گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 64)

میں کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا میرے ساتھ ہو کیا رہا ہے ۔۔۔

میں نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن اٹھ نہ سکا آنٹی نے مجھے سہارا دیا تو میں اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔

آنٹی نے مجھے بٹھایا اور باہر گئی ایک نرس کے ساتھ اندر آئی نرس سٹریچر لے آئی تھی۔۔۔

میں نے اب تک جتنے بھی ہسپتال دیکھے تھے یہ ان ہسپتالوں جیسا نہیں تھا ۔۔۔

نرس کی وردی بھی الگ سی تھی جیسی ہمارے شہر میں تھی سفید رنگ کی وہ نہیں تھی۔۔۔

جب بھی نرس کا خیال آتا تھا تو سفید یونیفارم نظروں میں گھوم جاتا تھا لیکن یہاں نرس بھی رنگین یونیفارم میں تھی۔۔۔

دونوں نے مل کر مجھے سٹریچر پر بٹھایا اور نرس سٹریچر دھکیلتے ہوئے مجھے لیجانے لگی۔۔۔

میں آنکھیں پھاڑے ہسپتال کو دیکھ رہا تھا کہ یہ کہاں ہوں میں ۔۔۔

لیکن کوئی بھی عقدہ اس وقت تک پریشانی سبب رہتا ہے جب تک وہ وا نہیں ہو جاتا۔۔۔

جیسے ہی ہسپتال کے گیٹ پر پہنچے تو سب واضح ہوتا چلا گیا۔۔۔

یہ ہسپتال ہمارے ہی شہر کا تھا بس بدقمستی سے میں اس میں پہلی بار آیا تھا ۔۔

ایک مہنگا پرائیویٹ ہسپتال تھا جس کی فیس ادا کرنا عام بندے کے بس کا روگ نہیں تھا۔۔

اب میرے لیے حیرت کی کوئی بات نہیں تھی کہ عام سی عورت مجھے یہاں کیسے لے آئی۔۔۔

مجھ پر یہ تو واضح ہو ہی چکا تھا کہ وہ عام نہیں ہے بلکہ میرے ساتھ جو کچھ ہو رہا تھا وہ بھی کوئی عام سی بات نہیں ہے۔۔۔

مجھے باہر موجود ایک گاڑی میں بٹھایا گیا اور گاڑی چل پڑی ۔۔۔

کافی دیر چلنے کے بعد گاڑی ایک ویران سے ٹاؤن میں جا رکی جو شہر سے ہٹ کر تھا۔۔۔

اس ٹاؤن میں گنتی کے چند گھر تھے جو کافی دور دور بنے ہوئے تھے۔۔۔

ان میں سے ہی ایک گھر کے سامنے گاڑی رکی اور آنٹی نے مجھے سہارا دے کر اتار تو اندر سے ایک ملازم ٹائپ لڑکی نکلی کو دیکھنے میں بس عام سی تھی۔۔۔

لیکن اب میں عام سے لفظ سے باہر نکل چکا تھا کسی عام کو بھی عام نہیں سمجھ سکتا تھا۔۔۔

خیر ان دونوں عورتوں نے مجھے سہار دیا دونوں میرے بازو اپنے کندھوں پر رکھ کر مجھے اندر لے گئیں۔۔۔

گھر سنگل منزل پر مشتمل تھا اچھا بنا ہوا تھا اور حیرت کی بات کہ یہاں آنٹی کے علاوہ بھی ایک عورت موجود تھی۔۔۔

جو کسی ماڈل کی طرح لگتی تھی سلم سمارٹ خوبصورت نین نقش تھے۔۔۔

اس کے ساتھ اس کا شوہر بھی تھا آنٹی نے اس سے میرا تعارف کروایا کہ یہ میرا رشتہ دار ہے کچھ دن یہاں رہے گا جیسے ہی یہ ٹھیک ہو جائے گا اپنے گاؤں واپس چلا جائے گا۔۔۔

