گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 78 )

زیبا نے چونک کر میری طرف دیکھا اور پوچھا کیا مطلب پکڑے جا چکے ہیں۔۔۔​

میں نے ہسنتے ہوئے کہا کوئی تو ہے جو شمروز کو آپ کی ساری رپورٹ دے رہا ہے جس کی وجہ سے یہ سب ہوا۔۔۔۔​

مجھے اس جگہ کتنے دن ہو گئے ہیں کوئی ایسی ویسی بات نہیں ہوئی آپ کو آئے ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ بات شہر کے سارے دشمنوں تک پہنچ گئی ۔۔۔۔​

زیبا بڑے غور سے میری بات سن رہی تھی میں نے مزید کہا ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ ایک ساتھ اسلحہ سے لیس لوگ پکڑے جائیں بغیر کسی مزاحمت کے۔۔۔۔​

زیبا نے پرسوچ انداز میں کہا واقعی میں نے اس حوالے سے کبھی نہیں سوچا کہ کوئی غدار اپنی صفوں میں بھی ہو سکتا ہے، جو پل پل کی خبر پہنچاتا ہو کیونکہ یہ سب لوگ میرے شوہر کے زمانے سے ہیں اس نے ہی ان سب کو اکٹھا کیا تھا اور آج تک چل رہے ہیں جو بھی نیا آتا ہے وہ ان کے ماتحت ہوتا ہے۔۔۔۔​

جو عورتیں میری محافظ ہیں وہ میرے ساتھ میرے والد نے بھیجی تھیں ان کو ٹریننگ میں نے دلوائی ہے۔۔۔۔​

میں نے کوئی بات نہ کی اس کی طرف دیکھنے لگا اس کے چہرے سے پریشانی صاف جھلک رہی تھی۔۔۔​

اس نے مجھ سے پوچھا اب کیا کرنا چاہئیے۔۔۔​

میں نے کہا کرنا کیا ہے بندہ ڈھونڈنا چاہئیے اور اس کو سزا دینی چاہئیے تاکہ آئندہ کوئی ایسی ذلالت والا کام نہ کرے۔۔۔۔​

اس نے ہاں میں سر ہلایا اور کہا بالکل ایسا ہی کرنا ہوگا۔۔۔​

اسی وقت بارش نے کہا بھائی فیکٹری آ گئی ہے اب کیا کرنا ہے۔۔۔​

میں نے کہا یہاں آس پاس دیکھو ہمارے بھی کچھ بندے ہوں گے ان کے ساتھ مل کر اندر گھس جاؤ ۔۔۔۔​

وہ دونوں ایک ساتھ گاڑی سے اتر گئے اور زیبا آگے والی سیٹ پر چلی گئی اور ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی۔۔۔​

گاڑی سٹارٹ ہی تھی اس نے گاڑی تھوڑی آگے بڑھائی اور پھر گھما کر فیکٹری کا چکر کاٹا۔۔۔۔​

چکر کاٹ کر اس نے اندازہ لگایا کہ اس طرف اندر گھسنا آسان ہے۔۔۔​

گاڑی کو ایک طرف کھڑا کیا میں نے اپنا پستول نکال لیا اور زیبا سے کہا میں سوچ رہا تھا وہ لوگ اندر سنبھال لیں گے ہم بعد میں اندر جائیں گے۔۔۔​

زیبا نے کہا اگر سب کچھ وہ کر سکتے تھے تو ہمارے آنے کا کیا فایدہ ۔۔۔​

میں نے ہممم کیا اور باہر کا جائزہ لے کر موبائل نکال لیا بارش سے رابطہ کیا۔۔۔​

بارش نے بتایا کہ وہ سب اندر گھس چکے ہیں کوئی مزاحمت نہیں ہوئی ۔۔۔​

میں نے اس کو کہا رک جاؤ پھر آگے نہیں بڑھنا کال چلنے دو میں پیچھے والی سائیڈ پر ہوں۔۔۔​

اس نے کہا ٹھیک ہے میں نے زیبا کو کہا میں آگے جاتا ہوں جب اشارہ کروں تب باہر نکلنا۔۔۔۔​

میں گاڑی سے باہر نکلا اور بھاگ کر گیٹ پر چڑھ گیا اندر ایک گارڈ سو رہا تھا۔۔۔​

میں نے جلدی سے گیٹ سے اتر کر گارڈ کے سر پر پستول سے ضربیں لگانا شروع کر دیں اور اس کا منہ ہاتھ سے بند کر لیا۔۔۔۔​

جب مجھے یقین ہو گیا کہ وہ بے ہوش ہو گیا ہے تو میں نے گیٹ کھول دیا ۔۔۔​

زیبا بھی گاڑی سے نکل آئی اور گیٹ سے اندر داخل ہوئی۔۔۔​

ہم دونوں ایک دوسرے کے کندھے سے کندھا ملائے آگے بڑھنے لگے۔۔۔​

دونوں الرٹ تھے کسی بھی وقت کچھ بھی ہو سکتا تھا۔۔۔​

ہم بلڈنگ میں داخل ہوئے اور اندر کا جائزہ لینے لگے اب دونوں کی کمریں ایک دوسرے کی طرف تھیں اور ہم گول گول گھوم کر اردگرد کا جائزہ لے رہے تھے۔۔۔۔​

فیکٹری بہت بڑی تھی جس جگہ ہم کچھ کھڑے تھے وہ کوئی ہال تھا جہاں سے چار اطراف سے اوپر کو سیڑھیاں چڑھ رہی تھیں۔۔۔۔​

میں نے زیبا سے کہا کہ نیچے تہہ خانہ ہو گا ہم نے وہ ڈھونڈنا ہے۔۔۔​

ہم دونوں ایک طرف بڑھنے لگے چھوٹا سا دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوئے۔۔۔۔​

ہم اندر داخل ہوئے تو اسی دوران کہیں دور سے گولی چلنے کی آواز آئی۔۔۔۔​

میں نے فون کو کان کو لگایا تو بارش کچھ بول رہا تھا۔۔۔​

میں نے آہستہ سے کہا ہیلو بارش کیا کہہ رہے ہو۔۔۔​

اس نے کہا آپ کہاں ہیں ہم نے ان لوگوں کو ڈھونڈ لیا ہے وہ ایک تہہ خانے میں ہیں اور کچھ لوگوں نے ان کو باندھ رکھا ہے ۔۔۔۔​

میں نے اس سے رستہ پوچھا تو اس نے ہماری لوکیشن پوچھی میں نے اس کو لوکیشن بتائی وہ ایک منٹ میں ہمارے سامنے تھا۔۔۔​

اس نے بتایا کہ تین لوگ باہر گیٹ پر تھے جن کو ختم کر دیا ہے اور دوسرا گروپ باہر نگرانی کر رہا ہے۔۔۔۔​

میں نے پوچھا نیچے کتنے لوگ ہیں اس نے بتایا کہ کل ملا کر دس لوگ ہوں گے جن کے پاس ہتھیار بھی ہیں لیکن اصل مسئلہ ہمارے لوگوں کا ان کے پاس ہونا ہے۔۔۔۔​

