گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 49)

میں نے رک کر شمع کی طرف دیکھا وہ مجھے ہی دیکھ رہی تھی اس کی آنکھیں سوجی ہوئی تھیں جیسے پوری رات جاگتی رہی ہو۔۔۔

میں نے اس کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو اس نے بجھے ہوئے لہجے میں کہا تم بہت بڑے ہو میرے جذبات کی کوئی قدر ہی نہیں ہے تمہیں میں پوری رات تڑپتی رہی بار بار باہر دیکھتی رہی کہ تم آو گے لیکن ناں تم نے نہ آنا تھا نہ آئے۔۔۔

میں بس اس کی طرف دیکھی جا رہا تھا اس نے پھر بولنا شروع کیا اور مجھے کہا جب تم نہیں آئے تو میں اس انتظار میں رہی کہ جیسے ہی تم واش روم جانے کے لیے نکلو گے تو میں تمہیں بلا لوں گی۔۔۔

لیکن تم پھر بھی نہ آئے اب آئے ہو تو ایسے ہی واپس جا رہے ہو میں نے شلوار بھی پھاڑ دی تاکہ تمہیں انتظار نہ کرنا پڑے بس آو اور جلدی جلدی کر کے چلے جاؤ لیکن تمہارے لیے تو بس سب کچھ شانزل ہی ہے میری کوئی اہمیت نہیں ہے۔۔۔

میں نے اس کی طرف دیکھا اور مسکرا کر بولا اچھا سنو ایسے کیسے ہو سکتا ہے کہ بس جلدی جلدی کروں اور بھاگ جاؤں میں تمہارے ساتھ تسلی سے کرنا چاہتا ہوں ایسے نہیں جس میں مزہ ہی نہ آئے۔۔۔

بس تھوڑا انتظار کر لو کوئی نہ کوئی بندوبست کر لیتے ہیں اب شانزل کے ہوتے ہوئے تو اتنی آسانی سے ایسا موقع ملے گا نہیں جس دن وہ نہ ہوئی اس دن دیکھیں گے ۔۔۔

وہ خوش ہو گئی اور اٹھ کر میرے پاس آئی مجھے کس کر گلے لگایا اور ایک لمبی کس کی میں نے اس کو خود سے الگ کرتے ہوئے کہا اتنی بے صبری اچھی نہیں ہوتی اگر شانزل نے دیکھ لیا تو مسئلہ ہو جائے گا پھر جو امید ہے وہ بھی نہیں رہے گی۔۔۔

اس نے مسکرا کر کہا ٹھیک ہے جیسے تم کہو گے ویسے کروں گی اب مجھے یقین ہے تم میرا دل نہیں توڑو گے میں انتظار کروں گی اس پل کا جب میرے ساتھ تم خوب پیار کرو گے۔۔۔

میں نے اس کے گال پر ہاتھ پھیرا باہر نکل گیا کیونکہ شانزل کی آواز آگئی تھی کہ ناشتہ تیار ہے جلدی کرو پھر تم کہو گے بھوکا ہی بھیج دیا میں جلدی سے گیا اور ناشتہ کیا ناشتہ کرتے ہوئے ہی میں نے شانزل سے پوچھا ۔۔۔

ایک بات پوچھوں سچ سچ بتاؤ گی۔۔۔شانزل نے کہا ہاں پوچھو۔۔۔

میں نے کہا جس رات تم سو گئی تھی کیا اس رات تم سچ مچ سو گئی تھی یا کوئی اور بات تھی ۔۔۔

شانزل نے میری طرف غور سے دیکھا اور مسکراتے ہوئے بولی اگر سچ پوچھنا ہے تو میں نہیں بتاؤں گی ہاں لیکن اگر تم یہ کہو کہ میں سو گئی تھی تو یہ سچ ہے مجھے نیند آ گئی تھی۔۔۔

میں مزید الجھ گیا اب اس بات کو سچ مانوں یا جو وہ کہہ رہی ہے اس کو سچ مانوں اس نے بڑا الجھانے والا جواب دیا تھا۔۔۔

میں نے اس کو اس کے بارے کچھ نہ کہا تو وہ بولی بلو کچھ باتیں ایسی ہوتی ہیں جو نہ چاہتے ہوئے بھی انسان کو کرنا پڑتی ہیں میں تمہیں سب کچھ بتاوں گی لیکن ابھی نہیں پہلے تم شمع کو سمجھا لو مجھے لگتا ہے وہ تمہاری بات مان لے گی۔۔۔

ویسے رات شمع نے تمہیں کیا بتایا میں نے جھوٹ بولتے ہوئے کہا وہ کچھ بتاتی تو تب ہی ناں جب ہمیں کچھ ٹائم ملتا ابھی اس کو اس بات پر لانے ہی والا تھا کہ تم آگئی۔۔۔

شانزل کمال کی کند ذہن تھی وہ یہ بھی بھول گئی تھی کہ شمع کے پاس جانے سے پہلے میں نے اس کو بتایا تھا کہ وہ خود ہی مجھ سے کوئی بات کرنا چاہتی ہے اس لیے میں اس کے پاس جا رہا ہوں۔۔۔

دیر ناشتہ کرنے کے بعد میں اٹھا ہاتھ دھوئے اور جانے سے پہلے شانزل کو بھرپور کس کیا گلے لگایا شانزل نے کہا آج کا دن بڑا اچھا گزرے گا ہلکی پھلکی درد بھی ہے لیکن اس درد میں بھی مزہ ہے۔۔۔

میں وہاں سے گھر گیا کل جو یونیفارم لایا تھا وہ زیب تن کیا اور کالج کے لیے نکل پڑا کالج جانے کے بعد آج کا سارا دن اسی بھاگ دوڑ میں گزر گیا سارا دن جو بھی کلاس خالی ہوتی اس میں ہم اگلے لائحہ عمل پر غور کرتے گزار دیتے۔۔۔

اوپر سے تھانے والا معاملہ بھی بڑھ گیا تھا آج پولیس کالج آگئی تھی یہاں بچوں سے پوچھ گچھ کی مجھ سے تو خاص طور پر تفصیل سے پوچھا میں نے اپنی طرف سے ان کو تسلی بخش جواب دیا ۔۔۔