اس نے کہا ٹھیک ہے لیکن مجھے میرا گھر ویسے ہی چاہئیے جیسے دے رہی ہوں۔۔۔

تمہارا شوہر جب آئے اس کو بتانا کہ کرایہ اکاؤنٹ میں جمع کروا دے اور ایڈوانس بھی۔۔۔

مجھے لن کا بھی نہیں پتہ تھا میں تو بس لن کے اس کی پھدی پر نظریں جما بیٹھا تھا لیکن یہ تو مکان کی مالک تھی ۔۔۔

آنٹی اور اس کے نام نہاد شوہر نے یہ گھر کرائے پر لیا تھا جس سے لیا تھا وہ فیملی لاہور شفٹ ہو رہی تھی ۔۔۔

جاتے جاتے وہ ہدایات دے رہے تھے اس ماڈل ٹائپ عورت کا شوہر بھی کو وجووو ہی تھا جو اپنی بیوی کی بات پر صرف ہاں میں سر ہلا رہا تھا۔۔۔

مجھے ایک کمرے میں لٹا کر آنٹی باہر گئی اور کافی دیر بعد واپس آئی اور آتے ہی اس نے مجھے فون لا کر دیا۔۔۔

میرا فون تھا اس نے کہا یہ لو پتہ نہیں کس کس کا فون آتا رہتا تھا ایک نیا نمبر تھا کوئی جس پر نام نہیں آ رہا تھا اس سے بہت زیادہ کالز آئی ہیں۔۔۔

میں نے موبائل پکڑا آن کیا جو کہ بند تھا میں نے کال ہسٹری چیک کی تو بہت زیادہ آئی ہوئی تھیں۔۔۔

تقریباً سب جاننے والے تھے لیکن دو نمبر نئے تھے جن میں ایک تو پاکستان کا تھا لیکن دوسرا مجھے کہیں اور کا لگا۔۔۔

میں نے موبائل کو ایک طرف رکھ دیا اور آنٹی سے پوچھا مجھے کیا ہوا تھا ۔۔

آنٹی نے کہا پتہ نہیں کیا ہوا تھا تم بیہوش ہو کر گر گئے تھے تمہیں ہسپتال لے کر گئی تو تم وہاں دو دن بیہوش رہے ہو ۔۔

اس دوران صرف آنکھ کھولتے اور کچھ بڑبڑاتے رہتے تھے۔۔۔

سارے ٹیسٹ کروائے ہیں پھر ڈاکٹر کو کچھ سمجھ آئی اس نے دماغ کے اندر کسی شریان کی کوئی بیماری بتائی ہے ۔۔۔

جو دوائی دی ہے وہ اسی کے لیے ہے ہسپتال میں بھی جو دوائی دیتے رہے ہیں وہ بھی اسی مقصد سے تھیں۔۔۔

مجھے باقی باتوں کی سمجھ نہ آئی لیکن دو دن والی بات نے مجھے حیران کر دیا تھا ۔۔۔

میں پہلے بھی کئی بار دماغی سٹریس کی وجہ سے بیہوش ہو چکا تھا اس لیے بیہوش ہونے والی بات تو سچ تھی ۔۔۔

خیر جو بھی تھا وہ ہو چکا تھا میں نے سونے کی کوشش کی آنٹی نے مجھے دوائی کھلائی جو کھا کر میں سو گیا۔۔۔

میری آنکھ فون کی بیل سے کھلی میں نے لیٹے لیٹے فون رسیو کیا اور کان سے لگا لیا۔۔۔

دوسری طرف عابد بول رہا تھا اس نے کہا اس کو دے دینا پیسے اور فون بند کر گیا۔۔۔

صرف دو الفاظ ہی بولے تھے اس نے میں نے کوشش کی اور اٹھ کر باتھ روم گیا ۔۔۔

تازہ دم ہوا واپس کمرے میں آیا تو آنٹی میرے کھانے کے لیے لے آئی میں نے یخنی اور کچھ ہلکا پھلکا جو لائی تھیں وہ کھایا۔۔۔

