میں ان کی بات سن کر بھی جانے لگا
کیونکہ میں نہیں چاہتا تھا کہ وہ میرے بارے میں کچھ سوچیں۔۔۔
میں دو قدم ہی چلا تھا کہ پھر آواز وہ آواز ناہید کی تھی۔۔۔
اس نے کہا بلووووو۔۔۔ میری گل سن۔۔۔
مجھے رکنا پڑا کیونکہ اب میں چاہ کر بھی نہیں جا سکتا تھا ناہید نے مجھے بلایا تھا ۔۔۔
اتنے عرصے بعد بھی اس کی آواز میرے دماغ میں محفوظ تھی۔۔۔
ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں مجھے وہ سب یاد آگیا اس کی پھدی کا اپنی گود میں بٹھا کر افتتاح کرنا۔۔۔
اس کی پھدی کا خون نکلنا اور اس کے سیب کے جیسے سرخ ہوتے گال اس کے اناروں کی طرح سخت اکڑے ہوئے ممے۔۔۔
میں رک گیا تو اس نے مجھے اپنے پاس بلایا۔۔۔
گاؤں میں رات بڑی جلدی ہو جاتی ہے لوگ گھروں میں دبک کر سو جاتے ہیں کوئی باہر نہیں نکلتا خاص طور پر اگر کوئی عورت کسی کھیت میں نظر آ جائے تو کنی کترا کر گزرنے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔
ابھی بھی یہ سب کچھ گاؤں کے لوگوں کے خون میں شامل ہے۔۔۔
بس کچھ گھٹیا لوگ ایسے مواقعوں کی تار میں رہتے ہیں کہ کوئی اکیلی عورت جنگل پانی کے لیے نکلے تو وہ اس پر حاوی ہو کر اس کے جسم کی رعنائیوں سے کھیل سکیں۔۔۔
میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا ان کے پاس گیا تو وہ عاصمہ اور ناہید تھی۔۔۔
ایک طرح سے دیکھا جائے تو عاصمہ ہی وہ عورت تھی جس کو دیکھ کر پہلی بار میرے دماغ میں سیکس کی پھلجھڑی ابھری تھی۔۔۔
میری چھوٹی سی للی میں اکڑاؤ اس کو چدواتے ہوئے دیکھ کر ہی آیا تھا۔۔۔
میں ان کے قریب گیا تو ناہید نے عاصمہ سے کہا باجی تو ایتھے رک مینوں بلو نال کم اے میں ہنے آئی۔۔۔
ناہید نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ساتھ لیتے ہوئے اسی بیری کے درخت کے پاس آ گئی جس کے قریب پہلی بار ہم نے آپس میں لن پھدی کا کھیل کھیلا تھا۔۔۔
ناہید نے مجھے گلے سے لگایا اور بولی کب سے آئے ہوئے ہو اور مجھے ملے تک نہیں۔۔۔
اس کے انداز میں اپنائیت تھی میرے لیے چاہت تھی۔۔۔
میں نے کہا بس مصروف ہی اتنا تھا کہ کسی سے بھی نہیں مل پا رہا ابھی بھی ایک کام سے گیا تھا شہر سے آ رہا ہوں۔۔۔
اس نے نروٹھے پن سے کہا اب میں بھی کسی ذمرے میں آتی ہوں۔۔۔
میں نے اس کی کمر پر باہوں کو کستے ہوئے کہا تم تو میرے دل رہتی ہو میری جان ہو تمہیں بھلا بھول سکتا ہوں بس وقت ہی نہیں مل رہا تھا۔۔۔
میرا بڑا دل کرتا ہے تم سے ملوں تم سے پیار کروں لیکن یہ کم بخت وقت ہی اتنا ظالم ہے کہ یہاں آ کر بھی نکالنا مشکل ہو رہا ہے۔۔۔
دوسری بات میں نہیں چاہتا کہ میری وجہ سے کوئی تم پر انگلی اٹھائے۔۔۔
اس نے بازوؤں کو کستے ہوئے کہا مجھے سب پتہ ہے تمہیں کتنی فکر کے میری۔۔۔
اس کے جسم کی گرمی میرے اندر سرایت کرنے لگ گئی تھی جس سے میرا لوڑا بھی سخت ہونے لگا۔۔۔
میں نے اپنے ہاتھ کو اس کی کمر پر پھیرنا شروع کر دیا اور اس کے کان کی لو پر زبان پھیرتے ہوئے کہا ۔۔۔
میں تمہیں کیسے بتاؤں تم میرے لیے کیا ہو ۔۔۔
تم میری جان ہو
تم میرا ارمان ہو
تم میرے روح کا سامان ہو
میرے احساسات کی نگہبان ہو
تم۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں اور بولتا اس نے اپنا سر پیچھے کیا اور پاؤں کے انگوٹھوں پر کھڑی ہو کر میرا منہ اپنے ہونٹوں سے بند کر دیا۔۔۔۔
اس کے انداز میں وارفتگی تھی بہت پیاس تھی وہ بڑے جوش سے میرے ہونٹوں چومنے لگی۔۔۔
اس کے کومل سے ہونٹ اپنی پوری نزاکت کے ساتھ میرے ہونٹوں کو چوم رہے تھے۔۔۔
ان کی نرمی اور کوملتا میرے لبوں کو خوش قسمت بنا رہی تھی۔۔۔
اس کے لبوں کا نمکین سا ذائقہ میری زبان تک پہنچ رہا تھا ۔۔۔
میں اس کے ہونٹوں کے ذائقے کے زیر اثر اپنے حواس کھو رہا تھا۔۔۔
اس کے جسم کی مہک ابھی تک میرے انگ انگ میں بسی تھی۔۔۔
وہ ساری رعنائیاں وہ سارے حسن کے جلوے اس کے جسم کے ایک ایک انگ سے اٹھتی حرارت میرے جسم کے ہر حصے کو نئی جہت بخش رہی تھی۔۔۔
میرے پورے جسم میں سرور کی لہریں دوڑ رہی تھیں۔۔۔
میں نے بھی اپنی زبان کو حرکت دی اور اس کے منہ میں ڈال دیا ۔۔۔
اس کے لعاب کو اپنے زبان سے چوس چوس کر اپنے اندر اتارنے لگا۔۔۔
اس کی زبان کو اپنی زبان کے قبضے میں لیا پھر دونوں کی زبانیں ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہونے لگیں۔۔۔
میرا ایک ہاتھ اس کے شان بے نیازی سے اپنے پورے جوبن سے اکڑے کھڑے تھے ان میں سے ایک پر ہاتھ رکھا۔۔۔
اس نے نیچے برا نہیں پہنی تھی اس کے ممے کا سرپستان بھی سخت تھا مموں کی سختی ابھی بھی ویسے ویسے کی تھی۔۔۔
میں نے ممے کو دبانا شروع کر دیا میرا لن اس سب کے دوران اس کے پیٹ کے نچلے حصے میں سر ٹکرا رہا تھا۔۔۔
ناہید اپنے پاؤں کو اوپر اٹھا کر لن کو اپنی ٹانگوں میں لینے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
میرا بھی دل کر رہا تھا کہ لن کو اب اس کی محبوب پھدی کے ساتھ ملا دوں۔۔۔
میں نے مما دبانا جاری رکھا سور تھوڑا سا نیچے ہو کر لن کو اس کی ٹانگوں میں گھسا دیا۔۔۔
ناہید نے فوراً سے پہلے اپنی ٹانگوں کو جوڑ کر لن کو دبا لیا اور پھدی کو لن پر رگڑنے لگی۔۔۔۔
اس کے جوش کو دیکھ کر میرا بھی صبر ٹوٹ رہا تھا ۔۔۔
میں نے اس کی قمیض میں نیچے سے ہاتھ ڈالا اور قمیض کو اوپر اٹھاتے ہوئے مممے تک لے گیا ۔۔۔
اب اس کا ننگا مما جو ناشپاتی کے سائز کا تھا اور بالکل سخت تنا ہوا تھا۔۔۔
اپنے ہاتھ کی مٹھی میں لے کر دبانے لگا ننگا مما ہاتھ آتے ہی میرا جوش بڑھ گیا۔۔۔
ناہید کے جسم میں بھی جیسے کرنٹ دوڑ گیا ہو وہ بھی تڑپنے لگی۔۔۔
میں نے اس کے ہونٹوں سے ہونٹ الگ کیے اور جھک کر اس کا بایاں مما منہ میں لے لیا اور دائیں ممے کے نپل پر انگلی پھیرنے لگا۔۔۔
افففف اس کے مموں سے اٹھتی مچھلی جیسی مہک میرے نتھنوں میں اتر کر میرے اندر شہوت کو جلا بخش رہی تھی۔۔۔
