لن اندر جانے کو بیتاب تھا زیبا پھدی میں لن لینا چاہتی تھی ایک میں تھا جو لن کو صرف پھدی کے لبوں تک ہی محدود رکھے ہوئے تھا۔۔۔۔
زیبا کی جان اٹکی ہوئی تھی لن کی ٹوپی پھدی کے پانی سے بھیگ چکی تھی۔۔۔
میں اس سب سے بے فکر ہو کر ہونٹوں کو چوسنے اور مخملی مموں پر اپنا سینہ رگڑنے میں مگن تھا۔۔۔۔
زیبا نے لن کو کس کر ہاتھ میں پکڑا پھدی پر ٹکایا اور نیچے سے اٹھ کر جھٹکا کھایا لن اندر گھسنے کی بجائے لمبا ہو کر پھدی کے لبوں میں پھرتے ہوئے اوپر نکل گیا۔۔۔۔
زیبا کو تو مزہ آیا یا نہ آیا لیکن مجھے بڑی چس آئی میں نے اسی انداز میں لن کو لبوں میں پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔۔
موٹا لن پھدی کے دانے کو رگڑتے ہوئے جب اوپر کو جاتا تو زیبا کے ناخن میرے کمر میں کھب جاتے۔۔۔۔
اتنا سب کچھ ہو چکا تھا لیکن ابھی تک میں نے اس کے مر مریں جسم کو ہاتھ سے نہیں چھوا تھا۔۔۔۔
لبوں سے چوم کر چوس کر اس کے حسن کو نہار رہا تھا، میرے لب میری زبان اس کے جسم کی خوبصورتی اور نزاکت کو خراج پیش کر رہے تھے۔۔۔
زیبا کی مچلتی اداؤں لن لینے کی تڑپ مجھے اس کو اور تڑپانے پر مجبور کر رہی تھیں۔۔۔۔
زیبا نے میرا چہرہ دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور لرزتے ہونٹوں سے کہا پلیز اب اور نہ تڑپاو اب دونوں کا سنگم کروا دو ، اب اور برادشت نہیں ہوتا میری بس ہو گئی ہے اندر جلن رہا ہے۔۔۔۔۔
مجھے اس کی التجا اچھی لگی میں نے تھوڑا سا اٹھ کر لن کو جو کہ فل تنا ہوا تھا پھدی کے لبوں میں سیٹ کیا۔۔۔۔
زیبا نے ہاتھ سے سوراخ پر رکھا میں نے اپنا اینگل درست کیا زیبا نے ٹانگیں اور کھول دیں ۔۔۔۔
میں نے لن پر دباؤ بڑھایا لن کی ٹوپی اندر اتر گئی زیبا کے منہ سے سکون بھری آہ نکلی۔۔۔۔
لن کی موٹی ٹوپی اندر جاتے ہی میرا لن پھٹنے والا ہو گیا مجھے ایسا لگا جیسے آگ کی انگیٹھی میں لن گھس گیا ۔۔۔۔
اس کی پھدی جل رہی تھی اس میں آگ کے شعلے دہک رہے تھے۔۔۔
چند سیکنڈ رکنے کے بعد میں نے ہلکا سا جھٹکا دیا لن کچھ اور اندر گھس گیا۔۔۔۔
زیبا نے مجھے کس کر پکڑ لیا ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں جکڑ لیا اور چوسنے لگی ۔۔۔
میں نے کچھ لمحے رک کر پھر جھٹکا دیا اور لن مزید اندر گھسا دیا زیبا کا جسم اکڑنے لگا۔۔۔۔
میں نے لن کو تھوڑا سا پیچھے کھینچا اور پھر زور کا گھسا مارا لن آدھے سے زیادہ اندر گھس گیا۔۔۔۔
زیبا کے جسم نے ایک جھٹکا کھایا اور اس نے ٹانگوں کی قینچی بنا کر مجھےجکڑ لیا اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں کو جکڑے ہوئے تھے پھدی نے لن کو جکڑ لیا ۔۔۔
اگلے ہی لمحے پھدی نے برسات شروع کر دی جس سے میرا لن جتنا اندر تھا نہانے لگا۔۔۔۔
زیبا نے پورے جوش سے ہونٹوں کو کاٹ رہی تھی نیچے سے اچھل اچھل کر پانی چھوڑ رہی تھی۔۔۔
چند سیکنڈ میں ہی اس کی تڑپ ختم ہو گئئ اور میری تڑپ بڑھ گئی۔۔۔
اس کا جسم ڈھیلا ہوا تو میں نے لن کو اندر باہر کرنا شروع کر دیا، آہستہ آہستہ سارا لن اندر ہو چکا تھا۔۔۔
زیبا اب بس لیٹی ہوئی مزے لے رہی تھی میں نے اس کے اوپر جھک کر مموں کو منہ میں لیا اور باری باری دونوں کے نپل کو منہ میں لے کر گھسے مارنے لگا۔۔۔۔
کچھ دیر کی محنت کے بعد زیبا نے ایک بار پھر ساتھ دینا شروع کر دیا۔۔۔۔
اس نے میرے دونوں ہاتھ پکڑے اور اپنے مموں پر رکھ دئیے اور دبانے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
میں نے ممے پکڑ کر گھسوں کی مشین چلا دی،پانچ منٹ میں ہی زیبا کا چہرہ لال ہو چکا تھا اس کے ہونٹ خشک ہو گئے تھے وہ بول نہیں پا رہی تھی۔۔۔۔
اس نے ٹانگوں پر ہاتھ رکھ کر کہا درد کر رہی ہیں، میں نے ٹانگیں نیچے کر دیں اور سیدھا لیٹ کر اچھل اچھل کر لن گھسانے لگا۔۔۔۔
زیبا بھی پورے مزے میں تھی اور میں نے بھی اب جوش کی بلندیوں کو چھو رہا تھا۔۔۔۔
میرا لن بھی پھول چکا تھا لن کی نسیں پھٹنے والی ہو چکی تھیں۔۔۔
پھدی ایک بار پھر آگ برسانے کو تیار تھی تو لن بھی اپنا لاوا اگلنے کو بے کراں تھا۔۔۔
میں نے جھٹکے مارنے جاری رکھے اور مموں کو مسلتا گیا۔۔۔
جب فارغ ہونے کے قریب آگیا تو اس کی ٹانگوں کو اٹھا کر مموں کے ساتھ لگا لیا اور ایسے جھٹکے مارے کہ صوفہ بھی چیخنے لگا۔۔۔۔
زیبا کی چیخوں کی تو انتہا ہی نہیں تھی لن جب اندر تک جاتا تو ایسا لگتا جیسے کسی چیز میں گھس جاتا ہو۔۔۔
لن کی تباہیاں جاری تھیں پھدی کے اندر بچہ دانی کو تہس نہس کر رہا تھا۔۔۔
لن کی ٹوپی بچہ دانی کے اندر تک گھس رہی تھی ۔۔۔
زیبا کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا تھا میں اب کسی بات کی پرواہ نہیں کر رہا تھا۔۔۔
لن کی ساری نسیں پھول چکی تھیں ہر گھسے کے ساتھ لن پھدی کی دیواروں مے ساتھ رگڑ کھاتے ہوئے میرا بلڈ پریشر بڑھا رہا تھا۔۔۔۔
مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی آگ میرے لن کی ٹوپی کی طرف بڑھ رہی ہو۔۔۔۔
لن جل رہا تھا پھدی کی گرمی بھی میرے دماغ پر چڑھ چکی تھی۔۔۔۔
میرے منہ سے بھی آہہہہ آہہہہپ اففگگف کی آوازیں نکل رہی تھی اور مموں پر میرے ہاتھوں کی گرفت سخت سے سخت تر ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔
پھر ایک دم میرا جسم اکڑ گیا میں نے چند آخری گھسے اتنے زور کے مارے کہ زیبا چیخ اٹھی ۔۔۔
لن کو پھدی کی گہرائی میں روک کر میں اس کے اوپر گرتا چلا گیا اور پھر ایک دم لن کی ٹوپی سے آگ جیسا لاوا نکلا مجھے لن جلتا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔
پورے زور سے زیبا کی بچہ دانی میں ٹکرایا اور زیبا نے آہہہہ کی اور اپنی چاہیں پھیلا کر مجھے اپنے سینے پر لٹا لیا ۔۔۔۔
اگلے دو منٹ تک ہم ایسے ہی ایک دوسرے کے جسم میں ڈوبے لیٹے رہے۔۔۔۔
زیبا جب پر سکون ہو گئی تو اس کی گرفت ڈھیلی ہوئی اس نے میرے کندھے پر کس کی میں اس کے اوپر سے اتر کر اس کے ساتھ ترچھا ہو کر لیٹ گیا۔۔۔۔
چند لمحے اسی طرح گزر گیے زیبا کا ہاتھ میرے سینے پر رینگتا رہا اس نے آنکھیں بند کی ہوئی تھیں ۔۔۔۔
میں نے اس کے ہونٹوں پر ہلکی سی کس کی اور اٹھ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
زیبا نے یکدم آنکھیں کھول کر سوالیہ نظروں سے میری طرف دیکھا۔۔۔۔
میں نے کہا میرا خیال ہے مجھے اب اپنے کمرے جانا چاہئیے صبح ہو چکی ہے آرام بھی ضروری ہے۔۔۔۔
