میرے لن کے ساتھ کھیل رہی تھی اور میں اس کے لن کو چوسنے کے انداز سے پاگل ہو رہا تھا۔۔۔
میں نے کبھی تصور بھی نہیں کیا تھا کہ لن کے ساتھ کوئی لڑکی یا عورت ایسے بھی کھیل سکتی ہے اور اس میں اس قدر مزہ ہوگا۔۔۔۔
آہستہ آہستہ اس نے لن کو ٹوپی سے نیچے تک منہ میں لینا شروع کر دیا۔۔۔۔
منہ میں لن لے کر اور غوں غوں کرنے لگی کبھی ایک طرف منہ میں لیتی کبھی دوسری طرف ۔۔۔
پورا لن منہ میں لینے کی کوشش کرنے لگی منہ جتنا بڑا مرضی ہو اتنا بڑا لن منہ میں سما جائے ایسا ممکن نہیں تھا۔۔۔۔
اس نے لن کو اپنے ہونٹوں میں دبایا ہوا تھا اور ہونٹ دبا کر زبان کو لن سے رگڑتے ہوئے اندر لے جاتی اور پھر باہر نکالتی۔۔۔۔
اس کے اس طرح کرنے سے مجھے ایسا لگتا جیسے لن منہ میں نہیں بلکہ پھدی کے اندر باہر ہو رہا ہو۔۔۔۔
آہستہ آہستہ اس نے لن چوسنے کی سپیڈ بڑھا دی اور زور زور سے منہ اوپر نیچے کرنے لگی۔۔۔۔
مجھ سے اب بلکل بھی برداشت نہیں ہو رہا تھا میں نے ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے سر پر رکھا اور نیچے سے گھسا مارا اور لن اس کے گلے تک گھس گیا مجھے واضح محسوس ہوا کہ لن اندر پھنس گیا ہے۔۔۔۔
اس نے جلدی سے سر اوپر کیا اور ایک طرف ہو کر زور زور سے کھانسنے لگی۔۔۔۔
کھانستے کھانستے اس کی آنکھوں سے پانی نکلنے لگا۔۔۔
میری طرف عجیب سی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔۔۔
میں نے پھر اس کے منہ میں ڈالنا چاہا تو اس نے منہ میں لینے سے انکار کر دیا۔۔۔۔
پھر وہ کھڑی ہوئی اور میرے سامنے اپنی شلوار اتار کر ایک طرف پھینک دی۔۔۔۔
شلوار کے نیچے اس نے نیلے رنگ کی پینٹی پہنی ہوئی تھی اس نے وہ بھی جھک کر اتار دی۔۔۔
پھر وہ تھوڑا پیچھے ہوئی مجھے صوفے سے اٹھنے کا اشارہ کیا اور خود صوفے پر میری جگہ لیٹ کر ٹانگیں کھول لیں۔۔۔
میں اس کی ٹانگوں کے بیچ آیا لن کو اس کی پھدی کے لبوں میں اوپر سے نیچے پھیرنے لگا۔۔۔
اس کا چہرہ لال بھبھوکا ہو چکا تھا میں بھی اب اس سب کا اختتام چاہتا تھا۔۔۔۔
اتنا کچھ ہونے کے بعد اگر جنسی تسکین مل سکتی تھی تو وہ دونوں اعضاء کے ملاپ سے مل سکتی تھی۔۔۔۔
میں نے اچھی طرح اس کی پھدی کے لبوں میں لن کو پھیر کر گیلا کیا ۔۔۔
جب آب چوت سے لن اچھی طرح تر ہو گیا تو میں نے لن کو اس کی منحنی سی پھدی کے لبوں کے درمیان چھپے ہوئے سوراخ کے دہانے پر ٹکا دیا۔۔۔۔
ابھی تک اس کے موٹے موٹے تھن چھپے ہوئے تھے میں سمجھتا تھا کہ ان کی چوسائی کے بغیر سیکس مکمل نہیں ہوتا ۔۔۔۔
لیکن مجھے جتنا وہ گرم کر چکی تھی اب میرے لیے خود کو مزید روکنا ممکن نہیں رہا تھا ۔۔۔۔
میں اس کے اوپر جھکا لن کو اچھے سے پھدی کے مورے پر سیٹ کیا اور ایک زور دار گھسا مارا۔۔۔۔
اس کے منہ سے آہہہممم اوئی ماتااااا جییی کی آواز نکلی۔۔۔
میرے شک کو یقین میں بدلنے کے لیے یہ کافی تھا کہ وہ انڈین ہے اور بھیس بدل کر یہاں رہ رہی ہے۔۔۔۔
اگلا غصہ مزے کی بجائے غصے سے مارا لن اس کی پھدی کی دیواروں کو روندتا ہوا بچہ دانی تک جا گھسا۔۔۔۔
اس کی آنکھوں سے پانی بہنے لگا وہ مجھے چیختے ہوئے پیچھے دھکیلنے لگی۔۔۔
وہ ہوش کھو رہی تھی اس کے منہ سے عجیب سے لفظ نکل رہے تھے ۔۔۔
اوئیی مار چھوڑا تو نے امممما رک جا آہہہہ افففف پھٹ گئی میری چوت اآئیی باپو ۔۔۔
میرا لن اس کی پھدی میں پھنس چکا تھا میں ایک انڈین کو چودنے کے مزے سے سرشار ہو رہا تھا میرا روم روم غصے میں بھرا ہوا تھا۔۔۔۔
ان سالے حرامیوں نے پتہ نہیں کیسے کیسے میرے پیارے وطن کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بنا رکھے تھے۔۔۔۔
کوئی تصور بھی نہیں کر سکتا تھا کہ ایک ایسے شہر میں بھی ان کے ایجنٹ موجود ہوں گے جو کسی بھی لحاظ سے اہم نہیں ہے۔۔۔۔
میں نے لن باہر کھینچا اور پھر اسی سپیڈ سے اندر گھسا دیا ۔۔۔۔
اس کی قمیض کا گریبان پکڑ کر کھینچا اور پھاڑ کر رکھ دیا۔۔۔
نیچے سے لن کو اس کی چوت میں ایسے گھسانے لگا جیسے بارڈر پر سٹین گن سے راؤنڈ فائر کر رہا ہوں۔۔۔۔
اس کی پھدی مجھے انڈین مورچہ نظر آ رہا تھا اور خود کو وطن کا جانثار سپاہی سمجھ رہا تھا۔۔۔۔
اس کی پھدی میں فائر کھول رکھا تھا زور زور سے لن گھسانا جاری رکھا۔۔۔۔
اس کے منہ سے ہمممم اوووووں آااااں مممم ممرررررر گئی رے آرام سے کر میں تیری رنڈی نہیں ہوں جو تو ایسے کری جا رہا ہے ررررےےےے۔۔۔۔
ہائییییے میری چوت کا کباڑہ کر دیا رے تیرے ہتھیار نے ااااں آہہہ اوووووووئییی ۔۔۔
اس کے ممے برا میں سے باہر کو اچھل رہے تھے میں نے زور سے لن جھٹکے مارتے ہوئے ایک مما پکڑ کر باہر نکال لیا۔۔۔۔
خربوزے کے سائز کا مما براؤن دائرے کے درمیان میں موٹا نپل اکڑا ہوا تھا۔۔۔
نپل کو انگلیوں میں لے کر مروڑنے لگا اس کی آنکھوں میں کچھ الگ سے تاثرات تھے۔۔۔
میں نے ہٹ ہٹ کر جھٹکے مارنگ شروع کر دئیے تھے دوسرا مما خود ہی برا میں سے باہر نکل آیا۔۔۔۔
دونوں مموں کو ہاتھوں میں پکڑنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے کھینچ کھینچ کر گھسوں کی مشین چلا دی۔۔۔۔
