تائی نے پھر سے پوچھا بلو میں کجھ پچھیا سے بولدا کیوں نہیں پیا۔۔۔۔
میں نے کہا تائی امی کیا ہوا کن کو باندھا یہ آپ کیسی باتیں کر رہی ہیں۔۔۔۔
تائی نے گھور کر مجھے دیکھا اور پھر بولیں ویکھ تینوں رات نوں کسے نے ویکھیا سے اوس سائیڈ توں آندیاں ہویاں جنے ویکھیا اے اوہ جھوٹ نہیں بولدا، تو وی ہن جھوٹ نہ بول سچی سچی گل دس۔۔۔۔۔
میں نے کہا سچ بول رہا ہوں آپ کو مجھ پر یقین نہیں ہے ، آپ کو لگتا ہے آپ کا بیٹا ایسا کام کر سکتا ہے۔۔۔۔
اچھا تائی امی مجھے سب کچھ بتائیں ہوا کیا ہے ۔۔۔
تائی نے میری طرف دیکھا اور پھر کہا کچھ نہیں تو جا اپنا کم کر تے خیال رکھیں اوہ بڑے کمینے لوگ نیں ۔۔۔۔
میں نے ڈر جھٹک دیا اور بائیک لے کر باہر نکل گیا،میرا رخ ٹیوب ویل کی طرف تھا کیونکہ فجا اس وقت صرف وہاں ہی مل سکتا تھا۔۔۔۔۔
رستے میں دوکان پر رک کر لوگوں سے سن گن لی سب یہ ہی کہہ رہے تھے ان کے ساتھ اچھا ہوا جو بھی ہوا جینا حرام کر رکھا تھا ان لوگوں نے، ساری ساری رات وہاں پر شراب پی کر شور شرابہ کرتے تھے۔۔۔۔
کسی کو خبر نہیں تھی کہ یہ سب کس نے کیا ہے، لیکن کوئی تھا جو مجھے گھور کر دیکھ رکا تھا، میں اس سب سے انجان تھا۔۔۔۔
میں سیدھا ٹیوب ویل پر گیا وہاں ٹھنڈے پانی سے خوب نہایا اور پھر فجے سے پوچھا کب بلایا ہے اس نے یار مجھے عجیب سا لگ رہا ہے۔۔۔۔
فجے کہا واہ آج تجھے ایک لڑکی سے ملنے میں شرم آ رہی ہے کیسی عجیب بات ہے تو اور شرم دو الگ الگ چیزیں ہیں۔۔۔۔
میں مسکرا دیا اور وہیں سے کھیتوں کے بیچوں بیچ چلتا ہوا بیری کی طرف جانے لگا۔۔۔۔
میں اس طرح چل رہا تھا کہ جیسے فصل کو چکر لگا رہا ہوں، کیونکہ وہ کھیت تقریباً سارے ہی ہمارے تھے۔۔۔۔
ایک لمبا چکر کاٹ کر کوئی بیس پچیس ایکڑ کے اوپر سے ہوتے ہوئے میں اس طرف گیا تھا تاکہ کوئی یہ نہ سمجھے کہ میں جان بوجھ کر اس طرف جا رہا ہوں، دیکھنے والے تو کہیں سے بھی دیکھ کر اندازہ لگا لیتے ہیں۔۔۔۔
میں جب اس بیری کے نیچے پہنچا تو وہاں کوئی نہیں تھا میں ایسے ہی بیر اتارنے کے لیے نیچے سے مٹی کے ڈھیلے اٹھا اٹھا کر مارنے لگا۔۔۔۔۔
میں نے ابھی دو تین ڈھیلے ہی مارے ہوں گے کہ مجھے ہنسی کی آواز سنائی دی۔۔۔
میں نے گھوم کر دیکھا تو چھنو کے ساتھ کوئی وہی لڑکی کھڑی تھی جو رات کو وہاں تھی۔۔۔۔
وہ دونوں ہنس رہی تھیں میں نے ان کی طرف دیکھا تو چھنو نے کہا اس موسم میں بیر کہاں سے آ گئے، تو پاگل ای ایں یا بنان دی کوشش کر رہیا ایں۔۔۔
اس کے ساتھ والی لڑکی نے چھنو کو کہنی ماری، چھنو نے کہا تو چپ کر تو نہیں جاندی اینوں جدوں جان گئی تاں فیر تو وی سمجھ جائیں گی۔۔۔۔
وہ دونوں میرے پاس آ گئیں اور مجھے کہا یہاں کسی کے آنے کا ڈر تو نہیں ہے،پھر بھی خیال رکھنا شازی بھی آئی ہوئی ہے، اگر اس کو بھنک بھی پڑ گئی کہ تم یہاں ہو اپنی شلوار اٹھائے بھاگی چلی آئے گی۔۔۔۔
میں نے غصے سے چھنو کی طرف دیکھا اور کہا شرم تو نہیں آتی ایسی باتیں کرتے ہوئے۔۔۔۔
چھنو نے کہا واہ شرم تو نہیں آتی، وہ تم سے پھدی نہیں مرواتی تو تم بتاؤ ،اس کو جتنی آگ لگی ہوئی ہے وہ تمہیں دیکھ کر ایک منٹ بھی صبر نہیں کرے گی۔۔۔۔
میں نے اس لڑکی کی طرف دیکھا اس کا نام ماہم تھا صنم کی چھوٹی بہن صنم کی کاپی ہی تھی،ایک دم سلم اور سمارٹ خوبصورت تیکھے نین نقش، پتلے گلابی ہونٹ پتلے کمر سرخ و سفید رنگ کی آمیزش تھی۔۔۔۔
وہ ایسے لگ رہی تھی جیسے کوئی نوجوان ماڈل اپنی جوانی کی سیڑھی پر قدم رکھتے ہی ماڈلنگ میں آ گئی ہو، اپنی خوبصورتی سے نا آشنا تھی۔۔۔۔
ان سب بہن بھائیوں کی آنکھیں نیلی تھیں وہ اپنی ماں پر گئے تھے، ان کی ماں کی بھی آنکھیں نیلی تھیں ، اس کا باپ پتہ نہیں کہاں سے لایا تھا ان کی ماں کو۔۔۔۔
کوئی کہتا تھا کہ خرید کر لایا ہے کوئی کہتا کہ بھگا کر لایا ہے کسی نے تو یہاں تک بھی کہہ دیا تھا کہ اس کا باپ جوئے میں ہار گیا تھا تو یہ شادی کرکے لے آیا۔۔۔۔
اس کی کاں کا میکہ نہیں تھا یہ تو میں بھی جانتا تھا، ویسے بڑی ملنسار تھیں اسکا لہجہ ہم پینڈووں سے مختلف تھا، وہ بات کرتی تو بڑے شائستہ انداز سے بلکل اپنے نام کی طرح وہ بھی بڑی شائستہ مزاج تھی۔۔۔۔
چھنو جس طرح بات کر رہی تھی مجھے بالکل پسند نہیں آ یا اس کا یہ انداز۔۔۔۔۔
