گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 68)

میں صرف یہ دیکھنا چاہ رہا تھا کہ دارے خاں کو لینے کون آتا ہے۔۔۔۔

کون اس ہارے ہوئے گھوڑے کے ساتھ ہے، مجھے مایوسی ہوئی جب کوئی ایسا شخص مجھے وہاں نظر نہ آیا جس کو میں جانتا تھا۔۔۔۔۔

عدالت کے فیصلے کے بعد عدالتی کاروائی شروع ہوئی، میں باہر نکل آیا ارشد اور میں عدالت سے دور ہی کھڑے ہو گئے۔۔۔۔۔

کافی دیر بعد ساری قانونی کاروائی مکمل ہوئی، دارے خاں کو رہائی کا پروانہ مل گیا۔۔۔۔

وہ احاطہ عدالت سے باہر نکلا اس کے سامنے ایک لمبی سی گاڑی آ کر رکی۔۔۔۔

ایک بندہ بڑی تیزی سے گاڑی میں سے اترا اور گاڑی کا دروازہ کھولا جھک کر دارے خاں لو سلام کیا۔۔۔۔۔

دارے خاں اور اس کا بیٹا دونوں گاڑی میں بیٹھ گئے،مجھے کچھ گڑبڑ کا احساس ہوا۔۔۔۔

میں نے ارشد سے کہا گاڑی سٹارٹ کرو،جلدی اور اس گاڑی کا پیچھا کرو۔۔۔۔

ہم گاڑی میں بیٹھے اور گاڑی چل پڑی ارشد بڑی تیز گاڑی چلا رہا تھا، آگے والی گاڑی بھی بہت تیز جا رہی تھی۔۔۔۔

بڑی تیزی سے گاڑی شہر سے باہر نکلتی جا رہی تھی۔۔۔۔

ایک گھنٹے میں گاڑی شہر سے باہر تھی اب گاڑی ملتان روڈ پر جا رہے تھی۔۔۔۔۔

ہم بھی اس پیچھے گاڑی کو دوڑائے ہوئے تھے اگر دارے خاں کے اپنے لوگ ہوتے تو وہ اس طرح گاڑی نہ چلاتے ، ضرور کوئی گڑ بڑ تھی۔۔۔۔۔

گاڑی کی سپیڈ سے مجھے اندازہ ہو رہا تھا، اسی لیے ارشد کو اور تیز چلانے کا کہہ رہا تھا۔۔۔۔۔

کافی آگے آ کر چھانگا مانگا جنگل والے روڈ پر گاڑی مڑ گئی یہ وہی روڈ ہے جو چھانگا مانگا جنگل میں سے گزر کر قلعہ دیدار سنگھ ہوتا ہوا قصور تک جاتا ہے۔۔۔۔۔۔

اس روڈ پر ٹریفک قدرے کم تھی جو مزید کم ہوتی جا رہی تھی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ارشد نے گاڑی ان سے آگے کر لی۔۔۔۔

پاس سے گزرتے ہوئے ہم نے دیکھا کہ دارے خاں کا سر اس کے ساتھ بیٹھے بندے کے سر پر ہے، اس کا بیٹا بھی اسی طرح سویا ہوا سا تھا۔۔۔۔۔۔

اب بات واضح ہو گئی کہ معاملہ گڑ بڑ نہیں ہے بلکہ سارا معاملہ الٹ ہو چکا ہے ۔۔۔۔

کوئی ہم سے پہلے اپنا کام دکھا گیا ہے بڑی چالاکی سے اور عقلمندی سے انہوں نے دارے خاں کو اٹھا لیا۔۔۔۔

میں نے بارش سے پوچھا کہاں ہو اس نے بتایا کہ ہمارے پیچھے پیچھے آ رہے ہیں۔۔۔۔

میں نے گھوم کر دیکھا تو اس گاڑی کے علاوہ کوئی گاڑی نہیں تھی۔۔۔۔

میں نے کہا یار مذاق نہ کرو ہم تو چھانگا مانگا جنگل کی طرف جا رہے ہیں تم کہاں ہو ہمارے پیچھے صرف ایک گاڑی ہے جس میں دارے خاں ہے۔۔۔۔۔

اس نے کہا مجھے یہ تو نہیں پتہ کہ اس میں کون ہے لیکن ہم اس گاڑی سے پیچھے ہیں جب آپ لوگ اس کے پیچھے لگے تو ہمیں بھی لگا کہ اسی کا پیچھا کرنا ہے۔۔۔۔

میں نے کہا بس پھر تیار ہو جاؤ جنگل کے درمیان جاتے ہی ہم روڈ بلاک کر دیں گے تم لوگ گاڑی کو اس کے قریب کر لینا۔۔۔۔۔

اس نے کہا ٹھیک ہے میں نے ارشد کو کہا گاڑی بھگاو، اس نے گاڑی تیز کر دی ۔۔۔۔۔

جلد ہی ہم جنگل کے علاقے میں داخل ہو گئے سارا جنگل ہی جنگل تھا آس پاس درخت ہی درخت تھے۔۔۔۔۔

چھوٹا سا موڑ آیا ارشد نے موڑ کے درمیان میں گاڑ کو ترچھا کرکے روڈ بلاک کر دیا اور ہم گاڑی سے اتر گئے۔۔۔۔

تین منٹ بعد ہی زوردار بریک کے ساتھ گاڑی رکی جو بڑی مشکل سے اس سے ٹکراتے ٹکراتے بچی۔۔۔۔

گاڑی کی پچھلی سیٹ سے ایک لمبا چوڑا آدمی نکلا جس کی بڑی بڑی مونچھیں تھیں۔۔۔۔

میں نے اس کو کہیں تو دیکھا تھا اس کے پاس کوئی ہتھیار نہیں تھا۔۔۔۔

اس دوران پیچھے بھی بریکیں لگیں اور گاڑی رکی۔۔۔۔

ہم ایک طرف چھپے کھڑے یہ سب دیکھ رہے تھے۔۔۔۔

ہم دیکھنا چاہ رہے تھے کہ وہ کل کتنے لوگ ہیں ابھی تک تو میرے اندازے کے مطابق کے وہ صرف دو لوگ ہی تھے۔۔۔۔

ان دو لوگوں کے ساتھ اگر دارے خاں آ گیا تھا تو مطلب وہ ان کو پہلے سے جانتا تھا یا یہ اسی کے بندے ہیں۔۔۔۔

اگر اسی کے بندے ہوتے تو یہ اس روڈ پر کبھی نہ آتے دارے خاں کو اس کے گھر لے کر جاتے۔۔۔۔۔

میں یہ سوچ ہی رہا تھا مجھے بارش کی آواز سنائی دی وہ اونچی آواز میں پوچھا رہا تھا۔۔۔۔

بھاؤ کی تھی گیا ول تہا کو، میڈی مدد دی لوڑ پوسی، کہ نہ،

یہ عجیب سے لہجے میں بارش بول رہا تھا سرائیکی کے الفاظ تروڑمروڈ کر۔۔۔۔

وہ آدمی جو ڈر ڈر کر گاڑی کے قریب آ رہا تھا اس کو کچھ حوصلہ ہوا۔۔۔۔

اس نے کہا یار آ پتہ نہیں کی کم پے گیا اے سڑک کے وچکار گڈی کھلار گیا اے کوئی چل آ یار میری مدد کر ایہنوں اک پاسے کرئیے ۔۔۔۔۔

اسی وقت میں نے پستول نکال لیا اور زور دار چیخ مار کر لیٹ گیا۔۔۔۔

وہ دونوں ہڑ بڑا گئے ارشد کو میں نے اشارے سے سمجھا دیا کہ گاڑی کے پاس جاؤ جس میں دارے خاں ہے۔۔۔۔

جیسے ہی میں نے چیخ ماری وہ آدمی جو گاڑی کو دیکھ رہا تھا بھاگ کر میری طرف آیا۔۔۔۔

اسی دوران ارشد گاڑی والی سائیڈ پر پہنچ گیا اور تب تک بارش بھی گاڑی کے پاس کھڑا تھا۔۔۔۔

بارش کے ساتھ جو دو لوگ تھے وہ میری طرف آ رہے تھے۔۔۔۔

ادھر دارے خاں کو اٹھانے والا میرے پاس آیا، ادھر ارشد اور بارش گاڑ چلانے والے کے سر پر پہنچ گئے۔۔۔۔

انہوں نے بڑی آسانی سے اس کو قابو میں کر لیا ۔۔۔

جیسے ہی میرے پاس آنے والا اس کا ساتھی کچھ فاصلے پر رہ گیا تو میں پستول تان کر اس کے سامنے آگیا۔۔۔۔

بارش کے ساتھ آنے والے اس کے ساتھیوں کو میں نے اشارے سے سمجھا دیا ۔۔۔۔

وہ دونوں آگے بڑھے اور اس کو پکڑ کر بے بس کر دیا۔۔۔

پھر ہم نے زیادہ وقت ضائع کیے بغیر ان کو باندھ کر انہیں کی گاڑی کی ڈگی میں ڈال لیا۔۔۔۔

اب میں اور ارشد گاڑی میں بیٹھے دارے خاں اور اس کے بیٹے کو بارش نے باندھ کر ہماری گاڑی کی ڈگی میں ڈال دیا۔۔۔۔

