وہ لڑکی میری طرف بڑھ رہی تھی اس کے تیور بتا رہے تھے کہ وہ مجھ سے شدید نالاں ہے اور آج مجھ سے اپنے سارے حساب کتاب چکتا کرنے کی نیت سے آ رہی ہے۔۔۔
میرے دل میں بھی وسوسے پیدا ہونے لگے کہ پتہ نہیں اب کیا ہونے جا رہا ہے ۔۔۔
رباب کو پتہ نہیں کیا ہوا وہ آگے بڑھی اور اس لڑکی کے سامنے جا کر کھڑی ہو گئی اور اس سے کوئی بات کی۔۔۔
میرے لیے ایک اور حیرت کی بات تھی کہ رباب کے چہرے کا رنگ بھی ایک دم بدل گیا اور وہ بھی اسی لڑکی کی طرح مجھے گھورنے لگی۔۔۔۔
وہ دونوں ہمارے پاس آئیں اور ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑ کر کھڑی ہو گئیں۔۔۔
میں سوالیہ انداز سے ان کی طرف دیکھنے لگا سٹوڈنٹس میں چہ مگوئیاں شروع ہو گئیں ۔۔۔
ہر کوئی اپنی اپنی ہانک رہا تھا کوئی کچھ کہہ رہا تھا کوئی کچھ۔۔۔
پھر اس لڑکی نے سب کو مخاطب کرکے کہا دیکھو یہ کتنا معصوم اور بھوکا بھالا نظر آ رہا ہے۔۔۔۔
کچھ عرصہ پہلے تک میں اس سے بالکل انجان تھی پہلے یوں کہنا چاہییے میں نے نام بھی نہیں سنا تھا۔۔۔
ایک دن سرسری سا اخبار میں اس کے بارے میں پڑھا میں نے اگنور کر دیا۔۔۔
یہ ہمارے کالج میں آیا لڑکوں میں اس کا ذکر ہونے لگا کئی لڑکیاں بھی اس کے نام سے واقف تھیں ۔۔۔
مجھے بھی تجسس ہوا میں نے کئی لڑکیوں سے اس کے بارے میں جاننے کی کوشش کی لیکن کوئی خاطر خواہ پتہ نہ چل سکا۔۔۔
پرسوں میں ایک شادی میں گئی گاؤں کی شادی تھی میرے رشتہ دار تھے لیکن بہت ہی غریب۔۔۔
وہاں بھی اس کے نام کا ذکر چل نکلا حیرت کی بات تو یہ تھی ان سادہ لوح لوگوں کو اس کے اصل نام تک معلوم نہ تھا۔۔۔۔
میں جو کچھ وہاں سنا میرے لیے حیران کن تھا ایک ایسے گھر میں خوشیوں کی شادیانے بج رہے تھے جس کا ان لوگوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔۔۔
بات یہیں ختم نہیں ہوتی پھر میں واپس شہر آئی میں نے اپنے بھائی سے اس کا ذکر کیا وہ گورنمنٹ کالج میں پڑھتا ہے۔۔۔
اس نے بھی چلتی چلتی بات کی جب میں نے اس کو بتایا کہ اس نے میرے کالج میں داخلہ لے لیا ہے تو وہ چونک گیا۔۔۔۔
اس کے چونکنے پر مجھے پھر الجھن ہونے لگی میں نے اس سے اس کے گاؤں کا نام پوچھا تو اس نے ہمارے رشتہ داروں کے ساتھ والے گاؤں کا نام بتایا۔۔۔
مجھے کچھ تسلی ہوئی کہ یہ وہی ہے جو اپنے علاقے میں اور شہر میں دونوں جگہوں پر دو الگ الگ روپ میں ایسے کرتوت کرتا پھر رہا ہے۔۔۔۔
مجھ سے رہا نہ گیا میں نے اپنے کزن سے پتہ کیا تو اس نے جو کچھ مجھے بتایا میرے رونگٹے کھڑے کر دینے کے لیے کافی تھا۔۔۔
میں اس بھولے بھالے معصوم چہرے والے لڑکے کے بارے میں وہ سفاکانہ الفاظ سن کر ہل گئی۔۔۔۔
اس کا کردار اور مشکوک ہو گیا میرا دماغ گھوم کر رہ گیا۔۔۔
میں اس کے نام سے ڈرنے لگی لیکن کیا کرتی کالج میں تو آنا تھا لیکن اس سے پہلے مجھے خواتین کالج میں اپنی بیمار کزن کے ساتھ جانا پڑ گیا۔۔۔۔۔۔
اس کا پیپر تھا اور وہ کافی بیمار تھی تو مجھے مجبوراً اس کے ساتھ جانا پڑا ۔۔۔
یہ کل کی بات ہے تو پھر میں اس کو وہاں دیکھا تو میرے چودہ طبق روشن ہو گئے یہ گرلز کالج میں بھی مشہور تھا۔۔۔۔
وہاں مجھے جو پتہ چلا میں نے اپنی آنکھوں سے جو کچھ وہاں دیکھا وہ شاید میں کبھی اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ سکوں۔۔۔۔
وہاں مجھے ایک لڑکی ملی جو پہلے جہاں پڑھتی تھی اس سے مجھے جو معلومات ملیں وہ جان کر میں نے فیصلہ کر لیا تھا اس مجرم کو کٹہرے میں لا کر رہوں گی۔۔۔
اس پاگل لڑکے کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں جو اکیلا ہی اس اندھوں کی بھیڑ میں چراغ لے کر نکل پڑا ہے۔۔۔
آپ سب لوگوں کو کل والا واقعہ تو معلوم ہو چکا ہوگا اخبارات کے ذریعے ٹی وی کے ذریعے اس کو دیکھا ہوگا۔۔۔
آج کے اخبارات میں اس کی تصاویر بھی چھپی ہیں یہ ایسا کیوں کرتا پھر رہا ہے۔۔۔۔
اس کو سکون کس لیے نہیں ہے یہ آخر چاہتا کیا ہے اس کے اندر ایسی کون سی آگ جل رہی پے جو اس کو ٹکنے نہیں دیتی۔۔۔
اس کو اپنی جوانی پر ترس نہیں آتا جس عمر میں لڑکے ہم جیسی لڑکیوں کے پیچھے دم ہلاتے پھر رہے ہوتے ہیں اس عمر میں یہ ہمیں تحفظ دینے کی بات کر رہا ہے۔۔۔۔
میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھنا شروع کر دیا شاہد دیدے پھاڑے ادھر دیکھ رہا تھا۔۔