میں زیادہ دیر ممے نہ چوس سکا میں نیچے آتا گیا میری زبان اس کے مرمریں پیٹ کو چومتی ہوئی اس کی ناف تک پہنچی ۔۔۔
اس کے بعد ناف میں زبان پھیرنے لگا اس کا پیٹ اوپر نیچے ہو رہا تھا اس کے دونوں ہاتھ میرے سر پر تھے وہ میرے سر کو پیٹ پر دبا رہی تھی۔۔۔
اسی دوران میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کی شلوار میں ڈال کر پھدی پر رکھ دیا۔۔۔
اس کی پھدی کے لبوں سے باہر تک پانی بہہ رہا تھا۔۔۔
اس کے اندر گرمی کا جوار بھاٹا جل رہا تھا اس کی پھدی اگ برسا رہی تھی۔۔۔
میں نے دوسرے ہاتھ سے شلوار کو نیچے کیا اس کی شلوار الاسٹک والی تھی جو بڑی آسانی سے نیچے اتر گئی۔۔۔
میں نے مزید وقت ضائع کیے بغیر اپنا ناک اس کی ٹانگوں کے درمیان رکھا اور پھدی کو سونگھا۔۔۔
اففففف میرے اندر تک اس کی پھدی کی بھینی بھینی خوشبو اتر گئی۔۔۔
میں نے دائیں بائیں دیکھ کر جگہ ڈھونڈی اس کو برابر جگہ پر لٹا لیا۔۔۔
اپنا لن شلوار میں سے نکال کر اس پر تھوک لگایا اس دوران اس کی پھدی کی لکیر میں انگلی پھیرتا رہا جس سے اس کی پھدی کا پانی میرہی انگلی پر لگ گیا۔۔۔
اس انگلی کو میں نے لن پر لگا کر لن کو مزید چکنا کیا۔۔۔
وہ لیٹی میرے اگلے سٹیپ کا انتظار کر رہی تھی یہ بھی میرے لیے حیرانی کی بات تھی کہ وہ عاصمہ کے ساتھ ہونے کے باوجود مجھ سے ملنے آ گئی ۔۔۔
آج اس نے چھنو یا شازیہ سے کسی جیلسی کو خاطر میں نہ لیا بس مجھ پر نچھاور ہونے کے لیے تیار ہو گئی۔۔۔
اس کی بیتابی کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ لن لینے کے لیے بڑی بیتاب تھی۔۔۔
میں نے لن کو ہاتھ میں پکڑ اس کی سختی چیک کی اور اس کی ٹانگیں اٹھا کر اس کے اوپر آ گیا۔۔۔
اس کے ہونٹوں پر کس کی پھر لن کو ہاتھ سے پکڑ پھدی پر رکھا اور دبانے لگا۔۔۔
اس کی پھدی آج بھی ویسے ہی ٹائٹ تھی جیسے پہلے تھی۔۔۔۔
میں نے کو پھدی کی موری میں سیٹ کیا اور اس پر دباؤ بڑھانے لگا۔۔۔
لن کی ٹوپی کچھ اپنی سختی اور کچھ پھدی کے گیلے پن کی وجہ سے اندر ہو گئی۔۔۔
اس کے بعد میں نے لن سے ہاتھ ہٹا کر اس کے ممے پر رکھا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی ٹانگوں کو کندھے پر رکھ لیا۔۔۔
اس کی پھدی اوپر اٹھ گئی میں نے لن پر دباؤ ڈال دیا لن پھسل کر اندر ہوا۔۔۔
لن ٹوپی سے کچھ آگے تک اندر ہوا تو ناہید کے منہ سے آہ آہ کی آواز نکلی مجھے بھی پھدی کے تنگ ہونے کا احساس ہوا۔۔۔
میں نے تھوڑا سا پیچھے ہو کر پھر دباؤ ڈالا اس نے ایک ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ لیا اور بولی بلو درد ہو رہی ہے آرام نال کریں۔۔۔
میں نے آگے جھک کر اس کے ہونٹ چوم لیے اور بولا جیسے میری جان کہے گی ویسے کروں گا۔۔۔
میں دباؤ بڑھاتا گیا ممے دباتا گیا ہونٹ بھی ساتھ ساتھ چومتا گیا۔۔۔
لن آدھا ہی گیا تھا کہ ناہید نے کراہتے ہوئے مجھے کہا بس اب اور برداشت نہیں ہو رہا ۔۔۔
میں نے اتنے ہی لن کو آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا اور زیادہ توجہ اس کے مموں کو دبانے پر مرکوز کر دی۔۔۔
ایسے شاندار ممے بھی کسی کسی کو نصیب ہوتے ہیں ان مموں سے کھیلنا ان کو چومنا اس کو دبانا ہر کسی کی قسمت میں نہیں ہوتا۔۔۔
نپل پر انگلی گھماتا ممے کو دبا رہا تھا نیچے سے آہستہ آہستہ لن کو بھی آگے پیچھے کر رہا تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں ناہید نے میرے چوتڑوں پر ہاتھ رکھ لیا اور دبانے لگی ۔۔۔
اب اس کے منہ آہ آہ آہہہہ سییی سییی کی آوازیں بھی آنے لگی تھیں۔۔۔
ساتھ ساتھ وہ میرا سر اپنے مموں پر جھکانے لگی میں نے اس کی ٹانگوں کو کندھے سے اتار کر کھول لیا اور اپنا منہ اس کے مموں کے درمیان رکھ دیا۔۔۔
اس کے مموں کی گرمی میرے نتھنوں میں اتر رہی تھی دونوں ہاتھوں سے دونوں مموں کو پکڑ کر دبا رہا تھا۔۔۔
نیچے سے اب سپیڈ بھی تیز ہو گئی تھی لن روانی سے اندر باہر ہر رہا تھا میں نے اب ہر بار پہلے سے زیادہ لن کو آگے گھسانا شروع کر دیا تھا۔۔۔
لن تین چوتھائی پھدی میں گھس چکا تھا ناہید کی سسکاریاں تیز ہو چکی تھیں ۔۔۔
میں بھی اب ایک ممے کو منہ میں لے کر چوس رہا تھا ساتھ گھسے بھی مار رہا تھا۔۔۔
ناہید کے انداز سے پتہ چل رہا تھا وہ بہت مزے میں ہے اور فارغ ہونے والی ہے۔۔۔
میں نے گھسے تیز کر دئیے اور لن کو ایک دم سارا پھدی میں اتار دیا ناہید کے منہ سے قدرے اونچی چیخ نکلی ۔۔۔
لیکن اس وقت ہمیں کسی بات کی فکر نہیں تھی بس فکر تھی تو لن کو پھدی میں اتارنے کی اور پھدی کو لن لینے کی۔۔۔
میں پورے زور شور سے شروع ہو چکا تھا ناہید بھی مسلسل سیی سییی آہ آہ آہ کر رہی تھی۔۔۔
ناہید نے ایک دم اپنی ٹانگیں میرے کمر پر کس لیں اور اپنے بازوؤں کےحصار میں مجھے لے لیا۔۔۔
اب میں تیز گھسے نہیں مار سکتا تھا ناہید کا جسم اکڑ چکا تھا۔۔۔
اس نے اندھا دھند مجھے چاٹنا شروع کر دیا ا سکے ہونٹ میرے کندھے پر آ گئے پھر اس نے کندھے پر کاٹ لیا۔۔۔
میرے منہ سے بھی آہ نکل گئی لیکن اس نے اس وقت تک نہ چھوڑا جب تک اس کی پھدی نے میرے لن کو اپنے رنگ میں جکڑے رکھا۔۔۔
جیسے ہی اس کی پھدی نے لن کو اچھی طرح نہلا دیا ناہید تیز تیز سانسیں لیںنے لگی اور اس کی گرفت ڈھیلی ہو گئی۔۔۔
اس کے بعد جب میں تیز تیز گھسے مار رہا تھا تو ناہید کی درد بھری آہیں نکل رہی تھیں لیکن میں اس وقت کوئی رعایت نہیں دے سکتا تھا۔۔۔
میں بھی اگلے ایک منٹ میں تیز تیز گھسے مارتے ہوئے فارغ ہو گیا ۔۔۔
فارغ ہونے سے پہلے میں نے لن کو اس کی پھدی سے نکال لیا تھا اور اس کے پیٹ پر ساری منی نکال دی۔۔۔
فارغ ہو کر جب میں اس کے اوپر سے اترا اور پیچھے ہو کر کھڑا ہوا لن نیچے لٹک رہا تھا۔۔۔
رات کا وقت تھا لیکن چاند کی روشنی بھی تھی ہم گاؤں سے دور تھے کسی کو یہاں تک نظر نہیں آ سکتا تھا۔۔۔
لیکن اگر کوئی پاس ہو تو اس کو سب نظر آ سکتا تھا۔۔۔
میں نے مڑ کر دیکھا تو عاصمہ کھڑی تھی اس کا ایک ہاتھ اس کے منہ پر تھا اور آنکھیں پھاڑے میرے لن کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