میں نے اس کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا ہاں کیوں ملنا تھا ۔۔۔۔۔
چھنو نے ماہم کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا یہ ملنا چاہتی تھی، اس کو کوئی کام تھا میں نے اس کو سمجھایا بھی کہ تم سے نہ ملے یہ نہ ہو کہ بعد میں ۔۔۔۔ہاہاہا
چھنو نے بات ادھوری چھوڑی تو ماہم کے کندھے پر مکی ماری میں بھی سمجھ گیا تھا وہ کیا کہنا چاہ رہی ہے۔۔۔۔۔
میں نے ماہم کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اس کی بونگیاں تو چلتی رہیں گی، تم اس کی پرواہ نہ کرو شکریہ ادا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے، وہاں کوئی بھی ہوتی تو میں اس کی بھی مدد کرتا۔۔۔۔
ماہم نے مشکور نظروں سے میری طرف دیکھا اور مسکرانے لگی۔۔۔
چھنو نے اس سے کہا ہو گیا شکریہ ادا تو تم کچھ دیر پیچھے جاؤ نظر رکھنا کوئی ادھر نہ آ جائے ۔۔۔۔
ویسے تو کماد کے اندر وہ بھی بالکل درمیان میں کوئی نہیں آتا پھر کیا پتہ کسی کی پھدی میں آگ لگی ہو اور وہ ادھر آ جائے۔۔۔
ماہم نے منہ کے آگے ہاتھ رکھا اور وہاں سے کھسک گئی۔۔۔
اس کے جانے کے بعد چھنو سے میں نے کہا کتنی گندی زبان ہو گئئ ہے تمہاری کس طرح کے لفظ بولنے لگ گئی ہو ذرہ بھی شرم حیا نہیں ہے۔۔۔۔
چھنو نے کہا یہ جو وہاں کرنے گئی تھی وہ تو بہت اچھا تھا، اس کو منع بھی کیا تھا کہ وہاں نہ جائے وہ بڑے کمینے ہیں، پہلے بھی کئی لڑکیوں کے ساتھ ایسا کر چکے ہیں، لیکن نہیں اس کی پھدی میں آگ لگی تھی چلی گئی، جب ایک سے اس کی پھدی میں لن نہ گیا تو دونوں نے مل کر ڈالنے کی کوشش کی مجھے انہوں نے کچھ کہا میں تو وہاں سے بھاگ نکلی تھی، وہ اچھا ہوا تم مل گئے نہیں تو یہ آج اپنی پھدی کی ٹکور کر رہی ہوتی۔۔۔۔
میں نے کہا چل دفعہ کر میں جا رہا ہوں، میری موٹر سائیکل ٹیوب ویل پر ہے وہاں سے ہو کر گھر جانا ہے۔۔۔۔
میں چلنے لگا تو چھنو نے کہا اتنی جلدی کیسے ابھی تو میری گرمی مٹانی ہے تم نے اپنے گھوڑے سے۔۔۔۔
چھنو نے مجھے گلے لگا لیا اور ہاتھ نیچے لے جا کر لن پکڑ کر دبانے لگی۔۔۔۔
میرا لن تو ویسے ہی تیار رہتا تھا ہر وقت اوپر سے اگر کوئی زنانہ لمس مل جائے تو پھنکارنے لگ جاتا تھا۔۔۔۔
چھنو کا ہاتھ لگنے کی دیر تھی میرا موڈ خودبخود ہی بنتا گیا، میں نے چھنو کے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے اور چوسنے لگا ۔۔۔۔
ایک ہاتھ اس کے مموں پر ٹکا کر دبانے لگا چھنو کے انداز میں جلد پن تھا میں بھی جلدی جلدی سب کرکے یہاں سے نکلنا چاہتا تھا۔۔۔۔
میں نے اس کی شلوار میں ہاتھ ڈال کر پھدی کو مسلنا شروع کر دیا۔۔۔۔
چھنو تڑپنے لگ گئی اس نے میری شلوار کا ناڑا کھولا اور لن باہر نکال لیا نیچے بیٹھ گئی اور لن کو زور زور سے دبانے لگی۔۔۔
پھر اس نے اپنا منہ کھول کر لن کو چومنا شروع کر دیا، میں تو مزے میں ڈوب گیا تھا چھنو نے کچھ دیر لن کو چوما پھر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔
وہ بیری کے تنے کے پاس گئی اس پر دونوں ہاتھ ڑکھ کر جھک گئی، میں نے پیچھے سے اس کی گانڈ کو پکڑ کر دبایا اور نیچے ہاتھ لے جا کر پھدی کی چکناہٹ چیک کرنے کے بعد لن کی ٹوپی سیٹ کی۔۔۔۔۔
لن کو ہاتھ سے پکڑ کر چیک کیا لن فل ٹائٹ تھا، لن کو ہاتھ میں پکڑ کر پھدی پر دبانے لگا۔۔۔۔۔
بڑی مشکل سے ٹوپی پھدی میں گئی، خشک لن تھا اس کو چکناہٹ پھدی سے ملنی تھی، میں نے دباؤ بڑھانا جاری رکھا۔۔۔۔
جب ٹوپی سے تھوڑا زیادہ آگے چلا گیا تو میں نے پیچھے کھینچا پھر دبایا، اس کے بعد زور کا گھسا مارا لن آدھا اندر گھس گیا۔۔۔۔
لن تو آدھا اندر چلا گیا لیکن چھنو کا جسم ایک دم اکڑ گیا تھا، اس کے منہ سے آہہہہہ کی آواز نکلی۔۔۔۔
میں نے لن کو سارا باہر نکالا اور پھر ایک اور زوردار گھسا مارا، اس بار لن پہلے سے زیادہ اندر گھس لیکن چھنو اپنا بیلنس نہ رکھ سکی اور آہ آہ آہ کرتی ہوئی نیچے گر گئی۔۔۔۔
میں نے اس کو پکڑ کر پھر اوپر کیا، اس نے آرام سے کرو کہتے ہوئے پھر سے اپنی پوزیشن سنبھال لی۔۔۔۔
میں نے مڑ کر دیکھا تو ہمارے ایک طرف کچھ چھپی، کچھ عیاں ہوتی ماہم کھڑی تھی۔۔۔۔۔
میں لن کو پھدی کے چھید میں پھنسا کر دباتے ہوئے آگے جھک گیا اور چھنو کے مموں کو پکڑ کر اپنا منہ اس کے کان کے پاس لے گیا۔۔۔۔۔
