میں ایک طرف پڑے سنگل صوفے پر بیٹھ گیا ۔۔۔
آنٹی نے بڑے ہی اچھے انداز سے میرا حال چال پوچھا۔۔۔
میں نے بڑے مؤدبانہ انداز سے جواب دیا ۔۔۔
آنٹی نے میرے امی ابو کے بارے میں پوچھا جو میں نے بتا دیا ۔۔۔
انہوں نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے مجھے بتایا کہ وہ مہتاب اور رباب کی والدہ ہیں اور ہاوس وائف ہیں جبکہ ان کے شوہر سول سروس میں ہیں ۔۔۔۔
کچھ دیر بعد انہوں نے ملازمہ کو آواز دے کر بلایا اور میرے لیے کچھ پینے کو لانے کا کہا میں نے اخلاقاً ان کو روکنے کی کوشش کی تو انہوں نے مجھے یہ کہہ کر چپ کروا دیا کہ تکلف کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
ملازمہ میرے لیے جوس لے آئی تو اس کو کہا کہ مہتاب کو بتاؤ اس کا مہمان آ گیا ہے۔۔۔
میں چھوٹے چھوٹے سپ لے کر جوس پیتا رہا ۔۔۔
جوس ختم کرکے گلاس رکھا ہی تھا کہ کمرا خوشبو سے مہک اٹھا۔۔۔
میں نے نظر اٹھا کر دیکھا تو رخ مہتاب سامنے پایا۔۔۔
وہ سچ میں مہتاب کہلوانے کے لائق تھی اس کا چہرہ مہتاب کی طرح دمک رہا تھا۔۔۔
سادہ سے ٹراؤزر شرٹ میں وہ معصوم سی بچی لگ رہی تھی۔۔۔
میرے پاس آئی میں احتراماً کھڑا ہو گیا اس نے ہاتھ بڑھایا میں لرزتے ہاتھ سے اس کا ہاتھ تھام لیا۔۔
اس چند سیکنڈ کے لمس سے میرے پورے شریر میں بجلی کی لہریں دوڑ گئیں۔۔۔
وہ میرے پاس والے صوفے پر بیٹھ گئی اور میرا حال چال پوچھنے لگی۔۔۔
اس کے آنے کے بعد آنٹی اور انکل دونوں اٹھ کر اندر چلے گئے۔۔۔
ان کے جانے کے بعد رباب بھی آ کر ہمارے پاس بیٹھ گئی اس کا چہرہ کھل رہا تھا بڑی خوش نظر آ رہی تھی۔۔۔
رباب نے خوش ہوتے ہوئے کہا صائم یار مجھے تو یقین ہی نہیں آ رہا کہ تم ہمارے گھر آئے ہو ۔۔۔
اس نے کہا جب مجھے آپی نے آپ کے بارے میں بتایا تو میرے دل میں آپ کے لیے جو امیج پہلے ملاقات میں بن چکا تھا ایک دم چکنا چور ہو گیا۔۔۔
میں اس کی بات سن کر ڈبل مائنڈ ہو گیا اس کی بات کا مطلب کیا ہے وہ کہنا کچھ چاہتی ہے اور کہہ کچھ اور رہی ہے۔۔۔۔
اس کا انداز کچھ کہہ رہا تھا الفاظ کسی اور طرف اشارہ کر رہے تھے۔۔۔
مجھے الجھا دیکھ کر اس نے ہنستے ہوئے کہا جب آپ کو گیلری میں دیکھا تھا اور آپ مجھے گھور رہے تھے تو میں سمجھی تھی کہ آپ کوئی ۔۔۔۔۔
سوری اگر میری بات بری لگے تو جو سچ ہے جو میں میں نے سوچا وہ بتا رہی ہوں۔۔۔
آپ کے دیکھنے کے انداز سے مجھے لگا تھا کہ آپ کوئی لوفر قسم کے لڑکے ہیں۔۔۔۔