اس کے بعد آنٹی سے پوچھا اس گھر میں جو میرا سامان تھا وہ بھی لائی ہیں۔۔۔

آنٹی نے کہا ہاں لائی ہوں میں نے ان سے بیگ لانے کا کہا اور شاہد کو فون کیا۔۔۔

شاہد کو سب سمجھایا اور عابد کا بھی بتایا کہ وہ پہنچ گیا ہے اس نے پیسے دینے کا کہا ہے۔۔۔

میں نے اٹھ کر کچھ دیر چہل قدمی کمرے کے اندر ہی کی اس کے بعد لیٹ گیا ۔۔

کافی دیر مجھے شاہد کا فون آیا کہ پیسے کہاں سے لینے ہیں میں نے اس کو اس گھر کا ایڈریس سمجھایا اور ساتھ یہ بھی کہا کہ یہاں آ کر اپنا نام بتا دینا تمہیں بیگ مل جائے گا ۔۔۔

شاہد کچھ دیر بعد وہاں پہنچ گیا تب تک میں آنٹی کو بتا چکا تھا کہ اس نام کا ایک لڑکا آئے گا اس کو یہ بیگ دے دینا۔۔۔

اس سے نہ تو زیادہ بات کرنے کی ضرورت ہے اور نہ ہی روکنے کی وہ آئے اس کو باہر سے ہی بیگ دے کر بھیج دینا۔۔۔

اس کام سے فارغ ہو کر میں نے ہاشم بھائی کو فون کرکے اپنی خیریت بتائی اور ایسے ہی ادھر ادھر کی پوچھتا رہا۔۔۔

ایک بات جو میں نے بھا ہاشم کو بتائی وہ شاہ زیب کی تھی ان سب کچھ بتا دیا کہ شاہ زیب بھی اسی گروپ کا بندہ ہے ۔۔۔۔

بھا ہاشم نے کہا تو پریشان نہ ہو وہ کچھ نہیں کر پائے گا اس میں اتنا پانی نہیں ہے ویسے بھی جب سے دارا پکڑا گیا اس کا کام ٹھپ ہو گیا ہے۔۔۔

بھا نے مجھے ایک اور بات بتائی کہ دارے خاں کا کیس پھر اوپن ہو گیا ہے اس نے اپیل دائر کی ہے۔۔۔

معاملات بگڑ رہے ہیں وہ جیل میں بیٹھ کر نئی سکیم لڑا رہا ہے سنبھل کر رہنا۔۔۔

میں نے کہا جی بھائی ٹھیک ہے امی جی اور ابا جی کا حال احوال پوچھا اس کے بعد فون بند کر دیا۔۔۔۔

میں ابھی پھر دوائی لے چکا تھا جس سے غنودگی چھانے لگی تھی۔۔۔

اسی دوران فون بج اٹھا میں نے فون رسیو کیا تو دوسری طرف ہنی تھی وہ بڑی ناراض ہو رہی تھی ۔۔۔

اس نے کہا اتنے دن سے فون کر رہی ہوں لیکن فون کیوں نہیں اٹھا رہے ۔۔۔

میں نے کہا تھوڑی سی طبیعیت خراب تھی ہسپتال میں تھا آج ہی گھر آیا ہوں۔۔۔

اس نے پریشان ہو کر پوچھا کیا ہوا طبیعیت کو میں نے کہا بس ہلکا پھلا سر درد رہتا تھا جس کی وجہ سے کوئی مسئلہ بن گیا اب ٹھیک ہوں۔۔۔

ابھی دوائی لی ہے جس سے مجھے نیند بھی آ رہی ہے ہم بعد میں بات کریں ۔۔۔

اس نے کہا ٹھیک ہے اور یہ میرا نمبر ہے میں اب یہاں ہی ہوں بڑے خاں جی نے مجھے فون لے کر دیا ہے۔۔۔

اس کے ساتھ بات کرتے کرتے میں نیند کی آغوش میں چلا گیا ۔۔۔

دوبارہ جب آنکھ کھلی تو شام ہو چکی تھی میں فریش ہوا اٹھ کر باہر نکلا تو پورا گھر خالی پڑا تھا ۔۔۔