زیبا نے شکایتی انداز میں کہا یہاں ہی سو جاؤ ۔۔۔۔
میں نے کہا گھر میں ملازم ہیں اور پھر دن میں کوئی اور بھی آ سکتا ہے اس لیے ہمیں الگ الگ سونا چاہئیے۔۔۔۔
زیبا اٹھ کھڑی ہوئی میرے گلے میں باہیں ڈال کر میرے گال پر کس کرتے ہوئے کہا وہ میرے ملازم ہیں میری اجازت کے بنا اوپر نہیں آتے اور تم کمرے کی بات کر رہے ہو، ان کی تم فکر نہ کرو وہ دو عورتیں ہی تو ہیں، ہاں اگر تمہارا اپنا دل نہیں ہے تو کوئی بات نہیں۔۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ گھوم کر کھڑی ہو گئی، میں نے پیچھے سے اس کے ساتھ لگتے ہوئے اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے اور اس کے کان میں کہا دل تو کر رہا ہے ساری زندگی تمہارے جسم کی حدت سے خود کو مساج دیتا رہوں، میرے دل میں مچلتے جذبات میرے پورے جسم میں بھونچال لا چکے ہیں۔۔۔۔
میرا روم روم چیخ کر کہہ رہا ہے صائم اس کو حسین مورت کو اتنا پیار کرو کہ اس کی اتنے سالوں کی پیاس بجھ جائے یہ بھول جائے کہ اس کو کبھی کسی نے چھوا بھی تھا اس کو یاد رہے تو بس اتنا کہ کوئی اس کے لیے مرتا ہے، اس کے حسن کو پوجتا ہے، اس کے جسم کی نزاکت کا تہہ دل سے معترف ہے۔۔۔۔
میں کچھ اور بھی بولنا چاہتا تھا اس نے گھوم کر میرے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں سے بند کر دیا اور کسنگ کرنے لگی۔۔۔۔
دو ننگے جسم ایک بار پھر سے ایک دوسرے میں پیوست ہونے لگے۔۔۔۔
اس کی پرجوش کسنگ نے اور مموں کے سینے پر لگنے نے لن کو پھر سے تن جانے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔
لن سخت ہو کر اس کی ٹانگوں میں گھس چکا تھا اور زیبا اوپر کو اٹھ کر پھدی کو لن کے سامنے لا کر لن کے ساتھ رگڑ رہی تھی۔۔۔۔
میرے ہاتھ اس کی کمر کی پیمائش کرتے ہوئے گانڈ کی پھاڑیوں کو مسلنے لگے۔۔۔۔
پھدی پر لن رگڑ کھانے لگا تو میں نے بھی آہستہ آہستہ چودنے کے انداز میں لن ٹانگوں میں اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔
زیبا جسامت کے لحاظ سے بڑی فٹ تھی اس پر موٹاپا نہیں تھا فربا جسم ضرور تھا لیکن سخت تھا۔۔۔۔
گانڈ کی پھاڑیوں کو الگ کرتے ہوئے میں نے انگلی گانڈ کی دراڈ میں پھیرنا شروع کر دی۔۔۔۔۔
زیبا بڑے جوش سے ہونٹ چوس رہی تھی اسی طرح مجھے دھکیلتے ہوئے بیڈ کے قریب لے آئی۔۔۔
اپنی ایک ٹانگ بیڈ پر رکھی اور لن کو ہاتھ سے پکڑ کر پھدی پر رگڑتے ہوئے ٹوپی پھدی کے لب میں پھیری اور پھر سوراخ پر سیٹ کرکے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور آہستہ آہستہ لن اندر لینے لگی۔۔۔۔
ٹوپی اندر اتر گئی تو اس نے دونوں ہاتھ میرے کندھے پر رکھے اور ہونٹ کو اپنے ہونٹوں میں لے لیا۔۔۔۔
پھر آہستہ آہستہ دباؤ بڑھانے لگی آہستہ آہستہ لن اندر اترنے لگا۔۔۔۔
میں نے اس کی گانڈ کے نیچے ہاتھ رکھا اور اس کو تھوڑا سا اوپر کرکے ہلکا سا گھسا مارا۔۔۔۔
میرے گھسے سے لن آدھا اندر اتر گیا اور زیبا کے منہ سے آہہہہہ نکلی۔۔۔۔
میں نے زیبا کی گانڈ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر ایک اور زور دار گھسہ مارا لن سارا اندر گھس گیا اور زیبا کا سر میرے کندھے پر ٹک گیا اور آہیں بھرنے لگی۔۔۔۔
میں نے اسی وقت ایک ہاتھ سے اس کی وہ ٹانگ جو بیڈ پر رکھی ہوئی تھی اٹھا لی دوسرے ہاتھ سے اس کی کمر کو پکڑ لیا اور پھر زور زور سے گھسے مارنے لگا۔۔۔۔
اس پوزیشن میں زیادہ زور سے گھسے نہیں مارے جا سکتے تھے پھر توازن بھی برقرار رکھنا پڑ رہا تھا۔۔۔۔
زیبا کو میں نے گانڈ کے نیچے ہاتھ رکھ کر اٹھا لیا اور گھما کر دیوار کے ساتھ لگا کر گھسے مارنے لگا۔۔۔۔
زیبا کی چیخیں نکل گئیں مجھ پر جنون سوار ہو گیا تھا اس کی ایک ٹانگ کو کندھے پر رکھ لیا تھا اور دوسری نیچے زمین پر لگی ہوئی تھی۔۔۔۔
اس پوزیشن میں ترچھا لن پھدی کی گہرائی تک گھس رہا تھا جس سے پھدی کو بڑی زیادہ رگڑ لگ رہی تھی۔۔۔۔
زیبا کی جلد ہی بس ہو گئی اس نے مجھے روکتے ہوئے کہا پلیز بس کر جاو اب اور نہیں برداشت ہو رہا۔۔۔۔
میں نے لن نکالا اور اس کو بیڈ پر گھوڑی بنا لیا، میں نے زیبا کو بیڈ کے کنارے کھڑا کر کے جھکایا تھا اس کے پاؤں فرش پر تھے اور ہاتھ بیڈ پر تھے۔۔۔۔
پیچھے اس کی ٹانگوں کو کھول کر پھدی پر لن رکھا اور زور دار گھسا مارا زیبا آگے گر گئی ۔۔۔۔
اس کے منہ کافی اونچی آواز میں چیخ نکلی تھی میں نے اس کو کمر سے پکڑ کر پھر واپس اسی پوزیشن میں کیا اور گانڈ کے قریب سے دونوں طرف سے پکڑ کر اسی سپیڈ سے ایک بار پھر گھسا مارا۔۔۔۔
زیبا کی چیخ کے دوران لن اندر گھس گیا اور پھر میں نے آؤ دیکھا نہ تاؤ اندھا دھند گھسے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔۔
ایک منٹ میں ہی زیبا کی آہ وبکا شروع ہو گئی۔۔۔
اس نے چیخنا شروع کر دیا تھا آہہہ مر گئی پلیززززز بس کرو آہہہہہ اففففف صائم بس کر دو ناں آہہہہ آاااااہہہ اوووئییی ۔۔۔۔
ہاں یسسسس ایسے ہیییی کرو یسس یس یس یس سئیییی۔۔۔۔
اس نے اپنی گانڈ کو پیچھے دھکیل کر لن لینا شروع کر دیا، اس کا جوش انتہا کو چھو رہا تھا۔۔۔۔
میں نے بھی گھسوں کی سپیڈ اور بڑھا دی جس طرح میں چود رہا تھا میں بھی اب فارغ ہونے کے قریب تھا۔۔۔۔
میں اس کے اوپر جھکا اور ہاتھ نیچے لے جا کر دونوں مموں کو ہاتھوں میں پکڑ کر گانڈ کے سوراخ کے نیچے سے پھدی میں لن گھانا جاری رکھا۔۔۔۔
اگلے دو منٹ میں زیبا فارغ ہو کر نیچے گر چکی تھی اور میں اس کے اوپر لیٹا اچھل اچھل کر پھدی مار رہا تھا۔۔۔۔
افففف لن جب اس کی موٹی گانڈ کی دراڈ میں سے ہوتا ہوا پھدی میں جاتا تو مزہ دوبالا ہو جاتا۔۔۔۔
گوشت بھری گانڈ کا مزہ پھدی کی ٹائٹنیس کا مزہ مجھے وحشی بنا رہا تھا میں نے اس کے کندھے پر دانت گاڑھ دئیے اور اتنی زور سے گھسے مارے کہ بیڈ ہلنے لگا۔۔۔۔
ایسے ہی پاگلانہ انداز میں چودتے ہوئے میں ایک بار پھر زیبا کی پھدی کو سیراب کرنے لگا۔۔۔۔
جسم ایک دم ہلکا پھلکا ہو گیا تھا میں فارغ ہو کر اس کے اوپر ہی لیٹ گیا اور نڈھال سا ہو کر نیند کی وادی میں ڈوبتا چلا گیا۔۔۔۔
پتہ کتنا وقت گزر گیا مجھے کوئی ہوش نہیں تھا میں بڑی گہری نیند میں سویا ہوا تھا۔۔۔۔
ساری ساری رات کی تھکان اور پھدی مارنے کے بعد ملنے والے سکون کی وجہ سے بڑی گہری نیند آئی تھی۔۔۔۔
جب آنکھ کھلی تو بیڈ پر خود کو اکیلے پایا میں جو زیبا کے اوپر لیٹا ہوا تھا اب اکیلا لیٹا تھا اور ٹراوزر پہنا ہوا تھا۔۔۔۔