اس نے ایک ہاتھ اپنے منہ پر رکھا ہوا تھا میں پریشان ہو گیا تھا۔۔۔
ہم عاصمہ کو تو بھول ہی چکے تھے کہ ناہید اس کے ساتھ آئی تھی۔۔۔
سچ کہتے ہیں جب گرمی دماغ پر چڑھی ہو تو نہ جگہ دیکھنے دیتی ہے اور نہ حالات بس لن کو پھدی چاہئیے ہوتی ہے اور پھدی کو اپنے اندر لن لینا ہوتا ہے۔۔۔
میں عاصمہ کی طرف دیکھا رہا لن جو کہ نیم مرجھایا ہوا تھا اس وقت بھی اپنی اصل لمبائی کے برابر تھا۔۔۔
عاصمہ کی موجودگی کا شاید ناہید کو بھی احساس ہو گیا تھا اس لیے وہ جلدی سے کھڑی ہو گئی۔۔۔
عاصمہ ہمارے کمیوں کی عورت تھی اس سے کوئی ڈرنے والی بات نہیں تھی لیکن ناہید ایک لڑکی تھی اور ناتجربہ کار تھی اس کا ایسے حالات سے واسطہ نہیں پڑا تھا۔۔۔
اس لیے وہ ڈر گئی وہ ہلکلاتے ہوئے بولی باجی وہ میں اور بلو ۔۔۔۔
اس سے آگے کچھ نہ بول سکی لیکن عاصمہ کی نظر تو میرے لن پر تھی میں نے لن کو اندر کیا ۔۔۔
عاصمہ ایک دم ہوش میں آئی وہ کچھ بولنے ہی والی تھی تو میں نے کہا ایک منٹ میری بات سن لو۔۔۔
عاصمہ چپ ہو گئی میں نے کہ ناہید اور میں نے آپ کو ایک دن کماد میں دیکھا تھا۔۔۔
کیوں ناہید دیکھا تھا کہ نہیں جب ہم لکن میٹی کھیل رہے تھے۔۔۔
ناہید نے کہا ہاں دیکھا تھا بھا بوٹا آپ کے اوپر تھا اور وہ ایسے ہی کر رہا تھا۔۔۔
عاصمہ جو کچھ بولنے لگی تھی بھا بوٹے کا نام سن کر ایک دم چپ ہو گئی۔۔۔
اس نے کہا ناہید چلو گھر چلتے ہیں اور بلو تم کچھ دیر بعد آنا بلکہ تم دوسری طرف سے گاؤں میں جانا۔۔۔
اس طرف سے نہ جانا اس طرف سے اگر کسی نے ہمارے بعد تمہیں آتے دیکھ لیا تو ایسے ہی شک کریں گے۔۔۔
ناہید نے ڈرتے ہوئے کہا باجی آپ کسی کو بتائیں گی تو نہیں۔۔۔
عاصمہ نے کہا میں نے کچھ کہا کہ میں کسی کو بتاؤں گی۔۔۔
ویسے بھی تم دونوں پیار کرتے ہو اور میں پیار کرنے والوں کو کیسے روک سکتی ہوں۔۔۔
بس خیال رکھنا کسی کو پتہ نہ چل جائے بلکہ بلو کل تم مجھے ملو میں تم دونوں کا ساتھ دوں گی۔۔۔
بلو تمہیں سب سمجھا دوں گی آئندہ اس طرح نہ ملنا ورنہ کوئی بھی دیکھ سکتا ہے۔۔۔
میں نے کہا ٹھیک ہے میں آپ سے کل ملوں گا وہ دونوں وہاں سے جانے لگیں تو ناہید نے ڈرتے ڈرتے میرے پاس سے گزرتے ہوئے میرا ہاتھ پکڑ کر دبایا۔۔۔
وہ جس راستے سے آئی تھیں اس راستے سے گاؤں کی طرف چل پڑیں اور میں رستہ بدل کر گھر چلا گیا۔۔۔
فجے کے پاس بیٹھک میں سو گیا تھوڑی دیر بعد فجا اٹھا اور باہر نکل گیا میں بھی اس کے پیچھے چپکے سے نکل پڑا۔۔۔
لیکن فجا اتنی دیر میں نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا میں نے گلیوں میں بھی اس کو دیکھا لیکن وہ دکھائی نہ دیا۔۔۔
میں واپس آ کر سو گیا پتہ نہیں رات کا کونسا پہر تھا کہ میرا فون بج اٹھا۔۔۔
ہنی کے بھائی کا فون تھا اس نے کہا دو لڑکے آئے ہیں اپنا نام سفارش اور بارش بتا رہے ہیں۔۔۔
میں نے کہا ہاں ان کے پاس جو فائل ہے وہ لے لیں اگر آپ ان کو پیسے دینا چاہئیں تو دے دیں ورنہ میں سب کر لوں ۔۔۔۔
اس نے کہا بات وہ نہیں ہے ان کے ساتھ ایک اور آدمی ہے جس کو وہ چھپانا چاہتے ہیں۔۔۔
میں نے اس وقت وہ کہاں ہیں باہر تو نہیں کھڑے اگر باہر ہیں تو ان کو پہلے اندر بٹھائیں پھر مجھ سے بات کروائیں۔۔۔
اس نے بتایا کہ ان کو بٹھا لیا ہے لیکن جس کو وہ اٹھا کر لائے ہیں وہ شدید زخمی ہے ۔۔۔
میں نے کہا ان سے بات کروائیں ۔۔۔
میری بارت بارش سے ہوئی اس نے کہا بھائی ہم نے اب تک تین جگہ پر اٹیک کیا ہے اور پانچ لوگ پار کر دئیے ہیں۔۔۔
جو نام آپ نے بتایا ہے اس نام کا بندہ نہیں تھا وہاں پر ابھی جس جگہ گئے تھے وہاں سے ایک بندہ اٹھایا ہے اس سے اگلوانا ہے لیکن کوئی جگہ نہیں مل رہی تھی اس لیے یہاں آ گئے۔۔۔۔
میں نے ان کو آنٹی کے گھر کا بتایا اور آنٹی کو فون کیا آنٹی نے پرانے گھر کا کہا اور کہا کہ ان کو کہو جس کو لا رہے ہیں اس کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر لائیں۔۔۔
میں پھر بارش سے رابطہ کیا اس کو سب سمجھایا اور ایڈریس بھی بتا دیا ساتھ اس کو کہا کہ ابھی اگر وقت ہے تو اس کو وہاں چھوڑ کر کالج کے کے سامنے والی بلڈنگ میں جاو وہاں کافی مال ملے گا۔۔۔
کالج کے سامنے شاہ زیب نے ایک ٹھکانا بنایا ہوا تھا جہاں سے وہ پاوڈر لڑکوں کو سپلائی کرتا تھا یہ بھی مجھے ناصر نے بتایا تھا۔۔۔
وہ سمجھ گئے اور وہاں سے نکل گئے ہنی کے بھائی نے فون کیا اور شکریہ ادا کیا اور کہا کہ انہوں نے پیسے نہیں لیے بلکہ مجھے دو بیگ دے کر گئے ہیں۔۔۔
ساتھ کہا ہے کہ ایک بیگ کسی غریب کو دے دینا اور دوسرا ہماری امانت ہے۔۔۔
میں نے ہنس کر فون بند کر دیا اور سوچنے لگا کہ لوگ کیسی کیسی باتیں کرتے ہیں کہ فلاں چور ہے اس کا کوئی ایمان نہیں ہے۔۔۔
اس نے قتل کیا وہ برا آدمی ہے وہ ڈکیٹی کرتا ہے وہ برا آدمی ہے۔۔۔
کبھی کسی نے یہ نہیں کہا وہ فلاں بندہ چور ہے لیکن بڑا اچھا انسان ہے ۔۔۔
وہ ڈکیٹ ہے لیکن لوگوں کے کام آتا ہے ان دونوں بھائیوں جیسے پتہ نہیں کتنے لوگ ہوں گے جو غریب پروو ہوں گے۔۔۔
جن سے غریبوں کے چولہے جلتے ہوں گے جو کئی غریب لڑکیوں کو جہیز دے چکے ہوں گے۔۔۔
کسی بیوا کی مدد کرتے ہوں گے یتیموں کا سہارا بنتے ہوں۔۔۔
انسان اچھا یا برا نہیں انسان بس انسان ہوتا اس کو دیکھنے کا نظریہ اچھا یا برا ہوتا ہے۔۔۔۔
لوگوں کی کسی کو جج کرنے کی نظر اس کو اچھا یا برا بناتی ہے۔۔۔
تاریخ میں کئی ایسے لوگ گزر چکے ہیں جو امیروں کے کیے وبال جان بنے رہے اور غریبوں کے لیے ہیرو تھے۔۔۔
ایسے ہی سوچتےسوچتے میری آنکھ لگ گئی اس کے بعد صبح ہی انکھ کھلی ضروری حاجات سے فارغ ہوا ہی تھا کہ ابا جی نے بھا ہاشم کو کہا جتنے دن یہ یہاں ہے اس کو سکول لے جایا کرو۔۔۔
میں نے بھا کی طرف دیکھا بھا نے آنکھ سے اشارہ کیا اور ابا جی کہا ٹھیک ہے ابا جی آج سے ہی لے جاتا ہوں سارا دن یہاں وہاں پھرتا رہتا ہے۔۔۔