گھر میں کوئی نہیں تھا میں نے سارا گھر چھان مارا مجھے کوئی نظر نہ آیا۔۔۔

میں کچن میں گیا وہاں کھانے کے لیے پھل مل گئے۔۔۔

میں نے پھل وغیرہ کھائے اور واپس کمرے میں آ گیا بندہ ایک جگہ رہ رہ کر اکتا جاتا ہے۔۔۔

میں تو ویسے بھی زیادہ دیر بند نہیں رہ سکتا تھا مجھے گھٹن ہونے لگی۔۔۔

میں اٹھا اور گیٹ کی طرف گیا تو گیٹ باہر سے بند تھا منہ لٹکا کر واپس آیا پھر چھت پر چلا گیا۔۔۔

چھت پر کھڑے ہو کر ارد گرد نظریں دوڑائیں سارا ٹاؤن ہی سائیں سائیں کر رہا تھا ۔۔۔

گنتی کے چند گھر تھے وہ لوگ بھی اندر دبک کر بیٹھ گئے تھے شاید کوئی بھی باہر نہیں نکلتا تھا۔۔۔

کافی دیر چھت پر کھڑا رہا پھر نیچے آگیا اور کمرے میں جا کر لیٹ گیا۔۔۔

اس سے کچھ دیر بعد آنٹی بھی آ گئی اس نے مجھے جاگتا دیکھ کر کہا میں ابھی کھانا لے آتی ہوں پہلے کھانا کھا لو ۔۔۔

وہ باہر نکل گئی پانچ منٹ بعد ہی وہ کھانا لے آئی اور میں نے کھانا کھایا۔۔۔

کھانا کھانے کے بعد آنٹی چائے لے آئی چائے پیتے ہوئے ہم ایک دوسرے کو دیکھ دیکھ کر مسکراتے رہے۔۔۔

میرا لن بھی مجھے تنگ کرنے لگا تھا کافی دن ہو گئے تھے کسی کی تنگ گلی میں گھسے ۔۔۔

آنٹی کے جسم کو تاڑنے لگا آنٹی بھی شرما رہی تھی جیسے پہلی رات کی دلہن ہو ۔۔۔

چائے پینے کے بعد آنٹی اٹھی اور برتن رکھنے چلی گئی۔۔۔

برتن رکھ کر واپس آئی اور میرے پاس بیڈ پر بیٹھ گئی اور میرا ہاتھ پکڑ کر بولی ۔۔۔

بلو میں تو ڈر گئی تھی کہ پتہ نہیں کیا ہو گیا ہے یہ تو تمہارے انکل نے مجھے سہارا دیا ۔۔۔

ان کے تعلق والا تھا اس ہسپتال میں جہاں تمہارا علاج ہوا ہے اس نے بتایا کہ یہ سب زیادہ سوچنے کی وجہ سے ہوا ہے۔۔۔

دیکھو جو ہو رہا ہے وہ ہونے دو یہ سب ہوتا رہے گا ویسے بھی تمہیں کافی پہلے چن لیا گیا تھا ۔۔۔

تمہاری ٹریننگ چل رہی ہے تمہیں سارے حالات و واقعات سے روشناس ہونا پڑے گا۔۔۔

جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا ویسے ویسے تم پر سب واضح ہوتا جائے گا۔۔۔

تم ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہو جن کو خود چنا جاتا ہے ورنہ لوگ کئی کئی سال کوششیں کرتے ہیں پھر بھی ناکام رہتے ہیں۔۔۔

میں نے آنٹی کا ہاتھ اٹھا کر چوم لیا ان کے پاس بیٹھنے سے میرے اندر صبر ختم ہو گیا تھا ۔۔۔۔

اس کے بعد آنٹی کچھ بولنے لگی تھی کہ میں نے اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔

ہونٹ چومنے لگا آنٹی نے میرے سر پر ہاتھ رکھ لیا اور بالوں میں انگلیاں پھیرنے لگی۔۔۔

آہستہ آہستہ ہمارا جوش بڑھنے لگا اور ہم ہونٹ چومنے سے سے چوسنے لگے۔۔۔

ہماری زبانیں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہو گئیں میرا ایک ہاتھ اس کے بڑے بڑے مموں کو دبانے لگا ۔۔