رباب بھی اس کا ساتھ دے رہی تھی میں اس سب کے بیچ میں یہ سوچ رہا تھا اس کو ذرہ بھی علم نہیں جو یہ بول رہی ہے جس کے بارے میں بول رہی ہے وہ کتنا بڑا چودو بن گیا ہے۔۔۔
اس کے دل میں جو میرے بارے میں تصویر بن رہی تھی وہ اس کی شلوار اتارنے کی طرف اشارہ کر رہی تھی۔۔۔
مجھ سے پتہ نہیں کیوں اپنی تعریف برداشت نہیں ہوتی تھی میں وہاں سے کھسک گیا۔۔۔
میں نے باہر نکل کر ناصر سے رابطہ کیا اور آج کا پلان پوچھا تو اس نے کہا ماما تو کی کردا پھردا ایں۔۔۔
میرے سے آج کا پلان پوچھ رہا ہے اور خود کس پلان کے تحت کام کر رہا ہے وہ ہمیں بھی نہیں پتہ۔۔۔
میں نے پوچھا کیا ہوا کیوں تپ رہا ہے یار ۔۔
اس نے کہا رات کو کیا ہوا تھا تمہارے گھر میں جو لوگ آئے تھے وہ کون تھے۔۔۔
میں آج سمجھ نہیں پایا تھا ناصر کے پاس ایسی کون سی گیدڑ سنگھی ہے جس سے وہ سب کچھ پتہ کر لیتا ہے۔۔۔۔
وہ سب کچھ بھی جو میں کسی سے بھی شئیر نہیں کرتا تھا اس کو وہ بھی معلوم ہوتا تھا ۔۔۔
میں نے کہا یار وہی لوگ تھے جو اتنے عرصہ سے میرے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔۔۔
ناصر نے کہا دیکھ اگر تو ان کا ساتھ دیتا ہے تو اس میں فائدہ بھی ہے اور تمہارے لیے آسانیاں بھی ہیں۔۔۔
سب سے بڑھ کر ہمارے وطن کے لیے کچھ کرنے کا موقع مل رہا ہے تو اور کیا چاہتا ہے۔۔۔۔
تجھے تو خوش ہونا چاہییے کہ تو وطن کا گمنام محافظ بن رہا ہے۔۔۔۔
میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا ایک ایک منٹ یہ گمنام والی بات ہی تو ہے جس سے میں ڈرتا ہوں۔۔۔
میں نہیں چاہتا کہ مجھے گمنامی کی زندگی گزارنا پڑے جو کچھ ہو رہا ہے ہونے دو اگر کبھی مجھے حالات اس نہج پر لے گئے کہ میرے لیے اس میدان میں اترنا ناگزیر ہو گیا تو میں بالکل دریغ نہیں کروں گا۔۔۔۔
ناصر کی ایک بات جو سب سے اچھی تھی بلکہ ہم دوستو کی مشترکہ بات تھی کہ ایک دوسرے سے بحث نہیں کرتے تھے ۔۔۔
ناصر نے بھی مجھے دلیلیں دے کر یار مجھے یہ بتانے کے لیے یہ فیلڈ ہی تمہارے لیے بہتر ہے کوئی لمبی چوڑی بحث نہ کی۔۔۔۔
پھر اس نے مجھ سے ندیم کے حوالے سے بات کی کہ اس کا اب خاتمہ کر دینا چاہئیے تو میں نے اس سے کہا نہیں یار جیسا بھی ہے اپنا یار رہ چکا ہے۔۔۔۔
جسم کا اگر ایک حصہ خراب ہو جائے تو اس کو کاٹا نہیں جاتا بلکہ اس کا علاج کیا جاتا ہے۔۔۔
میں جانتا ہوں اس کا علاج کس طرح کرنا ہے اس کی دو دو رگیں میرے پاس ہیں جو سیدھا اس کو جکڑ لیں گی۔۔۔۔
ناصر کو شاید ان دو شریانوں کا بھی علم تھا جن کے جسم میں میری منی خون بن کر دوڑ رہی تھی، اس لیے اس نے سوائے ہنسنے کے کچھ نہ کہا۔۔۔
ہلکی پھلکی بات چیت کے بعد فون بند کر دیا۔۔۔۔
بریک بند ہو چکی تھی سب کلاسوں میں جا چکے تھے میرا دل نہیں کر رہا تھا۔۔۔۔
میں لان میں بیٹھ گیا شاہد بھی وہاں آ گیا ہم بالکل خاموش بیٹھے تھے ۔۔۔
تقریباً بیس منٹ ایسے کی خاموش بیٹھے تھے کہ مجھے بھا ہاشم کا فون آیا۔۔۔۔
میں نے فون اٹھایا تو اس نے کہا کہ وہ کالج آیا ہے پرنسپل کے آفس میں بیٹھا ہے ۔۔۔۔
میں نے فون بند کیا اور آفس کی طرف بڑھ گیا اور شاہد کو کہا کہ وہ میرے پیچھے نہ آئے کلاس میں چلا جائے کیونکہ اگر بھا ہاشم کو پتہ چل گیا کہ شاہد بھی یہاں ہے تو پتہ نہیں وہ کیا سوچے گا۔۔۔۔
شاہد کلاس کی طرف اور پرنسپل آفس کی طرف بڑھ گیا۔۔۔
اجازت لے کر دفتر میں داخل ہوا تو سامنے بھا بیٹھا تھا۔۔۔
بھا اٹھ کر میرے گلے ملا اور میری کمر تھپتھپائی۔۔۔۔
میں نے بھا سے گھر والوں کا پوچھا ۔۔۔
بھا نے سب کی خیریت بتائی اور مجھ سے میرے بارے میں پوچھا۔۔۔
پرنسپل نے بیچ میں بولتے ہوئے کہا بہت اچھا بچہ ہے ہمارے لیے فخر کی بات ہے کہ یہ ہمارے کالج میں پڑھ رہا ہے۔۔۔
بھا ہنس پڑا اور میری طرف دیکھ کر بولا یہاں بھی وہی سب کر رہے ہو ۔۔۔۔
بھا نے پھر کہا امی جی کو چاچی نے جا کر بتایا کہ تم اب ان کے گھر نہیں رہتے تو وہ کافی پریشان تھیں ان کے کہنے پر میں یہاں آیا ہوں ورنہ مجھے سب پتہ تھا کہ تم ٹھیک ہو ۔۔۔۔
بھا نے پرنسپل سے اجازت لی اور مجھے ساتھ لے کر باہر نکل آئے۔۔۔
باہر آکر بھا نے کہا تمہارا کچھ سامان لایا ہوں گھر چھوڑ دیتا ہوں مجھے گھر کی چابی دے دو۔۔۔۔
میں نے چپ چاپ بھا کو چابی دے دی میں جانتا تھا بھا کو یہ سب معلوم ہو چکا ہوگا کہ میں کہاں رہ رہا ہوں کس طرح رہ رہا ہوں۔۔۔۔