اب میں کچھ نہیں کہہ سکتا تھا میں نے اپنا بیگ کھولا اس میں سے ایک نئی پینٹ شرٹ نکالی اور پہن لی۔۔۔
اچھے سے تیار شیار ہو کر بھا کے ساتھ بائیک پر سکول چلا گیا۔۔۔
میرا تو اپنا دل کر رہا تھا کہ بھا سے بات کروں اباجی نے تو میرے دل کی بات کہہ دی تھی۔۔۔
میرا دل جس جان من کے دیدار کے لیے ترستا تھا اس کا دن کا کچھ عرصہ اس جگہ گزرتا تھا۔۔۔
سکول گیا تو پتہ چلا کہ افراسیاب سکول نہیں آئی اس کی طبیعیت خراب ہے۔۔۔
میں نے اس کی جگہ پہلے دو پیریڈ لیے لیکن میرا دل سکول میں نہیں لگ رہا تھا ۔۔۔۔
پھر بار بار مجھے فون بھی آ رہے تھے جن میں سر فہرست شاہ زیب تھا ۔۔۔
بھا ہاشم نے بھی مجھے بتایا کہ شاہ زیب کافی فون کر رہا ہے اس نے صبح صبح فون کرکے بتایا کہ بلو کو روکو وہ غلط کر رہا ہے۔۔۔
مجھے کافی دھمکیاں دے رہا تھا میں نے اس کو بتا دیا ہے کہ اب تو بس ایک ہی حل ہے وہ یہ کہ خود کو پولیس کے حوالے کر دو۔۔۔
اس نے کافی کچھ کہا جب میں نے اس کو بتایا کہ اس کے سارے ثبوت تم نے حاصل کر لیے ہیں تو اس کی بولتی بند ہو گئی۔۔۔
دوسری طرف شاہد کا فون آیا کہ ایجنٹ نے اور پیسے مانگے ہیں وہ کہہ رہا ہے کہ اگر اور پیسے نہ دییے تو عابد انڈیا میں ہی پھنسا رہے گا۔۔۔
میں نے کہا عابد سے کوئی رابطہ ہوا تو اس نے کہا اس کا ای میل آیا تھا وہ ٹھیک ہے۔۔۔
میں نے اسے کہا اس کو کہو اپنی موجودہ شناخت اور ایڈریس بتا دے اس کو بندوبست ہم کر لیں اور اس ایجنٹ کو اٹھوا لو۔۔۔
شاہد نے کہا ٹھیک ہے میں سکول سے نکل گیا اور کھاری سے رابطہ کیا اس نے مجھے ہیلمٹ دیا میں نے ہیلمٹ پہنا اور بائیک پر بیٹھ کر شہر کی طرف چل پڑا۔۔۔
میرا رخ سیدھا آنٹی کا پرانا گھر تھا جہاں رات بارش اور سفارش نے کسی کو رکھا تھا۔۔۔
میں آج بڑا محتاط ہو کر جا رہا تھا کہیں کوئی گڑ بڑ نہ ہو جائے۔۔۔
میں جب آنٹی کے گھر کے سامنے پہنچا تو میں نے دیکھا گھر کو باہر سے تالا لگا ہوا ہے۔۔۔
میں نے بارش کو فون کیا اس نے بتایا کہ وہ اندر ہی ہیں اور وہ آنٹی باہر سے تالا لگا کر گئی ہمیں خفیہ رستہ بھی بتا گئی ہے۔۔۔
میں جانتا تھا کہ چابی کہا چھپائی ہو گی میں نے چابی نکالی اور تالا کھول کر بائیک اندر لے گیا۔۔۔
وہ دونوں بڑے حیران ہوئے انہوں نے بتایا کہ وہ لڑکا ہمیں آپ کے نام کی دھمکیاں دے رہا ہے اس لیے ہم نے اسے کچھ نہیں کہا۔۔۔
میں یہ سن کر بہت حیران ہوا ایسا کون ہے جو میرے نام کی دھمکیاں دے رہا ہے اور ان کے ہتھے وہ شاہ زیب کے اڈے سے چڑھ گیا ہے ۔۔۔
میں نے پوچھا تم لوگوں نے اس سے کیا پوچھا تھا مطلب اس کو بتایا کہ تم لوگ کون ہو۔۔۔
سفارش نے کہا بھائی بھلا ہم اس کو ایسا کچھ کیوں بتائیں گے ۔۔۔
ویسے ہی اس نے کہا کہ بلو کو تم جانتے نہیں اگر اس کو پتہ چل گیا ناں کہ تم مجھے اٹھایا ہے تو وہ تم لوگوں کا جینا حرام کر دے گا۔۔۔
ایسا کون ہو سکتا ہے میں سوچنے لگا میں نے پوچھا وہ لڑکا کیسا دکھتا ہے۔۔۔
انہوں نے بتایا کہ گورا چٹا لڑکا ہے بڑا خوبصورت ہے لڑکیوں جیسا لگتا ہے۔۔۔
میں نے پوچھا نام وغیرہ کچھ بتایا اس نے ان دونوں نے ناں میں سر ہلا دیا۔۔۔
میں نے پوچھا جب تم لوگوں نے وہاں اٹیک کیا تھا تو یہ وہاں موجود تھا۔۔۔
انہوں نے کہا یہ اسی وقت وہاں آیا تھا اور اس کے پاس کافی مال تھا چٹا تھا اس کے پاس جو ہم نے چھین لیا اور یہاں آ کر اس کو آگ لگا دی تھی۔۔۔
مجھے یقین ہو گیا تھا یہ وہی گانڈو ہو گا جس نے پہلے بھی میرے ساتھ بہن یکی تھی ۔۔۔
اچھی کے ساتھ مل کر مجھے تبھی اس کو سمجھ جانا چاہئیے تھا لیکن میں اس کی والدہ کی وجہ سے خاموش ہو گیا تھا۔۔۔
کچھ اپنا چسکا بھی تھا جس نے مجھے اس کے لیے نرم کر دیا تھا اب تو دو دو پھدیاں میرے لیے تیار تھیں اس کے گھر میں۔۔۔
(دوستو کچھ بھائیوں کے اعتراض کی وجہ سے میں نام بدل رہا ہوں عثمان شاہ کی جگہ اب اس کا نام ندیم عرف دیما ہو گا کافی دوستوں نے کہا کہ شاہ مقدس ہوتے ہیں اور عثمان نام تو ہے ہی اسلامی تو اس لیے اب اس ندیم ہوا کرے گا)
مجھے کنفرم ہو گیا کہ وہ ندیم ہی ہے جس کی کزن اور بہن دونوں مجھ سے چدوا چکی تھی۔۔۔
سالا گانڈو ہی نکلا پہلے تو ودحت کا بہانہ بنا کر بچ گیا تھا اور اب اس نے پھر سے ان لوگوں کا ساتھ دیا ۔۔۔
مطلب یہ تب بھی ان کے ساتھ ہی تھا جس رات ان کو وہاں سے نکالا تھا اس رات بھی کوئی ایسا ہی سین ہوگا ۔۔۔
مجھے وہاں بلا کر اس کا ارادہ مجھے پار کروانے کا تھا۔۔۔
اگر وہ ان کے ساتھ تھا تو اس کا مطلب شاہ زیب کے علاوہ باقی لوگ بھی جانتے تھے کہ ناصر بھی میرے ساتھ ہے۔۔۔
یہ تو اچھا ہوا کہ ناصر نے اس کے سامنے اپنے بندوں کا شاہ زیب کے گروپ میں ہونے کا نہیں بتایا۔۔۔
میں نے ناصر کو فون کیا اس سے ندیم کا پوچھا تو اس نے کہا مجھے تو پکا پتہ تھا بس تمہیں نہیں بتایا وہ اس لیے کہ تمہارا ان کے ساتھ گھریلو قسم کا تعلق تھا۔۔۔
ناصر نے یہ بھی بتایا کہ رات وہ کالج کے سامنے والے اڈے پر آنے والا تھا ۔۔۔
میں نے اس کو بتایا کہ وہ اٹھایا جا چکا ہے اور میرے نام کی دھمکیاں دے رہا ہے ان لوگوں کو جنہوں نے اٹھایا ہے۔۔۔
ناصر نے کہا یار اس سے جان چھڑوا لو سالا کسی دن مروا دے گا۔۔۔
میں نے کہا کرتے ہیں اس کا بھی کچھ مرنے دیتے ہیں اس کو بھی اس نے ہر بار چوتیاپا کی کھڑا کرنا ہے۔۔۔
میں اندر کمرے میں گیا تو دیکھا کہ ندیم کو رسیوں کی مدد سے باندھ رکھا تھا اس کے منہ میں کہڑا ٹھونسا ہوا تھا۔۔۔
مجھے وہاں دیکھ کر اور بارش اور سفارش کو میرے ساتھ دیکھ کر اس کا رنگ اڑ گیا۔۔۔
بارش نے اس کے منہ سے کپڑا نکالا اور کہا لو بھائی آ گیا بلو بھی اب بول اس کو کس کے نام کی دھمکی دو گے۔۔۔
ندیم نے سر جھکا لیا وہ کچھ نہیں بول پا رہا تھا۔۔۔
میں نے کہا دیکھ میں تمہاری کر حرکت جانتا ہوں میں یہ بھی جانتا ہوں اچھی کو بھی میرے خلاف تو نے ورغلایا تھا۔۔۔۔