ایسے ہی سارا دن گزر گیا ایک بات ہوئی کہ کالج کے گراؤنڈ میں ہم نے آج کرکٹ کی پریکٹس کی میں نے اور ہماری کلاس کے کافی بچوں نے اپنے جوہر دکھائے۔۔۔

کافی لڑکوں نے اپنے نام لکھوا کر حصہ لینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا لیکن جب ہم نے پریکٹس کی تو کافی میں سے ہم نے بس 13 لڑکے سلیکٹ کیے دوسری طرف ہمارے مخالفین نے بھی اپنی ٹیم کا انتخاب کر لیا تھا۔۔۔

چھٹی کے بعد ہم سب گھر جانے کے لیے نکل پڑے شاہ نے مجھے کہا آج تم دوپہر کا کھانا میرے گھر کھا کر جانا میرے ساتھ چلو میں نے منع بھی کیا لیکن شاہ نہ مانا مجھے زبردستی اپنے گھر لے گیا۔۔۔

وہ مجھے سیدھا گھر کے اندر ہی لے گیا اس کی والدہ ایک نرم مزاج خاتون تھیں میرے سر کر پیار دیا اور مجھے ایک کمرے میں بٹھایا میں نے شاہ سے کہا یار ایسے اچھا نہیں لگتا میں چلتا ہوں۔۔۔

اسی وقت شاہ کی امی پانی لے آئیں ان کے پیچھے پیچھے ایک ماہ نور دمکتا ستارہ بڑی بڑی کالی آنکھیں ان میں چمکتے موتی سجائے ایک خوبصورت دوشیزہ اندر داخل ہوئی۔۔۔

اس نے مجھے سلام کیا اور میز پر بوتل کے گلاس رکھے ساتھ ہی کچھ نمکو وغیرہ بیی رکھی میں کو جانے کے لیے پر تول رہا تھا اس حسین صورت کو دیکھ کر اپنا ارادہ ترک کر دیا اور خود کو کوسنے لگا کہ کیسی غلطی کرنے کا رہا تھا۔۔۔

وہ تو گلاس رکھ کر جا چکی تھی لیکن میں سٹی گم ہو گئی تھی میں چپ ہو کر بیٹھ گیا شاہ تو جیسا خوبصورت تھا سو تھا لیکن اس کی والدہ بھی بہت خوبصورت تھیں لیکن اس کی بہن تھی یا جو بھی تھی وہ ان دونوں سے بڑھ کر تھی۔۔۔

میں نےبوتل کا گلاس اٹھایا اور پینے لگا شاہ نے گلا کھنکارتے ہوئے کہا امی جی آپ نے جو بات کرنی ہے کر لیں یہ ہی میرا یار بلو ہے جس کے بارے میں آپ سے بات ہوئی تھی۔۔۔

شاہ کی امی نے گلا کھنکار کر صاف کیا اور بولی دیکھو بیٹا تم عثمان کے دوست ہو اس رشتے سے میرے بیٹے ہی ہو آج تک عثمان کسی دوست کو گھر نہیں لایا اور نہ ہی ہم نے کبھی اس کو اس بات کی اجازت دی ہے۔۔۔

عثمان نے تمہاری اتنی تعریفیں کی ہیں کہ مجھ سے رہا نہیں گیا کہ اپنے بیٹے سے ملنے سے خود کو روک سکوں جیسا عثمان سے سنا اور جیسا وہاں پڑھنے والی اپنی بھانجی سے سنا ان سب باتوں کو سن کر مجھے بڑی خوشی ہوئی کہ عثمان کا دوست کیسا اچھا انسان ہے۔۔۔

میں ان کی باتوں سے اندازہ لگانے کی کوشش کر رہا تھا کہ معاملہ کیا ہے کیونکہ یہ تو میں سمجھ چکا تھا یہ تعریف ایسے ہی نہیں ہو رہی اس کے بعد اصل بات ہو گئی یہ تو صرف تمہید باندھ رہی ہیں۔۔۔

میں نے آنٹی سے کہا آنٹی اب ایسی بھی بات نہیں ہے آپ کچھ زیادہ کی تعریف کر رہی ہیں پتہ نہیں عثمان نے آپ کو میرے بارے میں کیا الٹی سیدھی باتیں بتا دیں ہیں۔۔۔

آنٹی نے ہنسنتے ہوئے کہا بیٹا عثمان میرا بیٹا ہے اور اکلوتا بیٹا ہے اس کے باپ کے فوت ہونے کے بعد میں نے اس کو بڑے نازونعم سے پالا ہے اس کی کر خواہش پوری کی ہے اور ایک بات جو میں اس کے بارے میں جانتی ہوں یہ جھوٹ نہیں بولتا۔۔۔

اس کے بڑے دوست رہے ہیں لیکن یہ مجھے سب کے بارے میں بتاتا رہا ہے لیکن کبھی کسی کے بارے میں اتنا خوش ہو کر نہیں بتایا اس نے اور یہ بھی بتا رہا تھا کہ تم سکول میں بھی اس کے ساتھ پڑھتے تھے۔۔۔

میں نے سر جھکائے ہوئے ہی کہا ۔۔۔جی میں اس کے ساتھ پڑھتا رہا ہوں۔ آنٹی نے کہا بیٹا جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اچھا ہے سب کچھ ٹھیک کر رہے ہو مجھے ودحت نے بتایا کہ تم نے کالج میں ایک لڑکے سے لڑائی کی تھی جو لڑکیوں کو تنگ کرتا تھا۔۔۔

میں نے کہا بس ہو گیا ایسا۔۔۔آنٹی نے میری بات کاٹتے ہوئے کہا ہو کیسے گیا اچھے کام کرکے بھی چھپا رہے ہو انہوں نے اٹھ کر میرے سر پر ہاتھ پھیرا مجھے شرمندگی ہونے لگی وہ اتنی اپنائیت سے پیش آ رہی تھیں لیکن بات واضح نہیں کر رہی تھیں اصل میں وہ کہنا کیا چاہتی ہیں ۔۔۔

