ہم گاؤں سے باہر نکلے تو بھا نے مجھے ایک ریوالور پکڑایا اور کہا یہ رکھ لو ۔۔۔
میں مسکرایا اور ریوالور لے لیا۔۔۔
بھا نے کہا احتیاط ضروری ہے کیونکہ شاہ زیب بہت بڑا کمینہ ہے۔۔۔
ہم اپنے گاؤں سے جس علاقے کی طرف جا رہے تھے وہ علاقہ بڑا ویران سا تھا دریائے بیاس کا چھوڑا ہوا ریتلا علاقہ تھا۔۔۔۔
پنج دریاؤں کی اس دھرتی پنجاب میں پانچواں دریا دریائے بیاس پے جو کبھی اس علاقے میں بڑے زور شور سے بہتا تھا ۔۔۔۔
سندھ طاس معاہدے کے تحت اور کچھ بھارت کی بیغیرتی کی وجہ سے یہ دریا پاکستانی سرحد میں داخل ہوتے ہی ویران ہو جاتا ہے۔۔۔
انڈیا نے اس دریا پر کئی ڈیم بنا رکھے ہیں جہاں وہ اس دریا کا سارا پانی ذخیرہ کر لیتا ہے۔۔۔۔
ٹیڑھی میڑھی سڑک تھی جس پر ہم جا رہے تھے بھا نے مجھے ایک جگہ رکنے کا کہا۔۔۔
میں نے بائیک روکی تو بھا نے کسی کو فون کیا اور کہا چلو ٹھیک ہے۔۔۔
مجھے بھی اسی وقت بارش کا فون آیا اس نے بتایا کہ شاہ زیب ایک جگہ رک گیا ہے اڈ کے ساتھ پانچ بندے ہیں۔۔۔
مجھے اس کی بات کی سمجھ آ گئی کہ وہ ان کے پیچھے ہی لگا ہوا ہے۔۔۔
میں نے بارش کو سمجھایا کہ تم ان سے دور ہو جاؤ پیچھے لگے رہنے کی ضرورت نہیں ہے ۔۔۔۔
ناصر کو میں نے کہا اپنے بندے کو کہو شاہ زیب کے پاس سے نکل جائے۔۔۔
ناصر نے کہا ارشد بھی پہنچ رہا ہے اور اس کے ساتھ شاہد بھی ہے۔۔۔
میں نے اس کو کہا بھی کہ اس کی ضرورت نہیں ہے ہم ہینڈل کر لیں گے۔۔۔
ناصر نے میری بات پر کوئی دھیان نہ دیا اور فون بند کر دیا۔۔۔
بارش کا فون آیا کہ شاہ زیب کو ان پر شک ہو گیا تھا وہ فائرنگ کرتے ہوئے نکل گیا ہے اور سفارش کو گولی لگی ہے۔۔۔۔
میں نے بائیک سٹارٹ کی اور تیز رفتاری سے ان کے پاس پہنچا ۔۔۔
سفارش کو بائیک پر بٹھا کر وہاں سے ان کے ڈیرے پر لے جانے لگے تو بھا نے کہا ان کو میں لے جاتا ہوں۔۔۔
میں نے کہا آپ کہاں لے جائیں گے میں اس کی گولی نکلوا لوں گا۔۔۔
بھا نے کہا یار تو چھوڑ ان سب باتوں کو میرا ایک دوست ہے اوکاڑہ میں ڈاکٹر ہے اس کے پاس لے جاتا ہوں۔۔۔
مجھے شاہ زیب کے ساتھ ہسپتال میں ملنے والی ڈاکٹر یاد آئی یقیناً بھا اس کے ساتھ رابطے میں تھا تبھی تو بھا یہ کہہ رہا تھا۔۔۔
میں نے کہا چلیں ٹھیک ہے بارش کو بھی میں نے بتایا کہ بھا آپ لوگوں کے ساتھ چلتا ہے ۔۔۔۔
اسی دوران ارشد کا فون آیا کہ وہ ہمارے قریب پہنچ گئے ہیں۔۔۔
بھا کو میں نے کہا بائیک کی بجائے گاڑی پر لے جائیں آسانی رہے گی۔۔۔
دو تین منٹ میں ہی ارشد ہمارے پاس پہنچ گیا بھا سفارش بارش کو ساتھ لے گیا اور ارشد کے ساتھ جو لڑکے تھے ان کو بائیک دے دی۔۔۔۔
وہ لوگ اوکاڑہ کی طرف اور ہم واپس چل پڑے ناصر سے شاہ زیب کی موجودہ لوکیشن پوچھی تو اس نے بتایا کہ شاہ زیب یہاں سے کسی اور طرف چل پڑا ہے۔۔۔
ہم نے واپسی کا سفر شروع کیا میں سیدھا گاؤں آیا اور دوسرے لڑکے شہر چلے گئے۔۔۔
گھر آ کر جب سونے کے لیے لیٹا تو کافی دیر ہو چکی تھی میرا ریوالور میرے پاس تھا ساتھ میں بھا نے جو دیا وہ بھی تھا۔۔۔
فجا جاگ رہا تھا میں نے دونوں ریوالور نکال کر تکیے کے نیچے رکھے ۔۔۔۔
فجا چونک کر میری طرف دیکھنے لگا اور بولا یار بلو تو کن چکروں میں پڑ گیا ہے۔۔۔
دفعہ کر اس سب کو بلاوجہ کے ان جھمیلوں سے کیا ملے گا۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا تمہیں پتہ ہے یہ تو نشہ ہے اس کے کتنے نقصانات ہیں اس میں جو پیسہ ضائع ہوتا ہے سو ہوتا ہے بندہ بھی صائع ہو جاتا ہے۔۔۔
کئی ایسے لوگ دیکھے ہوں گے تم نے جو صرف نشے کی لت لگنے سے سب کچھ لٹا چکے ہیں اور آج بھک منگے بنے پھر رہے ہیں۔۔۔
اگر اس کو ہم روک نہیں سکتے تو کم از کم کوشش تو کر سکتے ہیں ۔۔۔
میں بھی کوشش کر رہا ہوں میں اکیلا نہیں ہوں کئی ایسے لڑکے ہیں جو اس سب میں میرا ساتھ دے رہے ہیں۔۔۔
چلو ایک بات بتاؤ تم اس دن کہہ رہے تھے کہ ہمارے گاؤں میں بھی کچھ لوگ نشے کے عادی ہیں۔ ان پر کبھی غور کیا ہے وہ سارا دن کیا کرتے ہیں۔۔۔
فجے نے کہا کبھی کہاں گرے پڑے ہوتے ہیں کبھی کہاں اور وہ چوری کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔۔۔
میں نے کہا تو اس کا کیا مطلب ہے۔۔۔
فجے نے کہا وہ لوگ نشے کے عادی ہیں اور جب ان کو مل جاتا ہے تو بیہوش ہو کر گر جاتے ہیں جب نہیں ملتا تو چوری کرتے ہیں۔۔۔
میں ہنسا اور کہا تو چاہے گا کہ آنے والی نسل جو ہماری اولاد ہو وہ بھی یہ سب کرے اسی طرح ذلیل ہو لوگوں کی باتیں سنے ہمارا سر شرم سے جھکائے۔۔۔
فجے نے کہا میں کیوں ایسا چاہوں گا۔۔۔
میں نے کہا تو میری بات غور سے سن اور سمجھنے کی کوشش کر یہ جو کچھ بھی میں یا میرے دوست کر رہے ہیں یہ صرف ان لوگوں کے خلاف ہے جو نشہ بیچتے ہیں اور نوجوان نسل کو اس کا عادی بناتے ہیں۔۔۔
فجے نے پوچھا تجھے ان لوگوں کا پتہ کیسے چلا۔۔۔
میں نے کہا دیکھو تو جانتا ہے میں کالج میں پڑھتا ہوں ان لوگوں نے سب سے پہلے جس چیز کو نشانہ بنانا ہوتا ہے وہ ہے کالج کے لڑکے جو نئے نئے کالج جاتے ہیں اور شوق شوق میں سگریٹ پینے لگ جاتے ہیں۔۔۔
پہلے پہل وہ لڑکے جو ان کے ایجنٹ ہوتے ہیں وہ ان لڑکوں کو شوقیہ سگریٹ پلانے لگتے ہیں جو تقریباً ہر تیسرا لڑکا پینے کا عادی ہوتا جا رہا ہے۔۔۔