شیدے کو بھی شاہ زیب کے ساتھ تونے ملوایا تھا اب شیدے مر چکا ہے اس کے ساتھ جو بھی لوگ تھے سب مر چکے ہیں۔۔۔۔اگلا نمبر کس کا لگتا ہے یہ تم بھی نہیں جانتے تمہیں یہ تو پتہ چل گیا ہوگا کہ وہاں جتنے لوگ تھے ان میں سے کتنے مر چکے ہیں۔۔۔
آج سارا دن شہر میں افراتفری رہے گی اور رات میں پولیس الرٹ رہے گی ۔۔۔
رات پھر وہی سب کچھ ہوگا لیکن اب شہر کے باہر ہوگا کیونکہ شہر میں جو کام تھا وہ رات مکمل ہو چکا۔۔۔
تمہارا یار شاہ زیب اب منتیں کر رہا ہے فون پر فون کر رہا ہے۔۔۔
اس کو میں نے کل ہی بتا دیا تھا کہ اس کا حساب کتاب خراب کرنے والا ہوں اس کو سمجھ نہیں آئے گی کہ اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے۔۔۔
اب تو بتا تیرے ساتھ کیا کرنا چاہئیے جس جگہ تو ہے یہاں کوئی نہیں پہنچ سکتا تمہارے خواب خیال میں بھی نہیں ہوگا کہ تو اس وقت کہاں ہے۔۔۔
میں نے بارش اور سفارش کو کہا کہ وہ اپنا اگلا مشن ابھی پورا کر لیں اگر ان کو بندے چاہئیے تو وہ بھی مل جائیں گے۔۔۔
لیکن شام تک شاہ زیب کے سب اڈوں سے مال سمیت بندے غائب ہونے چاہئیں۔۔۔
ہم باہر نکلے اور ندیم کے منہ میں کپڑا ٹھونس دیا۔۔۔
میں نے ناصر سے پوچھا شاہ زیب کی موجودہ لوکیشن کیا ہے۔۔۔
اس نے بتائی اور یہ بھی بتایا کہ اس نے جن لوگوں کے ذمہ لگایا ہے وہ گھات لگائے بیٹھے ہیں۔۔۔
میں نے کہا ان کو کہو بس نظر رکھیں جب شاہ زیب پر حملہ ہو تو وہ ضرورت کے وقت حملہ آوروں کی مدد کریں۔۔۔
ناصر سے بات کرنے کے بعد میں نے بارش اور سفارش کو لوکیشنز سمجھائیں اور خود بھی ایک جگہ جانے کے لیے تیار ہو گیا ۔۔۔
کیونکہ مجھے شک تھا کہ اس جگہ لڑکیاں ہو سکتی ہیں۔۔۔
مجھے ایک انجان نمبر سے میسج موصول ہوا تھا کہ میرے جاننے والوں میں سے ہی کسی کو ان لوگوں نے اٹھا لیا ہے۔۔۔
میسج جس نمبر سے آیا تھا وہ نمبر بند تھا میں کال کی اس نمبر کے بارے میں معلومات لینے کے لیے مجھے آنٹی کی ضرورت تھی۔۔۔
میں نے ناصر کو اس جگہ کے بارے میں بتا دیا تھا ناصر نے شاہد اور ارشد لوگوں سے رابطہ کرکے سب انتظامات کر لیے تھے۔۔۔
میں نے ناصر کو فون کیا اور تیار رہنے کا کہا اس نے بتایا کہ وہ سب لوگ ٹیوب ویل پر موجود ہیں۔۔۔
میں نے اس کمرے کی الماری کھولی اس میں سے ندیم کے سامنے ہی ہتھیار نکالے بارش اور سفارش نکل چکے تھے۔۔۔
ایک جیکٹ بھی موجود تھی وہ پہن لی اس کے اندر دو ریوالور رکھے ان کی میگزین چیک کیں ۔۔۔
میگزین فل تھیں ان کے ساتھ دو دو میگزین اور بھی رکھ لیں۔۔۔
میں باہر نکلا ندیم کو دیکھا تو اس کی آنکھیں پھٹی ہوئی تھیں اس کے چہرے پر پسینہ چمک رہا تھا۔۔۔
میں نکلنے لگا پھر میرے دماغ میں ایک خیال آیا میں نے ناصر کو فون کیا اور اسے نہر پر آنے کا کہا۔۔۔
ناصر نے 5منٹ بعد ہی مجھے فون کیا کہ وہ آ گیا میں نے ندیم کو کھولا اور ریوالور کے نشانے پر رکھ کر اس کو نہر پر لے آیا۔۔۔
اس نہر کے کنارے ناصر اور ارشد کھڑے تھے میں نے ندیم کو ان کے حوالے کیا اور کہا اس کو بھی گاڑی میں ساتھ بٹھا لو وہاں لے کر چلیں گے اس کو بھی ان لوگوں کی اصلیت پتہ چلے۔۔۔
ارشد مجھے حیرانی سے دیکھ رہا تھا اس نے کہا اوئے تو یہاں کھیتوں میں چھپا ہوا تھا۔۔۔
میں نے ہنس کر اس کی بات کو اڑا دیا ندیم کی آنکھوں پر پٹی بندھی تھی ۔۔۔
وہ دونوں اس کو لے گئے اور میں نے ان کو مطلوبہ جگہ پہنچنے کا کہا۔۔۔
جس جگہ ہم نے اٹیک کرنا تھا وہ علاقہ ہڑپہ کے کھنڈرات کے قریب تھا۔۔۔
ان کھڈرات میں سے گزر کر ایک گاؤں تھا جس میں ایک پرانی حویلی تھی کو شاہ زیب کا ٹھکانہ تھا۔۔۔
وہ لوگ گاڑی پر جا رہے تھے میں نے بائیک کو ترجیح دی تھی۔۔۔
میں واپس آیا بائیک نکالی گھر کو تالا لگایا اور چل پڑا۔۔۔
ہم نے بیس کلومیڑ کا سفر کرنا تھا روڈ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار تھا میں بڑی آہستہ روی سے جا رہا تھا ۔۔۔
ناصر لوگ بھی شاید اسی رفتار سے جا رہے تھے میرا پہلا نشانہ یہ تھا کہ شاہ زیب کو اڑا دیا جائے۔۔۔
لیکن اس سے پہلے اس کے سارے ٹھکانوں کو ختم کر دیا جائے تاکہ اس کا ساتھی بھی سامنے آ سکے۔۔۔۔
بارش اور سفارش کو میں نے سمجھا دیا تھا کہ وہاں پہنچ کر مجھے بتا دینا اور جب میں کہوں تب اٹیک کرنا۔۔۔
ہم پہنچے ہی تھے کہ مجھے بارش کا فون آیا اس نے پوچھا کر دیں پھر کام شروع میں نے کہا پانچ منٹ کر دینا میرا فون آئے یا نہ آئے۔۔۔
اس نے بتایا کہ ان کی ملاقات وہاں موجود دوسرے گروپ سے ہو گئی ہے لیکن ہم نے ایک دوسرے کو چہرے نہیں دکھائے۔۔۔
میں نے اوکے کیا ہم ہڑپہ میوزیم سے پہلے ہی ایک گاؤں میں داخل ہوئے آگے آگے وہ لوگ جا رہے تھے میں ان کے پیچھے تھا۔۔۔
اسی گاؤں میں ہمارا ایک بندہ موجود تھا اس نے مجھے اشارہ کیا میں نے اس کو پیچھے بٹھا لیا۔۔۔
اس گاؤں سے ہم کھنڈرات میں داخل ہوئے اس علاقے سے جہاں ہڑپہ کے کھنڈرات کا بازار لگا کرتا تھا میں بائیک کے ذریعے گزرا۔۔۔
گاڑی اس جگہ سے نہیں گزر سکتی تھی وہ لوگ لمبا چکر کاٹ کر آئے۔۔۔
ہمارا بندہ جو میرے ساتھ تھا وہ مجھے رستہ سمجھا رہا تھا جیسے ہی ہم کھنڈر سے نکلے۔۔۔
سامنے مجھے ایک پرانے دور کی مسجد نظر آئی اس کے پیچھے کچھ فاصلے میں ویران سی نظر آنے والی کئی صدیوں پرانی حویلی تھی۔۔۔
ہم اس کے قریب جا رہے تھے دوسری طرف سے ناصر لوگوں کی گاڑی بھی آ رہی تھی گاڑی اس حویلی سے کچھ فاصلے پر رک گئی۔۔۔
مجھے بھی اس بندے نے رکنے کا کہا میں نے حویلی کے قریب جا کر بائیک روکی۔۔۔
بائیک سے اتر کر میں نے ہیلمٹ اتارا اور جیکٹ کو کھول کر ریوالور نکال کر سیفٹی ہن ہٹائے۔۔۔
میرے پیچھے آدمی نے بھی اتر کر پسٹل نکال لیا تب تک ناصر لوگ بھی گاڑی سے اتر کر حویلی کے گیٹ پر پہنچ چکے تھے۔۔۔۔
میں نے دونوں ریوالور ہاتھ میں پکڑ لیے وہ آدمی میرے آگے آگے چلنے لگا ارشد نے گیٹ کو دھکیلا لیکن گیٹ بند تھا۔۔۔
ان میں سے ایک لڑکا جو پہلوان نما تھا وہ گیٹ پر چڑھ گیا اور اگلے ہی پل دوسری طرف تھا۔۔۔