انہوں نے کہا تم دونوں بیٹھو میں کھانا لاتی ہوں وہ باہر نکل گئیں میں نے ان کے نکلتے ہی شاہ کی گردن دبوچ لی اور کہا سالیا یہ کیا بکواس کرتے رہتے ہو میرے بارے میں عثمان شاہ نے کہا یار میں کیا کرتا وہ میری کزن وہاں پڑھتی ہے میں نے تمہیں نہیں بتایا بلکہ کسی کو بھی نہیں بتایا ۔۔۔

اس نے ہی گھر آ کر امی جان کو کچھ الٹا سیدھا بتایا تھا جس کے بعد امی جان نے مجھ سے تمہارے بارے میں پوچھا تو مجبوراً جو کچھ میرے منہ میں آیا وہ بتاتا گیا لیکن ایک بات ہے میں نے جو کچھ بتایا وہ غلط نہیں تھا اس بات کی تصدیق امی جان نے ودحت سے بھی کی تھی۔۔۔

پھر ایک دن میری آپی بھی کالج گئی تھی ودحت کے ساتھ مجھے اس نے واپس آ کر بتایا کہ وہ کالج گئی تھی اس نے تمہیں وہاں دیکھا جس دن تم نے کالج میں لڑکوں کو باہر جانے سے روکا تھا اور عاذب بھی تم سے ملا تھا۔۔۔

اس دن جو لڑکی وہاں آئی تھی کینٹین میں وہ اصل میں میری کزن تھی مجھے اس نے گھر آ کر بتایا تھا مجھے جہاں تک شک کے آپی کو ودحت نے بتایا اور آپی نے امی جان کو بتایا لیکن اصل بات کچھ اور ہے عثمان کچھ اور بھی بتانا چاہتا تھا لیکن اسی وقت اس کی والدہ اندر داخل ہوئیں ان کے ہاتھ میں کھانے کے برتن تھے ان کے پیچھے وہ لڑکی بھی تھی۔۔۔

اس بار میں نے اپنی نظروں کو قابو میں رکھا حتیٰ الامکان کوشش کی کہ اس کی طرف نہ دیکھوں لیکن نظر پھر بھی بھٹک رہی تھی اس کے چہرے پر نور کا ایک ہالا سا بنا ہوا تھا بڑ معصوم سا چہرہ تھا جس کو دیکھے بغیر رہا نہیں جا رہا تھا۔۔۔

وہ کھانا چن کر چلی گئی لیکن عثمان کی امی جان وہاں ہی ہمارے پاس بیٹھ گئیں اور ہمیں کھانا کھانے کا کہا میں نے ان کو بھی کھانا کھانے کا کہا لیکن انہوں نے انکار کر دیا اور مجھے کھانا ڈال کر دیا ۔۔۔

ہم نے کھانا کھایا وہ برتن اکٹھے کرکے لے گئیں اور میں نے عثمان سے کہا اس بارے میں بعد میں بات کریں گے اور ہاں میں جو سمجھ رہا ہوں اگر وہ بات ہے تو تم سب جانتے ہو اس میں میرا کوئی کردار نہیں ہے سب کچھ یک طرفہ ہے۔۔۔

اسی وقت عثمان کی امی اندر داخل ہوئیں اور مسکراتے ہوئے بولیں کیا باتیں ہو رہی ہیں لگتا ہے میرا بیٹا کچھ پریشان ہو گیا میں نے شرمندہ ہو کر کہا ایسی کوئی بات نہیں ہے ۔۔۔

وہ اسی مسکراہٹ سے بولیں ماں ہوں میں اور بچوں کو سمجھنے کی طاقت میرے پاس ہے کوئی بات نہیں بس ایک بات کا خیال رکھنا بیٹا عثمان میرا اکلوتا بیٹا ہے اور میرے بڑھاپے کا سہارا ہے اس کے اباجان اس وقت دنیا چھوڑ گئے تھے جب یہ صرف چار سال کا تھا میں نے اس کو بڑی مشکلوں سے پالا ہے۔۔۔

یہ سب کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور روتے ہوئے بولیں یہ میری بات نہیں مانے گا لیکن میں یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم غلط نہیں ہو تمہارے سامنے ہاتھ جوڑتی ہوں اس کو اس سب سے دور رکھنا ۔۔۔

میں نے ان کے ہاتھ پکڑ لیے اور ان کو یقین دلایا کہ عثمان کا اس سب سے کوئی تعلق نہیں ہوگا وہ صرف میرا دوست ہے اور دوست رہے گا باقی میں جو کچھ کر رہا ہوں اس میں اس کو شامل نہیں کر رہا ۔۔۔

آپ میری طرف سے بے فکر رہیں آپ نے مجھے بیٹا کہا ہے تو میرا فرض بنتا ہے ماں کا حکم مانو آپ درخوست کر کے مجھے میری نظروں میں نہ گرائیں ۔۔۔

انہوں نے میرا ماتھا چوم لیا اور بڑے پیار سے مجھے دیکھا میں نے کہا آپ کا ایک نہیں دو بیٹے ہیں کسی بھی قسم کی کوئی پریشانی ہو تو مجھے بتائیے گا میں اپنی سی کوشش کروں گا کہ آپ کے کام آ سکوں اور میرے لیے یہ بڑی خوشی کی بات ہو گی۔۔۔

وہ اندر چلی گئیں میں نے عثمان سے اجازت لی وہ مجھے چھوڑنے دروازے تک ساتھ آیا ہم دروازے پر پہنچے ہی تھے کہ ایک سریلی سی آواز میرے کانوں میں پڑی عثمان نے اور میں ایک ساتھ مڑ کر دیکھا تو پیچھے ایک خوبصورت آنکھوں والی لڑکی کھڑی تھی ۔۔۔

آنکھوں والی اس لیے کہا کہ اس نے نقاب کیا ہوا تھا عثمان نے اس کو دیکھ کر میری طرف دیکھا تو میں نے بھی عثمان کو دیکھا اس لڑکی نے کہا عثمان مجھے ایک منٹ ان سے بات کرنے دو ۔۔۔

عثمان نے عجیب سا منہ بناتے ہوئے کہا جو بھی بات کرنی ہے میرے سامنے کرو اس نے کہا میں نے پہلے بھی کہا تھا کہ میں نے بلو سے اکیلے میں بات کرنی ہے پلیز بس دو منٹ پلیز عثمان مان جاؤ۔۔۔