چیخ چیخ کر اس کا گلا بیٹھ گیا تھا لیکن وہ آنکھیں بند کر کے اب مزے سے چیخیں مار رہی تھی۔۔۔۔
جب میں نے دیکھا کہ اس کو درد ہونا کم ہو گیا ہے تو میں نے لن باہر نکالا اور اسے کو گھوڑی بنا دیا۔۔۔۔
افففف گاند دیکھ کر میرا موڈ بدلنے لگا ایک دم مست موٹی موٹی پھاڑیوں کے درمیان میں گہری دراڈ، ایسی گانڈ سامنے ہو تو اس میں لن گھسانے کا اپنا ہی مزہ ہوتا ہے۔۔۔۔
گانڈ پر پٹاخ پٹاخ دو تین تھپڑ مارے اور نیچے سے پھدی کو ڈھونڈ کر لن سیٹ کیا اور زور سے اندر گھسانے کے لیے جھٹکا مارا۔۔۔۔
لن سلپ ہو کر نیچے کو نکل گیا لن کے سلپ ہونے سے بھی مزہ آ گیا جب اس کے چوتڑوں میرے ساتھ ٹکرائے تو ٹھپ کی دل کش آواز پیدا ہوئی۔۔۔۔
میں نے لن نکال کر پھر ہاتھ سے پکڑ کر پھدی پر سیٹ کیا تھوڑا سا دباؤ ڈالا ٹوپی اندر گھس گئی۔۔۔
اس کے بعد پورے جوش سے گانڈ کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر گھسا مارا لن اپنی پوری لمبائی موٹائی سمیت اندر گھس گیا۔۔۔۔
باہر کو نکلی ہوئی گانڈ کی وجہ سے لن کا کچھ حصہ باہر رہ گیا تھا۔۔۔
میں اس کے اوپر جھکا ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے دونوں مموں کو پکڑ لیا اور گھسے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔
دس بارہ گھسوں میں ہی اس کی آہ وبکا سے کمرہ گونج اٹھا۔۔۔۔
اس نے چیخ چیخ کر زور زور سے کہنا شروع کر دیا۔۔۔۔
اب وہ کسی اور ہی زبان میں بول رہی تھی جس کی مجھے کچھ سمجھ نہ آ رہی تھی۔۔۔
اس کے جوش نے میرا بھی جوش بڑھا دیا تھا میں نے پوری طاقت سے گھسے مارنے لگا۔۔۔۔
اس نے ایکدم چیخ کر کہا ہائے ماتا تیری پتری کی چوت آج ایک ہٹا کٹا لن پھاڑ رہا ہے ۔۔۔۔
افففف میں گئی میری چوت ہار گئی یہ لو پانی چھوڑ رہی ہے۔۔۔
وہ گانڈ کو زور زور سے لن کی طرف دبانے لگی تھی میں نے ممے چھوڑ کر اس کی گانڈ کو پکڑ لیا تھا اور گھسائی کر رہا تھا۔۔۔۔
سانس میرا بھی پھول رہا تھا لیکن فارغ ہونے کے چانسز نظر نہیں آ رہے تھے۔۔۔۔
گھسے مارتے مارتے میں نے اس کی گانڈ کی دراڈ کو کھول کر گانڈ کا مورا دیکھا اور اس پر تھوک پھینک دی۔۔۔۔
دو تین بار تھوک پھینک کر میں نے انگلی سے تھوک کو سوراخ میں ملنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔
وہ فارغ ہو رہی تھی اس کا جسم کانپ رہا تھا بڑی مشکل سے خود کو سنبھال رہی تھی۔۔۔۔
تھوک مسلتے ہوئے میں نے انگلی گانڈ میں گھسا دی انگلی آرام سے اندر چلی گئی۔۔۔۔
میں نے اس کے فوراً بعد دوسری انگلی بھی گھسا دی دونوں انگلیوں سے گانڈ کو نرم کرنے لگا۔۔۔۔
وہ فارغ ہو چکی تھی لیکن ابھی تک ہواس بحال نہیں ہوئے تھے پتہ نہیں کتنے عرصے بعد اس کی پھدی کو لن نصیب ہوا تھا۔۔۔۔
اس کی حالت بتا رہی تھی کہ وہ چدائی کی پیاسی تھی جس طرح وہ ہوش سے بیگانہ ہو کر پھدی میں لوڑا لے رہی تھی اس کے پیاسے پن کا پتہ چل رہا تھا۔۔۔۔
میں نے لن پھدی سے نکالا اور اس کی گانڈ کی دراڈ میں رکھ کر دونوں پھاڑیوں کو کھول لیا۔۔۔
لن راڈ کی طرح سخت تھا ٹوپی سمیت پورا لن اس کی پھدی کے لیس دار پانی سے نہایا ہوا تھا۔۔۔۔
لن کو ہاتھ سے پکڑ کر اس کی گانڈ کے سوراخ پر دبا دیا ٹوپی اندر اتر گئئ۔۔۔۔
اس کا پورا جسم تھرتھرا گیا میں نے لن دبانا جاری رکھا۔۔۔۔
اس نے ممے نیچے لگا لیے جس سے گانڈ کھل کر باہر نکل آئئ اور سوراخ تک لن کو رسائی آسانی سے مل گئی۔۔۔۔
میں نے ایک پاؤں صوفے پر رکھا اور دونوں ہاتھوں سے اس کی کمر کو نیچے دباتے ہوئے گانڈ میں لن گھساتا چلا گیا۔۔۔۔
آدھے کے قریب لن جب اندر اتر گیا تو اس کے منہ سے نکلا بس اتنا ہی کر رے اور نہیں جاوے گا۔۔۔۔
گانڈ پھوٹ جائے گی رے دھیمے دھیمے کر جتنا چلا گیا ہے اسی کو آگے پیچھے کر۔۔۔
میں نے پھر تھوک لن کے اردگرد گانڈ کی دراڈ میں پھنکی لن کو تھوڑا سا پیچھے کھینچا اور پھر آرام سے اندر باہر کرنے لگا۔۔۔۔
اس کے منہ سے سیی سیی کی آوازیں نکل رہی تھیں مجھے بھی اب لن کی نسیں پھوٹتی ہوئی محسوس ہو رہی تھیں۔۔۔۔
میں نے جوش سے گھسے مارنے شروع کیے لن رواں تو ہو گیا تھا لیکن پھدی والی چس نہیں آ رہی تھی۔۔۔
چار پانچ منٹ تک گانڈ مارنے کے بعد جب پھدی والا مزہ نہ آیا تو میں نے لن نکال کر اس کی پھدی میں ایک ہی جھٹکے سے گھسا دیا۔۔۔
وہ اس جھٹکے کے لیے تیار نہیں تھی نیچے گرتی چلی گئی۔۔۔
میں اس کے اوپر گر گیا اور چوتڑوں کے نیچے سے پھدی میں لن گھسانے لگا۔۔۔۔
اچھل اچھل کر پھدی میں لن گھسانے کا اپنا ہی مزہ تھا موٹے موٹے چوتڑوں پر جب گرتا تو ٹھپ ٹھپ کی آواز کے ساتھ ایک الگ ہی مزہ مل رہا تھا۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر سے آہہہ آہہہ اہہہ امممم کر رہی تھی اس نے پھر سے وہی رام لیلا شروع کر لی اس بار کچھ کچھ لفظ میری سمجھ میں آ رہے تھے۔۔۔۔
آہہہ چرم سکھ مل رہیا آہ آہ اوئی آہ آہ آاااہ پاکستانی لن، چدوایا ، پر فولادی انگ آج مل رہیا ہے۔۔۔۔
میری سمجھ میں جو آیا اس کا مطلب کچھ یوں تھا آج مجھے جسمانی لذت کا سکون مل رہا کئی پاکستانی لن لے چکی ہوں لیکن ایسا سخت لن آج نصیب ہوا۔۔۔۔