دوسرا ہاتھ آنٹی کی کمر پر پھرنے لگا آنٹی اٹھ کر میری گود میں آ گئی۔۔۔

اس کی گوشت سے بھری گانڈ میرے لن پر آئی میرا لن اس کی گانڈ کی دراڈ میں پھنس کر رہ گیا۔۔۔

اس نے بڑی گرمجوشی سے میرے ہونٹ چوسنے جاری رکھے ساتھ ساتھ اس نے اپنے دونوں ہاتھ کو بھی کام پر لگائے رکھا۔۔۔

ایک ہاتھ میری گردن پر رکھا اور دوسرے ہاتھ کو میرے سینے پر پھیرتے ہوئے بٹن کھولنے لگی۔۔۔

مجھے اس وقت پتہ چلا کہ میں نے تو پینٹ شرٹ پہنی تھی یہ شلوار قمیض پہنی ہوئی تھی۔۔۔

وہ بٹن کھولتی گئی میں اس کے بٹ دباتا رہا اس کو اٹھا اٹھا کر لن کر سیٹ کرتا رہا۔۔۔

میرا لن اس کی گانڈ کے پہاڑوں جیسے چوتڑوں میں غائب ہونے ہو گیا تھا۔۔۔

قمیض کے بٹن کھول کر اس نے میرے بازو اوپر کرکے قمیض اتار دی۔۔۔

میں نے بھی اس کی قمیض کو کھینچ کر بازوؤں سے نکال کر اتار دیا۔۔۔

قمیض اترتے ہی اس کے بڑے بڑے ممے برا میں سے باہر نکلنے کے لیے تڑپنے لگے۔۔۔۔

میں نے اس کو بازوؤں سے پکڑ کر پیچھے لٹا دیا اور خود بھی اس کے اوپر آ گیا ۔۔۔

اس کے ممںوں کو برا سے نکال لیا اور اپنے ہونٹ مموں کے درمیان رکھ کر چومنے لگا۔۔۔

مموں کے درمیان کو پسینے کی بو ہوتی ہے وہ لن کو جھٹکے کھانے پر مجبور کر دیتی ہے میں اسی پسینے کو اپنی زبان نکال کر چاٹنے لگا۔۔۔۔

نمکین ذائقہ اپنے معدے میں اتارنے لگا دونوں ہاتھ اس کے مموں پر رکھے ان کو دبا رہا تھا۔۔۔

آنٹی تڑپنے لگی تھی ا سنے بھی پتہ کب سے لن نہیں لیا تھا۔۔۔

لن کے لیے تڑپتی ہوئئ عورت کو مزید تڑپا کر جو مزہ آتا ہے وہ بھی ناقابل بیان ہے۔۔۔

میں نے ایک ممے کو ہاتھ میں پکڑا اور اپنا منہ اس پر رکھ دیا۔۔۔

زبان کی نوک سے نپل کے ساتھ چھیڑخانی کرنے لگا آنٹی کا ہاتھ میرے سر پر آ گیا اور وہ میرا سر دبانے لگی۔۔۔

میں جی بھر کر ممے کی نپل کو زبان سے رگڑ رہا تھا۔۔۔

آنٹی نے مجھے اپنی ٹانگوں میں دبا لیا اور پھدی کو لن پر رگڑنے لگی۔۔۔

وہ بڑی بے چین تھی لن لینے کے لیے۔۔۔

میں نے لن کو شلوار سمیت اس کی پھدی پر رگڑنا شروع کر دیا اور منہ کھول کر مما جتنا منہ میں جا سکتا تھا لے کر چوسنے لگا ۔۔

میں ممے کو کھینچ کھینچ کر چوس رہا تھا نیچے سے میرا لن آنٹی کی پھدی پر جو شلوار میں بند تھی رگڑ رہا تھا۔۔۔

آنٹی اپنا ایک ہاتھ نیچے لے گئی اور میرا ناڑا کھول کر لن باہر نکل لیا اور پھدی پر دبانے لگی۔۔۔