عثمان نے منہ پھلائے ہوئے کہا اچھا میں باہر کھڑا ہوں بس ایک منٹ ہے عثمان دروازے سے باہر نکل گیا اس لڑکی نے مجھے ایک کاغذ پکڑایا اور کہا اس میں سب کچھ لکھا ہے مجھے امید ہے آپ سب سمجھیں گے اور میری مدد کریں گے۔۔۔

میں نے خط پکڑ لیا اور اس سے اجازت لی باہر نکل گیا باہر عثمان کھڑا تھا میں نے عثمان سے مل کر اجازت لی اور گھر آگیا گھر آ کر سو گیا اس کے بعد ٹیوشن اور شام کو گھر آیا ۔۔۔

شام کو شانزل ہمارے گھر آئی اس نے بتایا کہ اس کی خالا آگئی ہے وہ آج میری طرف دیکھ بھی نہیں رہی تھی رات کو سونے سے پہلے سے ڈاکٹر عمائمہ کی کال آئی اس سے ہلکی ہھلکی بات چیت ہوئی آج وقت ملا تو میں نے شمع کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا ۔۔۔

ایک بار پھر موبائل کو اچھے سے چیک کیا اس میں مجھے کافی میسج ملے جن میں اس کو یہ کہا گیا کہ آج تم نے فلاں گھر جانا ہے وہاں تم سے مال لے گا ساتھ نام بھی تھے آج سکول سے نکلتے وقت ایک عورت تم سے ملے گی اس کو دے دینا وغیرہ وغیرہ ۔۔۔

میں آج اس سب کو کسی اور نظر سے پڑھ رہا تھا کیونکہ مجھے جو کچھ شمع نے بتایا تھا اس کی روشنی میں دیکھنا شروع کیا تو سب کچھ واضح ہوتا چلا گیا اب مسئلہ یہ تھا اس سارے معاملے کو کیسے نبٹایا جائے۔۔۔

سب سے پہلے تو شمع کو اس سب سے بچانا تھا اس کے لیے مجھے ڈاکٹر عمائمہ کو ڈھال بنانا ہوگا اس کو کیسے ہینڈل کرنا یہ میں نے پلان بنایا اور اس پر عمل کرنے کے لیے مجھے کیا کرنا تھا اس پر اچھے سے غور کیا تمام باتوں کو ذہن نشین کرنے کے بعد میں سو گیا۔۔۔

اگلی صبح میں ایک مشن لے کر اٹھا آج بڑے دنوں بعد میں نے ہلکی پھلکی ورزش کی دوڑ لگائی جسم کو چست رکھنے کے لیے یہ ضروری تھا اب میرے اندر ایک نیا جذبہ پیدا ہو رہا تھا ۔۔۔

میں اسی نئے جذبے کے ساتھ کالج گیا اور کالج جاتے ہی میں نے عاذب کو ڈھونڈا اس سے وہ سب لیا جو اس دن پرویز صاحب کے ہاں سے نکلتے ہوئے عاذب نے مجھے دیا تھا ۔۔۔

میں اس کو پڑھنا شروع کیا تو میرے دماغ میں زلزلے شروع ہو گئے اس سب میں ایک دو نہیں بلکہ سو کے قریب لوگ شامل تھے جن میں سے کچھ تو کالج کے بھی تھے جن کا تعلق ان لوگوں سے تھا ۔۔۔

میں یہ سب پڑھ کر اور الجھتا گیا اب مجھے اس پر کسی سے بات کرنا تھی جو اس سب سے اچھی طرح واقف ہو اس کے لیے میرے ذہن میں دو نام تھے ایک شاہ زیب دوسرا نام عاذب کا تھا اور ان سے ہٹ کر اگر میں کسی کر بھروسہ کر سکتا تھا تو وہ بھا ہاشم تھے۔۔۔

میں نے یہ آدھا دن لائبریری میں وہ سارے نام پڑھنے میں گزار دئیے ان کی تفصیل ان کے کام کا طریقہ کار ڈاکٹر عمائمہ کا نام سب سے اوپر تھا کیونکہ اس کا تعلق گرلز کالج تک پھیلا ہوا تھا ۔۔۔

گرلز کالج کا نام آتے ہی میرے دماغ میں عثمان کے گھر مجھے جو خط اس لڑکی نے دیا تھا وہ آیا میں نے فوراً اپنی جیبوں کی تلاشی لی تو مجھے وہ خط مل گیا۔۔۔

میں نے وہ خط پڑھنا شروع کیا تو میرے چہرے پر مسکراہٹ پھیلتی چلی گئی کل سے لے آج تک یہ پہلی بات تھی جس سے مجھے پریشانی نہیں ہوئی تھی ورنہ تو میرے لیے کل سے صرف پریشانیاں اور الجھنیں ہی تھیں۔۔۔

جس لڑکی کے بارے میں اتنے دن سے سوچ رہا تھا کہ وہ کون ہے جو ایسا کر رہی ہے نا صرف اس کا پتہ چل گیا تھا بلکہ اس نے مجھے آج ملنے کا بھی کہا تھا جو وقت دیا تھا جب وقت تک پہنچا تو میں نے فوراً کھڑی پر نظر دوڑائی اوہ شٹ یہ بس دس منٹ باقی تھے ۔۔۔

میں نے جلدی سے وہ فائل بند کی خط جتنا پڑھا تھا اس کو بھی فولڈ کرکے جیب میں ڈالا اور عاذب کو ڈھونڈ کر فائل اس کو دی اور اس کی بتائی ہوئی جگہ کی طرف چل پڑا میری سپیڈ بہت تیز تھی میں ارد گرد سے بے نیاز ہو کر دوڑنے کے انداز میں جا رہا تھا۔۔۔

میں جیسے ہی ماسٹرز بلاک سے باہر نکلا میری آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا میں زمین پر گرتا چلا گیا۔۔۔

