گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 74)

شاہد نے مجھ سے پوچھا معاملہ کیا ہے۔۔۔

میں نے اس کو بتایا کہ یار ایک عجیب سا کیس ہے ۔۔۔

شاہد نے سوالیہ انداز سے میری طرف دیکھا تو میں نے اس کو کہا بات لمبی ہے اور بڑی اہم ہے اس طرح نہیں بتا سکتا آج تم میرے پاس آنا ارشد کو بھی بلاتے ہیں گھر بیٹھ کر بات کریں گے ۔۔۔۔

شاہد نے کہا ٹھیک ہے لیکن جس شایان کی یہ بات کر رہا ہے اس کو میں جانتا ہوں وہ کاشی کے ساتھ ہوتا تھا ۔۔۔۔

جب کاشی کو ہمارا پتہ چلا تو کاشی نے اس سے کنارہ کشی کر لی تھی۔۔۔

شاہ بھی اس کے ساتھ کافی ملتا رہا ہے مجھے شاہ نے بتایا تھا کہ شایان اس کو گھر والوں سے ملوانے کا کہتا ہے ۔۔۔

شاہ کو میں نے منع کر دیا تھا کہ یہ بندہ ٹھیک نہیں ہے شاہ تو اس سے دور ہو گیا تھا لیکن تمہارا دوست ریحان ڈاکٹر عمائمہ کا بیٹا اس کا یہ جگری بن گیا تھا ۔۔۔۔

سننے میں آیا تھا کہ ریحان اور اس کی لڑائی بھی کسی لڑکی کی وجہ سے ہوئی تھی جس کی وجہ سے ان دونوں میں دوریاں بڑھ گئی تھیں۔۔۔۔

ریحان اور شاہ کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں تھی یہ تو آج تمہارے منہ سے سن کر مجھے پتہ چلا کہ کہ وہ یہاں ہے ویسے اس سے بھی مجھے صرف شک تھا کہ یہ وہ ہے اصل میں سب کچھ واضح اس لڑکے کی باتوں سے ہوا ہے۔۔۔۔۔

میں گہری سوچ میں ڈوب گیا تو شاہد نے پوچھا کیا ہوا۔۔۔۔

میں نے کہا یار ہم نے دارے خاں کو مروا دیا عمائمہ کو شہر چھوڑنے پر مجبور کر دیا، پرویز صاحب کو شہر بدر کروا دیا اچھی گجر جیسوں کو منظر سے غائب ہونے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔

ہم یہ سمجھ رہے تھے کہ اب اس شہر میں منشیات کا کاروبار نہیں ہو سکے گا کوئی ایسی ہمت نہیں کرے گا۔۔۔۔

لیکن یہ شایان اگر منشیات کا عادی ہے اور ریحان کا دوست ہے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ بھی اسی طریقہ کار سے کام کر رہا ہے۔۔۔

شکل صورت کا یہ بھی سمارٹ ہے ریحان کی طرح، اسی کی طرح یہ بھی ڈیلر ہو گا مجھے پکا یقین ہے۔۔۔۔

شاہد ہنسنے لگا اور کہا سالے تو اتنی گہرائی تک کیسے پہنچ جاتا ہے، میں اس کو کب سے جانتا ہوں کبھی اس طرح سے نہیں سوچا۔۔۔۔

میں نے شاہد کو ریحان اور عمائمہ کا طریقہ واردات بتایا تو وہ سن کر دنگ رہ گیا۔۔۔

شاہد نے کہا پھر پکا اس کو سپلائی وہاں سے ہی مل رہی ہے اور ہمیں شاہ زیب اور دارے خاں کے پیچھے الجھا دیا گیا اصل میں وہ تو تھرڈ پارٹی تھے۔۔۔۔

میرا دماغ بڑی تیزی سے چل رہا تھا میں سوچ رہا تھا کہ اب کیا کروں تو مجھے عنذا کا میسج آیا۔۔۔۔

میں نے میسج پڑھا تو میرا دماغ گھوم گیا میں نے شاہد کو کہا چلو۔۔۔۔

شاہد زیادہ سوال جواب نہیں کرتا تھا وہ میرے ساتھ چل پڑا میں نے بائیک نکالی اور اس کو بھی اپنی بائیک نکالنے کا کہا۔۔۔۔

ہم دونوں الگ الگ بائیک پر چل پڑے شاہد کو میں نے کہا کسی ایسے بندے کو جانتے ہو جس کا گورنمنٹ کالج میں تعلق ہو یا کوئی لڑکی جس سے تم مل سکتے ہو۔۔۔۔

اس نے کہا ہاں میری ایک کزن پڑھتی ہے میں نے یکدم بڑیک لگائی اور اس کی طرف دیکھنے لگا ۔۔۔۔

شاہد نے حیرت سے میری طرف دیکھا اور پوچھا کیا ہوا۔۔۔۔

میں نے کہا چلو وہاں چل کر سب پتہ چل جایے گا تم بس اتنا کرو کہ میڈیا والے دوستوں کو بلاؤ۔۔۔۔

وہ میڈیا والوں کو کال کرنے لگ گیا میں نے عاذب کو فون کیا اور کالج کے لڑکوں کو احتجاج کے لیے نکلنے کا کہا۔۔۔۔

عاذب کو بھی ساری صورتحال سمجھا دی تھی۔۔۔

شاہد کے کان کھڑے ہو گئے اس کو یقین ہو گیا کہ معاملہ کافی زیادہ سیریس ہے لیکن ہم اپنی عادت سے مجبور تھے ایک دوسرے سے سوال جواب نہیں کرتے تھے۔۔۔

ہم سیدھے گورنمنٹ کالج برائے خواتین کی طرف چل پڑے۔۔۔

رستے میں شاہد کو میں نے سب کچھ بتا دیا شاہد نے اسی وقت مجھے روکا اور کسی کو فون کیا۔۔۔۔

پانچ منٹ میں ہی ہمارے پاس کچھ لڑکے آ گئے اس کے علاوہ میڈیا والے بھی وہاں پہنچ گئے تھے۔۔۔۔

ہم بڑی تیزی سے کالج کے گیٹ پر پہنچے اور بائیکس کو ایک طرف کھڑا کر دیا۔۔۔۔

میں اور شاہد آگے بڑھے کالج کے گارڈ کو شاہد نے اپنا تعارف ایک پروفیسر کی حیثیت سے کروایا تو اس نے ہمیں اندر جانے دیا۔۔۔۔

میں نے موبائل نکالا پھر سے عنذا کا میسج پڑھا۔۔۔

اس کے بتانے کے مطابق کالج میں داخل ہو کر سامنے ایڈمن بلاک تھا اور دائیں ہاتھ جا کر اس عمارت کے ساتھ ایک رستہ تھا جس پر آ گے جا کر رہائشی کوارٹرز تھے جن میں کالج کی پرنسپل اور کچھ دوسرے عملہ کی رہائش تھی۔۔۔۔

ہماری منزل ان کوارٹرز میں سے ہی ایک کوارٹر تھا۔۔۔

اس پختہ سڑک کے سامنے بھی مین روڈ پر ایک گیٹ تھا جو اکثر بند ملتا تھا۔۔۔۔

میں نے اس گیٹ کی طرف دیکھا تو شاہد نے بھی اس طرف دیکھا اور فون نکال کر کسی کو کال کی۔۔۔۔

ہم تیز تیز قدم اٹھاتے آگے بڑھتے گئے جیسے ہی ہم اس بلاک کے برابر سے نکلے تو ہمیں وہاں دو لڑکیاں نظر آئیں جن کے چہرے کے رنگ اڑے ہوئے تھے۔۔۔۔

میں نے ان کے پاس سے گزرتے ہوئے گھمبیر لہجے میں پوچھا کس طرف۔۔۔

ایک لڑکی نے لرزتے ہاتھ سے ایک فرلانگ کے فاصلے میں موجود کوارٹر کی طرف اشارہ کیا۔۔۔۔

اگلے ایک منٹ میں ہم اس کوارٹر کے دروازے پر کھڑے تھے۔۔۔

میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو کئی لڑکیاں جمع ہو چکی تھیں میں نے ان کو اشارے سے بلایا۔۔۔۔

کسی نے آگے قدم نہ بڑھایا میرے نمبر پر کال آنا شروع ہوئی عنذا کی کال تھی۔۔۔

میں نے فون رسیو کرکے اس کو کہا کہاں ہو۔۔۔

اس نے کہا ان لڑکیوں کے درمیان میں ہوں میں نے کہا جو تمہاری بیسٹ فرینڈ ہے اس کو لے کر آگے بڑھو ۔۔۔۔

عنذا نے ہچکچاہٹ کا اظہار کیا۔۔۔

میں ذرہ سخت لہجے میں کہا جلدی کرو اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے۔۔۔۔

اسی وقت دو لڑکیاں ہجوم میں سے نکل کر آگے بڑھیں اور تیز تیز ہماری طرف بڑھنے لگیں۔۔۔

ان کی دیکھا دیکھی سارا ہجوم ہماری طرف بڑھنے لگا میں نے شاہد کو دیکھا ۔۔۔۔

شاہد نے دروازے کو دھکیلا تو وہ اندر سے بند تھا۔۔۔

دائیں بائیں دیکھ کر میں نے شاہد کو اشارہ کیا وہ نیچے جھکا میں اس کے کندھے پر پاؤں رکھ کر دیوار پر چڑھ گیا اور اندر کود گیا چند سیکنڈ کے اس دورانیے میں دروازہ کھول چکا تھا شاہد اندر آ گیا۔۔۔۔

میں اور شاہد سامنے بنے کمرے کی طرف بڑھ گئے دروازے کو دھکا مارا دروازہ کھل گیا۔۔۔۔