میں نے آہستہ آہستہ لن گھساتے ہوئے چھنو سے کہا ماہم چھپ کر دیکھ رہی ہے۔۔۔
چھنو نے گردن گھما کر میری طرف دیکھتے ہوئے کہا، باہر نکال کر زور سے سارا ایک ہی بار میں اندر کر دو۔۔۔۔
میں پیچھے ہو کر سیدھا ہوا اور لن کو ہاتھ میں پکڑ ہلایا جیسے چیک کر رہا ہوں کتنا سخت ہے۔۔۔۔
اس کے بعد لن کو پھدی کی موری میں رکھا اور گانڈ کو دونوں طرف سے پکڑ کر ایک دم سارا زور لگا کر گھسا مارا۔۔۔۔۔
چھنو کے منہ سے آہہہہہہہہہہہ اففففف کی آواز نکلی اور لن جڑ تک اس کی پھدی میں غائب ہو گیا۔۔۔۔
میں نے چھنو کے گانڈ پر تھپڑ مار کر تھوڑا اونچی آواز میں جو ماہم تک جا سکے کہا بڑا شوق ہے تجھے لن لینے کا اب چیخ کیوں رہی ہو۔۔۔۔
اس کے بعد پھر میں نے گھسوں کی مشین چلا دی ۔۔۔۔
میں زور زور سے گھسے مار رہا تھا اور ساتھ ساتھ اس کی گانڈ پر کبھی تھپڑ مارتا کبھی گانڈ کی پھاڑیوں کو دباتا۔۔۔۔
ایسے ہی گھسے مار رہا تھا چھنو ایک دم اوپر اٹھنے لگی۔۔۔
اٹھتے اٹھتے وہ تقریباً سیدھی ہو گئی، میں اسی پوزیشن میں دھے دھنا دھن لن گھسائے جا رہا تھا۔۔۔۔
میں نے دونوں ہاتھوں سے اس کے مموں کو پکڑ لیا اور گھپ گھپ کی آواز کے ساتھ اس کی پھدی میں لن گھسانے لگا۔۔۔۔
اس کی گانڈ کی پھاڑیوں سے جب میرا اگلا حصہ ٹکراتا تو تھپ تھپ کی آواز ایک ردھم سے پیدا ہو رہی تھی۔۔۔
چھنو کے منہ سے بھی آہ آہ اہم آہممممم کی آوازیں تواتر سے نکل رہی تھیں، ایک عجیب سا ماحول بن چکا تھا ۔۔۔۔۔
چھنو کا جسم اکڑ چکا تھا اس نے گردن گھمائی اپنے ہونٹ میرے سامنے کیے میں نے اس کے ہونٹوں کو اپنے ہونٹوں میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔۔۔۔۔
چھنو میرے ہونٹوں کو کاٹنے لگی اس کا ہممممممم آہہہہمممم کی آوازیں میرے منہ میں دبنے لگی۔۔۔۔۔
وہ گانڈ کو پیچھے ہلا ہلا کر لن لے رہی تھی، اس پوزیشن میں چودنے کا اپنا ہی مزہ تھا۔۔۔۔
چھنو فارغ ہونے لگی اس کی پھدی سے اتنا پانی نکلا کہ نیچے اس کی ٹانگوں تک جا رہا تھا۔۔۔۔
گھڑپ گھڑپ کی آواز سے لن اندر جا رہا تھا اب چھنو کو درد محسوس ہونے لگا تھا۔۔۔۔
چھنو نے گردن گھما کر اس طرف دیکھا جدھر ماہم کھڑی تھی۔۔۔
چھنو نے مجھے کہا باہر نکالو لیکن میں ابھی ایسا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
چھنو خود ہی آگے ہو گئی اور میرے سامنے نیچے بیٹھ کر لن کو سہلانے لگی۔۔۔
لن کی مٹھ زور زور سے مارتے ہوئے اس نے چہرہ اوپر اٹھا کر میری طرف دیکھتے ہوئے اس کی پھدی مارو گے سرخ گلابی پھدی ہے۔۔۔
میں نے ہاں میں سر ہلایا، اس نے ماہم کو آواز دی اور کہا ادھر آنا۔۔۔
ماہم آہستہ آہستہ چلتے ہوئے باہر آئی اور ہمارے سامنے نظریں جھکا کر کھڑی ہو گئی۔۔۔
چھنو نے اس کو اپنے پاس آنے کا کہا، اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔
چھنو نے ایک ہاتھ میں میرا لن پکڑے ہوئے اٹھ کر اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو اپنی طرف کھینچ لیا۔۔۔۔
وہ سر جھکائے پاس آئی لیکن وہ بیٹھی نہ چھنو نے اس کو زبردستی بٹھایا ۔۔۔
ایک ہاتھ سے چھنو میرے لن کی مٹھ مارتی رہی دوسرے ہاتھ سے اس کو پکڑے رکھا۔۔۔۔
وہ بھی ہونی آنکھ کر کرے یہ سب دیکھ رہی تھی۔۔۔
چھنو نے اس کے کان میں کچھ کہا اس نے زور زور سے ناں میں سر ہلایا۔۔۔
چھنو نے اس کو کھینچا تو وہ گر گئی میری طرف دیکھ کر اس نے کہا چلو پھر سیدھا ڈلوا لو۔۔۔۔
چھنو میرا لن چھوڑ کر اس کے پاس گئی اس کی شلوار کو پکڑا اور اتارنے لگی۔۔۔
ماہم ہلکی پھلکی مزاحمت کر رہی تھی، کچھ ہی دیر میں اس کی شلوار اتر چکی تھی۔۔۔۔
چھنو نے مجھے اس کی ٹانگوں میں آنے کا کہا میں اس کی ٹانگوں کے درمیان آ گیا۔۔۔
میں کبھی ماہم کی طرف دیکھتا کبھی چھنو کی طرف۔۔۔
ماہم نے اپنے دونوں ہاتھوں سے پھدی کو چھپا رکھا تھا، چھنو مسکرا کر میری طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
میں نے غور سے ماہم کے چہرے کی طرف دیکھا تو اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔۔۔
اس کا مطلب تھا کہ وہ بھی اس سب سے لطف اٹھا رہی ہے۔۔۔
چھنو نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑنے سے پہلے اس کی ٹانگوں کو اٹھا کر کھول دیا، ساتھ ہی مجھے اشارہ بھی کر دیا کہ ان کو پکڑو۔۔۔