بھا نے کہا امی جی نے خاص طور پر تمہارے لیے پنیری بنا کر بھیجی ہے اور دیسی گھی بھی ہے۔۔۔
دیکھ بلو تم جو کچھ بھی کر رہے ہو بہت اچھا کر رہے ہو لیکن اس سب میں کبھی خود کو نقصان نہ پہنچا لینا۔۔۔۔
تمہارا مسقتبل سب سے اہم ہونا چاہئیے زندگی بار بار موقع نہیں دیتی جو موقع کا فائدہ نہیں اٹھاتا وہ ہمیشہ نقصان اٹھاتا ہے اس نقصان سے بچ کر رہنا۔۔۔
بھا نے کافی نصحیتیں کیں میرے لیے بھا کی شخصیت بہت اہم تھی جس کے بارے میں جتنا اب تک جان پایا تھا وہ میرے لیے حیران کن تھا۔۔۔۔
بھا کو میں نے ایک چابی دے دی میرے پاس دو چابیاں تھیں ۔۔۔۔
بھا کے جانے کے بعد میں کلاس میں آیا اور پڑھنے لگا۔۔۔
رباب کا چہرہ آج کچھ زیادہ ہی کھل رہا تھا اس کے دل میں میرے لیے کو کچھ تھا وہ میں سمجھ چکا تھا۔۔۔۔
آخری پیریڈ شروع ہوا تو میں نے رباب کی طرف دیکھا اور اپنی کتابیں سمیٹ کر اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
شاہد کو میں نے بتایا کہ میں گھر جانے لگا ہوں بھا آیا ہوا ہے اس کو کچھ کپڑے دینے ہیں اتوار والے دن گاؤں جاؤں گا تب تک دھل جائیں گے۔۔۔
میرا ارادہ بھی یہی تھا میں چاہتا تھا کہ گھر سے کپڑے اٹھا کر بھا کو فون کرکے پوچھ لوں گا کہ وہ کہاں ہے اور کپڑے دے دوں گا۔۔۔۔
میں کلاس سے باہر نکلا اور سیدھا پارکنگ میں گیا۔۔۔
میں ابھی بائیک نکال ہی رہا تھا کہ رباب بھی اپنی کتابیں سمیٹے وہاں پہنچ گئی۔۔۔
اس نے پوچھا کہاں جا رہے ہو ۔۔۔
میں نے بتایا کہ گھر جا رہا ہوں۔۔۔
اس نے کہا چلو ٹھیک ہے میں بھی چلتی ہوں پھر کہاں اکیلی دھکے کھاتی پھروں گی آپی تو آج بھی نہیں آئیں۔۔۔
میں نے بائیک نکالی اور رباب کو لے کر گھر کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔
رباب میرے ساتھ لگ کر بیٹھی تھی اس کا ایک ہاتھ میرے کندھے پر تھا ایک مما میری کمر سے لگ رہا تھا۔۔۔۔
وہ آگے کی طرف جھک کر مجھ سے باتیں بھی کر رہی تھی ۔۔۔۔
مجھے اس کا اس طرح کھل کر میرے ساتھ باتیں کرنا اچھا لگ رہا تھا۔۔۔
ہم ہنستے باتیں کرتے ٹاؤن میں داخل ہو گئے جب میں اپنے گھر سے آگے جانے لگا تو اس نے کہا رکو۔۔۔۔
میں نے بریک لگائی تو اس نے کہا مجھے اپنا گھر دکھاؤ ۔۔۔۔
میں ایسی آفر کو کیسے ٹھکرا سکتا تھا ایک حسین لڑکی یہ جانتے ہوئے بھی آپ گھر میں اکیلے رہتے ہو آپ سے کہے کہ اپنا گھر دکھاؤ تو اس کا مطلب ہے وہ آپ کے ساتھ تنہائی میں وقت بتانا چاہتی ہے۔۔۔
میں نے بائیک موڑی اور گھر کے سامنے کھڑی کر کے دروازے کا لاک کھولا ۔۔۔
لاک کچھ اس کا تھا کہ گھر کے اندر سے بغیر چابی کے کھل جاتا تھا لیکن باہر سے چابی کے ساتھ کھولا جا سکتا تھا۔۔۔
رباب اندر داخل ہوئی میں بھی اس کے پیچھے گھر میں داخل ہو گیا۔۔۔
جب گھر میں داخل ہوا تو مجھے گیراج میں ایک نئے ماڈل کی بائیک کھڑی نظر آئی ۔۔۔
میں سمجھا کہ بھا کھڑی کر گئے ہوں گے شاید ان کو کوئی کام ہوگا تو کسی دوست کے ساتھ چلے گئے ہوں گے۔۔۔
رباب سرخ چہرے کے ساتھ شرماتے ہوئے مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
میں اندر والا دروازہ کھولا اور اندر داخل ہو گیا جیسے ہی اندر قدم رکھا تو مجھے کچھ عجیب سے آوازیں سنائی دیں۔۔۔
ان آوازوں میں کچھ مزے کی سسکاریاں اور آہیں تھیں کچھ لطف بھری سانسوں کی آوازیں تھیں۔۔۔۔
رباب نے بھی چونک کر میری طرف دیکھا میں نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
ٹی وی لاونج ویران پڑا تھا اس کا مطلب تھا کہ وہ آوازیں میرے کمرے سے آ رہی ہیں۔۔۔۔
میں نے رباب کو اپنے بازو سے پیچھے کیا میرا ہاتھ اس کے ممے پر لگا ۔۔۔۔
یہ سب انجانے میں ہو رہا تھا میرے دماغ میں کوئی سوچ کارفرما نہیں تھی۔۔۔
رباب میرے پیچھے ہو گئی میں نے گھوم کر اس کی طرف دیکھ کر منہ میں انگلی رکھ کر خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور دبے پاؤں آگے بڑھنے لگا۔۔۔
رباب بھی میرے پیچھے میرے کندھوں پر دونوں ہاتھ رکھ کر آ رہی تھی ۔۔۔
ہم چلتے ہوئے بیڈروم کے دروازے کے پاس پہنچ گئے وہاں رک کر اندر سے سن گن لینے کی کوشش کرنے لگے۔۔۔
اندر سے آہہہہہ افففف ہش لو یو میری جان آاااہہہ یو آر مائی لائف فک می لائک دس۔۔۔۔
آااااااہہہہہہہ۔۔۔اااووووووئیییی یس یس ایسے ہی زور سے ۔۔۔۔