کسی نے کوئی آہنی چیز میرے سر میں ماری اور اتنی زور سے ماری کہ مجھے دن میں تارے نظر آ گئے تھے میں زمین پر جا گرا اور ہوش سے بیگانہ ہو گیا میں جب ہوش میں آیا تو ہسپتال میں بیڈ پر لیٹا تھا اور میرے اوپر ایک حسین چہرہ جھکا ہوا تھا جو میرے گال تھپپھتا رہا تھا ۔۔۔

جیسے ہی میں نے آنکھیں کھولیں اس خوبصورت چہرے کو دیکھ کر آنکھیں وہیں جم گئیں اس کے چہرے کی خوبصورتی نے مجھے مبہوت کر دیا تھا حسین مکھڑا اس پر پریشانی یہ نرس نہیں ہو سکتی تھی اور ہوتی بھی کیسے کیونکہ اس نے نرسوں والا لباس جو نہیں پہنا تھا اس کے کومل ہاتھ میری آنکھوں کے سامنے لہرائے تو میں سر جھٹک کر ادھر ادھر دیکھا تو اس کے علاوہ وہاں کوئی نہیں تھا۔۔۔

میں نے خشک ہونٹوں سے جو پہلا سوال کیا وہ یہ تھا کہ میں کہاں ہوں اس نے لب واہ کیے تو اس کی آواز اس کے چہرے سے بھی پیاری نکلی وہ بولی تو ایسے لگا جیسے موتی پرو رہی ہو مجھے بس اتنا سمجھ آیا کہ میں ہسپتال میں ہوں اور مجھے عثمان یہاں لے کر آیا تھا کالج میں کافی گڑ بڑ ہو گئی ہے ۔۔۔

میرا دوسرا سوال آنے سے پہلے ہی اس نے مجھے ہاتھ کے اشارے سے چپ رہنے کا کہا اور بولی جو لوگ وہاں تھے وہ تمہیں مارنے نہیں آئے تھے اب تک صرف اتنا پتہ چلا ہے کہ وہ کوئی فائل لینے آئے تھے تم سے چھیننے کی کوشش کر رہے تھے تو کالج کے اور لڑکے بھی وہاں آگئے ان سے مڈبھیڑ ہوگئی جس میں شاہد کا سر پھٹ گیا اور عاذب بھی زخمی ہے ۔۔۔

فائل تو ان کو نہیں ملی لیکن تمہارا موبائل اس سب میں ٹوٹ گیا جو اب عثمان کے پاس ہے ان لوگوں کو پولیس لے گئی ہے اور پولیس یہاں بھی آئی تھی تمہارا بیان ریکارڈ کرنے لیکن ڈاکٹر نے تمہارے ہوش میں آنے کے بعد آنے کا کہا ہے وہ بولتی جا رہی تھی میں سوچتا جا رہا تھا معاملہ الجھنا شروع ہو چکے تھے اب یہ لوگ جو بھی تھے ان کا تعلق ضرور ان لوگوں سے ہے جن کا کچا چٹھا فائل میں تھا۔۔۔

اب سوال یہ پیدا ہوتا تھا کہ فائل میرے پاس ہے یہ سب میرے اور عاذب کے۔ علاوہ کون جانتا ہوگا میں زیادہ دیر سوچ نہ سکا دروازہ کھلا اور عثمان اندر داخل ہوا اس نے آتے ہی اس لڑکی پوچھا کوئی آیا تو نہیں تھا یہاں اس نے سر ناں میں سر ہلایا اور میری طرف اشارہ کیا ۔۔۔

مجھے ہوش میں دیکھ کر عثمان کے چہرے پر رونق آ گئی اس نے آج بڑے سنجیدہ موڈ میں کہا یار یہ سب کیا ہو رہا ہے ادھر تم پر حملہ ہوا دوسری طرف رات پرویز صاحب کے گھر گھس کر کسی نے ان کو زدوکوب کیا تھا ان کو مارا بھی ہے ۔۔۔

عثمان کی بات سن کر میں سمجھ گیا ان کو یہ سب کیسے پتہ چلا کہ فائل میرے پاس ہے میں نے عثمان سے پوچھا دو باتیں ہیں جو میں تم سے پوچھنا چاہتا ہوں پہلی وہ فائل کہاں ہے جو میرے ہاتھ میں تھی دوسری میرا موبائل کہاں ہے ۔۔۔

عثمان نے مجھے بتایا کہ موبائل اس کے پاس ہی ہے لیکن کسی کام کا نہیں رہا اور فائل کوئی شاہ زیب آیا تھا وہ لے گیا عاذب نے اس کو دے دی اور شاہ زیب نے ہی مجھے یہاں اس ہسپتال میں تم کو لانے کا کہا تھا ساتھ ہدایت کی تھی کہ ایمبولینس میں کوئی لڑکا نہ ہو جس کا تعلق ہمارے کالج سے ہو ۔۔۔

ایک اور ہدایت اس نے کی تھی کہ ہسپتال میں میں خود بھی نہ رہوں کسی اور بھیج دوں بس چھوڑ کر واپس چلا جاوں حیرانی کی بات کالج سے نکلتے ہی ایمبولینس بدل دی گئی پھر ایک سرکاری ہسپتال گئی دوسری تمہیں یہاں لے آئی مجھے اور تو کوئی نہ ملا جس کو یہاں بھیجتا تو

مجبوراً ودحت کو ہی ساتھ لانا پڑا جو کالج کے گیٹ کے پاس کھڑی تھی۔۔۔

ودحت کا نام سن کر میں نے اس لڑکی کی طرف دیکھا جو عثمان کی کزن تھی میں نے آج اس کو پہلی بار دیکھا تھا لیکن ایسا لگ رہا تھا جیسے اسکو پہلے بھی مل چکا ہوں اس کی آنکھیں اس کا بات کرنے کا انداز مجھے اشارے دے رہا تھا لیکن میں سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔۔

میں جب اس کی طرف دیکھا تو وہ شرمانے لگی میں نے اپنی جیب ٹٹولی تو جیب میں کاغذ کی موجودگی کا سے مطمئن ہو گیا عثمان ودحت کو یہ کہہ کر وہ یہاں رکے میں ابھی ڈاکٹر سے مل کر آتا ہوں باہر نکل گیا میں نے ودحت کی طرف دیکھا تو اس نے شرما کر نظریں جھکا لیں میں سمجھ نہ پایا اس سب کا کہا مطلب ہے۔۔۔