میں نے کہا اس کی فکر نہ کرو وہ میں دیکھ لوں گا کیسے ہینڈل کرنا ہے۔۔۔​

میں اور زیبا اس کے پیچھے چل پڑے وہ ہمیں سیڑھیوں پر لے گیا اور بڑی سبک رفتاری سے ہم سیڑھیاں اتر کر نیچے چلے گئے۔۔۔۔​

سامنے ایک کیبن میں دس لوگ بندھے ہوئے تھے میں نے زیبا کے کان میں کہا جو آزاد ہیں ان کو پہچانوں ان میں تمہارا کونسا آدمی ہے۔۔۔۔​

زیبا میرے پیچھے کھڑی تھی میرے ساتھ چپک گئی اور اس نے میرے کان میں کہا وہ جس کے سر پر سندھی ٹوپی ہے وہ میرا آدمی ہے۔۔۔​

میں پیچھے ہوا اور بارش کے پاس گیا اس نے اپنے دو ساتھیوں کو بھی بلا لیا جو الگ الگ کونوں میں تھے۔۔۔۔​

میں نے سب کو سمجھایا کہ پہلی گولی زیبا چلائے گی جس پر وہ گولی چلائے گی اس کے علاوہ ایک ایک بندہ الگ الگ وقت میں چند سیکنڈ کے وقفے سے گولی چلائے گا اور اپنے نشانے پر گولی لگنی چاہئیے ۔۔۔​

سب نے میری بات سے اتفاق کیا ترتیب بنا لی کس نے کب کتنے نمبر پر گولی چلانی ہے دونوں طرف سے ایک ایک بندہ گرانے کا پلان بن گیا۔۔۔۔​

وہ لوگ اپنی مستئ میں ڈوبے ہوئے تھے شراب پی رہے تھے اور کباب کھائے جا رہے تھے۔۔۔۔​

میں زیبا کے پاس آیا ایک طرف اندھیرے میں وہ میرے آگے کھڑی ہو گئی میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا نشانہ چوکنا نہیں چاہئیے یہ ہی وہ غدار ہے جس نے باقی سب کو پکڑوایا ہے اور ہمارا پتہ بتایا ہے۔۔۔۔​

زیبا پرعزم تھی کہ وہ اس کو اڑا دے گی میں نے اس کے کان میں کہا آج وقت آ گیا اس سے پہلی گولی چلانے کا،چلاو گولی اور غدار کو اڑا دو۔۔۔۔​

اس کے پستول پکڑنے کے انداز سے لگ رہا تھا کہ اس سے گولی نہیں چلے گی۔۔۔۔​

میں نے اس کے ہاتھوں پر ہاتھ رکھے اس کے کندھے پر ٹھوڑی رکھی اور اس کا نشانہ لگا دیا۔۔۔۔​

وہ بالکل میرے آگے تھے اس کی گانڈ میرے لن کے ساتھ لگی ہوئی تھی۔۔۔​

میں نے ٹریگر پر دباؤ بڑھایا ساتھ ہی لن بھی اکڑ کر اس کی گانڈ کی دراڈ میں گھس گیا۔۔۔​

اس نے گانڈ کو اکڑا لیا اور ٹریگر پر اس کا دباؤ بھی بڑھ گیا اور گولی چلی سندھی ٹوپی والے کے سینے میں گھس گئئ۔۔۔۔​

اگلی گولی میں نے چلانی تھی لیکن زیبا کو اس جگہ سے ہٹانا ضروری تھا۔۔۔​

زیبا کو کھینچا تو وہ میرے ساتھ پیچھے ہوتی گئی میرا ایک ہاتھ اس کے پیٹ پر تھا دوسرے سے میں نے اپنا پستول نشانے پر لگایا ہوا تھا۔۔۔۔​

میں نے پیچھے ہٹتے ہوئے دو فائر کیے دوسری طرف سے دو چیخیں سنائی دیں۔۔۔​

پیچھے دیوار آ گئی میں اور زیبا دیوار کے ساتھ لگ گئے اس کی گانڈ میرے لن کے ساتھ بلکل جڑ گئی تھی۔۔۔​

زیبا بالکل خاموش تھی اب ہم نے صرف چھپنا تھا کیونکہ اگلے چھ فائر بارش لوگوں نے کرنے تھے۔۔۔​

ایک کے بعد دیگرے مختلف اطراف سے فائر ہوئے پھر مخالف سمت سے بھی فائر ہونے لگے۔۔۔۔​

میں نے زیبا کے کندھے سے سر کو آگے بڑھایا اور اس کے گال سے گال کو رگڑ کر کہا زیبا جی لگتا ہے اگ فائرنگ کا تبادلا شروع ہو گیا ہے مجھے آگے بڑھنا ہو گا اگر اجازت ہو تو بندہ آگے چلا جائے ۔۔۔​

زیبا ایک دم کرنٹ کھا کر اچھلی اور ایک طرف ہو گئی میں مسکرا دیا اور اس کے قریب چہرہ کرکے کہا پھر آ کر اس مخملی کمبل کو اوڑتا ہوں ذرہ کانٹوں کو درمیان سے ہٹا دوں۔۔۔۔​

میں نے دیوار کا سہارا لے کر آگے بڑھنا شروع کر دیا اور ایک کونے سے سر نکال کر باہر جھانکا تو کوئی بھی نظر نہیں آ رہا تھا۔۔۔​

فائر رک چکے تھے میں ان کرسیوں پر نظریں جمائے کھڑا رہا ۔۔۔​

میرا پستول سیدھا تنا ہوا تھا لن بھی زیبا کے لمس کی وجہ اسی طرح تنا کھڑا تھا۔۔۔۔​

مجھے اپنے بازوؤں کے نیچے سے ہاتھ گزرتا محسوس ہوا پھر اپنی کمر پر دو نرم نرم گیندوں کا احساس ہوا۔۔۔۔​

اسی وقت میرے سامنے کوئی بھاگ کر ایک طرف جانے لگا میں نے ٹر ٹر تین چار فائر کیے اور وہ بھاگنے والا ڈھیر ہو گیا۔۔۔۔​

اسی وقت اس بھاگنے والے کے پاس سے ایک آدمی ہاتھ اوپر کرکے کھڑا ہوا بارش نے چیخ کر کہا اور بھی اگر کوئی ہے تو باہر آ جائے ورنہ بے موت مارا جائے گا۔۔۔۔​

اسی وقت ایک طرف سے فائر ہوا جس کا نشانہ بارش کی آواز کی سمت تھا میں نے فائر والی سائڈ پر فائر کیا اسی وقت تین اطراف سے اس جگہ فائر ہوئے اور پھر ایک چیخ سنائی دی ۔۔۔​

پھر ایک منٹ خاموشی رہی اور سفارش مجھے اس جگہ کھڑا نظر آیا اس نے جا کر شیشے کے کیبن کا دروازہ کھول دیا۔۔۔​

اندر قید لوگ باہر نکل آئے بارش کے کندھے کو گولی چھو کر گزری تھی جس سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔​

میں نے سب کو جلد از جلد وہاں سے نکلنے کا کہا سب لوگ بھاگ کھڑے ہوئے۔۔۔​

سب وہاں سے جلد از نکلنا چاہتے تھے اس لیے میرے وہاں سے نکلنے سے پہلے پہلے سب نکل چکے تھے۔۔۔۔​