مہتاب نے اس کو گھورتے ہوئے کہا رباب بولنے سے پہلے سوچ لیا کرو ۔۔۔
رباب نے کھسیا کر کہا آپی جو سچ ہے وہ ہی بولا ہے۔۔۔
میں نے مہتاب کو کہا کوئی بات نہیں جو اس کو لگا اس نے کہہ دیا مجھے بالکل بھی برا نہیں لگا اس کے دل میں جو تھا اس نے بتا دیا ایسے لوگ خالص ہوتے ہیں ۔۔۔۔
مہتاب نے کہا صائم کس مقصد کے لیے میں نے تمہیں یہاں بلایا ہے وہ بات کرتے ہیں۔۔۔
پھر وہ رباب کی طرف متوجہ ہوئی اور اس کو کہا رباب تم اندر جاؤ ۔۔۔
رباب نے برا سا منہ بناتے ہوئے کہا آپی یہ ناانصافی ہے صائم میرا کلاس فیلو ہے میں نے اس کو بلایا ہے اور آپ مجھے ہی اندر بھیج رہی ہیں۔۔۔۔
رباب نے اپنی بات کہہ بھی دی لیکن رکی نہیں بلکہ اندر چلی گئی۔۔۔
اس کے جانے کے بعد مہتاب نے کہا صائم بات بہت بڑی ہے مجھے پتہ ہے اور یقین ہے کہ صرف تم ہی یہ کر سکتے ہو۔۔۔۔
میں سوالیہ انداز سے اس کی طرف دیکھ رہا تھا ۔۔۔
مہتاب نے کہا دیکھو صائم یہاں جو جیسا نظر آتا ہے وہ ویسا نہیں ہوتا ہر کوئی اپنے چہرے پر نقاب چڑھائے ہوئے ہے۔۔۔
میں نے کہا آپ بلکل صحیح کہہ رہی ہیں میں نے اب تک کی زندگی میں کئی ایسے چہرے دیکھ لیے ہیں جن کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ وہ کوئی غلط کام بھی کر سکتے ہیں جب کہ وہ اندر ہی اندر پتہ نہیں کیا کچھ کر رہے تھے۔۔۔۔
اس نے کہا بالکل ایسا ہی ہے تم جو کچھ کر رہے ہو میں نے سب کچھ ممی اور پاپا کو بتایا ہوا ہے وہ بھی تمہارے بارے میں سب جانتے ہیں۔۔۔
میں نے مشکور نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
مہتاب نے کہا بات یہ ہے کہ جس کالج میں ابھی تم پڑھ رہے ہو اور میں پڑھا رہی ہوں اس کا پرنسپل ایک نمبر کا کمینہ ہے۔۔۔
میں نے کہا کیا مطلب اس نے آپ کو کچھ کہا۔۔۔
مہتاب نے کہا میرے پاپا کی وجہ سے اس کی ہمت نہیں ہوتی کہ مجھے کچھ کہے ۔۔۔
میں نے کہا پھر۔۔۔
مہتاب نے کہا ہماری ایک کولیگ ہے بے چاری غریب گھرانے سے تعلق رکھتی ہے مجبور ہے اس نے اس کی مجبوری کا فائدہ اٹھایا اور اس کی تصاویر بنا لیں۔۔۔۔
ہم باتیں کر رہے تھے کہ ایک آواز آئی مہتاب آپی مما کہہ رہی ہیں کہ کھانا کب لگوائیں۔۔۔
میں نے نظریں اٹھا کر دیکھا تو مجھے حیرت کا جھٹکا لگا۔۔۔
یہ تو وہی لڑکی تھی جس کو رات میں نے گاڑی میں ایک لڑکے کے لن کے نیچے مچلتے دیکھا تھا۔۔۔۔