اندر کوئی نہیں تھا ہمیں کسی کی گھٹی گھٹی سی آواز سنائی دی۔۔۔

آواز کی سمت کا اندازہ لگا کر ہم دونوں ایک ساتھ دوڑے اور ایک دروازے کو دھکیلتے ہوئے اندر گھس گئے۔۔۔۔

دروازہ کھلتے ہی جو اندر کا منظر تھا وہ دیکھ کر میرے دماغ کا فیوز اڑ گیا۔۔۔۔

میں نے کبھی زندگی میں ایسی درندگی نہیں دیکھی تھی ۔۔۔

کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ وحشت اس حد تک بھی ہو سکتی ہے۔۔۔۔

یہ میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ اس وقت تک سچ میں میری نظر سے ایسا کوئی منظر نہیں گزرا تھا۔۔۔۔

ایک انتہائی حسین لڑکی جس کا جسم روئی سے زیادہ سفید تھا۔۔۔

کپڑوں کے بغیر ایک بیڈ پر بندھی ہوئی تھی اور ایک دو لڑکے کمرے میں موجود تھے۔۔۔

لڑکے بھی کپڑوں کے بغیر تھے اور لڑکے کے جسم کو ایک چاٹ رہا تھا، اس کا منہ لڑکے کے مموں پر تھا ۔۔۔۔

مموں پر کوئی سفید سا پاوڈر پڑا ہوا تھا جس کو وہ چاٹ رہا تھا۔۔۔۔

لڑکے کے ممے شکنجے میں کسے ہوئے تھے اسی طرح لڑکی کی ٹانگیں بھی کھول کر اوپر چھت سے لٹکتی رسی سے بندھی ہوئی تھیں۔۔۔۔

دوسرا لڑکا لڑکی کی ٹانگوں کے درمیان لیٹ ہوا تھا اور اس کا ناک لڑکی کی پھدی پر تھا۔۔۔۔

لڑکی کی پھدی بھی چمک رہی تھی جیسے اس پر بھی کچھ لگایا گیا ہو جس کو سونگھ کر وہ لڑکا اپنے اندر اتار رہا تھا۔۔۔۔

ایسا منظر جو نا کبھی میں نے سنا اور نہ دیکھا تھا۔۔۔

لڑکی کے منہ میں ایک فوم سا ڈھونسا ہوا تھا کے اوپر والی سائیڈ پر کوئی پیکٹ تھا جس کو دیکھ کر بھی سمجھا جا سکتا تھا کہ اس میں کیا چیز ہو سکتی ہے۔۔۔۔۔

ہمارے اندر آنے پر بھی اج لڑکوں کو کوئی فرق نہ پڑا ۔۔۔

وہ تو جیسے ہوش کی دنیا سے دور ہو چکے تھے ان کو لوڑا پتہ چلنا تھا ۔۔۔۔

شاہد اور میں ایک دوسرے سے نظریں نہیں ملا پا رہے تھے۔۔۔

ان دو لڑکوں میں سے ایک لڑکا شایان تھا دوسرا بھی کوئی اس کے جیسا تھا۔۔۔۔

شاہد یکدم باہر کی طرف بھاگا ایک منٹ میں جب وہ واپس آیا تو اس کے ہاتھ میں لوہے کا ایک راڈ تھا۔۔۔۔

اس نے آتے ہی شایان جو کہ قریب تھا اس کو لوہے کے راڈ سے مارنا شروع کر دیا۔۔۔۔

میں نے دوسرے لڑکے کو دبوچ لیا اور اس کی چھترول شروع کر دی۔۔۔

وہ تو نشے میں تھے ان کو کچھ فرق نہیں پڑ رہا تھا وہ کیا کر سکتے تھے۔۔۔۔

دو منٹ میں وہ خون سے لہو لہان ہو گئے اور ہم ان کو باندھ چکے تھے۔۔۔

میں نے لڑکی کو کھولا اس کے منہ سے فوم اور پیکٹ ہٹایا اور پھر اس کے کپڑے ڈھونڈ کر اس کو دئیے۔۔۔۔

لڑکی لڑکھڑا رہی تھی اس کی آنکھیں لال ہو چکی تھیں جسم میں لرزش تھی وہ کپڑے نہیں پہن سکتی تھی ۔۔۔

میں نے اس پر ایک چادر ڈالی اور اس کو چادر میں لپیٹ کر دوسرے کمرے میں لے گیا۔۔۔۔

پھر دورازہ کھول کر باہر دیکھا تو عنذا سب سے آگے کھڑی تھی اس کو میں نے اندر بلایا اور اسے لڑکی کو کپڑے پہنانے کے کہا وہ ایک اور لڑکی کو ساتھ لے آئی۔۔۔۔

ہم نے ان دونوں لڑکوں کو باندھے رکھا جیسے کی عنذا نے اس لڑکی کو کپڑے پہنا لیے تو میں نے اس کو کہا لڑکی کو ایک لمبی چادر میں لپیٹ کر پچھلے دروازے سے نکلو ہم بھی سامنے سے نکل رہے ہیں۔۔۔

عنذا نے ہمارے کہے مطابق لڑکی کو پچھلے دروازے سے نکالا میں اور شاہد دروازے پر آئے اور سب لڑکیوں کو کہا سب کچھ کلیئر ہو چکا ہے آپ لوگوں نے کسی کو بھی اندر نہیں جانے دینا جب تک پولیس یہاں نہ آ جائے اور میڈیا والے بھی۔۔۔

لڑکیوں نے ہمیں رستہ دیا میں نے اونچی آواز میں کہا کوئی لڑکی اندر نہ جائے اندر جو ماحول ہے وہ آپ لوگوں کے دیکھنے کے لیے نہیں ہے۔۔۔۔

اسی وقت کسی نے کہا میڈیا والے آ گئے ہیں میں ایک دم نیچے ہو گیا اور شاہد بھی۔۔۔

لڑکیاں سمجھدار تھیں وہ سمجھ گئیں وہ ہمارے آس پاس ہو گئیں اور میڈیا والوں کو اندر جانے دیا۔۔۔

جب وہاں کافی رش ہو گیا میڈیا کا تو میں اور شاہد چپکے سے رش کا سہارا لے کر نکل گئے۔۔۔

سامنے والا گیٹ کھلا ہوا تھا عنذا اور اس کے ساتھ ایک لڑکی اس گیٹ کے پاس پہنچ چکی تھیں۔۔۔

میں تیزی سے باہر نکلا اور اپنی بائیک ان کے پاس لے آیا ان دونوں نے اس لڑکی کو بائیک پڑ بٹھایا اور عنذا اس کے پیچھے بیٹھ گئی۔۔۔۔

میں نے بائیک بھگا لی اور کالج سے دور نکل گیا کالج والا گیٹ لڑکوں سے بھر چکا تھا۔۔۔

ان میں سے سب مجھے جانتے تھے اس لیے مجھے گزرنے کا رستہ دیتے ۔۔۔۔

میں نے وہاں عاذب کو بھی دیکھا عاذب نے نکلنے کا اشارہ کیا اور جیب سے موبائل نکال لیا۔۔۔۔

میں جیسے ہی رش سے نکلا میں نے فون جیب سے نکالا تو عاذب کا فون آ رہا تھا۔۔۔۔

میں نے صرف اتنا کہا جب تک پولیس کالج پرنسپل کو پکڑ کر نہ لے جائے آپ لوگوں نے یہاں سے ہلنا نہیں ہے میں بھی آتا ہوں اور باقی لڑکے بھی یہاں آ رہے ہیں۔۔۔۔

اگلے دس منٹ میں ہم ایک ہسپتال پہنچ چکے تھے جس میں مجھے شاہ زیب لے گیا تھا۔۔۔

خوش قسمتی سے مجھے وہاں وہی ڈاکٹر مل گئی جس کے بارے میں شاہ زیب نے بتایا تھا کہ وہ بھا ہاشم کی فرینڈ ہے۔۔۔۔

اس کو ایمر جنسی کیس کا بتایا اور سارا سین بھی سمجھا دیا سوائے اس کے ننگے پن کے۔۔۔۔

اس نے مجھے باہر نکالا اور عنذا کو ساتھ لے کر روم کا دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔

آدھا گھنٹہ میں باہر ٹہلتا رہا تب کہیں جا کر عنذا باہر آئی اس کے چہرے پر کچھ سکون تھا۔۔۔

اس نے بتایا کہ ڈاکٹر نے اس کو کافی انجکشن لگائے ہیں اور اس کا سارا جسم صاف کیا ہے۔۔۔

میں نے جلدی سے پوچھا اس کے جسم پر جو کچھ لگا ہوا تھا اس کا سیمپل کہاں ہے۔۔۔۔

عنذا نے کہا وہ ڈاکٹر نے دو الگ پیکٹس میں ڈال لیے ہیں اور مجھے کہا ہے تمہیں اندر بھیجوں۔۔۔۔

میں اندر گیا تو وہ لڑکی پہچانی نہیں جا رہی تھی اس کا چہرہ صاف ہو چکا تھا بڑی سکون میں نظر آ رہی تھی۔۔۔

وہ ہوش میں تھی لیکن مکمل طور پر نہیں اس نے مجھے دیکھ کر مسکرا کر کہا شکریہ اور پھر اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔۔۔۔

میں نے ڈاکٹر کی طرف دیکھا تو اس نے کہا آپ اس کو گھر لے جاسکتے ہیں شام تک وقفے وقفے سے اس کو لیموں پانی یا یہ جو ساشے میں لکھ رہی ہوں پلاتے رہنا۔۔۔۔

میں نے ہاں میں سر ہلایا ڈاکٹر باہر نکلی تو میں بھی اس کے ساتھ چل پڑا۔۔۔

ڈاکٹر نے مجھے گھور کر دیکھتے ہوئے کہا تم بھی اپنے بھائی کی طرح باز نہیں آو گے۔۔۔۔