میں نے اس کی دونوں ٹانگوں کو پکڑ لیا، چھنو نے اس کی پھدی کے سامنے سے ہاتھ ہٹا دئیے۔۔۔
میں نے اس کی پھدی کو دیکھا چھوٹی سی گلابی رنگ کی پھدی لکیر بھی نظر نہیں آ رہی تھی اس طرح پھدی کے لب آپس میں ملے ہوئے تھے۔۔۔۔
میں نے ایک انگلی بڑھا کر پھدی کے لبوں کو الگ کیا تو پانی کے لیس دار قطرے باہر نکلے۔۔۔۔
اس کا مطلب تھا کہ پھدی چدنے کے لیے تیار تھی، میں ڈر بھی رہا تھا کہ اتنی تنگ پھدی میں میرا اتنا موٹا لن کیسے جائے گا۔۔۔۔
لیکن ایسی پھدی اگر دکھ جائے تو چھوڑنے کو دل کس کرے گا۔۔۔۔
میں نے انگلی اس کی پھدی میں گھسا دی ایک منٹ پھدی میں انگلی کرتا رہا۔۔۔
چھنو مجھے غور رہی تھی اس نے ابھی تک اس کے دونوں ہاتھ پکڑ رکھے تھے۔۔۔
میں نے ماہم کی دونوں ٹانگوں کو کندھے پر رکھا اور پھر لن کو پھدی کے لبوں پر پھیرنے لگا۔۔۔۔
دو تین بار پھدی کے لبوں میں پھیرنے کے بعد میں نے پھدی کے سوراخ پر ٹکا دیا۔۔۔۔
ماہم کا جسم اکڑ گیا اس کو بھی اندازا ہو گیا تھا کہ اب اس کی پھدی میں لوڑا گھسنے والا ہے۔۔۔
میں نے ہاتھ سے لن پکڑ کر پھدی پر دبایا ٹوپی پھدی میں اتر گئی اور پھنس گئی۔۔۔۔
ماہم کا جسم بھی اکڑ گیا، میں اس کے اوپر جھک گیا ٹانگوں کو بھی اپنے کندھوں سے لگاتے ہوئے نیچے گیا۔۔۔۔
پھر میں نے لن پر دباؤ بڑھانا شروع کیا لن آہستہ آہستہ پھنستے ہوئے اندر اترنے لگا۔۔۔
اس کی پھدی اتنی ٹائٹ تھی کہ ایسا لگ رہا تھا جیسے لن کسی چیز میں جکڑ رہا ہے۔۔۔۔
جیسے جیسے زور لگا رہا تھا ویسے ویسے لن کے لیے رکاوٹ بڑھ رہی تھی اور ماہم کے جسم کا تناؤ بھی بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔۔
لن ٹوپی سے کچھ زیادہ آگے گیا تو اس کے منہ سے نکلا آہہہہہہہا۔۔۔
چھنو نے مجھے روکا اور اشارے سے کہا اتنا ہی آگے پیچھے کرو۔۔۔
میں جتنا اندر ہوا تھا اسی کو آگے پیچھے کرنا شروع کر دیا۔۔۔
ساتھ میں میں نے مموں کو پکڑ کر دبانا بھی شروع کر دیا۔۔۔۔
اس کے منہ سے ہلکی ہلکی سسکاریاں نکک رہی تھیں۔۔۔
کچھ ہی دیر بعد جب میں نے دیکھا کہ اب اس کو مزہ آنے لگا ہے، میں نے لن کو ہر گھسے کے ساتھ آگے دھکیلنا شروع کر دیا۔۔۔۔
جب آدھا لن اندر ہو گیا تو چھنو نے اس کے ہاتھ چھوڑ دئیے اور اس کے قمیض کو اوپر کرنے لگی۔۔۔
قمیض اوپر کرتے کرتے اس نے ماہم کے ممے ننگے کر دئیے، یار اب تک کئی لڑکیوں کو ننگا دیکھ چکا تھا ممے چوس چکا تھا پھدی مار چکا تھا لیکن ایسے کمال کے ممے کسی کے نہیں دیکھے تھے۔۔۔
بالکل انار کے جیسے تھے سیدھے کھڑے تھے لیٹے ہونے کے باوجود اس کے ممے نواب کی طرح کھڑے تھے۔۔۔۔
میں نے ایک ممے کو ہاتھ میں پکڑا اور دوسرے کو منہ میں بھر لیا اور نیچے سے گھسے مارنے لگا۔۔۔۔
اففففف مجھے ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی پھل چوس رہا ہوں ماہم بھی اچھلنے لگی تھی اس کو بھی انتہا کا مزہ آ رہا ہوگا۔۔۔۔
میرا جوش بڑھنے لگا ماہم کا بھی میں گھسوں کی سپیڈ بڑھاتا گیا لن بھی پہلے سے زیادہ اندر جا رہا تھا۔۔۔۔
وہ بھی نیچے سے گانڈ اٹھا کر لن لے رہی تھی اب اس کے منہ سے باقاعدہ آہ آہ اہ کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔۔
میں نے اپنی سپیڈ بڑھانی جاری رکھی، مجھے اپنے اس ہاتھ پر گیلا لمس ہوا جس سے میں نے ایک مما پکڑ رکھا تھا۔۔۔۔
میں نے نظر گھما کر دیکھا تو چھنو کا منہ میرے ہاتھ میں پکڑے ہوئے ممے کے نپل پر تھا۔۔۔۔۔
یہ دیکھ کر میرا جوش اور بڑھ گیا اب ایک مما میں چوس رہا تھا دوسرا چھنو چوس رہی تھی۔۔۔
میں نے فل زور سے گھسے مارنے شروع کر دئیے ماہم کا ہاتھ اب میرے سر پر تھا تو دوسرا یقیناً چھنو کے سر پر ہوگا۔۔۔۔
اس کے منہ آہ ہہہہہہہہہہہہہہہہہہہ آہہہہہ کی آوازیں نکل رہی تھیں، میں نے بھی گھسوں کی مشین چلا دی ۔۔۔۔
اسی دوران جوش میں میں نے سارا لن اندر گھسا دیا ماہم کے جسم کو ایک جھٹکا نکلا اور اس کے منہ سے اففففف آہہہہ کی کافی اونچی آواز نکلی۔۔۔
چھنو نے جلدی سے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ لیا میں نے بھی اس کا مما چھوڑ دیا اور وہیں رک گیا۔۔۔