اس طرح کی آوازیں آ رہی تھیں مجھے یہ آواز سنی سنی لگ رہی تھی لیکن لہجہ جذبات کی وجہ سے بدلا ہوا تھا اس لیے صحیح سمجھ نہیں پا رہا تھا۔۔۔۔
میں اب یہ فیصلہ نہیں کر پا رہا تھا کہ اندر دیکھوں یا نہ دیکھوں کیونکہ اتنا تو سمجھ چکا تھا اندر جو بھی لڑکی ہے اس کی ٹانگیں اٹھی ہوئی ہیں اور اٹھانے والا کوئی اور نہیں بلکہ میرا بھائی ہے۔۔۔۔
میں کھڑا سوچ ہی رہا تھا کہ میرے پیچھے سے نکل کر رباب آگے بڑھ گئی۔۔۔
میں نے ہاتھ بڑھا کر اس کا بازو پکڑا لیکن تب تک وہ اندر دیکھ چکی تھی ۔۔۔
اس کا ہاتھ اس کے منہ پر آ گیا وہ آنکھیں پھاڑے اندر دیکھنے لگی۔۔۔
اس کا ری ایکشن دیکھ کر مجھ سے بھی نہ رہا گیا میں نے بھی اس کے پیچھے کھڑے ہو کر اندر جھانکا۔۔۔۔
اندر کا سین میرے لیے بھی حیران کن تھا بھا ہاشم بیڈ پر جس کی ٹانگیں اٹھائے لگا ہوا تھا ۔۔۔
اس کے ممے اچھل رہے تھے دونوں ایک دوسرے میں مست تھے۔۔۔
تانبے کی طرح چمکتا جسم پسینے سے شرابور تھا۔۔۔
مزے کی آہیں نکل رہی تھیں دونوں ایک دوسرے میں ڈوبے ہوئے تھے۔۔۔
بھا ہاشم جس پر چڑھے ہوئے تھے وہ کوئی اور نہیں بلکہ میری مطالعہ کی استاد رباب کی بڑی بہن مہتاب تھی۔۔۔
وہ اس وقت مطالعہ پاکستان کی بجائے بائیو کا پریکٹیکل کر رہی تھی۔۔۔
اپنے جسم کو بھا ہاشم کے جسم سے رگڑ کر بھا ہاشم کا لن اپنے پھدی میں لے کر کوئی ایک نئی ریاست کا نقشہ بنانے میں سر گرم عمل تھی ۔۔۔۔
اس کے جسم کی بناوٹ قیامت خیز تھی ان بہنوں کی ایک چیز مشترک تھی کہ ان کا فگر کمال تھا۔۔۔۔
ایک دم صاف رنگت ابھرا ہوا بھرا بھرا سینہ لمبی گردن پتلی کمر بھاری گانڈ ۔۔۔۔
گہری آنکھیں اور مسکراتے ہونٹ۔۔۔
اندر کا سین دیکھ کر میرا لن بھی سر اٹھا چکا تھا۔۔۔
یہ سب فطری تھا اس میں میری کسی سوچ لا عمل دخل نہیں تھا۔۔۔
رباب میرے بالکل آگے کھڑی یہ سب دیکھ رہی تھی بھا ہاشم زور زور گھسے مار رہا تھا۔۔۔۔
مہتاب بھی نیچے سے اچھل اچھل کر بھا کا جوش بڑھا رہی تھی۔۔۔
میرا لن پینٹ میں سخت ہو چکا تھا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ پینٹ پھاڑ کر باہر نکل آئے۔۔۔
میں نے رباب کے پیٹ پر ہاتھ رکھا اور اس کو بڑے آرام سے پیچھے کھینچنا شروع کر دیا۔۔۔۔
اندر جو کچھ چل رہا تھا اس کو روکنا نہیں چاہتا تھا نہ میں یہ چاہتا تھا کہ بھا ہاشم کو یہ پتہ چلے یا مہتاب کو کہ میں نے اور رباب نے ان دونوں کو یہن پروگرام کرتے ہوئے دیکھ لیا ہے۔۔۔
رباب کی گانڈ میرے لن کے ابھار کے ساتھ لگی ہوئی تھی اس کے برفی جیسے نرم ملائم پیٹ پر میرا ہاتھ تھا۔۔۔۔
میں اس کے پیٹ کو دباتے ہوئے اسے الٹے قدموں واپس لانے لگا۔۔۔
ہم اسی طرح چلتے ٹی وی لاونج میں آ گئے میں نے اس کے پیٹ پر ہاتھ پھیر کر اس کو چھوڑ دیا۔۔۔
میرے چھوڑنے کے باوجود بھی وہ وہاں کھڑی تھی میرا دل تو کر رہا تھا کہ اس کے گرد اپنی باہیں حمائل کر دوں لیکن ہمارے درمیان ایسی کوئی کمٹمنٹ نہیں ہوئی تھی۔۔۔۔
میں کھیر کو گرم گرم کھا کر منہ نہیں جلانا چاہتا تھا اس لیے میں نے تھوڑا آگے جھک کر رباب کے کان میں کہا میرا خیال ہے ہمیں چلنا چاہئیے۔۔۔
رباب نے ہاں میں سر ہلایا وہ بول بھی نہ پائی میں گھوما اور اس کا ہاتھ پکڑ کر باہر کی طرف چل پڑا ۔۔۔۔
مجھے اس کا ہاتھ بھاری لگ رہا تھا وہ ایسی چل رہی تھی جیسے اس کو کھینچ کر زبردستی لے جایا جا رہا ہو۔۔۔۔
اندر والے دروازے سے باہر نکلتے ہی اس نے لرزتی ہوئی آواز میں پوچھا۔۔۔
وو ۔۔۔ہ۔۔۔ وووہ کون تھا آپی کے ساتھ آپی یہ سب کککیا کر رہی تھی۔۔۔۔
میں نے اس کا ہاتھ اپنے دونوں ہاتھوں میں لے کر دبایا اور کہا بعد میں بات کرتے ہیں ابھی چلو۔۔۔
وہ بڑی عجیب سے نظروں سے میری طرف دیکھ رہی ہو جیسے اس کا جانے کا کوئی ارادہ نہ۔۔۔
میں نے باہر والا گیٹ کھول کر اس کو باہر آنے کا کہا۔۔۔
وہ رک کر مجھے دیکھتی رہی پھر بھاری قدموں سے باہر آ گئی۔۔۔
رباب کے باہر آنے کے بعد میں نے بائیک سٹارٹ کی اور اس کو لے کر ان کے گھر آ گیا۔۔۔۔۔
گھر ان کا بھی خالی تھا کوئی بھی نہیں تھا،رباب نے جیب سے چابی نکالی اور گیٹ کھول لیا۔۔۔۔
اس نے مجھے بھی اندر آنے کا کہا میں بھی اس کے ساتھ اندر چلا گیا۔۔۔۔
اندر بیٹھنے کے بعد اس نے میری طرف دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔۔
کچھ دیر دیکھتی رہی پھر اٹھ کر مجھے مارنے لگی۔۔۔۔
میں اس کو دیکھ کر ہکا بقا رہ گیا کہ یہ کر کیا رہی ہے۔۔۔