ہنی کے بھائی کو فون کیا کہ کہاں ہو اس کا مال میرے پاس ہے۔۔۔۔

اس نے کہا مال کو ضائع کر دو مجھے اس کی ضرورت نہیں رہی۔۔۔۔

میں نے کہا ٹھیک ہے میں تو مال لے لیا تھا آگے آپ کی مرضی، اور فون بند کر دیا۔۔۔۔

بارش نے گاڑی آگے بڑھائی ہم باقی دونوں گاڑیوں میں اس کے پیچھے چل پڑے۔۔۔

وہ قلعہ دیدار سنگھ میں قلعے والی گلی میں مڑ گیا ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے چلتے گیے۔۔۔۔

کافی دور نکل کر شہر سے باہر ویران علاقہ شروع ہو گیا، کچی سڑک پر گاڑیاں دھول اڑاتے ہوئے آگے بڑھتی گئیں۔۔۔۔

پھر ایک جگہ ایسی آئی جہاں رستہ بند ہو گیا کوئی سڑک نظر نہیں آ رہی تھی، وہاں سے اس نے دائیں طرف بنے چھوٹے چھوٹے ٹائروں کے نشانات پر گاڑی چلا دی۔۔۔۔

بالکل ویران علاقہ آ گیا تھا، کوئی ابادی نہیں تھی بس دور دور تک خالی چٹیل میدان نظر آ رہے تھے۔۔۔

اس رستے پر چلتے ہوئے ہم درختوں کے جھنڈ میں داخل ہو گئے۔۔۔۔

وہاں جا کر پتہ چلا کہ مٹی کا کچا گھر بنا ہوا ہے ان درختوں کے جھنڈ کے درمیان میں۔۔۔

ایک بڑا سا حویلی نما گھر اور مزے کی بات کچے گھر دو منزلہ بہت کم لوگوں نے دیکھے ہوں گے، وہ بھی ایک دو منزلہ بڑا سا گھر تھا۔۔۔۔

لکڑی کا پندرہ فٹ اونچا اور دس فٹ چوڑا گیٹ لگا ہوا تھا، غرض اگر کچی اینٹوں کا قلعہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔۔۔۔۔

سب سے آگے بارش والی گاڑی تھی اس نے اتر کر باہر دیکھا، اوپر اس کے باہر نکل کر کھڑا ہونے کے ایک منٹ بعد گیٹ کھل گیا۔۔۔۔

وہ پیچھے آیا اور گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی سٹارٹ کرنے اندر بڑھا دی۔۔۔۔

ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے گاڑیاں اندر لے گئے، میں اندر کا ماحول دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔۔۔۔

ہر طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آرہی تھی، پھول دار پودے اور گھاس کا پلاٹ بنے ہوئے تھے۔۔۔۔

گاڑیاں ایک کچی مگر پختہ راہ داری پر چلتی ہوئی پودوں کے درمیان سے برآمدہ نما گیراج میں جا رکیں۔۔۔۔

گیراج اتنا کھلا تھا کہ وہاں بیک وقت دس سے پندرہ گاڑیاں کھڑی ہو سکتی تھیں۔۔۔۔

میرے لیے یہ سب کسی خواب کی طرح تھا کہ جنگل میں منگل اس کو کہتے ہیں۔۔۔۔

پرانے طرز پر کچی اینٹوں سے بنا ہوا یہ گھر ایک عجوبہ ہی تھا۔۔۔۔

میں حیران ہو رہا تھا کہ یہ بارش ہمیں کہاں لے آیا ہے، یہ کس کا ڈیرہ ہے یا اڈہ ہے جو بھی ہے میرا یہاں کیا کام۔۔۔۔۔

گاڑیاں رکیں بارش اپنی گاڑی سے نکلا اور ہمیں بھی باہر آنے کا کہا۔۔۔۔

ہم باہر نکلے تو ارشد نے او تیری بہن نوں ا کتھے لے آیا اے، یار مروا ای نہ دیوے۔۔۔۔

ہم ابھی تک حیران ہی تھے کہ یہ سب کیا ہے اور بارش ہم کو یہاں کیوں لے آیا ہے۔۔۔

بارش نے اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا وہ گاڑیوں کی ڈگیاں کھولنے لگے، ہمارے دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے چاروں لوگوں کو نکال لیا اور دارے خاں اور اس کے بیٹے کندھوں پر لاد کر اندر لے جانے لگے۔۔۔۔

اسی وقت دو لمبے چوڑے آدمی کم از ساڑھے چھ فٹ کے ہوں گے، سینہ پہلوانوں کی طرح پھولا ہوا تھا، آنکھوں سے وحشت ٹپکتی تھی، آگے آئے ایک نے ایک نے ایک آدمی کو کندھے پر رکھا اور پھر جھک کر دوسرے کو ہاتھ سے اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیا۔۔۔۔۔

میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں، ایک آدمی دو ہٹے کٹے آدمیوں کو اتنی آسانی سے اپنے کندھے پر خود ہی اٹھا کر چل دیا۔۔۔۔

دوسرے نے کہا آپ لوگوں میں سے بلو کون ہے۔۔۔۔

ارشد نے میری طرف اشارہ کیا اس کی تو بولتی ہی بند ہو چکی تھی۔۔۔۔

وہ بولا نال ونجو تساں دونوں۔۔۔۔

اتنا کہہ کر وہ ایک طرف چل پڑا، ہم اس کے پیچھے پیچھے چل پڑے، سالا ایسے چل رہا تھا جیسے کوئی سانڈ ہو۔۔۔۔

پیچھے سے اس کا جسہ کچھ زیادہ ڈول ڈال والا لگ رہا تھا۔۔۔۔

ایک لمبا چکر کاٹ کر وہ ایک دروازے کو دھکیل کر اندر داخل ہوا، پھر اندر بڑھ گیا ہم بھی اس کے پیچھے پیچھے چلتے گئے۔۔۔۔

سامنے ایک بڑا سا دروازہ تھا جو باقیوں سے مختلف لگ رہا تھا اس نے وہ دروازہ کھولا اور ہمیں اندر جانے کا کہا۔۔۔۔

ہم دروازے کے سامنے پہنچے تو اندر ایک پنجابی سٹائل کا صوفہ سیٹ لگ ہوا تھا جس میں موڑھے کرسیاں، میز غرض سب کچھ خالص دیسی تھا۔۔۔۔

اس موٹے ہاتھی نے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا اور باہر نکل گیا۔۔۔

ایک منٹ بعد ہی ایک عورت اندر داخل ہوئہ جس کے دائیں بائیں دو وحشی قسم کی عورتیں تھیں جن کے چہرے سے ایسا لگتا تھا جیسے وہ افریقی نسل کی ہوں۔۔۔۔

کالے سیاہ موٹے موٹے ہونٹ، پھدی ناک، بڑی بڑی آنکھیں اوپر سرخ رنگ کے سوٹ پہنے ہوئے تھے۔۔۔۔

ان دونوں درندہ نظر آنے والی عورتوں کے بر عکس جو عورت بڑے رعب دارانہ انداز سے آئی تھی، وہ بالکل نازک سی لگ رہی تھی، بڑی خوبصورت ،ستواں ناک، باریک ہونٹ جو گلاب کی پنکھڑی لگ رہے تھے، جسم کو اس نے اچھی طرح بڑی سی چادر میں لپیٹ رکھا تھا۔۔۔۔

میں نے کئی خوبصورت لڑکیاں دیکھی تھیں ان میں سے کئی تو ایسی تھیں جن کو ہاتھ لگانے سے ایسا لگتا تھا کہ وہ میلی ہو جائیں گی۔۔۔۔

میں کئی لڑکیوں کی صاف شفاف پھدیوں کو اپنے لن کے پانی سے نہلایا تھا۔۔۔۔

لیکن جب اس عورت کو دیکھا تو اس کے حسن میں جو رعب تھا اس سے مرعوب ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔۔۔۔

میں اس کے چہرے کو تک رہا تھا، وہ آکر کب کی بیٹھ چکی تھی، میں اس کے چہرے کے نقوش کو اپنی آنکھوں سے سکین کر رہا تھا۔۔۔۔

ارشد نے مجھے کندھا مار کر ہوش کی دنیا میں واپس کھینچا میں ہڑبڑا گیا۔۔۔۔

اس بارعب حسن کی رانی نے اپنا ہاتھ اٹھایا میں اس کی لمبی انگلیوں کو دیکھنے لگا گیا اس نے ایک انگلی سے ہمیں بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔

میں سہمے ہوئے بچے کی طرح بیٹھ گیا، ہم ابھی بیٹھے ہی تھے کہ دروازہ کھلا ایک بڑی سمارٹ کی لڑکی اندر داخل ہوئی اس نے بھی سارے جسم کو چادر سے ڈھانپا ہوا تھا۔۔۔

اس کے ہاتھ میں ایک ڈش تھی جس میں گلاس اور جگ تھے گلاس بھی پیتل کے تھے بڑے بڑے ، ان جیسا ہی صراحی نما جگ تھا۔۔۔۔

اس نے وہ لا کر میز پر رکھ دیا، پھر اجازت لے کر باہر چلی گئی۔۔۔۔

ہم بالکل خاموش بیٹھے تھے، پھر اسی رعب دار خاتون نے اپنی گارڈ عورتوں کی طرف غصے سے دیکھا ۔۔۔۔