جب وہ سگریٹ پینے لگتے ہیں تو پھر ان کو پکا سگریٹ دینے لگتے ہیں شروع میں ایک دو کش تک رہتے ہیں اس کے بعد جب چرس ان کو دنیا کی ہر چیز سے اچھی لگنے لگتی ہے تو وہ خود مانگنے لگ جاتے ہیں۔۔۔
اگلا طریقہ ان کا بڑا سادہ ہوتا ہے صاف انکار کر دیتے ہیں کہ بھائی ہمارے پاس اب ختم ہو گئی خریدنی پڑے گی ۔۔۔
ایسے کرتے کرتے وہ لڑکے ان کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں اور پھر پھنستے چلے جاتے ہیں۔۔۔
اب میری بات پر غور کرو اگر یہ آج اس حد تک ہیں تو آنے والے سالوں میں یہ کتنے منظم ہو جائیں گے ۔۔۔
فجا میری بات سمجھ گیا تھا اس نے کہا چل اٹھ میرے ساتھ چل ۔۔۔
میں نے پوچھا بھی کہا لیکن اس نے کچھ بھی نہ بتایا اور مجھے ساتھ لے کر بیٹھک کو باہر سے کنڈی لگا کر لے گیا۔۔۔
وہ گاؤں کے اندر جانے کی بجائے باہر کی طرف چل پڑا سڑک پر آ کر اس نے ایک پگڈنڈی پر چلنا شروع کر دیا۔۔۔
میرے پاس دونوں ریوالور تھے ہم آگے بڑھتے گئے وہ فصلوں کے بیچوں بیچ چلتا ہوا کماد کے کھیت میں داخل ہو گیا۔۔۔۔
میں نے اس کو روک کر پوچھا ادھر کہا جا رہے ہو مجھے کچھ بتاؤ گے بھی یا نہیں۔۔۔
وہ رکا اور بولا یہاں شراب کی ایک بھٹی لگی ہوئی ہے جہاں ہمارے ہی گاؤں کا ایک آدمی شراب کشید کرتا ہے اور بیچتا ہے۔۔۔
میں نے کہا تو اس کے بارے میں پولیس کو بتانا چاہئیے تھا ۔۔۔
اس نے کہا کئی بار بتا چکے ہیں پولیس والے خود یہاں آ کر اس سے لے جاتے ہیں اور ہفتہ وصول کرتے ہیں ۔۔۔
میں نے ریوالور کو چیک کیا اس کا سکیورٹی کیچ ہٹایا اور آگے بڑھ گیا۔۔۔
وہ کھیت کے بالکل درمیان میں لے گیا وہاں جس کر دیکھا تو تین چار جگہ پر شراب کے بڑے بڑے ڈرم موجود تھے اور تین لوگ بیٹھے تھے۔۔۔۔
مجھے حیرت کا ایک جھٹکا لگا ان میں شاہ زیب بھی موجود تھا اور اس کے ہاتھ میں ایک جام تھا۔۔۔۔
مجھے دیکھ کر اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔
میں نے دونوں ریوالور سیدھے کر کے ان پر تان لیے وہ تینوں اس وقت نہتے تھے۔۔۔
شاہ زیب کی بولتی بند ہو چکی تھی میں نے کہا چلو چپ چاپ کھڑے ہو جاؤ ۔۔۔
شاہ زیب نے کہا بلو دیکھو تم میرے بھائی ہو ہاشم کے بھائی ہو تو میرے بھی بھائی ہو ۔۔۔۔
میں نے شراب کے ڈرم پر فائر کر دیا ڈرم پھٹ گیا ساتھ ان تینوں کی بھی پھٹ گئی۔۔۔
فجا حیرت سے کبھی مجھے اور کبھی شاہ زیب کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
میں نے فجے کو کہا ان کو باندھو ان کی شلواروں سے ناڑے نکال لو تینوں کو ایک ساتھ باندھ دو۔۔۔۔
فجا ایک منٹ میں ہی آگے بڑھ گیا اس نے ان تینوں کو باندھنا شروع کر دیا ۔۔۔۔
جب وہ ان تینوں کو باندھ چکا تو اس نے مرغ مسلم کا بڑا سا ٹرے اٹھایا اور بیٹھ کر کھانے لگا۔۔۔۔
میں نے تینوں ڈرموں کو الٹا دیا وہاں جو کچھ بھی سب ضائع کرنے لگا۔۔۔۔
شاہ زیب کے علاوہ جو لوگ وہاں موجود تھے وہ دونوں ہمارے گاؤں کے تھے۔۔۔۔
ایک ہمارے گاؤں کا نائی تھا دوسرا ہماری ہی برادری کا تھا لیکن وہ ڈنگی کا چچا زاد تھا۔۔۔۔
فجا بھی حیران تھا اس نے مجھے کہا یار یہ ڈنگی کا چچیر ایتھے کیوں اے پہلے تاں کدی نیں سنیا نہ ویکھیا۔۔۔۔
میں ہنسا اور بولا دارے خاں کو جانتے ہو۔۔۔
اس نے کہا ہاں جانتا ہوں۔۔۔
یہ اس کا خاص بندہ ہے دوسرا اس کا پارٹنر ہے دونوں یہاں کیوں موجود ہیں یہ میں جانتا ہوں۔۔۔۔
ہاں تو شاہ زیب صاحب اب بتائیں آپ ہمارے گاؤں پر حملہ کرنے والے تھے ۔۔۔۔
میری بات سن کر ڈنگی کا کزن چونکا اور میری طرف دیکھا اس کی نظروں میں سوال تھا۔۔۔
میں نے کہا دیکھ بھائی آپ مجھ سے بڑے ہیں لیکن میں جو کچھ جانتا ہوں وہ آپ نہیں جانتے ۔۔۔
مجھے اندازہ ہوا کہ شاہ زیب کو نہیں پتہ کہ وہ اس وقت کہاں ہے اور ڈنگی کا کزن کون ہے ۔۔۔۔
میں شاہ زیب کے قریب گیا اس کو کھول کر الگ کیا اور فجے کو کہا اس کو علیحدہ باندھ دو اس کا حساب کرنا ہے میں نے۔۔۔۔
جب وہ اس کو لے گیا تو میں باقی دونوں کے پاس بیٹھ گیا اور میں نے ان کو کہنا شروع کیا۔۔۔۔
دیکھیں ہم ایک ہی گاؤں کے ہیں اور ہم نے یہاں ہی رہنا ہے جبکہ یہ بندہ جو ہے شہر کا ہے۔۔۔
دارے خاں کے سارے کام آج کل یہ سنبھال رہا ہے اس کا حصے دار تھا سارے گندے کاموں میں ۔۔۔۔
کل دن کو ہم نے اس کے ایک ٹھکانے سے بیس لڑکیاں بازیاب کروائی ہیں جن کو یہ لوگ اغوا کرکے بیچتے ہیں۔۔۔
دارے خاں پر بھی یہ سب کیس ہیں منشیات فروشی اغواء وغیرہ کے لاتعداد کیس ہیں۔۔۔
دارے خاں جب اندر ہو گیا تو اس نے اس کو پکا پکا پار کروانے کا پلان بنایا ہے جو بندہ اپنے اس ساتھی کو دھوکا دے سکتا ہے جو اس کو سب کچھ دے اور اپنے دوستوں کے ساتھ دغا کرے اس سے اچھائی کی توقع نہیں رکھی جا سکتی۔۔۔۔
ایک سب سے اہم بات یہ بھا ہاشم کا کلاس فیلو ہے ان کے ساتھ پڑھتا تھا دونوں نے منشیات فروشوں کے خلاف کام شروع کیا۔۔۔
بھا نے سارے ثبوت اکٹھے کیے پولیس کو دینے کے لیے لیکن اس نے وہ سارے ثبوت دارے خاں کو دکھا کر بھا کو پھنسوا دیا۔۔۔
دارے خاں اس وقت وزیر تھا اس کا اثرورسوخ اس کے کام آیا اس نے اس کو اپنے ساتھ ملا لیا تب سے یہ اس کے کالے دھندوں کا ساتھی ہے۔۔۔۔
ہمارے علاقے کی تین لڑکیاں بھی اغواء کروا چکا ہے ۔۔۔
نائی اس بات پر بولا اس کی آواز میں غصہ تھا بولا ہاں کل میری بھانجی بھی واپس آئی ہے وہ کسی بلو کا بتا رہی تھی میں سمجھ نہ سکا کہ وہ بلو تم ہو۔۔۔
قسم سے اگر مجھے یہ پتہ ہوتا تو میں کبھی اس ذلیل انسان کو یہاں نہ بیٹھنے دیتا ۔۔۔۔
