دن تیزی کے ساتھ گزر رہے تھے نازو بھی نہا دھو کر فارغ ہو چکی تھیں اور ہم دونوں بھائی بڑی بے چینی سے نازو کو چودنے کے منتظر تھے کہ کب نازو ہمیں اپنی چوت اور گانڈ سے فیض یاب کرتی ہیں ۔
دودھ تو ہم دونوں بھائی نازو اور امی کے مموں سے اکثر پیتے رہتے تھے اور ہم بھائیوں نے ابو اور پھوپھا کے ساتھ مل کر امی کو چودنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی کبھی امی کی گانڈ میں ابو کا لوڑا تو کبھی چوت میں پھوپھا کا لوڑا اور کبھی امی کے منہ میں ہم دونوں بھائیوں کے لوڑے
افففففف۔۔
کیا منظر ہوتا تھا جب امی کے ہر سوراخ ہم میں سے کسی نہ کسی کا لوڑا اندر باہر ہورہا ہوتا تھا امی کی سسکیاں اور مزے میں ڈوبی چیخیں اور ہماری آہوں سے کمرہ گونج رہا ہوتا۔
ایک رات کا ذکر ہے ہم دونوں بھائی اپنے کمرے میں سو رہے تھے ، امی ابو اپنے کمرے میں اور نازو اور پھوپھا اپنے کمرے میں۔۔۔
رات کے کسی پہر میری آنکھ کھلی اور میں پانی پینے کچن میں آیا کچن کے سامنے ہی نازو کا کمرہ ہے ۔
میں پانی پیتا پیتا بے دھیانی میں نازو کے کمرے کے قریب گیا تو اندر کمرے سے سسکیوں اور آہوں کی آوازیں آرہی تھیں۔ایسا لگ رہا تھا جیسے کوئی سیکسی ویڈیوز چل رہی ہوں میں نے ہلکا سا دروازے پر دباؤڈالا تو وہ کھلتا چلا گیا اور اندر کا منظر دیکھ کر میرا لوڑا ایک دم سے کھڑا ہوگیا۔
اندر نازو۔۔ بیڈ پر کسی۔۔ کتیا ۔۔کی طرح اپنا پیٹ چپکائے اپنے چوتڑ باہر کی جانب نکالے لیٹی تھیں ۔ان کے سامنے ابو اپنی ٹانگیں پھیلائے بیٹھے تھے اور ان کا پھنپھناتا ہوا لوڑا نازو کے ایک ہاتھ میں تھا جس کا پھولا ہوا ٹوپا نازو کے منہ میں تھا اور نازو کسی قلفی کی طرح ابو کے لوڑے کے ٹوپے کو چوس رہی تھیں۔۔ جبکہ دوسرے ہاتھ سے وہ ابو کے ٹٹے سہلا رہی تھیں۔ ابو اپنے دونوں ہاتھ آگے کیے نازو کے مموں کو دبا رہے تھے اور ان کے نپلز بری طرح سے مسلے جارہے تھے۔۔۔
نازو کے چوتڑ بھی کیا کمال کے تھے۔ سرخ و سفید چوتڑوں میں منہ گھسائے۔ پھوپھا۔ نازو کی رس ٹپکاتی چوت میں اپنی زبان کی کی نوک گھما رہے تھے اور ساتھ ساتھ نازو کی گانڈ کے سوراخ کو بھی چاٹ رہے تھے۔
پھوپھا کا۔۔ لٹکا ہوا کالا ناگ۔۔ اپنے پورے جوبن پر تھا اور منی سے بھری ہوئی لٹکتی ہوئی گیندیں پھوپھا کے ہلنے سے آپس میں ٹکرا رہی تھیں۔۔