وہ چیخ چیخ کر فارغ ہو گئی اور میں بھی آخری گھسوں کی طرف بڑھ رہا تھا۔۔۔
میں نے اس کو زور سے الٹ کر سیدھا کیا اس کی دونوں ٹانگیں اٹھا کر کندھوں پر رکھیں۔۔۔
لن کو پھدی پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں پھدی میں اتار دیا۔۔۔
لن ٹھاہ کرکے اس کی بچہ دانی میں ٹکرایا اس کی آنکھوں سے پانی نکل آیا تھا۔۔۔۔
میں نے اس کے چہرے کو غور سے دیکھتے ہوئے ایسے گھسے مارے کہ اس کے غوں غوں کی آواز کی نکل پائی ۔۔۔
اس کی بولتی بند ہو چکی تھی وہ میرے نیچے سے نکلنا چاہتی تھی لیکن میں اس کو قابو کیے ہوئے تھا۔۔۔
نیچے جھک کر اس کا ایک مما منہ میں لیا اور دانت گاڑھ دئیے اور کھینچنے لگا۔۔۔۔
میں کیونکہ اب فارغ ہونے کے قریب تھا تو مجھے کوئی ہوش نہیں رہا تھا۔۔۔
بڑے عرصے بعد تسلی سے پھدی مارنے کو ملی تھی اس لیے خوب جم کر چود رہا تھا۔۔۔۔
سارا خون لن کی ٹوپی کی طرف دوڑ رہا تھا پورا جسم آگ بن گیا تھا۔۔۔۔
مجھے ایسا لگ رہا تھا جیسے میرا لن جل رہا ہو۔۔۔
میرا دل کرنے لگا کہ لن اس کی پھدی کے آر پار کر دوں وہ مجھے اپنے اوپر سے دھکیلنے کے لیے ہاتھ پاؤں چلا رہی تھی۔۔۔
میرے ہاتھ اس کے سر کے نیچے تھے اور منہ اس کے مموں پر تھا اس کی ٹانگیں کندھے سے لگی ہوئی تھیں۔۔۔۔
ٹانگیں کندھوں پر لگی ہونی کی وجہ سے اس کی گانڈ اوپر کو اٹھی ہوئی تھی جس کی وجہ پھدی میں لن گہرائی تک جا رہا تھا ۔۔۔۔
ایسے ہی گھسے مار رہا تھا کہ مجھے شک ہوا جیسے کوئی ہمیں دیکھ رہا ہے۔۔۔
لیکن جب منی دماغ میں سوار ہو اور نکلنے کو بیتاب ہو اور لن کی ٹوپی پر جمع ہو چکی ہو تو گولی بھی لگ جائے تو وہ نکل کر ہی رہتی ہے۔۔۔۔
ایسا ہی ہوا لن پھٹنے کو تیار تھا ، لن نے اپنا منہ کھولا اور بچہ دانی میں گھس کر بچہ دانی کو بھرنا شروع کر دیا۔۔۔
میں لن کو پھدی کی گہرائی میں اتار کر اس کے اوپر لیٹ کر پھدی میں منی نکالنے لگا۔۔۔۔
لن نے جب اپنا آخری قطرہ بھی پھدی میں نکال دیا تو میں اس کے اوپر سے ایک طرف لڑھک گیا۔۔۔
سیدھا ہوا آنکھ کھولی تو دیکھا کہ ایک جوان عورت جس کے ہاتھ پستول تھا ہماری طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
اس کو دیکھ کر مجھے جھٹکا لگا ساتھ ہی لن نے بھی جھٹکا کھایا اس سے منی کا ایک قطرہ نکل کر لن پر سرکنے لگا۔۔۔۔
وہ آنکھیں پھاڑ کر میرے لن کو دیکھنے لگی پھر اس نے کرخت لہجے میں کہا ہینڈز اپ۔۔۔۔
اس کی آواز سنتے ہی مجھ سے چدوانے والی کی پھدی بھی پھٹ کر گلے میں آ گئی۔۔۔
وہ ہڑبڑا کر اٹھی میں اس کو دیکھتا ہی رہ گیا ایک سیکنڈ کے دورانیے میں وہ آنے والی جوان عورت کو نیچے گرا چکی تھی۔۔۔
میں حیران پریشان یہ سب دیکھ رہا تھا وہ دونوں گتھم گتھا تھیں۔۔۔
دونوں کی کوشش پستول چھیننے کی تھی میں نے جلدی جلدی اپنے کپڑے اٹھائے اور پہننے لگا۔۔۔
اس دوران کبھی ایک نیچے ہوتی تو کبھی دوسری اس کے اوپر ہوتی۔۔۔
پھر پانسہ پلٹ گیا آنے والی نے ننگی کو نیچے رکھ لیا اور اس کے ہاتھ تیزی سے چلنے لگے۔۔۔۔
اس نے مجھ سے چدوانے والی کے منہ پر ایک ہاتھ سے گھونسے برسانے شروع کر دئیے۔۔۔۔
وہ دونوں چیخ رہی تھیں ایک ایک دوسرے پر حاوی ہونے کی کوشش کر رہی تھیں۔۔۔
میں کپڑے پہن چکا تو میں اندر کمرے میں گیا اور اپنا پستول نکال کر باہر آیا۔۔۔
تب تک ننگی کی پھدی میں پستول گھسا ہوا تھا اور وہ دونوں ٹانگیں اٹھائے ہوئے تھی۔۔۔
دوسری عورت اس کی ٹانگوں کے درمیان اس طرح سے بیٹھی تھی کہ دونوں ٹانگیں اس کے کندھوں کے قریب تھیں۔۔۔
میں نے نیچے لیٹی ہوئی عورت کی طرف پستول تان لیا اور کہا کھڑی ہو جاؤ ۔۔۔
دوسری عورت نے بھی پستول اس کی پھدی سے ہٹایا کھڑی ہو گئی۔۔۔
اب وہ چاروں شانے چت ہو چکی تھی اس کی آنکھوں میرے لیے افسوس تھا بڑے دکھ بھرے انداز سے مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔
میں نے اس کے کپڑے اٹھا کر اس کی طرف پھینکے اور کہا کہ پہن لو۔۔۔
اس نے کپڑوں کو اٹھایا اور ہم دونوں کی طرف دیکھنے لگی۔۔۔
یکدم اس نے اپنے کپڑے ہم دونوں کی طرف اچھال دئیے میرے منہ پر اس کی قمیض آ کر لگی۔۔۔
ایک سیکنڈ بعد زور کا گھونا پڑا میں لکھڑا گیا اور پیچھے صوفے پر جا گرا۔۔۔
ٹھیک ایک سیکنڈ بعد چیخ کی آواز سنائی دی اور دھڑام کی آواز سے کوئی نیچے گرا۔۔۔
میں نے اپنے منہ سے کپڑے کو ہٹایا اور جب دیکھا تو وہ شلوار پہن رہی تھی اس کے پاؤں کے نیچے دوسری عورت پڑی تھی۔۔۔
میں نے جب پستول کو سیدھا کرنا چاہا تو اسی وقت وہ بجلی کی سی تیزی سے کودی اور میرے ہاتھ پر ایک کک ماری پستول میرے ہاتھ سے نکل کر دور جا گرا۔۔۔۔
میں ابھی حیران ہی ہو رہا تھا کہ نیچے گری ہوئی عورت لیٹے لیٹے گھوم کر اٹھی اور اس نے فلائنگ کک اس ادھ ننگی عورت کے سینے پر ماری۔۔۔
وہ ایک چیخ کے ساتھ پیچھے جا گری وہ اگلے قدم میں اس کے سینے پر سوار ہو گئی اور اس کے جبڑوں پر مکے مارنے لگی۔۔۔۔
میں نے ہاتھ کو ہلا کر چیک کیا جو درد کر رہا تھا بایاں ہاتھ تھا درد سے ٹیسیں اٹھ رہی تھیں۔۔۔۔