یہ تو مجھے فیقے کا فون آیا تھا کہ ایک یار ہے اس کو اج رات رکھ لو صبح ہوتے ہی وہ نکل جائے گا۔۔۔۔
میں نے اس کو سمجھایا کہ یہ کام چھوڑ دو میرے بارے میں کسی بھی بڑی سطح پر یہ دھندہ کرنے والے سے پوچھ لینا خود سمجھ جاؤ گے۔۔۔
کچھ صائم نواز ڈانگرا کے نام سے جانتے ہیں تو کچھ بلو کے نام سے نام میرے ہی ہیں میں اگر دارے خاں کو نکرے لگا سکتا ہوں تو چھوٹے موٹے کیا چیز ہیں۔۔۔
اس نے معافی مانگی اور کہا آج اور اسی وقت سے میں یہ چھوڑ رہا ہوں۔۔۔
میں نے ان دونوں کو کھول دیا اس نے شراب کو آگ لگا دی وہاں ہر چیز جلنے لگی میں نے شاہ زیب کو کالر سے پکڑا اور کھیت سے باہر نکال لیا۔۔۔
وہ دونوں اندر ہی رہے میں شاہ زیب کو فصلوں کے بیچوں بیچ لے کر بارش اور سفارش کے ٹھکانے کی طرف چل پڑا۔۔۔۔
بیس منٹ میں ہم وہاں پہنچے شاہ زیب کو وہاں بندھے ندیم کے سامنے کیا ندیم ادھ موہا ہو چکا تھا۔۔۔۔
شاہ زیب کو بھی وہاں باندھ دیا اور شاہد کو ایڈریس سمجھایا اور ساتھ شاہ زیب کے اغواہ کا بھی بتا دیا۔۔۔
شاہ زیب کی جیب سے فون نکالا اور آخری نمبر چیک کیا جس پر اس نے فون کیا تھا۔۔۔
سارے نمبر میں نے سیو کر لیے ان کے ناموں کے ساتھ اور پھر شاہ زیب کے نمبر سے اس نمبر پر کال کی تھی جس پر اس نے باس لکھا ہوا تھا۔۔۔
جیسے ہی فون رسیو ہوا دوسری طرف سے جو آواز آئی وہ میرے ہوش اڑا دینے کے لیے کافی تھی۔۔۔۔
میں نے فون بند کر دیا اور شاہ زیب کی طرف دیکھا اس کے چہرے پر بڑی کمینی سی مسکراہٹ تھی۔۔۔
اس نے طنزیہ سے مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھا اور زور زور سے ہنسنے لگا۔۔۔
میرا دماغ ایک دم شاٹ ہو چکا تھا کیا ایسا بھی ہو سکتا ہے۔۔۔
اس دنیا میں کیا کچھ ہوتا ہے کیسے کیسے گرگٹ پائے جاتے ہیں۔۔۔
میں نے خود کو اس وقت بالکل ہی بیوقوف انسان سمجھا جو اتنا کچھ کرتا گیا ۔۔۔
کیسے کوئی مجھے بیوقوف بنا گیا اور میں اس پر اتنا بھروسہ کر بیٹھا تھا جس کے لیے میں نے اپنے ان دوستوں کو بھی استعمال کر لیا جن کے بارے میں کوئی نہیں جانتا تھا۔۔۔۔
میں نے غصے میں شاہ زیب پر مکوں گھونسوں کی بارش کر دی اس کو مار مار کر ادھ مرا کر دیا۔۔۔
ندیم کی تو یہ سب دیکھ کر ویسے ہی پھٹ گئی تھی وہ تو پہلے ہی مرن جوگا ہو چکا تھا رہی سہی کسر شاہ زیب کی حالت دیکھ کر نکل گئی۔۔۔
شاہ زیب بے جان سا ہو گیا اور اس کا سر لڑھک گیا ان کو ویسے ہی چھوڑ کر میں اٹھا فجے کو ساتھ لیا اور باہر نکل گیا۔۔۔
باہر نکل کر میں نے فجے کو کہا تم یہاں رکو میں آتا ہوں واپس اندر گیا اور شاہ زیب کے سینے پر یکے بعد دیگرے کئی فائر داغ دئیے۔۔۔
فجا بھاگ کر اندر آیا کیونکہ اس بار جو فائر داغے تھے وہ اس ریوالور کے تھے جو بھا نے مجھے دیا تھا اس پر سائلنسر نہیں لگا ہوا تھا۔۔۔
فجے کے پیچھے پیچھے مجھے اور قدموں کی بھی آواز سنائی دی۔۔۔
میں نے ریوالور دروازے کی طرف کر دی اسی وقت شاہد اور اس کے ساتھ دو لڑکے اندر داخل ہوئے ۔۔۔
شاہ زیب کو خونم خون دیکھ کر شاہد آگے بڑھا اور اس نے ندیم کو کھولا دوسرے لڑکوں نے شاہ زیب کو آزاد کیا اور اٹھا کر باہر نکل گئے۔۔۔
مجھے بھی شاہد نے وہاں سے نکلنے کا کہا ہم باہر نکلے تو شاہد لوگ گاڑی میں ان کو ڈال کر نکل چکے تھے۔۔۔
فجا مجھے کھینچتے ہوئے کھیتوں میں لے گیا اور ہم فصلوں میں دھکے کھاتے گھر پہنچ گئے۔۔۔۔
فجا تو یہ سب دیکھ کر حیران تھا اس نے سارا رستہ مجھ سے کوئی بات نہ کی ۔۔۔
نہ ہی سونے تک وہ کچھ بولا چپ چپ لیٹ گیا اور ہم سو گئے۔۔۔
صبح اٹھا نہا دھو کر تازہ دم ہوا آج سیر کے لیے بھی نہ گیا ۔۔۔
ناشتہ کیا تو بھا کا فون آیا اس نے کہا سکول چلے جاؤ آج میں نہیں پہنچ پاؤں گا۔۔۔
میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ بھا بارش سفارش کے ساتھ گیا ہے رات دماغ خراب ہو گیا تھا۔۔۔
میں نے بھا سے سفارش کے بارے میں پوچھا تو بھا نے بتایا سب ٹھیک ہے آج اس کو ہم واپس لے آئیں گے وہ ٹھیک ہے گولی اس کی ٹانگ کو چھو کر گزری تھی باقی سب ٹھیک ہے۔۔۔
میں تیار ہو کر سکول چلا گیا لیکن دماغ ابھی رات والے واقعہ کی طرف لگا تھا ۔۔۔
میں یہ سوچ سوچ کر حیران ہو رہا تھا کہ میں نے غصے میں ایک جیتے جاگتے انسان کی جان لے لی۔۔۔۔
جان سے مار ڈالا وہ اس شخص کو جو کبھی میرے ساتھ تھا۔۔۔
میرے بھائی کا بھی دوست رہ چکا تھا میں سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا کہ کیسے میں خود پر کنٹرول نہ رکھ سکا۔۔۔۔
سکول میں ایسا مصروف ہوا کہ سب کچھ بھول گیا چھٹی کے بعد گھر آنے کی بجائے میں نے ناصر سے رابطہ کیا۔۔۔
اس نے فون رسیو کرتے ہی کہا فون نہ کرنا جب تک میں خود نہ کروں ۔۔۔
میں نے فون بند کر دیا شاہد کا نمبر ملایا وہ بھی بند تھا۔۔۔
میں پریشان ہو گیا میں گاؤں آیا ہیلمٹ اٹھایا کپڑے بدلے جینز کی پینٹ شرٹ پہنی اس کے اوپر جیکٹ پہنی اور جیکٹ کے اندر ریوالور رکھا اس کی میگزین چیک کی۔۔۔۔
پھر سیدھا ناصر کے ٹیوب ویل پر گیا وہاں جا کر پتہ چلا کہ ناصر وہاں نہیں ہے۔۔۔
شاہد کے گھر جا کر اس کا پتہ کیا تو وہ بھی گھر نہیں تھا۔۔۔
ناصر کے گھر چلا گیا اس کے ابو سے ملاقات ہوئی اس کے پاس کافی لوگ بیٹھے تھے کسی مسئلے پر بات چیت چل رہی تھی۔۔۔
جب لوگ اٹھ کر چلے گئے تو میں ناصر کے والد کے قریب ہوا اور ان سے ناصر کے بارے میں پوچھا۔۔۔۔