کچھ دیر کسلمندی سے لیٹا رہا پھر اٹھا اور واش روم گھس گیا نہا کر تازہ دم ہوا اور باہر نکلا ۔۔۔۔
کچھ دیر کھڑا سوچتا رہا اب مجھے کیا کرنا چاہئیے پھر دروازہ کھول کر باہر نکلا اور اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔
اندر داخل ہو کر دیکھا تو بیڈ پر میرے کپڑے پڑے ہوئے تھے، میں نے کپڑے اٹھائے اور واش روم میں جس کر کپڑے بدل لیے۔۔۔۔
پھر نیچے اترا تو سامنے ہی لاونج میں زیبا بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
مجھے دیکھ کر مسکرا دی اور ملازمہ کو آواز دی کہ جوس لے آؤ۔۔۔
میرے بیٹھنے تک ملازمہ جوس لے آئی تھی میں نے جوس پیا اور زیبا کی طرف دیکھنے لگا وہ مسکرا کر بولی کیا بات بڑا غور سے دیکھ رہے ہو۔۔۔۔
میں نے کہا ایسے ہی دیکھ رہا تھا آج کچھ بدلاو سا ہے تمہارے روپ میں۔۔۔۔
زیبا نے مسکرا کر دائیں بائیں دیکھا اور آہستہ سے بولی چپ پہلے ہی ملازمہ مجھے دیکھ کر مسکرا رہی تھی اس کو ڈانٹ کر چپ کروایا ہے مجھے لگتا ہے اس کو شک ہو گیا ہے۔۔۔۔
میں نے ہممم کیا اور ملازمہ کی طرف دیکھا جو کچن میں کھڑی کام کر رہی تھی اس کا پچھواڑہ کافی بھاری تھا موٹی گانڈ کسی کا بھی لن کھڑا کرنے کے لیے کافی تھی۔۔۔۔
میں نے زیبا کو کہا کچھ کھانے کے لیے بھی منگوا دو پیٹ میں کتوں کی ریس شروع ہو چکی ہے یہ نہ ہو کہ کتے ایک دوسرے کو کاٹنا شروع کر دیں۔۔۔۔
زیبا نے ہنسی نکل گئی اس نے ملازمہ کو آواز دی میں نے کچن میں ملازمہ کی طرف دیکھا۔۔۔۔
ملازمہ جب وہاں سے نکلی تو اس کو میں نے غور سے دیکھا اچھی خاصی خوبصورت شکل وصورت کی تھی متناسب جسم بھرا ہوا چوڑا سینہ جس کی کشادگی کی وجہ اس کے پھیلے ہوئے ممے تھے۔۔۔۔۔
میری نظروں کو شاید ملازمہ نے محسوس کر لیا تھا اس لیے اس نے دوپٹہ مزید ٹھیک کرکے مموں کو ڈھانپنے کی کوشش کی جو کہ پہلے ہی قمیض اور دوپٹے نے ڈھانپ رکھے تھے۔۔۔۔
زیبا نے ملازمہ کو کھانا لگانے کا کہا وہ جی بی بی جی کہتی ہوئی چلی گئی۔۔۔۔
میں اس کو جاتے ہوئے پیچھے سے اس کی گانڈ دیکھتا رہا جو دائیں بائیں مٹک رہی تھی۔۔۔۔۔
اس کی گانڈ کی شیپ چیخ چیخ کر اس بات کی دوہائی دے رہی تھی کہ مجھے کسی نے خوب جم کر بجایا ہے اور دل میرا مورا خوب کھول دیا ہے۔۔۔۔
مطلب اس کی گانڈ بھی کافی پانی پی چکی تھی خوب لن کے پانی سے سیراب ہو چکی تھی ۔۔۔۔
زیبا کی آواز سن کر میں ہوش کی دنیا میں واپس آیا ۔۔۔
زیبا نے کہا کیا ہوا کہاں کھو گئے ہو کہیں اس ملازمہ پر تو موڈ نہیں بن گیا جناب کا۔۔۔۔
اس نے یہ بات مذاق میں کی تھی لیکن میں نے سیریس ہو کر جواب دیا، آپ کو نہیں لگتا اس کی پچھواڑہ کافی کشادہ ہے کسی نے یا کئی لوگوں نے خوب مزے لوٹے ہیں اور اس نے بھی دل کھول کر مزے کروائے ہیں ۔۔۔۔
زیبا نے بھی گھوم کر کچن میں دیکھا اور بڑے غور سے اس کی گانڈ دیکھنے لگی پھر یکدم بولی صائم یہ کیا بول رہے ہو کچھ خیال کرو وہ میری ملازمہ ہے اور تم اس پر کی نظریں گاڑھے بیٹھے ہو۔۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا میرے تو دماغ میں ایسی کوئی بات نہیں تھی یہ تو آپ نے اس کا ذکر کیا تو میرا دھیان اس کی طرف گیا تو میں نے انداذہ لگایا کہ جو یہ سب کرتا ہو وہ ہی کسی کو پہنچان سکتا ہے کہ اس نے مروائی ہے۔۔۔۔
زیبا نے بڑے غور سے مجھے دیکھا اور بولی لگتا ہے تمہیں بڑا تجربہ ہے ان سب چیزوں کا۔۔۔۔
میں مسکرا دیا اور بولا ہاں کہہ سکتے ہیں تجربہ ہے کیونکہ میں نے اتنی سی عمر میں بڑا کچھ دیکھ لیا ہے۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ کچھ اور باتیں ہوتیں ملازمہ نے کھانا لگنے کا کہا ہم اٹھ کر ڈائننگ ٹیبل پر چلے گئے اور چپ چاپ کھانا کھایا۔۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد چائے پی اور پھر میں نے زیبا نے کہا میرا فون بند پڑا ہے کل کا اگر چارجر مل جائے تو ۔۔۔۔
زیبا نے میرا فون لیا اور دیکھ کر ملازمہ کو کہا اس کو چارجنگ پر لگا دو اور میرا فون لاؤ۔۔۔۔
رات ہو چکی اس کا مطلب میں سارا دن سوتا رہا تھا یا ہو سکتا ہے ہم سوئے ہی دن چڑھے تھے ۔۔۔
زیبا کی آنکھوں میں رت جگا صاف نظر آ رہا تھا اس کا چہرہ بھی اس کے جاگنے کے پیچھے کے راز کا اظہار کر رہا تھا۔۔۔۔
میں اور زیبا اٹھ کر لان میں آ گئے اور ایسے ہی ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگے اس نے میرے بارے کئی سوالات پوچھے جن کے میں نے جھوٹ کی ملاوٹ کے ساتھ جوابات دئیے۔۔۔۔
ہم کافی کلوز ہو گئے تھے ہمارے فرینکنیس بھی کافی ہو گئی تھی میں نے زیبا سے برملا کہہ دیا کہ اس کی ملازمہ کا منہ بند کرنے کے لیے مجھے اس کی پھدی اور گانڈ دونوں مارنی پڑیں گی۔۔۔۔
زیبا نے گھور کر مجھے دیکھا لیکن میں نے اس کی کوئی پروا نہ کی اور کہا دیکھو اگر اس کو شک ہے تو وہ کسی سے اس کا اظہار کر سکتی ہے جس سے وہ اظہار کرے گی وہ بھی کوئی نیچ انسان ہوگا میرا مطلب اس کے سٹیٹس کا کوئی ملازم ہی ہوگا،اب ملازم اپنے مالک کے ایسے رازوں سے واقف ہو تو مالک کا رعب ختم ہو جاتا ہے اس کے لیے ضروری ہے ملازم کو اس کی حیثیت پر رکھا جائے میں سمجھتا ہوں کہ اس ملازمہ کا علاج تو ہے ہی یہی، اس کی جسامت دیکھ کر صاف پتہ چل رہا ہے وہ کس کباش کی عورت ہے اس طرح کی عورتیں کئی لوگوں کو خوش کرتی ہیں اور لالچ میں کسی کا بھی راز افشاں کر دیتی ہیں۔۔
زیبا نے نیم رضامندی سے کہا وہ سب تو ٹھیک ہے لیکن اس کو راضی کیسے کرو گے۔۔۔۔
میں نے کہا میں راضی نہیں کروں گا بلکہ تم کرو گی اس سب کا انحصار تم پر ہے ۔۔۔۔
زیبا نے صاف انکار کرتے ہوئے کہا بالکل بھی نہیں میں کبھی بھی ایسا نہیں کروں گی۔۔۔
میں نے کہا نہ کرو میرا کیا جاتا ہے میں تو یہاں سے چلا جاؤں گا تمہارے ملازم ہیں تم پر انگلیاں اٹھائیں گے تمہارا رعب ختم ہو گا۔۔۔۔
اس نے سر جھکا کر کہا اچھا مجھے کچھ سمجھاؤ مجھے کیا کرنا ہو گا۔۔۔۔
میں نے کہا کچھ بھی نہیں بس ملازمہ کی ڈیوٹی لگا دو کہ میرا خیال رکھے رات کو بھی میرا کمرہ دیکھتی رہے بار بار کیونکہ تمہیں مجھ پر شک ہے میں کوئی گڑ بڑ نہ کر دوں، بلکہ یوں کہنا کہ وہ تمہارے کمرے میں سو جائے اور تم نیچے کسی اور کمرے میں سو جاؤ صرف یہ پتہ لگانے کے لیے کہ میں کیا کرنا چاہتا ہوں، اگر تم ایسا کرنے میں کامیاب ہو گئی تو صبح تک تمہاری ملازمہ ایک دم سیٹ ہو جائے گی، اس کے دونوں سوراخ سوج جائیں گے، اس بات کی تو تم بھی گواہی دو گی کہ میں کیسی مارتا ہوں ۔۔۔۔
