میرا لوڑا امی کی چدائی ابو اور ذیشان سے ہوتے دیکھ کر بری طرح پھڑپھڑانے لگا تھا۔
ادھر پھوپھا نازو کےمنہ میں اپنا لوڑا ڈالے اس کا منہ چود رہے تھے۔امی نے جو مجھے اپنی طرف ترستی نگاہوں سے دیکھتے پایا تو مجھے اپنے پاس آنے کا اشارہ کیا۔میں اپنے جھٹکے مارتے لوڑے کے ساتھ امی کے پاس چلا آیا اور امی کے چہرے کے پاس گھٹنوں کے بل کھڑا ہو گیا ۔امی نے میرے لوڑے کو اپنے منہ میں لیا اور چوسنے لگ پڑیں۔
آاااااااااااااہ
ام ام مم امی
سس سس سس
میرے منہ سے سسکیاں نکلنے لگیں۔
میں بڑے غور سے ابو کا لوڑا امی کی چوت میں اندر باہر ہوتے دیکھ رہا تھا۔
جب جب ابو کا لوڑا امی کی چوت کے لبوں کو چیرتا ہوا اندر جانے لگتا امی کی چوت ابو کے لوڑے کو اپنے اندر مکمل سمو لیتی اور جیسے ہی ابو کالوڑا واپس چوت سے باہر آتا تو چوت کے لب پھڑپڑانے لگتے ۔
کچھ دیر تک یونہی امی کو چودتے رہنے کے بعد ابو نے امی کی چوت سے اپنالوڑا باہر نکالا ۔۔۔
روحان ۔۔۔آؤ بیٹا اب تم اپنی امی کو چودو
یہ کہہ کر ابو امی کے اوپر سے ہٹ کر اپنا لوڑا لہراتے ہوئے نازو کی جانب بڑھ گئے۔
بب بب بیٹا مجھے کچھ دیر سانس تو لینے دو
امی نے ذیشان سے کہا۔۔
جو امی کی گانڈ مارنے میں لگا ہوا تھا۔
ذیشان نے امی کی گانڈ سے اپنا لوڑا باہر کھینچا اور صوفے پر ہی امی کے ساتھ بیٹھ گیا۔
امی بھی ہانپتے ہوئے کمر سیدھی کرنے لگیں۔میں بھی امی کے برابر ہی بیٹھ گیا۔
ادھر ابو اور پھوپھا نازو کے سامنے گھٹنوں کے بل کھڑے تھے اور نازو جھکی ہوئی کبھی ابو کا لوڑا چوستیں تو کبھی پھوپھا کا لوڑا چاٹتیں ۔ابو اور پھوپھا کے چہرے مارے جذبات کے سرخ ہو رہے تھے اور انکے منہ سے ہلکی ہلکی آہیں نکلے جا رہی تھیں۔
میں نے امی کی طرف دیکھا تو ان کا چہرہ بھی گلابی ہو رہا تھا اور وہ بھی اپنے شوہر کو اپنی نند سے لطف اندوز ہوتے ہوئے دیکھ کر مارے شہوت کے بھڑکنے لگی تھیں۔
میرے کمینے دماغ میں اچانک ایک آئیڈیا آیا اور میں نے ذیشان سے نیچے فرش پر بیٹھنے کا کہا ۔۔
ذیشان کچھ نہ سمجھتے ہوئے نیچے بیٹھ گیا۔اب میں نے ذیشان کی ٹانگوں کو اپنی گود میں لیکر کھینچا یہاں تک کہ ہم دونوں کے لوڑے ایک دوسرے سے ٹکرانے لگے۔ اب میں نے امی کو اشارہ کیا تو امی بھی ہماری پوزیشن سمجھتے ہوئے اٹھیں اور پہلے تو جھک کر ہمارے لوڑوں کو اپنے ہاتھوں میں پکڑ کر ملایا۔۔ اور تھوک کا ایک گولا سا ہمارے لوڑوں پر پھینکا پھر دونوں لوڑوں ایک ساتھ منہ میں لیکر ایک زوردار چوپا لگایا جس سے ہمارے لوڑے گیلے ہونے سےچمکنے لگے ۔پھر امی نے اپنی ٹانگیں ہماری ٹانگوں کے دائیں بائیں کیں اور نیچے بیٹھنا شروع ہوئیں۔اب امی کے چوتڑوں کا رخ میرے چہرے کی جانب اور امی کے مموں کا رخ ذیشان کی جانب تھا ۔جونہی امی کی چوت ہمارے لوڑوں سے ٹکرائی امی نے ہمارے لوڑوں کو ایک ساتھ ملاتے ہوئے مزید نیچے ہونا شروع ہوا ۔
اب ہمارے لوڑے ایک دوسرے کے ساتھ جڑے جڑے امی کی چوت میں داخل ہونے لگے۔
آااااااااااہہہہہہہہہہہہ
اوووووووئی
افففففففففف
ہم تینوں کے منہ سے آہیں اور سسکیاں نکلیں۔
نازو،پھوپھا اور ابو نے جب ہماری سسکیاں سنیں تو اپنی لنڈچسوائی چھوڑ کر ہماری طرف دیکھنے لگے۔
ایسا منظر بھلا ان لوگوں نے پہلے کہاں دیکھا ہوگا۔
اب امی ہمارے لوڑوں پر آہستہ آہستہ اچھلنے لگیں مگر کچھ ہی دیر میں تھکنے لگیں۔ظاہری سی بات ہے ایک سنگل لوڑے پر اچھلنے کی نسبت ڈبل لوڑوں پر اچھلنا مشکل طلب ہے۔
امی کو تھکتا دیکھ کر پھوپھا آگے بڑھے اور انہوں نے امی کے بازوؤں کو تھام کر امی کو سنبھالا۔
اب میں نے امی کے چوتڑوں پر اپنے ہاتھ جمائے اور دوسری طرف سے ذیشان نے امی کی رانوں کو پکڑا ۔۔
اور ہم نے ایک ساتھ امی کو اوپر اٹھایا ہمارے لوڑے امی کی چوت کے کناروں پر ہی پہنچے تھے کہ ہم نے ایک دم سے امی کو چھوڑا اور ساتھ ہی پھوپھا نے نیچے دباؤ ڈالا۔۔
اس زوردار جھٹکے سے ہمارے لوڑے امی کی چوت کو چیرتے ہوئے جڑ تک ایک ساتھ گھس گئے۔
اووووووئی مم ماااااااااں
امی کے منہ سے ایک تیز چیخ نکلی۔۔
اب تو جناب ہمارے لوڑے تھے اور امی کی چوت
امی سسکیوں پر سسکیاں لیتی رہیں اور ہم آہوں پر آہیں بھرتے رہے۔ہمارے لوڑے اب کچھ تیزی سے امی کی چوت کے اندر باہر ہورہے تھے۔
بب بس بب بس میرے بچوں اب اور نہیں
افففف
تھک گئی ہوں بہت
امی ہانپتے ہوئے بولیں۔۔
اور ساتھ ہی ہمارے لوڑوں پر سے اٹھ کر نیچے ہی بے دم ہوتی فرش پر لیٹ گئیں ۔
میں نے دیکھا ہم بھائیوں کے لوڑے امی کی چوت کے جوس سے بھیگے ہوئے چمک رہے تھے۔
نازو اٹھ کر ہمارے پاس آئیں اور اپنے ایک ہاتھ میں میرے لوڑے کو پکڑا اور دوسرے ہاتھ سے ذیشان کے لوڑے کو تھاما اور امی کے جوس میں بھیگے ہمارے لوڑوں کو چاٹنے لگیں اور ساتھ ساتھ تیزی سے ہمارے لوڑوں کی مٹھ مارنے لگیں۔۔ابھی کچھ ہی دیر گزری ہوگی کہ پہلے ذیشان کے منہ سے ایک تیز