انہوں نے مجھے بتایا کہ ناصر کو رات شاہد نے فون کیا تھا وہ مجھے بتا کر گیا ہے وہ کہہ رہا تھا کہ کوئی بہت بڑا مسئلہ بن گیا ہے ۔۔۔
میں نے کہا میرا رابطہ نہیں ہو پا رہا ان سے اس لیے پتہ کرنے آ گیا تھا۔۔۔
وہ ہنسے اور مجھے کہا بے فکر ہو جا بھتیج ناصر ٹھیک ہے مجھ سے بات ہوئی ہے اس کی اور شاہد بھی اس کے ساتھ ہے۔۔۔
وہ لوگ مسئلہ حل ہوتے ہی آ جائیں گے تم بے فکر ہو گھر جاؤ۔۔۔
میں وہاں سے نکل کر شہر کی طرف چل پڑا ایسے ہی شہر میں بائیک گھماتا رہا ۔۔۔
ایک جگہ تھوڑا سا آہستہ ہوا تو میرا فون بج رہا ہے مجھے احساس ہوا ۔۔۔
میں نے فون نکال کر کان سے لگایا جیسے ہی ہیلو کیا دوسری طرف سے آنٹی کی آواز آئی ۔۔۔
اس نے کہا تم شہر میں کیا کر رہے ہو ابھی اسی وقت وہاں سے نکل جاؤ ۔۔۔
میں نے بائیک کو بھگا لیا اور آنٹی کے گھر کی طرف چل پڑا فون کو ہیلمٹ میں پھنسا لیا تھا۔۔۔
آنٹی سے کہا میں آپ کے گھر کی طرف آرہا ہوں اس نے کہا نہیں ابھی بالکل بھی نہیں آنا۔۔۔
تم خود ہی کوئی جگاڑ لگاؤ اور چھوٹی بڑی گلیوں میں گم ہو کر شہر سے نکل جاؤ ۔۔۔
میں نے اسی وقت تنگ سی گلی میں بائک ڈال دی اور پھر گلیوں میں گھومتے گھماتے میں شہر سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
اپنے گاؤں والے رستے کی بجائے ایک اور روڈ پر جانے لگا۔۔۔
کافی دور جا کر میں ایک کچے رستے پر مڑ گیا اور پھر کئی رستوں سے گھومتے ہوئے اپنے گاؤں پہنچ گیا۔۔۔
آج گاؤں پہنچنے کے لیے میں نے مین روڈ پر ذرہ بھی سفر نہیں کیا تھا۔۔۔
اب صرف آج کا دن باقی تھا کل لاہور ہائیکورٹ میں دارے خاں کی پیشی تھی جس میں یقیناً اس کو رہا کیا جانے والا تھا ۔۔۔
ثبوت ہمارے پاس تھے اور ہم وہ ثبوت پیش نہیں کرنے والے تھے۔۔۔
دارے خاں کو جیل سے ہر حال میں رہائی ملنے والی تھی اس کے مخالفین جو مرضی کر لیتے آج وہ کچھ نہیں کر سکتے تھے۔۔۔
وہ تمام ثبوت جو پولیس کے پاس تھے یا جن کی بنیاد پر اس کو سزا ملی تھی وہ اب ہمارے قبضے میں تھے۔۔۔
میرا دماغ کام نہیں کر رہا تھا میں نے ہنی کے بھائی سے رابطہ کیا اور اس کو ساری صورتحال بتائی۔۔۔
اس نے کہا جو بھی ہو جائے ثبوت عدالت نہیں جانے چاہئیں میرے چچا کو عدالت سے باعزت رہائی مل جانی چاہئیے۔۔۔
میں نے اس کو یقین دلایا اور سوچنے لگا کہ اب کیا کرنا چاہئیے ۔۔۔
میں گھر سے نکلا اور ٹیوب ویل پر چلا گیا فجے کو ڈھونڈا اور اسے بائیک پر بٹھا لیا۔۔۔
ہم نہر پر چلے گئے نہر کے ایک ویران کنارے پر رک گئے۔۔۔
ہم دونوں خاموش تھے فجا تو رات والے واقعے کی وجہ سے چپ تھا اور مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ اس سے کیا بات کروں۔۔۔۔
آخر میں نے گلا کھنکار کر بات شروع کی دیکھ فجے تو میرا واحد یار ہے جو میرے ہر سیاہ سفید سے واقف ہے۔۔۔
میں نے کبھی تم سے کچھ نہیں چھپایا اور نہ ہی چھپا سکتا ہوں۔۔۔
فجے نے کہا میں جانتا ہوں اور تم بے فکر رہو یہ راز میرے ساتھ دفن تو ہو سکتا ہے لیکن کسی دوسرے کان تک پہنچ سکتا۔۔۔
میں نے اس کو گلے لگا لیا اور زور دار جپھی ڈال لی۔۔۔
کچھ دیر ہم ایسے ہی کھڑے رہے پھر فجے نے مجھے خود سے علیحدہ کیا اور کہا آج نجاں جی بیٹی تمہارا پوچھ رہی تھی۔۔۔
میں نے پوچھا کون نجاں اور کونسی س کی بیٹی۔۔۔
فجے نے مجھے جب اس کے بارے میں یاد کروایا تو مجھے سب یاد آ گیا ۔۔۔
میں نے کہا اچھا وہ کیا نام تھا اس کا ہاں یاد آیا ثوبیہ۔۔۔۔
فجے نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
میں نے پوچھا کیا کہہ رہی تھی۔۔۔
فجے نے کہا وہ کہہ رہی تھی اس کے بعد کبھی تم اس سے ملنے نہیں گئے کہہ رہی تھی آج کل یہاں ہے تو اس کو بھی لے آو کسی دن۔۔۔
میں نے کہا چلیں ٹھیک ہے آج اس سے بھی مل لیتے ہیں ویسے یار فجے اس طرح کی عورتوں سے بچ کر رہا کر یہ بہت گھٹیا لوگ ہوتے ہیں۔۔۔
پھر پتہ نہیں کون کون ان پر چڑھتا ہے کس کس کا پانی ان کی پھدی میں نکلتا ہے کافی لوگ بیماریوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔۔
فجے نے کہا مجھے سب پتہ ہے اسی لیے ساتھی استعمال کرتا ہوں۔۔۔
ویسے بھی اب میں اور کس کی ماروں سالیا تو نے سارے تو پھاڑ دی ہیں۔۔۔
جو بھی میرے ساتھ سیٹ تھی ان میں صرف کومل بچی ہے جس دن تیرے ہتھے چڑھ گئی وہ بھی میرے کام سے جائے گی۔۔۔
میں ہنس دیا اور کہا اپنا لن وڈا کر لے مٹھ نہ ماریا کر۔۔۔
فجے نے منہ بنا لیا اور کہا تینوں گلاں آندیاں نے پھدی جو مل جاندی اے میں مٹھ نہ ماراں تے فیر کی کراں۔۔۔
ہم کافی دیر وہاں کھڑے رہے ٹینشن ختم ہو گئی ایک دم سکون سا اندر اتر گیا۔۔۔
میں نے بارش سے رابطہ کیا تو اس نے کہا ہم واپس آ گئے ہیں اور بھا ہاشم بھی گھر چلا گیا ہے۔۔۔
میں نے اس کو بتایا کہ اس اڈے پر نہ جانا رات وہاں گڑ بڑ ہو گئی تھی ۔۔۔
اس نے کہا ہمیں پتہ چل گیا تھا ارشد کو کسی نے فون کر دیا تھا اس نے ہمیں سب سمجھا دیا تھا۔۔۔
میں نے پوچھا اب ارشد کہاں ہے ۔۔۔۔
اس نے بتایا کہ وہ بھی ہمارے ساتھ ہے اور ہم اس وقت لاہور کے لیے نکلنے والے ہیں۔۔۔
میں نے پوچھا لاہور کے لیے سب خیریت ہے اس نے جو بات کی میری ساری ٹینشن ہوا ہو گئی۔۔۔
جو کام اس کے ذمے میں اتنے دن پہلے لگایا تھا وہ ابھی تک نہیں بھولا تھا ۔۔۔
میں نے اس سے کہا ارشد سے بات کرواؤ۔۔۔