وہ بہت جوش میں تھی حد سے زیادہ گرم ہو چکی تھی اس سے ذرہ بھی برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔

اس نے خود ہی اپنی شلوار نیچے کی ٹانگیں لمبی کر لیں اور میرا لن پھدی پر لگا لیا۔۔۔۔

تھوڑی سی شلوار اتری تھی اس کی بھی اور میری بھی لن پھدی کے منہ پر تھا ۔۔۔

میرا منہ اس کے ممے کر لگا تھا اس نے نیچے سے گانڈ اٹھا کر پھدی میں لن گھسانے کی کوشش کی ۔۔۔۔

لیکن اس پوزیشن میں لن کا پھدی میں گھس جانا آسان نہ تھا اس نے کچھ ٹانگیں کھولیں پھر لن کو ہاتھ سے پکڑ کر پھدی پر لگایا۔۔۔

میری گانڈ پر ہاتھ رکھ کر مجھے نیچے دبایا لن سلپ ہو کر پھدی کے لبوں میں سیدھا ہو کر اوپر کو نکل گیا۔۔۔

لن پر اس کی پھدی کا رس لگنے لگا میرا اس کی پھدی کے پانی سے بھیگ گیا۔۔۔

میں نے دوسرا مما پکڑ کر چوسنا شروع کر دیا پہلے والے کے نپل کو ہاتھ میں پکڑ لیا اور دبانے لگا۔۔۔۔

اس سے جب برداشت نہ ہوا اور لن پھدی میں نہ گیا تو اس نے ٹانگوں کو آپس میں جوڑ لیا اور خود ہی لن سے پھدی پر رگڑ لگانے لگی۔۔۔

میں اپنے کام میں مگن رہا وہ اپنے میں لگی رہی اس کی سانسیں تیز ہو چکی تھیں میں نے اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے ۔۔۔

وہ بھی جوش سے ہونٹ چوسنے لگے اور میں نے لن کو اس کی ٹانگوں میں آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔

لن اندر جاتا پھدی کے لبوں میں رگڑ کھاتا واپس آتا اس کی پھدی کا لیس دار پانی لن کو چکنا کر رہا تھا۔۔۔

میں یکدم اس کے اوپر سے اٹھ گیا آنٹی نے میرا بازو پکڑ کر منت کے انداز میں مجھے دیکھا۔۔۔

وہ اس طرح کر رکی تھی جیسے کہہ رہی ہو نہ جاؤ میری پیاس بجھا دو اس طرح ادھورا نہ چھوڑو۔۔۔

میں نے ہاتھ چھڑوا کر شلوار تار پھینکی اس نے بھی جلدی سے اپنی شلوار اتار دی ۔۔۔

میں اس کی ٹانگوں میں آیا ٹانگیں اٹھائیں اور لن اس کی پھدی پر رکھ دیا۔۔۔

ٹانگوں کو کندھے سے لگا کر اس کے اوپر جھکتا چلا گیا۔۔۔

لن کو ہاتھ سے پھدی کے مورے پر رکھا اور ایک دم زور سے اندر گھسا دیا۔۔۔

آنٹی کے منہ آہہہہہہہہ اففففف کی آواز نکلی لن آدھا اندر گھس چکا تھا ۔۔۔

میں نے لن کو باہر نکالا اور پھر اسی زور سے گھسایا اس بار آنٹی کا پورا جسم لرز گیا اس کے منہ سے درد بھری آہ نکلی۔۔۔

لن اندر جا کر کسی نرم چیز سے ٹکرایا تھا میں نے ایک دو بار ایسے ہی زور دار انداز سے لن کو گھسایا ۔۔۔

ہر جھٹکے پر آنٹی کی آہ نکلتی لیکن میں رکنے والا نہیں تھا ۔۔۔

جب لن ہتھوڑا جیسا ہو اور اوپر سے پورا سخت بھی ہو تو بندے کا اپنی تسکین کے لیے عورت کی پھدی میں جاندار جھٹکے مارنا فرض ہو جاتا ہے۔۔۔۔