چھنو اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے اس کے اوپر جھکی اور منہ سے ہاتھ ہٹا کر اپنے ہونٹ اس کے مموں پر رکھ دئیے۔۔۔۔
میرا لن اب اس کی پھدی میں جکڑا ہوا تھا اس کا جسم اکڑ چکا تھا۔۔۔۔
کچھ سیکنڈ ایسے رہنے کے بعد اس کے جسم نے جھٹکے کھانے شروع کر دئیے اور وہ فارغ ہونے لگی۔۔۔۔
میں رک کر اس کے فارغ ہونے کا انتظار کرنے لگا لیکن مجھ سے اب برداشت نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
میرا سارا خون مزے سمیت لن کی ٹوپی میں اٹکا ہوا تھا۔۔۔۔
میں نے لن کو پیچھے ہٹایا اور زور سے اندر گھسایا دو تین ہی جھٹکے مارے ہوں گے کہ لن نے فل اکڑ کر میرا سانس پھولا دیا۔۔۔۔
میرے منہ سے بھی ہمممممممم کی لمبی آواز نکلی اور لن نے اپنا لاوا اگلنا شروع کر دیا۔۔۔۔
میں اس کے کندھے پر سر رکھ کر نڈھال ہو کر گرتا گیا۔۔۔۔
چند سیکنڈ بعد ہی میں اس کے اوپر سے ہٹا اور پیچھے ہو کر اپنی شلوار جو کہ تقریباً اتر چکی تھی، اٹھا کر پہن لی اور ناڑا باندھنے لگا۔۔۔۔
چھنو تو پہلے ہی اپنی شلوار پہن چکی تھی اس نے ماہم کو بھی شلوار پہنا دی اور اس کی قمیض بھی ٹھیک کر دی۔۔۔۔
میں نے چھنو کی طرف دیکھا پھر ماہم کی طرف اور وہاں سے نکلنے لگا۔۔۔
میں جس سمت سے آیا تھا اس کی مخالف سمت سے باہر نکلنے لگا۔۔۔۔
میں ابھی تھوڑا ہی دور گیا تھا کہ مجھے اپنے پیچھے کچھ آوازیں سنائی دیں جیسے کوئی بول رہا ہو۔۔۔
میں وہیں رک گیا اور سننے لگا وہ کوئی عورت تھی جو پوچھ رہی تھی یہاں کیا کر رہی ہو تم دونوں اور کچھ دیر پہلے چیخ کس کی تھی۔۔۔
چھنو نے کہا اچھا جی تو ہم یہاں کیا کر رہی ہیں پوچھ تو ہم بھی سکتی ہیں تم یہاں کیا کرنے آئی ہو، وہ بھی اکیلی۔۔۔۔
دوسری طرف سے بھی اسی کے لہجے میں کہا گیا، میں چیخ کی آواز سن کر آئی تھی تم دونوں بتاؤ چیخ کس کی اور کیوں نکلی تھی۔۔۔۔
چھنو نے کہا اس پاگل کی چیخ نکلی تھی اس نے سانپ دیکھ لیا تھا۔۔۔
پہلے والی آواز پھر آئی اچھا وہ سانپ چھوٹا تھا یا بڑا تھا جس کو دیکھ کر اس کی چیخ نکل گئی۔۔۔
بڑا ہی ہوگا چھوٹا ہوتا تو اس کو ڈر نہیں لگتا تھا چھوٹے سانپ تو اس نے کئی دفعہ دیکھے ہیں۔۔۔
چھنو نے گالی دیتے ہوئے کہا گشتیے تیری پھدی پاڑ دینی میں اگر تو ہن بکواس کیتی تاں۔۔۔۔
اس کے بعد گالیوں کا ایک لمبا سلسلہ جاری ہوگیا جو شاید ان کے گتھم گتھا ہونے پر ختم ہوا۔۔۔۔
میں چپکے چپکے واپس گیا اور چھپ کر دیکھنے لگا، وہ کومل تھی جس کے ساتھ چھنو گتھم گتھا تھی۔۔۔
کومل چھنو کے مموں کو پکڑ کر کھینچ رہی تھی، اور چھنو کومل کی گانڈ پر زور زور سے تھپڑ مار رہی تھی۔۔۔۔
ماہم کھڑی ان دونوں کو دیکھ کر ہنس رہی تھی، میں حیرت سے ان کو دیکھ رہا تھا۔۔۔
مجھے تو یہ لگ رہا تھا کہ وہ لڑ رہی ہوں گی لیکن یہاں تو سب کچھ الٹ ہو رہا تھا۔۔۔
میرے دیکھتے ہی دیکھتے چھنو کومل کی شلوار اور کومل چھنو کی قمیض اتار چکی تھیں۔۔۔۔
پھر ان دونوں کے ماہم کو پکڑ لیا اور اس کو نیچے لٹا کر اس کی شلوار اتار دی۔۔۔
کومل نے ماہم کو لٹا لیا چھنو نے اس کے منہ پر اپنی چھاتی رکھ دی، کومل اس کی ٹانگوں میں آ گئی۔۔۔۔
میرے لیے یہ سب حیران کن تھا مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ یہ سب بھی ہوسکتا ہے۔۔۔۔
کومل میرے دیکھتے ہی دیکھتے اس کی ٹانگوں کے درمیان لیٹ گئی کومل کچھ اس طرح سے لیٹی کہ اس کی گانڈ ماہم کے منہ کی طرف تھی۔۔۔۔
چھنو نے اس کی گانڈ پر ہاتھ رکھ کر اس کو اوپر کیا اور پھر اس کی گانڈ کے نیچے سے اس کی پھدی پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔۔
کومل کے جسم کو ایک جھٹکا لگا ادھر ان کا کھیل شروع ہوا دوسری طرف میرا لوڑا اکڑ گیا ۔۔۔۔
میرے وہم وگمان میں بھی نہیں تھا کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے، میں نے لن کو پکڑا کچھ دیر یہ سب دیکھتا رہا۔۔۔۔
کومل ماہم کی پھدی کو چوسنے لگ گئی تھی، چھنو کی زبان کومل کی پھدی پر تھی۔۔۔
میرا لن یہ سب دیکھ کر ایک دم لوہے کا راڈ بنا ہوا تھا، کافی دیر میں انتظار کرتا رہا، جب مجھ سے برداشت نہ ہوا تو میں چھنو اور کومل کے پیچھے سے ہوتا ہوا پہنچ گیا۔۔۔۔
ناڑا کھولا اور لن کو ہاتھ میں پکڑ چھنو کے منہ کے پاس کر دیا، چھنو ماہم کے اوپر جھکی ہوئی تھی۔۔۔۔