اس نے جب اپنے کومل کومل ہاتھوں سے مار مار کر اپنی تسلی کر لی تو میرے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی، تم جانتے تھے کہ وہاں آپی ہوں گی۔۔۔
میں نے نفی میں سر ہلایا لیکن اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ اس کو میری بات پر یقین نہیں آیا۔۔۔۔
وہ کچھ دیر مجھے دیکھتی رہی پھر یک دم میری طرف گھومی اور میرے گلے میں باہیں ڈال دیں ۔۔۔
کچھ دیر میں سوچتا رہا کہ مجھے کیا کرنا چاہئیے وہ زور سے مجھے اپنے لگا رہی تھی اس کے ممے میرے آدھے سینے میں دبے ہوئے تھے۔۔۔
پھر میں نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا اور آہستہ آہستہ سہلانے لگا۔۔۔
اس نے اپنا منہ میرے کندھے میں چھپا لیا اور ناک رگڑنے لگی۔۔۔
میرے ہاتھ اپنے کام میں مصروف تھے میرا لن اس کے جسم کے لمس کی رعنائیوں سے مدہوش ہو رہا تھا۔۔۔۔
وہ مجھ پر سوار ہونے کی کوشش کر رہی تھی اس کا انداز ایسا تھا جیسے میرے اندر سما جانا چاہتی ہو۔۔۔۔
میں ایک ہاتھ اس کے بالوں میں رکھا اور پھیرنے لگا۔۔۔
اگلے دو منٹ میں اس کی سانسیں گرم ہو چکی تھیں اور میری گردن پر اس کا منہ آ چکا تھا۔۔۔۔
میں نے بڑے پیار سے اس کا سر اٹھایا اور اس کے چہرے کو اپنے سامنے کیا۔۔۔۔
اس کی آنکھیں بند تھیں ہونٹ لرز رہے تھے سانس تیز چل رہا تھا جس کی وجہ سے اس کے ممے میرے سینے سے رگڑ کھا رہے تھے ۔۔۔۔
میں نے اس کے لرزتے گلابی ہونٹوں کو دیکھا اور اپنے ہونٹ بڑھا دئیے۔۔۔۔
اس کے سانسیں بہت تیز چل رہی تھیں میرے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے چھو گئے۔۔۔۔
وہ نہ تجربہ کار تھی اس کو نہیں پتہ تھا کہ اب کیا کرنا ہے میں نے اس کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا ۔۔۔۔
وہ اٹھ کر میری گود میں دونوں طرف ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
میرے لن کا ابھار اس کی پھدی پر دبنے لگا وہ مچل رہی تھی۔۔۔
کنواری ٹین ایج لڑکی کتنا برداشت کر سکتی تھی اس نے منہ کھول دیا میری زبان اس کے منہ میں گھس گئی اور زبان کو ڈھونڈنے لگی۔۔۔۔
زبانیں ایک دوسرے سے لڑنے لگیں میرے ہاتھ اس کے مموں پر چلے گئے۔۔۔۔
کیا ممے تھے ایک دم کسے ہوئے درمیانے سائز کے جو میرے ہاتھ میں بآسانی سما گئے۔۔۔۔
اسی وقت اس کے جسم کو زور کا جھٹکا لگا اس نے میرے کندھے پر سر رکھ دیا اور اچھلنے لگی۔۔۔۔
اس کے منہ سے عجیب سی آوازیں نکل رہی تھیں اس کا سانس اکھڑ رہا تھا۔۔۔۔
میرے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر اس نے پورا زور لگا کر اپنے آپ کو میرے ساتھ چپکا لیا۔۔۔۔
کچھ دیر ایسے ہی جھٹکے کھاتی رہی اور پھر وہ میری گود سے اتر گئی اور ایک طرف ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔
کچھ دیر سانس بحال کرتی رہی پھر اٹھ کر وہاں سے اندر چلی گئی۔۔۔
میں کچھ دیر اس کا انتظار کرتا رہا جب وہ باہر نہ آئی تو میں اٹھا اور باہر نکل گیا۔۔۔
باہر نکل کر بھا کو کال کر کے پوچھا کہاں ہیں کیونکہ میں اب گھر جانا چاہتا تھا میرا لن پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
جس طرح رباب نے گرم کر دیا تھا اس کے بعد اس کا چھوڑ کر جانا میرے لن میں درد کر گیا تھا۔۔۔۔
بھا نے بتایا کہ وہ تو ایک دوست کے ساتھ کھانا کھانے گئے ہوئے ہیں۔۔۔
میں نے ان سے کہا میں گھر جا رہا ہوں اس لیے پوچھا تھا۔۔۔
بھا نے کہا ہممم چلے جاؤ اگر کھانا وغیرہ چاہئیے تو بتا دو میں لیتا آؤں گا۔۔۔
میں نے کہا نہیں بھائی اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
فون بند کرکے میں نے بائیک سٹارٹ کی اور گھر پہنچ گیا۔۔
گھر کے سامنے پہنچ کر میں نے لاک کھولنے کے لیے چابی نکالی۔۔۔
اسی وقت گیٹ کھل گیا میرے سامنے مہتاب کھڑی تھی۔۔۔
اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا وہ پریشان ہو گئی میں نے مسکرا کر سلام کیا۔۔۔۔
پیچھے سے بھا سامنے آیا اور اس کے چہرے پر بھی حیرانی تھی۔۔۔
میں نے کہا بھا آپ بتا دیتے تو کچھ دیر بعد آ جاتا۔۔۔
بھا مہتاب کی طرف اور مہتاب بھا کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
میں نے کہا آپ لوگ پریشان نہ ہوں میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا۔۔۔
بھا مسکرانے لگا اور بولا مجھے پتہ ہے تو کسی کو نہیں بتائے گا ۔۔۔۔