ودحت نے شرماتے ہوئے پوچھا آپ نے وہ خط پڑ لیا تھا جو میں نے دیا تھا میں سر کو جھٹکتے ہوئے پوچھا کونسا خط اور آپ نے کب دیا تھا اس نے کہا کیا کہا میں نے آپ کو خط نہیں دیا تھا جب آپ عثمان کے گھر سے نکل رہے تھے ۔۔۔

اوہ تو وہ تم ہو جس نے دیا تھا سچ بات بتاؤں تو میں نے ابھی آدھا ہی پڑھا تھا آگے پڑھنے کا موقع ہی نہیں ملا تھا باقی یہاں پہنچ گیا ہوں تو آپ سمجھ سکتی ہیں کیسے پڑھ سکتا ہوں۔۔۔۔

اس نے کہا مطلب آپ کو سب پتہ نہیں چلا جس نے آپ کو بلایا تھا اس کا پتہ نہیں چلا ۔۔۔

میں نے ناں میں سر ہلا دیا اصل میں گھر میں بھی مجھے وقت نہیں ملا تھا تو کالج میں بیٹھ کر پڑھنے لگا ابھی یہاں تک ہی پڑھا تھا کہ آج ملنے بلایا ہے میں نے سوچا باقی بعد میں پڑھ لوں گا پہلے مل لوں باہر نکلا تو یہ سب ہو گیا۔۔۔

اس نے بڑبڑاتے ہوئے کہا مجھے اس نے کہا بھی تھا چھوٹا لکھنا لیکن میں نہ مانی اب کیسے سمجھاؤں اس کو ۔۔۔

میں نے اس کی بڑبڑاہت سن لی تھی اس لیے اس سے پوچھا کیا کہا اس نے ہکلاتے ہوئے کہا کچھ نہیں ۔۔۔

میں نے ایسے ہی تکا لگانے کی کوشش کرنے کی بجائے جیب میں ہاتھ ڈال کر خط نکال لیا اور کھول کر پڑھنے لگا ابھی دو لائینیں کی پڑھی تھیں کہ عثمان کے ساتھ ایک لیڈی ڈاکٹر اندر داخل ہوئیں انہوں نے مجھے دیکھ کر کہا ان کو لے جا سکتے ہیں کوئی سریس بات نہیں ہے زخم کی ڈریسنگ کر دی ہے ۔۔۔

اگر سر میں درد وغیرہ ہو تو میں میڈیسن لکھ دیتی ہوں وہ ان کو کھلا دینا اور ہاں شاہ زیب نے ہدایت کی ہے ان کو لینے وہ خود آئے گا اس لیے آپ لوگ جاؤ اگر یہ لڑکی رکنا چاہے تو رک جائے میں نے اس کو فون کر دیاہے وہ خود لے جائے گا۔۔۔

عثمان نے کہا میں اس کے آنے تک انتظار کروں گا جب وہ آئے گا تو میں چلا جاؤں گا ابھی ویسے بھی اس کو میری ضرورت ہے ڈاکٹر نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا وہ آپ کی مرضی ہے لیکن مجھے جو ہدایات ملیں تھیں وہ میں نے آپ کو بتا دیا۔۔۔

پھر ڈاکٹر مجھ سے مخاطب ہو کر بولی آپ کا نام بلو ہے رائٹ ۔۔۔ میں نے کہ جی بالکل اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا تو آپ ہاشم کے چھوٹے بھائی ہیں وہ بھی ایسے ہی یہاں آیا کرتا تھا ہر بار شاہ زیب اس کو لے آتا تھا اور کسی کو یہاں آنے کی اجازت نہیں ہوتی تھی ۔۔۔

ایک استاد آیا کرتے تھے یہاں ان کو نام تو نہیں پتہ لیکن وہ کافی خوش اخلاق تھے بڑے ہنس مکھ بھی تھے ہاشم کا بڑا احساس کرتے تھے ۔۔۔

میں نے ڈاکٹر سے پوچھا آپ مجھے بھائی کے بارے میں کچھ اور بتائیں گی۔۔۔

اس نے مسکراتے ہوئے کہا اگر میں کہوں نہیں تو آپ ضد تو نہیں کریں گے کیونکہ میں آپ کو بتا نہیں سکتی ہاشم کیا تھا یہاں دو بار زخمی کو کر آیا تھا اس کے بعد ۔۔۔

میں نے پوچھا اس کے بعد کیا ہوا آپ بتائیں ناں ۔۔۔

ڈاکٹر نے کہا نہیں بتا سکتی کچھ باتیں دفن ہی رہنی چاہئیں اگر کھل جائیں تو تکلیف دیتی ہیں میں چلتی ہوں وہ باہر نکل گئی لیکن ایک نیا سوال چھوڑ گئی۔۔۔

اس کے جانے کے بعد عثمان نے ودحت کو کہا حجاب پہن لو شاہ زیب آنے والا ہے ہم اس سے پہلے چلے جاتے ہیں پھر مجھے کہا بلو تیرا موبائل تمہیں آج شام لو مل جائے گا جب ٹیوشن پڑھنے آو گے ۔۔۔

وہ باہر جاتے ہوئے ودحت سے بولا جلدی کرو میں بل کا پتہ کروں کتنا بنا ہے پھر ادا کرکے چلتے ہیں اس کے جانے کے بعد ودحت نے مجھے دیکھ کر ایک طرف حجاب اٹھایا اور میرے سامنے ہی پہننے لگی اس نے سر سے دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھ دیا ۔۔۔

اس کے سلکی سیاہ بال اس کے سفید وسرخ چہرے کو اور خوبصورت بنا رہے تھے میں نے ایک بھرپور نظر اس پر ڈالی چہرے سے نیچے دیکھ ہی نہ پایا اس کے چہرے پر ایک معصومانہ سی چمک تھی ۔۔۔

اس نے حجاب کر لیا چہرے کو نقاب سے نہ ڈھانپا میری طرف دیکھتی رہی اس کی آنکھوں میں پتہ نہیں کیا تھا وہ جانا نہیں چاہتی تھی کم از مجھے ایسا لگ رہا تھا جو بھی تھا مجھے یہ لمحات بہت اچھے لگ رہے تھے اس کی آنکھوں کی تپش مجھے سکون دے رہی تھی۔۔۔