ماہم چھنو کے ممے چوس رہی تھی، میں نے جب لن چھنو کے منہ کے سامنے کیا، تو چھنو نے اپنا منہ اس کی پھدی سے ہٹا لیا اور میرا لن منہ میں بھر کر چوسا ۔۔۔۔
وہ اس کی پھدی میں انگلی گھسائے ایک طرف ہوئی اور میرے لیے جگہ چھوڑی۔۔۔
میں نے جلدی سے چھنو کی جگہ سنبھالی اس سے پہلے کہ کومل کو پتہ چلتا میں نے لن اس کی گانڈ پر رکھا اور گانڈ کو پکڑ ایک زور دار گھسا مارا۔۔۔۔
میرے گھسے سے دو طرف سے ہلکی ہلکی چیخیں سنائی دیں، ایک میرے پیچھے سے اور دوسری میرے آگے سے۔۔۔۔
آگے والی چیخ کومل کی تھی جو اس نے ماہم کی پھدی کو کاٹ کر دبائی جب کہ دوسری چیچ ماہم کی تھی جو کومل کے کاٹنے کی وجہ سے تھی۔۔۔۔
میں نے ایک بار پھر لن کو تھوڑا پیچھے کیا اور پھر پہلے کی طرح زور سے گھسا دیا۔۔۔۔
اس کے بعد میں نے گھپا گھپ لن گھسانا شروع کر دیا۔۔۔۔
کومل کو یہ تو پتہ چل گیا تھا کہ لن اس کی پھدی میں گھس چکا تھا ۔۔۔۔
میرے گھسے جیسے جیسے تیز ہوتے جا رہے تھے اور لن اندر سے اندر جا رہا تھا کومل کی آہیں بھی بڑھتی جا رہی تھیں۔۔۔۔
میں نے زوردار گھسوں کے دوران ہی چھنو کی طرف دیکھتے ہوئے سارا لن اندر گھسا دیا۔۔۔۔
کومل ایک دم میرے آگے گرتی چلی گئی، میں بھی اس کے اوپر گرتا گیا۔۔۔۔
چھنو کے اس کے پاس گئی اور کہا پتہ چلا سانپ چھوٹا تھا یا چھوٹا،۔۔۔۔۔ہاہا۔۔۔
کومل نے اس کے منہ پر ایک چپیڑ لگائی، پھر بولی پچھاں مر گشتوڑ۔۔۔
میں اس کے اوپر گرا تھا لن اس کی پھدی کی گہرائی میں اتر چکا تھا ماہم بھی اس کے نیچے سے نکل گئی تھی۔۔۔۔
اب چھنو ننگی چھاتیوں کو اس کے سامنے لے آئی اور اس کے منہ میں اپنے ممے دے دئیے۔۔۔۔
ماہم اٹھ کر چھنو کے پیچھے آئی اور اس کی شلوار اتار کر اس کی گانڈ کی پھاڑیوں کو الگ کر کے اپنا منہ اس میں گھسا دیا۔۔۔۔
میں یہ سب دیکھ کر جوش کی انتہائی منزل پر پہنچ چکا تھا، میں نے اپنی پوری طاقت سے گھسے لگانے شروع کر دئیے۔۔۔۔
میرے گھسوں نے کومل کو ہلا کر رکھ دیا وہ آہہہہہہہ آہہہہہہ افففففف کر رہی تھی۔۔۔۔
اس کی آہہہ آہہہ آہہہ کی گردان جاری تھی۔۔۔
کومل چھنو کو گندی گالیاں دے رہی تھی۔۔۔
چھنو بھی اس کو خوب سنا رہی تھی۔۔۔
ماہم چپ کرکے اپنے کام میں مگن تھی کومل آہہہہ اہہہہ کرتے ہوئے کہنے لگی گشتی چھنووووو اپنے یار نوں آکھ زور نال میری پھدی اچ لن مارے۔۔۔افففف آہہہہ چھنو کتی ۔۔۔
کنجری۔۔۔۔ چھنووووووو۔۔۔۔۔ آہہہہ میں گئی کتییے ۔۔۔۔ میری پھدی نے پانی چھڈ دتا ہائے چھنو میں تیرے یار کولوں پھدی مروا لئی۔۔۔۔
اس کے ساتھ ہی کومل کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا ۔۔۔۔
اسی وقت چھنو نے ماہم کے منہ سے اپنی گانڈ ہٹائی اور میرے سامنے ٹانگیں کھول کر لیٹ گئی۔۔۔۔
میں نے اپنی شلوار اتار کر پھینک دی اور چھنو کی ٹانگوں کو اٹھا کر لن اس کی پھدی میں ایک ہی جھٹکے میں گھسا دیا۔۔۔۔
چھنو کے منہ سے ایک لمبی آہہہہہہہہہہ نکلی۔۔۔
اس نے کومل کو گالی دیتے ہوئے کہا ہن ویکھ میرا یار میری پھدی اچ کویں لن ٹھوکدا ای۔۔۔۔
آہہہہہہہ بلووووو پوری طاقت نال مار میری۔۔۔۔
چھنو نے پوری ٹانگیں کھول لیں اور اپنے ہاتھوں سے پکڑ لیں۔۔۔
ماہم اور کومل دونوں اس کے دونوں طرف بیٹھ گئیں۔۔۔
انہوں نے چھنو کے ممے نکالے لیے کیونکہ چھنو قمیض پہن چکی تھی۔۔۔۔
پھر وہ دونوں اس کے ایک ایک ممے پر ٹوٹ پڑیں۔۔۔
دونوں نے اس کے مموں کو منہ میں لے لیا اور چوسنے لگیں۔۔۔
چھنو تڑپنے لگ گئی جلد ہی اس کی پھدی نے پانی چھوڑ دیا۔۔۔۔
میں بھی ان کی حرکتیں دیکھ کر فارغ ہونے کے قریب آگیا۔۔۔۔
چھنو نے اپنے دونوں ہاتھ ان دونوں کےسروں پر رکھے ہوئے تھے۔۔۔۔
وہ ان کے سر دبا رہی تھی میں بھی اپنی ساری طاقت لگا کر اس کی پھدی میں لن گھسائے جا رہا تھا۔۔۔۔
چھنو نے مجھے کہا بلوووو اندر پانی نہ چھوڑنا۔۔۔۔
میں فارغ ہونے والا ہوا تو میں ایسے گھسے مارے کے چھنو اچھل اچھل کر تڑپنے لگی اس کے منہ سے درد بھری آہیں نکلنے لگیں۔۔۔۔
میں نے لن باہر نکالا اور اس پر جلدی جلدی ہاتھ ہھیرنے لگا۔۔۔۔
چھنو نے ان دونوں کو اپنے اوپر سے ہٹایا۔۔۔۔
ماہم اور کومل کو ایک طرف ہٹا کر چھنو میرے سامنے اپنے مموں پر ہاتھ رکھے مجھے مٹھ مارتے ہوئے دیکھنے لگی۔۔۔۔