ارشد نے فون رسیو کیا میں نے اس پوچھا ناصر سے یا شاہد سے کوئی رابطہ ہوا۔۔۔۔
اس نے کہا انہوں نے فون کرنے سے منع کر دیا تھا کل جب وہ شاہ زیب ندیم کو لے کر نکلے تھے۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے میں آ رہا ہوں مجھ سے ملے بغیر نہ نکلنا اس نے کہا کہ ہم یہاں نہیں ہیں اس وقت بنگلا گوگیرہ ہیں۔۔۔
بنگلا گوگیرہ وہاں کیا کر رہے ہو تم لوگ ابھی تو بارش کہہ رہا تھا کہ وہ واپس آ گئے ہیں پھر وہاں کیا کر رہے ہو۔۔۔
ارشد نے ہنستے ہوئے کہا یار تو بھی لن ای اکٹھا کیا ہوا ہے ۔۔۔
میری بات سن جب اس کے اڈے پر تم نے کام ڈال دیا تو ظاہری بات ہے کہ سب جانتے تھے کہ وہاں یہ دونوں ہوتے ہیں۔۔۔
پھر اگر ہم وہاں جاتے تو بات بگڑ سکتی تھی اسی لیے بھا ہاشم نے ہمیں یہاں اپنے ایک دوست سوری اپنی ایک دوست کے پاس بھیج دیا ۔۔۔۔
اس کے بعد کوئی خاص بات نہ ہوئی میں نے فون بند کیا اور ہم گھر آگئے فجے نے کہا رات ثوبیہ لو بلا لیتے ہیں وہ آ جائے گی۔۔۔
میں نے کہا کہاں بلاو گے بیٹھک میں وہاں مسئلہ ہو سکتا ہے کسی نے دیکھ لیا تو پھر منہ چھپاتے پھرنا۔۔۔
وہ ہنس دیا اور کہا مجھے گانڈو سمجھا ہے اس کو ٹیوب ویل پر بلاتے ہیں ساتھ کومل کو بھی لے آوں گا ۔۔۔
تم ثوبیہ کی لیتے رہنا اور میں کومل کی لے لوں گا۔۔۔
میں نے کہا اگر کومل کو ہی بلانا ہے تو پھر اس کے ساتھ شازی کو بلا لو وہ دونوں اکٹھی آ جائیں گی اس کو میرا بتانا وہ آ جائے گی۔۔۔
اس نے کہا کومل اس لیے آ سکتی ہے کہ وہ اپنے بھائی کے گھر یہاں ٹیوب ویل کے پاس آ جائے گی لیکن شازی رات کو اتنی دور نہیں آ سکتی۔۔۔
میں نے کہا تم ایک بار کہہ کر تو دیکھو پھر اگر بات نہ بنے تو ثوبیہ بھی چلے گی۔۔۔۔
فجے نے گرین سگنل دیا اور ہم اپنے اپنے گھر کے چولہے پر بیٹھ گئے کیونکہ گھروں میں کھانا چولہے کے پاس بیٹھ کر کھانے کا جو مزہ تھا وہ چارپائی پر بیٹھ کر کھانے میں نہیں۔۔۔
ماں کے پاس بیٹھ کر جب کھانا کھاتے تھے تو دیسی گھی یا مکھن لازمی ملتا تھا ۔۔۔
بس یہ ہی وجہ تھی کہ میں چولہے پر امی کے پاس بیٹھ گیا امی نے کہا آج گھی نہیں ہے ۔۔۔
میں اٹھا اور تائی کے پاس چلا گیا تائی نے میری بلائیں لیں اور مکھن کا ایک پیڑا روٹی پر رکھ کر مجھے کھانے کے لیے دیا۔۔۔۔
میں نے تائی امی سے پوچھا آپ کو کیسے پتہ چلا میں کھانا کھانے آیا ہوں۔۔۔
تائی نے منہ بناتے ہوئے کہا تیری ماں نوں دوجے نظر آندے نیں بس تیری واری گھیو تے مکھن مک جاندا اے ۔۔۔
میں ہنس پڑا لیکن کوئی جواب نہ دیا کیونکہ میں ان کی نفسیات سے واقف تھا۔۔۔
کھانا کھا کر میں واپس امی کے پاس آیا امی نے ہنستے ہوئے کہا دے دیا تیری تائی نے مکھن ۔۔۔
میں نے ہاں میں سر ہلایا اور ہنسنے لگا۔۔۔
امی بھی میری بات کا مطلب سمجھ گئی تھیں کہ تائی نے مجھے مکھن بھی دیا ہوگا اور امی کے بارے میں بھی گھی شکر جیسے الفاظ بولے ہوں گے۔۔۔
امی نے دودھ کا گلاس دیا دودھ پی کر میں ڈیرے میں گیا بھا ہاشم وہاں تھا اس نے مجھے اپنے پاس بٹھایا۔۔۔۔
وہاں کل ہونے والے فائر کا ذکر ہو رہا تھا اور کوئی کچھ کہہ رہا تھا کوئی کچھ۔۔۔
ایک بندے نے تو یہ بھی کہہ دیا کہ کماد میں جو آگ لگی ہے وہ بھی انہوں نے لگائی ہوگی۔۔۔
وہاں شراب بناتا تھا کوئی اس سے کئی لوگوں نے نام پوچھا لیکن وہ بات گول کر گیا ۔۔۔
ایک بندے نے کہا وہاں خون بھی تھا جیسے کسی کو گولی لگی ہو اور رسیاں بھی تھیں جن کے ساتھ باندھا گیا تھا۔۔۔
میں ان لوگوں کی باتیں بڑے غور سے سن رہا تھا بھا ہاشم نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔۔۔
بھا مجھے ایک طرف لے گیا اور کہا شاہزیب کا بڑا دکھ ہوا ہے۔۔۔۔
کچھ لمحے رک کر پھر بولا لیکن مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی میرا دوست رہ چکا تھا۔۔۔۔
بھا کے لہجے میں بڑا دکھ تھا میں ان کو کچھ نہیں کہہ سکتا تھا نہ ہی حوصلہ دے سکتا اور نہ تسلی۔۔۔
جو ہونا تھا وہ ہو چکا تھا شاہ زیب واپس نہیں آ سکتا تھا جو گولی اس کے لیے بنی تھی وہ اس کو لگ چکی تھی۔۔۔
بھا کچھ دیر شاہ زیب کے ساتھ گزرے وقت کو یاد کرتا رہا افسردہ ہوتا رہا اس کے بعد وہ گھر چلا گیا۔۔۔
میں بھی چکر کاٹ کر فجے کے پاس گیا فجے نے کہا کام نہیں ہوا یار کومل نہیں آ سکتی اور نہ ہی ثوبیہ میں نے کہا کوئی بات نہیں۔۔۔
ایسے ہی ہم باتیں کر رہے تھے کہ دوسرے کزن بھی آ گئے ہم نے تاش کھیلنا شروع کی کافی لیٹ تک کھیلتے رہے ۔۔۔
جب سب لوگ اٹھ گئے میں اور فجا رہ گئے تو میں نے فجے سے پوچھا لاہور چلو گے میرے ساتھ۔۔۔۔
فجے نے کہا نہ بھائی تو جان اور تیرا کام جانے میں نہیں جا سکتا تیرے ساتھ۔۔۔
تیرا کیا بھروسہ تو وہاں جا کر بھی کسی کا کھاتہ کھول دے۔۔۔۔
میرے دماغ میں فجے کی یہ بات بیٹھ گئی میں اٹھا اور فجے کو کہا مجھے لاہور جانا ہے تو مجھے بس تک چھوڑ کر آ۔۔۔۔
میں گھر گیا بیگ اٹھا کیا بھا کوبتایا کہ لاہور جا رہا ہوں۔۔۔۔
بیگ میں اپنی مطلوبہ چیزیں رکھیں بائیک نکالی فجے کو ساتھ لیا اور روڈ پر جا پہنچے ۔۔۔
کچھ دیر رکے پھر فجے نے کہا یہاں سے کوئی بس نہیں ملے گی شہر ہی جانا پڑے گا۔۔۔۔
میں نے شہر کا رخ کر لیا شہر جا کر بس مل گئی سوار ہوا اور لاہور کے لیے نکل گیا۔۔۔۔
ابھی آدھا سفر ہی طے کیا تھا کہ ہنی کے بھائی کا فون آگیا وہ بھی لاہور جا رہا ہے۔۔۔