زیبا چھی تمہیں ذرہ بھی شرم نہیں آتی کس طرح کی الفاظ بول رہے ہو۔۔۔۔
میں مسکرا دیا لو اب اس میں شرم والی کون سی بات ہے تم جانتی تو ہو سب۔۔۔۔
اس نے کہا اچھا بابا اچھا میں جانتی ہوں اب بتاؤ میں اس کو ایسا کون سا بہانہ لگاؤں کہ وہ میرے کمرے میں سونے کے لیے تیار ہو جائے ۔۔۔۔۔
میں نے کہا تم اس کو کہنا کہ تمہیں شک ہے کہ میں تمہارے کمرے رات کو آیا تھا اور تم ڈر گئی تھی وہ تمہاری وفا دار ملازمہ ہے اس کو پتہ لگانا ہے تم صرف اس پر بھروسہ کر رہی ہو کیونکہ تمہیں اس پر خود سے بھی زیادہ بھروسہ ہے۔۔۔۔
ملازمہ ہے اس بات پر خوش ہو جائے گی اور خوشی خوشی تمہارے کمرے میں سونے کے لیے تیار ہو بھی جائے گی، اس کو یہ بھی کہنا کہ نائٹی بھی پہن کر سوئے تاکہ پہچانی نہ جا سکے اور نائٹی کے نیچے کچھ نہ پہنے تاکہ کسی بھی قسم کے شک کی گنجائش نہ رہے ۔۔۔۔
اس کو یقین دلانا ہے کہ میں نے تمہیں رات کو سوتے ہوئے دیکھا ہے اور تمہیں پکا یقین ہے کہ اس رات بھی میں کمرے میں آوں گا اور اس نے صرف شور مچانا ہے اس کے بعد تم مجھے رنگے ہاتھوں پکڑ لو گی اور اپنے بندوں کے حوالے کر دو گی۔۔۔۔
زیبا نے کہا اگر اس نے سچ میں شور مچا دیا تو کیا ہوگا،لینے کے دینے نہ پڑ جائیں ۔۔۔۔
مجھ پر بھروسہ رکھو ایسا کچھ نہیں ہو گا میں نے اس کی ہوس بھری نظریں دیکھی ہیں وہ پہلے ہی چدوانے کے لیے تیار ہے اوپر سے تمہاری ذومعنی باتیں اس کو گرما دیں باقی کی رہی سہی کسر میں نکال دوں گا اور اس کی ۔۔۔۔
زیبا نے فوراً کہا بس بس سمجھ گئی تم کیا کرو گے ٹھیک ہے پھر آج تیار رہنا ، میں ابھی کچھ دیر کے لیے بازار جا رہی ہوں کچھ شاپنگ کرنی ہے کوئی ایسی ویسی حرکت نہ کرنا جس سے اس کو شک ہو جائے وہ اور تم اکیلے گھر پر ہو گے۔۔۔۔
زیبا کی یہ بات سن کر میرا تو دل باغ باغ ہو گیا لیکن میں نے اپنی خوشی اس پر ظاہر نہ ہونے دی۔۔۔۔
ہم اندر آئے زیبا نے کسی کو فون پر گاڑی لانے کا کہا اور خود اوپر کمرے میں تیار ہونے چلی گئی۔۔۔۔
میں اب غور کیا کہ اس کی گارڈ حبشی ٹائپ عورت نظر نہیں آ رہی تھی جو ہر وقت سائے کی طرح اس کے ساتھ چپکی رہتی تھی ۔۔۔۔
زیبا نے تیار ہو کر ملازمہ کو کہا میں بازار جا رہی ہوں کھانا بنانے کی ضرورت نہیں ہے ابھی کھایا ہے صاحب کا خیال رکھنا اگر کسی چیز کی ضرورت ہو تو ان کو دے دینا کسی قسم کی شکایت کا موقع نہ ملے ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا تم بہت کام چور ہو گئی ہو اور ہاں گارڈ بابا کو میں ساتھ لے کر جاؤں گی دروازہ اندر سے بند کر لو۔۔۔۔
ملازمہ نے کہا جی بی بی جی جیسا آپ کا حکم کوئی شکایت نہیں ہوگی صاحب کا پورا پورا خیال رکھوں گی۔۔۔۔
پتہ نہیں کیوں مجھے اس کی باتوں میں عجیب سی طنز کی جھلک نظر آئی جیسے کہہ رہی ہو جیسے آپ نے خیال رکھا ہے اس سے بڑھ کر خیال رکھوں گی۔۔۔۔
زیبا اور وہ باہر نکل گئیں میں صوفے پر نیم دراز ہو گیا اور لن کو مسلنے لگا تاکہ ملازمہ کے آنے تک ٹراوز پینٹ میں ابھار بن چکا ہو، میں اس کوشش میں کامیاب بھی ہو گیا کیونکہ جب وہ واپس آئی اور اس نے اندر والا دروازہ بند کیا تو میرا لن اس کے سینے کو دیکھ کر ہی تن گیا تھا۔۔۔۔۔
جب وہ واپس آئی تو اس نے دوپٹہ نہیں لیا ہوا تھا اس کا دوپٹہ مموں سے اترا ہوا تھا اور وہ دوپٹے کے پلو سے ہوا لے رہی تھی۔۔۔۔
میں اس کو دیکھتا ہی رہ گیا میرے اندر شیطان جاگ چکا تھا میں نے رات والے پلان کے برعکس ابھی عمل کرنے کا سوچا۔۔۔۔
ملازمہ نے میری نظروں کو محسوس کر لیا تھا اس لیے اس نے پوچھا صاحب جی کیا ہوا اس طرح کیوں دیکھ رہے ہو۔۔۔۔
میں نے کہا میں دیکھ رہا ہوں تم کتنی مکمل عورت ہو کسی بھی طرح سے ملازمہ نہیں لگتی بلکہ تم تو اس گھر کی مالکن لگتی ہو۔۔۔۔
اس نے نخوت سے کہا چھوڑیں صاحب جی آپ بھی ناں پتہ نہیں کیا بول رہے ہیں میں اس گھر کی ملازمہ ہوں اور یہ ہی بات سچ ہے آپ بتائیں کسی چیز کی ضرورت ہے تو ۔۔۔۔
میں نے آہستہ سے کہا مجھے تمہاری ضرورت ہے ۔۔۔۔
اس نے کہا کیا مطبل صاحب جی میری ضرورت ہے میری کیسے ضرورت ہے آپ کو ، آپ ٹھہرے بڑے لوگ میری جیسی غریبنی کی کس کو ضرورت ہو سکتی ہے بھلا ۔۔۔۔
میں نے مسکرا کر کہا ضرورت تو ہے اب تم سمجھو نہ سمجھو اور تم بھلے دولت مند نہ ہو لیکن حسن کی دولت سے مالا مال ہو اگر تمہیں اچھے کپڑے پہنا دئیے جائیں تو بالکل ملکہ لگو گی۔۔۔۔
میری باتوں کا اس پر اثر ہوتا نظر آنے لگا تھا کیونکہ اس نے شرمانا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔
اس نے کہا کم غریبوں کیا ایسی اوقات نہیں کہ اچھے کپڑے پہن سکیں یہ تو بی بی جی کہ مہربانی ہے کہ پرانے کپڑے دے دیتی ہیں اور میرا اپنا بدن ڈھک لیتی ہوں ورنہ پتہ نہیں میری کیا حالت ہوتی۔۔۔۔
میں نے کہا تمہیں یقین نہیں آیا میری بات کا تو ابھی آزما کر دیکھ لیتے ہیں ۔۔۔۔
اس نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور بولی کیسے ۔۔۔۔
میں نے کہا وہ اس طرح کہ تم زیبا میڈم کے کپڑے پہن کر خود ہو شیشے میں دیکھو سب کچھ واضح ہو جائے گا، تم زیبا میڈم سے زیادہ خوبصورت لگو گی وہ بھی صرف کپڑوں کی وجہ سے ہی خوبصورت لگتی ہیں ورنہ وہ بھی تمہاری طرح عام سی نظر آتیں، تم تو عام کپڑوں میں بھی خاص لگتی ہو اگر وہ پہن لیں تو بالکل بھی پہچانی نہ جائیں ۔۔۔۔
ملازمہ نے ڈرتے ڈرتے کہا نہیں میں نہیں پہنوں گی ان کے کپڑے اگر ان کو پتہ چل گیا تو میری کھال ادھیڑ دیں گی۔۔۔۔
میں نے کہا ان کو کون بتائے گا یہاں میرے اور تمہارے علاوہ کون ہے ، میں تو بتاؤں گا نہیں اور تم اگر بتاؤ گی تو اپنا نقصان کرو گی۔۔۔۔
اس نے کہا ہاں بھی ہے اچھا اگر میں پہنوں تو آپ سچ میں نہیں بتائیں گی بی بی جی کو۔۔۔۔
میں نے کہا تمہارے حسن کی قسم میں نہیں بتاؤں گا۔۔۔۔
اس نے شرماتے ہوئے کہا چل جھوٹا ۔۔۔۔
وہ یہ کہہ کر سیڑھیوں کی طرف بڑھ گئی اور پیچھے مڑ دیکھتے ہوئے بولی میری مدد نہیں کرو گے کہ کونسا سوٹ پہنوں ۔۔۔۔
میں تو چاہتا ہی یہ تھا اس کے قریب آوں اس کو اپنے جال میں پھنساوں اور اپنا پانی اس کی گانڈ میں نکالوں، اس کے لیے اس کے قریب آنا ضروری تھا اس لیے میں اس کے پیچھے پیچھے سیڑھیاں چڑھنے لگا۔۔۔۔
سیڑھیاں چڑھتے ہوئے میں نے کہا واؤ کمال کا فگر ہے۔۔۔۔
