے میرا حال چال پوچھا۔۔۔

میں نے اس کے حالات کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ یہاں ایک ہسپتال میں پریکٹس شروع کر دی ہے ۔۔۔

میں نے پوچھا اسلام آباد میں تو اس نے ہنستے ہوئے کہا نہیں وہ تو میں اس وقت ایسے ہی کہہ دیا تھا میں کافی ڈر گئی تھی۔۔۔

ہم لاہور میں ہیں اور یہاں ہی پریکٹس کر رہی ہوں۔۔۔

میں نے ایسے ہی بات کی جیسے عام سی بات ہو میں نے کہا اور پروفیسر کیسے ہیں۔۔۔

اس نے بھی روانی میں کہہ دیا وہ بھی بالکل ٹھیک ہیں اور ایک دم ترتازہ۔۔۔

اتنی بات کرکے چپ ہو گئی اور پھر کچھ نہ بولی میری ہنسی نکل گئی اس نے بس اتنا کہا بلو تم ناں۔ اور فون کاٹ گئی۔۔۔

کالج میں ہی تھا کہ مجھے ایک کارڈ ملا کو میرے دوستوں کو بھی دیا گیا تھا۔۔۔

میں نے کھول کر دیکھا تو اس میں کسی کی سالگرہ کی پارٹی میں انوائیٹ کیا گیا تھا لیکن نام نہیں لکھا گیا تھا۔۔۔

شاہ کے گھر کا ایڈریس تھا میں سمجھا شاید شاہ کی سالگرہ ہو گی لیکن اس کی نہیں تھی پھر میرے ذہن میں ودحت آئی ۔۔۔

مجھے کنفرم تھا کہ یہ سالگرہ ودحت کی ہی ہے اس لیے میں نے نہ جانے کا فیصلہ کر لیا۔۔۔

شاہ نے مجھے کہا بلو تو نے لازمی آنا ہے اور یہ امی نے کہا ہے کسی اور نے نہیں۔۔۔

شاہ نے شاہ اور ڈنگے کو بھی کہا ساتھ اس نے ناصر کو بھی دعوت دی ۔۔۔

سب نے جانے کا فیصلہ کیا لیکن میں ذہنی طور پر تیار نہیں تھا۔۔۔

کالج کے بعد کا پروگرام تھا کیونکہ رات میں ممکن نہیں تھا کہ کوئی آتا۔۔۔

کالج سے نکل کر ہم سیدھے شاہ کے گھر کی طرف چل پڑے میں نے رستے میں بھی کئی بار واپس جانے کا کہا لیکن شاہد کو شاہ نے کوئی بات کان میں کہی تھی ۔۔۔

اس وجہ سے شاہد نے مجھے واپس نہ جانے دیا میں بھی مجبور ہو گیا تھا ان کے ساتھ چلتا گیا۔۔۔

شاہ کے گھر کے سامنے گئے تو دیکھا کہ ان کا گھر تو سجا ہوا تھا جیسے وہاں کسی کی شادی ہو۔۔۔

سب لڑکوں کو بیٹھک میں بٹھا کر شاہ اندر گیا تھوڑی دیر بعد وہ باہر نکل گیا واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں بڑے سائز کا کیک تھا۔۔۔

اس کے بعد شاہ مجھے اندر لے گیا گھر میں داخل ہوا تو شاہ کی والدہ نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔

مجھے اپنے ساتھ اندر کمرے میں لے گئیں اور ایک سوٹ دیا کہ یہ پہن لو پھر باہر آنے ایک ماں کا اپنے بیٹے کے لیے اور ایک دوست کا دوسرے دوست کے لیے تحفہ ہے اب دو لوگوں کے تحفے کو تم ٹھکرا نہیں سکتے۔۔۔

میں چپ کر گیا وہ باہر نکل گئیں میں نے وہ سوٹ پہنا باہر نکلا تو سامنے لڑکیوں کا جھرمٹ تھا جن میں تقریباً ساری کالج والی تھیں۔۔۔

ودحت نے میرا ہاتھ پکڑا اور اپنی خالا سے کہا خالا اجازت ہے انہوں نے ہنس کر کہا ہاں بیٹا۔۔۔۔

وہ مجھے لے کر ایک دوسرے کمرے میں لے گئی جہاں کوئی نہیں تھا اس نے دروازہ بند کیا ۔۔۔

پہلے مجھے گلے لگایا اس کے بعد ایک کوٹ مجھے پہنایا پھر جی بھر کر مجھے کسنگ کی ۔۔۔

میں اب پریشان ہونے لگ گیا تھا کہ یہ چکر کیا ہے ۔۔۔

اس کے بعد میرا بازو پکڑے وہ باہر نکلی تو برآمدے میں کیک سجایا جا چکا تھا ۔۔۔

سب لڑکیاں مجھے دیکھ کر ہنس رہی تھیں ودحت نے میرے سر پر ٹوپی رکھی ۔۔۔

شاہ کی امی بھی وہاں موجود تھیں انہوں نے میرے سر پر پر پیار دیا ۔۔۔

میرے ہاتھ میں چھری پکڑا کر کہا بیٹا۔۔۔۔۔





Source link

Leave a Comment