پھوپھا نازو کے چوتڑوں کو اپنے ہاتھوں سے
بری طرح سے مسل رہے تھے… یہ سیکسی منظر دیکھ کر میں پاگل ہو رہا تھا… میرا دِل کر رہا
تھا کہ میں بھی جا کے ان کے ساتھ شامل ہو جاؤں پر میں نے پہلے ان تینوں کی لائیو چدائی دیکھنے کا فیصلہ کیا اور چپکے کھڑا رہا۔۔
اندر کمرے میں بڑا دلفریب منظر تھا۔۔
نازو ابو کا لوڑا چوسنے میں مگن تھیں۔۔ ابو کا لوڑا اتنا موٹا اور بڑا تھا کہ نازو کو چُوسنےمیں مشکل پیش آ رہی تھی . لیکن پِھر بھی وہ خوشی خوشی چوسے جا رہی تھیں .۔
ادھر نازو کے چوتڑوں میں اپنا منہ گھسائے پھوپھا بری طرح سے اس کی چوت چاٹے اور چوسے جا رہے تھے۔۔
آں . . . میری جان . چاٹیں میری چوت
کو . کھا جائیے . بہت ستاتی ہے یہ مجھے . اِس میں اپنا لوڑا ڈال کر اسکی آگ کو ٹھنڈا کردیجیئے .۔۔۔
آہہہہہہہہہ
نازو سسکتے ہوئے بولیں۔۔
پھوپھا نازو کی چوت کے ساتھ ساتھ ان کی گانڈ پر بھی زبان پھیرتے جاتے . جس سے ان کا جسم ہلکے ہلکے جھٹکے لیتا . اوران کے منہ سے سسکیاں نکل جاتیں .۔
کیا ہوا جان ؟ آج آپ کے ارادے نیک نہیں
نازو نے ابو کا لوڑا چوستے چوستے پھوپھا کی طرف چہرہ موڑ کر کہا۔۔
میری جان ! تمہاری گانڈ اتنی پیاری ہے کہ بار بار مجھے اپنی طرف کھینچتی ہے .۔
پھوپھا نے نازو کی گانڈ انگلی ڈالتے ہوئے کہا۔
اووووووئی
تو پِھر جان ! دیر نہ کریں نا
. گھسا دیجیئے اِس میں اپنا لوڑا .۔۔
نازو سسکتے ہوئے بولیں۔۔
پہلے تمہاری چوت نہ مار لوں جان من
پھوپھا نے پوچھا۔
جیسے آپ کی مرضی میرے تو دونوں ہی سوراخ آپ کے سامنے ہیں
نازو نے جواب دیا .۔
یہ کہہ کر نازو نے اپنی گانڈ کو اور باہر نکال لیا . ۔
جانو تمہیں بہت درد ہو گا تمہیں چودے ہوئے مجھے اب 2 مہینے سے اوپر ہو چکے ہیں .۔
پھوپھا نے نازو کی رس ٹپکاتی چوت کے دانے کو چھیڑا۔۔
اففففففف
میری جان ! چدائی میں درد تو ہوتا ہی
ہے . جب آپ اپنے پہلی بار میری چوت میں اپنا لنڈڈالا تھا . تب بھی تو مجھے درد ہوا تھا .۔
آپ اپناحق وصول کیجیے . میں چاہتی ہوں آپ میری گانڈ میں اپنا لنڈ ڈال دیں . مجھے درد تو ہو گالیکن آپ فکر نا کریں میں برداشت کر لوں گی .۔
پھوپھا اور نازو کی آپس کی گفتگو سن کر میرا تو مارے شہوت کے برا حال ہونے لگا ۔میرا لوڑا اس قدر تن چکا تھا کہ اب درد کر رہا تھا۔
پھوپھا نے نازو کی بات مانتے ہوئے اپنے