میرا دماغ گھوم گیا میں نے پستول کو اٹھانے کی بجائے اس کی طرف بڑھا اور اس کے اوپر بیٹھی عورت کو اس کے اوپر سے دھکیل کر ایک طرف کیا۔۔۔۔
اس بے حیا ننگی چداکڑ عورت کو بالوں سے پکڑ کر کھینچے ہوئے کھڑا کیا اور اٹھا کر فرش پر مارا۔۔۔۔
اس کی چیخ سے پورا کمرہ گونج اٹھا اس سے پہلے کہ میں اس کی طرف بڑھتا باہر سے دو لوگ اندر داخل ہوئے۔۔۔
دونوں کے ہاتھوں میں پستول تھے انہوں نے مجھے دیکھا پھر ان دونوں کو پھر دونوں کے پستولوں کا رخ اس کی طرف ہو گیا۔۔۔۔
اب وہ سمجھ چکی تھی کہ مزاحمت کا کوئی فائدہ نہیں اس لیے اس نے چپ چاپ اپنی قمیض پہنی اور ہاتھ اوپر کر دئیے۔۔۔۔
رات ہو چکی باہر کافی اندھیرا پھیلا ہوا تھا اس لیے اس کا منہ چھپانے کی بجایے ان لوگوں نے اس کے دونوں ہاتھوں کو ہتھکڑی کے شکنجے میں کس لیا اور آگے لگا لیا۔۔۔
ایک رک گیا اور مجھ سے ہاتھ ملا کر کہا ویل ڈن ینگ مین۔۔۔
ایسے ہی نہیں تم ہماری نظروں میں آئے اس کے ذریعے ان لوگوں تک یہ خبر تو پہنچ گئی کہ ایک بندہ بارڈر کے رستے انڈیا میں داخل ہو چکا ہے لیکن کون کے کہاں ہے یہ کوئی نہیں جانتا۔۔۔۔
اب تمہارا اصل امتحان شروع ہو چکا ہے ہو سکتا ہے تم ان کی نظروں میں آ گئے ہو اس لیے ذرہ سنبھل کر رہنا۔۔۔
اگر کبھی بھی کوئی مسئلہ ہو تو اسی وائرلیس کے ذریعے رابطہ کر لینا۔۔۔
ہیو گڈ نائٹ ینگ مین۔۔۔
اس نے میری طرف ہاتھ بڑھایا میں نے ہاتھ ملایا اس نے زور سے ہاتھ دبایا اور پھر باہر نکل گیا۔۔۔
اس کے جانے کے بعد میں سوچنے لگ گیا کہ اب یہ سب کیا شروع ہو گیا ہے۔۔۔
دل میں خود کو کوئی پندرہ سو گالیاں دیں نیا سیاپا شروع کرنے میں سب سے بڑا ہاتھ میرے لوڑے کا تھا۔۔۔۔
یہ سب سوچتے سوچتے میں نہانے گھس گیا نہا کر باہر آیا اور لیٹ گیا۔۔۔۔
سوچ جو مرضی رہا تھا لیکن جب رج کے پھدی وجائی ہو تو نیند بھی سکون کی آتی ہے۔۔۔۔
وہ لوگ جو بھی تھے نہ انہوں نے مجھے اپنا تعارف کروایا اور نہ میں نے پوچھنے کی کوشش کی ۔۔۔
سکون کی نیند سویا صبح اٹھا تو پھر سے وہی سب کچھ دماغ میں گھومنے لگا۔۔۔۔
میں تیار ہو رہا تھا کہ مجھے فون آیا کالج جاتے ہوئے آج رستہ بدل کر جانا۔۔۔
اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا یا پوچھتا فون بند ہو گیا۔۔۔
لوڑا میرا میرے منہ سے بے اختیار نکل گیا۔۔۔
ایک پنگا ختم نہیں ہوتا اور اوپر سے نواں کٹا کھل جاتا ہے۔۔۔
میں نے پستول نکالا اور جیب میں ڈال لیا اوپر جیکٹ پہنی اور گھر سے باہر نکلا۔۔۔
بائیک ابھی نکالی ہی تھی کہ مجھے رباب کا فون آگیا۔۔۔
اس نے کہا پاپا پوچھ رہے ہیں رات کو کھانا کھانے بھی نہیں آئے، وہ کہہ رہے ابھی گھر آو اور ناشتہ کرو اگر ناشتہ کرنے نہ آئے تو پھر دیکھنا۔۔۔
میں نے کہا اچھا میں آ رہا ہوں۔۔۔
میں رباب کے گھر کے سامنے پہنچ گیا اور ہارن دیا تو اسی وقت دروازہ کھل گیا سامنے ان کی مما کھڑی تھیں۔۔۔
وہ مجھے گھر میں لے گئیں اور ناشتہ کروایا کوئی خاص بات نہ ہوئی میں نے ناشتہ اور ان سے اجازت لی۔۔۔
اچانک رباب نے کہا بابا یہ بھی میرے کالج ہی جاتا ہے آپی نے آج جانا نہیں ہے میں اس کے ساتھ چلی جاتی ہوں۔۔۔
رباب کی مما نے کہا ہاں ٹھیک ہے لیکن صائم سے پوچھ تو لو یہ تمہیں ساتھ لے جانا بھی چاہتا ہے یا نہیں۔۔۔۔
میں اب کیا کہہ سکتا تھا میں نے سر جھکاتے ہوئے کہا ٹھیک ہے میں لے جاؤں گا ۔۔۔۔
اسی وقت رباب بھاگ کر اندر گئی اور چادر اوڑھ کر آ گئی اور اپنا بیگ بھی۔۔۔
ہم نے اجازت لی اور باہر نکلے میں نے بائیک سٹارٹ کی اور اس کو سیدھا کیا۔۔۔
وہ اچھل کر میرے پیچھے مناسب فاصلہ رکھ کر بیٹھ گئی۔۔۔
میں نے درمیانی سپیڈ سے بائیک چلانا شروع کر دی ۔۔
ٹاون سے کچھ دور ہی گیے تھے کہ مجھے لگا کوئی ہمارا پیچھا کر رہا ہے۔۔۔
میں محتاط ہو گیا لیکن اپنی سپیڈ نہ بڑھائی ۔۔۔
ٹاون کیونکہ شہر سے تھوڑا ہٹ کر تھا شہر میں داخل ہونے کے لیے کافی فاصلہ طے کرنا پڑتا تھا۔۔۔
اس وقت اس رستے پر کافی ٹریفک ہوتی تھی اس لیے مجھے موقع مل گیا ۔۔۔
میں نے سپیڈ تھوڑی بڑھا دی اور ان سے کافی آگے نکل گیا۔۔۔
یہ بات رباب نے بھی محسوس کر لی کہ میں بار بار پیچھے مڑ کر دیکھ رہا ہوں۔۔۔
اس نے میرے قریب ہو کر بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ میرے ساتھ چپک کر میرے کان میں پوچھا کیا ہوں بار بار پیچھے مڑ کر کیوں دیکھ رہے ہو۔۔۔
میں نے کہا کچھ بھی نہیں ہوا بس ایسے ہی کہیں کوئی پیچھے سے ٹھوک نہ دے۔۔۔
ہم نے اس سڑک سے جس سڑک پر مڑنا تھا وہ ہمارے کالج والی تھی اس پر کافی آگے جا کر کالج آتا تھا۔۔۔
یہ سڑک شہر کا بائی پاس کہلاتا تھا لیکن بائی پاس نام کا ہی تھا کیونکہ اس پر ٹریفک نہ ہونے کے برابر ہوتی تھی۔۔
صرف وہ لوگ ہی اس طرف سے گزرتے تھے جو اس کالج میں پڑھتے تھے یا آگے کسی گاؤں میں جاتے تھے کیونکہ یہ آگے جا کر ختم ہو جاتی تھی اس کے بعد کچا راستہ تھا جو دریا تک جاتا تھا۔۔۔
میں اس سڑک پر مڑ گیا ابھی تھوڑا ہی فاصلہ طے کیا تھا کہ ایک گاڑی بڑی سپیڈ سے ہمیں کراس کرکے آگے آئی اور اس کی بریکوں کی آواز گونجی ۔۔۔