میں نے بلڈنگ کا اندازا لگا لیا تھا کہ اس کو اڑانا کیسے ہے کیونکہ اگر سامان ڈھونڈنے کی کوشش کرتے تو کبھی نہیں مل سکتا تھا اس لیے ساری بلڈنگ کو اڑانے کا پروگرام بنا چکا تھا۔۔۔۔​

میں نے بجلی کے بورڈز دیکھے شارٹ سرکٹ کا پلان کیا اور پھر باہر نکل گیا ۔۔۔۔​

اگلے دس منٹ ہی وہ سب لوگ وہاں سے جا چکے تھے پیچھے میں بارش اور زیبا رہ گئے تھے۔۔۔​

وہ میری طرف دیکھ رہے تھے کہ میں کیا کرنے جا رہا ہوں۔۔۔​

میں نے فیکٹری میں راونڈ لگایا مجھے ایک گاڑی کھڑی نظر آئی میں نے بارش کو بلا کر گاڑی کو دھکا لگانے کا کہا ۔۔۔​

ہم گاڑی کو دھیکیل کر فیکٹری کی بلڈنگ کے گیٹ کے پاس ایک الیکڑک بورڈ کے پاس لے گیے۔۔۔​

پھر گاڑی کی پٹرول ٹینکی کو کھول کر ایک کپڑا ڈھونڈا اس کو ٹینکی میں ڈبو کر پٹرول سے بھگویا ۔۔۔​

اس کپڑے سے سارے دروازوں پر پٹرول لگا دیا اور کپڑا ہاتھ میں پکڑا کر میں نے زیبا اور بارش کو باہر گاڑی میں بیٹھنے کا کہا۔۔۔۔​

وہ دونوں چلے گئے تو میں نے اس کپڑے کو پھر سے پٹرول سے بھگویا اور عمارت میں گھس کر ایک بڑے الیکٹرک میٹر پر پھینک دیا ۔۔۔​

بھاگ کر باہر آیا اور پستول نکال کر گاڑی کی ٹینکی کا نشانہ لے کر پیچھے ہونے لگا۔۔۔​

تھوڑا دور ہو کر میں ٹینکی میں فائر کر دیا ایک دو فائر کیے ہوں گے کہ اس میں سے آگ کا شعلہ بھڑکا اور میں باہر کو بھاگ کھڑا ہوا۔۔۔​

میں گاڑی میں بیٹھ رہا تھا جب اندر ایک دھماکا ہوا اور پھر آگ کے شعلے نکلنے لگے جنہوں نے پوری عمارت کو گھیرے میں لے لیا۔۔۔۔​

ہم وہاں سے نکلے اور بارش کو میں نے بلوچ ہاوس چھوڑنے کا کہا وہ ہمیں بلوچ ہاوس چھوڑ کر چلا گیا ۔۔۔​

میں اور زیبا چپ چاپ اندر داخل ہوئے اور میں نے فریج سے پانی نکال کر پینا شروع کر دیا۔۔۔​

خود پینے کے بعد زیبا کو بھی دیا پھر میں نے اس کو ایک بیڈ روم کا دروازہ کھول کر دیا جو شاید ہنی کا تھا ۔۔۔​

وہ اندر داخل ہوئی تو میں پیچھے کو مڑ گیا اور ڈرائنگ روم میں چلا گیا جو میرا دیکھا بھالا تھا۔۔۔۔​

ڈرائنگ روم کی لائٹ آن کرکے میں نے ابھی شرٹ اتاری ہی تھی کہ گلی میں فائرنگ شروع ہو گئئ۔۔۔۔​

فائرنگ کی آواز سن کر میں کچھ لمحے رک گیا اور انتظار کرنے لگا کہ کون ہو سکتا ہے۔۔۔۔​

کچھ دیر بعد پھر فائرنگ ہوئی اس طرح وقفے وقفے سے فائرنگ ہونے لگی۔۔۔۔​

میں نے لائٹ آف کی اور کھڑکی کے پردے ہٹا کر باہر گلی میں دیکھنے لگا۔۔۔​

گلی سنسان تھی لیکن فائرنگ ہو رہی تھی فائرنگ کس طرف ہو رہی تھی کوئی پتہ نہیں چل رہا تھا۔۔۔۔​

تقریبآ آدھا پونا گھنٹہ یہ سلسلہ چلتا رہا اس دوران زیبا بھی میرے پاس آ گئی تھی وہ بھی فائرنگ سے پریشان ہو گئی تھی۔۔۔۔​

فائرنگ بند ہونے تک وہ میری طرف بار بار دیکھ رہی تھی۔۔۔۔​

فائرنگ تو رک گئی لیکن میرا فون بجنے لگا فون کی بیل سن کر زیبا ایک دم اچھل پڑی اور میرے ساتھ چپک گئی۔۔۔​

میں نے شرٹ اتاری ہوئی تھی اور ننگے سینے کے ساتھ وہ لگ گئی تھی اس کے ہاتھ میرے بازوؤں پر تھے۔۔۔۔​

ننگے جسم پر نرم لمس پڑتے ہی لن نے سر اٹھانا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔​

اس لمس سے میرے اندر شیطانی جاگنے لگی تھی اس کی تیز سانسیں جو ڈر کی وجہ سے تھیں اپنی گردن پر محسوس ہو رہی تھیں۔۔۔​

میں نے بڑی نرمی سے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرا اور کہا کچھ نہیں ہوا ہے بس فون بج رہا ہے۔۔۔۔​

وہ شرمندہ سی ہو کر پیچھے ہو گئی میں نے فون اٹھا کر دیکھا تو اس پر کوئی نیا نمبر تھا۔۔۔۔​

رسیو کرنے سے پہلے ہی فون بند ہو چکا تھا میں واپس زیبا کی طرف مڑا تو وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔​

میں مسکرا دیا اور کہا آپ جا کر سو جائیں اب کچھ نہیں ہو گا۔۔۔​

اسی وقت دوبارہ فون کی رنگ ہونے لگی وہی نمبر تھا ۔۔۔​

میں نے فون اٹھایا تو دوسری طرف کی آواز میں ایک دھاڑ تھی جیسے مجھے کھا جائے گا بڑے ہی غصیلے لہجے میں کہا گیا تو نے بہت بڑی غلطی کر دی ہے اب تو بچ کر دکھا تیری تو میں وہ حالت کروں گا کہ تو یاد رکھے گا۔۔۔۔​

میں سنتا رہا دوسری طرف والا کافی کچھ بولتا رہا اس نے گالی دے دی۔۔۔​

بس یہاں پر میرا پارہ ہائی ہو گیا میں نے کہا سن حرام کے جنے جو اکھاڑنا ہے اکھاڑ لے سالے ترے گانڈ میں جتنا دم ہے لگا کر دیکھ لے اب تو دیکھ میں کیا کرتا ہوں بھڑوے تیرے جیسے دلال میں اگر اتنی اکڑ ہے تو سوچ مجھ جیسے بندے میں کتنا دم ہو گا۔۔۔۔​