ملازمہ نے اک ادا سے مڑ کر میری طرف دیکھا اور شرما کر منہ پھیرا اور پہلے سے زیادہ گانڈ باہر نکال کر اوپر چڑھنے لگی۔۔۔۔
میں تو پہلے ہی سمجھ چکا تھا اس کو نیچے لانا کوئی مشکل کام نہیں بس تھوڑا سا مکھن لگانا ہے اپنا مکھن اس کی پھدی میں نکالنے کا انتظام ہو جائے گا۔۔۔۔
وہ سیڑھیاں چڑ کر زیبا کے کمرے کے سامنے جس کر رکی اور مسکرا کر میری طرف دیکھا اور بولی مجھے بتائیں کون سا سوٹ پر زیادہ اچھا لگے گا میں پہن کر آپ کو دکھاؤں گی ۔۔۔۔
میں اس کے بالکل قریب چلا گیا اور سرگوشی کے انداز میں کہا جو بھی پہن لو اس شربتی رنگ اور اشتعال انگیز جسم پر قیامت خیز ہوگا۔۔۔۔
اس نے دوپٹے کا پلو اپنے ہونٹوں میں لیا اور شرما کر کمرے میں داخل ہو گئی۔۔۔۔
اس کی ادائیں کسی حسین دلربا سے کم نہ تھیں، اس پر جو میرے الفاظ جو اثر دکھا رہے تھے وہ نہیں جانتی تھی ان سے اس کے جسم کو کتنا درد بھرا سرور ملنے والا ہے۔۔۔
میں بھی اس کے پیچھے کمرے میں داخل ہو گیا وہ الماری کے پاس جا کر کھڑی ہوئی اور اس نے الماری سے کپڑے نکالنے شروع کر دئیے۔۔۔۔
جسامت کے لحاظ سے زیبا نے کچھ فربا تھی اس نے سوٹ پھیلا کر مجھے دکھانے شروع کیے۔۔۔۔
ایک کے بعد ایک سوٹ دکھاتی گئی میں نے تقریباً ہر سوٹ کے بارے میں کہا یہ اس پر خوب جچے گا۔۔۔۔
اس نے پوچھا کونسا پہنوں،میں نے کہا اس طرح پتہ نہیں چلے گا ایک ایک پہن کر دکھاو میں نے تین سوٹ اس کو پکڑائے جن میں ایک تنگ پاجامہ اور شارٹ شرٹ تھی، ایک چوت قمیض اور ڈھیلا ٹراوزر تھا اور تیسری نائٹی تھی جو کافی باریک تھی جس میں سے جسم کے آرپار صاف نظر آتا تھا۔۔۔۔
اس نے نائٹی کو الٹ پلٹ کر دیکھا اور بولی اس کے ساتھ شلوار تو ہے ہی نہیں۔۔۔۔
میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا تو بھی بھولی ہے،یہ بڑے لوگوں کا سوٹ ہے دیکھو کتنا لمبا ہے پاؤں تک آتا ہے اس کے ساتھ شلوار نہیں پہنی جاتی۔۔۔۔
اس نے ہونٹوں کو گول کرکے کہا آ اووہو تو ایسی بات ہے۔۔۔۔
میں نے کہا یہ صرف رات کو سونے کے لیے پہنتے ہیں تاکہ جسم کو ہوا بھی لگے اور ۔۔۔۔
شبو جو اس ملازمہ کا نام تھا اس نے کہا اور کیا۔۔۔
میں نے جان بوجھ کر بات کو طول دینے کے لیے کہا چھوڑو اس بات کو تم جاؤ سب پہن کر دیکھو کونسا اچھا لگے گا ۔۔۔
اس نے کہا نہیں پہلے بتاؤ پھر پہن کر دکھاؤں گی۔۔۔۔
میں نے کہا وہ بات بتانے والی نہیں ہے سمجھنے کی کوشش کرو۔۔۔
شبو نے کہا نہیں جیسی بھی بات ہے مجھے بتاؤ،میں بھی ان لوگوں جیسی زندگی گزارنا چاہتی ہوں ، میں جاننا چاہتی ہوں وہ کیا کچھ کرتے ہیں کیسے رہتی ہیں۔۔۔۔
میں اس کی بات سن کر مسکرا دیا ہممم کیوں نہیں تم کسی سے کم تھوڑی ہو سب کچھ کر سکتی ہو میری نظر سے دیکھو تو تم ایک ملکہ ہو، کیا ہوا آج پیسے کی کمی ہے دل کی خواہش کبھی بھی پوری ہو سکتی ہے ۔۔۔۔
چلو ٹھیک ہے میں تمہیں بتاتا ہوں یہ جو سوٹ ہے جس کے ساتھ شلوار نہیں ہے اس کو نائٹی کہتے ہیں یہ صرف رات کو سوتے وقت پہنتے ہیں۔۔۔۔
یہ امیر لوگوں کے رہنے کا طریقہ ہے سونے کا الگ سوٹ،باہر جانے کا الگ سوٹ، گھر میں پہننے کے لیے الگ،اس سے وہ اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتے ہیں دوسروں کر رعب جماتے ہیں۔۔۔
تم نے پوچھا رات کے سوٹ کے فائدے ہیں تو میرے نزدیک جو اس کے فائدے ہیں وہ یہ ہیں کہ مرد اگر پہنتا ہے تو اس کو نہ شلوار کی ضرورت نہ اس کے نیچے کچھ پہننے کی ضرورت اور اگر عورت پہنتی ہے تو اس کو بھی صرف یہ باریک سی نائٹی پہننا ہوتی ہے جو کے نیچے کچھ بھی پہننے کی ضرورت نہیں ہوتی۔۔۔۔
اس سے یہ ہوتا ہے کہ جسم کو اضافی بوجھ برداشت نہیں کرنا پڑتا ہر چیز ایسے ہی ہوتی ہے جیسے وہ کپڑوں سے آزاد ہو۔۔۔
جس بات کے لیے تم اتنا زور ڈال رہی ہو وہ یہ ہے کہ رات کو اگر دل کرے تو نائٹی کو صرف کھولنا ہے اور سب کچھ کر لینا ہے کپڑے تو ہوں گے جو اتارنے پڑیں گے امیر لوگ ہیں ہر کام میں سہولت ڈھونڈتے ہیں۔۔۔۔
میری ساری باتیں وہ بڑے غور سے سن رہی تھی اس کے چہرے کے رنگ بتا رہے تھے اس کے دل میں کیسے جگنو جگمگا رہے ہیں آخری بات پر بھی اس نے کوئی ری ایکشن نہ دیا مطلب وہ خود کو کسی اور دنیا میں محسوس کر رہی تھی ۔۔۔
میں چپ ہو کر اس کی طرف دیکھنے لگا لیکن وہ کہیں اور پہنچی ہوئی تھی، میں نے اس کو آواز دی شبو۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر بولی جی جججی کیا ہوا۔۔۔
میں نے ہنس کر کہا کچھ نہیں اگر کپڑے پہن کر نہیں دکھانے تو میں جاؤں۔۔۔۔
شبو نے کہا ایک منٹ میں ابھی پہن کر آتی ہوں،وہ ایک سوٹ اٹھا کر باتھ روم میں گھس گئی۔۔۔
کوئی پانچ منٹ بعد وہ باہر نکلی تو اس نے جو سوٹ پہنا ہوا تھا وہ چست پاجامہ اور شارٹ شرٹ تھی۔۔۔۔
اس کو ان کپڑوں میں دیکھ کر سچ میں، میں حیران رہ گیا، اس کا فگر آگ برسا رہا تھا۔۔۔۔
اس کی گوشت کی بھری ہوئی ٹانگیں پاجامے میں پھنسی ہوئی تھیں اور شرٹ اس کے مموں کو چھپانے میں ناکام ہو رہی تھی۔۔۔
اس کے ممے زیبا سے بڑے تھے اور شرٹ کا گلا کھلا تھا، میں آنکھیں پھاڑے اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
میری نظریں اس کے پورے جسم کا طواف کر رہی تھیں سر سے پاؤں تک اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
میرے منہ سے بے اختیار نکلا واؤ کیا لگ رہی ہو بس ایک چیز کی کمی ہے ۔۔۔۔
شبو نے نظریں جھکا کر کہا کس چیز کی۔۔۔
میں اس کے قریب گیا اور اس کے بالوں میں ہاتھ پھیر کر بال کھول کر اس کے کندھوں پر بکھیر دئیے اور کہا کھلے بالوں اور ہلکے سے میک اپ کی۔۔۔۔
میں نے اس کے بولنے سے پہلے اسے کندھوں سے پکڑا اور اس کو گھما کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے لے جا کر کھڑا کر دیا۔۔۔۔
خود اس کے پیچھے کھڑا ہوا اس کے کانوں سے بالوں کو ہٹایا اور اس کے کندھے کے اوپر سے اس کے کان میں کہا دیکھو کیسی لگ رہی ہو ۔۔۔۔
میرا دل کر رہا ہے تمہیں اپنی باہوں میں بھر لوں، مجھے ڈر لگ رہا ہے کہیں تم سے پیار نہ ہو جائے۔۔۔۔
شبو شرما گئی اور نظریں جھپکا کر خود کو شیشے میں دیکھنے لگی۔۔۔۔
میں اس کو سٹول پر بٹھایا اور ڈریسنگ ٹیبل سے میک اپ کا سامان اٹھا لیا، اور کٹ کھول کر بیس نکالی اور برش سے اس کے بھری بھری گالوں پر ہلکی ہلکی لگانے لگا۔۔۔۔
جیسے جیسے میں اس کے چہرے پر برش پھیر رہا تھا اس کی رنگت بدلتی جا رہی تھی۔۔۔۔