میں نے اس کے پیٹ کے اوپر آ گیا اور مموں کا نشانہ لے کر مٹھ مارنے لگا۔۔۔۔
میرا خون میری رگوں میں دوڑ رہا تھا، میں نے اپنی آنکھیں بند کیں اور اس کے پیٹ کے اوپر بیٹھ کر لن کی اکلوتی آنکھ سے منی کو آزاد کر دیا۔۔۔۔
جب آنکھیں کھولیں تو دیکھا تو چھنو کے مموں کے درمیان میرے لن سے نکلنے والا مال گرا ہوا تھا۔۔۔۔
میں ایک طرف اترا چھنو نے ہنستے ہوئے کومل کو کہا ویکھ لیا فیر کالا ناگ۔۔۔۔ہاہا
اس کے بعد چھنو نے میرا چھوارا بنا ہوا لن پکڑا اور ہلاتے ہوئے کہا اب دیکھو کتنا معصوم اور چھوٹا سا بنا ہوا ہے ۔۔۔۔۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا اچھا میں چلتا ہوں یہ نہ ہو کہ سچ میں کوئی آجائے ۔۔۔۔
میں نے اپنی شلوار ٹھیک کی اور اٹھ کر وہاں سے نکل کر سیدھا ٹیوب ویل پر گیا۔۔۔
میں تقریباً دو گھنٹے کماد میں پھدیوں میں لن گھسائے رہا تھا، میں چپکے سے اپنی بائیک لے کر وہاں سے نکلا اور سیدھا گھر آگیا۔۔۔۔۔
جو کام ہم ڈال چکے تھے، اس کے اثرات آنے کی امید ہونے لگی تھی۔۔۔۔
میں نے زیبا کو فون کیا اور اس سے ویسے ہی ادھر ادھر کی باتیں کرتا رہا۔۔۔۔
پھر میں نے ناصر سے رابطہ کیا، اس نے بھی کوئی خاص بات نہ بتائی۔۔۔۔
ہنی کے بھائی کا فون آیا، اس نے کہا میں مان گیا ہوں یار کیا پلاننگ ہے کہاں سے اغوا کروایا کہاں کام کروایا۔۔۔۔
اس کے الفاظ سن کر میں فون کاٹ دیا وہ مجھے فون کرتا رہا لیکن میں نے کال رسیو نہ کی۔۔۔۔
میں بائیک لے کر نکلا اور سیدھا شہر جا پہنچا ۔۔۔۔
ہنی کے گھر گیا گھر میں اس کا بھائی تھا اس سے کچھ دیر بات کی وہ بڑا خوش ہو رہا تھا۔۔۔۔
اس نے مجھے پیسے دینے کی کوشش کی مجھے بہت برا لگا ۔۔۔۔
میں اس کو یہ احساس کروائے بغیر وہاں سے اٹھ گیا۔۔۔۔
شہر میں ایسے گھومنے لگا جیسے کوئی کام ہی نہ ہو۔۔۔۔
میں نے ہنی کو فون کیا ایسی ہی ہنسی مذاق کرتا رہا، اس سے پیار محبت کی باتیں کرتا رہا۔۔۔۔
میں شانزل کے گھر گیا، شانزل کی امی سے ملا وہ بڑی خوش ہوئی۔۔۔۔۔
اس نے مجھے بٹھایا کھانا کھلایا، شانزل بھی آگئی وہ مجھے مسکرا مسکرا کر دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
میں کچھ دیر بیٹھا رہا اور پھر وہاں سے نکل کر واپس گاؤں کی طرف آنے لگا ۔۔۔۔
پھر میرے دماغ میں آیا کہ آنٹی کے گھر سے اپنی امانت لے لوں۔۔۔۔
میں آنٹی شمیم کے گھر گیا، گھر کو تالا لگا تھا میں نے مطلوبہ جگہ سے چابی نکالی اور گھر میں داخل ہو گیا۔۔۔۔
میں نے وہاں چھپائے ہوئے پیسے نکالے جو ایک بڑے بیگ میں تھے۔۔۔۔
وہاں سے میں نے گھر کی راہ لی، سیدھا ڈیرے میں گیا، وہاں میں نے پیسے چھپائے۔۔۔۔
میں فجے کو ساتھ لے کر اسی ٹبے پر جانے کے لیے نکلا۔۔۔۔
تھوڑا سا دور جا کر مجھے آج والے پیسوں کو خیال آیا۔۔۔۔
میں واپس آیا فجے کو ساتھ لیا اور آج والے پیسے نکال لیے۔۔۔
فجا اتنے پیسے دیکھ کر حیران رہ گیا۔۔۔۔
میں نے وہ پیسے لیے اور اندر سے بائیک نکال لی۔۔۔۔
مجھے سب اپنے اوپر غصہ آنے لگا تھا کہ میں وہاں سے پیسے لایا ہی کیوں۔۔۔۔
فجے سے پوچھا اس علاقے میں غریب لوگوں کے نام بتاؤ۔۔۔
بارش کو فون کیا اس کو بھی بلایا، اس نے بھی اب جگہ بدل لی تھی۔۔۔
ہم نہر پر ملے اس کو میں آدھے پیسے دئیے کہا یہ پیسے غریبوں میں بانٹ دو۔۔۔۔
اس نے کہا بڑے اچھے وقت پر آئے ہیں ایک لڑکی کی شادی ہے اس کا باپ بڑا غریب ہے اس کو میں نے وعدہ کیا تھا کہ پیسے میں دوں گا۔۔۔۔
اب پریشان تھا کہ پیسوں کا انتظام کیسے ہوگا۔۔۔۔
میں نے کہا اور چاہیں تو وہ بھی کل تک مل جائیں یہ سارے لے جاؤ۔۔۔
اس نے کہا نہیں اس کا اتنے سے ہو جائے گا باقی تو میں کر چکا ہوں، زیبا میڈیم نے بھی دئیے ہیں۔۔۔
زیبا کا نام سن کر میرے ذہن میں سارا واقعہ گھوم گیا۔۔۔۔
میں نے اس سے زیبا کے بارے میں پوچھا اس کا کوئی فون تو نہیں آیا، اس نے میرے بارے میں تو کچھ نہیں کہا۔۔۔
بارش نے کہا بھائی آپ نے ویسے اس کے ساتھ اچھا تو نہیں کیا پھر بھی وہ آپ کی معترف ہے۔۔۔۔
میں ہنسنے لگا اور اس کو پیسے دے کر ہم وہاں سے نکل پڑے۔۔۔۔
ہم کچھ دور آئے تو فجے نے کہا مجھے بھی ایک گھر کا پتہ ہے جو غریب ہے اس نے اپنی بیٹی کی شادی کرنی ہے لیکن پیسوں کی وجہ سے کر نہیں پا رہا۔۔۔۔
میں نے فجے سے پتہ پوچھا اور ہم اس گھر کی طرف چل پڑے۔۔۔