مہتاب نے پریشانی سے بھا کی طرف دیکھا تو اس نے کہا دروازے میں کھڑا ہونے سے بہتر ہے کہ اندر چل کر بات کرتے ہیں۔۔۔
مہتاب نے کہا نہیں میں چلتی ہوں وہ مجھ سے نظریں نہیں ملا رہی تھی۔۔۔
بھا نے کہا ٹھیک ہے اور بائیک نکالنے لگا مہتاب چپ چاپ نکل کر اپنے گھر کی طرف چل دی اور بھا دوسری سمت نکل گیا۔۔۔۔
میں نے بائیک اندر کی اور نہانے کے لیے واش روم گھس گیا۔۔۔۔
خوب مل مل کر نہایا اور نہا کر کپڑے بدلے اور بائیک لے کر کھانا کھانے نکل گیا۔۔۔۔
میں اپنی مستی میں بے فکر ہو کر جا رہا تھا بڑی ہی آہستہ آہستہ بائیک چلا رہا تھا۔۔۔
اسی طرح چلتے چلتے میں ایک درمیانے درجے کے ہوٹل پہنچ گیا اور کھانے کا آرڈر دیا۔۔۔
میرا کھانا لگنے میں کچھ وقت تھا اس لیے میں اردگرد کا جائزہ لینے لگا۔۔۔۔
میں نے غور کیا تو مجھے ایسا لگا کیسے وہاں ایک بندہ ایسا موجود ہے جو کالج سے نکلتے وقت میرے پیچھے تھا ۔۔۔۔
اصل میں میں رباب کو لے کر وہاں سے نکلا تھا تو کالج کے سامنے ایک بندہ بائیک پر کھڑا تھا ۔۔۔۔
پھر جب میں ٹاؤن سے نکل تو بھی مجھے وہی شخص دکھائی دیا تھا لیکن میں نے غور نہ کیا۔۔۔
اب جب ہوٹل میں بھی مجھے وہ نظر آیا تو مجھ سے رہا نہ گیا ۔۔۔
میں غور کرنے پر مجبور ہو گیا،لیکن میں نے اس کو محسوس نہ ہونے دیا کہ مجھے اس پر شک ہو گیا ہے۔۔۔۔
ایک دو بار سرسری سا دیکھنے پر میں اس کو اچھی طرح چیک کر چکا تھا۔۔۔۔
وہ چالیس سال کی عمر کا آدمی تھا چہرے سے کافی پریشان لگ رہا تھا۔۔
میرا کھانا آ گیا تو میں نے اس کی طرف دیکھا تو چائے کا کپ ہاتھ پکڑے ہوئے تھا۔۔۔۔
میں نے اٹھ کر اس کی طرف دیکھا اور پھر اپنا کھانا اٹھا کر اس کے ٹیبل پر جا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
اس نے حیران کن نظروں سے میری طرف دیکھا ۔۔۔
میں نے اس کے سامنے کھانا کرتے ہوئے کہا چائے کا کپ مجھے دے دیں کھانا کھائیں ۔۔۔۔
اس نے کافی انکار کیا لیکن میری بات اس کو ماننا پڑی۔۔۔۔
اس نے کھانا شروع کر دیا اور بار بار میری طرف دیکھ بھی رہا تھا۔۔۔۔
جب وہ کھانا کھا چکا تو میں نے چائے کا آرڈر دیا۔۔۔
اس نے پھر منع کیا لیکن میں نے اس کے انکار کے باوجود چائے منگوا لی۔۔۔
وہ کچھ بولنے لگا تو میں نے کہا پہلے آپ چائے پی لیں پھر جو بھی بات ہے کر لیں گے۔۔۔
وہ مسکرا دیا اور چائے پینے لگا ۔۔۔
جب اس نے چائے پی لی تو میں اٹھ کھڑا ہوا اور بل ادا کر دیا۔۔۔
وہ وہیں بیٹھا میرا انتظار کرنے لگا تو میں نے اس کو اپنے پاس بلایا۔۔۔
وہ آ گیا تو میں باہر نکل گیا وہ میرے پیچھے پیچھے باہر آیا۔۔۔۔
میں نے بائیک سٹارٹ کی اور اس کو پیچھے بٹھا لیا اور قریبی پارک کی طرف چل پڑا۔۔۔۔
پارک میں بائیک روکی اور گھاس پر بیٹھ گیا وہ بھی میرے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔۔
میں اس کی طرف دیکھ کر کہا ہاں جی اب آپ بتائیں آپ میرا پیچھا کیوں کر رہے ہیں۔۔۔
اس نے سر جھکا لیا اور کچھ دیر سر جھکائے بیٹھا رہا اور پھر اسی انداز میں بولا ۔۔۔۔
میں اس لڑکی کا باپ ہوں جس کے ساتھ کالج میں۔۔۔۔
اتنا بول کر وہ آنسو بہانے لگا روتے ہوئے اس کی ہچکی بندھ گئی۔۔۔
میں اس کے قریب ہوا اور کہا اب آپ بے فکر ہو جائیں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔
اس نے کہا وہ درندہ چھوٹ آیا ہے کل ہمارے گھر آیا تھا اس نے مجھے دھمکی دی ہے کہ میری بیٹی کو اٹھوا لے گا۔۔۔۔
میں یہ سن کر حیران رہ گیا میں نے کہا ایسا کیسے ہو سکتا ہے اس کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔۔۔۔
اس پر اتنا سنگین الزام لگا ہے ایسا سنگین جرم ہے سارے ثبوت اور گواہ اس کے خلاف ہیں تو وہ کیسے آزاد ہو سکتا ہے۔۔۔۔
اس نے روتے ہوئے کہا یہاں سب ہو سکتا ہے جس کے پاس پیسہ ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔
میں نے اس سے کہا آپ بے فکر ہو جائیں اس کا علاج میں کر لوں گا، آپ بے فکر ہو کر گھر جائیں۔۔۔۔
رباب کے باہر آنے کے بعد میں نے بائیک سٹارٹ کی اور اس کو لے کر ان کے گھر آ گیا۔۔۔۔۔
گھر ان کا بھی خالی تھا کوئی بھی نہیں تھا،رباب نے جیب سے چابی نکالی اور گیٹ کھول لیا۔۔۔۔
اس نے مجھے بھی اندر آنے کا کہا میں بھی اس کے ساتھ اندر چلا گیا۔۔۔۔
اندر بیٹھنے کے بعد اس نے میری طرف دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔۔
کچھ دیر دیکھتی رہی پھر اٹھ کر مجھے مارنے لگی۔۔۔۔
میں اس کو دیکھ کر ہکا بقا رہ گیا کہ یہ کر کیا رہی ہے۔۔۔
اس نے جب اپنے کومل کومل ہاتھوں سے مار مار کر اپنی تسلی کر لی تو میرے ساتھ ہی صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولی، تم جانتے تھے کہ وہاں آپی ہوں گی۔۔۔
میں نے نفی میں سر ہلایا لیکن اس کی آنکھیں بتا رہی تھیں کہ اس کو میری بات پر یقین نہیں آیا۔۔۔۔
وہ کچھ دیر مجھے دیکھتی رہی پھر یک دم میری طرف گھومی اور میرے گلے میں باہیں ڈال دیں ۔۔۔
کچھ دیر میں سوچتا رہا کہ مجھے کیا کرنا چاہئیے وہ زور سے مجھے اپنے لگا رہی تھی اس کے ممے میرے آدھے سینے میں دبے ہوئے تھے۔۔۔
پھر میں نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا اور آہستہ آہستہ سہلانے لگا۔۔۔
اس نے اپنا منہ میرے کندھے میں چھپا لیا اور ناک رگڑنے لگی۔۔۔
میرے ہاتھ اپنے کام میں مصروف تھے میرا لن اس کے جسم کے لمس کی رعنائیوں سے مدہوش ہو رہا تھا۔۔۔۔
وہ مجھ پر سوار ہونے کی کوشش کر رہی تھی اس کا انداز ایسا تھا جیسے میرے اندر سما جانا چاہتی ہو۔۔۔۔
میں ایک ہاتھ اس کے بالوں میں رکھا اور پھیرنے لگا۔۔۔
اگلے دو منٹ میں اس کی سانسیں گرم ہو چکی تھیں اور میری گردن پر اس کا منہ آ چکا تھا۔۔۔۔
میں نے بڑے پیار سے اس کا سر اٹھایا اور اس کے چہرے کو اپنے سامنے کیا۔۔۔۔
اس کی آنکھیں بند تھیں ہونٹ لرز رہے تھے سانس تیز چل رہا تھا جس کی وجہ سے اس کے ممے میرے سینے سے رگڑ کھا رہے تھے ۔۔۔۔
میں نے اس کے لرزتے گلابی ہونٹوں کو دیکھا اور اپنے ہونٹ بڑھا دئیے۔۔۔۔
اس کے سانسیں بہت تیز چل رہی تھیں میرے ہونٹ اس کے ہونٹوں سے چھو گئے۔۔۔۔
وہ نہ تجربہ کار تھی اس کو نہیں پتہ تھا کہ اب کیا کرنا ہے میں نے اس کے ہونٹوں کو چوسنا شروع کر دیا ۔۔۔۔
وہ اٹھ کر میری گود میں دونوں طرف ٹانگیں پھیلا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
میرے لن کا ابھار اس کی پھدی پر دبنے لگا وہ مچل رہی تھی۔۔۔
کنواری ٹین ایج لڑکی کتنا برداشت کر سکتی تھی اس نے منہ کھول دیا میری زبان اس کے منہ میں گھس گئی اور زبان کو ڈھونڈنے لگی۔۔۔۔
زبانیں ایک دوسرے سے لڑنے لگیں میرے ہاتھ اس کے مموں پر چلے گئے۔۔۔۔
کیا ممے تھے ایک دم کسے ہوئے درمیانے سائز کے جو میرے ہاتھ میں بآسانی سما گئے۔۔۔۔
اسی وقت اس کے جسم کو زور کا جھٹکا لگا اس نے میرے کندھے پر سر رکھ دیا اور اچھلنے لگی۔۔۔۔
اس کے منہ سے عجیب سی آوازیں نکل رہی تھیں اس کا سانس اکھڑ رہا تھا۔۔۔۔
میرے سر کے پیچھے ہاتھ رکھ کر اس نے پورا زور لگا کر اپنے آپ کو میرے ساتھ چپکا لیا۔۔۔۔
کچھ دیر ایسے ہی جھٹکے کھاتی رہی اور پھر وہ میری گود سے اتر گئی اور ایک طرف ہو کر بیٹھ گئی۔۔۔
کچھ دیر سانس بحال کرتی رہی پھر اٹھ کر وہاں سے اندر چلی گئی۔۔۔
میں کچھ دیر اس کا انتظار کرتا رہا جب وہ باہر نہ آئی تو میں اٹھا اور باہر نکل گیا۔۔۔
باہر نکل کر بھا کو کال کر کے پوچھا کہاں ہیں کیونکہ میں اب گھر جانا چاہتا تھا میرا لن پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
جس طرح رباب نے گرم کر دیا تھا اس کے بعد اس کا چھوڑ کر جانا میرے لن میں درد کر گیا تھا۔۔۔۔
بھا نے بتایا کہ وہ تو ایک دوست کے ساتھ کھانا کھانے گئے ہوئے ہیں۔۔۔
میں نے ان سے کہا میں گھر جا رہا ہوں اس لیے پوچھا تھا۔۔۔
بھا نے کہا ہممم چلے جاؤ اگر کھانا وغیرہ چاہئیے تو بتا دو میں لیتا آؤں گا۔۔۔
میں نے کہا نہیں بھائی اس کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
فون بند کرکے میں نے بائیک سٹارٹ کی اور گھر پہنچ گیا۔۔
گھر کے سامنے پہنچ کر میں نے لاک کھولنے کے لیے چابی نکالی۔۔۔
اسی وقت گیٹ کھل گیا میرے سامنے مہتاب کھڑی تھی۔۔۔
اس کے چہرے کا رنگ بدل گیا وہ پریشان ہو گئی میں نے مسکرا کر سلام کیا۔۔۔۔
پیچھے سے بھا سامنے آیا اور اس کے چہرے پر بھی حیرانی تھی۔۔۔
میں نے کہا بھا آپ بتا دیتے تو کچھ دیر بعد آ جاتا۔۔۔
بھا مہتاب کی طرف اور مہتاب بھا کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
میں نے کہا آپ لوگ پریشان نہ ہوں میں کسی کو کچھ نہیں بتاؤں گا۔۔۔
بھا مسکرانے لگا اور بولا مجھے پتہ ہے تو کسی کو نہیں بتائے گا ۔۔۔۔