میں نے کہا جب آپ جانتی ہیں تو پھر پوچھ کیوں رہی ہیں۔۔۔۔

ویسے آپ کی اور بھائی کی سٹوری بھی کسی دن سنوں گا اگر وقت ملا تو۔۔۔

اس نے ہنستے ہوئے کہا تمہیں وقت نہیں ملے گا جب بھی آؤ گے اسی طرح آو گے۔۔۔

میں نے سوچا تھا کہ یہاں سے چلی جاؤں لیکن جب اس دن تم یہاں آئے تھے تو میں نے اپنا فیصلہ بدل لیا تھا ۔۔۔۔

میں نے سوچا کہ تمہارا بھائی کہ صحیح تم تو یہاں آتے رہو گے اسی بہانے تمہارے بھائی کی خیریت معلوم ہوتی رہے گی۔۔۔۔

ویسے جو ڈرگز اس کے جسم سے ملی ہیں ان کا اثر اتنی جلدی نہیں جائے گا دیکھنے میں یہ نارمل رہے گی لیکن ایسا نہیں ہوگا۔۔۔۔

اس کے جسم کے نازک حصوں پر اس کا استعمال کیا گیا ہے جس سے اس کو سرور ملتا رہے گا۔۔۔۔

جب اس کا اثر ختم ہو گا تو پھر سے طلب شروع ہو جائے گی اس وقت اس کو خود پر قابو رکھنا ہو گا۔۔۔۔

میں نے پوچھا اس کا کوئی علاج ہے جب ایسا محسوس ہو تو کیا کرنا چاہئیے۔۔۔۔

اس نے کچھ میڈیسنز بتائیں جن کے استعمال سے ایسی صورت میں خود پڑ کنٹرول کیا جا سکتا ہے۔۔۔۔

میں نے وہ میڈیسنز اس سے لکھوا لیں اور عنذا کو پرچی پکڑا دی۔۔۔

عنذا نے حیرانی سے پوچھا یہ مجھے کیوں دے رہے ہیں۔۔۔

میں نے کہا اب اس لڑکی کو لاو اسے گھر چھوڑ آئیں پھر سب بتاتا ہوں۔۔۔

عنذا اندر گئی اور اس لڑکی کو سہارا دے کے باہر لے آئی لے ہم نے اس سے اس کے گھر کا پتہ معلوم کیا اور اس کے گھر چھوڑ آئے۔۔۔۔

اس کی ماں کو ساری صورتحال سمجھانے کے لیے ایک جھوٹی کہانی گھڑنی پڑی۔۔۔

عنذا کو ٹاؤن کے پاس چھوڑا اور میں واپس اپنے کالج گیا تاکہ وہاں اپنی موجودگی ظاہر کر سکوں۔۔۔۔

رستے سے میں نے ایک نئی شرٹ خرید لی تھی پرانی شرٹ اتار پھینکی اور وہ پہن کر کالج چلا گیا۔۔۔۔

سیدھا کلاس میں گیا میرے ہاتھ میں کتابیں تک نہیں تھیں بیگ بھی پتہ نہیں کہاں بھول گیا تھا۔۔۔۔

میں اپنی جگہ کر بیٹھ گیا کچھ منٹ بعد پیچھے سے میرا بیگ میرے پاس آیا میں نے مڑ کر دیکھا تو لڑکے نے پیچھے اشارہ کیا، پیچھے والے نے اس کے پیچھے ، اس نے اس سے پیچھے اس طرح کرتے کرتے آخری رو میں بیٹھی رباب تک بات پہنچ گئی۔۔۔۔

اس نے مجھے دیکھ کر ایک دلکش مسکراہٹ اچھالی۔۔۔۔

پیریڈ ختم ہوا میں اٹھ کر کلاس سے باہر آ گیا میرے ہیچھے پیچھے رباب بھی آ گئی۔۔۔

گیلری میں ہی اس نے مجھے کہا یہ آج تم کرتے کیا پھر رہے ہو، کالج سے کئی لڑکے آج غائب ہیں، وہ جو تمہارا دوست یہاں آیا ہے وہ کس مقصد سے آیا ہے تم بھی اس کے آتے ہی آج کالج سے غائب ہو گئے۔۔۔۔

میں نے ہنستے ہوئے کہا اگر اتنا کچھ ایک ہی سانس میں پوچھو گی تو میں خاک بتا پاؤں گا۔۔۔۔

ویسے بھی ایسا کچھ بھی نہیں ہے جو تم اتنا بول رہی ہو میں نے اس وقت ہی بتایا تھا کہ مجھے آج ایک ضروری کام جانا ہے ۔۔۔۔

میں نے سوچا کالج سے ہی چلا جاتا ہوں لیکن جب کام نہ ہوا تو میں واپس آ گیا ہوں تاکہ تمہیں گھر چھوڑ سکوں۔۔۔۔

ہم تب تک بائیک کے پاس پہنچ چکے تھے میں نے بائیک نکالی رباب میرے کندھے پر ہاتھ رکھ کر میرے پیچھے بیٹھ گئی۔۔۔۔

اس نے مجھ سے ایک فاصلہ بنائے رکھا میں نے تھوڑا دور آنے کے بعد سپیڈ بڑھانا شروع کر دی۔۔۔۔

میں نے سپیڈ بڑھائی تو اس نے اپنی ہاتھ کو سختی سے کندھے رکھتے ہوئے بازو کو اکڑا کیا تاکہ میرے ساتھ ٹچ نہ ہو سکے۔۔۔۔

اس کے طرح فاصلہ رکھنے پر مجھے کوئی فرق نہیں پڑ رہا تھا، میں جلدی میں تھا اس لیے سپیڈ سے بائیک چلاتے ہوئے ٹاؤن پہنچ گیا۔۔۔۔

ٹاؤن میں کچھ سپیڈ بریکرز لگے ہوئے تھے جن کی وجہ سے مجھے سپیڈ سلو کرنا پڑی۔۔۔۔

سپیڈ بریکر کے جھٹکے سے رباب پھسل کر میرے ساتھ لگ گئی۔۔۔۔

اس کے جسم کی نرمی اپنی کمر پر محسوس کرتے ہی میرے جسم میں کرنٹ دوڑنے لگا، لیکن میں اس موڈ میں نہیں تھا اس لیے اس کے مموں کو اپنی کمر پر محسوس کرنے کے باوجود اگلے دومنٹ میں اس کے گھر کے سامنے تھا۔۔۔۔۔

بائیک سے اترتے ہوئے رباب نے میرے کندھے پر چٹکی کاٹی میں نے آووچ کرکے اپنے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اس کی طرف دیکھا تو اس نے مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھا اور مسکراتی ہوئی گھر میں داخل ہو گئی۔

میں نے تیزی سے بائیک گھمائی اور گرلز کالج کی طرف چل پڑا میری سپیڈ اتنی تیز تھی کہ چھ کلومیٹر کا فاصلہ کب ختم ہوا مجھے پتہ ہی نہ چلا۔۔۔۔

گرکز کالج کے سامنے تو سین ہی بدل چکا تھا ایک طرف لڑکے تھے تو دوسری طرف لڑکیاں سب مل کر بڑے منظم انداز سے احتجاج کر رہے تھے۔۔۔۔

میں نے ان دونوں لائنوں کے درمیان میں بائیک گھسا دی میں چونکہ کافی تیز آ رہا تھا اس لیے کئی لڑکوں نے چیخ کر کہا سائڈ پر ہو جاو بلو بھائی آ رہے ہیں۔۔۔۔

لیکن ان لوگوں کے درمیان میں آنے تک سپیڈ بہت سلو ہو چکی تھی۔۔۔۔

میں بڑے سکون سے ان کے درمیان سے گزر گیا ایک چکر کاٹ کر واپس آیا مجھے کہیں بھی عاذب اور شاہد نظر نہ آئے۔۔۔۔

پھر سامنے والی سائیڈ پر آ کر ایک طرف بائیک کھڑی کی اور اتر کر سامنے کھڑے لڑکوں میں سے ایک سے پوچھا،عاذب لوگ کہاں ہیں۔۔۔

اس نے کہا مجھے تو نہیں پتہ وہ یہاں نہیں تھے یہاں کاشی تھا جو کچھ دیر پہلے کالج کے اندر گیا ہے۔۔۔۔

میں نے بائیک کو سامنے کھڑا کیا اور ایک لڑکے کو کہا اس کو پکڑو اور خود بائیک کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔

مجھے اونچائی پر دیکھ کر سب میری طرف متوجہ ہو گئے۔۔۔۔

لڑکیاں بھی میری طرف دیکھنے لگیں میں بلند آواز میں سب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔۔۔۔

دیکھیں اگر ہمارے مطالبات پورے نہیں ہوتے تو ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔۔۔۔

آپ سب کیا چاہتی ہیں لڑکیوں کی طرف اشارہ کرکے میں نے پوچھا۔۔۔۔

ان میں سے ایک جٹی ٹائپ لڑکی جو قد کاٹھ اور جسامت میں بھی خوب تھی آگے بڑھی۔۔۔۔

اس نے مجھ سے کہا بلو بھائی ہم ان سب کو جیل میں دیکھنا چاہتی ہیں جو اس میں ملوث تھے۔۔۔۔

میں بول ہی رہا تھا کہ مجھے شاہد کا فون آیا اس نے کہا کہ پرنسپل کو پکڑ کر لے گئے تھے اس کے علاوہ پولیس کسی کو بھی پکڑنے سے انکاری ہے۔۔۔۔

میں نے کہا میڈیا والے کہا ہیں وہ کیا کر رہے ہیں۔۔۔

شاہد نے کہا کسی کی کوئی بات نہیں سن رہے ۔۔۔

اگلی بات جو میں نے اس نے شاہد کو بولنے نہ دیا میں اونچی آواز میں کہا پولیس ہمارے مطالبات نہیں مان رہی اب کیا کرنا ہے۔۔۔۔۔

سب لڑکے اور لڑکیاں ایک دم بھڑک اٹھے اور کہا ہم شہر کی اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے۔۔۔