مجھے بھی بائیک روکنا پڑی، میں نے بائیک کی بریک لگائی تو رباب میرے اوپر گرنے کے انداز میں آ گئی۔۔۔
بائیک روک کر میں نے رباب سے کہا اترو اور ایک سائیڈ پر جا کر کھڑی ہو جاؤ درمیان میں نہ آنا۔۔۔
وہ اتر کر سڑک کے کنارے کھڑی ہو گئی میں نے جیکٹ کو تھپھتایا تو دو پستولوں نے اپنی موجودگی کا اظہار کیا۔۔۔۔
میں نے رباب کو اشارے سے کہا کہ وہ پیچھے ہو جائے وہ بھاگ کر سڑک کے کنارے لگے درخت کے پیچھے ہو گئی۔۔۔
میں نے بڑے سکون سے اپنی جیکٹ کھولی اور بائیک کو سٹینڈ کر لگا کر اتر گیا۔۔۔
گاڑی میں سے ابھی تک کوئی بھی نہیں نکلا تھا میں نے ایک بار پھر سے جیکٹ کو ہاتھ لگا کر سیٹ کرنے کے انداز میں چیک کرکے تسلی کی کہ پستول اندر موجود ہیں۔۔۔
میں کھڑا رہا گاڑی کے تین دروازے ایک ساتھ کھلے اور اس میں سے تین لوگ باہر نکلے۔۔۔
تینوں کے ہاتھ میں ہاکیاں تھیں میں جو سمجھ رہا تھا کہ ان کے پاس کوئی خطرناک ہتھیار ہوں گے میرے سارے اندازے بیکار گئے۔۔۔۔
وہ گھوم کر میری طرف چلنے لگی میں بڑے سکون سے جیکٹ کے اندر والی سائیڈ پر ہاتھ ڈال کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔
وہ چلتے ہوئے میرے قریب آنے لگے میں اسی انداز میں کھڑا رہا۔۔۔
جب ان کے میرے درمیان دس فٹ کا فاصلہ رہ گیا تو میں نے دونوں ہاتھ باہر نکال لیے جن میں پستول تھے۔۔۔۔
میرے ہاتھوں میں پستول دیکھ کر ان کے آگے بڑھتے قدم رک گئے ۔۔۔
میں نے ان کی طرف پستول تان کر کہا رک جاؤ،اگر کسی قسم کی کوئی تیزی دکھانے کی کوشش کی تو میں گولی چلانے سے دریغ نہیں کروں گا۔۔۔۔
وہ تو رک گئے اور میں بھی یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ بس تین لوگ ہی ہوں گے۔۔۔
میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ان کے ساتھ کوئی چوتھا بندہ بھی ہو سکتا ہے۔۔۔
گاڑی میں سے ایک بندہ باہر نکلا وہ کھڑا ہو کر میری طرف دیکھنے لگا۔۔۔
اس کے بعد دوسرا بندہ نکلا اور قہقہ لگانے لگا۔۔۔
اس کا قہقہ مجھے سنا سنا لگ رہا تھا اس کی آواز جانی پہچانی تھی۔۔۔
پھر وہ بڑی فلمی انداز میں گھوما اور میری طرف بارہ بور بندوق تان لی۔۔۔
میں ہکا بقا اس کو دیکھ رہا تھا مجھے جس کی امید نہیں تھی یہ وہ ہی تھا۔۔۔
بعض دفعہ بندہ جس کی توقع نہیں کر رہا ہوتا وہ آپ کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا کیسا لگا سرپرائز تم کیا سمجھے تھے کہ میں کہیں مر کھپ گیا ہوں گا۔۔۔
جیسے تم نے مجھے ذلیل کیا تھا جو کچھ میرے ساتھ کیا تھا اس کے بعد میں کبھی تمہارے سامنے نہیں آوں گا۔۔۔
ویسے تمہیں تو یہ بھی امید نہیں ہوگی کہ میں کبھی اتنا بڑا قدم بھی اٹھا سکتا ہوں۔۔۔
تم خود کو کیا سمجھ بیٹھے ہو جو بھی کرتے رہو گے تمہارا سامنا کرنے والا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔۔
میری طرف دیکھو مجھے یہاں تک پہنچانے میں تمہارا سب سے بڑا ہاتھ ہے نہ تم میرے دوست ہوتے نہ میں تمہارے ساتھ چلتا اور نہ ہی مجھے رسوا ہونا پڑتا۔۔۔۔
سنو صائم نواز ڈانگرا عرف بلو میں یہاں تمہارے سامنے کھڑا ہوں اس چلتے روڈ پر ہاتھ میں بندوق لیے۔۔۔
میں وہی ہوں جو کبھی گولی کی آواز سے بھی ڈرتا تھا جس کی گانڈ پھٹتی تھی۔۔۔
جو تمہارے لڑائی جھگڑوں کی وجہ سے ڈرا رہتا تھا میں وہی ہوں جس کو تم لوگ ہر وقت اپنے مذاق کا نشانہ بنائے رکھتے تھے۔۔۔
دیکھو آج میرے ساتھ کتنے لوگ ہیں آج لوگ میرا نام سن کر کانپنے لگتے ہیں۔۔۔
میں مسکرا دیا اور پستول نیچے کرتے ہوئے بولا ۔۔۔
واقعی تم صحیح کہا میں نے کبھی سوچا نہیں تھا کہ تم ایسے میرے سامنے آؤ گے۔۔۔
میری توقع کے برعکس تم کافی دلیر ہو چکے ہو، دوغلے تو تم پہلے بھی تھے لیکن اب کچھ اور بھی بن گئے ہو۔۔۔
اس نے غصے سے کہا بکواس بند کرو اپنی ورنہ گولی مار دوں گا۔۔۔
میں ہنسنے لگا اور کہا بندوق اٹھانے اور گولی مارنے میں بڑا فرق ہوتا ہے، یہ بات مجھ سے زیادہ کون سمجھ سکتا ہے۔۔۔
چار ٹٹو ساتھ مل گئے تو تم خود کو بہادر سمجھ رہے ہو بہادری کی الف ب سے بھی واقف نہیں ہو۔۔۔
اس نے غصے سے پھنکارتے ہوئے کہا مجھے غصہ نہ دلاؤ ورنہ میں بھول جاؤں گا کہ مجھے یہاں کس مقصد کے تحت بھیجا گیا ہے۔۔۔
میری ہنسی نکل گئی میں نے کہا بس یہ ہی فرق ہے مجھ میں اور تم میں۔۔۔
میں کسی کے لیے کام نہیں کر سکتا کسی کی غلامی کرنا میری سرشت میں نہیں ہے اور تم لوگوں کے نیچے لگنا خوب جانتے ہو۔۔۔۔۔
اس کا پارہ ہائی ہو گیا اس نے غصے سے کانپتے ہوئے آگے بڑھنے کی غلطی کر دی وہ بھاگ کر میرے قریب آیا ۔۔۔
اس کا قریب آنا تھا کہ میں نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر پستول سے ضرب لگائی وہ درد سے بلبلا اٹھا۔۔۔
بندوق اس کے ہاتھ سے گر گئی میں نے اس کے ساتھیوں کی طرف پستول تان کر اس کے منہ پر ٹھڈے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔
اس کی بندوق اٹھائی اور میگزین نکال کر دور پھینک دی اور اس کو کہا میرے بارے میں غلط سوچنا بند کر دے۔۔۔