مہتاب نے پریشانی سے بھا کی طرف دیکھا تو اس نے کہا دروازے میں کھڑا ہونے سے بہتر ہے کہ اندر چل کر بات کرتے ہیں۔۔۔
مہتاب نے کہا نہیں میں چلتی ہوں وہ مجھ سے نظریں نہیں ملا رہی تھی۔۔۔
بھا نے کہا ٹھیک ہے اور بائیک نکالنے لگا مہتاب چپ چاپ نکل کر اپنے گھر کی طرف چل دی اور بھا دوسری سمت نکل گیا۔۔۔۔
میں نے بائیک اندر کی اور نہانے کے لیے واش روم گھس گیا۔۔۔۔
خوب مل مل کر نہایا اور نہا کر کپڑے بدلے اور بائیک لے کر کھانا کھانے نکل گیا۔۔۔۔
میں اپنی مستی میں بے فکر ہو کر جا رہا تھا بڑی ہی آہستہ آہستہ بائیک چلا رہا تھا۔۔۔
اسی طرح چلتے چلتے میں ایک درمیانے درجے کے ہوٹل پہنچ گیا اور کھانے کا آرڈر دیا۔۔۔
میرا کھانا لگنے میں کچھ وقت تھا اس لیے میں اردگرد کا جائزہ لینے لگا۔۔۔۔
میں نے غور کیا تو مجھے ایسا لگا کیسے وہاں ایک بندہ ایسا موجود ہے جو کالج سے نکلتے وقت میرے پیچھے تھا ۔۔۔۔
اصل میں میں رباب کو لے کر وہاں سے نکلا تھا تو کالج کے سامنے ایک بندہ بائیک پر کھڑا تھا ۔۔۔۔
پھر جب میں ٹاؤن سے نکل تو بھی مجھے وہی شخص دکھائی دیا تھا لیکن میں نے غور نہ کیا۔۔۔
اب جب ہوٹل میں بھی مجھے وہ نظر آیا تو مجھ سے رہا نہ گیا ۔۔۔
میں غور کرنے پر مجبور ہو گیا،لیکن میں نے اس کو محسوس نہ ہونے دیا کہ مجھے اس پر شک ہو گیا ہے۔۔۔۔
ایک دو بار سرسری سا دیکھنے پر میں اس کو اچھی طرح چیک کر چکا تھا۔۔۔۔
وہ چالیس سال کی عمر کا آدمی تھا چہرے سے کافی پریشان لگ رہا تھا۔۔
میرا کھانا آ گیا تو میں نے اس کی طرف دیکھا تو چائے کا کپ ہاتھ پکڑے ہوئے تھا۔۔۔۔
میں نے اٹھ کر اس کی طرف دیکھا اور پھر اپنا کھانا اٹھا کر اس کے ٹیبل پر جا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
اس نے حیران کن نظروں سے میری طرف دیکھا ۔۔۔
میں نے اس کے سامنے کھانا کرتے ہوئے کہا چائے کا کپ مجھے دے دیں کھانا کھائیں ۔۔۔۔
اس نے کافی انکار کیا لیکن میری بات اس کو ماننا پڑی۔۔۔۔
اس نے کھانا شروع کر دیا اور بار بار میری طرف دیکھ بھی رہا تھا۔۔۔۔
جب وہ کھانا کھا چکا تو میں نے چائے کا آرڈر دیا۔۔۔
اس نے پھر منع کیا لیکن میں نے اس کے انکار کے باوجود چائے منگوا لی۔۔۔
وہ کچھ بولنے لگا تو میں نے کہا پہلے آپ چائے پی لیں پھر جو بھی بات ہے کر لیں گے۔۔۔
وہ مسکرا دیا اور چائے پینے لگا ۔۔۔
جب اس نے چائے پی لی تو میں اٹھ کھڑا ہوا اور بل ادا کر دیا۔۔۔
وہ وہیں بیٹھا میرا انتظار کرنے لگا تو میں نے اس کو اپنے پاس بلایا۔۔۔
وہ آ گیا تو میں باہر نکل گیا وہ میرے پیچھے پیچھے باہر آیا۔۔۔۔
میں نے بائیک سٹارٹ کی اور اس کو پیچھے بٹھا لیا اور قریبی پارک کی طرف چل پڑا۔۔۔۔
پارک میں بائیک روکی اور گھاس پر بیٹھ گیا وہ بھی میرے سامنے بیٹھ گیا۔۔۔۔
میں اس کی طرف دیکھ کر کہا ہاں جی اب آپ بتائیں آپ میرا پیچھا کیوں کر رہے ہیں۔۔۔
اس نے سر جھکا لیا اور کچھ دیر سر جھکائے بیٹھا رہا اور پھر اسی انداز میں بولا ۔۔۔۔
میں اس لڑکی کا باپ ہوں جس کے ساتھ کالج میں۔۔۔۔
اتنا بول کر وہ آنسو بہانے لگا روتے ہوئے اس کی ہچکی بندھ گئی۔۔۔
میں اس کے قریب ہوا اور کہا اب آپ بے فکر ہو جائیں کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔
اس نے کہا وہ درندہ چھوٹ آیا ہے کل ہمارے گھر آیا تھا اس نے مجھے دھمکی دی ہے کہ میری بیٹی کو اٹھوا لے گا۔۔۔۔
میں یہ سن کر حیران رہ گیا میں نے کہا ایسا کیسے ہو سکتا ہے اس کو کیسے چھوڑ سکتے ہیں۔۔۔۔
اس پر اتنا سنگین الزام لگا ہے ایسا سنگین جرم ہے سارے ثبوت اور گواہ اس کے خلاف ہیں تو وہ کیسے آزاد ہو سکتا ہے۔۔۔۔
اس نے روتے ہوئے کہا یہاں سب ہو سکتا ہے جس کے پاس پیسہ ہے وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔۔۔۔
میں نے اس سے کہا آپ بے فکر ہو جائیں اس کا علاج میں کر لوں گا، آپ بے فکر ہو کر گھر جائیں۔۔۔۔
باقی سب مجھ پر چھوڑ دیں اس کو سنبھالنا میری ذمہ داری ہے ۔۔۔۔
وہ تو چلا گیا لیکن میں سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ یہ سب کیا ہو رہا ہے۔۔۔
میں نے ناصر کو فون ملایا اس سے اس بارے میں پوچھا تو اس نے کہا قانونی طور پر وہ قید ہے،لیکن حقیقت میں وہ آزاد پھر رہا ہے ۔۔۔۔
میں نے اس سے اس کا پتہ وغیرہ پوچھا تو اس نے بتا تو دیا لیکن ساتھ یہ بھی سمجھایا کہ وہاں جانے سے جان کا خطرہ ہو سکتا ہے ۔۔۔