اس کے غصے میں غضب تھا، اس کی آنکھوں سے شعلے نکلے کالی کلوٹی موٹی عورت ایک دم کانپ گئی اور جلدی سے اس نے دونوں گلاس میں مشروب ڈالا اور گلاس ہماری طرف بڑھا دئیے۔۔۔۔

ارشد نے کانپتے ہوئے ہاتھوں سے گلاس پکڑا البتہ میری حالت اس سے قدرے بہتر تھی۔۔۔

میں نے نظریں جھکا کر گلاس منہ کو لگایا بڑا کی لذیذ شربت تھا ، اتنا بڑا گلاس بڑی مشکل سے ختم کیا۔۔۔

جب ہم نے مشروب پی لیا تو اس نے کھانسی کی، دروازے کی طرف دیکھا۔۔۔۔

جو لڑکی پہلے رکھ کر گئی تھی وہ اندر داخل ہوئی اور برتن اٹھا کر لے گئی۔۔۔۔

اس کے جانے کے بعد وہ عورت ہماری طرف متوجہ ہوئی۔۔۔

اس نے باری باری ہماری طرف دیکھا، میں نے بغیر نظریں جھکائے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا۔۔۔۔

پھر اس نے پہلا لفظ جو بولا میری طرف دیکھتے ہوئے، تو تم ہو صائم نواز عرف بلو ، بڑا سنا ہے تمہارے بارے میں کافی لوگوں نے آکر بتایا تھا۔۔۔۔

میں نے دھیما سا مسکرا دیا اور اپنے سینے ہر ہاتھ رکھ کر سر جھکا کر اقرار کیا کہ میں ہی بلو ہوں۔۔۔

میں کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ اس نے کہا اتنی سی عمر میں تمہارے اتنے چرچے ہیں، کچھ زیادہ کی تیز رفتار ہو، اتنی تیزی اچھی نہیں ہوتی ، شکل سے تو بڑے بھولے لگتے ہو، لیکن بھولے ہو نہیں ۔۔۔۔۔۔

ایک نصیحت کروں گی جو جتنا تیز چلتا ہے اس کی زندگی بھی اتنی تیزی سے کم ہوتی جاتی ہے، پھر تم نے تو ایک بڑے تھم کو ہاتھ ڈال دیا ہے، صرف ڈالا نہیں بلکہ اس کا کاروبار تک ٹھپ کر دیا ہے، میں نے جب وہ سب سنا تھا تو مجھے یقین نہیں آیا تھا کہ ایک کالج کا لڑکا یہ سب کر سکتا ہے۔۔۔۔

پھر تین دن پہلے جب میرے بندے نے بتایا کہ تم دارے خاں کو صاف کرنا چاہتے ہو، وہ بھی عدالت سے تو میں نے سوچا کیوں نہ ایک بار آزما لیا جائے، کیونکہ عدالت کے سامنے کسی کو پار کرنا کسی کے لیے بھی اچھا ثابت نہیں ہوتا۔۔۔۔

میں نے اسی وقت کہا تھا کہ اگر تم سمجھدار ہوئے تو یہ کام وہاں نہیں کرو گے بلکہ کوئی رستہ استعمال کرو گے، میرا اندازہ درست ثابت ہوا، اگر تم اس کو اڑانے آئے ہوتے تو اڑا چکے ہوتے تمہارا مقصد کچھ اور تھا۔۔۔۔۔

میں مسکراتے ہوئے اس کی باتیں سن رہا تھا، اس کے لہجہ بڑا شائستہ تھا، بڑے دھیمے انداز میں بات کر رہی تھی، بول تو آرام سے رہی تھی لیکن آواز میں رعب تھا۔۔۔

میں نے مسکراتے ہوئے ہی کہا آپ بھی نہیں لگتیں کہ ایسا کچھ کرتی ہوں گی، لیکن حقیقت میرے سامنے ہے۔۔۔

آپ کی شخصیت کو دیکھ کر بالکل بھی ذہن میں یہ تصور نہیں آتا بلکہ سوچا بھی نہیں جا سکتا کہ اتنا بڑا گینگ چلا رہی ہیں۔۔۔

میرا اس کے بارے میں علم صفر تھا، لیکن میں یہ تو جان چکا تھا کہ وہ کوئی گینگ چلا رہی ہے، اب وہ گینگ کس مقصد کے تحت چلا رہی ہے یہ میں نہیں جانتا تھا۔۔۔۔

اس نے کہا گینگ اچھا لفظ ہے لیکن میں کوئی گینگ نہیں چلا رہی اور نہ ہی کچھ ایسا ویسا کر رہی ہوں۔۔۔۔

میں نے کہا تو یہ سب کیا ہے، اتنے ویران علاقے میں جنگل کے اندر درختوں کے جھنڈ میں یہ گھر اوپر سے اتنے خوفناک لوگ یہ سب رکھنے کا مقصد کیا ہے، کوئی شوق سے تو یہ سب نہیں رکھتا۔۔۔۔

اس نے پہلی بار اپنے چہرے پر مسکراہٹ لاتے ہوئے کہا، جب بارش اتنے عرصے بعد میرے پاس آیا تھا اور اس نے جو کچھ تمہارے بارے میں کہا تو میں نے اس کی باتوں کو زیادہ سیریس نہیں لیا تھا، پھر تمہارے بارے میں پتہ کروایا وہاں کے کچھ بدنام لوگوں سے جو کچھ پتہ چلا میرے لیے حیران کن تھا، بارش پھر آیا اس نے مجھ سے مدد مانگی اس کو بندے چاہئیں جن کی مدد سے اس نے تمہارا کام کرنا ہے۔۔۔۔

میں نے اس کو بندے دے دئیے لیکن یہ جاننے کے لیے کہ تمہارا کیا پلان ہے میں نے بارش سے پتہ کروانے کی کوشش کی تو اس نے کہا کہ جب تم اس کو کہو گے تب کرنا ہوگا، اس کو صرف تیار رہنے کی ہدایات ہیں کچھ بھی کرنا پڑ سکتا ہے ایسا کیوں ہے جب کسی کے ذمے کام لگا دیا تو اس کو سب کچھ تفصیلاً بتانا چاہیے۔۔۔

میں نے کہا بارش کو اگر میں کہتا کہ اڑانا ہے تو اس نے اڑا دینا تھا جگہ موقع محل دیکھے بغیر پھر جو مقصد میرا ہے وہ پورا نہیں ہوسکتا تھا۔۔۔۔

میں دارے خان کو عدالت میں آتے ہوئے بھی اڑاوا سکتا تھا فیصلہ ہونے سے پہلے بھی، اس کو ایک بار پھر سزا بھی ہو سکتی تھی اس کے خلاف اتنے ثبوت تھے، لیکن اس سے میرا مقصد پورا نہیں ہو سکتا تھا، دارے خاں ابھی صرف جیل گیا تھا کہ پیچھے سے اس کے ساتھی اور مخالفین میدان میں اتر آئے انہوں نے کام شروع کر دیا۔۔۔۔

اگر دارے خاں کو سزا ہو جاتی تو وہ لوگ بے فکر ہو کر اپنے دھندے میں مگن رہتے، نئی منصوبہ بندیاں کرتے جس سے ان کو پکڑنے میں کافی وقت لگتا۔۔۔۔

اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا اس کا مطلب ہے تم نے بڑی دور کی سوچی ہے، سب کو سوچنے پر مجبور کرنے کے لیے کہ اگر کوئی وہ دھندہ دوبارہ کرے گا تو اس کو کہیں بھی چھپنے نہیں دو گے، چاہے عدالت اس کو باعزت بری بھی کر دے۔۔۔۔

میں نے مزید کہا اس کے علاوہ بھی ایک وجہ تھی اس کو عدالت سے باہر آنے دینے کی۔۔۔۔

اس نے کہا وہ کیا وجہ ہے کہیں یہ تو نہیں کہ تم اس بندے کا پتہ کرنا چاہتے تھے جو اس کے بعد اس کا دھندا سنبھالنا چاہ رہا تھا۔۔۔۔

میں نے ہاں میں سر ہلا دیا، اس نے بھی مسکرا کر مجھے دیکھا اور ساتھ کھڑی حبشن کے کان میں کچھ کہا وہ سر ہلاتے ہوئے باہر نکل گئی۔۔۔۔

اس کے باہر جاتے ہی اس نے کہا میرا نام زیبا مگسی ہے اور اس علاقے کے سب سے بڑے زمیندار گھرانے کی اکلوتی بہو ہوں، سب کچھ میں سنبھالتی ہوں، یہ سارے وہ کام ہیں جو میرا شوہر کرتا تھا۔۔۔۔۔

میں نے سوالیہ انداز میں کہا کرتا تھا کا کیا مطلب۔۔۔؟

اس نے کہا ان پر کسی نے قاتلانہ حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں وہ مفلوج ہو گئے ہیں ، پچھلے پانچ سال سے قومے میں ہیں۔۔۔۔

میں نے کہا بڑا افسوس ہوا یہ سب سن کر مجھے نہیں معلوم تھا۔۔۔۔

اس نے پھیکی سی ہنسی ہنستے ہوئے کہا یہ اوپر والے کی مرضی ہے ، جس کے ساتھ کیا ہونا ہے، کب ہونا ہے، کیسے ہونا ہے، کیوں ہونا ہے یہ صرف وہ ہی جانتا ہے اس کے آگے کسی کی نہیں چلتی۔۔۔۔۔