آاااااااااااااہ
افففففففففف
سسکی نکلی اور اس کے لوڑے نے اپنا جوس نکالنا شروع کیا۔ نازو نے فوراً ہی ذیشان کے لوڑے کا رخ اپنے مموں کی طرف کرا اور اسکے لوڑے سے منی کے فوارے نازو کے مموں کو نہلانے لگے ۔
پھر کچھ دیر بعد ہی
نن نااااااااازو
مم میں اففففففف
آاااااااااااااہ
میرے منہ سے غراہٹ آمیز آواز نکلی اور ساتھ ہی منی کی ایک لمبی پچکاری نے نازو کے منہ کو بھگودیا اور اس سے پہلے کے منی کی پچکاریاں ادھر ادھر گرنے لگتیں نازو نے میرے لوڑے کو اپنے منہ میں بھر لیا اور گھونٹ گھونٹ اپنے حلق میں اتارنے لگیں۔
میرے لوڑے کا جوس پی کر نازو نے لوڑے کو اچھی طرح سے چاٹ کر صاف کر دیا ۔ امی بھی یہ منظر آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھیں اچانک ہوش میں آئیں اور آگے بڑھ کر نازو کے مموں پر لگے ذیشان کے لوڑے کے جوس کو چاٹنے لگیں۔
بھئی بچے تو فارغ ہو گئے اب ہمارا بھی تو کچھ کرو نا۔
ابو نے اپنا لوڑا ہلاتے ہوئے کہا۔۔
اب ڈبل دھمال کا وقت آگیا ہے بھائی ۔۔
پھوپھا نے یہ کہتے ہوئے امی کو کھڑا کیا اور نیچے بیٹھتے ہوئے امی کی ٹانگیں کھول کر امی کی چوت میں اپنا منہ گھسیڑ لیا اور چاٹنے اور چوسنے لگ پڑے۔۔
اففففففففف بب بھائی کیوں ترسا رہے ہو
امی سسکتے ہوئے بولیں ۔۔
ابو امی کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لیے کسنگ کر رہے تھے ۔اب نازو نے امی کے ممے دبانے اور نپلز مسلنے شروع کردیے ۔تین طرفہ مزا امی کی چوت میں سلگتی ہوئی آگ کو مزید بھڑکائے جا رہا تھا۔
پھر ابو نے پھوپھا کو اشارہ کیا اور نازو کو پیچھے کیا۔
پھوپھا کھڑے ہوئے ۔ان کا موٹا تازہ لوڑا پھنپھناتے ہوئے لہرا رہا تھا ۔پھوپھا نے لوڑے کو پکڑ کر امی کی چوت پر رگڑا۔۔
آااااااااااہہہہہہہہہہہہ
امی کی سسکی نکلی ان کی چوت سے ٹپکتے رس سے پھوپھا کا لوڑا چکنا ہو گیا تھا۔
پھوپھا نے ہلکا سا دباؤ ڈالا اور لوڑا چوت میں گھستا چلا گیا ۔امی چونکہ پہلے ہی ہم دونوں بھائیوں کے لوڑے ایک ساتھ چوت میں لے چکی تھیں تو انہیں پھوپھا کے موٹے لوڑے کو لینے میں ذرا بھی دشواری نہیں ہوئی ۔
اب پھوپھا نے امی کی ایک ٹانگ کو اٹھا کر اپنی گانڈ پر جمایا اورساتھ ہی ابو نے پیچھے سے امی کی دوسری ٹانگ کو اٹھایا اور امی نے اپنی دوسری ٹانگ بھی پھوپھا کی گانڈ پر جما دی اب ایک طرح سے امی پھوپھا کی گود میں تھیں اور پھوپھا امی کو اپنی بانہوں میں لیے ہوئے تھے ۔