میں نے کہا شہر کا کوئی نقصان نہیں کرنا اپنے مطالبات منوانے ہیں اس کے لیے شہریوں کا کوئی نقصان نہیں ہونا چاہئیے۔۔۔

اب کالج ہم تھانے کی طرف چلیں گے سب ایک منظم طریقے سے سارے لڑکے آگے آ جائیں اور لڑکیاں پیچھے ہو جائیں کسی قسم کی کوئی بدمزگی نہیں ہونی چاہئیے۔۔۔۔

پرامن طریقے سے آگے بڑھیں گے وہ لڑکی جو کسی گاؤں کی تھی لیکن تھڑلے والی تھی اس کو میں نے کہا آپ پیچھے ہو جائیں اور سب لڑکیوں کو لیڈ کریں گے۔۔۔۔

اس نے کہا ٹھیک ہے جو بائیکس پر تھے وہ آگے چلنے لگے جو پیدل تھے وہ پیچھے پیچھے چلنے لگے۔۔۔

میں نے ایک لڑکے کو بائیک کی چابی دی کہ وہ بائیک لے کر چلے میں پیدل چلوں گا۔۔۔۔

اسی وقت پنگا کہیں سے ٹپک پڑا اس نے میرے ہاتھ سے چابی لے کر کسی اور کو دی اور کہا لے کر تھانے پہنچ جاؤ۔۔۔

خود وہ میرے ساتھ پیدل چلنے لگا میں سب سے آگے والی قطار میں چل رہا تھا۔۔۔۔

کوئی شور نہیں تھا کسی قسم کی ہنگامی آرائی نہیں تھی سب بڑے منظم انداز سے تھانے کی طرف جا رہے تھے۔۔۔۔

ابھی کچھ دور ہی چلے تھے کہ سامنے سے پندرہ بیس بائیکس آتی دکھائی دیں۔۔۔

ان بائیکس پر شاہد عاذب اور کچھ ساتھی تھے ان میں کاشی ٹنڈا بھی شامل تھا۔۔۔۔

وہ بھی ہمارے ساتھ مل گئے میں نے کاشی کو اپنے بازو کے حصار میں لیا اور ساتھ چلتے ہوئے اس سے کہا بڑا خوش قسمت ہے جو پہلے ہی شایان کو چھوڑ گیا ورنہ آج تم بھی ان کا حصہ ہو سکتے تھے۔۔۔۔

کاشی نے مسکراتے ہوئے کہا میرے بارے میں بڑی معلومات رکھتے ہو۔۔۔

میں نے اسی کے انداز میں کہا رکھنا پڑتا ہے کیونکہ جہاں جہاں تم گئے وہاں وہاں ہم نے لوڑا گھسا دیا۔۔۔۔

کاشی ایک قہقے سے ہنسا اور بولا تو اس سے کیا پتہ چلتا ہے کہ میں اپ لوگوں کے خوش قسمت ہوں۔۔۔۔

میں نے کہا ہاں کہہ سکتے ہو کہ ایسا ہے لیکن میرا مشورہ ہے اگر اسی طرح کرتے رہے تو کسی دن کسی نے پھڑکا دینا ہے۔۔۔۔

اس کے بعد کوئی بات نہ ہوئی نہ کی کاشی نے کچھ کہا ۔۔۔۔

ناصر بھی آ چکا تھا ارشد کا کوئی اتہ پتہ نہیں تھا ۔۔۔۔

اس ہم تھانے کے سامنے جا پہنچے وہاں پہنچے تو دیکھ کر حیرانی کی انتہا نہ رہی وہاں ہماری موجودہ ایم پی اے، ایم این اے اور دوسرے سیاسی رہنما موجود تھے۔۔۔۔

ان سب کو دیکھ کر سٹوڈنٹس کا پارہ ہائی ہونے لگا۔۔۔۔

میڈیا والے ہمارے آگے آگے چلتے ہوئے گئے تھے مطلب ہمیں لائیو کوریج دی جا رہی تھی۔۔۔۔

میڈیا والوں میں سے ہی ایک آدمی آگے بڑھا جس نے سر ٹوپی لی ہوئی تھی۔۔۔

اس نے میرے پاس آ کر کہا صائم آپ سے بات کر سکتا ہوں۔۔۔۔

اس کا لہجہ بتا رہا تھا کہ وہ میڈیا کا بندہ نہیں ہے میں نے غور سے اسے دیکھا تو میری بات کی تصدیق ہو گئی۔۔۔۔

اس نے میرے کان میں کہا کہ آج پورا پلان بن چکا ہے آگے نہ جاؤ یہاں سے ہی واپس ہو جاؤ تمہاری زندگی کو خطرہ ہو سکتا ہے۔۔۔۔

میں نے اس کی بات سنی ان سنی کر دی اور ہم لوگ تھانے کے بالکل سامنے پہنچ گئے۔۔۔۔۔

لڑکیاں ہمارے پیچھے تھیں انہوں نے بھی پیش قدمی کرتے ہوئے ہمارے برابر جگہ بنا لی۔۔۔۔

اب صورتحال یہ ہو گئی کہ تھانے کے سامنے جو گاڑیاں موجود تھیں ان کے نکلنے کا رستہ مسدود ہو گیا تھا۔۔۔۔

لڑکیاں ہمارے بالکل ساتھ ساتھ کھڑی تھیں ان کے اور لڑکوں کے درمیان عاذب نے کچھ سمجھدار لڑکوں کی اور اس جٹی نے کچھ لڑکیوں کی ڈیوٹی لگا دی کہ کوئی بدمزگی پیدا نہ ہو۔۔۔۔

کسی نے کوئی بات نہ کی چپ چاپ کھڑے ہو گئے۔۔۔۔

جب سب کالجز کو چھٹی ہو گئی تو یہ ہجوم اور بڑھنے لگا۔۔۔۔

اب تو ٹریفک پوری طرح جام ہو چکا تھا پولیس کے اعلیٰ افسران میں سے ایک افسر آگے آیا ۔۔۔

اس نے نام لے کر مجھے بلایا میں آگے بڑھا تو میرے ساتھ شاہد، عاذب، ناصر ،کاشی بھی آگے بڑھے ۔۔۔۔

اس افسر نے گالی دے کر کہا تسی کیوں ماں چدوان آندے پئے او۔۔۔

مجھے اس کا انداز بہت غلط لگا میں وہیں رک گیا اور کہا اگر بات کرنی ہے تو آگے آجاؤ میں کہیں نہیں جاؤں گا۔۔۔۔

میڈیا کے ایک رپورٹر نے مجھ سے پوچھا آپ ان افسر کی بات سننے کیوں نہیں جا رہے اور اس نے مجھے یہ کہا کہ ہم لائیو جا رہے ہیں۔۔۔

میں نے کہا پولیس کا مطلب ہوتا ہے عوام کی خدمت گار لیکن ان حضرت نے جس طرح ماں کی گالی دے کر بات کی اس سے صاف پتہ چل رہا ہے وہ بات نہیں کرنا چاہتے بلکہ ان کا کوئی اور پلان ہے۔۔۔۔۔

اس نے ہمارے مطالبات پوچھے تو میں نے وہی رٹی رٹائی بات دہرا دی۔۔۔

ناصر کو ایک طرف کرکے میں نے کہا کہ کون کون شامل ہے اس سب میں۔۔۔

اس نے بتایا کہ اس میں ہمارے ایم این اے ، ایم پی اے، ڈی او ایجوکیشن اور ایک بندہ جس کی شہر میں بڑی عزت ہے ایک نام ہے وہ بھی شامل ہے۔۔۔

پھر میں نے اس کو وہ بات بھی بتا دی جو مجھے رپورٹر کے روپ میں بندہ کہہ گیا تھا۔۔۔۔

اسی وقت ایک افسر آیا اس نے ہمیں کہا کہ آپ لوگوں میں سے چند لوگ آ جائیں بات کرتے ہیں۔۔۔۔

میں نے لڑکیوں میں سے اس جٹی سے پوچھا کون کون بات چیت میں شامل ہونا چاہے گی۔۔۔۔

جٹی آگے بڑھی اس کے ساتھ کچھ اور لڑکیاں بھی آگے آئیں۔۔۔

ہم کل ملا کر پانچ لوگ گئے میں نے کہا کہ اتنے لوگوں کا اندر جانا مناسب نہیں ہے۔۔۔۔

جاتے جاتے میں نے ناصر کو کہا ارشد کو کہو بارش سے رابطہ کر لے اور ارشد کو یہ سب بتادو جو جو شامل ہیں۔۔۔

ناصر نے کہا وہ پہلے ہی کام پر لگ چکا ہے اس کی تم فکر نہ کرو۔۔۔۔

میں ہنس دیا اور جٹی کو کہا ہمارے ساتھ بات چیت کے دوران جھگڑا بھی ہو سکتا ہے اس لیے غصہ نہیں کرنا ۔۔۔۔

اس نے سوالیہ انداز سے پوچھا کیوں۔۔۔

میں نے کہا اس لیے کہ ہم ان کو یہاں کم از کم دو گھنٹے الجھائے رکھیں گے اور یہ ضروری ہے۔۔۔۔

میں نے ارشد کو فون کیا اور پوچھا کیا پوزیشن ہے۔۔۔۔

اس نے کہا ہم نے ایک اڈہ اڑا دیا ہے جو سب سے خفیہ تھا جہاں کوئی گارڈ بھی نہیں تھا۔۔۔۔

میں نے کہا مجھے میسج کرتے رہنا جگہ کے نام کے ساتھ۔۔۔۔

اس نے اوکے کیا اور ہم اندر پہنچ گئے۔۔۔

اندر سب صاحب حیثیت لوگ موجود تھے میں اندر داخل ہوتے ہی بآواز بلند سلام کیا۔۔۔۔

جواب صرف ایک دو نے دیا۔۔۔

پھر میں نے کہا باغ والی کھوہی، فوراً ہمارے ایم پی اے چونک پڑے اور بولا کیا مطلب۔۔۔۔۔