اس نے کہا تو مجھے بہت ہلکے میں لے رہا ہے تو جانتا نہیں ہے میری اپروچ کہاں تک ہے میں کیا کچھ کر سکتا ہوں ۔۔۔۔​

میں نے ہنستے ہوئے کہا مطلب ہے کہ تیری بچیاں ہر جگہ پہنچی ہوئی ہیں تیرا جیسا دلال کر بھی کیا سکتا ہے بچیاں سپلائی کرکے دوسروں کو بلیک میل کرکے ہی تو تو یہاں تک پہنچا ہے۔۔۔​

چل اب تیرا ٹائم ختم ہوا مجھے فون نہ کرنا اب ورنہ بہت برا ہو گا جتنا تو بولے گا اتنا ہی زیادہ نقصان اٹھائے گا۔۔۔۔۔​

میں نے فون کاٹ دیا زیبا مجھے آنکھیں پھاڑے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔​

میں نے پوچھا کیا ہوا تو اس نے کہا کچھ نہیں بس دیکھ رہی تھی تم کس طرح بات کر رہے تھے ایسے الفاظ بھی بول لیتے ہو۔۔۔۔​

میں نے شرٹ اٹھا کر پہنتے ہوئے کہا ابھی یہاں سے نکلنا ہو گا ورنہ کچھ بھی ہو سکتا ہے ابھی محافظ کو بھی اٹھا لو۔۔۔۔​

وہ جانے لگی تو میں نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا وہ رک گئی لیکن میری طرف نہ دیکھا۔۔۔۔​

میں اس کے پاس گیا اس کے کندھے پر ٹھوڑی رکھی اور کان میں کہا ملکہ حضور اس مجنون کو کب جلوے دکھاو گی سوچا تھا کہ آج شب حسن سے رعنائیوں سے لطف اندوز ہوں گے لیکن یہ ظالم سماج ہماری شب ملن میں حائل ہے۔۔۔۔​

وہ شرما سی گئی اور سر جھکا لیا میں نے اس کے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر خود کے ساتھ لگایا۔۔۔۔​

اس کی نرم گانڈ کے ساتھ لگتے ہی لن نے دہائیاں دینا شروع کر دیں کہ مجھے نہیں پتہ مجھے یہ چاہئیے۔۔۔۔​

اس کی گردن پر کس کیا اور کہا ابھی چلتے ہیں کسی مناسب وقت پر خوب ملن ہو گا پوری تیاری کے ساتھ ملن ہو گا۔۔۔۔​

میں نے پیٹ کو ہلکا سا دبا کر چھوڑ دیا ،میں اس کو چھوڑ چکا تھا لیکن وہ ابھی تک ویسے کی بت بنے کھڑی تھی۔۔۔۔​

میں نے اس کو اپنی طرف گھمایا اس کی ٹھوڑی کو اوپر کرکے کہا کسی بھی وقت یہاں پر اٹیک ہو سکتا ہے اس لیے جلدی کرو ورنہ دو جسم ایک ہوں یا نہ ہوں ہماری جان ایک ساتھ نکل جائے گی۔۔۔۔​

اس نے میرے منہ پر ہاتھ رکھا اور کہا خبردار اگر اب ایسی کوئی بات کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔​

اتنا کہہ کر وہ باہر نکل گئی میں نے بھی اپنی چیزیں سمیٹ لیں اور باہر نکل آیا ۔۔۔​

وہ دونوں تیار تھیں میں نے بائیک نکالی اور گیٹ کو تالا لگا کر ایک جگہ چابی چھپا دی۔۔۔۔​

زیبا میرے پیچھے بیٹھی اور اپنی ساتھی عورت کو کہا کہ وہ اپنے بندوں کو فون کرکے پتہ کرے کہ وہ کہاں ہیں۔۔۔۔​

میں نے بائیک نہر کے کنارے کی طرف موڑ دی اسی نرسری کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ہم نہر کی پٹری پر چلنے لگے۔۔۔۔​

اس کے آدمی شہر سے باہر تھے میں نے زیبا کو کہا کہ ان کو پل پر بلا لو، اس نے ویسا ہی کیا ہم پل پر پہنچے تو اس کے آدمی وہاں موجود تھے۔۔۔۔​

میں نے ان کو بائیک دی اور گاڑی میں بیٹھ گیا بائیک والے کو میں ناصر کے ٹیوب ویل کا بتایا جو قریب ہی تھا وہ بائیک لے کر وہاں چلا جائے۔۔۔۔​

زیبا کو کہا تمہارے شہر میں شمروز کی جو فیکٹریاں ہیں ان میں آگ لگوا سکتی ہو تو ابھی لگوا دو۔۔۔۔​

اس نے ایک منٹ ضائع کیے بغیر اپنے بندوں کو حکم دے دیا اور کہا کہ دس منٹ بعد رپورٹ دیں ۔۔۔۔​

ارشد کو فون کیا معلوم کیا کہ وہ کہا ہے تو اس نے بتایا کہ پولیس ان کے پیچھے لگی ہوئی ہے اور وہ دریا کے علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔۔۔۔​

میں نے اس کو بچ کر رہنے کا کہا اور فون بند کر دیا پھر ناصر سے رابطہ کیا اس نے بتایا کہ وہ تو لاہور کے لیے نکل چکا ہے اس کو وہاں بڑا ایمر جنسی کام ہے۔۔۔۔​

اب میں ہی رہ گیا تھا جو بھی کرنا تھا خود ہی کرنا تھا کیونکہ شاہد میں وہ دم نہیں تھا جو ارشد لوگ کر سکتے تھے۔۔۔۔​

میں نے ڈرائیور کو گاڑی ایک طرف لے جانے کا کہا مجھے ایک فیکٹری کا پتہ تھا جو شہر کےبلکل ساتھ تھی لیکن وہاں کیا صورتحال ہو گی اس کا کوئی اندازہ نہیں تھا۔۔۔۔​

گاڑی آگے بڑھتی گئی شہر سے باہر نکلتے ہی میں نے ڈرائیور کو کہا کہ ایک طرف سنسان جگہ گاڑی روک دے۔۔۔۔​

ڈرائیور نے گاڑی روک دی اور ہم انتظار کرنے لگے ۔۔۔​

بیس منٹ ہو چکے تھے جب زیبا نے اپنے لوگوں کو فون کرکے بتایا تھا۔۔۔۔​

میں نے زیبا کو پتہ کرنے کا کہا زیبا نے نمبر ملایا تو دوسری طرف سے بات سن کر زیبا خوش ہو گئی اور کہا کہ گڈ اب ڈیرے پر پہنچ جاؤ تم لوگ۔۔۔۔​

مجھے اندازہ ہو گیا کہ وہاں کام ہو چکا ہے اس لیے ڈرائیور کو اشارہ کیا اور گاڑی پھر چل پڑی۔۔۔۔۔​

میں نے اپنا ہتھیار چیک کیا زیبا نے بھی چیک کیا گاڑی فیکٹری سے کچھ دور ہی تھی کہ میں نے گاڑی روکنے کا کہا اور لائٹس بند کرنے کا بول دیا۔۔۔۔​