ابو نے امی کے چوتڑوں کو اپنے ہاتھوں میں تھاما اور اپنے تنے ہوئے۔۔ اکڑے ہوئے ۔۔لوڑے کا رخ امی کی گانڈ کے سوراخ کی طرف کیا اور ایک ہی جھٹکے میں لوڑا امی کی گانڈ میں گھسا ڈالا۔
آاااااااااااااہ
مم م م م م م م
امی اور ابو کے منہ سے ایک ساتھ آہ برآمد ہوئی
پھوپھا کا لوڑا امی کی چوت میں اور ابو کا لوڑا امی کی گانڈ میں جڑ تک گھسا ہوا تھا ۔اتنی جڑ تک کہ ابو کے ٹٹے امی کی گانڈ کے سوراخ سے اور پھوپھا کے ٹٹے امی کی چوت کے سوراخ سے ٹکرا رہے تھے۔
اب دونوں نے ہلنا شروع کیا۔۔
تھپ۔۔ تھپ ۔۔تھپ کی آوازیں کمرے میں گونج رہی تھیں ۔
ہم دونوں بھائی نیچے بیٹھے اپنی امی کی گانڈ اور چوت
،دونوں سوراخوں میں اپنے ابو پھوپھا کے لوڑوں کواندر باہر ہوتا دیکھ رہے تھے ۔
تینوں چدائی کرتے نفوس کی آہوں اور سسکیوں سے کمرہ گونجے جا رہا تھا۔
کہ
۔۔۔
۔۔۔
۔۔۔
۔۔۔
اففففففففففف باجی مم مم
میں۔۔۔۔
میں گگ گیا۔۔۔
میں گیا۔۔
پھوپھا کی لرزتی ہوئی آواز ہمارے کانوں میں پڑی
رر رک رک رکنا مت بھائی
افففففف
آاااااااااااااہ
مم میں مم م م م م
میں بھی آئی
اووووووئی
امی کی ہانپتی ہوئی آوازبھی ساتھ ہی سنائی دی
اور ساتھ ہی امی کی چوت میں پھوپھا کا لوڑا اپنے جوس کی پھواریں برسانے لگا اور امی کی چوت کے لب یوں کھلنے اور بند ہونے لگے جیسے پھوپھا کا جوس ان کی تڑپتی ۔۔سلگتی ہوئی ۔۔چوت کو ٹھنڈا کرنے میں لگا ہو اور ان کی چوت پھوپھا کے لوڑے کا سارا جوس پی کر سیراب ہونے لگی ہو۔
امی کی چوت سے ان کا اور پھوپھا کا ملا جلا جوس ٹپک رہا تھا اور بہتے ہوئے ان دونوں کی ٹانگوں سے نیچے جا رہاتھا۔
ابو کا چہرہ بہت لال ہورہا تھا اور لگ ہی رہا تھا کہ ان کا بھی بس نکلنے والاہے ۔۔۔
تبھی اچانک
اففففففففففففف۔۔ ہانیہ
ابو کی تیز آواز کمرے میں گونجی اور ابو نے امی کے کندھے پر اپنے دانت گاڑ دیے۔
اور ایک زوردار جھٹکا مارا اور ساتھ ہی ابو کا لوڑا امی کی گانڈ میں پچکاریاں چھوڑنے لگا۔
ہم سب ایک بھرپور چدائی کے بعد سستا رہے تھے اور ایک دوسرے کی طرف دیکھ کر مسکرا رہے تھے ۔امی اور نازو کے چہروں پر شرمگیں مسکان جگمگا رہی تھی اور ہم دونوں بھائی آئندہ ہونے والے چدائی کے پروگرام کا سوچ رہے تھے اور ہمارے چہروں پر کمینی سی مسکراہٹ چھا رہی تھی۔