میں نے اس کو بتایا کہ میں بھی لاہور جا رہا ہوں اس کو اپنی لوکیشن اور بس کا نمبر وغیرہ پوچھ کر بتایا۔۔۔۔
دس منٹ بعد ہی بس رکی کنڈکٹر نے مجھے آواز دی میں نیچے اترا اور ہنی کے بھائی کے ساتھ گاڑی میں سوار ہو گیا۔۔۔۔
اس نے رستے میں ایک جگہ رک کر ہلکا پھلکا کھانا کھایا اس کے بعد ہم 2بجے کے قریب لاہور تھے۔۔۔
میں نے اس کو ایک جگہ اتارنے کا کہا اس نے اصرار بھی کیا لیکن میں نہ رکا۔۔۔
میں نے وہاں اتر کر ڈاکٹر عمائمہ کو فون کیا اور کہا میں آپ کے گھر پانچ منٹ میں پہنچ رہا ہوں۔۔۔۔
اس نے مجھے ویلکم کہا میں اس کے گھر پہنچ گیا۔۔۔
گھر میں داخل ہوتے ہی اس نے مجھے گلے لگا لیا اور خوب پیار کیا۔۔۔
اس کے بعد مجھے گرم گرم چائے پلائی اور میرے ساتھ صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔
میں چائے پیتا رہا وہ میری ٹانگوں پر ہاتھ پھیرتی رہی۔۔۔
اس کے ہاتھ پھیرنے سے میرا لن سخت ہو گیا تھا پینٹ پھاڑ کر باہر نکلنے کو بیتاب تھا۔۔۔۔
میرا لاہور آنے کا ایک مقصد تو ڈاکٹر کو ملنا تھا جو مجھے جھوٹ بول چکی تھی کہ وہ اسلام آباد ہے۔۔۔
دوسرا مقصد دارے خاں کی خود نگرانی کرنا تھا اب اگر اتنی بوریت کے بعد پھدی بھی مل جائے تو سونے پر سہاگہ تھا۔۔۔
میں نے تسلی سے چائے پی اندر کچھ گرمی محسوس ہوئی تو میرا بھی من بدل گیا۔۔۔
عمائمہ نے میرے ہاتھ سے کپ لیا اور مجھے کمرے میں لے گئی اور جاتے جاتے پوچھا خیر تو ہے اس وقت کیسے آنا ہوا۔۔۔
میں نے ان کو بتایا کہ ایک کام ہے تھا یہاں شام کو ہی چل پڑا کہ کہیں صبح دیر نہ ہوجائے۔۔۔۔
عمائمہ نے میرا ہاتھ پکڑا اور کہا اچھا کیا جو تم یہاں آگئے میرا بڑا دل کرتا تھا تم سے ملنے کو۔۔۔
میں خود چاہتی تھی کہ تم سے ملوں لیکن میں وہاں جا نہیں سکتی تھی مجھے کسی نے بتایا تھا کہ تم یہاں آئے تھے۔۔۔
میں تو تم سے ناراض تھی کہ یہاں آئے بھی اور مجھے ملے بغیر ہی واپس چلے گئے۔۔۔
میں اس کی بات پر مسکرائے بغیر نہ رہ سکا لیکن اس کو کچھ نہ کہا۔۔۔
اس نے میرا بازو پکڑا اور ہاتھ اپنے ہونٹوں سے لگا کر چومنے لگی۔۔۔
اس کے بعد اس نے مجھے اپنے گلے لگایا اور میرے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے اور ہونٹ چومنے لگی۔۔۔
ساتھ ساتھ میرے لن پر بھی ہاتھ پھیرنے لگی اور اپنے ممے میرے سینے میں دبانے لگی۔۔۔۔
میں نے بھی کچھ ہی دیر میں اس کا ساتھ دینے لگا اور میرے ہاتھ اس کے موٹے موٹے چوتڑوں پر آ گئے اور میں اس کے چوتڑ دبانے لگا۔۔۔۔
اس کے مموں کی گرمی اپنے سینے میں محسوس ہو رہی تھی۔۔۔۔
اس کی گرم سانسیں میرے منہ میں جا رہی تھیں اور میرا لن پینٹ پھاڑنے کے لیے اتاولا ہو رہا تھا۔۔۔
میں نے اس کی قمیض میں ہاتھ ڈال دیا اور ننگی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگا ۔۔۔
پیچھے سے اس کی برا کی ہک کھول دی اور ایک ایک نیچے لے جا کر اس کے ڈھیکے پاجامے میں ڈال دیا اور گانڈ کی پھاڑیوں میں ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔۔
اس نے گانڈ اکڑا لی اور سینے کو زور سے میرے سینے میں دبا دیا۔۔۔۔
میں نے اس کے ہونٹ چوسنے شروع کر دیے وہ بھی شدت سے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑی۔۔۔
ہم پوری گرم جوشی سے ایک دوسرے کے ہونٹوں کا رس چوس رہے تھے۔۔۔
میں نے اس کی قمیض کو اوپر اٹھانا شروع کیا تو وہ پیچھے ہو گئی اور خود ہی قمیض اتار دی۔۔۔۔
اس کے بعد میری پینٹ کی طرف دیکھتے ہوئے نیچے بیٹھی اور بیلٹ کھول کر پینٹ ڈھیلی کرکے نیچے کردی۔۔۔
پینٹ نیچے کرنے کے بعد اس نے انڈروئیر سے لن کو نکال لیا۔۔۔۔
لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اپنے گال سے لگا کر آنکھیں بند کر مسکرانے لگی۔۔۔
اس نے کچھ دیر ایسے کیے رکھا پھر لن کی ٹوپی کو چومنے لگی ۔۔۔
ٹوپی کو ہر طرف سے چومنے کے بعد اس نے اپنے ہونٹ ٹوپی سے نیچے بڑھائے اور چومتے ہوئے جڑ تک گئی۔۔۔
اس نے دونوں ہاتھوں میں لن کو پکڑ رکھا تھا اور بار بار چوم رہی تھی۔۔۔
اس کا انداز ایسا تھا جیسے کسی بچے کو اس کا پسندیدہ کھلونا مل گیا ہو اور وہ اسے پا کر بڑا خوش ہو۔۔۔۔
اس نے انگوٹھے کو لن کی ٹوپی پر پھیرتے ہوئے اوپر نظریں اٹھا کر مجھے دیکھا اور مسکرانے لگی۔۔۔
میری طرف دیکھتے ہوئے ہی اس نے زبان نکالی اور لن کی ٹوپی پر موجود اکلوتی آنکھ پر رکھ دی اور پھیرنے لگی۔۔۔۔
اس کی نوکیلی زبان کے لگنے سے میری ٹانگ کانپ گئیں۔۔۔
میں نے اس کے سر پر ہاتھ رکھا اور اس کو لن کی طرف دبانے لگا۔۔۔۔
اس نے گردن اکڑا لی اور زبان کو ٹوپی پر گول گول گھمانے لگی۔۔۔
میرا تو برا حال ہونے لگا میں لن کو اس کے منہ میں گھسانا چاہتا تھا لیکن اس نے لن کو ہاتھ میں پکڑ رکھا تھا اور سر کو اکڑایا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ لن پر مٹھ مارنے لگی اور زبان سے لن کو چاٹنے لگی ٹوپی سے شروع ہوتی اور ٹٹوں تک جاتی ٹٹوں کو منہ میں لے کر چوس کر چھوڑتی اور پھر ٹوپی کی طرف جاتی۔۔۔۔
میں مزے کی انتہا پر پہنچ رہا تھا اس کے اس انداز نے میرے اندر شعلے بڑھکا دئیے تھے۔۔۔۔
مجھے اپنی ٹانگیں بے جان ہوتی محسوس ہونے لگیں۔۔۔
میں نے اپنے پاؤں سے پینٹ کو نکالا اس نے انڈروئیر کو اتارا ۔۔۔
اس کے برا پیچھے سے کھلا ہوا تھا اور سامنے سے کپس نے اس کے مموں کو نیم حجاب کیا ہوا تھا۔۔۔