میں ایم پی اے کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا۔۔۔

ایم پی اے صاحب پہلو بدل کر رہ گئے لیکن کچھ بول نہ سکے ان کے چہرے پر غصہ واضح تھا۔۔۔

وہاں پولیس کے جو افسر موجود تھے انہوں نے ہماری طرف دیکھا اور کہا ۔۔۔

دیکھو بیٹا آپ لوگ ہمارے ملک کا مسقبل ہیں آپ سب کی حفاظت کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔۔۔

اگر آپ لوگ بھی باقی عوام کی طرح روڈز بلاک کریں گے توڑ پھوڑ کریں گے تو آپ میں اور ان میں کیا فرق رہ جائے گا۔۔۔۔

تعلیم انسان کو باشعور بناتی ہے آپ لوگ اس شعور کا مظاہر کریں اور ہمیں اپنا کام کرنے دیں۔۔۔

ہم اس واقعے کے ذمہ داروں کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے یہ میرا آپ لوگوں سے وعدہ ہے۔۔۔

دیکھو بیٹا محکمہ تعلیم کے افسران،بوائز کالج کے پرنسپل ، گرلز کالج کی وائس پرنسپل ہمارے ڈی سی او صاحب ،ایم پی اے صاحب، ایم این سے صاحب سب موجود ہیں ہم سب اس بات سے متفق ہیں اور میں ان سب کی موجودگی میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ جو لوگ اس سب میں ملوث ہیں ان سب کو سزا ملے گی۔۔۔۔

جٹی کچھ بولنے لگی تھی لیکن میں نے جب اس کی طرف دیکھا تو وہ چپ ہو گئی۔۔۔

میں نے سب لوگوں پر ایک نظر ڈالی پھر اپنے ساتھیوں کی طرف دیکھا ان سب نے مجھے بولنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔۔

میں نے کہا سر آپ نے بہت خوب کہا ہے کہ سب کو ان کے کیے کی سزا ملے گی، میں صرف اتنا جاننا چاہوں گا کس کس کو سزا ملے گی۔۔۔

سر آپ نے کہا ہم اس ملک کا مستقبل ہیں ہمیں یہ سب نہیں کرنا چاہئیے۔۔۔

میرا ایک سوال ہے صرف آپ سے باقی بھی جواب دے سکتے ہیں لیکن ہو سکتا ہے میرا یہ سوال کچھ لوگوں کو ناگوار گزرے۔۔۔

سر اگر یہ سب بچے اور بچیاں جو ہمارے ساتھ آج باہر آئے ہیں یہ ہمارے ملک کا قیمتی سرمایہ ہیں تو ان کو جس طرف موڑا جا رہا ہے جو کچھ ان کے ساتھ کیا جا رہا ہے وہ اس سب کے لیے پڑھ رہے ہیں۔۔۔

انتہائی معذرت کے ساتھ سر کو کچھ آج ہوا یہ پہلی بار نہیں ہوا آج سامنے آگیا تو کہا جا رہا ہے کہ جو اس کے ذمہ دار ہیں ان کو سزا دی جائے گی۔۔۔۔

اگر میں آپ کو اس سب کے ذمہ داروں کے نام پیش کروں ثبوت کے ساتھ تو آپ ابھی اسی وقت ان کو پکڑنے کے احکامات صادر فرمائیں گے۔۔۔۔

پولیس افسر دائیں بائیں دیکھنے لگا اس کے پاس میری بات کا جواب نہیں تھا۔۔۔

میں نے کہا دیکھیں سر ہم سب جانتے ہیں جو کچھ آج ہوا اس میں کون کون ملوث ہے اور ان کی پشت پناہی کن کو حاصل ہے۔۔۔

اگر اس بات کو ایک طرف رکھ دیں تو بھی یہ کیوں ہوا اور وہ سب ڈرگز جو پکڑی گئیں وہ گرلز کالج میں آئی کہاں سے یہ تو آپ بھی جانتے ہیں کون یہ سب وہاں تک پہنچا رہا ہے۔۔۔۔

میری یہ بات سن کر ڈی ای او صاحب نے کہا اب تم زیادتی کر رہے ہو اس سب سے ہمارا ڈیپارٹمنٹ بالکل لا علم ہے۔۔۔

میں نے ہنستے ہوئے کہا سر میں نے تو نام ہی نہیں لیا تو آپ کو کیوں ایسا لگا کہ میں ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کی بات کر رہا ہوں۔۔۔

اس نے کہا لیکن اشارہ تو اس طرف ہی تھا اس سب کا مطلب تو یہ ہی بنتا ہے۔۔۔

میں نے کہا سر مطلب تو کئی بنتے ہیں لیکن آپ کو اگر یہ کی لگتا ہے تو میں کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔

میرا سوال صرف جناب سے تھا وہ اگر مناسب سمجھیں تو جواب عنایت کر دیں۔۔۔

پولیس افسر نے کہا اگر ہمارے علم میں ہوتا تو وہاں تک پہنچنے ہی نہ دیتے۔۔۔

اسی وقت میرے موبائل پر میسج آیا میں نے موبائل نکال کر مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔۔

پرانی حویلی کھنڈر بن گئی ہے۔۔۔

اب چونکنے کی باری ایم این اے صاحب کی تھی ۔۔۔۔۔

میں نے مسکراتے ہوئے کہا سر دیکھیں میں کچھ بھی ہو معاملہ اتنا سادہ نہیں ہے جتنا آپ سمجھ رہے ہیں۔۔۔

ایک لڑکی کے ساتھ صرف زیادتی نہیں ہوئی بلکہ اس کے ساتھ جو کچھ ہوا اگر آپ دیکھ لیتے تو آپ کے ہوش اڑ جاتے ۔۔۔۔

جو لڑکا وہاں سے پکڑا گیا ہے وہ کون ہے کیا آپ اس کو نہیں جانتے یا یہاں موجود سب حضرات اس کے تعارف سے لاعلم ہیں۔۔۔۔

اس پر ایک صاحب جو مسلسل مجھے گھور رہے تھے انہوں نے کہا جس کی تم بات کر رہے ہو وہ لڑکا شایان ہے۔۔۔

اس کو جان بوجھ کر پھنسایا گیا ہے اس کا اس سے کوئی تعلق نہیں تھا وہ تو اسلام آباد جا رہا تھا یہاں کیسے پہنچ گیا۔۔۔۔

جٹی نے اپنے سخت لہجے میں کہا آپ نہیں جانتے واہ کمال ہو گیا آپ کو یہ پتہ چل گیا کہ آپ کا سپوت پکڑا گیا ہے اور یہاں پہنچ گئے ۔۔۔

اس کو اسلام آباد جانا تھا کونسے اسلام آباد جو آپ کا آبائی گاؤں ہے اس اسلام آباد یا اسلام آباد شہر جانا تھا۔۔۔

اگر آج نہ پکڑا جاتا تو اگلے دو دن اس نے اسلام آباد ہی رہنا تھا جہاں اس نے اپنا عیش کدہ بنایا ہوا ہے۔۔۔۔

میں نے پہلی بار جٹی کو غور سے دیکھا وہ ایک۔ خوبصورت نین نقش کی لڑکی تھی اگر پینڈو لہجہ نکال دیا جائے تو وہ ایک بھرپور لڑکی تھی۔۔۔

ایم این صاحب اٹھ کر باہر جانے لگے تو میں نے کہا سر آپ کہاں جا رہے ہیں آپ سے بھی سوال کرنا ہے۔۔۔۔

وہ بیچارے واپس بیٹھ گئے شاید فون کر کے پرانی حویلی کا پتہ کرنے جا رہے تھے۔۔۔

میں نے کہا سر میری ناقص معلومات کے مطابق جو پرنسپل ہیں وہ آپ کے کہنے میں اپوائنٹ ہوئی تھیں۔۔۔

ایم این اے کا طوطے اڑ گئے پولیس افسران کے چہروں کے رنگ بھی بدلنے لگے۔۔۔

اسی وقت ناصر نے کہا مزے کی بات جو گارڈ وہاں ہیں سب کے سب ایم پی اے صاحب کے ذاتی گارڈ رہ چکے ہیں اس کے علاوہ کالج کی کینٹین کا ٹھیکا جس کو دیا گیا ہے وہ سرکاری ملازم رہ چکا ہے ڈی سی آفس میں۔۔۔۔

مجھے پھر میسج موصول ہوا میں نے میسج پڑھ کر مسکرا کر اس شخص کی طرف دیکھا جو بزنس مین تھا اور شایان کا والد تھا اور مسکرا کر بولا اسلام آباد مہمونکا ڈیری فارم۔۔۔۔

ڈی پی او صاحب کو اندازہ ہو چکا تھا کہ میں یہ نام کیوں لے رہا ہوں اس لیے انہوں نے کہا ۔۔۔

دیکھو صائم قانون کو ہاتھ میں نہ لینا اس کے نتائج بہت برے ہوں گے ۔۔۔۔

ان کی بات مکمل ہوتے ہی میں نے کہا جب قانون کے لمبے ہاتھ سکڑ جائیں تو کھینچنے پڑتے ہیں تاکہ وہ گناہگاروں کے گریبان تک پہنچ سکیں ۔۔۔۔

میں ان کو غصہ دلانا چاہتا تھا لیکن ہمارے ساتھ موجود جٹی ٹائپ لڑکی کا ہمیں نہیں پتہ تھا کہ وہ غصے میں آ جائے گی۔۔۔۔

اس نے بزنس مین بندہ جو وہاں موجود تھا اس سے کہا اپنے بیٹے کو سنبھال کر نہیں رکھ سکتے اگر اتنی ہی جوانی چڑھی ہوئی ہے تو اس کی شادی کروا دا۔۔۔۔