ہماری محویت کو کسی کے گلا کھنکارنے نے توڑنا میں جلدی سے آواز کی سمت دیکھا تو وہی ڈاکٹر کھڑی مسکرا رہی تھی اس نے ذو معنی نظروں سے میری طرف دیکھا پھر ودحت پر نظر ڈالی اور بولی چلو جی اب آپ کا وقت ختم ہوتا ہے ۔۔۔

ودحت نے شرمندہ ہوتے ہوئے نظریں جھکائیں اور نقاب کرنے لگی ڈاکٹر نے مجھے کہا آپ بھی جناب چلیں کچھ نہیں ہوا شاہ زیب پانچ منٹ کا کہہ رہا تھا اب تو وہ آ گیا ہوگا میں بھی اٹھ کر کھڑا ہو گیا اور جوتا پہن لیا۔۔۔

اسی وقت دروازہ کھلا عثمان اندر آیا اس نے مجھے گلے لگایا اور ودحت کو کہا آ جاؤ چلیں ودحت نے میری طرف دیکھا آنکھوں سے سلام کیا اور عثمان کے پیچھے چلی دروازے میں رک کر پھر میری طرف دیکھا اور باہر نکل گئی۔۔۔

ڈاکٹر یہ سب دیکھ رہی تھی اس نے پوچھا کون ہے پیاری سی لڑکی میں کچھ نہ بولا کیوں کہ میرے پاس کچھ بتانے کو تھا ہی نہیں اس نے خود ہی اندازہ لگایا اور بولی پیار کرتی ہے تم سے اب تم کرتے ہو یا نہیں یہ تو میں نہیں جانتی۔۔۔۔

دروازہ کھلا اور ایک درمیانے کا سانولی رنگت کا ایک لڑکا اندر داخل ہوا جسامت بھی اس کی بس پوری سی تھی نہ زیادہ موٹا نہ نہ پتلا اس میں ایک اضافی چیز کو اس کو واضح کر رہی تھی وہ اس کی آنکھیں تھیں بڑی بڑی روشن آنکھیں اس کی ذہانت کی گواہی دے رہی تھیں۔۔۔

اسنے داخل ہو کر میری طرف حیرت سے دیکھا اور ڈاکٹر کی طرف دیکھا تو ڈاکٹر بھی مسکرا کر بولی میں بھی ایسے ہی شاکڈ رہ گئی تھی ایک لمحے کے لیے مجھے بھی لگا تھا کہ ہاشم پھر سے آ گیا ہے لیکن جب غور کیا تو پتہ چلا نہیں یہ تو ہاشم نہیں ہے ۔۔۔

شاہ زیب مسکرا کر بولا اوئے یار اگر مجھے پتہ ہوتا کہ تو ہاشم کی کاربن کاپی ہے تو میں پہلے ان سب کا کاربن نکال کر آتا مجھے جب عاذب نے بتایا کہ تو ہاشم جیسا دکھتا ہے تو مجھے یقین نہیں آیا تھا لیکن تمہیں دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا کہ وہ غلط نہیں کہہ رہا تھا۔۔۔

آ جا میرے گلے لگ جا ٹھنڈ پا دے سینے اچ میرے یار دا بھرا ایں تو میرا وی بھرا ایں آ جا ہن اوہناں دی ۔۔۔ سری تو چل اس نے مجھے کس کر گلے لگایا اس کے انداز میں بڑی شدت تھی جیسے صدیوں کی دوری کے بعد ملے ہوں۔۔۔

جب ہم الگ ہوئے تو وہ تو رو رہا تھا سو رہا تھا ڈاکٹر کی آنکھیں بھی بھیگی ہوئی تھیں میں ان لوگوں کو سمجھ نہیں پا رہا تھا یہ سب چکر کیا ہے بھا ہاشم نے کیا کر دیا تھا جو یہ لوگ اس کو اتنا یاد کرتے ہیں۔۔۔

میں نے آج تک بھا ہاشم کے ساتھ کوئی ایسا ویسا لڑکا نہیں دیکھا تھا سب بس نارمل سے لڑکے ہوتے تھے جن کے ساتھ وہ ٹاؤن کی مارکیٹ میں بیٹھ کر گپ شپ لگاتا تھا ۔۔۔

لیکن کالج آ کر مجھ پر ہر روز کوئی نہ کوئی نیا انکشاف ہو رہا تھا آج تو حد ہی ہو گئی ایک اچھا خاصا سوبر قسم کا لڑکا اور ڈاکٹر بھی بھا کو یاد کر کے رو رہی تھی ان کے درمیان کیا معاملات تھے اب یہ تو ان سے ہی پتہ چل سکتا تھا۔۔۔

شاہ زیب نے مجھے کہا تیری وجہ سے مجھے جب ہاشم نے فون کیا تھا تو مجھے چاہئیے تھا خود تم سے ملتا لیکن مجھے جو عاذب نے بتایا کہ تو اس کی طرح دکھتا ہے اس لیے میں ملنے سے کترا رہا تھا اگر میں تم سے پہلے مل چکا ہوتا تو آج یہ سب نہ ہوتا۔۔۔

میں نے کہا بھائی جو بھی ہوتا ہے اچھے کے لیے ہوتا ہے اس نے میرا کندھا تھپتھپایا اور ڈاکٹر سے کہا اپنا شہزادہ ہے اس کا خاص خیال رکھنا میری کوشش تو ہو گی کبھی یہاں نہ آئے اگر کبھی آنا پڑ جائے تو مجھے کچھ سمجھانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔

ڈاکٹر نے مجھے گلے سے لگایا میرے لیے یہ حیرت کی بات تھی اس نے گلے لگا کر کہا شاہ زیب یہ میرا بھائی ہے تمہیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں ہے بس تم اس کا خیال رکھنا ہاشم کے رستے پر نہ چلنے دو۔۔۔

شاہ زیب نے کہا ہاشم تو مان جاتا تھا لیکن اس کے بارے میں پتہ چلا ہے یہ اپنی بات سے اگلے بندے کو قائل کر لیتا ہے اور یہ ہاشم سے بھی زیادہ اڑیل ہے ۔۔۔