اس نے بھی مجھے پہچان لیا تھا اس کے چہرے کا رنگ اڑ گیا وہ میری طرف حیرانی سے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
میں نے نفی میں سر ہلایا اس کو سمجھانے کی کوشش کہ کوئی ایسا ردعمل ظاہر نہ کرے جس سے مہتاب کو شک ہو۔۔۔
مہتاب نے کہا عنذا کیا ہوا تم صائم کو جانتی ہو۔۔۔
اس نے کہا ہاں ۔۔ میرا مطلب نہیں لیکن لگ رہا ہے جیسے ان سے پہلے مل چکی ہوں۔۔۔۔
مہتاب نے ہنستے ہوئے کہا اچھا ہر ایک کو ہی ایسے لگتا ہے جیسے صائم کو جانتا ہے ۔۔۔
تم مما سے کہو کہ میں خود لگا لوں گی ابھی بھوک نہیں ہے اور صائم بھی کھانا کھا کر جائے گا۔۔۔۔
وہ جی آپی کہتے ہوئے نکل گئی۔۔۔
عنذا یہ نام میرے دماغ میں محفوظ ہو گیا تھا ۔۔۔
مہتاب نے کچھ لمحے چپ رہنے کے بعد پھر کہنا شروع کیا ۔۔۔
اس کا ابو بیمار تھے اسے پیسوں کی ضرورت تھی اس نے ایڈوانس تنخواہ مانگی اس کو مل گئی۔۔۔
کچھ عرصہ وہ تھوڑے تھوڑے کرکے کٹوتی کرواتی رہی پھر ایک دن اچانک اس کے ابو کو ہارٹ اٹیک آیا ۔۔۔
وہ بیچاری دو دن تک کالج نہ آسکی اس نے چھٹی کی اپلیکیشن بھی دی لیکن پرنسپل نے اس کو کالج سے نکالنے دھمکی دی۔۔۔۔
وہ ڈر گئی اس کے گھر میں کمانے والا کوئی نہیں ہے وہ ہی اپنے ماں باپ کا سہارا ہے اس نے بڑی منتیں کیں۔۔۔
پرنسپل نے اس سے اس کی ساری کتھا سنی اس پر ایسے ظاہر کیا جیسے وہ اس کا احساس کر رہا ہے۔۔۔
وہ اس کے باپ سے بھی ملا نا صرف اس کو کالج میں رکھ بلکہ اس کے ابو کا علاج بھی کروایا۔۔۔۔
اس کے گھر والے اس لے معترض ہو گئے امی اور ابو اس کی تعریفیں کرتے نہیں تھکتے تھے۔۔۔۔
ایک دن پرنسپل نے اس کو اپنے دفتر میں بلایا اور اسے پرپوز کر دیا۔۔۔
وہ خوش بھی تھی اور حیران بھی تھی کہ اچانک اس کو ہی کیوں اور بھی تو کئی گی میل پروفیسرز ہیں۔۔۔۔
ایک سے بڑھ کر ایک حسین ہے اس نے صرف پرپوز نہیں کیا بلکہ شادی کی آفر بھی کر دی تھی۔۔۔
بس یہیں پر وہ مار کھا گئی کوئی بھی جو غریب گھرانے سے ہو جن کے حالات اتنے خراب ہوں کہ اس کی تنخواہ کے علاوہ کوئی ذریعہ نہ ہو , وہ ایسی آفر سن کر فوراً ہی راضی ہو جائے گی۔۔۔۔
بس اسی بارے نے مہرو کو مجبور کر دیا کہ وہ اس کی بات مان جائے۔۔۔
کچھ ہی دنوں میں وہ آپس میں کافی گھل مل گئے تھے۔۔۔
اکثر وہ مہرو کو اس کے گھر چھوڑنے جاتا اس کے امی ابو کو بھی اس نے اپنے جال میں پھنسا لیا۔۔۔۔
وہ آپس میں اتنا قریب آ گئے کہ سب حدیں پار کر گئے مہرو کیا جانتی تھی کہ وہ اس کو صرف اپنے مقصد کے لیے ڈھال رہا ہے۔۔۔