وہ بس مجھے میک اپ کرتے ہوئے دیکھ رہی تھی،میں جتنا میک اپ کے بارے میں جانتا تھا آج اس پر آزما رہا تھا۔۔۔۔
میک اپ کٹ سامنے تھی ہر خانے سے مناسب مقدار میں برش سے اس کے چہرے پر لگایا۔۔۔۔
اس کے چہرے کا رنگ نکھر گیا میں نے جھک کر اس کی گردن کو دیکھا پھر برش اس کی گردن پر ہلکا پھلکا پھیرا ۔۔۔
گردن سے نیچے اس کا سینہ اور مموں کی کلیویج جو صاف نظر آ رہی تھی ان کا رنگ چہرے سے مختلف نظر آ رہا تھا۔۔۔۔
میں نے شبو سے کہا دیکھو خود کو کیسی لگ رہی ہو۔۔۔۔
اس نے جب شیشے میں دیکھا تو شرما گئی اس کی نظر جب اپنے سینے سے جھانکتے مموں پر پڑی تو اس نے ہاتھ سے چھپانے کی کوشش کی۔۔۔۔
میں اس کے پیچھے کھڑا تھا میں نے ہاتھ آگے لے جا کر بڑے پیار سے اس کا ہاتھ ایک طرف کیا اور کہا، اب دیکھو کتنا فرق ہے چہرے میں اور نیچے والے حصے میں۔۔۔۔
شبو نے دیکھ کر نظریں جھکا لیں،میں ایک بار پھر اس کے سامنے آیا اور برش اٹھا لیا اور برش سے اس کے سینے پر میک اپ کا لیپ کرنے لگا۔۔۔۔
مموں سے اوپر والے حصے کے بعد جب میں نے اس کے اوپر کو ابھرے ہوئے،باہر نکلے ہوئے مموں کی اٹھان پر برش پھیرا تو اس کے منہ سے سی کی آواز نکلی اور اس نے آنکھیں بند کر لیں۔۔۔۔
میں جان بوجھ کر وہاں برش کو بڑے پیار سے سہلانے کے انداز میں پھیر رہا تھا۔۔۔
کچھ دیر اس جگہ برش پھیرنے کے بعد میں نے کلیویج میں برش میں ڈال کر پھیرا تو وہ جھٹکا کھا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔۔۔
برش اس کے مموں کے درمیان اور اندر چلا گیا، میں کیونکہ اس کے بلکل پاس کھڑا تھا اس لیے اس کے کھڑا ہونے سے اس کے ممے میرے سینے سے لگ گئے۔۔۔۔
میں نے پیچھے ہٹے بغیر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھے اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے سرگوشی میں کہا کیا ہوا مہارانی جی برا لگا۔۔۔۔
وہ کچھ نہ بولی پائی تو میں نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا اور پھیرتے ہوئے اس کو آہستہ سے بیٹھنے کا کہا اور ساتھ ہی برش کو اس کے گلے سے نکال لیا۔۔۔۔
اس بار بھی اس کے جسم میں جھرجھری سی ہوئی۔۔۔
میں میک اپ بند کیا اور بالوں میں پھیرنے کے کیے کنگھا اٹھا لیا اور اس کے پیچھے آ گیا۔۔۔۔
ہئیر لوشن موجود تھا میں نے وہ اٹھایا اور بالوں میں لگا کر بال بنانے لگا۔۔۔۔
شبو آنکھیں پھاڑے مجھے دیکھ رہی تھی اس کی آنکھوں میں میرے لیے پیار ہی پیار تھا۔۔۔۔
بالوں میں کنگھا کرتے ہوئے میں جان بوجھ کر اس کے ساتھ لگ رہا تھا جس سے میرے لن کا ابھار اس کی کمر میں چبھ رہا تھا۔۔۔۔
میں نے نوٹ کیا کہ وہ سب محسوس کرکے بھی کوئی ری ایکشن نہیں دے رہی تھی۔۔۔۔
بالوں کو سٹریٹ کرکے اس کے کندھوں پر پھیلایا اور پھر اس کو کھڑا کیا اور اس کے سامنے کھڑا ہو کر اس کو کہا اب خود کو شیشے میں دیکھو تم کسی سے بھی کم نہیں ہو۔۔۔۔
تم کسی فلم سٹار سے کم نہیں ہو ایسا حسن میں نے زندگی میں کبھی نہیں دیکھا میں تو تم پر فدا ہو گیا ہوں ۔۔۔۔
شبو کے ہونٹ تو جیسے گنگ ہو گئے تھے اس کی زبان سے ایک لفظ بھی نہیں نکل رہا تھا۔۔۔۔
میں نے اس کو گلے لگا لیا اس نے کوئی ریسپانس نہ دیا۔۔۔۔
میں جلد بازی نہ کروں میرے دماغ میں یہ بات آئی تو میں نے خود کو آگے بڑھنے سے روک دیا۔۔۔
پیچھے ہو کر کہا یہ تو ایک سوٹ ہو گیا جس میں تم بہت اچھی لگ رہی ہو اب دوسرے سوٹ بھی پہن کر دیکھو۔۔۔
شبو چپ کھڑی رہی میں نے اس کو ہلا کر کہا چلو بھی اگر ایسے ہی کھڑی رہو تو زیبا میڈیم آ جائیں گی۔۔۔
شبو نے میری آنکھوں میں دیکھ کر کہا کیا تم مجھے ایسی زندگی دے سکتے ہو۔۔۔۔
میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور کہا یہ وقت ان باتوں کے لیے مناسب نہیں ہے یہ بات سچ ہے کہ مجھے تم پہلی نظر میں ہی اچھی لگی تھی میں یہ سمجھا تھا کہ تم اس گھر کی مالکن ہو اور زیبا کی کوئی جاننے والی ہو یہ تو بعد میں پتہ چلا کہ تم۔۔۔۔
شبو کے چہرے پر خوشی کے آثار تھے اس نے کہا چلو پھر بعد میں بات کریں گے میں ابھی دوسرا سوٹ پہن کر آتی ہوں کیا اس کے لیے پھر سے میک اپ کرنا پڑے گا۔۔۔۔
میں نے نفی میں سر ہلایا اور کہا اس کی ضرورت نہیں ہے ایک ہی بار ٹھیک ہے تم اس میں ہی کمال لگ رہی ہو ویسے بھی اگر میک اپ نہ بھی ہو تو تم کوئی کم نہیں ہو۔۔۔۔
اس نے میرے گال پر ہاتھ پھیرا اور واش روم میں گھس گئی۔۔۔۔
پانچ منٹ کھڑا میں آگے کی پلاننگ کرتا رہا تب تک وہ باہر آ گئی اب کی بار اس نے نائٹی پہنی ہوئی تھی اور اس کو اس کی ڈوری باندھنا نہیں آئی تھی جس کی وجہ سے اس نے آگے سے اس کو پکڑا ہوا تھا۔۔۔۔
لیکن اس نے نیچے کچھ نہیں پہنا تھا وہ صاف پتہ چل رہا تھا مطلب کہ اس نے نہ تو برا پہنا تھا اور نہ پینٹی ۔۔۔۔
اس کے مموں کے نپل صاف ابھر رہے تھے اور گولڈن کلر کی نائٹی میں سے اس ممے بھی گولڈن نظر آ رہے تھے اور اس کی پھدی کے ہلکے ہلکے بال بھی نظر آ رہے تھے۔۔۔۔
میرا منہ کھل گیا اور میں اس کے مموں کو دیکھتا تو کبھی پھدی کے بالوں کو،اوپر سے وہ ٹانگیں کھول کر کھڑی تھی جس سے اس کی پھدی کے لب بھی صاف نظر آ رہے تھے۔۔۔۔
مجھ سے اب برداشت کرنا مشکل ہو گیا تھا میرا لن دہائیاں دینے لگا کہ بلو اب اور نہ تڑپا تیرے اس چکر میں میرا دم گھٹ جائے گا۔۔۔۔
میں آگے بڑھا اور اس کے ہاتھوں کو پکڑا اور نائٹی کی ڈوری باندھنے لگا ایسا کرتے ہوئے میں نائٹی کے پلوؤں کو کھول کر دیکھا اس کے ممے مجھے سخت لگے اور نپل تو اکڑے ہوئے صاف نظر آ رہے تھے۔۔۔۔
ڈوری باندھ کر میں نے اس کو گلے لگا لیا اس نے بھی اپنی بانہیں میرے گرد لپیٹ دیں۔۔۔۔
کچھ دیر ہم ایسے ہی کھڑے رہے وہ تھوڑا سا ہلی اور اپنی پھدی کو لن کے ابھار پر رگڑا۔۔۔۔
میں نے اپنے ہونٹ اس کی گردن پر رکھ دئیے اور ہلکی ہلکی کسنگ کرنے لگا۔۔۔۔
میرے ہاتھ خود بخود اس کی کمر کو سہلانے لگ گئے، میرے ہاتھ کمر پر پھرتے ہوئے گانڈ تک جانے لگے اور اس کو سینے میں دبانے لگا۔۔۔۔
گرفت اس کی بھی سخت ہو گئی تھی چند لمحوں بعد میرے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر تھے اور میں اس کے ہونٹ چوس رہا تھا ۔۔۔۔
پانچ منٹ میں ہی شبو خود پر کنٹرول کھونے لگی اور مجھ پر حاوی ہونے کی کوشش میں لگ گئی۔۔۔
اس کے نزدیک جو میں سمجھ پایا تھا سیکس صرف لن کا پھدی میں جانا ہی تھا جس طرح وہ مچل رہی تھی لن لینے کے لیے اس سے اندازہ ہوتا تھا وہ صرف لن ہی لیا کرتی تھی۔۔۔