آج تو وہ بچ گیا پولیس آ گئی وہ بچ گیا ورنہ کسی دن اسی طرح اس کا قصہ تمام ہو گیا۔۔۔۔

وہ کاروباری آدمی ضرور تھا لیکن ایک نمبر کا حرامی تھا سالے نے کوئی بھی جواب نہ دیا ۔۔۔

پولیس افسران کی موجودگی میں کسی کو دھمکی دینے کا نتیجہ ہم جانتے تھے لیکن وہ اس سے واقف نہیں تھی۔۔۔

میں نے اس کو بولنے سے منع کیا اور کہا آپ سب لوگ بتائیں کیا چاہتے ہیں کیونکہ ہماری ڈیمانڈ وہی ہے ان سب لوگوں کو انجام تک پہنچایا جائے جو اس میں ملوث ہیں یا کو پشت پناہی کر رہے ہیں چاہے وہ کوئی بزنس مین ہو یا کوئی سرکاری عہدے دار۔۔۔۔

کافی دیر بحث چلتی رہی اس دوران بارش اور سفارش لوگوں نے ان کے اڈوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔۔۔

جب ان کی طرف سے تسلی ہو گئی کہ وہ لوگ اپنا کام مکمل کرکے نکل چکے ہیں تو ہم نے بست ختم کرنے کا سوچا۔۔۔

اعلیٰ حکام نے ہمیں یقین دہانی کروائی کہ وہ ہماری شرائط مانیں گے اور قرار واقعی سزا دیں گے۔۔۔۔

ہم باہر نکلے اور کھڑے ہو کر سب کو یقین دلایا کہ ہمارے مطالبات مان لیے گئے ہیں اور قصوروار لوگوں کو سزا دی جائے گی پولیس کی ٹیمیں چھاپے ماریں گی اور باقی لوگوں کو بھی گرفتار کریں گی جو اس سب کے پیچھے ہیں۔۔۔۔

یہ بات صرف ہم ہی جانتے تھے کہ ان کے پشت پناہوں کو کتنا نقصان پہنچ چکا ہے اور وہ ہمارے ساتھ اندر موجود تھے۔۔۔۔

سب سٹوڈنٹس کو سمجھا کر وہاں سے اپنے اپنے گھر جانے کا کہا۔۔۔

کالج کی کیںٹین کا ٹھیکا بدل دیا گیا تھا پولیس کی سکیورٹی لگوا دی گئی کسی بھی مرد کو کالج کے دورانیے میں کالج میں داخلے کی اجازت نہ دینے کا حکم نامہ جاری ہوا۔۔۔

سب لڑکیاں بہت خوش ہوئیں ہم سب وہاں سے اپنے اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے۔۔۔۔

میں نہیں جانتا تھا کہ اب ایک نیا پنگا شروع ہو گیا ہے جو کام ہم لوگ اتنا آسان سمجھ رہے تھے وہ اتنا آسان تھا نہیں ۔۔۔

جیسا لگ رہا تھا کہ سب کچھ خوش اسلوبی سے حل ہو گیا ہے ایسا نہیں تھا یہ تو شروعات تھیں ان سب لوگوں کے نئے محاذ کا جو شہر کے کرتا دھرتا بنے ہوئے تھے۔۔۔۔

بارش اور سفارش کا مجھے پتہ تھا وہ سب کچھ ختم نہیں کرتے تھے جو مال ہاتھ لگتا تھا لے جاتے تھے۔۔۔۔

میں ناصر اور شاہد کے ساتھ روانہ ہوا تھا رستے میں ناصر نے مجھے سمجھایا اب ذرہ سنبھل کر رہنا جو پنگا اب لے بیٹھے ہو اس کا ری ایکشن بہت خطرناک ہو گا۔۔۔۔

میں نے اس کی ہدایات پر عمل کرنے کا وعدہ کیا اور ان کو یقین دہانی کرائی کہ میں پورا پورا خیال رکھوں گا۔۔۔۔

ہم نے ایک ہوٹل پر کھانا کھایا اور پھر وہ لوگ اپنے گھروں کو روانہ ہو گئے اور میں اپنے گھر۔۔۔۔

گھر کے سامنے جا کر رکنے کی بجائے آگے بڑھ گیا کیونکہ مجھے شک ہوا کہ میرا پیچھا ہو رہا ہے۔۔۔۔

ایک لمبا چکر کاٹ کر جب میں واپس مڑا تو مجھے یقین ہو گیا کہ وہ سب میرا وہم ہے۔۔۔

میں نے گیٹ کھولا اور بائیک اندر کی دروازہ بند کیا اور نہانے کے لیے واش روم گھس گیا۔۔۔۔

نہا کر فارغ ہوا باہر نکلا الماری میں سے کپڑے نکالے اور پہننے لگا۔۔۔

اسی وقت باہر کی بیل بجی میں نے پسٹل اٹھا کر ہاتھ میں پکڑا دروازے کی طرف چل پڑا ، کیونکہ مجھے ناصر نے خیال رکھنے کا کہا تھا۔۔۔۔

دروازے کے پاس جا کر میں نے چھوٹا دروازہ کھولا تو سامنے وہی عورت کھڑی تھی کو آنٹی کے گھر میں ملی تھی۔۔۔۔

اس نے مسکرا کر میری طرف دیکھا اور اپنے پیچھے اشارہ کرکے کہا آجاؤ یہی گھر ہے۔۔۔۔

اس کے پیچھے سے ایک سلم سمارٹ لڑکی سامنے آئی جس کا فگر لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔۔۔

پتلی کمر بڑی گانڈ ابھرے ہوئے ممے سیکسی ہونٹ پیٹ تو جیسے تھا ہی نہیں۔۔۔۔

کپڑوں میں پھنسی ہوئی تھی اس کو دیکھ کر ہی لن نے جھٹکا کھایا۔۔۔

میں ایک طرف ہوا وہ دونوں اندر داخل ہوئیں اور چلتی ہوئی ڈرائننگ روم میں جا کر بیٹھ گئیں۔۔۔

میں بھی جا کر ان کے سامنے ایک صوفے پر بیٹھ گیا اور ان کی شکلیں دیکھنے لگا۔۔۔۔

وہ بھی چپ چاپ بیٹھی تھیں میں نے ہی ان سے پوچھا جی فرمائیں کس سلسلے میں آنا ہوا۔۔۔۔

اس لڑکی نے میری طرف دیکھا اور بولی میں سیدھی کام کی بات کرتی ہوں۔۔۔

میں نے کہا جی کریں۔۔۔

اس نے کہا تمہارا ایک دوست انڈیا گیا ہے اس سے رابطے میں ہو یا نہیں۔۔۔۔

میں نے چونک کر اس کی طرف دیکھا اور پوچھا کیا مطلب ۔۔۔۔

وہ مسکرا دی جب مسکرانے کے لیے اس کے لب کھلے تو ایسا لگا جیسے اس نے میرے لن کا چوپا لگانے کے لیے منہ کھولا ہو۔۔۔۔

میں نے اپنے دماغ میں آئے اس خیال کو نکالا ۔۔۔

پتہ نہیں مجھے کیا ہو رہا تھا پہلے تو کبھی ایسا نہیں ہوا تھا کہ کسی لڑکی کو دیکھ کر میرا یہ حال ہوا ہو ایسی سوچ کبھی نہیں آئی تھی۔۔۔۔

اس نے کہا وہی عابد باکسر جس کو تم لوگوں نے بارڈر کراس کروایا تھا ۔۔۔۔

میں نے ہنستے ہوئے کہا کمال ہو گیا ویسے میرا دوست ہے مجھے ہی نہیں پتہ کہ میں نے اس کو بارڈر کراس کروا دیا ہے ۔۔۔

اس نے بڑی گہری نظروں سے مجھے دیکھا اور بولی ارے یار اتنی سی بات تیری سمجھ میں نہیں آ رہی۔۔۔۔

پھر یکدم اس کا لہجہ تبدیل ہو گیا لیکن میرا ماتھا ٹھٹھک چکا تھا اس کا لہجہ اس بات کی چغلی کھا رہا تھا کہ وہ کسی اور مقصد سے میرے پاس آئی ہے۔۔۔۔

اس کے ساتھ والی عورت نے کہا بلو بیٹا یہ ہماری آفیسر ہیں انڈیا میں ان کا رابطہ رہتا ہے جو ہمارے ایجنٹس وہاں جاتے ہیں ان کی کمانڈ یہ سنبھال رہی ہیں۔۔۔۔

میں نے کہا اوہ اچھا لیکن عابد باکسر تو جیل میں تھا میری آخری بار کی معلومات کے مطابق یہ کہہ رہی ہیں کہ وہ بارڈر کراس کر گیا ہے۔۔۔۔۔

اس نے کوئی بات نہ کی اور اٹھ کھڑی ہوئی اور مجھ سے پوچھا واش روم کہاں ہے۔۔۔

میں نے اشارے سے واش روم کا بتایا وہ واش روم چلی گئی۔۔۔۔

اس کے جاتے ہی اس سمارٹ لڑکی نے میری طرف جھکتے ہوئے بڑے رازدارانہ انداز میں کہا یہ تو صرف پیادہ ہے میری بات پر غور کرنا میں تمہیں اتنا سب کچھ دوں گی کہ تم ساری زندگی بیٹھ کر کھاؤ گے تو بھی ختم نہیں ہوگا۔۔۔۔۔

میں نے اس کے سینے میں دیکھا تو اس کے ممے باہر کو امڈ رہے تھے۔۔۔

بڑے بڑے مموں کی کلیویج بھی اتنی ہی گہری تھی ۔۔۔۔

مموں کا نرم پن تک محسوس ہو رہا تھا میرے لن نے انگڑائی لی لیکن میں اس پر بھروسہ نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔

اس نے ایک ٹانگ اٹھا کر دوسری پر رکھی اور اپنی موٹی موٹی گانڈ کا درشن کروانے لگی۔۔۔۔

میں نے مسکرا کر کہا دیکھیں جو مرضی دکھا لیں مجھے کوئی فائدہ نہیں۔۔۔۔

جب میں کچھ جانتا ہی نہیں تو کیسے بتا سکتا ہوں میرا تو اس سے کسی قسم کا رابطہ ہی نہیں ہے۔۔۔۔

جب وہ جیل گیا تھا اس وقت مجھے کسی نے اطلاع دی تھی کہ اس کو سزا ہو گئی ہے اس کے بعد کا مجھے کچھ علم نہیں ۔۔۔۔

اس ہنستے ہوئے کہا مطلب اگر میں تمہیں کوئی بھی آفر کروں تو بھی تمہیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔۔۔۔

میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا اگر میں نے کچھ دکھایا تو تمہیں فرق پڑ جائے گا ۔۔۔۔

اس نے زوردار قہقہ لگایا اور بولی تم ابھی بچے ہو تم کچھ نہیں جانتے میں کیا کچھ دیکھ چکی ہوں۔۔۔۔

میرا لن فل ٹائٹ ہو چکا تھا اس کا جسم ہی ایسا تھا اس کو دیکھ کر ہی گانڈ میں لن گھسانے کو دل کرتا تھا ۔۔۔۔۔

وہ آگے کو جھکی اور بولی چلو دکھاؤ میں بھی دیکھوں تمہیں کس چیز پر اتنا غرور ہو رہا ہے۔۔۔۔

میں نے ٹراوزر کو تھوڑا سا نیچے کیا اور کھڑا ہو کر اس کے بالکل سامنے چلا گیا۔۔۔۔

لن انڈرویئر میں تھا میں نے اس کے پاس جا کر لن نکال دیا۔۔۔۔۔

شیش ناگ کی طرح لن جھٹکے سے باہر نکلا اور اس کے چہرے سے جا ٹکرایا۔۔۔۔

لن دیکھ کر اور اس طرح لہرا کر اس کے منہ سے ٹکراتے دیکھ کر اس لو زوردار جھٹکا لگا۔۔۔۔۔

میں ہنسنے لگا اور اس سے کہا کیوں لگا ناں جھٹکا۔۔۔۔

وہ آنکھیں پھاڑ کر میرا لن دیکھ رہی تھی اس نے کئی بار سر اٹھا کر میرا چہرہ دیکھا اور پھر لن دیکھا اس کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ میرا لن اتنا بڑا ہو سکتا ہے۔۔۔۔

اس نے ہاتھ لگا کر لن کو پکڑنا چاہا تو میں پیچھے ہو گیا اور لن کو انڈروئیر میں ڈال کر ٹراوزر اوپر کر لیا۔۔۔۔

میں واپس صوفے پر آ کر بیٹھ گیا اور اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔

اس کے چہرے پر ہوس سوار تھی اس کو دیکھ کر لگ رہا تھا کہ وہ ابھی اسی وقت لن کو منہ میں لینا چاہتی ہے۔۔۔۔

اسی دوران وہ عورت واش روم سے نکل آئی اور آ کر اس کے پاس بیٹھ گئی اس نے غور سے اس کا چہرہ دیکھا ۔۔۔

دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور اشارہ کیا لڑکی نے اس کو کہا چلیں ۔۔۔۔

عورت نے حیرانی سے اس کی طرف دیکھا جیسے اس کو یقین نہ آ رہا ہو۔۔۔

جب وہ لڑکی کھڑی ہوئی تو عورت کو بھی مجبوراً کھڑا ہونا پڑا وہ دونوں باہر نکل گئیں ۔۔۔۔

میں ان کے پیچھے گیا اور دروازہ بند کر لیا ۔۔۔۔

مجھے ان دونوں پر شک ہوا کہ یہ دونوں ہماری ایجنسی سے نہیں ہیں ان کا تعلق ضرور انڈیا سے ہے۔۔۔۔

لڑکی پر تو مجھے سو فیصد یقین ہو گیا تھا کہ وہ پاکستانی نہیں ہے جب کہ عورت پر شک تھا۔۔۔۔

میں نے آنٹی کے دئیے ہوئے کپڑوں کو اور الماری کو الٹ پلٹ کر دیکھا تو مجھے ایک وائرلیس جیسا فون مل گیا۔۔۔۔

میں نے اس کو الٹ پلٹ کر دیکھا ایک بٹن دبا دیا فوراً آن ہو گیا اور اس پر ٹوں ٹوں ہونے لگی۔۔۔۔

میں نے پھر دوسرا بٹن دبایا تو گییں گییں کی آواز آئی اور چند سیکنڈ بعد دوسری طرف سے آواز آئی۔۔۔۔

الفا ۔۔۔۔الفا۔۔۔۔

میں نے کہا آج میرے پاس دو عورتیں آئی تھیں ابھی ابھی یہاں سے نکلی ہیں مجھے ان پر شک ہے کہ وہ انڈین ایجنٹ ہیں۔۔۔

دوسری طرف چند لمحے خاموشی رہی پھر آواز آئی ایجنٹ شمیم کہاں ہیں۔۔۔اوور۔۔۔

میں نے کہا وہ تو یہاں سے چلی گئی تھیں ان کی جگہ کوئی اور مجھے ملی تھی وہی عورت ایک لڑکی کو لے کر آئی تھی۔۔۔۔

دوسری طرف سے بولنے والا آفیسر تھا اس نے کہا آپ صائم ہو ۔۔اوور۔۔

میں نے اس کی کاپی کرتے ہوئے کہا جی میں صائم ہوں۔۔۔اوور۔۔۔

آفیسر نے کہا گڈ، آپ اس سیٹ کو اپنے پاس رکھیں آپ سے ابھی آفیسر رابطہ کریں گے آپ اس لڑکی کو کسی طرح ورغلا کر اپنے پاس آنے پر مجبور کریں اکیلے میں، آپ یہ کام بخوبی کر سکتے ہیں۔۔۔اوور۔۔۔

میں نے کہا اوکے سر۔۔۔اوور۔۔

آفیسر نے کہا ابھی وہ زیادہ دور نہیں گئی ہوں گی آپ اپنے کام پر لگ جائیں آپ اپنے وطن کے لیے یہ کام کریں گے، میں آپ کے رابطے کا انتظار کروں گا۔۔۔اوور اینڈ آل۔۔۔

اس سے پہلے کہ میں کچھ بولتا وہ سیٹ بند ہو گیا۔۔۔

چند لمحے میں سوچتا رہا پھر جلدی سے سیٹ کو بند کرکے چھپا دیا اور بائیک نکال کر اس کے پیچھے چل پڑا۔۔۔۔

وہ دونوں پیدل ہی آئی تھیں اس لیے میں نے ان کو ٹاؤن کے گیٹ سے پہلے ہی جا لیا اور انہیں ساتھ بیٹھے کی آفر کی۔۔۔۔

وہ دونوں مجھے وہاں دیکھ کر حیران تو ہوئیں لیکن لڑکی نے جلدی سے عورت سے کہا آنٹی آ جائیں یہ ہمیں چھوڑ دے گا۔۔۔۔

لڑکی یہ کہہ کر میرے پیچھے دونوں طرف ٹانگیں کرکے بیٹھ گئی۔۔۔

آنٹی کو بھی بیٹھنا پڑا میں نے پوچھا کہاں جانا ہے۔۔۔

لڑکی نے میرے کان کے قریب منہ لا کر کہا مجھے وہاں لے چلو جہاں کوئی بھی نہ ہو جہاں صرف تم اور تمہارا ہتھوڑے جیسا گھوڑا ہو۔۔۔۔

میں نے گردن گھما کر اس کے منہ کے قریب منہ کیا اور کہا میں بھی ایسا چاہتا ہوں لیکن اس کھوسٹ سے پیچھا چھڑواو۔۔۔۔

اس عورت نے شاید یہ بھانپ لیا تھا اس نے کہا مجھے کوئی رکشہ کروا دینا میں گھر چلی جاؤں گی اس کو کہو تمہیں تمہارے گھر اتار دے۔۔۔۔

وہ دونوں پیچھے بیٹھ چکی تھیں میں ان کو لے کر چل پڑا ٹاؤن سے تھوڑا دور آ کر رکشہ مل گیا آنٹی رکشے پر بیٹھ گئی۔۔۔

اس کے بعد میں نے پوچھا اب بتاؤ کہاں چلیں۔۔۔

اس نے کہا پہلے تو میری بھوک مٹاؤ پیٹ میں چوہے دوڑ رہے ہیں۔۔۔

میں نے جیب میں ہاتھ مارا تو پتہ چلا کہ جلدی میں پرس اور موبائل دونوں گھر بھول آیا ہوں۔۔۔۔

اس نے میری مجبوری سمجھ لی اور کہا چلو چھوڑو ابھی کہیں گھومنے چلتے ہیں۔۔۔

میں نے بائیک شہر کے ساتھ والی نہر کی طرف گھما دی۔۔۔۔

وہ میرے ساتھ چپک کر بیٹھی تھی اس کے موٹے موٹے تھن میری کمر میں چبھ رہے تھے اور میرا لن دہائیاں دے رہا تھا۔۔۔۔

نہر کنارے ہم گھاس پر بیٹھ گئے تو اس نے کہا تمہیں دیکھ کر لگتا نہیں کہ ٹانگوں میں اتنا بڑا سانپ لیے گھوم رہے ہو۔۔۔۔

میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا یہ سانپ تو جو ہے سو ہے لیکن تمہیں دیکھ کر میری جو حالت ہو رہی ہے وہ بتا نہیں سکتا۔۔۔۔

تم پوری کی پوری قیامت ہو تمہیں دیکھ کر میرے دل میں جو پہلا خیال آیا وہ یہ ہی تھا کہ ابھی تمہارے جسم کے ساتھ کھیلنا شروع کر دوں۔۔۔