اپنی زندگی کو بھی پرسکون کر لو اور گھر والوں کو بھی شرمندگی سے بچا لو۔۔۔۔
میں کیا ہوں کیا کر رہا ہوں کن کے ساتھ تعلق ہے کیسے لوگ میرے پیچھے ہیں کس کس کے لیے میں مطلوب ہوں تم یہ سب نہیں جانتے۔۔۔
اگر میرے بارے میں ساری تفصیلات جان لو تو پھر میرے پاس آجانا اگر من کرے تو میں اب بھی تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔
دو باتیں اگر میں نے تمہارے ساتھ کچھ غلط کیا ہے تو مجھے بتاؤ میں اس کا ازالا کرنے کی کوشش کروں گا۔۔۔
اس میں یہ نہ سمجھنا کہ میں تم سے ڈر گیا ہوں یا میری کوئی مجبوری ہے۔۔۔
دیکھ شاہ ہاں جی وہ شاہ تھا جس کو میں شاہ زیب کے ساتھ مارنے کی بجائے زندہ چھوڑ دیا تھا۔۔۔
میں ایک بار پھر وہی غلطی دہرانے جا رہا تھا میں نہیں جانتا تھا کہ جن لوگوں کی سرشت میں دغا ہو وہ دغا کرکے ہی رہتے ہیں۔۔۔
پتہ نہیں کیوں مجھے اس پر ترس آتا تھا اس کے پیچھے اس کی امی کی باتیں تھیں جو اس نے مجھے کی تھیں۔۔۔
اس نے مجھے اپنی بیوگی کا بتایا اس نے مجھے کہا تھا کہ ندیم اس کا اکلوتا بیٹا ہے اس کو بڑی مشکلوں سے پالا ہے۔۔۔
مجھے اس کی ماں کا احساس نہ ہوتا تو میں کب کا اس کو پار کر چکا ہوتا ابھی بھی کر سکتا تھا لیکن میں یہ سب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔
کئی لڑکوں نے مجھے وہاں کھڑے دیکھ لیا تھا اور آگے نکل گئے تھے میں نے ندیم کو سمجھایا کہ آئندہ میرے رستے میں آنے سے گریز کرنا ورنہ میں تمہاری ماں کا احساس بھی نہیں کروں گا۔۔۔
میں یہ بھی بھول جاؤں گا کہ تم کبھی میرے دوست رہ چکے ہو۔۔۔
آج تم دوستی کے خاتمے پر مہر ثبت کر دی ہے تم نے اس دن دیکھا تھا کہ میں نے شاہ زیب کو نہیں چھوڑا تھا اگر چاہتا تو اس کے ساتھ تم بھی غائب ہو چکے ہوتے۔۔۔
لیکن مجھے تمہاری ماں کا چہرہ یاد آ گیا وہ مجھے اپنا بیٹا مانتی ہیں میں ان کی بڑی عزت کرتا ہوں۔۔۔۔
جا اپنے پنٹروں کے ساتھ یہاں سے نکل جا اور آئندہ سوچ سمجھ کر کوئی قدم اٹھانا یہ نہ ہو کہ وہ تمہارا آخری قدم ہو۔۔۔۔
میں نے بائیک سٹارٹ کی اور رباب کو بلا کر پیچھے بٹھایا اور وہاں سے کالج چلا گیا۔۔۔
رباب میرے پیچھے بیٹھی کانپ رہی تھی اس نے ایک لفظ بھی ادا نہ کیا ۔۔۔
اس کو کالج میں چھوڑ کر میں پارکنگ میں رک گیا شاہد کو بھی پتہ چل گیا تھا کہ یہاں کیا ہوا ہے ۔۔۔
وہ پارکنگ میں آگیا میں نے اس کو سب بتایا تو اس کا پارہ بھی ہائی ہو گیا اس نے غصے سے کہا اس سالے کی تو میں گانڈ ماروں گا مجھے پتہ ہے آج کل کس کے ساتھ ہوتا ہے۔۔۔
میں نے اس کو کہا دفعہ کرو یار کچھ نہیں ہوتا ہمارا اس کے ساتھ یارانہ رہا ہے اس کو اتنی تو اجازت دے سکتے ہیں۔۔۔۔
شاہد بضد تھا کہ وہ بدلا لے کر رہے گا اسی وقت ناصر کا فون آیا کہ پولیس نے جن لوگوں کو پکڑا ہے وہ اصل مجرم نہیں ہیں۔۔۔
میں نے کہا جانتا ہوں جو لوگ مجرم تھے ان کے ٹھکانے تو تباہ ہو چکے ہیں ان کا کافی نقصان ہو چکا ہے۔۔۔
اس نے کہا وہ تو ٹھیک ہے لیکن جو پلاننگ وہ اب کر رہے ہوں گے اس کا پتہ لگانے کے لیے ہمیں کچھ کرنا پڑے گا۔۔۔
میں نے اس کو بندے لگانے کا کہہ دیا لیکن اس نے کہا اب یہاں کے بندوں کو وہ جان چکے ہیں ۔۔۔۔
ان کے ساتھ جو کام کر رہے ہیں وہ باہر کے ہیں سب کے سب اور نامور مجرم ہیں۔۔۔۔
میں نے کہا چلو دیکھتے ہیں کیا کرنا ہے اس کا کوئی نہ کوئی بندوبست کرنا پڑے گا۔۔۔۔
ناصر سے بات کرنے کے بعد میں نے چابی اور پستول نکال کر شاہد کو دئیے اور کہا گھر رکھ آئے لیکن اس نے کہا رہنے دو ۔۔۔
اپنے پاس رکھو واپسی پر بھی ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔۔۔
میں نے جیکٹ بند کی اور کلاس میں جانے لگا کلاس سے پہلے ہی مجھے چپڑاسی نے کہا کہ پرنسپل صاحب بلا رہے ہیں ۔۔۔۔
میں نے ناصر کو فون کیا اور پرنسپل کی ویڈیوز سینڈ کرنے کا کہا شاہد میرے ساتھ تھا اس نے کہا اس کی بیٹی کی ننگی تصویریں ہیں میرے پاس وہ اس کے سامنے رکھ دیں گے۔۔۔۔
میں نے شاہد کو کہا کیسا بندہ ہے یار تو ایک لڑکی نے تجھ پر بھروسہ کیا اور اس کو ذلیل کرنا چاہتا ہے مجھے تم سے اس کی توقع نہیں تھی۔۔۔۔
میں اس سے اتنا کہہ کر پرنسپل کے دفتر چلا گیا اس نے بڑے روکھے سے انداز سے مجھے اندر آنے کی اجازت دی۔۔۔
میں اندر داخل ہوا تو اس نے میرے سامنے ایک کاغذ رکھتے ہوئے کہا تم کالج سے فارغ ہو ہمیں تمہارے جیسے لڑکے اس کالج میں نہیں چاہیں ۔۔۔
بدکردار لڑکوں کے لیے یہاں کوئی جگہ نہیں ہے تمہارا کردار انتہائی خراب ہے، کچھ تم کرتے پھر رہے ہو جس طرح تم بچوں کو بھڑکا کر شریف لوگوں کی کردار کشی کر رہے ہو تمہارا کیا پتہ کل کو کالج کو ہی بدنام کر دو۔۔۔
میں نے کاغذ کو اٹھایا اور بغیر پڑھے پھاڑ دیا اور ٹیبل پر پھیلا کر کہا جناب عزب مآب عالی جناح محترم پرنسپل صاحب میری چھوٹی سی التجا بھی سن لیں تو جناب کی مجھ غریب پر کرم نوازی ہو گی۔۔۔۔۔
اس نے نخوت بھرے لہجے میں کاغذ کے ٹکڑوں کو دیکھا پھر میری طرف دیکھ کر کہا ہاں بولو۔۔۔
میں نے کہا حضور والا آپ نے سزا تو سنا دی لیکن ملزم کو صفائی کا موقع تو دیا ہی نہیں ۔۔۔