پھر میں گاڑی سے اترا اور ڈرائیور کو گاڑی دور لے جانے کا بولا ۔۔۔​

زیبا بھی اتر آئی میں فیکٹری کے مین گیٹ کی بجائے پچھلی طرف چل پڑا کیونکہ فیکٹری شہر سے باہر تھی اور یہ رائس فیکٹری تھی تو اس میں کھلا میدان بھی تھا اس میدان میں کرکٹ بھی کھیلی جاتی تھی ایک دو بار میں بھی یہاں کھیلنے آ چکا تھا اس لیے ساری جانکاری میرے پاس تھی ۔۔۔۔​

پیچھے والی سائیڈ سے دو سوراخ تھی جن کو ناکا کہتے ہیں جن سے پانی اندر لا کر لگایا جاتا تھا ویسے یہ کبھی نہیں ہوتا تھا فیکٹری کے اندر بھی ایک ٹیوب ویل تھا جس کا پانی زیادہ تر باہر فصلوں کو لگتا تھا۔۔۔۔​

یہ فیکٹری اکیلے شمروز کی نہیں تھی بلکہ اس کے تین پارٹنر تھے جن میں ایک سیاستدان بھی تھا۔۔۔۔​

فیکٹری کے ارد گرد کی زمین ساری سیاست دان کی تھی اور دوسرا پارٹنر صرف بزنس مین تھا۔۔۔۔​

ہم چلتے ہوئے پچھلی طرف آئے ہمارے ساتھ پانچ لوگ اور بھی تھے جو دوسری گاڑی میں موجود تھے۔۔۔۔​

زیبا کی ساتھی عورت گاڑی میں ہی بیٹھی رہی پتہ نہیں کیوں وہ ہمارے ساتھ باہر نہیں آئی تھی۔۔۔۔​

میں ناکے میں پہنچ گیا اور نالے کو چیک کیا تو وہ خشک تھا مطلب اس میں پانی نہیں تھا۔۔۔۔​

میں نیچے بیٹھ کر اندر گزر گیا میرے پیچھے زیبا بھی آ گئی ۔۔۔۔​

پھر جب سب لوگ اندر آ گئے تو میں نے باقی لوگوں کو مین گیٹ کی طرف بھیجا اور خود مین عمارت کا رخ کیا۔۔۔۔​

دروازے لاک تھے ساری عمارت کا چکر لگایا تو ایک کھڑی کھلی مل گئی میں اندر جھانکا تو لائٹس جل رہی تھیں لیکن اندر کوئی نظر نہیں آ رہا تھا۔۔۔​

زیبا سے کہا تم پہلے اندر جاؤ میں تمہیں سہارا دیتا ہوں اس کے بعد میں آ جاؤں گا۔۔۔۔​

زیبا آگے آئی میں نے اس کے چوتڑوں پر ہاتھ رکھ کر اس کو اوپر اٹھا کر کھڑی میں سے گزار دیا۔۔۔۔​

اس کے بعد میں بھی اندر کود گیا اور چند لمحے کھڑے ہو کر اندر کا جائزہ لیا۔۔۔۔​

ہر طرف سے تسلی کرنے کے بعد ہم ایک ایک کمرہ چیک کرنے لگے۔۔۔۔​

کسی کمرے میں ہمیں کچھ نہ ملا اب صرف مین حال بچا تھا جہاں چاولوں کی پیکنگ ہوتی تھی ۔۔۔۔​

ہم وہاں گئے دیکھا تو بوریاں بھری ہوئی پڑی ہیں اور ایک دروازہ اور بھی تھا جس پر سٹور لکھا ہوا تھا۔۔۔۔​

بوریوں کو چھوڑ کر ہم اس سٹور میں پہنچ گئے وہاں جا کر دیکھا تو ہر طرف شراب کے کریٹ پڑے ہوئے تھے ۔۔۔۔​

اس کے علاوہ بڑے بڑے شاپر تھے جن میں سفید پاوڈر تھا تقریبا سارا کمرہ بھرا ہوا تھا۔۔۔۔​

زیبا نے میری طرف دیکھا اور میں نے اس کی طرف دیکھا اتنا مال دیکھ کر میں حیران رہ گیا یہ مال بازار میں کتنے لوگوں کی زندگی برباد کر سکتا تھا سوچ کر کی روح کانپ اٹھی۔۔۔۔​

میں نے زیبا کے کان میں کہا کہ پہلے باہر نکلنے کا رستہ کھول لیں پھر کرتے ہیں اس کا بھی جگاڑ۔۔۔۔​

زیبا نے کہا ٹھیک ہے ہم مین ڈور ڈھونڈنے لگے مین ڈور سے پہلے ایک گارڈ ملا جس کو سلانا پڑا فائر کیے بغیر اس کے سر پر چوٹ لگا کر بے ہوش کر دیا۔۔۔۔​

ہم نے مین گیٹ کھولا اور باہر دیکھا تو فیکٹری کا مین گیٹ بھی خالی ہو چکا تھا۔۔۔​

زیبا نے اپنے لوگوں سے پوچھا کہا صورتحال ہے تو انہوں نے کہا سب اوکے ہے۔۔۔​

میں نے زیبا کو کہا گاڑیاں پچھلے گیٹ کے پاس لانے کا کہو اور اپنے بندوں کو اور اس عورت کو بھی بلا لو یہ سارا مال تو نہ سہی لیکن آدھا تو ہم لے جا سکتے ہیں۔۔۔۔​

زیبا کو میرےبات کی سمجھ نہ آئی لیکن اس نے پھر بھی اپنے لوگوں کو پیغام دے دیا۔۔۔۔​

وہ سب لوگ وہاں آ گئے میں نے پاوڈر سارا لے جانے کا کہا شراب کی بوتلوں کو توڑنے کا کہا۔۔۔۔​

پاوڈر لے گئے بوتلیں توڑ دی گئیں تو سب وہاں سے اسی نالے کے رستے نکلنے لگے میں نے واپس اسی سٹور میں جا کر آگ لگائی اور بھاگ کھڑا ہوا گارڈ کو عمارت سے باہر پھینکنا نہ بھولا۔۔۔۔​

آگ بھڑکی اور ہم فیکٹری سے باہر نکل چکے تھے کچھ دور جا کر جب ہم نے مڑ کر دیکھا تو فیکٹری آگ کی لپیٹ میں آ چکی تھی۔۔۔۔​

زیبا نے پوچھا اب کہاں جانا ہے تو میں نے اس کےشہر جانے کا کہا۔۔۔​

ڈرائیور کو سمجھانے کے بعد میں نے سیٹ پر لمبا ہوتے ہوئے آنکھیں موند لیں۔۔۔​

پھر میری آنکھ تب کھلی جب گاڑی نے ایک جھٹکا کھایا اور زیبا نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر مجھے ہلایا۔۔۔۔​

میں نے باہر دیکھا تو پولیس کی چیک پوسٹ تھی جہاں پولیس والے سب کو روک رہے تھے۔۔۔۔​

زیبا نے چادر سے منہ چھپا لیا اور اس کی ساتھی عورت نے بھی منہ پر چادر تان لی ۔۔۔​

پولیس والے گاڑی کے پاس نہ آئے ڈرائیور نے ان کو کوئی موٹی گڈی پیش کر دی تھی ساتھ پیچھے والی گاڑی کی طرف بھی اشارہ کر دیا تھا۔۔۔۔​