چند سیکنڈ میں ہی گیٹ کھل چکا تھا اندر شاید وہ لوگ بے فکر تھے کہ کوئی بھی یہاں نہیں آ سکتا۔۔۔
جب تک ان کو سمجھ آتی ہم اندر پہنچ چکے تھے اندر جانے سے پہلے میں نے دیکھا کہ ایک بس اس روڈ پر آ کر گاڑی کے پیچھے رکی۔۔۔
ہم اندر داخل ہو گئے اندر والا دروازہ دھکیل کر کھولا اور ہم میں عمارت میں داخل ہو گئے۔۔۔
سامنے ایک آدمی آیا اس کو اس پہلوان نے اٹھا کر ٹپک دیا اس کی چیخ نکلی اور وہ ابدی نیند سو گیا۔۔۔
ااسی وقت ایک کمرے سے آواز آئی کی ہویا۔۔۔
وہ آواز بھی اس کی آخری ثابت ہوئی پلک جھپکتے ہی ناصر اس کمرے میں گھس گیا تھا اور اس نے فائر کھول دیا تھا۔۔۔
ایک دو جوابی فائر ہوئے اس کے بعد خاموشی چھا گئی۔۔۔
حویلی کوئی بیس پچیس کمروں پر مشتمل تھی ہم نے ایک ایک کرکے کمرے چیک کرنے شروع کیے۔۔۔
حیرت کی بات تھی کہ فائرنگ کے باوجود کسی کمرے سے کوئی آواز نہیں آ رہی تھی۔۔۔
نہ کوئی باہر نکلا ہم کمرے چیک کرتے گئے اں صرف تین کمرے باقی رہ گئے تھے جو آخر میں تھے۔۔۔
ہم نے دو دو کے گروپوں میں ان کمروں کی تلاشی لینے کا سوچا ہمارے پاس زیادہ وقت بھی نہیں تھا۔۔۔
پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کسی بھی وقت یہاں پہنچ سکتے تھے۔۔۔
جس کمرے میں ناصر نے تلاشی لینا تھی جب اس نے دروازہ کھولا تو سامنے سے اس پر فائر ہوا ۔۔۔
گولی اس کے کندھے پر لگی اور وہ پیچھے گر گیا لیکن گرتے گرتے وہ تین فائر داغ چکا تھا۔۔۔
ارشد نے جس کمرے میں جانا تھا اس کمرے کے دروازے کو بیٹھ کر کھولا اور لیٹ گیا۔۔۔
اندر سے فائر ہوا لیکن اس کو ارشد نے خاموش کر دیا اور اٹھ کر کمرے میں داخل ہو گیا۔۔۔
ناصر والے کمرے میں اس کے بعد شاہد داخل ہوا پھر اندر گولیوں کی آواز آئی لیکن جوابی فائر نہ ہوا۔۔۔
اب آخری کمرہ رہ گیا تھا جس کی تلاشی لینا میرے ذمہ تھا۔۔۔
میں نے اس کمرے کے دروازے کو پاؤں سے دھکیلا سائیڈ پر کھڑا ہو گیا۔۔۔
اندر سے کوئی آواز نہ آئی میرا ساتھی لیٹ کر گھومتا ہوا آگے گیا کمرے میں جھانک کر دروازے کے سامنے سے لڑھکتا گیا تھا۔۔۔
دروازے کے پار جا کر اس نے نفی میں سر ہلایا تب تک دو اور ساتھی ہمارے پاس آ چکے تھے۔۔۔
ہم نے اندر جھانکا لیکن کچھ نظر نہ آیا پھر ہم تینوں ایک دوسرے کے ساتھ پیٹھ لگا کر اندر داخل ہوئے۔۔۔۔
کمرے میں کچھ بھی نہیں تھا بس ایک دوپٹہ نظر آیا ارشد ہمارے پیچھے آیا ان لوگوں نے باقی کمروں کا صفایا کر دیا تھا۔۔۔
وہاں ایک لڑکی ملی جس کو انہوں نے دوپٹہ دے دیا تھا اور اس کو ساتھ لائے تھے۔۔۔
میں نے اس سے پوچھا ہمیں بتاؤ باقی لڑکیاں کہا ہیں۔۔۔
اس نے کہا کچھ دیر پہلے تک تو اسی کمرے میں تھیں مجھے وہ وہاں لے گئے تھے ۔۔۔
اس کے بعد پتہ نہیں وہ کہاں گئیں آپ لوگوں کے آنے سے ان میں سے دو آدمی اس کمرے میں آئے تھے۔۔۔
میں نے شاہد سے پوچھا بس تم لوگوں نے منگوائی تھی۔۔۔
شاہد نے نفی میں سر ہلایا ۔۔۔
میں نے کہا باہر چلو بس کا پیچھا کرو ناصر کو بھی دیکھو وہ کیسا ہے۔۔۔
ارشد نے کہا وہ ٹھیک ہے اور اس نے یہ صفحہ دیا ہے۔۔۔
میں نے اس صفحے کو دیکھا اس میں کسی تہ خانے کا نقشہ تھا جو دیوار سے نکلتا تھا۔۔۔
میں آگے بڑھا دوپٹہ اٹھانا چاہا تو وہ دیوار میں پھنسا ہوا تھا۔۔۔
میں نے پہلوان کی طرف دیکھا اس نے دیوار کو ٹٹولا اور زور لگانے لگا ۔۔۔
پھر پیچھے ہوا اسی وقت شاہد نے دیوار میں ایک سوراخ دیکھا اس نے اس سوراخ میں ہاتھ ڈالا تو اس کو کوئی چیز ملی جس کو ہلانے سے دیوار اپنی جگہ سے ہل گئی اور دروازہ بن گیا۔۔۔
تین لوگ باہر جا چکے تھے جنہوں نے بس کا پیچھا کرنا تھا۔۔۔
ہم تہہ خانے میں داخل ہو گئے وہ آگے جا رہا تھا اندر اندھیرا ہونا چاہئیے تھا ۔۔۔
لیکن وہاں روشنی تھی صاف نظر آرہا تھا کہ وہ رستہ آگے سے مڑ رہا ہے۔۔۔
ہم اپنے اپنے ہتھیار تھامے تیزی تیزی سے آگے بڑھنے لگے۔۔۔
پہلوان نے پیچھے دروازہ بند کر دیا تھا ہم تقریباً بھاگ رہے تھے اسی وقت شاہد کو فون آیا کہ بس وہیں موجود ہے اور ڈرائیور کو قابو کر لیا ہے۔۔۔
ابھی تھوڑا ہی دور گئے تھے کہ آگے رستہ بند ملا وہاں رک کر ہم نے دائیں بائیں دیکھا پھر ایک سیڑھی نظر آئی اس سیڑھی پر چڑھنے لگے۔۔۔
سیڑھی اوپر چڑھتی گئی سب سے لہلےارشد اوپر گیا اس نے ہمیں اشارہ کیا اس کے پیچھے میں گیا۔۔۔
باقی لوگوں کو چڑھنے دیا لیکن ہم رکے نہ آگے بڑھنے لگے۔۔۔
وہاں ایک درختوں کا جھنڈ تھا جھاڑیاں ہی جھاڑیاں تھیں۔۔۔
میں نے پاؤں کے نشان ڈھونڈے ان پر چلنے لگا ابھی چند قدم ہی بڑھا تھا کہ مجھے سسکنے کی آواز سنائی دی۔۔۔
اس کے بعد کسی کے ڈانٹنے کی رعب دار آواز آئی۔۔۔
پھر ایک اور آواز آئی وہ کہہ رہا تھا وہ فون نہیں اٹھا رہا۔۔۔
میں نے ارشد کو اشارہ کرکے سمجھایا سب لوگ پھیل گئے اور دائیں بائیں سے اس جگہ کو گھیر لیا۔۔۔۔
میں نے اپنے اوپر وہ والا دوپٹہ اوڑا اور بیٹھ کر آگے بڑھنے لگا۔۔۔
ارشد نے مجھے روکنے کی کوشش بھی لیکن میں نہ رکا میں آگے بڑھتا رہا۔۔۔
وہ سب بھی مجھ پر نظر رکھے ہوئے تھے میں اپنے دونوں ریوالور تھامے بیٹھ کر آگے بڑھتا گیا۔۔۔۔
وہاں کوئی بیس کے قریب لڑکیاں تھیں جن میں سے کئی لڑکیوں کے سروں پر دوپٹے تک نہیں تھے ۔۔۔
میں ان میں شامل ہو گیا وہاں صرف دو آدمی تھے ان کے پاس خطرناک ہتھیار تھے اور انہوں نے اپنے چہرے ماسک سے ڈھانپے ہوئے تھے۔۔۔
میں جس لڑکی کے پاس جا کر رکا تھا اس کو غور سے دیکھا تو وہ ہمارے کالج کی ہی تھی اس کو میں نے ودحت کے ساتھ دیکھا تھا۔۔۔۔
میں نے سر جھکا کر اپنے چہرے سے دوپٹہ ہٹایا اس نے مجھے دیکھا تو میں نے منہ پر انگلی رکھ کر اس کو چپ کروایا ۔۔۔
اس کو اپنی جیب کی طرف اشارہ کرکے سمجھایا کہ موبائل نکالو۔۔۔
اس نے موبائل نکال کر مجھے دیا میں نے ایک ریوالور اس کو پکڑایا اور نیچے جھکے ہوئے ہی میسج ٹائپ کیا کہ دو آدمی ہیں ۔۔۔
سب کو فارورڈ کر دیا پھر میں نے اس لڑکی سے ریوالور لیا اور کھڑے ہو کر دوپٹہ اتارا اور ان دونوں پر ایک ہی وقت میں فائر داغ دیا۔۔۔