ایسا قیامت خیز جسم ہے تمہارا کہ اچھے اچھوں کا چھوہارا بھی لن بن جائے۔۔۔۔

وہ مسکرا دی اور کہا باتیں تو بہت بڑی بڑی کر لیتے ہو ہتھیار بھی تگڑا ہے لڑکیوں میں بہت مشہور ہو گے تم۔۔۔۔

میں نے کہا کہاں لڑکیوں میں مشہور ہونا ہے کبھی کبھار جو مل جائے تو دوبارہ ملتی ہی نہیں کنواری لڑکیاں جو پہلی بار کرتی ہیں دوبارہ دینے سے انکار کر دیتی ہیں۔۔۔۔

کئی بار تو ایسا بھی ہوا ہے کہ لن دیکھ کر ہی ڈر جاتی ہیں اور دوبارہ شکل بھی نہیں دکھاتیں۔۔۔۔

اس نے عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھا اور کہا تم کتنے ایڈوانس ہو مجھے یقین نہیں ہو رہا کہ یہاں بھی ایسے لڑکے ہیں جو سیدھی اور صاف بات کرتے ہیں وہ بھی کھل کر ۔۔۔۔

میں نے مسکرا کر کہا اس لیے کر رہا ہوں کہ کہیں بعد میں تم بھی ان لڑکیوں کی طرح دینے سے انکاری نہ ہو جاؤ اور میں پھر ہاتھ استعمال کرتا پھروں پہلے ہی دکھا دیا ۔۔۔۔

جب دیکھا کہ تم دیکھ کر ڈرنے کی بجائے خوش ہوئی ہو تو میری ہمت بڑھی اگر وہ آنٹی نہ ہوتی تو میں نے وہیں تمہیں نیچے رکھ لینا تھا۔۔۔۔

اس نے میرے کندھے پر ہلکا سا تھپڑ مارا اور کہا کتنے بڑے حرامی ہو تم ایسے ہی نیچے رکھ لینا تھا نہ کوئی جان پہچان اور نہ ہی کوئی تعلق۔۔۔

میں نے کہا یہ ہی تو سب سے بڑا فائدہ ہوتا ہے جہاں جان پہچان نہ ہو بندا کھل کر بول سکتا ہے میں نے لینی ہے ورنہ ایک لفظ بولنے کے لیے بھی ڈرنا پڑتا ہے۔۔۔۔

کئی طرح کے ڈر ہوتے ہیں اگر برا مان گئی تو، اگر ناراض ہو گئی تو , اگر اس نے کسی کو بتا دیا تو، وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔

شام ہو رہی تھی اس نے کہا چلیں میں نے بھی سوچا چلتے ہیں آج اس کی چوت کا بھی مزہ چکھ لیتے ہیں۔۔۔۔

ویسے بھی لن نے ذلیل کر رکھا تھا کھل کر وجانے کا موقع نہیں ملا تھا تہمینہ کی لی تھی لیکن اتنی جلدی میں کیا کہ چس نہ آئی۔۔۔۔

جب لڑکی سامنے سے آگر کروا رہی ہو تو لن کو بھی بڑی جلدی چڑھ جاتی ہے اس لیے میں اٹھا بائیک سٹارٹ کی۔۔۔

وہ اچھل کر میرے پیچھے بیٹھ گئی اب وہ ایک طرف ٹانگیں کرکے بیٹھی تھی اس کا ایک مما میرے ساتھ لگا ہوا تھا۔۔۔۔

بالکل میرے ساتھ چپک کر بیٹھی تھی میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔۔۔

میں بڑی آہستہ آہستہ بائیک چلاتے ہوئے گھر کی طرف جا رہا تھا تاکہ اندھیرا پھیل جائے۔۔۔۔

جب ہم ٹاؤن میں داخل ہوئے تو اندھیرا کافی ہو چکا تھا میں نے گھر کے سامنے بائیک روکی اس کو چابی دی اس نے جلدی سے دروازہ کھولا میں بائیک اندر لے گیا۔۔۔۔

میرے بائیک کھڑی کرنے تک وہ اندر جا چکی تھی ۔۔۔

بائیک کھڑی کرکے گیٹ کو لاک کیا اور پھر اندرونی دروازے کو بھی لاک کر دیا۔۔۔۔

میں جب ٹی وی لاونج میں داخل ہوا تو وہ صوفے پر ہاتھ رکھے جھکی ہوئی تھی اس کے ممے قمیض میں سے باہر کو جھانک رہے تھے۔۔۔۔

اس نے کہا کھانا پہلے کھاؤ گے یا پہلے لگاؤ گے۔۔۔۔

میں نے اس کے مموں کو دیکھتے ہوئے کہا میں تو پی کر ہی بھوک مٹا لوں گا تم کھاؤ گی یا چوسو گی۔۔۔۔

وہ ایک دم سیدھی ہوئی اور بھوکی شیرنی کی طرح میری طرف بڑھی اور مجھے آ کر پکڑا اور میرے گلے میں باہیں ڈال دیں۔۔۔۔۔

جب وہ میرے گلے لگی تو اس کے ممے ایسے دب گئے جیسے فٹ بال درمیان میں آگیا ہو۔۔۔۔

میں نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا اور اس کو کھینچ کر قریب کر لیا ۔۔۔۔

ممے بڑے ہونے کی وجہ سے میرا لن اس کی پھدی تک نہیں پہنچ پا رہا تھا۔۔۔۔

اس نے یہ مشکل آسان کر دی میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھتے ہوئے اس نے ایک ٹانگ اٹھا کر میری کمر کے گرد لپیٹ لی۔۔۔۔

وہ کسی ماہر پورن سٹار کی طرح میرے ہونٹ چوس رہی تھی۔۔۔

اس کی زبان میرے منہ میں گھس چکی تھی نیچے سے پھدی کو لن کے ابھار پر رگڑ رہی تھی۔۔۔

ہونٹ چوم کر وہ نیچے کو ہوئی اور میری شرٹ اتار دی ۔۔۔

پھر نیچے بیٹھ کر اس نے ٹراوزر کو نیچے کیا اور لن باہر نکال لیا۔۔۔

لن کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر دیکھنے لگی۔۔۔

پھر اس نے لن کو اوپر کیا اور لن کے نیچے لٹکتے ٹٹوں پر زبان رکھ دی اور چاٹنے لگی۔۔۔۔

وہ اپنی زبان نکال کر ٹٹے چاٹ رہی تھی اور لن کی مٹھ مار رہی تھی۔۔۔۔

دو منٹ تک ایسے کرنے کے بعد اس نے مجھے صوفے پر گرایا اور ٹراوزر اتار دیا۔۔۔۔

پھر انڈروئیر بھی اتار دیا اور لن کے سامنے بیٹھ کر لن کی ٹوپی پر منہ رکھ دیا اور میری طرف دیکھ کر مسکرانے لگی۔۔۔۔

اس نے زبان نکالی اور لن کی آنکھ میں پھیرنے لگی۔۔۔

میرے پورے جسم میں کرنٹ دوڑنے لگا، میرا جسم کانپ اٹھا۔۔۔

میں نے اٹھ کر اس کے سر کو لن پر دبانا چاہا تو اس نے مجھے واپس دھکیل دیا۔۔۔۔

پھر اس نے وہی عمل کچھ دیر دہرایا اور اس کے بعد زبان کو ٹوپی پر گھمانے لگی اس کی نظریں میرے چہرے پر جمی تھیں۔۔۔۔

میں اس کے اس طرح کرنے سے تڑپ رہا تھا اس کے انداز میں کمال کا سیکس بھرا ہوا تھا۔۔۔

ٹوپی کو چاٹنے کے بعد اس نے لن کے نیچے کے دائرے کو اردگرد سے چاٹنا شروع کر دیا۔۔۔۔

اس کے ہاتھ میرے پیٹ پر رینگنے لگے تھے اور زبان سیدھے کھڑے جھٹکے کھاتے لن پر پھر رہے تھے۔۔۔۔

اس کے بعد اس نے چہرہ اٹھایا اور میری طرف دیکھتے ہوئے میری ٹانگوں میں لیٹ گئی۔۔۔۔

لیٹ کر اس نے دوبارہ سے وکی عمل دہرانا شروع کر دیا۔۔۔

لن کو ہاتھ میں پکڑ کر اوپر کیا اور ٹٹوں کو زبان سے چاٹتے ہوئے لن کے نیچے والے حصوں کو چاٹنے لگتی اور پھر نیچے جاتی۔۔۔۔

اس کا انداز بھوکی شیرنی کی طرح تھا ٹوپی کے نیچے والے حصے پر جب اس کی زبان پہنچتی تو میرا جسم کانپ کر رہ جاتا۔۔۔۔

وہ اپنی زبان کا جادو لن پر دکھا رہی تھی اور میرا جسم کانپ رہا تھا ۔۔۔

ابھی تک اس نے چوپے لگانے شروع نہیں کیے تھے اور مجھے لگنے لگا تھا کہ میں ایسے ہی فارغ ہو جاؤں گا۔۔۔۔

اگلے ایک منٹ میں وہ لن کی ٹوپی کو منہ میں لے چکی تھی۔۔۔۔

صرف ٹوپی کو ہونٹوں میں لے کر اس کو چوسنے لگی۔۔۔۔

اس کی زبان بھی ٹوپی پر گھوم رہی تھی میرا لن بھی آج مزی چھوڑ رہا تھا جس کو وہ چاٹ رہی تھی۔۔۔۔

بار بار لن کو منہ سے نکال کر وہ زبان ہونٹوں پر پھیرتی اور مجھے زبان نکال کر دکھاتی۔۔۔۔

میں تو مزے سے پاگل ہونے لگا تھا میں نے کبھی خواب میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔



Source link

Leave a Comment