ہم وہاں سے آگے نکل پڑے پھر سے میں نے آنکھیں موند لیں اور جب آنکھ کھلی تو ہم زیبا نے شہر والے گھر میں رک چکے تھے اور وہ مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔​

جب میں نے آنکھیں کھولیں تو زیبا نے گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی میں بھی اس کے پیچھے باہر نکل گیا۔۔۔۔​

گھر کا مین گیٹ کھلا اندر سے ایک ملازمہ نکلی اس نے جھک کر زیبا کو سلام کیا ۔۔۔​

زیبا نے سب ملازموں کو جانے کا کہا صرف اپنی ساتھی عورت اور گھر کی ملازمہ کو رکنے کا کہا۔۔۔۔​

باقی سب لوگ چلے گئے اور سارا مال بھی ساتھ لے گئے اندر آ کر زیبا نے حبشی ٹائٹ کی اپنی ساتھی عورت کو کہا کہ صائم کے لیے اوپر میرے بیڈروم کے ساتھ والا کمرہ صاف کروا کر بستر وغیرہ چیک کرو سب ٹھیک ہے۔۔۔۔​

وہ ملازمہ کو لے کر چلی گئی اور زیبا وہیں صوفے پر بیٹھ گئی اور مجھے بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔​

میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے اس کے سامنے والے صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔​

زیبا نے پوچھا کیا تم ہر وقت ایسے ہی لگے رہتے ہو نہ دن دیکھتے ہو نہ رات۔۔۔​

میں نے کہا ایسی بات نہیں ہے یہ تو کبھی کبھار ہو جاتا ہے دن رات کا پتہ نہیں چلتا پہل میں نہیں کرتا لیکن جب کوئی حد سے گزرتا ہے تو پھر اس کو نتھ ڈالنا پڑتی ہے۔۔۔​

زیبا مسکرا دی اور کہا ویسے میری معلومات کے مطابق تم کالج سٹوڈنٹ ہو تو پڑھتے کس وقت ہو جس طرح کے تمہارے کارنامے ہیں اس سے تو لگتا ہے کہ تم کالج جاتے ہی نہیں ہو گے۔۔۔۔​

میں نے کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے یہ جو شمروز والا پنگا شروع ہوا ہے یہ بھی کالج سے ہی شروع ہوا ہے۔۔۔​

اس کا بیٹا شایان گرلز کالج کی پرنسپل کے ساتھ چکر چلا کر لڑکیوں کے ساتھ زیادتی کرتا تھا اور منشیات کا استعمال کرتا تھا لڑکیوں کے نازک اعضاء پر کوئی نشہ آور پاؤڈر لگا کر ان کے جسم کو سن کر دیتا تھا پھر اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر گینگ ریپ کرتا اور ویڈیوز بناتا تھا۔۔۔۔​

ایک دن ایسے ہی میرے ہتھے چڑھ گیا رنگے ہاتھوں پکڑا گیا لڑکیوں نے اس کی درغت بنائی اور ایک ریلی نکالی جس میں لڑکے اور لڑکیاں دونوں شامل تھے مجبوراً پولیس کو شایان کو پکڑنا پڑا۔۔۔۔​

باقی کی ساری سٹوری تم جانتی ہو اس کے بعد اس کا باپ درمیان میں آن ٹپکا میں کسی کہ دھونس برداشت نہیں کرتا اس نے ڈرایا تو میں نے اس کے اڈے اڑا دئیے پھر تم آ گئیں اور باقی پھر ہم نے مل کر کیا۔۔۔۔​

ہم باتیں کر رہے تھے کہ ملازمہ نے آ کر بتایا کمرہ تیار ہے اور کچھ کھانے کے لیے چاہئیے تو بتا دیں ویسے بھی صبح ہونے والی ہے۔۔۔​

زیبا نے کافی بنانے کا کہا اور مجھے نہا کر فریش ہونے کا کہا خود بھی اٹھ کر اوپر چل دی میں بھی اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا ۔۔۔۔​

وہ ایک کمرے کے سامنے رکی مجھے بتایا کہ یہ کمرہ تمہارا ہے جاؤ فریش ہو جاؤ میں بھی نہا کر آتی ہوں پھر کافی پیتے ہیں۔۔۔۔​

میں کمرے میں گھس گیا ایک شاندار کمرہ تھا جیسا کسی امیر کبیر کا ہو سکتا تھا۔۔۔۔​

میں نہانے کے لیے واش روم چلا گیا کپڑے اتارے اور شاور کے نیچے کھڑا ہو گیا اچھے سے جسم پر موجود میل کچیل صاف کیا اور جب کپڑے پہننے لگا تو مٹی کے بھرے ہوئے تھے۔۔۔۔​

میں نے کچھ سوچتے ہوئے تولیہ لپیٹا اور باہر نکل آیا ۔۔۔​

کمرے میں جب آیا تو بیڈ پر ایک ٹراوزر اور شرٹ پڑی تھی میں نے اٹھا کر دیکھا تو اپنے لیے مناسب لگی۔۔۔۔​

میں وہیں کھڑے کھڑے تولیہ کھول دیا اور ٹراوزر اٹھا کر پہننے لگا۔۔۔۔​

ٹراوزر ٹانگوں سے اوپر کر لیا تھا ابھی تک لن باہر تھا کہ ایک دم دروازہ کھلا اور ملازمہ اندر داخل ہوئی۔۔۔​

مجھے یوں دیکھ کر اس نے ہلکی سی چیخ مارتے ہوئے منہ پھیر لیا بولی اگر یہ کپڑے پورے نہ ہوں تو بتا دیں میں کوئی اور لا دیتی ہوں۔۔۔۔​

میں نے جلدی جلدی ٹراوزر اوپر کر لیا اور بولا نہیں یہ ٹھیک ہیں ۔۔۔۔​

اس نے کہا ٹھیک ہے جو اتارے ہیں وہ مجھے دے دیں میں لے جاتی ہوں اور دھو دیتی ہیں۔۔۔​

میں نے شرٹ پہنتے ہوئے کہا بعد میں دے دوں گا ابھی جاؤ۔۔۔​

وہ جی اچھا کہتے ہوئے کمرے سے نکل گئی میں آئینے کے سامنے کھڑے ہو کر خود کا جائزہ لینے لگا اور بالوں میں کنگھی کرنے لگا۔۔۔۔​

بال سنوار کر میں کمرے کا جائزہ لینے لگا پھر بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔۔​

دروازے پر دستک ہوئی پھر دروازہ کھل گیا اور حبشی شکل کی عورت اندر داخل ہوئی اس نے مجھے دیکھ کر کہا میڈم آپ کو اپنے کمرے میں بلا رہی ہیں ادھر بیٹھ کر کافی پی لیں۔۔۔​

میں اٹھتے ہوئے بولا میرے کپڑے اٹھا کر ملازمہ کو دے دینا یا ملازمہ کو کہو لے جائے اور دھو دے۔۔۔۔​

اس نے گھور کر مجھے دیکھا اور واش روم کی طرف بڑھ گئی میں باہر نکل کر زیبا کے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔​

