گھریلو عشق۔۔۔(قسط 20)

br>

ثانی۔ ڈالتے ہوئے نہیں پوچھتے کتنا ڈالنا ہے۔
میں۔ ثانی میں بیلنس کی بات کر رہا ہوں۔
ثانی۔ بھائی آپ دیکھ لیں جتنا ڈالنا ہو ڈال دیں۔ بھائی آپ بھی پتا نہیں کیا کہہ رہے ہیں کتنا ڈالوں، بھائی آپ 500 کا بیلنس ڈال دیں بس اب سمجھ آگئی۔
میں۔ جی میری گڑیا ڈال دوں گا۔
ثانی۔ اوکے بھائی امی بلا رہی ہیں پھر بات کرتی ہوں اور ڈالنا مت بھولیے گا!

یہ کہہ کر ثانی نے فون کاٹ دیا۔ میں سوچ میں پڑ گیا کہ یہ ہو کیا رہا ہے، ثانی بھی میرے نیچے آنے کو تیار لگ رہی ہے لیکن ثانی تو ابھی بہت چھوٹی ہے، وہ تو میرا ایک جھٹکا بھی برداشت نہیں کرے گی۔ اس کی چوت تو ابھی بہت چھوٹی ہے، اگر امی کو پتا چل گیا کہ ثانی کو بھی چود دیا ہے تو حالات خراب ہو جائیں گے۔

دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔ شاپ پر کسٹمر آنے لگے میں اپنے کام میں بزی ہو گیا۔ 5 بجے نازی کا میسج آیا "جان 5 بج گئے ہیں اب آجائیں"۔ میں نے نازی کو کال کی اور کہا "بس بیگم آرہا ہوں" اور فون کاٹ دیا۔ اسلم صاحب کو سب کچھ سمجھا کر میں شاپ سے نکل آیا اور یہ دل میں سوچنے لگا کہ عورت بیوی ہو یا بہن، چودائی کروانے کے بعد الگ قسم کی محبت ہو جاتی ہے اور نازی بھی چودائی کروانے کے بعد والی محبت میں گرفتار ہو گئی ہے۔

یہ سوچتے ہوئے میں جیولری کی شاپ پر پہنچا اور نازیہ کی منہ دکھائی کے لیے ایک سونے کی اچھی سی رنگ لی اور بائیک گھر کی طرف موڑ لی۔ نازیہ کا میسج آیا "کہاں ہیں؟" میں نے ریپلائی دیا "جان آرہا ہوں"۔ گھر پہنچا تو گیٹ نازیہ نے کھولا۔ نازیہ نے پنک کلر کا کرتا اور بلیک ٹائٹ پجامہ پہنا ہوا تھا، ہلکا ہلکا میک اپ، آنکھوں میں کاجل اور بال پونی اسٹائل میں بنائے ہوئے تھے۔ نازی کو دیکھا تو وہ بالکل نئی نویلی دلہن کی طرح اپنے شوہر کے آنے سے پہلے تیار ہوئی تھی۔

نازی مجھے ایسے دیکھتے ہوئے بولی: "کیا ہوا ایسے کیا دیکھ رہے ہیں؟"
میں۔ جان، اپنی پیاری بیوی کو، بہت خوبصورت لگ رہی ہو۔
نازی۔ اچھا اندر آئیں ابھی رومنٹک نہ بنیں، خالہ اندر ہیں۔

میں اندر گیا تو خالہ لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھیں۔ خالہ کو دیکھا تو خالہ بھی قیامت لگ رہی تھیں۔ خالہ نے سی گرین ٹائٹ شلوار قمیض پہنی تھی جس سے ان کی برا صاف نظر آرہی تھی اور شرٹ کا گلا بھی کافی لو کٹ تھا کیونکہ خالہ جس اسٹائل میں بیٹھی تھیں اس کی وجہ سے ان کے ممے ایسے نظر آرہے تھے کہ ابھی شرٹ سے باہر آجائیں گے۔