مجھے اس وقت پتہ چلا کہ یہ دونوں موبائل تو سائلنسر لگے تھے ۔۔۔
بغیر آواز کے گولیاں چلیں اور وہ دونوں ڈھیر ہو گئے۔۔۔
سب لڑکیاں حیرانی سے میری طرف دیکھ رہی تھیں۔۔۔
یکدم ایک زوردار چیخ کی صورت میں آواز آئی بلوووو۔۔۔
میں نے آواز کی سمت دیکھا تو وہ شمع تھی شمع شانزل کی بہن میرے لیے حیرانی کی بات تھی۔۔۔
وہ لڑکیوں پر چھلانگیں لگاتی ہوئی آئی اور روتے ہوئے میرے گلے لگ گئی۔۔۔
اس کے سر پر بھی دوپٹہ نہیں تھا میں نے اس کو دوپٹہ دیا تب تک باقی لڑکے بھی وہاں آ چکے تھے۔۔۔
ارشد نے بتایا کہ وہ بس ہم نے ہی منگوائی تھی ۔۔۔
میں نے ان کو وہاں سے نکلنے کی ہدایت کی اور سب لڑکیوں کو کہا آپ سب بے فکر رہیں سب کو ان کے گھروں تک بحفاظت پہنچا دیا جائے گا۔۔۔۔
پہلوان جس طرف سے آیا تھا اس نے کہا یہاں سے رستہ ہے اور بس بھی یہاں آ رہی ہے یہاں سے آگے جانے کا بھی رستہ ہے۔۔۔۔
ہم نے ان سب لڑکیوں کو بس میں سوار کیا شمع نے بس میں بیٹھنے سے انکار کر دیا اور کالج والی لڑکی نے بھی۔۔۔
میں نے بڑا سمجھایا لیکن وہ نہ مانیں شاہد نے اس کو پہچان لیا تھا یہ وہی لڑکی تھی جس کو لڑکے تنگ کرتے تھے اور ودحت نے مجھے بتایا تھا۔۔۔۔
ایک لڑکا بائیک بھی وہاں لے آیا ناصر کو گاڑی میں بٹھایا اور شاہد اور ارشد بس میں سوار ہو گئے وہ کنڈیکٹر بن کر بس کو لے جانے لگے۔۔۔
میں نے ہیلمٹ پہنا اور بائیک پر بیٹھ گیا اسی وقت مجھے بارش کا فون آیا اس نے کہا بھائی کام ہو گیا ہے اور مال بھی بہت ہاتھ آیا ہے مال کا کیا کریں۔۔۔۔
میں نے اس کو کہا وہ آپس میں بانٹ لوں جتنے لوگ ہو سب دوسرا گروپ کہاں ہے۔۔۔
اس نے بتایا کہ وہ بھی پاس ہیں وہ سن رہے ہیں ان کو کیا بتاؤں آپ کے بارے میں ۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا وہ مجھے جانتے ہیں دوستو میں بلو بات کر رہا ہوں۔۔۔۔
سب نے حیرت سے کہا سچی آپ بلو ہیں۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا ہاں یار اور ایک افسوس ناک بات ہے ناصر کے گولی لگی ہے ۔۔۔
کسی ڈاکٹر کو ڈھونڈ کر لے آو ڈاکٹر بھی ایسا جو اپنا ہو ۔۔۔
پیچھے بیٹھی لڑکی بولی گولی میں نکال سکتی ہوں ڈریسنگ بھی کر دوں گی۔۔۔
میں نے ان کو کہا انتظام ہو گیا ہے ہم آ رہے ہیں ٹیوب ویل پر پہنچو۔۔۔
میں نے ناصر کے نمبر پر فون کہا پہلوان نے اٹھایا میں نے اس کو کہا گاڑی آہستہ چلاؤ اور کسی میڈیکل سٹور سے دوائیاں لینی ہیں۔۔۔
میں دوائیاں لے کر آتا ہوں تم لوگ سیدھے ٹیوب ویل پر پہنچو۔۔۔
میں ان دونوں کو لے کر چل پڑا شمع میرے پیچھے بیٹھی تھی اس کے پیچھے دوسری لڑکی ان کے کپڑے بھی میلے ہو چکے تھے۔۔۔
شاہد نے بتایا کہ کافی پیسے ہاتھ لگے ہیں جو اٹھا لیے ہیں ان کا کیا کرنا ہے ۔۔۔
میں نے اس کو کہا موبائل سپیکر پر کرو۔۔۔
اس نے موبائل سپیکر پر کیا میں نے کہا آپ سب ہماری عزت ہو سب کی حفاظت ہماری ذمہ داری ہے۔۔۔
آپ میں سے دو لڑکیاں جو خریداری کرنا جانتی ہوں وہ شہر کے کسی بھی بازار میں بس رکوا کر اتر جائیں لیکن نقاب میں اترنا ہے ۔۔۔
سب کے لیے کپڑے خرید لیں کیونکہ جو حالت آپ لوگوں کی ہے اس میں کوئی بھی شک کر سکتا ہے۔۔۔
ہم آپ سب کو بحفاظت گھر پہنچانا چاہتے ہیں شاہد آپ لوگوں کی مدد کرے گا جتنے بھی پیسے لگ جائیں یہ ادا کرے گا۔۔۔
ہم لوگ بھی پیچھے پیچھے آ رہے ہیں بازار میں خریداری کرتے ہیں۔۔۔
تقریباً 45 منٹ میں ہم بازار میں تھے گاڑی بھی وہاں موجود تھی۔۔۔
بس سے دو لڑکیاں اتر رہی تھیں شمع اور میں بھی اتر گئے شہر کے نامور شاپنگ مال میں داخل ہو گئے۔۔۔
ہم ان لڑکیوں کے پیچھے پیچھے داخل ہوئے ان کے ہاتھ میں ایک لسٹ تھی۔۔۔
شمع نے اور میرے ساتھ موجود لڑکی نے جلدی جلدی ایک ایک سوٹ لیا اور وہیں چینج کر لیا۔۔۔۔
شمع میرے ساتھ رہی اس نے نقاب کر لیا تھا جبکہ دوسری لڑکی ارشد کے ساتھ چلی گئی اس نے میڈیسنز لینی تھی۔۔۔
وہ نکل گئے میں ان دو لڑکیوں کے ساتھ شاپنگ کرتا رہا انہوں نے کافی زیادہ شاپنگ کر لی تھی ۔۔۔
سب کے لیے نئے سوٹ اور جوتے لیے تھے تو ساتھ میں ایک ایک چادر بھی لی تھی۔۔۔
ہر سوٹ اور چادر کو الگ الگ پیک کیا گیا جس میں جوتا بھی ڈال دیا۔۔۔
شاہد آیا اس نے پیسے ادا کیے اور ہم سب وہ شاپنگ بیگ اٹھا کر باہر نکل گئے دوکاندار بھی حیران ہو کر ہمیں دیکھ رہے تھے ۔۔۔۔
لیکن شاہد اور میری شخصیت دیکھ کر وہ مرعوب ہو گئے تھے وہ یہ ہی سمجھ رہے تھے کہ ہم کوئی بگڑے ہوئے امیر زادے ہیں جو ان لڑکیوں پر شاہ خرچی کر رہے ہیں۔۔۔
دوکاندار ہمیں بار بار کہتے رہے سر آپ کے لیے کیا دکھائیں یہ آپ پر بہت سوٹ کرے گا وغیرہ لیکن ہم نے اپنے لیے کچھ بھی نہ لیا۔۔۔
سب لڑکیوں کو ہم کالج لے گئے پرنسپل صاحب سے رابطہ کیا انہوں نے ہماری مدد کی حامی بھری پولیس کی مدد کے بغیر۔۔۔
انہوں نے اپنی بیٹی اور بیگم کو بلایا پھر وہیں وویمن کالج کی پرنسپل کو بلا لیا ۔۔۔
بس کالج کے باہر کھڑی تھی جو لڑکیاں وویمن کالج سے اغوا ہوئی تھیں ان کے گھر والوں لو کالج بلا کر سمجھایا گیا اور سب کچھ بتایا گیا اور لڑکیوں کو ان کے ساتھ بھیج دیا۔۔۔
اسی طرح ہمارے کالج والی جو لڑکیاں تھیں ان کو ہمارے پرنسپل نے اپنی بیگم کے ساتھ جا کر گھر چھوڑا اور کچھ کو ان کی بیٹی کے ساتھ جا کر میں نے گھر چھوڑا۔۔۔۔
آخر میں کچھ لڑکیاں رہ گئی تھیں جن کا تعلق گاؤں سے تھا میں اس کام میں مصروف تھا شاہد اور ارشد باقی لڑکوں کے ساتھ ناصر کے پاس تھے۔۔۔۔
ناصر ٹھیک تھا اس کی گولی نکل گئی تھی لیکن ناصر نے ایک خبر سنائی کہ شاہ زیب نے اسے فون کیا ہے وہ وہاں سے نکل گیا ہے وہ بچ گیا ہے۔۔۔
یہ ایک بری خبر تھی ناصر نے بتایا کہ یہ میں جانتا ہوں وہ کہاں ہے آج ہی اس کا کام تمام کرنا پڑے گا۔۔۔
شمع میرے ساتھ ساتھ رہی اس نے کہا مجھے گھر تم نے ہی پہنچانا ہے میں نے اس کو فون دیا کہ وہ گھر بتا دے۔۔۔۔