لوڑے کو نازو کے چہرے کے پاس لے آئے۔۔ نازو نے ابو کے لوڑے کو منہ سے نکال کر پھوپھا کے لوڑے کو منہ میں لیکر ایک زوردار چوسا مارا اور پھوپھا کے لوڑے کو اپنے تھوک سے لتھڑ دیا
پھوپھا واپس پیچھے گئے اور نازو کے چوتڑوں کے پیچھے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے ۔۔۔نازو نے اپنی ٹانگیں کھولیں ۔۔۔پھوپھا نے اپنا لوڑا نازو کی رس بہاتی چوت پر ٹکایا ہی تھا کہ ابو اٹھے اور پھوپھا کی طرف آئے اور اپنے منہ سے ایک تھوک کا گولہ نازو کی چوت پر پھینکا اور ساتھ ہی پھوپھا نے اپنے لوڑے کا دباؤ نازو کی چوت پر بڑھایا۔۔
آہہہیہہہہ
م م م م م
نازو کے منہ سے مزے میں سسکی خارج ہوئی اور انہوں نے اپنے ہاتھ بھی پھیلا کر اپنے جسم کا وزن اپنے ہاتھوں اور گھٹنوں پر کر لیا۔
اب نازو کے سینے اور بیڈ کے درمیان اچھا خاصا فاصلہ تھا اور نازو کے ممے لٹکتے ہوئے ہچکولے کھا رہے تھے ۔
ابو وہاں سے ہٹ کر نازو کے نیچے آکر لیٹ گئے اور نازو کے لٹکتے ہوئے دودھ سے بھرپور مموں میں سے ایک ممے کو اپنے منہ میں لیا اور چوسنے لگ پڑے۔۔
پھوپھا نے کچھ دیر تک نازو کی چوت میں اپنے کالے موٹے ناگ کو ۔اندر باہر۔ آہستہ آہستہ کیا تاکہ چوت میں۔ لوڑا۔ رواں ہو جائے . پِھر
نازو کے سرخ و سفید چوتڑوں کو اپنے ہاتھوں میں دبوچا اور ٹھکا ٹھک لوڑے سے چوت کی ٹھکائی کرنی شروع کردی۔۔
آآآآ۔۔۔۔۔۔آہ ہ ہ ہ ہ ہ
آں آں آں آں آں
م م م م م م م م
زز زز زور زور اور زور اففففففف اور زور سے ماریں میری چوت۔۔
آہہہہہہہہہ
نازو کی سسکیاں اپنے عروج پر تھیں ۔
بب بب بھائی جان
افففففف
اووووووئی
زور سے چوسیں نا ۔۔
چک ماریں ہاں ایسے اور زور سے۔۔
آپ کے منہ میں دانت نہیں ہیں ؟
کیا بچوں کی طرح چوس رہے ہیں ۔۔
نپلز پر چک ماریں نا۔۔
نازو نے اپنا ایک مما ابو کے منہ پر دباتے ہوئے سسک کر کہا ۔۔
پھوپھا نے نازو کی چوت مارتے مارتے کھینچ کر اپنا لوڑا باہر نکالا ۔
ایک پچک سی آواز چوت سے نکلی۔۔
پھر پھوپھا نے نازو کی چوت کے جوس سے لتھڑے ہوئے اپنے لوڑے کو نازو کی گانڈ کے سوراخ پر رکھااور ہلکا سا دباؤ ڈالا . نازو نے اپنی گانڈ کوڈھیلا چھوڑ رکھا تھا . جس کا اثر یہ ہوا کہ پھوپھا کےلوڑے کا۔ ٹوپا۔ ان کی گانڈ میں اُتَر میں گیا . ساتھ ہی نازو کی منہ سے اک کراہ سی نکل گئی .