خالہ نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا: "آؤ بھانجے، خیریت آج تو جلدی آگئے، آج کوئی خاص پروگرام ہے؟"
نازیہ بھی لاؤنج میں آگئی اور بولی: "بھائی آپ فریش ہو جائیں تو چائے بنا دوں۔"
خالہ بولیں: "جاؤ بھانجے فریش ہو جاؤ، پھر چائے پی کر مجھے گھر چھوڑ کر آجاؤ۔"
میں۔ کیوں خالہ آپ رکیں گی نہیں؟
خالہ۔ بھانجے، سسر صاحب گھر آگئے ہیں تو اس لیے جانا پڑے گا، صبح آجاؤں گی۔

میں اوپر آیا اور نہانے کے بعد جینز اور ٹی شرٹ پہن کر نیچے آیا تو نازیہ چائے لے کر آگئی۔
خالہ نے مجھے دیکھا تو بولیں: "کیا بھانجے، آج کوئی اسپیشل پروگرام ہے؟ بہت اچھے لگ رہے ہو اور آج تو پہلی دفعہ نازیہ کو بھی اس طرح تیار دیکھا ہے، یہ چکر کیا ہے؟"
میں۔ ارے خالہ کچھ نہیں، آپ رک جاتیں تو ہم تینوں باہر کھانا کھانے چلتے۔
خالہ۔ باجی کے نہ ہونے سے تم بھائی بہن کے مزے لگے ہیں، آج پھر باہر جانے کا موڈ ہے؟
میں۔ خالہ کبھی کبھی تو موقع ملتا ہے۔
خالہ۔ بھانجے اس موقع کا تم دونوں فائدہ اٹھا رہے ہو۔

خالہ ہم دونوں کو دیکھتے ہوئے کہہ رہی تھیں۔ میں نے بات بدلتے ہوئے کہا: "خالہ ایسے ہی باہر آؤٹنگ کرنے جائیں گے۔"
خالہ۔ اوکے اب مجھے گھر چھوڑ کر آؤ۔

میں بھی یہی چاہ رہا تھا کہ خالہ جلدی گھر جائیں تو میں نازیہ کو لے کر باہر جاؤں۔ میں نے بائیک نکالی، خالہ پیچھے بیٹھ گئیں۔ نازیہ نے گیٹ بند کیا۔ خالہ پیچھے سے اپنے ممے میری کمر سے ٹچ کرتے ہوئے بولیں: "بھانجے مبارک ہو بہن کی کنواری چوت!"

یہ سنتے ہی میں نے ایک دم بریک لگا دی اور بولا: "خالہ یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں؟"
خالہ۔ بھانجے بائیک چلاؤ پریشان نہ ہو۔
میں۔ خالہ یہ کیسے آپ نے کہا؟
خالہ۔ بھانجے میں یہ بات یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ کل رات تم نے نازیہ کی کنواری چوت لے لی ہے جس کا ثبوت میں نے تمہاری امی کی بیڈ شیٹ پر دیکھ لیا ہے۔ رات تم نے نازیہ کی چوت پھاڑ دی ہے۔ میں نے نازیہ سے کوئی بات نہیں کی، اب تم مجھے بتاؤ اور فکر نہ کرو میں تمہاری دوست ہوں اور تم نے مجھے بھی تو چودا ہے۔

میں نے سوچا اب خالہ سے کیا چھپانا اور ان سے کہہ دیا: "جی خالہ آپ ٹھیک کہہ رہی ہیں۔"
خالہ۔ آج بھی میں اسی وجہ سے گھر جا رہی ہوں کہ تم آج کی رات بھی نازیہ کو چود سکو لیکن ایک شرط ہے کہ تم مجھے بھی چودو گے تو پھر یہ راز میرے تک رہے گا۔
میں۔ خالہ آپ جیسا کہیں گی ویسا ہی ہو گا۔
خالہ۔ گڈ بھانجے، رات کو نازیہ کی چوت کا مزہ لو اور صبح مجھے تم لینے آنا، اور جب لینے آؤ پھر مجھے بھی چودنا میری چوت کی پیاس اور بڑھ گئی ہے جب سے تمہارا لن چوت میں گیا ہے۔