اس کے لہجے میں افسردگی تھی، میں نے اس سے کافی افسوس کا اظہار کیا، جس سے مجھے بھی لگا کہ اس کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔۔۔۔

اس کے بعد اس نے کہا اب اس کا کیا کرنا ہے اور جن کو اس کے ساتھ اٹھا لائے ہو ان کا کیا کرو گے۔۔۔۔

میں نے کہا ان کا تو پتہ کرنا ہے باقی ہے ان سے بہت کچھ اگلوانا بھی ہے، یہ ہی تو وہ بندے ہیں جو ایک سیڑھی کا کام کریں گے۔۔۔

میں وہ سیڑھی بننا چاہتا ہوں جس پر جگہ جگہ مرنے کے مقامات ہوں جب اس جگہ پہنچیں تو واپس جا گریں پھر سے زیرو سے شروع ہوں یا کوئی نیا بندہ سامنے آئے۔۔۔۔

زیبا مگسی نے کہا مجھے تمہاری ایک بات بہت اچھی لگی ہے کہ تم نے پچھلے دنوں جو لڑکیاں بازیاب کروائی ہیں اور ان کے والدین تک ان بچیوں کو پہنچایا ہے، سچ کہوں تو میں وہ سب کہانیاں ہی سمجھ رہی تھی اور سوچتی تھی کہ اگر وہ تمہارا کام ہے تو تم یقیناً کوئی لڑکے نہیں ہو گے۔۔۔۔

میں نے اس کو دیکھ کر کہا آپ کو دیکھ کر بھی نہیں لگتا کہ آپ کی اتنی عمر ہوگی سچی بات کہوں تو لگتا ہی نہیں ہے کہ آپ شادی شدہ ہیں آپ انیس بیس سال کی لڑکی لگتی ہیں، اگر میں آپ سے یہاں نہ ملتا تو یقینا آپ کو لڑکی ہی سمجھتا۔۔۔۔

اس نے عجیب سی لہجے میں کہا تو کیا اب میں لڑکی نہیں لگ رہی۔۔۔۔

میں نے کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے میرا کہنے کا مطلب وہ نہیں تھا۔۔۔

اس نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا یہ بات نہیں تھی وہ بات نہیں تھی، جو پوچھا ہے صرف اس کا جواب دو۔۔۔۔

میں نے اس کو نظر بھر کر دیکھا اس کی آنکھوں میں صاف دکھ رہا تھا، وہ تعریف سننا چاہتی ہے، عورت کی سب بڑی کمزوری یہ ہی ہوتی ہے کہ وہ مرد کے منہ سے تعریف سننا پسند کرتی ہے۔۔۔۔

میں نے کہا آپ ابھی بھی ایک جوان لڑکی ہی لگ رہی ہیں، میرا بات کرنے کا مطلب یہ تھا کہ ابھی تو مجھے آپ نے سب کچھ بتا دیا ہے، اس لیے میں آپ کو اس نظریے سے نہیں دیکھ رہا۔۔۔۔۔

اس نے ایک دم سر اٹھا کر میری طرف دیکھا ارشد نے مجھے کہنی سے ٹہوکا دیا، میں اتنا کہہ کر ہی چپ ہو گیا۔۔۔۔

وہ چند سیکنڈ مجھے دیکھتی رہی پھر بولی اگر تمہیں میرے بارے میں نہ پتہ ہوتا تو کس نظر سے دیکھتے مجھے۔۔۔۔

اس کے سوال کرنے سے مجھے سمجھ آئی کہ میں کیا بونگی مار بیٹھا ہوں ، اب اس بات کو کور تو کرنا ہی تھا، اس لیے میں نے کہا ایک عام لڑکی کے روپ میں دیکھ کر جو کوئی لڑکا سوچ سکتا ہے وہ ہی سوچتا۔۔۔۔۔

سمجھ اس کو بھی آ رہی تھی لیکن وہ جو الفاظ سننا چاہ رہی تھی میں وہ بول نہیں پا رہا تھا یا یوں کہہ لیں وہ الفاظ بولنے سے کترا رہا تھا , مجھے ڈر تھا کہ اگر اس کو برے لگے تو اس کے ساتھ کھڑی حبشی عورت مجھے پر سوار ہو جائے گی اور میرا قیمہ بنا دے گی۔۔۔۔

تبھی وہ عورت جس کو زیبا نے باہر بھیجا تھا اندر داخل ہوئی اس نے زیبا کے کان میں کچھ کہا۔۔۔۔

زیبا میری طرف متوجہ ہوئی اور کہا جو دوسرے دو لڑکے تھے جنہوں نے دارے خاں کو اغواء کرنے کی کوشش کی تھی ان کو کسی پروفیسر نے بھیجا تھا۔۔۔۔

پروفیسر ہمممم میں نے کہا شکریہ کیا میں ان کے منہ سے سن سکتا ہوں۔۔۔۔

زیبا نے سر کے اشارے سے اس عورت کو کچھ کہا اس عورت نے مجھے اپنے ساتھ آنے کا کہا۔۔۔۔

میں اور ارشد اٹھ کر اس کے ساتھ چل دئیے وہ ہمیں ایک تہہ خانے میں لے گئی ۔۔۔۔

تہہ خانہ پکہ بنا ہوا تھا وہاں کا فرش بھی پختہ اینٹوں کا بنا ہوا تھا۔۔۔۔

اندر اترے تو سامنے دو آدمی ادھ موئے ہوئے پڑے تھے ان کے جسم پر جابجا زخم تھے، بلاکلٹ برہنا تھا اور اپنے ہاتھ سے اپنے ٹٹوں کو دبا رہے تھے۔۔۔۔

میں نے مڑ کر عورت کی طرف دیکھا تو اس نے اپنے موٹے موٹے لب کھول کر مسکرا کر مجھے دیکھا۔۔۔

ارشد تو ویسے ہی چپ ہو چکا تھا وہ بڑا بولتا تھا یہاں آ کر اس کی بولتی کو بریک لگ گئے تھے۔۔۔۔

میں آگے بڑھا اور ان میں سے ایک کے پاس جا کر بیٹھا اور اس سے پوچھا کس نے بھیجا تھا تم لوگوں کو۔۔۔۔

اس نے سر اٹھا کر میری طرف دیکھا اور ہنسنے لگا، پھر اپنی ٹانگوں کے درمیان سے ہاتھ ہٹا کر لن کو پکڑ کر میرے سامنے کیا اور مسکرانے لگا۔۔۔۔

میں نے اس کو کچھ نہ کہا دوسرے جیب سے پستول نکالی اور دوسرے کے پاؤں میں گولی مار دی۔۔۔۔

حبشی عورت ایک دم گھبرا گئی اب میں نے اس کی طرف دیکھ کر مسکراہٹ پاس کی اور پھر پہلے والے لڑکے کے پاس بیٹھ گیا اور کہا چل شروع ہو جا۔۔۔۔۔

اس نے کہنا شروع کیا جیسے جیسے میں سنتا جا رہا تھا ویسے ویسے میرے اندازے سچ ثابت ہوتے جا رہے تھے۔۔۔۔

اس سے ساری بات سن کر میں نے صرف اتنا کہا اب فیصلہ تم لوگوں کے ہاتھ میں ہے گند میں رہ کر مرنا ہے یا اچھائی کے رستے پر چل کر لوگوں کی دعائیں لینی ہیں، فیصلہ کر لو ، میں تم لوگوں کو یہاں مار بھی سکتا ہوں تمہارے گھر والوں کو لاش بھی نہیں ملے گی یہاں چیل کوے کھائیں سار گوشت اور ہڈیاں کتے بھنبھوڑتے رہیں گے۔۔۔۔

اس نے میرے سامنے ہاتھ جوڑ دئیے اور کہا بھائی جو کہو گے وہ کروں گا، بس ہمیں چھوڑ دیں ، ہم مجبور ہیں ہمارے گھر والے بھوکے مر جائیں گے۔۔۔

میں ارشد سے کہا ان سے ان کا ایڈریس پوچھ لو اور بارش کو بتا دو، اس کو کہنا یہ پتہ ہے ان کا خیال رکھنا ہے ان کو کوئی پریشانی نہ ہو۔۔۔۔

اس کے بعد میں اس عورت کی طرف متوجہ ہوا جو ابھی تک حیرانی سے مجھے دیکھ رہی تھی ، میں نے اس سے کہا اس کا علاج کرواؤ گولی وغیرہ نکلوا دو اور پٹی کروا اس کے بعد ان کو کسی اچھے کمرے میں پہنچا دو۔۔۔۔

اس نے کہا یہاں کوئی ایسا بندہ نہیں ہے جو یہ کام کر سکے، میں نے ارشد کی طرف دیکھا اس نے بارش کا نمبر ملایا اس کو کہا گولی نکالنی ہے، ابھی اور اسی وقت پٹی کا بندوبست کرو۔۔۔۔