اس کو کسنگ کا بھی کوئی خاص تجربہ نہیں تھا، بس میرا ساتھ ہی دینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
اس کا ہاتھ بار بار میرے ٹراوزر میں جا رہا تھا میں نے اس کی نائٹی اتار دی اور اس کو ننگا کر دیا۔۔۔۔
وہ فوراً بیڈ پر لیٹ گئی اور اپنی ٹانگیں کھول لیں ، اس کو دیکھ کر میں سمجھ گیا کہ اس کو صرف لن چاہئیے۔۔۔۔
میں نے بھی ٹراوزر نیچے کیا اور لن نکال لیا اور اس کے اوپر آ گیا۔۔۔
لن دیکھ کر اس کی آنکھوں میں ڈر نظر آیا، شاید اس نے اتنا بڑا لن پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔
وہ ٹانگیں بند کرنے لگی تو میں اس کے اوپر آ گیا اور ٹانگیں کھول کر لن کو پھدی پر رکھ دیا ۔۔۔۔
ہاتھ نیچے لے جا کر لن کی ٹوپی ہاتھ سے پکڑ کر پھدی کے مورے پر رکھی اور پھر لن پر دباؤ بڑھا دیا۔۔۔۔
جتنا وہ تڑپ رہی تھی لن لینے کے لیے اب اتنا ہی ڈر رہی تھی اس نے اپنے دونوں ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دئیے اور مجھے روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
میں نے اس کے ہاتھوں کو ایک طرف کیا اور دباؤ ڈالتے ہوئے اس کے اوپر لیٹ گیا اور ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔۔
لن کی ٹوپی آرام سے اندر اتر گئی اس کو کچھ زیادہ تکلیف نہ ہوئی تھوڑا اور زور ڈالا لن مزید اندر چلا گیا۔۔۔۔
اسے بھی کچھ حوصلہ ہوا کہ وہ لن لے سکتی ہے میں نے اتنے ہی لن کو اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔
ایک منٹ میں ہی وہ سییی سییی کرنے لگی اس کے منہ سے آہہ آہہہ آہہہہہہ کی آوازیں نکلنے لگیں۔۔۔۔
میں نے آہستہ آہستہ کرکے آدھا لن اندر کر دیا تھا اور بڑے سکون سے اندر باہر کر رہا تھا۔۔۔۔
میں نے جب دیکھا کہ شبو اب مزے لے رہی ہے تو میں نے اس کی ٹانگوں کو کندھوں پر رکھ لیا اور اس کے کندھے سے لگا دیں ۔۔۔۔
اس طرح کرنے سے دو فائدے ہوئے ایک تو وہ میرے قابو میں آ گئی میں جتنی زور سے مرضی لن گھسا سکتا تھا دوسرا یہ کہ اس کی پھدی اوپر اٹھ گئی۔۔۔۔
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اس کی ٹانگوں کو قابو کیا اور زور سے لن ایک ہی بار میں اندر گھسا دیا۔۔۔۔
شبو کے منہ سے ایک دل سوز چیخ نکلی جیسے مرغی ذبح ہو رہی ہو ایسے تڑپنے لگی۔۔۔۔
اس کی آنکھوں سے آنسو رواں ہو گئے وہ مجھ سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔
لیکن اب میں اس کو چھوڑنے کے موڈ میں نہیں تھا میرے گھسے شروع ہو گئے اس کے رونے کی پرواہ کیے بغیر اس کی چودائی کرنے لگا۔۔۔۔
پانچ منٹ میں اس کا سارا دم خم ختم ہو چکا تھا اس کی چوت پوری کھل چکی تھی۔۔۔۔
رو رو کر وہ تھک گئی اور اب مزے لے رہی تھی اس دوران وہ دو بار فارغ بھی ہو گئی تھی۔۔۔۔
میں بھی اب اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا اس لیے پورے ردھم سے گھسے مار رہا تھا ۔۔۔۔
شبو کی آنکھیں اب بند ہو چکی تھیں اور ہونٹ دانتوں تلے دابے افففف آہہ اہہہہ کر رہی تھی۔۔۔۔
میں آخری گھسے پورے زور سے مارے اور جب میں فارغ ہونے لگا تو لن ایک جھٹکے سے باہر نکال لیا اور شبو کی پھدی کے اوپر فارغ ہونے لگا۔۔۔۔
اسی وقت ایک جھٹکے سے دروازہ کھلا،شبو اور میں نے ایک ساتھ مڑ کر دروازے کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
دروازے پر کوئی نامعلوم آدمی کھڑے تھے ان کے ہاتھوں میں آتشیں ہتھیار تھے۔۔۔۔
وہ منہ کھولے میرے اور شبو کی طرف دیکھ رہے تھے، ان میں سے ایک آگے بڑھا میرے لن سے نکلنے پانی کو دیکھتے ہوئے شبو کو میرے نیچے سے نکال لیا۔۔۔۔
شبو کے تو طوطے اڑنے تھے سو اڑنے تھے میرا لن بھی ایک دم سے سو گیا۔۔۔۔
بڑی بڑی مونچھوں والے چار آدمی تھے اور سب کے پاس ہتھیار تھے، تین نے میری طرف بندوقیں تان رکھی تھیں۔۔۔۔
جس نے شبو کو کھینچا تھا اس نے شبو کو صوفے پر لٹایا اور اپنا ناڑا کھول کر لن نکال لیا۔۔۔۔
کالا کلوٹا موٹا لن تھا دوسرے ساتھیوں نے مجھے کھڑا ہونے کا کہا میں ٹروازر ٹھیک کرتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔۔۔۔
اس آدمی نے شبو کی ٹانگیں اٹھائیں تو شبو نے مزاحمت کی، جس پر اس نے کہا گشتی رانڈ اپنے یار کے نیچے لیٹی چدوا رہی تھی مجھ سے چدوا کر دیکھ اس چھوکرے سے زیادہ مزہ دوں گا اور اس نے تین چار تھپڑ شبو کے منہ پر جڑ دئیے۔۔۔۔
میں نے آگے بڑھنے کی کوشش کی تو میرے پیچھے کھڑے آدمی نے میری کمر پر بندوق مار کر مجھے نیچے بٹھا دی اور مجھے ہاتھ پیچھے باندھنے کا کہا۔۔۔۔
میں نے سر جھکا کر ہاتھ پیچھے باندھ لیے، میرے کانوں میں شبو کی آواز گونجنے لگی۔۔۔۔
شبو چیخ چیخ کر کہہ رہی تھی مجھے چھوڑ دو میری عزت برباد نہ کرو تمہیں تمہاری کا واسطہ ہے،مجھے چھوڑ دو۔۔۔۔
لیکن وہ وحشی انسان ہر بات پر اس کو مار رہا تھا لیکن شبو بھی اس سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
جب شبو اس کے قابو میں نہ آئی تو اس مے کہا اوئے شاکے اس کو قابو کر اسے آج حقیقی مزہ دوں، سالی بڑی پھڑپھڑا رہی ہے اس کو آج تک کسی مرد نے نہیں چودا ہوگا ۔۔۔۔
ایسی مست چیز ہمارے ہاتھ کبھی کبھی لگتی ہے۔۔۔
شاکے نے کہا استاد میں تو کہتا ہوں اس کو اٹھا کر ڈیرے پر لے چلتے ہیں پہلے اس کو رل کر وجائیں گے پھر آگے بھیج دیں گے۔۔۔۔
شبو نے بد دعائیں دینا شروع کر دیں لیکن ان پر کوئی اثر نہ ہوا۔۔۔
میں آنکھیں بند کر چکا تھا جس پر اسی آدمی نے جو شبو کو یہینے کی کوشش کر رہا تھا کہا۔ اوئے آنکھیں کھول دیکھ تیری معشوق کی پھدی میں لن واڑ رہا ہوں ادھر ویکھ سالے چوتیے۔۔۔۔
میں نے ہاتھ نیچے کیے تو پیچھے کھڑے آدمی نے پھر مجھے ٹہوکا دیا۔۔۔۔
میرا خون کھول رہا تھا لیکن کچھ کر نہیں سکتا تھا ۔۔۔۔
شبو کی چیخوں سے مجھے اندازہ ہو رہا تھا کہ اس کی چدائی شروع ہو چکی ہے۔۔۔
وہ آدمی وحشیانہ انداز میں ہنس رہا تھا اور بول رہا تھا ویکھ اوئے شاکے کیسے پھڑپھڑا رہی ہے یہ تتلی اس کی پھدی کو آج اصل لن ملا ہے ۔۔۔۔
یہ بھی کیا یاد رکھے گی کس سے چدواتی رہی ہے پہلے آج کے بعد یہ کسی اور کا لن لینے کا سوچ بھی نہیں سکے گی۔۔۔۔
اسی وقت اس کے منہ سے آہہہہ آہہہ لے سالی تیری پھدی میں پانی چھوڑ رہا ہوں اففففف۔۔۔۔
بہن چود باتیں ایسے کر رہا تھا جیسے پتہ کیا کر دے گا ایک منٹ میں ہی ٹھس ہو گیا تھا۔۔۔۔