آااااااااااہہہہہہہہہہہہ
جانو ! درد ہو رہا ہے نا . میں باہر نکالتا ہوں .۔
پھوپھا فکرمندی سے بولے۔۔
نہیں جان ! ہلنا نہیں ! میں برداشت کررہی ہوں مجھے آپکا لوڑا اپنی گانڈ میں محسوس کرنا ہے .۔
نازو نے ہلکی سی تکلیف دہ آواز میں کہا۔۔
تھوڑی دیر میں نازو نارمل ہو گئیں . اب ان کی
گانڈ کا سوراخ کھل اور بند ہو رہا تھا . اور
پھوپھا کے لوڑے کے ٹوپے کو دبا رہا تھا . ایسے
لگتا تھا کہ جیسے ان کی گانڈ پھوپھا کے لوڑےکو
خوش آمدید کر رہی ہو . نازو نے اپنی کمر کو
ہلاتے ہوئے آہستہ آہستہ لوڑے کو اپنے اندر لینا شروع کر دیا . پھوپھا اب دھکے نہیں لگا
رہے تھے بلکہ اپنا لوڑا سخت کیے اپنے چوتڑوں پر ہاتھ رکھے تھے۔
جس کا اثر یہ ہو رہا تھا کہ جیسے ہی نازو
کی گانڈ خود کو ریلکس کرتی ، ان کا لوڑا تھوڑا اور اندر چلا جاتا .۔
آخر کچھ دیر اسی طرح کرتے رہنے کے بعد پھوپھا کا لوڑا آدھےسے زیادہ ان کی گانڈ میں اُتَر چکا تھا . اب پھوپھا نے اپنی کمر ہلاتے ہوئے ان کو چودنا شروع کردیا .۔
ااہہ . . . اوووہہ . . .
نازو سسکیوں پر سسکیاں بھر رہی تھیں ۔۔
لیکن ان سسکیوں میں درد سے زیادہ مزے کا اثر تھا .۔
کچھ دیر نازو کو اس انداز میں چودنے کے بعد
پھوپھا نے اپنا لوڑا باہر نکال لیا اور پیچھے ہٹ گئے
اب ابو اٹھےاور انہوں نے نازو کو اپنے لوڑے پر بٹھا لیا . نازو خود اوپر نیچے ہو کر اپنی چوت مروانےلگیں . ساتھ ہی ساتھ وہ سسکاریاں بھی بھرتی جارہی تھیں ۔۔
آں . . .
ایسے ہی چودیں بھائی جان میری چوت کو
بب بھائی جان . آااہ . . . بہت مزہ آ رہا ہے .
ااہہ . . . اوووہہ . . . . ممممم . . . . ہاں
بھائی جان . آپ بھی اپنا حق وصول کیجیے . اور زور سے ماریں میری چوت . . . . آہ . . .
کچھ دیر چودنے کے بعد ابو نے پوزیشن چینج کر دی . اِس بار نازو کی چوت اور گانڈ کےسوراخ پوری طرح کھل کر ابو کے سامنے آچکے تھے . ابو کے تگڑے اور موٹے لوڑے نے نازو کی
چوت کو پوری طرح کھول دیا تھا . اور ان کی
گانڈ کا سوراخ بھی پھوپھا کی چدائی کی وجہ سے اب پوری طرح پھیل چکا تھا .۔
ابو نے اپنے لوڑے کو نازو کی گانڈ کے سوراخ پرٹکایا اور نازو ایک دم سے ابو کے لوڑے کو اپنی گانڈ میں سموتی چلی گئیں ۔۔
نازو اب پوری طرح گانڈ کی چدائی کو انجوائے
کر رہی تھیں .۔
جیسے ہی ابو کے دھکوں کی رفتار تیز ہوئی تو نازو کو پتہ چل گیا کہ ابو فارغ ہونے والے ہیں .۔
آں . .