وہ عورت اس زخمی کو کپڑے دے چکی تھی دوسرا خود ہی کپڑے پہن چکا تھا۔۔۔۔

ان کو وہاں سے لے کر ایک کمرے میں آ گئے بارش ایک لڑکے کے ساتھ وہاں آگیا ۔۔۔

اس لڑکے نے زخم دیکھا اور پھر سپرٹ لگایا سپرٹ گرتے ہی وہ تڑپنے لگا، کچھ ہی دیر میں اس کی گولی نکل چکی تھی اس کو درد کا انجکشن لگ چکا تھا ، ان کے سامنے ہی میں نے بارش کو سب کچھ سمجھا دیا اور کہا یہ اب تمہارے ساتھ رہیں گے۔۔۔۔

گاڑی کے بارے میں بارش نے مجھے سب بتا دیا کس کی تھی اور ان کے پاس کب سے تھی۔۔۔۔

وہ میں پہلے ہی جان چکا تھا میں جتنا عمائمہ سے بچنا چاہ رہا تھا اس سے کنی کترا رہا تھا وہ اتنا ہی میرے راستے میں آ رہی تھی۔۔۔۔۔

اب مجھے لگ رہا تھا کہ اس کا بھی بندوبست کرنا پڑے گا۔۔۔۔

میں نے فون چیک کیا تو میرا فون بند ہو چکا تھا میں نے اس کو آن کیا اور پھر باہر ا گئے ہمیں ایک کمرے میں لے جایا گیا وہاں بارش اس کے ساتھی اور ہم نے مل کر کھانا کھایا۔۔۔۔

کھانا ابھی ختم ہوا ہی تھا کہ ناصر کا فون آگیا اس نے کہا کہ پولیس آئی تھی ہمارے ڈیرے پر ہڑپہ والے معاملے کی پوچھ گچھ کرنے میں نے ان کو صاف انکار کر دیا ہے۔۔۔۔

میں نے کہا چلو جو ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے۔۔۔۔

اس نے کہا ان کو وہاں ایک آدمی زندہ ملا ہے جس نے کوئی خاکا بنوایا ہے جو کسی سے نہیں ملتا۔۔۔

میں نے اس کی بات سنی اور کہا چلو یہ تو اچھا ہی ہوا۔۔۔۔

ناصر سے بات کرنے کے بعد اور کھانا کھانے کے بعد میں نے بارش سے دارے خاں کے بارے میں پوچھا۔۔۔۔

بارش نے مجھے کہا میڈم زیبا نے دارے خاں کو اپنے پاس رکھنے کا کہا ہے وہ کہتی ہیں وہ خود اس کا بندوبست کر لیں گی۔۔۔۔

میں نے کہا یہ نہیں ہوسکتا میں دارے خاں کو نہیں چھوڑ سکتا اس کو ختم کرنا ہوگا اور اس کی لاش بھی پولیس کو ملنی چاہئیے اس کی خبر سب تک پہنچنی چاہئیے کہ دارے خاں کا قتل ہو چکا ہے۔۔۔۔

بارش نے کہا بھائی یہاں صرف میڈم زیبا کی چلتی ہے وہ خود ایسے لوگوں کے خلاف ہیں انہوں نے اس علاقے میں کئی گینگ ختم کیے ہیں جو اس طرح کے کام کرتے تھے۔۔۔۔

میں نے جواب دیتے ہوئے کہا کیے ہوں گے لیکن دارے خاں ہمارا مجرم ہے اس کا بندوبست کرنا بھی ہمارا ہی حق ہے۔۔۔۔۔

بارش میرا ارادہ بھانپ کر پریشان ہو گیا تھا، میں دارے خاں کو ایسے نہیں چھوڑ سکتا تھا، اس کو ختم کرنے کا رستے سے ہٹانے کا میں نے وعدہ کیا تھا۔۔۔۔

مجھے کوئی غرض نہیں تھی کہ زیبا خاں کون ہے اس کا کتنا رعب ہے، میرے لیے صرف میرا مقصد اہم تھا۔۔۔۔

بارش کو دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا کہ دارے خاں کا جو میں نے سوچا ہے، اس کو بتا دیا ہے وہ ہی ہوگا۔۔۔۔

بارش اب ڈبل مشکل میں پھنس چکا تھا اگر میری بات مانتا تو زیبا مگسی اس کی مخالف ہو جاتی اور اگر اس کی ماننے کی کوشش کرتا تو بھی زیبا اس کی مخالف ہو جاتی، کیونکہ میں اپنے ارادے سے پھرنے والا نہیں تھا۔۔۔۔

بارش نے مجھے باز رکھنے کی بڑی کوشش کی، جب میں نہ مانا تو وہ زیبا کے پاس گیا اس نے اس تک پیغام پہنچایا، لیکن اس نے ملنے سے انکار کر دیا۔۔۔۔۔

دن کو وہ سوتی تھی یہ بات اس کی حبشی گارڈ نے بتائی، میں نے کہا بارش میں بھی کچھ دیر آرام کروں گا ساری رات جاگا ہوں، شام تک کر لو کوشش زیبا کو منانے کی اس کے بعد اس کو بھی پتہ نہیں چلے گا کیا ہوا ہے۔۔۔

بارش سر پکڑ کر بیٹھ گیا اس کو کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی ، وہ کیا کرے۔۔۔

مجھے بھی ایک کمرہ دے دیا گیا میں جا کر سو گیا، بڑی گہری نیند آئی جب آنکھ کھلی تو شام ہونے والی تھی۔۔۔۔

میں فریش ہوا بارش میرا ہی انتظار کر رہا تھا، اس نے مجھے کہا زیبا میڈیم بلا رہی ہیں۔۔۔۔

میں نے اس سے کوئی سوال نہ کیا اس کے ساتھ چل دیا ، اس نے اسی دروازے کے سامنے جا کر اجازت مانگی اندر سے حبشن نکلی اس وقت کوئی اور تھی وہ پہلی والی نہیں تھی، اسی کی طرح ڈیل ڈول والی تھی تھی یہ بھی۔۔۔۔۔

اس نے باہر آ کر میری طرف دیکھا اور مجھے اندر بلا لیا۔۔۔۔

میں اندر داخل ہوا سامنے زیبا بیٹھی تھی ایک بڑی کرسی پر، اس نے مجھے بیٹھنے کا کہا۔۔۔۔

میں بیٹھ گیا اس نے مجھے کہا تم نے بارش کو کیا کہا ہے دارے خاں کو تم لے کر جاؤ گےاس کو قتل کرو گے،۔۔۔۔۔

میں نے کہا بالکل یہ بات آپ کو اس وقت بھی بتائی تھی کہ اتنا لمبا جو چکر چلایا ہے اس سب کے پیچھے کیا وجوہات ہیں، کس وجہ سے میں ایسا کرنا چاہتا ہوں، اگر ایسا نہ ہوا تو یہ ساری محنت پانی ہو جائے گی، میرے نزدیک یہ سب کرنا بہت ضروری ہے ورنہ وہی ہوتا رہے گا جو پہلے ہو رہا ہے اس کے جیل جانے کے بعد جو بھی آتا تھا وہ اسی طرح کام شروع کر دیتا تھا، اب اگر اس کا کام تمام کرتے ہیں تو وہ سب لوگ الرٹ ہو جائیں گے، ان کو کان ہو جائیں گے وہ بچنے کی کوشش کریں گے، اور کوئی نیا نہیں آئے گا۔۔۔۔۔

زیبا نے کہا اگر میں کہوں کہ میں اس کا کام خود کرواؤں گی، اس کو تمہارے ساتھ نہیں جانے دوں گی تو۔۔۔۔

میں مسکرا دیا اور کہا میں اپنے فیصلے نہیں بدلا کرتا جو سوچ لیتا ہوں وہ کرکے ہی رہتا ہوں، چاہے کچھ بھی ہو جائے۔۔۔۔

باقی آپ کی مرضی ہے جو کرنا چاہیں کر لیں ، میرا فیصلہ نہیں بدلے گا۔۔۔۔

اس نے غور کر مجھے دیکھا اور کہا تمہیں کیا لگتا ہے تم یہاں سے اس کو لے جاؤ گے اور میرے آدمی تمہارا منہ دیکھتے رہ جائیں گے۔۔۔۔

میں نے کہا مجھے اس میں ذرہ سی بھی تکلیف نہیں ہو گی، میں یوں نکال کر لے جاؤں گا جیسے آٹے میں سے بال۔۔۔۔

اس نے کہا بڑی خوش فہمی ہے تمہیں خود پر اتنا اعتماد اچھی بات نہیں ہوتا۔۔۔۔

میں نے کہا زیبا جی اعتماد نہ نڈرتا میرے خون میں شامل ہے، جھکنا، ڈرنا میں نے نہیں سیکھا۔۔۔۔۔

اس نے کہا جاؤ پھر میں بھی دیکھتی ہوں کیسے لے کر جاتے ہو اگر تم دارے خاں کو اس رات اپنے ساتھ لے کر نکل جاؤ تو میں خود کو تمہاری غلام بنا دوں گی۔۔۔۔

میں نے کہا زیبا کی اتنے بڑے دعوے اچھے نہیں ہوتے پہلے سامنے والے بندے کے بارے میں جان لینا چاہئیے۔۔۔۔

اس نے کہا مگسی ہوں خاندانی بلوچ ہوں، ہم اپنی انا پر جان بھی قربان کر دیتے ہیں ۔۔۔۔۔

میں نے ذرہ مسکراتے ہوئے ذو معنی انداز میں کہا اور اگر ہار جائیں تو عزت بھی حوالے کر دیتے ہیں ۔۔۔۔؟؟؟