خالہ نے ممے میری بیک سے دباتے ہوئے کہا۔ اسی طرح باتیں کرتے ہوئے خالہ کا گھر آگیا۔ خالہ کو ان کے گھر اتارا تو وہ اترتے ہوئے بولیں: "رات کتنی دفعہ نازی کو چودا؟"
میں۔ خالہ بس ایک دفعہ۔
خالہ۔ اوکے آج عیاشی کرو، دو دفعہ چودنا۔ مجھے تو نازی کو دیکھتے ہی پتا چل گیا تھا کہ رات کو تم دونوں نے کچھ کیا ہے، تمہاری چودائی نے نازیہ کو اور زیادہ خوبصورت کر دیا ہے۔

خالہ گھر میں داخل ہوتے ہوئے بولیں: "صبح بھانجے آجانا۔" میں نے خالہ کے ممے دباتے ہوئے کہا: "اوکے جی آجاؤں گا۔" خالہ اپنے گھر چلی گئیں، میں نے بائیک اپنے گھر کی طرف موڑی اور یہ فیصلہ کیا کہ یہ سب باتیں نازی کو نہیں بتاؤں گا ورنہ وہ پریشان ہو جائے گی۔ گھر پہنچا تو نازی نے گیٹ کھولا۔
میں۔ بیگم، بائیک پر چلنا ہے یا گاڑی پر؟
نازی۔ بائیک پر۔
میں۔ آجاؤ۔
نازی۔ میں عبایا پہن کر آتی ہوں۔
میں۔ جان ایسے ہی آجاؤ آج عبایا نہ پہنو۔
نازی۔ ایک منٹ رکیں، آرہی ہوں۔

تھوڑی دیر بعد نازی آگئی، گیٹ لاک کیا اور بائیک پر مجھ سے چپک کر بیٹھ گئی۔
میں۔ جی بیگم کہاں چلنا ہے؟
نازی۔ کامی جہاں آپ کا دل کرے۔

نازیہ کے ممے میری بیک سے ٹچ ہو رہے تھے اور ایک ہاتھ میری ران پر رکھا ہوا تھا۔ ہم دونوں ایک نئی شادی شدہ جوڑی لگ رہے تھے۔
نازیہ۔ کامی مجھے موتیے کے گجرے لے کر دینے ہیں۔
میں۔ بیگم واپسی پر لے دوں گا۔
نازیہ۔ خالہ کو تو کوئی شک نہیں ہوا؟
میں۔ نہیں تو۔
نازی۔ آج خالہ کہہ رہی تھیں کہ تم میں بہت تبدیلی آگئی ہے، میں تو چپ رہی کوئی جواب نہیں دیا، کامی امی کو اگر خالہ نے بتا دیا تو کیا ہو گا؟
میں۔ جان نہیں بتائیں گی۔
نازی۔ کامی مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔
میں۔ جان ڈرو نہیں میں ہوں نہ، میں سب ہینڈل کر لوں گا۔
نازی۔ کامی بس اب تو نازی آپ کی ہو گئی ہے۔ آج سارا دن آپ کو یاد کیا، یہ میاں بیوی والا پیار کیسا ہوتا ہے۔
میں۔ جان ہمارا پیار "گھر کا پیار" جو ہے، اور جان میں اب تمہارا ہوں۔
نازی۔ کامی بس میں بھی یہی چاہتی ہوں کہ بس آپ میرے ہی رہیں۔