بھائی جان
افففففففففف
مجھے آپ کا مال پینا ہے . آپ میرے منہ میں فارغ ہوں ناپلیز .۔
یہ سنتے ہی ابو نے تیزی سے اپنا لوڑا نازو کی گانڈ سے باہر نکالا ۔۔
نازو مڑ کر کتیا بن گئیں اور ابو ان کے منہ کے سامنے بیٹھ کر اپنا لوڑا لہرانے لگے۔
پھوپھا بھی اپنا لوڑا ہاتھ سے ہلاتے ہوئے نازو کے سامنے گھٹنوں کے بل بیٹھ گئے۔
نازو نے ایک ہاتھ میں ابو کا لوڑا تھاما اور دوسرے ہاتھ سے پھوپھا کا لوڑا پکڑا اور دونوں لوڑوں کے چوپے لگانے لگیں کچھ ہی لمحوں میں ابو کے منہ سے سسکیاں نکلنے لگیں ان کا چہرہ لال ہو رہا تھا ابو کی یہ حالت دیکھ کر نازو نے ابو کالوڑا اپنے منہ میں بھر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے ابو کا لوڑا نازو کے منہ میں جھٹکے مارتا ہوا اپنا مال خارج کرنے لگا اور ان کے لوڑے سے اتنا مال نکلا کہ نازو کا پُورا منہ بھر گیا . اور ابو کی منی نازو کے منہ سے باہر بہنے لگی جسے نازو نے زبان سے چاٹتے ہوئے واپس منہ کے اندر کیا اور پینے لگیں۔
ابو کی منی پینے کے بعد نازو نے پھوپھا کی طرف مسکرا کر دیکھا تو وہ اپنا لوڑا پکڑے حسرت بھری نگاہوں سے نازو کو دیکھ رہے تھے جیسے کہہ رہے ہوں میرا بھی کچھ کرو۔
نازو نے پھوپھا کی آنکھوں سے بیان ہوتے ان کے جذبات کو قبول کیا اور اٹھتے ہوئے ان کے ہونٹوں پر ایک۔ کس۔ کی
ابو کی منی کا ذائقہ پھوپھا کی زبان نے بھی چکھا تو انہیں پہلے تو کچھ عجیب سا لگا مگر پھر وہ گرم جوشی سے نازو کے ہونٹوں کو چومنے لگے۔
کچھ دیر آپس میں کسنگ کرتے رہنے کے بعد نازو بیڈ پر لیٹ گئیں اور اپنی ٹانگیں فولڈ کر کے اپنے ہاتھوں میں پکڑ لیں۔اب نازو کی چوت کا سوراخ کھلے عام پھوپھا کے لوڑے کو اپنے اندر گھسنے کی دعوت دے رہا تھا ۔پھوپھا نے دیر نہ کرتے ہوئے لوڑے کو نازو کی چوت پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں سارا لوڑا گھسا ڈالا۔۔
آااااااااااہہہہہہہہہہہہ
م م م م م م م م م م
نازو کے منہ سے تیز سسکی خارج ہوئی۔
پھوپھا نے مشین چلانی شروع کردی ۔۔
گھپا گھپ۔۔۔۔۔ گھپا گھپ
لوڑے کے چوت میں اندر باہر ہونے کی آوازیں
پھوپھا اور نازو کی سسکیاں اور آہیں
ماحول ایسے گرم ہو چکا تھا کہ میں اپنے ارد گرد سے بے خبر اپنے لوڑے کو پاجامے سے باہر نکالے تیزی سے مٹھ مار رہا تھا۔۔
کہ ۔۔۔۔
اچانک۔۔۔۔
پھوپھا نے اپنا لوڑا چوت سے باہر کھینچا۔۔
اور لوڑے سے نکلتا ہوا سفید سفید مال اڑتا ہوا نازو کے چہرے، مموں اور پیٹ پر نقش و نگار بنانے لگا۔
ساتھ ہی نازو کی چوت سے ایک فوارہ نکلا جو اڑتا ہوا ان کی اپنی ہی رانوں کو بھگونے لگا۔۔
ادھر میری بھی بس ہوگئی اور میرےمنہ سے ایک تیز سسکی برآمد ہوئی ۔۔۔
آاااااااااااااہ
ساتھ ہی میرے لوڑے نے بھی وہیں دروازے پر منی کا چھڑکاؤ کرنا شروع کردیا۔