ہم نے منہ ڈھانپ لیے اور دروازے پر دستک دی ایک نحیف سی آواز آئی کون۔۔۔۔
میں نے کہا بابا جی دروازہ کھولیں، آپ کی امانت ہمارے پاس ہے وہ آپ کو دینی ہے۔۔۔۔
چھوٹا سا دروازہ کھلا ایک بزرگ سامنے آئے میں نے ان کے ہاتھ میں پیسوں والا بیگ پکڑایا اور کہا بابا جی یہ ہماری بہن کی شادی کے لیے پیسے ہیں آپ اس کی شادی اچھے سے کریں اگر ضرورت پڑے تو نہر والے پل پر لال کپڑا باندھ دینا پیسے مل جائیں گے۔۔۔۔
اس کے پاس بولنے کے لیے کچھ الفاظ نہیں تھے ہم اس کو مزید شرمندہ نہیں کرنا چاہتے تھے۔۔۔
میں نے بائیک سٹارٹ کی اس نے جلدی سے دروازہ بند کر لیا اور ہم وہاں سے گھر کی طرف چل پڑے۔۔۔۔۔
اب جو پیسے تھے وہ تقریباً سب لگ چکے تھے ہمارے پاس پیسے نہ ہونے کے برابر رہ گئے تھے۔۔۔۔
فجا سارا راستہ چپ رہا ہم گھر واپس آئے مجھے بارش کا فون آیا ۔۔۔۔
بھائی اس علاقے میں بھی کافی لوگ یہ دھندا کر رہے ہیں ان کا کیا کرنا ہے۔۔۔۔
میں نے اس کو کہا اٹیک کرتے ہیں کوئی پکا ثبوت دو۔۔۔۔
اس نے کہا کل تک مل جائیں گی۔۔۔۔
اس کے بعد ہم گھر آئے اور کھانا وغیرہ کھا کر سو گئے۔۔۔
فجا آج میرے ساتھ بڑی عزت سے پیش آرہا تھا۔۔۔
ہم کافی دیر تک گپ شپ کرتے رہے پھر سو گئے۔۔۔
صبح جلدی اٹھا نہا دھو کر تازہ دم ہوا کپڑے بدل کر شہر جانے کے لیے تیار ہونے لگا۔۔۔۔
بھا ہاشم نے مجھے کہا آج میرے ساتھ سکول چلو۔۔۔
سکول کا نام سنتے ہی میرے دماغ کی سکرین پر جان جاں میری روح کی غذا افراسیاب کے چہرہ چمکنے لگا۔۔۔۔
میں نے ذرہ سا بھی انکار نہ کیا اور بھا کے ساتھ سکول جانے کے لیے تیار ہو گیا۔۔۔۔
سکول میں داخل ہوتے ہوئے عجیب سی حالت ہو رہی تھی۔۔۔۔
سکول لگنے سے کافی دیر پہلے ہم سکول ا گئے تھے۔۔۔
سکول لگ گیا کافی ساری ٹیچرز سکول آ گئی تھی لیکن وہ نہ آئی جس کا میرے بے چین دل کو انتظار تھا۔۔۔۔
بھا نے مجھے اس کی کلاس میں بھیج دیا اور پڑھانے کا کہا۔۔۔۔
میں بجھے دل اور غائب دماغ کے ساتھ کلاس میں گیا اور پڑھانے لگا۔۔۔۔
آج میرا بالکل بھی دل نہیں لگ رہا تھا بس جان چھڑوا رہا تھا۔۔۔
ایک دو سٹوڈنٹس نے مجھے یہ باور کروا بھی دیا کہ سر آپ کا دھیان کہیں اور ہے۔۔۔
پہلا لیکچر ختم ہوا میں دوسرے لیکچر میں گیا، وہ پڑھانے لگا۔۔۔۔
اس سے فارغ ہوا اور دفتر میں گیا بھا دفتر میں موجود نہیں تھے۔۔۔
میں چپ کرکے فارغ پیریڈ تھا موبائل نکال کر ایسے ہی فولڈر کھول کھول کر دیکھنے لگا۔۔۔۔
اگلا پیریڈ ختم ہوا، میں وہیں بیٹھا رہا ایک سٹوڈنٹ آیا اس نے کہا سر آپ کا پیریڈ لگ گیا آ جائیں۔۔۔۔
میں تھکے ہوئے جواری کی طرح اٹھ کر باہر نکلا اور اس کے پیچھے چل پڑا۔۔۔۔
وہ جس کلاس میں داخل ہوا میں اس کلاس میں داخل ہونے لگا ایسے ہی ساتھ والی کلاس میں نظر دوڑائی تو دیکھا کہ میری زندگی کی حرارت اس کلاس میں پڑھا رہی ہے۔۔۔۔
میں نے جی بھر کر اس کو دیکھا اور کلاس میں داخل ہو گیا۔۔۔
جیسے ہی کلاس میں داخل ہوا میرا انداز بدل چکا تھا میں خوب کھل کر پڑھایا۔۔۔۔
اس لیکچر اور پہلے والے لیکچر میں کافی فرق تھا۔۔۔۔
لیکچر ختم ہوا تو میں نے ایک ٹیچر سے بھا کے بارے میں پوچھا تو پتہ چلا کہ بھا تو ملتان گئے ہیں۔۔۔۔
میں حیران ہوا کہ بھا مجھے بتا کر بھی نہیں گئے اور میں آج کس کے پیریڈ لے رہا ہوں۔۔۔۔
میں دفتر میں گیا تو میرے پیچھے پیچھے افرا بھی دفتر میں آگئی۔۔۔۔
میں بھا کی کرسی پر بیٹھ گیا اور افرا کو مسکرا کر دیکھا۔۔۔۔
وہ بھی مسکراتے ہوئے سامنے والی کرسی پر بیٹھ گئی۔۔۔
اس نے پہلا سوال ہی یہ کیا آپ اتنے دن کہاں غائب تھے۔۔۔۔
میں نے کہا میں آیا تھا دو دن آپ ہی غائب تھیں تو اس کے بعد میرا دل ہی نہیں کیا۔۔۔
وہ شرما کر مسکرانے لگی، اور کہا بس کچھ مجبوری بن گئی تھی ورنہ میں چھٹی نہیں کرتی۔۔۔۔
میں نے پوچھا آپ نے نمبر لیا تھا لیکن فون نہیں کیا میں بڑا انتظار کرتا رہتا ہوں۔۔۔۔
اس نے بڑی شوخ نظروں سے مجھے دیکھتے ہوئے کہا اچھا جی ، بھلا میں نے فون کیوں کرنا ہے۔۔۔۔
میں ہنستے ہوئے کہا بس گپ شپ کے لیے۔۔۔
اس نے کہا اگر گپ شپ ہی کرنی ہے تو پھر میں کیوں فون کروں۔۔۔۔
میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا صرف گپ شپ کا مطلب بڑا گہرا ہوتا ہے۔۔۔۔