باتیں کرتے کرتے ہم لوگ پیزا ہٹ پہنچ گئے۔ وہاں ایک مانگنے والی عورت آگئی اور دعائیں دینے لگی "جوڑی سلامت رہے بابو، اپنی بیوی کا صدقہ دے"۔ میں نے اسے پیسے دیے اور اندر داخل ہو گئے۔
نازی۔ کامی ہم دونوں تو اب کہیں سے بھی بھائی بہن نہیں لگ رہے، دیکھو لوگ کس طرح ہمیں دیکھ رہے ہیں اور آج آپ نے عبایا بھی نہیں پہننے دیا۔
میں۔ نازی تم ٹھیک کہہ رہی ہو، سب کی نظریں ہماری طرف ہیں۔

ہم ایک ایسی جگہ بیٹھ گئے جہاں کم لوگ تھے۔ نازیہ نے پیزا آرڈر کیا۔ پیزا کھا کر باہر آئے تو نازی بولی: "کامی چلیں تھوڑا اس شاپنگ مال کا چکر لگا لیں۔"
میں۔ چلو جان۔

ہم شاپنگ سینٹر چلے گئے، وہاں گھومتے ہوئے مجھے انڈر گارمنٹس کی ایک شاپ نظر آئی۔
میں۔ نازی یہاں سے کچھ لینا ہے؟
نازی۔ کامی ایک نائٹی لے لیں۔

ہم اندر گئے، سیلز گرل نے نائٹی دکھائی: "میم یہ والی نائٹی آپ پر بہت اچھی لگے گی"۔ وہ ہاف ٹرانسپیرنٹ نائٹی تھی۔
نازی۔ نہیں کوئی اور دکھا دیں۔
میں۔ نازی یہ لے لو۔
نازی نے مسکراتے ہوئے دیکھا اور کہا: "اوکے جی"۔ ہم نے نائٹی اور ٹراؤزر لیا، باہر سے موتیے کے گجرے لیے اور پان کھایا۔

گھر پہنچے تو نازی مجھ سے لپٹ گئی۔ میں نے اسے پیار کرتے ہوئے کہا: "جان آج تو سب لوگ ہمیں ہی دیکھ رہے تھے"۔
نازی۔ آپ ہو ہی اتنے اسمارٹ!

ہم ایک دوسرے سے لپٹے ہوئے پیار کر رہے تھے، نازی کے ہونٹ میرے منہ میں تھے۔
نازی۔ کامران آپ روم میں چلیں، میں شاور لے کر آتی ہوں۔
میں۔ جان جلدی آجاؤ۔
نازی۔ کیوں جی جلدی کیا ہے؟ آج ہماری دوسری سہاگ رات ہے، آج آپ کی دلہن پوری تیار ہو گی۔
میں نے ممے دباتے ہوئے کہا: "جان بس نائٹی پہن کر آجاؤ۔"
نازی۔ اوپر چلیں میں آپ کے روم میں آتی ہوں۔

نازی اپنے روم میں چلی گئی میں اپنے روم میں آگیا۔ کپڑے اتار رہا تھا کہ موبائل پر ثانی کا میسج آیا۔
ثانی۔ بھائی کیا ہو رہا ہے؟
میں۔ میں نہانے جا رہا ہوں۔
ثانی۔ اس ٹائم کیوں نہا رہے ہیں؟
میں۔ میری گڑیا، نہانے کا کوئی فکس ٹائم نہیں ہوتا جب دل کرے نہا لو۔
ثانی۔ اوکے جی آپ نہا لیں اور شکریہ آپ نے ڈال دیا تھا۔
میں۔ ابھی کہاں ڈالا، ابھی تو ڈالوں گا۔
ثانی۔ کیا ابھی ڈالیں گے؟
میں۔ تم کیا ڈالنے کا کہہ رہی ہو؟

The post گھریلو عشق۔۔۔(قسط 20) appeared first on Urdu Stories.

Leave a Comment