اس کے ممے ایسے باہر کو ابل رہے تھے جیسے پھولوں کے بقے میں سے پھول باہر کو نکل رہے ہوتے ہیں۔۔۔
نیلے رنگ کے برا میں سے اس کے سفید بڑے بڑے ممے باہر کو ابھرے ہوئے تھے۔۔۔
میں نے اس کو کندھوں سے پکڑ کر کھڑا کرنے کی کوشش کی تو اس نے مجھے میری گانڈ پر دونوں ہاتھ رکھ کر گھمایا اور بیڈ پر دھکیل دیا۔۔۔۔
میں بیڈ پر لیٹ گیا وہ میری ٹانگوں پر چڑھ گئی اور ٹانگوں کو چومتے ہوئے اوپر تک آئی اور لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اس کو سہلانے لگی۔۔۔۔
یکدم اس نے اپنا منہ لن کے سامنے لا کر کھولا میں نے اس کو دیکھتے ہوئے نیچے سے گانڈ اٹھا کر لن کو اندر کرنے کی کوشش کی تو اس منہ پیچھے کر لیا اور مسکرانے لگی۔۔۔
وہ نیچے جھکی ایک ہاتھ سے لن لو پکڑا اور دوسرے سے ٹٹوں کو پکڑ لیا اور اپنا منہ کھول کر ٹٹوں کو منہ میں لے لیا۔۔۔۔
وہ ٹٹوں کو چوسنے لگی اور اوپر لن کی مٹھ مارنے لگی۔۔۔۔
میں اس ڈبل حملے کے لیے تیار نہیں تھا میرا پورا جسم لرز کر رہ گیا۔۔۔۔
وہ بڑے جوش سے کچھ دیر ٹٹے چوستی رہی اس کے بعد اس نے زبان کو پھیرتے ہوئے لن کو گیلا کیا اور لن میں لے لیا۔۔۔۔
پھر تو اس پر جنون سوار ہو گیا اور وہ لن کو پاگلوں کی طرح چوسنے لگی۔۔۔
اتنی رغبت سے لن چوس رہی تھی جیسے بچے لولی پوپ چوستے ہیں۔۔۔
اس نے اتنے جوش سے لن چوسا مجھے لگنے لگا کہ میں اس کے منہ میں ہی فارغ کو جاؤں گا۔۔۔۔
وہ بڑی مہارت سے لن چوس رہی تھی زبان کو لن کے ساتھ جب رگڑتی تو ایسا لگتا جیسے پھدی کے مسام لن کے ساتھ رگڑ کھا رہے ہوں۔۔۔
جب لن کی ٹوپی ہونٹوں میں آتی تو وہ ہونٹوں کو دبا لیتی اففف میرا پورا جسم سنسنا جاتا۔۔۔۔
مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور اس کو اپنے اوپر کھینچ لیا۔۔۔۔
پھر اس کو گھما کر اپنے نیچے کیا اور اس کے مموں کو ننگا کر لیا اور اپنے ہنوٹٹ اسکے بائیں ممے پر رکھے اور دائیں ممے پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔۔
انگلیوں نے اس کے دائیں نپل کو مسلنے لگا اور بائیں کو ہونٹوں سے چوستے ہوئے زبان نپل پر پھیرنے لگا۔۔۔۔
ہونٹوں اور زبان نے اس کو بھی تڑپا کر رکھ دیا وہ بھی مچلنے لگی۔۔۔
میں پورے جوش سے مما دبا رہا تھا اور زبان نپل پر رگڑ رہا تھا۔۔۔
اس نے میرے سر پر ہاتھ رکھا اور ممے پر دبانے لگی۔۔۔
میں نے پورا منہ کھول دیا اور جتنا مما منہ میں لے سکتا تھا لے کر چوسنے لگا ۔۔۔
مما چوستے چوستے میں نے ایک ہاتھ نیچے لے جا کر اس کی ڈھیلی ڈھالی شلوار کے اوپر سے ہی پھدی پر رکھ دیا اور دبانے لگا۔۔۔
اس کی پھدی کے موٹے موٹے لبوں کو مٹھی میں پکڑ کر دبا نے لگا۔۔۔
اس نے ٹانگوں کو آپس میں ملا کر میرا ہاتھ دبا لیا۔۔۔
میں نے ممے کو کھینچ کھینچ کر چوسنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔
عمائمہ بھی اب یہ چاہ رہی تھی کہ میں اس کو چود دوں لیکن میں اس کو ابھی اور تڑپانا چاہ رہا تھا۔۔۔۔
میں نے نیچے والا ہاتھ اس کی شلوار کے اندر ڈال دیا اور پھدی پر پھیرنے لگا۔۔۔۔
اس نے گانڈ اٹھائی اور خود کی شلوار اتار دی۔۔۔
میں نے ایک ساتھ دو انگلیاں اس کی پھدی میں گھسا دیں اور زور ذور سے اندر باہر کرنے لگا۔۔۔۔
اس کی تڑپ دیکھنے لائق تھی وہ سر دائیں بائیں مارنے لگی میرا منہ اپنے ممے پر زور زور سے دبانے لگی۔۔۔۔
میں نے مما چھوڑا اور اوپر ہو کر شرٹ اتاری اور اس کی ٹانگوں کے درمیان آگیا ۔۔۔۔
ٹانگوں کو کھول کر اوپر اٹھایا اور اس کے اوپر جھک کر دونوں ہاتھوں سے ممے پکڑ کر دبانے لگا۔۔۔۔
وہ نیچے سے لن پر پھدی رگڑنے لگی اس کی پھدی پانی پانی کو چکی تھی۔۔۔
میں نے نے کچھ دیر ممے دبائے اس کے بعد لن کو پھدی کر رکھا ٹانگیں اٹھا کر کندھے پر رکھ لیں اور لن کا نشانہ سیٹ کرکے ایک زودار دھکا مارا اور لن اندر اتار دیا۔۔۔۔
اس کے چہرے پر سکون اترتا گیا میں نے لن کو پیچھے کھینچا اور پھر پہلے سے بھی زیادہ زور سے اندر گھسایا ۔۔۔
اس بار اس کے منہ سے آہ سیییی کی آواز نکلی اور اس نے ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دیا۔۔۔
لن دو دھکوں میں ہی سارا اندر ہو گیا تھا دوسرا جھٹکا شاید لن کو اس کی بچہ دانی تک لے گیا تھا۔۔۔۔
میں نے اس کے مموں پر دونوں ہاتھ رکھے اور زور دار گھسے مارنے شروع کر دییے۔۔۔
اس کے منہ سے نکلنے والی آوازیں مجھے کوش دلا رہی تھیں وہ بھی لن لے کر پاگل ہو رہی تھی۔۔۔
پتہ نہیں کیا کچھ بول رہی تھی میں ایسے ہی دھکے مارتے مارتے اس کو کہا شاہ زیب مر گیا ہے۔۔۔۔
اس نے کہا اچھا ہوا گانڈو نے میرا سارا سب کچھ تباہ کروا کر رکھ دیا تھا اگر نہ مرتا تو میں نے اس کو مروا دینا تھا۔۔۔۔
میں نے رک کر ایک ایسا گھسہ مارا کہ اس کے منہ سے آہہہہہہہ لمبی چیخ نکلی۔۔۔
میں نے اس کے مموں کو ہاتھوں میں پکڑا اور پھر پھدی میں لن کی گھسائی شروع کر دی۔۔۔۔
لن پھدی میں گھڑپ کرکے جاتا اور ایک سیکنڈ میں کوئی تین سے سے چار بار پھدی میں گھستا۔۔۔۔
اس کی منہ سے بے ربط آوازیں انا شروع ہو گئیں۔۔۔
میں نے بھی مموں کو ایسے کھینچا کہ جیسے ان کو جڑ سے اکھاڑنا چاہ رہا ہوں۔۔۔۔
وہ چیخنے لگی اس نے اپنی ٹانگیں اٹھا کر میری کمر کے گرد لپیٹ لیں جس سے میرے سپیڈ آہستہ ہو گئی۔۔۔
میں اس کے اوپر لیٹ گیا اور اس کی گردن پر ہونٹ رکھ دئیے ۔۔۔