لیکن اس نے انکار کر دیا اور کہا کہ تم خود لے کر جاؤگے تو جاؤں گی اور تمہیں کچھ بتانا بھی ہے۔۔۔
میں نے اس کو کہا بھی کہ ابھی یہ دو لڑکیاں ہیں ان کو پہنچانا ہے۔۔۔
پرنسنپل صاحب نے مجھے اپنی گاڑی دی اور ڈرائیور کو میرے ساتھ بھیج دیا۔۔۔
میں ان دو لڑکیوں اور شمع کو ساتھ لے کر پہلے شانزل کے گھر گیا۔۔۔
بیل دی تو شانزل نے دروازہ کھولا وہ شمع کو میرے ساتھ دیکھ کر حیران رہ گئی لیکن جب اس کی نظر پیچھے کھڑی دو لڑکیوں پر پڑی تو اس نے اندر آنے کے لیے رستہ چھوڑ دیا۔۔۔
گھر میں اس کا ابو ،امی ,خالا اور ماموں موجود تھے وہ سب مجھے ان لڑکیوں کے ساتھ دیکھ کر حیران ہو رہے تھے۔۔۔
شمع نے ان میری پڑھائی ہوئی کہانی سنائی جو ظاہری بات ہے ایک فرضی کہانی تھی۔۔۔
اس کے ماموں مجھے شک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے شمع کی خالا شمع کو اور باقی لڑکیوں کو اندر لے گئی۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ باہر آئی اور شانزل کی امی بھی اس کے ساتھ باہر آئی اس نے میرے سر پر ہاتھ پھیرا ۔۔۔
پھر اس نے کہا بس ایک منٹ میں چادر لے لوں پھر تب تک شانزل پانی لا رہی ہے تم وہ پی لو پھر چلتے ہیں۔۔۔
وہ دونوں لڑکیاں ابھی اندر تھیں شانزل کا ابو چپ تھا وہ کہا بول سکتا تھا جس باپ کی جوان بیٹی گھر میں دو دن بعد واپس آئے اس باپ پر کیا بیتتی ہے یہ صرف وہ ہی جانتا ہے۔۔۔
مجھے ناصر کا فون آیا کہ شاہ زیب تمہارے گاؤں جا کر تمہیں اٹھانے کا پلان بنا رہا ہے بارش لوگوں کو میں نے بتا دیا ہے وہ اس کو رستے میں روک لیں گے اس کا پلان آج رات کا ہے۔۔۔۔
میں نے بس ہوں ہاں ہی کیا ناصر سمجھ گیا میں کسی ایسی جگہ ہوں جہاں کھل کر بات کر سکوں۔۔۔
شانزل گلاس میں بوتل لائی میں نے پی اسی وقت شانزل کی خالا باہر آئی اس نے شانزل کے ماموں اور ابا کو سب کچھ بتا دیا ۔۔۔۔
شانزل کے ابو کا رویہ تو بدل گیا لیکن اس کے ماموں کے ماتھے پر تیوریاں باقی رہیں۔۔۔
خیر شانزل کی امی کے ساتھ جا کر ان دو لڑکیوں کو ان کے گھر تک پہنچایا ایک لڑکی تو افراسیاب کے گاؤں کی نکلی۔۔۔
وہ افرا کی کزن بھی تھی ان کے پورے خاندان میں افرا پہلی لڑکی تھی جو پڑھی لکھی تھی مجھے آج پتہ چلا کہ افراسیاب کا کوئی بھائی نہیں تھا وہ صرف بہنیں تھیں چار بہنیں تھیں اس کا نمبر دوسرا تھا۔۔۔
افراسیاب نے مجھے وہاں دیکھا تو حیران رہ گئی اس کے چہرے پر میرے لیے بڑے گہرے جذبات تھے۔۔۔
اب مجھے سمجھ آیا کہ وہ سکول کیوں نہیں آئی تھی۔۔۔
اس لڑکی کو چھوڑ کر ہم واپس آئے اور گاڑی پرنسپل صاحب کے گھر چھوڑ کر میں نے کالج سے بائیک لی شاہد سے پیسوں کا پوچھا تو اس نے کہا کہ پیسے پرسنپل صاحب کی بیگم کو دے دییے تھے کچھ ان کی بیٹی کو جو سب لڑکیوں میں بانٹ دئیے تھے۔۔۔
بائیک لے کر میں ناصر کے پاس گیا تو دیکھا کہ ناصر تو بیٹھا گپیں ہانک رہا تھا ۔۔۔
وہ لڑکی ابھی تک وہاں موجود تھی میں نے اس کو کہا چلو تمیں گھر چھوڑ آوں ناصر نے ہنستے ہوئے کہا یہ لڑکی میرے گاؤں کی ہے ۔۔۔۔
میری امی آ رہی ہیں وہ اس کو اس کے گھر پہنچا دیں گی وہ تم سے بھی ملنا چاہتی ہیں۔۔۔
کچھ کی دیر میں ناصر کے ابو امی گاڑی میں وہاں آئے ان کے ساتھ ایک غریب عورت بھی گاڑی سے اتری جو شکل سے ہی بیچاری لگ رہی تھی۔۔۔
ناصر کی والدہ بھی کر ماں کی طرح محبت کرنے والی تھی اس کو اس بات کا کوئی غم نہیں تھا کہ ناصر کو گولی لگی ہے۔۔۔
وہ اس بات پر خوش ہوئی کہ ہم نے ایک اچھا کام کیا ہے اس نے ہم سب دوستوں کو پیار دیا ۔۔۔۔
ناصر کے ابو نے ہماری حوصلہ افزائی کی اور ہر قسم کی مدد کرنے کی حامی بھری۔۔۔
غرض ان سے مل کر بہت اچھا لگا اس کے بعد ہم اپنا اگلا پلان بنانے لگے اب ہمارا ٹارگٹ صرف شاہ زیب تھا۔۔۔۔
جو میں چاہتا تھا کہ شاہ زیب کو رستے سے ہٹا کر اس کے پیچھے جو چھپا بیٹھا ہے اس کو بے نقاب کروں ۔۔۔
وہ سب نہ ہو سکا لیکن ایک بات کا پتہ چل گیا کہ وہ کون ہے ا س تک پہنچنے کے لیے اب پھر ہمیں پلان بنانا پڑا ۔۔۔
ہم نے بارش اور سفارش کو ہی آگے کیا ان کو ہم شاہ زیب کے پیچھے چھپے اس بندے تک پہنچنے کا کہا اور ان دونوں بھائیوں کو سب سمجھا دیا۔۔۔
رستہ ہم نے بتانا تھا پہنچنا ان کا کام تھا ان دو دنوں میں ان دونوں نے جتنا مال اکٹھا کیا تھا وہ پوری زندگی میں بھی نہیں کر سکتے تھے۔۔۔
اب اگلا ٹارگٹ آنے والے چار دنوں میں ہمارا وہی بندہ تھا ۔۔۔
شاہ زیب کی حیثیت ثانوی ہو گئی تھی شاہ زیب کو رستے سے ہٹانے کے لیے ہمیں کچھ کرنے کی ضرورت نہیں تھی وہ خود ہی اپنے جال میں پھنسنے کے لیے آ رہا تھا۔۔۔
میں وہاں سے نکلا گاؤں کی طرف چل پڑا ۔۔۔
پھر شام تک کچھ خاص نہ ہوا شام ہوئی میں نے بھا ہاشم کو بتا دیا کہ آج شاہ زیب یہاں اٹیک کرنے والا ہے۔۔۔
بھا ہاشم ہنس پڑے اور بولے وہ سمجھ رہا ہے کہ اس کا سامنا ہاشم سے ہے اس کو میں نے بتایا بھی تھا کہ ہاشم اور صائم میں بڑا فرق ہے ۔۔۔۔
چلو آنے دو لیکن جہاں تک میں جانتا ہوں تم نے اس کا متبادل پلان بنا لیا ہو گا۔۔۔
وہ یہاں تک پہنچ نہیں پائے گا اگر پہنچ بھی گیا تو واپس نہیں جا سکے گا۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا بھا بات وہ نہیں ہے میں صرف آپ کو آگاہ کر رہا ہوں اگر کچھ گڑبڑ ہو جائے تو آپ سنبھال لینا۔۔۔۔
میں ڈیرے میں جانے کی بجائے ٹیلے پر چلا گیا ٹیلے پر جا کر میں نے ناصر سے رابطہ کیا۔۔۔
ساری صورتحال معلوم کی اس کے بعد بارش سے رابطہ ہوا۔۔۔
بارش نے کہا شاہ زیب تو نکل پڑا ہے یہاں آئے گا ضرور لیکن آپ کے گاؤں تک پہنچ نہیں پائے گا۔۔۔۔
میں نے متبادل پلان پر غور کیا اور اس کو کہا ایسا کرو تم تیار ہو جاؤ میں آ رہا ہوں۔۔۔
میں واپس گھر آیا بائیک نکالی باہر نکل رہا تھا کہ بھا ہاشم نے دیکھ لیا وہ بھی آ گئے۔۔۔
مجھے ایک منٹ کا کہہ کر اندر گئے اور واپس آ کر میرے پیچھے بیٹھ گئے ۔۔۔
میں نے بائیک چلائی اور بارش کی بتائی ہوئی جگہ کی طرف چل پڑا ۔۔۔