شبو کا رونا ابھی جاری تھا ان میں سے ایک آدمی نے کہا چل کھڑی ہو جا اور کپڑے پہن نہیں تو تجھے ایسے ہی ننگا اٹھا کر لے جائیں گے۔۔۔۔
میں نے آنکھیں کھولیں تو شبو مجھے بے بسی سے دیکھ رہی تھی میں اس کی نظریں برداشت نہ کر سکا اور سر جھکا لیا۔۔۔۔
میرے پیچھے کھڑے آدمی نے مجھے ٹھڈا مارا اور کہا چل اوئے گانڈو کھڑا ہو جا۔۔۔۔
میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا شبو نے کپڑوں کے واش روم جانے کی کوشش کی تو ایک آدمی نے اس کو کہا رک میں لا کر دیتا ہوں یہیں ہمارے سامنے کپڑے پہن لینا اب کیسی شرم۔۔۔
وہ آدمی واش روم کی طرف بڑھ گیا اور جاتے جاتے شبو کے گال پر ہاتھ پھیرنا نہیں بھولا۔۔۔۔
شبو ایک ہاتھ سے ممے چھپا رہی تھی اور دوسرا ہاتھ اس نے اپنی پھدی پر رکھا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ لوگ اس کو اس طرح دیکھ کر ہنس رہے تھے میں بس پاسے ہی بدلتا رہ گیا۔۔۔۔
وہ آدمی کپڑے لے آیا شبو نے چاروناچار سب کے سامنے کپڑے پہنے اور وہ لوگ ہمیں بندوقوں کی نوک پر ٹھوکریں مارتے ہوئے لے کر نیچے آ گئے۔۔۔۔
میرا فون چارجنگ پر لگا ہوا تھا میں ویسے بھی بے بس ہو چکا تھا۔۔۔۔
نیچے جا کر انہوں نے ہمارے منہ کپڑے سے باندھ دئیے اور ہمارے ہاتھ بھی باندھ دئیے۔۔۔۔
انڈر گاڑی موجود تھی اس میں پچھلی سیٹ پر ہمیں پھینکا اور ایک بندہ ہمارے ساتھ بیٹھ گیا جب کہ ایک فرنٹ پر دوسرے لوگ باہر گیٹ کھول کر نکل گئے اور گلی میں کھڑی ایک گاڑی ان کے پاس آئی اس میں سوار ہو گئے۔۔۔۔
گاڑی کے شیشے کالے تھے جس کی وجہ سے باہر سے اندر نہیں دیکھا جا سکتا تھا،لیکن اندر سے باہر کا منظر صاف نظر آ رہا تھا۔۔۔۔۔
اسی وقت فرنٹ پر بیٹھے ہوئے آدمی کو فون آیا اس نے کہا ہاں دونوں کو اٹھا لیا اس چکنی میڈم کو بھی اس کے ساتھ جو چھوکرا تھا اسے بھی ،دونوں سالے گلچھڑے اڑا رہے تھے اوپر سے پکڑ لیا ۔۔۔۔
ایک دم مست مال ہے اس کے ساتھ کھیلنے میں بڑا مزہ آئے گا ۔۔۔۔
پھر وہ دوسری طرف کی بات سننے لگا، پھر یک دم بولا اتنی آسانی سے کیسے بھیج دوں ابھی تو اس کے ساتھ مزے کرنے ہیں، اگر ایسا مال ہاتھ آئے اور اس کو بھی ایسے ہی جانے دیں تو پھر میرے پیدا کرنے والے پر لوگ ہنسیں گے۔۔۔۔
پھر دوسری طرف سے کچھ کہا گیا تو اس نے بگڑ کر کہا بس جو کہہ دیا وہ فائنل ہے کل نہیں پرسوں ان دونوں کو آپ کے پاس چھوڑ آوں گا میرے پاس یہ محفوظ رہیں گے۔۔۔۔
دوسری طرف سے کوئی بات کی گئی جسے سن کر اس نے بڑی نفرت بھری نظروں سے مجھے اور شبو کو دیکھا اور بولا یہ لونڈا تو ابھی بچہ ہے اور جس عورت کی آپ بات کر رہے ہو اس کو دیکھ کر تو لگتا ہی نہیں کہ اس کا کوئی ایسا ویسا گینگ ہوگا آپ خوامخواہ اتنا بڑھا چڑھا کر بتا رہے ہیں ان دونوں کے بارے میں۔۔۔۔
میں تو سمجھ چکا تھا وہ کس بات کر رہا ہے لیکن شبو کو ککھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا بات کر رہے ہیں۔۔۔۔
میں سمجھ چکا تھا کہ یہ کام ضرور شمروز کا ہے اس نے ہی اپنا بدلا لینے کے لیے یہ بندے بھیجے ہیں ۔۔۔۔
اس آدمی نے غصے سے میری طرف دیکھا اور بڑی ہوس بھری نظروں سے شبو کو دیکھا اور فون پر بولا میرا دماغ خراب نہ کرو میں نے ایک بار کہہ دیا ناں کہ پرسوں ان دونوں کو تمہارے حوالے کر دوں گا زندہ یا مردہ کسی بھی حال میں،یہ جو بار بار ان کے خطرناک ہونے کی بات کر رہا ہے میرا لوڑا خطرناک ہیں اس لونڈے کو تو میں اپنے لوڑے پر بٹھا کر جھوٹے دے سکتا ہوں جتنی اس کی جسامت ہے اب فون رکھ اور مجھے پرسوں سے پہلے تنگ نہ کرنا ورنہ میرا دماغ سٹک گیا تو پرسوں بھی نہیں دوں گا۔۔۔۔۔
اس کے بعد گاڑی اندھا دھند بھاگتی رہی پتہ نہیں کون کون سے رستوں سے گاڑی گزرتی گئی۔۔۔۔
کوئی ڈیڑھ گھنٹے بعد گاڑی ایک کچے رستے ہر مڑ گئی اور پھر گاڑی کی اگلی بریک ایک جنگل میں جا کر لگی۔۔۔۔
آس پاس درخت ہی درخت تھے نہ کوئی آبادی کے آثار تھے اور نہ ہی کسی بشر کی شکل نظر آ رہی تھی۔۔۔۔
ہمیں کھینچ کر گاڑی سے باہر نکالا گیا اور پھر مجھے ایک بندے نے دھکا دیا میں منہ کے بل گرگیا اور وہ سب ہنسنے لگے۔۔۔۔
ان میں سے ایک نے مجھے ٹھڈا مارا اور بولا گانڈو سالا چل اٹھ اور چل آگے آگے۔۔۔۔
میرے ہاتھ بندھے ہوئے تھے وہ ہنستے رہے اور میں بڑی مشکل سے اٹھ کر کھڑا ہوا اور لڑکھڑاتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔۔۔۔
زمین ناہموار تھی جس کی وجہ سے چلنے میں کافی دقت ہو رہی تھی۔۔۔
میرے برعکس شبو کو ان کے سرغنہ نے بازو سے پکڑا ہوا تھا اور اس کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا۔۔۔۔
جنگل میں کافی آگے جا کر ایک دو کمرے اور جھونپڑیاں نظر آئیں لیکن وہاں پہنچنے تک ہمیں آدھا گھٹنہ لگا تھا ۔۔۔۔
جہاں گاڑیاں رکی تھیں وہ جنگل کے درمیان سمجھ رہا تھا لیکن یہاں تک آتے آتے میں سمجھ چکا تھا کہ جنگل تو ابھی بھی بہت باقی ہے۔۔۔۔
مجھے اور شبو کو ایک کمرے میں دھکا دے دیا اور کمرے ہو باہر سے بند کر دیا۔۔۔۔
ایک کام کیا ان لوگوں نے ہمارے منہ کھول دئیے تھے۔۔۔۔
میں کھسک کر شبو کے قریب ہوا شبو اچھل کر مجھے دور ہونے کی کوشش کرنے لگی لیکن وہ کافی نقاہت محسوس کر رہی تھی اس لیے نہ ہو سکی۔۔۔۔
میں آہستہ سے اس سے کہا یہ لوگ ہمیں کسی اور کے دھوکے میں اٹھا کر لے آئے ہیں میرا خیال ہے زیبا میڈم کے دشمن ہیں اور تمہیں زیبا میڈم سمجھ رہے ہیں دیکھ لو میں سچ کہتا تھا کہ تم کسی طور بھی ملازمہ نہیں لگتی ۔۔۔۔
شبو نے غصے سے میری طرف دیکھا اور بولی بس کرو اب اور کتنا مکھن لگاؤ گے تمہاری انہی باتوں کی وجہ سے میں پھنسی ہوں ورنہ میں کہیں چھپ جاتی۔۔۔۔
میں نے کہا او ہو اگر یوں گھبراؤ گی تو ہم کچھ بھی نہیں کر پائیں گے تم نے حوصلہ رکھنا ہے جو وہ کر سکتے تھے انہوں نے کر لیا اب تم نے ان کو ڈرانا ہے منتیں نہیں کرنی بلکہ ان کو ڈراتے ہوئے کہنا ہے اگر میرے آدمیوں کو پتہ چل گیا کہ میں گھر پر نہیں ہوں تو تم لوگ دینا کے کسی بھی کونے میں چھپ جاؤ تمہیں پکڑ کر عبرت کا نشان بنا دیں گے۔۔۔۔
اس نے کہا بس کرو تمہیں واسطہ ہے اب یہ کون سا نیا ڈرامہ شروع کر دیا ہے تم نے، تم ہو ہی دھوکے باز پتہ نہیں میڈم کو تم میں کیا نظر آیا کہ گھر لے آئیں۔۔۔۔
میں مسکرا دیا اور کہا وہ بھی تمہیں بتاؤں گا اگر تم نے یوں کیا تو سمجھ کو میڈم کے لیے تم بہت خاص ہو جاؤ گی۔۔۔۔