زیبا صوفے پر بیٹھی تھی اور اس کے سامنے ٹیبل پر بھاپ اڑاتی کافی پڑی ہوئی تھی اور ساتھ کچھ سنیکس تھے۔۔۔۔​

زیبا نے ایک ڈھیلی ڈھالی سی نائٹی پہنی ہوئی تھی جو درمیان سے ڈوری کی مدد سے بندھی ہوئی تھی۔۔۔۔​

میں نے غور کیا تو اس کے نپل بھی نائٹی کے نرم کپڑے میں اپنا ابھار بنائے ہوئے تھے۔۔۔۔​

میں اس کے جسم کا جائزہ لیتے ہوئے اس کے ساتھ صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔​

اس نے کافی کا مگ میری طرف بڑھایا اور ساتھ سنیکس کی پلیٹ بھی ۔۔۔۔​

میں نے صرف کافی پینے پر اکتفا کیا اور کہا کھانے کے لیے صرف یہ چیزیں ہی نہیں چاہئیں اور بھی بہت کچھ کھانے کے لیے ضروری ہے۔۔۔۔​

وہ مسکرا دی اور بولی باقی چیزیں کھانے کے لیے بھی انرجی کی ضرورت ہوتی ہے جو پیٹ کی آگ بجھائے بغیر نہیں ملتی۔۔۔۔​

آگ بجھانے کے لیے بھی آگ جلانا پڑتی ہے پیٹ کی آگ تو ویسے ہی بجھ سکتی ہے لیکن دوسری آگ کے لیے کھانا اور چوسنا ضروری ہے، میں نے اس کی بات کا جواب دیتے ہوئے اس کو اوپر سے نیچے سے غور سے دیکھا ۔۔۔۔​

اس نے شرما کر سر جھکا لیا اور ہلکی سی مکی میرے کندھے پر ماری۔۔۔۔​

میں نے اس کی اس حرکت کو بڑا انجوائے کیا ہلکی ہلکی چسکیاں لے کر میں نے کافی ختم کی۔۔۔​

اس نے بھی کافی ختم کرکے میری طرف دیکھا جیسے پوچھ رہی ہو اب کیا ارادہ ہے ۔۔۔۔​

میرا تو لن ٹراوزر پھاڑ کر باہر نکلنے کو بیتاب تھا اس کی نظر میری گود میں گئی تو اس نے نظر پھیر لی۔۔۔۔​

کچھ لمحات اسی طرح گزر گئے، میں نے ہی پہل کرنے کا سوچا اور اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔۔۔​

وہ اسی طرح سر جھکائے بیٹھی رہی میں نے ہاتھ اٹھا کر اپنے ہونٹوں سے لگایا اور چوم لیا۔۔۔۔​

اس نے ہاتھ چھڑوانے کی کوشش نہ کی اسی طرح بیٹھی رہی۔۔۔۔​

ہاتھ چومنے کے بعد میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اس کو اپنی طرف گھما لیا۔۔۔۔​

اس کے گھومنے سے نائٹی کھنچ گئی اور اس کے مموں کی کلیویج واضح ہونے لگی۔۔۔۔​

اس کے مموں کے درمیان کی لکیر ایسی تھی جیسے دودھ کے پہاڑوں کے درمیان کوئی ندی بہہ رہی تھی۔۔۔۔​

بالکل سفید نکھرے نکھرے سے ممے اوپر سے نزاکت میں ایسا لگ رہا تھا جیسے ان کا کوئی ثانی نہ ہو۔۔۔۔​

میں نے اس کی پیشانی پر کس کیا اور اس کو گلے لگا لیا۔۔۔۔​

اس نے بھی اپنے بازو میری کمر پر رکھ دئیے اور مجھے اپنی باہوں میں بھر لیا۔۔۔۔​

اس کے سینے کا زیروبم مجھے اپنے سینے میں محسوس ہونے لگا۔۔۔۔​

اس کے جسم سے اٹھتی سوندھی خوشبو میرے اندر انگار بھر رہی تھی اس کے گال جو میری گردن کو چھو رہے تھے میرے جسم میں بجلیاں دوڑا رہے تھے۔۔۔۔​

میں اس کو اپنے اوپر لیتے ہوئے پیچھے کو گر گیا وہ صوفے پر سیدھی ہو گئی اور اس کی پھدی عین میرے لن کے اوپر آ لگی۔۔۔۔​

اس کے ممے میرے سینے میں دھنس گئے اس کے ہونٹ میری گردن پر لگے ہوئے تھے۔۔۔۔​

میں نے ہاتھ اس کی کمر پر رکھے اور پھیرتے ہوئے اس کی گانڈ تک لے گیا اس کے جسم نے جھرجھری سی کھائی اور پھدی کو لن پر دبایا۔۔۔۔​

اس کا منہ کھلا اور میرے گردن پر زبان رکھ کر چاٹنے لگی۔۔۔۔​

میں نے ہاتھ پھیرنا جاری رکھا اور نیچے سے لن کو بھی کسی نہ کسی طرح پھدی سی رگڑتا رہا۔۔۔۔​

میرے ہاتھوں نے کمال دکھانا شروع کر دیا تھا زیبا گردن سے ہٹ کر میرے چہرے پر آ گئی تھی اور گال چوم رہی تھی۔۔۔۔​

اس کا نچلہ دھڑ مسلسل حرکت میں تھا اور لن کے ابھار پر رگڑ رہا تھا۔۔۔​

میرے ہاتھ اس کی گانڈ کی پھاڑیوں کو دبا رہے تھے ،اسی دوران اس کے ہونٹ جب میرے ہونٹوں کے قریب آئے تو میں نے سر اوپر اٹھایا اور ہاتھ اس کے سر کے پیچھے رکھ کر اس کے ہونٹ چوم لیے۔۔۔۔​

اس کے ہونٹوں کو چومتے ہی وہ بے بس ہو گئی اور میرے ہونٹوں پر ٹوٹ پڑی۔۔۔۔​

پھر کسنگ کا ایک سلسلہ شروع ہوا جو اگلے پانچ منٹ تک جاری رہا ۔۔۔​

اس نے اپنی دونوں ٹانگیں میرے دائیں بائیں رکھ لی تھیں پتہ نہیں کیسے لیکن کر چکی تھی اور پھدی کو زور زور سے لن پر مسل رہی تھی اور ہونٹ چوستی جا رہی تھی۔۔۔۔​

میں نے بھی اس کا ساتھ دے رہا تھا زبانوں کی لڑائی شروع ہو گئی اور ایک دوسرے کا تھوک گلے میں اتارنے لگی۔۔۔۔​

اس کے انگ انگ میں اک اک ادا میں سیکس بھرا ہوا تھا اس کا جوش اس کی تپسیا کا منہ بولتا ثبوت تھا۔۔۔۔​

وہ پھدی مروانے کے لیے کتنا تڑپی ہو گی اس کی اداؤں کو دیکھ کر اندازہ ہو رہا تھا۔۔۔۔​

پھر یکدم جیسے بھونچال آ گیا اس نے پھدی کو لن پر مارنا شروع کر دیا اس کے منہ سے بے حساب بے ربط جملے نکلنے لگے۔۔۔۔​