اس نے بڑے غور سے میری طرف دیکھا ۔۔۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا عالی جاہ بندہ ناچیز کچھ باتیں کرنا چاہتا ہے اگر اجازت دیں تو عرض کروں۔۔۔۔
اس نے کھا جانے والی نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا بولو میں سن رہا ہوں۔۔۔
میں نے کہا جناب والا آپ جناب نے ایک غریب کی مدد فرمائی تھی اور اس کے جسم سے لطف اندوز ہونے کے لیے اس کو پیار کا لالی پوپ دیا تھا۔۔۔
وہ ایک دم بھڑک اٹھا بکواس بند کرو اپنی ناہنجار انسان تجھے بات کرنے کی بھی تمیز نہیں ہے۔۔۔
میں نے ہاتھ کے اشارے سے اس کو چپ ہونے کا کہا اور جیکٹ ایک طرف کرکے اس کو پستول کے درشن کروائے ۔۔۔
اس کی طوطی بند ہو گئی۔۔۔
میں نے پھر پوری تفصیل کے ساتھ اس کو ساری بات سمجھائی اس کے پچھلے سارے کرتوت کھول کر اس کے سامنے رکھ دئیے ۔۔۔
جب میں پروفیسر کے علاوہ اس کے باہر کے کرتوت اور لڑکیوں کے ساتھ اس نے جو کچھ کیا وہ بتانا شروع کیا تو اس کے ماتھے پر پسینہ چمکنے لگا۔۔۔۔
اس کا سارا طیش ہوا بن کر اڑ گیا وہ نظریں جھکانے لگا۔۔۔
آخر جب اس کا خاندانی بیک گراؤنڈ بتایا اور ساتھ اس کے فیملی ممبرز کی تفاصیل اس کو بتائیں تو وہ ٹھس ہو گیا۔۔۔
میں نے بڑے دھیمے لہجے میں کہا دیکھیں سر جب گھر میں بیٹیاں ہوں تو دوسروں کی بیٹیوں کو بلیک میل کرنے والے کو سوچنا چاہئیے۔۔۔
کتنا مقدس پیشہ ہے آپ کا اور آپ کر کیا رہے ہیں، لوگ اس لیے یہاں بھیجتے ہیں کہ آپ ان کی بیٹیوں کو سکالر شپ کا لالچ دے کر اپنی ہوس مٹانے کا ذریعہ بنائیں۔۔۔
وہ غریب ماں باپ کیا سوچتے ہوں گے کہ ان کی بیٹیاں پڑھ رہی ہیں اور پڑھ لکھ کر ان کا نام روشن کریں گے وہ یہ نہیں جانتے کہ یہاں ایک بڑا مگرمچھ موجود ہے جو ان کی ننھی تتلیوں کے کر کاٹ دے گا ۔۔۔۔
اگر میں ایک ثبوت دکھا دوں تو آپ پوری زندگی ذلیل ہوتے رہیں گے ناصرف باہر بلکہ اپنے گھر میں بھی ذلت آپ کا مقدر بن جائے گی۔۔۔
ذرہ تصور کرکے دیکھو جب آپ کی بیٹی رات کو کمرے میں اکیلی بیٹھ کر روتی رہے یہ سوچ کر کے اس کا محسن اس کا ریپ کر چکا ہے۔۔۔
اس کی جوانی کا سارا مزہ اس ناسور نے چکنا چور کر دیا ہے۔۔۔
میں بولتا جا رہا تھا اور پرنسپل صاحب دھاڑیں مار مار کر رونے لگے اور اپنی کرسی سے اٹھ کر میرے پاؤں میں بیٹھ گئے اور ہاتھ جوڑ کر معافیاں مانگنے لگے۔۔۔
اس کے انداز میں سچائی تھی اس کا لہجہ اس کے اندر کی شرمندگی کا اظہار کر رہا تھا۔۔۔۔
میں نے کہا دیکھیں آپ جو بھی سوچیں جو بھی کریں یہ ضرور سوچ لینا آپ کو اس کا خمیازہ بھی بھگتنا پڑ سکتا ہے۔۔۔
سب سے اہم بات اس کالج میں آج سے پہلے جو کچھ ہو چکا وہ ماضی تھا اب اگر کچھ کرنے کی کوشش کی یا کروانے کی کوشش کی تو اس کا بہت برا نتیجہ نکل سکتا ہے۔۔۔
میں شایان، اس کے والد اور آپ کے تعلق کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں اور آپ کے سیاسی اثرورسوخ کا سے بھی بخوبی واقف ہوں۔۔۔۔
آپ کو ایک بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ میں کسی کے رتبے،حیثیت اور دولت سے نہیں ڈرتا، کسی کے خاندانی بیک گراؤنڈ اور بدمعاش ٹائپ لوگوں سے نپٹنا بخوبی جانتا ہوں۔۔۔
آپ کو یقین نہ ہو تو آج جن کو آپ نے بھیجا تھا جن سے رات آپ کی ملاقات ہوئی تھی ان کے بارے میں پتہ کر لیں اگر یقین نہ آئے تو کالج میں آج جو باتیں ہو رہی ہوں گی وہ سب سن لینا سب پتہ چل جائے گا۔۔۔
اس میں حیران ہونے کی بھی کوئی ضرورت نہیں کہ مجھے یہ سب کیسے پتہ چلا آپ جان بھی نہیں سکتے میرے پنجے کہاں کہاں گڑھ چکے ہیں۔۔۔
اس کی سٹی تو گم ہو چکی تھی میں نے اتنی باتیں سنانے کے بعد کہا سر میرے لیے کیا حکم ہے ۔۔۔
اس نے منہ اٹھا کر میری طرف دیکھا اس کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کہے۔۔۔
میں نے اس کی مشکل آسان کر دی میں نے کہا سر میں کہاں جاؤں گھر جاؤں یا ۔۔۔۔
اس نے ہکلاتے ہوئے کہا کہیں جانے کی ضرورت نہیں کلاس میں جاؤ اور جا کر پڑھو ۔۔۔
میں شکریہ ادا کیا اور مسکرا کر جیکٹ کو بند کیا اور باہر نکل گیا اور کلاس کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
کافی سارے لڑکے اور لڑکیاں آفس کے دائیں چھپ کر کھڑے تھے یہ دیکھنے کے لیے کہ مجھے اندر سے کیا حکم ملتا ہے۔۔۔
میں سیدھا کلاس کی طرف بڑھ گیا کلاس کا ماحول بھی عجیب تھا ہمارے استاد بھی چپ چاپ کھڑے تھے سب سٹوڈنٹس خاموش تھے جیسے کوئی بہت بڑی ایمرجنسی ہو گئی ہو۔۔۔
میں نے جب اجازت مانگی تو ایک دم جیسے سب چونک گئے پروفیسر نے مجھے اندر آنے کی اجازت دی۔۔۔
میں اندر داخل ہوا تو سب لوگ کھڑے ہو گئے پھر یکدم ایک لڑکے نے تالی بجا دی۔۔۔
ساری کلاس تالیوں سے گونج اٹھی میں چپ چاپ اپنی جگہ پر چلا گیا اور کھڑا رہا۔۔۔
پروفیسر نے سب کو ہاتھ کے اشارے سے چپ کروایا اور بیٹھنے کا کہا سب بیٹھ گئے میں بھی ان کے ساتھ بیٹھ گیا۔۔۔
کسی نے کوئی سوال نہ کیا اور نہ کوئی جواب ہوا۔۔۔۔
پڑھنے لگ گئے بریک میں بھی کافی شغل لگتا رہا میں اور شاہد آج بھی ایک ٹیبل پر بیٹھے گپیں ہانک رہے تھے ۔۔۔