زیبا نے خون خوار انداز سے مجھے دیکھا اور کہا تم ہمارے مہمان ہو، ورنہ تمہارے منہ سے زبان کھینچ لیتی۔۔۔۔

میں نے اسی طرح ہنستے ہوئے کہا تو پھر لگ گئی شرط ، اگر میں دارے خاں کو یہاں سے لے گیا تو آپ میری غلام بنیں گی۔۔۔۔

اس نے بڑے پختہ عزم کے ساتھ کہا میں نے کہا ناں ہم زبان سے نہیں پھرتے۔۔۔۔

میں نے اپنی جیکٹ میں چیک کیا دونوں ریوالور موجود تھے، میں نے اٹھتے ہوئے جیکٹ کے اندر ڈالے اور کہا چلیں اگر بضد ہیں تو پھر تیار ہو جائیں میری غلام بننے کے لیے پتہ ہے ناں مالک غلاموں سے کیا کچھ کرواتے ہیں۔۔۔۔

زیبا نے نخوت سے کہا پتہ ہے اسی لیے تو یہ شرط رکھی ہے، تم سوچو تم غلام بنے کیسے لگو گے۔۔۔۔

میں ہنسنے لگا زور زور سے قہقے مارنے لگا اس کے ساتھ کھڑی اس کی گارڈ کو چیک کر رہا تھا کہ اس کے پاس کوئی ہتھیار تو نہیں ہے، میں نے تسلی کر لی کہ اس کے پاس کوئی ہتھیار نہیں ہے ۔۔۔۔

پھر جیکٹ کی جیبوں سے ہاتھ نکالے اور ان دونوں پر پستول تان دئیے اور مسکرا دیا۔۔۔۔

زیبا کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں نے اسی وقت ارادہ کر لیا ہے دارے خاں کو کے جانے کا۔۔۔۔

اس کی گارڈ نے پھرتی دکھانے کی کوشش کی تو میں نے اس کی ٹانگ میں گولی مار دی، گولی کی آواز سن کر زیبا کا سانس رک سا گیا، اس کے چہرے پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔۔۔

میں نے ہنستے ہوئے کہا میڈم چلیں، وہ ویسے ہی چلنے لگی اس کی چادر کی چلمن گر چکی تھی، جس سے اس کا سینہ ننگا ہو رہا تھا، اس نے فٹنگ والا سوٹ پہنا ہوا تھا جس میں اس کے ممے پھنسے ہوئے تھے۔۔۔۔

میں نے اس کے سینے پر دیکھتے ہوئے کہا آپ پہلے چادر ٹھیک کر لیں ، وہ میری نظروں سے سمجھ چکی تھی، اس نے غصے سے دیکھتے ہوئے اپنی چادر ٹھیک کی اور پھر آگے چل پڑی۔۔۔۔

میں نے کہا آپ اپنے آدمیوں سے بس اتنا کہہ دیں کہ کوئی چالاکی نہیں ورنہ آپ دیکھ چکی ہیں میں کوئی لحاظ نہیں کروں گا۔۔۔

اس نے ہاں میں سر ہلایا میں اس کے پیچھے اس کے ساتھ لگ کر اس کے سر پر پستول لگا کر چلنے لگا۔۔۔۔

میرا سینہ اس کے کندھے سے لگ رہا تھا اس کا جسم تھر تھر کانپ رہا تھا، باہر نکلے تو سامنے اس کے بندے اکٹھے ہوئے کھڑے تھے، اس نے کانپتی آواز میں کہا دارے خاں کو لے آؤ اس کے بیٹے کو گولی مار دو اور گاڑی کی ڈگی میں ڈال دو۔۔۔۔

اس کے بندے کچھ بولنے لگے تو اس نے کہا کوئی الٹی سیدھی حرکت نہ کرے، جو کہا ہے وہ کرو زیادہ وفادادی دکھانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔

میں نے اس کے کان میں کہا یہ تو میں نے کہنا تھا واہ آپ نے تو میرے دل کی بات کہہ ڈالی۔۔۔۔

وہ کچھ نہ بولی اسی وقت اس کی گارڈ دوسری حبشی عورت جس کے سامنے میں نے گولی ماری تھی، وہ آئی مجھے دیکھ کر اس کی بولتی بند ہو گئی۔۔۔۔

وہ مجھے دیکھ چکی تھی، اس کو پتہ چل چکا تھا کہ میں ذرہ بھی رحم نہیں کرتا، اس نے چیخ کر ایک آدمی کو کہا جاؤ جو میڈم نے کہا وہ کرو۔۔۔۔

دو منٹ بعد ہی دارے خاں کو باندھ کر ہمارے سامنے لایا گیا، بارش غائب تھا ارشد یہ سب دیکھ کر باؤلا ہو رہا تھا، اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں کیا کر رہا ہوں۔۔۔۔

دارے کے ساتھ ان دو لڑکوں کو بھی لایا گیا جن کے قبضے سے ہم نے دارے خاں کو بازیاب کیا تھا۔۔۔

ان میں سے جو صحیح تھا، جس کو گولی نہیں لگی تھی، وہ آگے بڑھا اس نے ایک بندے سے بندوق لی اور دارے خاں کو دھکیلنے لگا تو اس نے کہا اس کے ساتھ جو لڑکا تھا وہ کہاں ہے۔۔۔۔

اسی وقت ایک آدمی دارے خاں کے بیٹے کو کندھے پر لادے اندر آیا۔۔۔

ارشد کو میں نے کہا چلو گاڑی سٹارٹ کرو ہم آ رہے ہیں۔۔۔

ارشد باہر نکل گیا،میں زیبا کے سر پر پستول لگائے باہر آیا، تب تک ارشد گاڑی کی ڈگی میں دارے خاں کو باندھ کر ڈال چکا تھا دوسرا لڑکا بارش کی گاڑی کی ڈگی میں دارے خاں کے بیٹے کو ڈال چکا تھا۔۔۔۔

بارش کہیں نظر نہیں آ رہا تھا، میں نے اس کو آواز دی لیکن وہ نظر نہ آیا ، کم از کم وہاں چالیس کے قریب آدمی تھے جو بے بس کھڑے تھے۔۔۔۔

ارشد نے گاڑی سٹارٹ کی ہوئی تھی میں زیبا کو لے کر پچھلی سیٹ پر بیٹھ گیا،ارشد نے گاڑی اگے بڑھائی میں نے رکنے کا اشارہ کیا زیبا کو کہا ان کو کہو کوئی پیچھا نہیں کرے گا ورنہ تمہاری لاش بھی دارے خاں کے ساتھ ملے گی، اس کا مطلب خود سمجھ جاؤ لوگ کیا کچھ کہیں گے۔۔۔۔

اس نے کہا خود کہہ دو جو کہنا ہے مجھ سے نہیں بولا جاتا ۔۔۔۔

میں نے ہسنتے ہوئے کہا ابھی سے ہار مان لی ابھی تو کچھ بھی نہیں کہا میں نے۔۔۔۔

میں نے اس کو پستول کی نوک پر گاڑی سے باہر نکالا اور خود اس کے پیچھے کھڑے ہو کر کہا کوئی بھی پیچھا کرنے کی کوشش نہ کرے ہم یہاں سے نکلنے کے بعد خود میڈم کو محفوظ جگہ پر چھوڑ دیں گے، دوسری صورت میں میڈم ملیں گی تو ضرور لیکن لاش کی صورت میں۔۔۔۔

میں نے ارشد کو کہا گاڑی گیٹ سے نکال کر گیٹ کو باہر سے بند کر دینا۔۔۔

ارشد نے ویسے ہی کیا ہم باہر نکلے ارشد نے اتر کر گیٹ کو باہر سے تالا لگا دیا۔۔۔۔

اب کون گیٹ کو پھلانگتا اگر کوشش کرتے بھی تو تب تک ہم کافی دور نکل چکے ہوتے۔۔۔۔

اس کے بعد ارشد کو گاڑی بھگانے کا کہا ہم وہاں سے حجرہ شاہ مقیم والی سائیڈ سے حویلی لکھا پھر وہاں سے ایک شارٹ کٹ لے کر چھوٹے بڑے قصبوں سے ہوتے ہوئے ساہیوال روڈ پر آ گئے۔۔۔۔

شہر سے دور ہی دریائے بیاس کے علاقے میں گاڑی روکی اور دارے خاں کو باہر نکال کر گولی مار دی اس کے بیٹے کو بھی وہاں پھینک دیا۔۔۔۔۔

زیبا کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں اس کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ ایک ٹین ایجر لڑکا ایسا بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔

اس کو وہاں سے اٹھا کر ہم نے روڈ کے قریب پھینکا اور وہاں جا کر پتہ چلا کہ بارش بھی دوسری گاڑی میں دبکا بیٹھا ہے۔۔۔۔

دارے خاں کو پھینکنے کے بعد میں نے ارشد کو کہا میڈم کو واپس چھوڑنا ہے۔۔۔

زیبا نے حیرت سے میرے طرف دیکھا تو میں نے کہا مجھے زیب نہیں دیتا کہ میں آپ کے ساتھ کوئی ناروا سلوک کروں۔۔۔

زیبا نے غصے سے تمتماتے ہوئے کہا پہلےتو مجھے پھولوں کے کار پہنا کر لائے ہو۔۔۔

میں نے کہا ہائے ہماری ایسی قسمت کہاں کہ آپ کو ہار پہنا کر لا سکیں، آپ تو کسی اور کی ہو چکی ہیں۔۔۔۔