وہ آہ اہ اہ افففففف یسسسسس ہائئیے کی گردان کرنے لگی۔۔۔
میں نے اس کی کان کی لو کو دانتوں میں پکڑ کر کھینچا اور کہا شاہ زیب کو آرڈر تم دے رہی تھی۔۔۔
اس نے آہ آہ اہ کرتے ہوئے کہا ہاں لیکن وہ بھڑوا اس قابل ہی نہیں تھا ۔۔۔۔
میں نے پیچھے ہو کر ایک دم اپنی ساری طاقت سے گھسہ مارا اور اس کے کندھے پر دانت گاڑھ دئیے۔۔۔
اس کے منہ سے چیخ نکلی اور اس نے اپنی ٹانگوں کو میری کمر کے گرد کس لیا۔۔۔
میں نے اس کی گال کو ہونٹوں میں لے چوستے ہوئے نیچے سے گھسے مارنے جاری رکھے ۔۔۔
وہ تڑپنے لگی اس کے جسم میں اکڑن پیدا ہونے لگی۔۔۔
میں نے اس کے گال پر زبان پھیرتے ہوئے کان کے پاس منہ لے جا کر کہا۔۔۔۔
پرویز کے ساتھ کب سے تعلق ہے۔۔۔
اس نے کہا جب سے ریحان پیدا ہوا ہے ریحان اسی کا بیٹا ہے۔۔۔
میں نے کہا شاہ زیب کو دادے خاں کے سادے ثبوت کیوں اکٹھے کرنے کو کہا تھا۔۔۔
اس نے کہا دارے خاں ہارا ہوا گھوڑا ہے اور ہارے ہوئے گھوڑے بیکار ہوتے ہیں۔۔۔
اس نے میرے منہ کے آگے انگلی رکھی اور بولی میری جان تمہارے لن نے میری پھدی کو ستیاناس کر دیا ہے وہ رونے والی ہے۔۔۔
آہ آہ اہ یہ لو میں گئی افففففف زور سے کرو پھاڑ دو آہ آہ۔۔۔
اس نے مجھے دونوں ہاتھوں سے اپنے اوپر کس لیا۔۔۔۔
میرے سینے میں اس کے بڑے بڑے خربوزے جیسے ممے دب رہے تھے۔۔۔
اس کی پھدی نے میرے لن کو نہلانا شروع کر دیا ۔۔۔۔
میں نے نے گھسے مارنے جاری رکھے اور اپنے دانت اس کے کندھے پر گاڑھ دئیے۔۔۔
عمائمہ فارغ ہوتے ہوئے زور زور چیخ نما آوازیں نکال رہی تھی۔۔۔
میں نے بھی سارا دھیان اس پر لگا دیا اور اس کے فارغ ہونے کے دوران ہی میرے لن نے بھی آگ اگلنا شروع کر دی۔۔۔
میرا جسم ایک دم ہلکا پھلکا ہو گیا تھا اور اس دوران میں نے مزے میں ڈوبی عمائمہ سے بہت کچھ اگلوانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔۔
میرے لیے یہ اس کا اقرار ہی تھا جو اس نے کر لیا تھا۔۔۔
میں اس کے اوپر سے اتر کر ایک طرف لیٹ گیا اور سانس بحال کرنے لگا۔۔۔۔
عمائمہ بھی لمبے لمبے سانس لے رہی تھی جیسے جیسے اس کا جسم پرسکون ہو رہا تھا وہ مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھنے لگی تھی۔۔۔
میں اٹھا اور اپنے کپڑے اٹھا کر واش روم میں گھس گیا۔۔۔
گرم گرم پانی سے نہا کر خود کو تروتازہ کیا اور کپڑے پہن کر باہر آیا تو عمائمہ غائب تھی۔۔۔
میں نے بیڈ پر نظر دوڑائی تو اس کے کپڑے بھی وہاں موجود نہیں تھے۔۔۔
میں باہر نکلا لاونج میں میرا بیگ پڑا تھا لیکن عمائمہ وہاں بھی نہیں تھی ۔۔۔
میں نے بیگ اٹھایا اب میں یہاں رک نہیں سکتا تھا میں نے گھر سے باہر قدم بڑھایا اور ارشد کو فون کیا ۔۔۔
میں ان کی گلی سے نکل کر ایک اندھیری گلی میں آگیا تھا۔۔۔۔
ارشد سے رابطے میں رہا وہ مجھے اپنی لوکیشن بتا رہا تھا میں اس کو اپنی۔۔۔
میں میں روڈ پر آیا موبائل میں وقت دیکھا تو ساڑھے چار سے اوپر کا وقت تھا ٹریفک رواں ہو چکی تھی۔۔۔
میں نے ایک رکشے میں بیٹھ گیا اور رکشے والے سے لاڑی اڈے جانے کا کہا۔۔۔
رکشہ چل پڑا ارشد کو بھی میں نے وہاں بلا لیا آدھے گھنٹے میں میں لاری اڈے پر موجود تھا۔۔۔
ارشد نے مجھے دیکھ لیا تھا رکشے والے کو پیسے دئیے اور میں ارشد کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔
وہ مجھے وہاں لے گیا جہاں بارش تھا بارش کو میں نے وہ سب کرنے سے منع کر دیا ۔۔۔
اس نے حیرانی سے مجھے دیکھا اور پوچھا ایسا کیوں۔۔۔
میں نے کہا بس کوئی وجہ ہے جس کی وجہ سے منع کر دیا ہے۔۔۔
تم ایسا کرو ابھی واپسی کے نکل جاؤ باقی میں اور ارشد یہاں سنبھال لیں گے۔۔۔
دارے خاں کو یہاں کچھ نہیں کہیں گے بلکہ اس کو لاہور سے باہر نکلنے دیں گے رستے میں اس کو اٹھا لیں گے۔۔۔
اس سے بہت کچھ اگلوانا ہے دارے خاں تو ایک مہرا ہے اگر جگاڑ لگ گیا تو شہر سے نکلنے ہی نہیں دیں گے یہاں سے اٹھا لیں گے۔۔۔
بارش کو میری بات سمجھ آ گئی اس نے اپنے دو ساتھیوں کو لیا اور وہاں سے نکل پڑا ۔۔۔۔
صبح ہو چکی تھی اس لیے میں نے سونے کی ضرورت محسوس نہیں کی ۔۔۔
اٹھا اور باہر سے دودھ لایا اور اپنے ہاتھ سے تیز پتی کی چائے بنائی جس سے تھکاوٹ اتر جائے تھکاوٹ تو نہ اتری لیکن نیند بھاگ گئی۔۔۔۔
ارشد کو میں نے کہا گاڑی میں میرا بیگ رکھ لو اور کوشش کرنا کسی ناکے پر ہمیں کوئی روکے ناں ۔۔۔
اس نے سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھا۔۔۔
میں نے کہا یار اگر ہماری تلاشی ہو گئی تو پھر لمبے پھنس جائیں گے اور ہاں پرویز صاحب کی طرف تو نہیں گیا ۔۔۔
اس نے کہا نہیں۔۔۔۔۔
میں نے کہا اب تم تیار ہو جاؤ 9بجے دارے خاں کی پیشی ہے ہمیں وہاں موجود ہونا چاہئیے۔۔۔
اس نے کہا ٹھیک ہے وہ نہا کر تیار ہوا اور میں نے بھی کپڑے بدلے ایک اچھا سوٹ پہنا۔۔۔
سٹوڈنٹ تھا سٹوڈنٹ والے انداز میں ہی ہم وہاں سے نکلے ۔۔۔
جب ہم لاہور ہائیکورٹ پہنچے تو 9 بج چکے تھے ہم نے گاڑی کو ہائیکورٹ کی پارکنگ کی بجائے باہر ایک طرف کھڑی کر دی۔۔۔
جج صاحب نے وکیلوں کی باتیں سنیں جن کو دیکھ کر کی سب سمجھ آ رہی تھی کہ فیصلہ تو پہلے ہی ہو چکا ہے یہ صرف خانہ پوری کے لیے کیا جا رہا ہے۔۔۔
مخالف وکیل نے بھی کوئی خاص بات نہ کی اور نہ ہی وکیل صفائی کچھ خاص پیش کر پایا۔۔۔
جج نے فیصلہ سنا دیا کہ عدم ثبوت کی بناء پر دارے خاں کو با عزت بری کر دیا گیا۔۔۔