میں نے اچھل اچھل کر اس کی پھدی میں لن گھسانا شروع کر دیا۔۔۔

ٹانگوں کو اس کے مموں سے لگائے اس کی گانڈ اوپر کو اٹھی ہوئی تھی کس کی وجہ سے لن پھدی کی ساری رکاوٹوں کو توڑ کر بچہ دانی تک جا رہا تھا۔۔۔

آنٹی کی آہ و بکار شروع ہو گئی اس کے چہرے پر درد چھرے تاثرات تھے میں لن گھسانے میں لگا تھا۔۔۔۔

میں اس کی پرواہ کیے بغیر کوئی پانچ منٹ تک اسی پوزیشن میں پھدی کا تیا پانچا کیا۔۔۔

اس دوران وہ فارغ بھی ہو چکی تھی اس نے کہا اب پوزیشن بدل لو پلیز میری بس ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔

میں نے ٹانگیں چھوڑ دیں اور اس کو الٹا کر لیا الٹا لٹا کر اس کی گانڈ کے نیچے سے لن کو پھدی میں گھسا دیا۔۔۔۔

اس نے ٹانگیں کھولنے کی کوشش کی لیکن میں اس کو ایسا نہ کرنے دیا۔۔۔۔

لن پھدی میں پھنس پھنس کر جانے لگا میں نے اس کے اوپر لیٹ کر اس کی گردن پر ہونٹ رکھے اور اچھل اچھل کر پھدی میں لن گھسانے لگا۔۔۔۔

اب آنٹی کے منہ سے آہ آہ افففف اوئئ ماں آہ اہ آہ آہ آہ کی آوازیں آنے لگی تھیں۔۔۔

میں نے جی بھر پھدی میں لن گھسایا جب اس پوزیشن میں مجھے تھکاوٹ ہونے لگی تو میں نے اس کی گانڈ کو پکڑ کر اس کو اوپر کیا۔۔۔۔

اس کے ممے بیڈ پر لگے تھے اور گانڈ اوپر کو اٹھی تھی میں نے گانڈ پر تھپڑ مارتے ہوئے لن کو پھدی میں ایک ہی گھسے سے جڑ تک اتار دیا۔۔۔۔

پھدی کے پانی چھوڑنے کی وجہ سے لن اب بڑی روانی سے اندر جا رہا تھا اور میں یہ نہیں چاہتا تھا۔۔۔

میں دائیں بائیں نظر دوڑائی مجھے ٹشو کا ڈبہ نظر آیا میں نے لن نکالا اور ٹشو سے لن کو صاف کیا۔۔۔۔

پھر اس کی پھدی کو بھی اچھی طرح پونچھا ۔۔۔

اس کے بعد لن کو پھدی پر رکھا اور ایک دم پوری طاقت سے لن کو پھدی میں گھسا دیا آنٹی کے منہ سے ایک زور دار چیخ نکلی اور وہ بیڈ پر لیٹتی گئی میں نے ہوش سے کام لیا ۔۔

آنٹی کو اوپر اٹھایا کیونکہ وہ پریگننٹ تھی اس طرح اگر میں اس کے اوپر جاتا تو اس کو نقصان ہو سکتا تھا۔۔۔

آنٹی اوپر اٹھایا تو اس کےچہرے پر بہت زیادہ درد بھرے تاثرات تھے۔۔۔

اس کا ہاتھ اس کے پیٹ پر تھا وہ رو رہی تھی اس کو دیکھ کر اس کے پیٹ میں ہونے والی گڑبڑ کا سوچ کر میں پریشان ہو گیا۔۔۔۔

میری سمجھ میں کچھ نہ آیا وہ لمبی ہوتی گئی اس کی آنکھیں بند ہونے لگیں۔۔۔

میں خود پریشانی سے ہاتھ پاؤں مارنے لگا مجھے لوڑے کا پتہ تھا جب کوئی عورت حاملہ ہو تو اس کو کن مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔۔۔۔

آنٹی نے ہاتھ اٹھا کر میرا ہاتھ پکڑا اور کراہنے لگی۔۔۔​​



Source link

Leave a Comment