اس نے لن کو ٹراوزر سے باہر نکالا اور اپنی نائٹی اوپر کرکے لن پر پھدی رگڑنے لگی۔۔۔۔​

میرے کندھے پر دانت گاڑھ دئیے اور مموں کو بھی سینے پر رگڑنے لگی۔۔۔​

اس چند منٹ کے عمل نے اس کو بے بس کر دیا اور وہ نڈھال ہو کر میرے اوپر گر سی گئی اور لمبے لمبے سانس لینے لگی۔۔۔​

کچھ دیر اس کو ایسے ہی لیٹنے دیا جب اس کی سانس کچھ نارمل ہوئی تو میں نے اس کو اٹھا کر نیچے کر لیا اور خود اس کے اوپر آ گیا۔۔۔۔​

نائٹی کی ڈوری کھول دی اس کا چمکتا گورا سفید سڈول جسم ایک دم کسے ہوئے ممے جو دودھ کے سفید پہاڑ لگ رہے تھے۔۔۔​

اس کے حسین مموں اور سڈول پیٹ کو دیکھ کر میری آنکھیں چندھیا گئیں ۔۔۔​

بڑی بڑی حسین لڑکیوں کے جسم سے کھیل چکا تھا لیکن ایسا حسین جسم ایسا کھنکھناتی مٹی جیسا بدن کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔​

صاف شفاف جسم کو دیکھ کر ہاتھ لگانے سے ڈر لگ رہا تھا کہ کہیں میرے چھونے سے میلا نہ ہو جائے۔۔۔​

میں پیٹ پر جھکا اور اپنی زبان ناف پر رکھ دی اور گول گول گھمانے لگا۔۔۔۔​

میری زبان گہری ناف میں گھوم رہی تھی زیبا کا ہاتھ میرے سر پر تھا اس کا پیٹ اوپر نیچے ہو رہا تھا۔۔۔۔​

میں نے جی بھر کر ناف کو چوسا پھر اوپر کی طرف سفر شروع کر دیا۔۔۔۔​

زبان کو گورے بدن پر پھیرتے ہوئے میں مموں کے پاس پہنچ گیا ۔۔۔​

میں نے ابھی تک اس کے ننگے بدن پر ہاتھ نہیں لگایا تھا۔۔۔​

مموں کے درمیان میں زبان پھیرنے لگا مموں کی اندر والی سائیڈ کو بھی زبان سے چاٹنے لگا۔۔۔۔​

زیبا کے دونوں ہاتھ میرے سر پر تھے میرا لن جھٹکے کھانے لگا تھا۔۔۔۔​

میں نے زبان کی مدد سے ایک ممے کے چاروں طرف چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔۔​

مموں کے نیچے اوپر ہر طرف زبان پھیرتا گیا زیبا ایک بار پھر سے تڑپنے لگی تھی۔۔۔​

اس نے ایک ہاتھ میرے سر پر رکھا اور دوسرے سے میرے لن کو پکڑ لیا۔۔۔​

لن ہاتھ میں آتے ہی اس کو ایک جھٹکا لگا اس نے رک کر لن کی موٹائی کا اندازہ لگایا پھر اوپر سے لے کر نیچے تک لن کی لمبائی ماپی۔۔۔​

میں نے سر اٹھا کر زیبا کی طرف دیکھا زیبا کی آنکھوں میں حیرت تھی۔۔۔​

میں مموں پر جھکا اور زبان اس کے دائیں ممے کے نپل پر رکھ دی اور نپل سے کھیلنے لگا۔۔۔۔​

زبان کو نپل پر پھیرتا اور پھر گول گول گھماتا زیبا سسکنے لگ گئی۔۔۔​

اس کا ایک ہاتھ جو میرے سر پر تھا مجھے ممے پر دبانے لگا دوسرا ہاتھ لن پر سخت ہو چکا تھا اور اس نے لن کو کھینچنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔​

ایک ممے کے نپل سے کھیلنے کے بعد میں نے دوسرے ممے کی طرف رخ کیا اور اس کے نپل پر زبان گھماتے ہوئے ایک ہاتھ اس کی پھدی پر رکھ دیا۔۔۔۔​

زیبا نے خود پر قابو کھوتے ہوئے لن کو مروڑنا شروع کر دیا اور مجھے اپنے اوپر دبا لیا۔۔۔۔​

میرا منہ اس کے ممے پر دب گیا میں نے منہ کھولا اور مما چوسنے لگا، ساتھ ساتھ پھدی کے ساتھ چھیڑخانی جاری رکھی۔۔۔۔​

پھدی کے لبوں کو مسلتے ہوئے انگلی کو لمبائی کے رخ میں پھدی کے اندر پھیرتا جس سے زیبا دونوں ٹانگوں کو آپس میں جوڑ لیتی۔۔۔​

مما چوستے ہوئے ہی میں نے شرٹ اتار دی اور پاؤں کی مدد سے ٹراوزر بھی نیچے کر دیا۔۔۔۔​

ایک مما اور پھر دوسرا مما چوسنے لگا زیبا نے دونوں ہاتھ کی مدد سے مجھے اپنے اوپر کھینچ لیا اور ٹانگیں اٹھا کر کھول لیں۔۔۔۔​

زیبا کی مچلتی پھدی تھرتھراتا جسم لرزتے ہونٹ میرا جوش بڑھا رہے تھے۔۔۔​

لن کی ٹوپی پھدی کے لبوں پر تھی زیبا نیچے سے گانڈ اٹھا کر لن لینا چاہتی تھی لیکن میں ابھی اور بہت کچھ کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔​

میں نے اس کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھے اور چوسنے لگا ہونٹ چوستے ہوئے میں ایک بار پھر نیچے آنے لگا۔۔۔۔​

مموں کو چومتے ہوئے پیٹ پر آیا پھر پھدی کے پاس آیا اور پھدی کے ارد زبان پھیرنے لگا۔۔۔۔​

زیبا نے اب باقاعدہ اچھلنا شروع کر دیا اس کی سسکیاں اب آہوں میں بدل چکی تھیں۔۔۔۔​

میں اوپر اٹھ کر بیٹھا اور زیبا کی طرف دیکھتے ہوئے اس کی ٹانگوں کو اٹھا لیا۔۔۔۔​

زیبا نے سانس روک کر میری طرف دیکھا اور التجائیہ نظروں سے دیکھنے لگی کہ اب ڈال دو اور نہ تڑپاو۔۔۔۔​

پھدی پر ہاتھ پھیرا پھدی پانی سے بھری ہوئی تھی پھدی لال بھبھوکا ہو چکی تھی اور پانی کے قطرے موتیوں کی طرح لبوں پر چمک رہے تھے۔۔۔۔​

میں ایک بار پھر اس کے اوپر لیٹ گیا اور ہونٹ چوسنے لگا۔۔۔​

زیبا نے ہاتھ نیچے لے جا کر لن کو پھدی کے لبوں میں گھسایا لیا اور اوپر ہو کر اندر لینے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔​

میں لن اندر جانے سے روکتے ہوئے اپنا سینہ اس کے مموں کے ساتھ مسلنے لگا افففف کیا مزہ تھا۔۔۔۔

Source link

Leave a Comment