ڈاکٹر نے میرے کندھے پر تھپکی دی اور شاہ زیب نے میرا ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے لے کر باہر نکل گیا ہم ہسپتال سے نکلے تو پتہ چلا یہ ہسپتال تو وہی ہے جس میں ڈاکٹر عمائمہ پریکٹس کرتی ہے میں نے شاہ زیب کو بھی یہ بات بتائی ۔۔۔

وہ مسکرایا اور بولا ابھی کس سے مل کر آ رہے ہو یہ ڈاکٹر عمائمہ کی بہت قریبی رشتہ دار ہے مطلب اس کی بھانجی ہے جو یہاں صرف پریکٹس کرنے آتی ہے ویسے اس کی جاب اوکاڑہ میں ہے جہاں یہ تین دن جاتی ہے۔۔۔

میرے لیے ایک اور حیرانی کی بات تھی میں نے اپنی حیرانی کا ذکر شاہ زیب سے کر بھی دیا اور اس کو بتایا کہ ڈاکٹر عمائمہ تو اس گروپ کا حصہ ہے اور خود بھی منشیات استعمال کرتی ہے اور یہاں ہسپتال میں مریضوں کو بھی دی جاتی ہیں۔۔۔

شاہ زیب نے کہا بالکل ایسا ہی ہے اسی لیے تو اس کا یہاں ہونا ضروری ہے اس سے ہمیں بہت مدد ملتی رہی ہے اب یہ یہاں سے جانا چاہتی تھی لیکن تمہارے آنے کے بعد اس کا ارادہ بدل گیا ہے۔۔۔۔

ایسے ہی باتیں کرتے ہم تھانے پہنچ گئے وہاں شاہ زیب مجھے سیدھا ایس ایچ او کے دفتر میں لے گیا اور میں وہاں اپنا بیان ریکارڈ کروایا کہ میں نہیں جانتا وہ کون تھے کوئی دوسرے شہر کے تھے کسی غلط فہمی میں مجھ پر حملہ کر بیٹھے ۔۔۔

یہ ساری باتیں مجھے شاہ زیب نے رستے میں سمجھا دی تھیں وہاں سے شاہ زیب مجھے ایک ہوٹل لے گیا وہاں کھانا کھایا اور پھر کالج آ گئے اس نے مجھے سب سمجھا دیا اور ایک دو دن کے بعد کسی سے ملاقات کا اشارہ دیا۔۔۔

ہمیں پرویز صاحب کا پتہ چلا ہم ان کے گھر گیے تو بیٹھک میں ہی مل گئے ان سے رات کے واقعے کا پوچھا تو وہ شرمندہ ہوتے ہوئے بولے ان لوگوں نے میری بیوی کے بدتمیزی کی دھمکی دی تو میں ان کو بتا دیا فائل بلو کے پاس ہے اس لیے وہ تم سے الجھ گئے۔۔۔

کچھ دیر وہاں بیٹھ کر ہم کالج آئے شاہ زیب مجھے چھوڑ کر جانے کی بجائے کالج میں آیا میرے ساتھ کالج کا ایک راؤنڈ لگایا جو پرانے لڑکے تھے وہ سب شاہ زیب کو سلام ٹھوک رہے تھے ان کی آنکھوں میں شاہ زیب کے لیے عزت تھی۔۔۔

شاہ زیب کے جانے کے بعد میں نے شاہد سے پوچھا کون تھے وہ تو ناصر بلی سامنے آیا اور اس نے کہا وہ تو پکڑے گئے ہیں ان کو ہم نے چھپا کر رکھا ہے کالج بند ہونے کے بعد دیکھتے ہیں ان کا کیا کرنا ہے ویسے بھی سارا شہر بند کرنے والے تھے لڑکے مانی کا بھی یہاں کسی کو فون آیا تھا کہ اگر بلو کو کچھ کو گیا تو سارے شہر کو آگ لگا دینا اور وہ لڑکا بتا رہا تھا کہ مانی کسی کا نام لے رہا تھایہ اس کا کام ہے۔۔۔

شاہد نے ناصر کو کہا سب لڑکوں کو اکٹھا کرو ان کو بتا دو کہ آج فیصلہ ہو کر ہی رہے گا اس لیے تیار ہو جائیں ہم ان لوگوں کو مار مار کر تھانے پیش کریں گے۔۔۔

میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا نہ ایسا بالکل بھی نہیں کرنا کوئی گڑ بڑ نہیں میں نے جو بیان دیا ہے وہ سارا غلط ثابت ہو جائے گا ۔۔۔

میں نے ان کو تھانے میں دیا بیان بتایا اور ساری بات سمجھائی شاہ زیب نے کیا کہا ہے اس لیے کچھ بھی کرنے کی ضرورت نہیں ہے اب ہم ہی تو ہیں کالج میں اور کون ہے نو ہماری مخالفت کرے گا۔۔۔

کل کے میچ کی تیاری کرتے ہیں آج میں گھر میں بتا کر آیا تھا کہ کالج سے سیدھا اکیڈمی جاؤں گا لیکن آج اکیڈمی کی چھٹی ہے اس لیے یہاں ہی رہتے ہیں پریکٹس کرتے ہیں ۔۔۔

ہم کینٹین چلے گئے آج کیںٹین والا بڑا خوش تھا اس نے مٹھائی لا کر ہماری ٹیبل پر رکھی اور کچھ ہی دیر بعد چائے بھی لے آیا۔۔۔

ہم نے چاہے پی مٹھائی کھائی لیکن کسی نے کوئی سوال نہ کیا ہم اٹھے کر باہر آئے اور گیند بیٹ لے کر گراؤنڈ میں اکٹھے ہونے لگے۔۔۔

ہمیں وہاں دیکھ کر کافی لڑکے اکٹھے ہو گئے ہم نے اپنی ٹیم بنائی اور میچ کھیلا اس کے بعد ایم اے والوں نے بھی پریکٹس میچ کھیلا ہم نے ان کی گیم دیکھی اور خامیاں بھی دیکھ لیں۔۔۔​​





Source link

Leave a Comment