رباب اپنے گروپ کے ساتھ وہاں آئی اور میرے ساتھ والی چئیر پر بیٹھ گئی اور اپنی ساتھی لڑکیوں کو بھی بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا کمال کے انسان ہو کوئی مہمان آئے تو بندہ جھوٹی صلح ہی مار لیتا ہے۔۔۔
میں نے مسکراتے ہوئے ادھر ادھر دیکھا اور پوچھا کہاں ہے مہمان ۔۔۔
اس نے اپنی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ بیٹھا ہے مہمان ۔۔۔
کدھر بیٹھا ہے کہاں بیٹھا ہے مجھے تو یہاں ایک لڑکی نظر آرہی ہے مہمان تو کوئی نہیں ہے۔۔۔
اس نے ترقی با ترقی جواب دیا لڑکی کس کو بولا میں کوئی لڑکی نہیں ہوں۔۔۔
میں نے اس کی بات کو کاٹتے ہوئے کہا اوہ سوری سوری مجھ سے غلطی ہو گئی کہ تمہیں لڑکی کہہ دیا سوری آنٹی جی۔۔۔۔
رباب منہ پھلا کر کھا جانے والی نظروں سے مجھے دیکھنے لگی اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ مجھے کچا چبا جائے ۔۔۔
اس نے کچھ دیر گھورا اس وقت وہاں موجود سب ہنستے رہے۔۔۔
شاہد نے اس کو سمجھایا دیکھیں آپ جس صائم کو جانتی ہیں وہ یہ نہیں ہے جس صائم کو میں جانتا ہوں وہ بھی یہ نہیں ہے، صائم جو ہے وہ سب کچھ ہے جس کے انداز، میں کردار میں، گفتار میں،سوچ میں کئی قسم کے پیچ و خم ہیں۔۔۔
میں پچھلے پانچ سال سے اس کے ساتھ پڑھ رہا ہوں ہر بار اس کا کوئی الگ رنگ دیکھنے کو ملتا ہے۔۔۔
رباب نے اس کو بول کر چپ کروا دیا جو بھی ہے جیسا بھی مجھے اس سے کوئی غرض نہیں یہ یہاں موجود ہے میں اپنی دوستوں کے ساتھ یہاں آئی ہوں ہم نے کچھ کھانا ہے۔۔۔
میں نے کہا اتنی دیر سے کھا تو رہی ہو گھر سے بھی کھا کر آئی ہو گی ۔۔۔
اس کو کچھ سمجھ نہ آئی لیکن شاہد کی ہنسی چھوٹ گئی تو اس کو سمجھ آئی یا نہ ائی لیکن اس نے گھور کر مجھے دیکھا۔۔۔
شاہد نے ہنستے ہوئے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا اور کہا یار یہاں تو فری کھلانے والا کوئی نہیں جیب سے کی لگانے پڑیں گے ۔۔۔
اس نے کینٹین والے لڑکے کو اشارہ کیا۔۔۔
میں نے کہا ہمارا کالج کتنا اچھا تھا وہاں کبھی پیسے نہیں دینے پڑے صرف بیٹھ جاتے تھے چائے سموسے سب کچھ مل جاتا تھا۔۔۔۔
لگتا ہے یہاں کی لڑکیوں کو اپنا بھی اپنا گروید بنانا پڑے گا۔۔۔
رباب حیران ہو کر میری طرف دیکھنے لگی میں نے شاہد کو کہا آج سب کو اکٹھا کرتے ہیں۔۔۔
شاہد کے بولنے سے پہلے ہی میں نے اٹھ کر کر کہا سب لوگ میری طرف متوجہ ہوں۔۔۔
میری آواز اتنی اونچی تھی کہ کینٹین سے باہر موجود سٹوڈنٹس بھی اندر آنے لگے۔۔۔
کینٹین ایک منٹ میں ہی بھر گئی میں اپنی کرسی پر کھڑا ہو گیا شاہد کے کندھے پر ایک ہاتھ رکھ لیا۔۔۔
رباب کو بھی کھڑا ہونا پڑا وہ میرے پاس کھڑی تھی جب میں نے شاہد کے کندھے پر ہاتھ رکھا تو اس کو لگا شاید میں اس کے بھی کندھے پر ہاتھ رکھوں گا۔۔۔۔
جب میں نے ایسا نہ کیا تو مجھے لگا شاید اس کو مایوسی ہوئی ہے۔۔۔
میں با آواز کہنا شروع کیا سب دوستوں کو میرا سلام ۔۔۔
کافی لوگوں نے بیک زبان جواب دیا۔۔۔
میں نے کہنا شروع کیا اکثر لڑکیوں کو کالج میں یا کالج کے باہر کوئی مسئلہ ہو تو بلا جھجک بتا سکتے ہیں۔۔۔
اکثر لڑکیوں کو لڑکے تنگ کرتے ہیں آتے جاتے چھیڑتے ہیں آوازیں کستے ہیں بے ہودہ حرکتیں کرتے ہیں۔۔۔۔
کسی کو بھی اس قسم کا کوئی مسئلہ پیش ہو تو میرے سامنے آنے کی بجائے کسی بھی ذریعے سے مجھ تک بات پہنچا سکتے ہیں۔۔۔
اب بات کرتا ہوں لڑکوں کی اکثر لڑکوں کو بھی مسائل درپیش ہوتے ہیں ان کو آوارہ گرد لڑکے پڑھنے نہیں دیتے یا کچھ غلط صحبت میں مبتلا لڑکے دوسروں کو بھی اس لت میں لگانے کی کوشش کرتے ہیں۔۔۔
اگر کسی کے ساتھ کوئی مسئلہ ہو کوئی داداگیری کر رہا ہو تو اس کا علاج بھی میرے پاس ہے نام سامنے لائے بغیر بتا سکتے ہیں ۔۔۔۔
ہر طرف سے تالیاں بجنے لگیں میں کرسی سے نیچے اترنے لگا تو ایک لڑکی کی آواز آئی اگر کسی کو آپ سے مسئلہ ہو تو۔۔۔
میں مسکرایا اور کہا آپ خود جو سزا دینا چاہیں سب کے سامنے دے سکتی ہیں میں کسی قسم کی کوئی مزاحمت نہیں کروں گا اگر میں مجرم ہوا تو آپ کے فیصلے کے سامنے زر تسلیم خم کر دوں گا۔۔۔
اگر یقین نہیں تو ابھی میرا جرم بتائے بغیر مجھے سزا دے سکتی ہیں کیونکہ مجھے یقین ہے آپ بلاوجہ ایسا نہیں کہہ رہی ہوں گی۔۔۔
اس نے اسی لہجے میں کہا سزا تو آپ کو ملے گی اور روز ملا کرے گی کیونکہ آپ کو جرم بہت بڑا ہے ۔۔۔
آپ نے کسی کا بہت بڑا نقصان کر دیا ہے ایسا نقصان جس کا ازالہ بھی ممکن نہیں ہے۔۔۔
میں نے سرجھکا دیا اور کہا بندہ حاضر ہے جو سزا دینا چاہتی ہیں بلا خوف و خطر دے سکتی ہیں۔۔۔
میں کرسی پر سر جھکا کر کھڑا ہو گیا شاہد نے میرے کان میں کہا ماما لگدا اے کم پٹھا پے گیا اے کوئی حل سوچ نیں تاں ایس کڑی دے ارادے ویکھ کے نیں لگدا کہ اے تینوں ماف کرے گی۔۔۔
میں بھی سوچ میں پڑ گیا کہ پتہ نہیں یہ ہے کون اور میں نے اس کا کیا بگاڑ دیا ہے جو یہ اس طرح ری ایکٹ کر رہی ہے۔۔۔۔
میں نے سر اٹھا کر دیکھا تو مجھے شاہد کی بات سچ ہوتی نظر آنے لگی۔۔۔