وہ کچھ نہ بولی بس اپنا غصہ پی کر رہ گئی، بارش کو میں نے کہا کہ وہ دوسرے دونوں لڑکوں اور اپنے لڑکوں کے ساتھ نکل جائے، ہم زیبا کو چھوڑ کر واپس آ جائیں گے۔۔۔۔

زیبا نے کچھ نہ کہا ارشد نے گاڑی گھما لی اور واپس اسی رستے پر چل پڑے۔۔۔۔

کچھ دور جا کر میں نے زیبا سے کہا اس وقت پوچھ رہی تھیں ناں کہ میں کیا کرتا تو سنیں اگر آپ مجھے باہر کہیں ملی ہوتیں تو میں آپ پر لائن مارتا ۔۔۔۔

وہ چپ تھی اس نے کچھ بھی نہ بولا ہم چلتے گئے جب واپس دیپالپور پہنچے تو اس نے کہا مجھے وہاں نہ چھوڑیں آپ لوگوں کے لیے مسئلہ ہو سکتا ہے، یہاں میرا ایک گھر ہے مجھے وہاں چھوڑ دیں اور واپس چلے جائیں، میں یہاں سے فون کرکے ان لوگوں کو بتا دوں گی ۔۔۔۔

وہ ہمیں رستہ بتانے لگی ہم اس جلد ہی اس کے گھر پہنچ گئے اس نے کہا اگر چاہو تو یہاں رک سکتے ہو، صبح چلے جانا۔۔۔۔۔

میں نے کہا نہیں ہم چلے جائیں گے واپس آپ پریشان نہ ہوں۔۔۔۔

اس نے کہا میں کچھ نہیں کروں گی رک جاؤ تم لوگوں کی سہولت کے لیے کہہ رہی ہوں۔۔۔۔

میں نے کہا نہیں اگر اتنی ہی فکر ہے تو ہم کھانا کھا لیتے ہیں باہر سے لے آتے ہیں۔۔۔۔

وہ کچھ نہ بولی ارشد کو میں نے کسی ہوٹل چلنے کا کہا ہم نے ایک ہوٹل سے کھانا لیا اور واپس اس کے گھر آ گئے۔۔۔۔

اس کے گھر میں ملازم تھے انہوں نے دروازہ کھولا اور ایک عورت جو ملازم تھی اس نے کھانا لگا دیا ۔۔۔۔

ہم نے کھانا کھایا اب یہ وہ والی زیبا نہیں تھی جو وہاں توں ترا سے بول رہی تھی یہ سادہ گھریلو عورت تھی۔۔۔۔

کھانا کھانے کے بعد ہم نے چائے پی اس دوران اس نے صرف ایک بار میرا شکریہ ادا کیا۔۔۔۔

جب ہم وہاں سے نکلنے لگے تو اس نے مجھے روک لیا ارشد باہر نکل گیا۔۔۔۔

وہ میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی میں نے بہت سے لوگ دیکھے ہیں آج تک کسی میں ہمت نہیں ہوئی کہ کوئی مجھے ڈرا سکا ہو یا میں نے کسی کے سامنے خود کو بے بس محسوس کیا ہو۔۔۔۔

تم واحد انسان ہو جس کے سامنے بیک وقت دونوں چیزیں ہوئیں اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گئی تھی کہ اب تم مجھے اپنا غلام بناؤ گے، میرے ساتھ بڑا نازیبہ رویہ روا رکھو گے، کیونکہ میں نے لوگوں کو دوسروں کو بے بس کرکے ان کی عزتوں سے کھیلتے دیکھا ہے مجھے یقین نہیں آ رہا کہ مجھے اٹھا کر لے جانے والا مجھ سے شرط جیتنے والا مجھے کچھ بھی کہے بغیر کوئی شرط رکھے واپس چھوڑ رہا ہے۔۔۔۔۔

اس کی آنکھوں میں ممنونیت تھی میں نے مسکراتے ہوئے کہا اب آپ میری غلام ہی ہیں میں جب چاہوں جو چاہوں آپ کے ساتھ کر سکتا ہوں، آج میرا موڈ نہیں ہے اپنا کوٹا پورا کر لیا ہے لیکن میں شرط جیتا ہوں تو جیتا ہوں آپ ہار چکی ہیں میرے سامنے۔۔۔۔

وہ میری باتوں کو سمجھنے کی کوشش کرنے لگی، وہ یہ اندازہ لگانے کی کوشش کر رہی تھی کہ میں جو کہہ رہا ہوں وہ سچ ہے یا اس کو ڈرا رہا ہوں کیونکہ میرے چہرے پر ہنسی تھی لیکن لہجہ گھمبھیرتا لیے ہوئے تھا۔۔۔۔

جب میں نے دیکھا کہ وہ پریشان ہو گئی ہے تو میں ہنس پڑا اور کہا آپ بے فکر رہیں میں کچھ نہیں کروں گا، میری عادت نہیں ہے بے بس عورت کی بے بسی کا فائدہ اٹھاؤں۔۔۔۔

اس نے کہا ایسے مرد بہت کم ہوتے ہیں جو یہ سوچتے ہیں ورنہ تو لوگوں کی نظروں میں ہمیشہ سے ہوس دیکھی ہے اور مجبور عورتوں کی بے بسی کا فائدہ اٹھاتے دیکھا ہے۔۔۔۔

میں نے کہا میں اس مرد کو مرد ہی نہیں سمجھتا جو مجبور عورت کی مجبوری کا فائدہ اٹھائے یا کسی بے بس کی بے بسی پر خود کو کوئی طورم خان سمجھے۔۔۔۔

اس کی آنکھوں میں میرے لیے واضح پسندیدگی تھی، میں نے اس سے اجازت لی اس نے مجھے سے میرا نمبر لیا اور ہم وہاں سے روانہ ہو گئے۔۔۔۔

ارشد نے بڑی تیز گاڑی چلائی اس کو میں نے کہا مجھے گاؤں چھوڑتا جائے۔۔۔۔

اس نے مجھے گاؤں کی سڑک پر اتار دیا اور آگے بڑھ گیا رات کا پچھلا پہر شروع ہو چکا تھا۔۔۔۔

سڑک سے ہمارا گاؤں تین سے چار کلومیٹر کے فاصلے پر تھا، میں وہاں سے رمکے رمکے اپنے گاؤں کی طرف جانے لگا۔۔۔۔

گاؤں سے کوئی دا ایکڑ دور ہوں گا مجھے دو ہیولے دکھائی دئیے جو آپس میں گتھم گتھا تھے جیسے لڑ رہے ہوں۔۔۔۔

میں نے سپیڈ تیز کر دی تاکہ جلد سے جلد ان تک پہنچ سکوں، میں قریب پہنچ رہا تھا بس ایک پل کے لیے میری نظر ان سے ہٹی جب دوبارہ ادھر دیکھا تو کوئی بھی نہیں تھا۔۔۔۔

میں وہیں رک گیا اور پستول جیکٹ سے نکال لیا، بڑے محتاط انداز میں آگے بڑھنے لگا۔۔۔۔۔

میں آگے بڑھ رہا تھا میں اس جگہ سے بھی گزر گیا جہاں مجھے دو لوگوں کے سائے نظر آئے تھے۔۔۔۔

میں نے رک کر پیچھے دیکھا لیکن کچھ نظر نہ آیا، میں پھر آگے چلنے لگا جب گاؤں کے بلکل قریب پہنچا تو میں نے دیکھا ایک لڑکی بڑی تیزی سے گاؤں کی طرف آ رہی ہے۔۔۔۔

میں ایک طرف چھپ کر بیٹھ گیا میرے اندر تجسس پیدا ہونے لگا کہ یہ کون ہو سکتی ہے جو اس وقت باہر سے آ رہی ہے۔۔۔۔

جیسے ہی وہ لڑکی میرے قریب آئی میں اس کو دیکھ کر حیران رہ گیا وہ کوئی اور نہیں چھنو تھی۔۔۔۔

میں یکدم کھڑا ہو گیا اور اس کو بلایا میری آواز سن کر تو اس کی بولتی بند ہو گئی میں نے اس کا بازو پکڑا اور اس کو کھینچ کر نیچے گرا لیا۔۔۔۔

اس کے منہ سے تو چیخ بھی نہ نکلے اور نہ ہی اس نے کسی قسم کی کوئی مزاحمت کی میں نے اس کے اوپر سوار ہوا اس سے پوچھا اس وقت یہاں کیا کر رہی ہو۔۔۔۔

وہ ہکلاتے ہوئے بولی وہ میں بس ایسے ہی آئی تھی یہاں۔۔۔۔

میں نے غصے سے کہا اگر نہ بتایا تو میں ابھی سیدھا تمہارے ابو کے پاس جاتا ہوں اسکو سب کچھ بتاتا ہوں۔۔۔۔

اس نے کہا وہ اصل میں بات یہ ہے کہ میں۔۔۔۔

وہ ایک بار پھر چپ ہو گئی تو میں نے پھر کہا بولو بھی۔۔۔

اس نے کہا وہ صنم کی چھوٹی بہن کے ساتھ آئی تھی۔۔۔

میں نے کہا آئی تھی سے کیا مطلب وہ کہاں ہے اور تم اکیلی واپس آ رہی ہو۔۔۔

اس نے کہا وہ دو لوگ ہیں ایک نے میرے ساتھ ہاتھا پائی کرنے کی کوشش کی تو میں بھاگ آئی۔۔۔۔

میں نے پوچھا وہ اس وقت کہاں ہے وہ کیا کر رہی ہے وہاں۔۔۔

اس نے کہا پہلے اس کو بچاؤ ورنہ اس کے ساتھ وہ ۔۔۔۔۔

چھنو ہکلا رہی تھی اس کا پورا جسم کانپ رہا تھا، میں نے اس سے پوچھا کہاں ہیں وہ لوگ۔۔۔

اس نے ایک طرف اشارہ کیا وہاں ایک چھوٹی سی جھونپڑی بنی ہوئی تھی جیسا کہ اکثر گاؤں کے لوگ بنا لیتے ہیں فصلوں کے درمیان میں دن میں وہاں بیٹھ کر رکھوالی کرتے ہیں۔۔۔۔۔

ایسا اکثر سبزی کے کھیت میں ہوتا ہے یا تربوز اور خربوزے کے کھیت میں بناتے ہیں تاکہ کوئی چوری نہ کر سکے۔۔۔۔

میں اس کے ہاتھ کا اشارہ سمجھ گیا میں نے فوراً اس طرف دوڑ لگا دی، کیونکہ اس کا بات کرنے انداز ایسا تھا کہ میں خود گھبرا گیا اس لیے بھاگ کر جلد سے جلد وہاں پہنچ سکوں۔۔۔۔

میں ایک منٹ سے بھی کم وقت میں وہاں پہنچ گیا، وہاں جا کر دیکھا تو دو لڑکے ایک لڑکے کو پکڑے ہوئے ہیں ایک نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا ہوا تھا اور دوسرا اس کی شلوار اتار کر اس کی ٹانگیں کھول چکا تھا۔۔۔۔

وہ مسلسل ٹانگیں ہلا کر اس سے جان چھڑانے کی کوشش کر رہی تھی، میں نے جیب سے پستول نکال کر ان پر تانتے ہوئے تیز آواز میں کہا یہ سب کیا چل رہا ہے چھوڑو اس کو ورنہ گولی مار دوں گا۔۔۔۔

فوراً دونوں لڑکے کھڑے ہو گئےلڑکی کو چھوڑ دیا، لڑکی نے جلدی سے شلوار ٹھیک کی اور اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔۔۔

وہ بھاگ کر میرے پیچھے آ کر کھڑی ہو گئی اس نے مجھے پہچان لیا تھا لیکن میں اس کو نہیں پہچان پایا تھا کیونکہ میں نے اسے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔

وہ لڑکی کانپتے ہوئے بولی بلو بھائی یہ دونوں میرے ساتھ ۔۔۔۔ اتنا بول کر وہ رونے لگ گئی۔۔۔۔

میں نے اس کو کہا تم جاؤ میں ان کو سبق سکھاتا , وہ وہاں سے بھاگ گئی میں نے پستول کے دم پر ان دونوں کو ہاتھ اوپر کرنے کا کہا ۔۔۔۔

وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہو گئے، میں ان کے پاس گیا اور زور دار تھپڑ ایک کے منہ پر مارا وہ لڑکھڑا گیا۔۔۔۔

یہ دونوں ہمارے گاؤں کے نہیں تھے، ان لوگوں نے یہاں زمین ٹھیکے پر لی ہوئی تھی وہ لوگ پچھلے کئی سالوں سے یہاں سبزیاں کاشت کرتے تھے۔۔۔۔

میں نے فون نکال کر فجے کو کال کی اس کو کہا جلدی یہاں پہنچو ایک منٹ سے پہلے پہلے۔۔۔۔

میں چارپائی پر بیٹھ گیا اور ان کو اپنے سامنے زمین پر بٹھا لیا اور پستول ان پر تان لی۔۔۔

وہ میری منتیں کرنے لگے لیکن ان کے منہ سے شراب کی بو آ رہی تھی جس کی وجہ سے مجھے بہت زیادہ غصہ آگیا۔۔۔۔

میں نے چارپائی پر ہاتھ سے ٹٹول کر بوتل ڈھونڈ لی وہی بوتل اٹھا کر میں نے ایک کے سر پر دے ماری۔۔۔۔

بوتل لگتے ہی اس کے منہ سے چیخ نکلی اور وہ ایک سائیڈ پر لڑھک گیا، دوسرا اٹھ کر بھاگنے لگا تو میں نے کھڑے ہو کر اس کو پکڑ کر اس کے سر پر پستول لگا دیا اور بولا اگر بھاگا تو گولی مار دوں گا۔۔۔۔۔

وہ تھر تھر کانپ رہا تھا اس نے اپنی ٹانگوں میں ہاتھ دبا لیے جس سے مجھے اندازہ ہوا کہ اس کا پیشاب نکل گیا ہے۔۔۔

میں نے اس کو دھکا دے کر نیچے گرا لیا تب تک فجا وہاں پہنچ گیا تھا اس نے جب ایک کو گرے ہوئے دیکھا اور دوسرے کو بیٹھے دیکھا تو مجھ سے پوچھا کیا ہوا۔۔۔۔

میں نے اس کو سارا واقعہ سنایا اس نے بھی ان پر لاتوں مکوں سے اپنا غصہ نکالا پھر فجے نے ایک انوکھی سزا تجویز کی اس نے ان دونوں کی شلواریں اتار دیں اور ان کو ننگا کرکے ان کے شلواروں سے باندھ دیا۔۔۔۔

باندھنے کے بعد فجے نے پھر ان پر اپنے ہاتھ صاف کیے مجھے فجے کے غصے کی وجہ سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔

میں اور فجا ان دونوں کو باندھ کر چلنے لگے تو میں نے کہا ان کے منہ بھی بند کر دو یار۔۔۔

اس نے ان کی شلواریں پھاڑیں اور ان میں سے کپڑا لے کر دونوں کے منہ باندھ ایک بار پھر اس نے دونوں پر ہاتھ صاف کیے۔۔۔

ہم وہاں سے گھر کی طرف چل پڑے جب چھنو کی گلی سے گزرے تو چھنو کی چھت پر مجھے سایہ نظر آیا۔۔۔۔

میں نے اوپر دیکھ کر کہا سب ٹھیک ہے ان کا بندوبست ہو گیا اب سو جاؤ صبح سارا گاؤں ان کو جوتے مار کر نکال دے گا۔۔۔۔

چلتے چلتے میں نے اتنا کہا تھا ہم بیٹھک میں گئے اور سو گئے اس وقت صبح ہونے میں صرف ایک گھنٹہ باقی تھا۔۔۔۔

ہم سوئے تو میری آنکھ تب کھلی جب مجھے کسی نے جھنجھوڑا۔۔۔۔

اٹھانے کے لیے فجا ہی آیا تھا اس نے کہا وہاں پورا گاؤں کب کا جاگ گیا ہے اور ہر کسی کی زبان پر ایک نیا قصہ ہے اور جس نے یہ سب کیا ہے وہ آرام سے سو رہا ہے اٹھ جا یار کتنی بار تیرا پوچھنے بچہ آ چکا ہے۔۔۔۔

میں نے آنکھیں ملتے ہوئے کہا کون پوچھنے آیا ہے، کس کو میری یاد ستا رہی ہے۔۔۔

فجے نے کہا جس کی رات عزت بچائی وہ تم سے ملنا چاہتی اس نے ہی بلایا ہے تمہیں اور وہ بھی شازی کی بیری کے نیچے۔۔۔۔

فجے بڑے ذومعنی انداز میں کہا تھا۔۔۔۔

میں نے کہا چل جا یار تنگ نہ کر میں اس کو جانتا تک نہیں تو چلا جا اس کو سب بتا دینا کہ ہم نے کیا کیا ہے ان کے ساتھ ۔۔۔۔

فجا بولا میں اس کو کیسے بتاؤں میں نے چھنو کو بتایا ہے لیکن وہ بضد ہیں کہ تم سے ہی بات کریں گی۔۔۔۔

میں اٹھا نہا کر تازہ دم ہوا اس کے بعد تائی سے گالیوں کا ناشتہ اور امی سے پیار بھرا ناشتہ وصول کیا اور ناشتہ کرکے میں باہر نکلنے لگا تو امی نے مجھے بٹھا لیا۔۔۔۔

پھر امی نے تائی کو بلایا تائی سے کہا آپ خود ہی پوچھ لیں اس سے مجھے تو یہ کچھ نہیں بتائے گا۔۔۔۔

تائی نے ادھر ادھر دیکھا اور امی کو کہا تو وی نری پاگل ایں کسی نے سن کیا تاں نواں کٹا کھل جانا اے۔۔۔۔

تائی نے میرے پاس اپنا چہرہ کیا اور پھر بولی رات تو ای اوہناں نو بنیا اے ننگا کر کے ویکھ بلو جھوٹ نہ بولیں۔۔۔۔

میں منہ کھولے تائی کی طرف دیکھنے لگا رات کی تاریکی میں جو میں نے اور فجے کیا وہ بات تائی مجھ سے پوچھ رہی تھی کہ میں نے کیا ہے۔۔۔۔۔​​



Source link

Leave a Comment