اس نے اپنی اور اس کی ویڈیوز اور تصاویر بنا لیں جن میں وہ آپس میں نازیبا حرکات کر رہے ہیں۔۔۔۔
بس تب سے لے کر اب تک وہ اس کے ساتھ سب کچھ کر رہا ہے نہ اس سے شادی کرتا ہے اور نہ ہی اس کو چھوڑتا ہے۔۔۔۔
اب اس کے نشانے پر ایک اور لڑکی ہے جو نئی آئئ ہے اس کو میں نے سمجھایا بھی ہے لیکن وہ بھی مجبور ہے۔۔۔
میرا دماغ گھوم رہا تھا سچ کہا ہے کسی نے ایک بار جس طرف قدم اٹھ جائیں تو پھر واپسی ممکن نہیں ہوتی۔۔۔۔
میں نے مہتاب سے کہا آپ اس دوسری لڑکی کو بھی مدد درکار ہو مجھے بتا دیں اس کو بچانا میری ذمہ داری ہے۔۔۔
مہرو صاحبہ کے ساتھ جو ہوچکا اس کو واپس تو نہیں لوٹایا جا سکتا لیکن اس کا حساب چکتا کر دوں گا نا صرف حساب چکتا ہو گا بلکہ جان بھی چھوٹ جائے گی۔۔۔۔
رہی بات پرنسپل کی تو وہ بے چارہ کچھ بھی نہیں کر سکتا مجھے پہلے دن بلا کر ڈرا رہا تھا وہ میرے بارے میں غلط فہمی کا شکار ہے۔۔۔۔
مہتاب نے کہا اس نے سارے سٹاف کو تمہارے بارے میں غلط فہمی میں مبتلا کیا تھا جب سٹاف روم میں ان کو میں نے تمہارے بارے میں بتایا تو مجھے پتہ چلا کہ ان کو پرنسپل کی طرف سے ہدایات ہیں کہ تمہیں دبا کر رکھا جائے اگر تمہیں ڈھیل دی گئی تو کالج کا ماحول خراب کر دو گے اور تو اور اس نے تمہارے اوپر کئی قسم کے کیسز کا بھی ذکر کیا۔۔۔۔
میں ہنسنے لگا۔۔۔
مہتاب نے کہا میں نے ان کو بتایا کہ اگر اتنے کیس ہیں تو پھر کالج میں ایڈمیشن کیوں دیا گیا۔۔۔۔
بڑی مشکل سے سب کو یہ باور کرایا کہ تم وہ نہیں ہو جو ان کو بتایا گیا ہے۔۔۔
میں نے مہرو کا اور دوسری پروفیسر کا ایڈریس لیا اور مہتاب کو اس معاملے سے دور رہنے کا کہا اور ساتھ یقین بھی دلا دیا کہ وہ اس بات کا کسی سے کوئی ذکر نہ کرے۔۔۔۔
اس کے بعد وہ اٹھی اور مجھے کہا تم بیٹھو میں مہتاب کو بھیجتی ہوں۔۔۔
وہ اندر چلی گئی اس کے جاتے کی عنذا اندر داخل ہوئی ۔۔۔
وہ ادھر ادھر دیکھ کر بولی پلیز آپی کو کچھ مت بتانا۔۔۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا اگر میں نے بتانا ہوتا تو اب تک بتا چکا ہوتا۔۔۔۔
ویسے بھی مجھے لگتا ہے وہ لڑکا تمہیں بیوقوف بنا رہا ہے ۔۔۔
اس نے سر جھکا لیا اور بولی آپ صحیح کہہ رہے ہیں میں اب کچھ کر بھی نہیں سکتی۔۔۔
میں نے کہا اس کا نام اور پتہ تو بتا سکتی ہیں۔۔۔
اس نے کہا جی اسی وقت رباب اندر داخل ہوئی اس نے مسکراتے ہوئے عنذا کو دیکھا اور کہا واہ بھئی واہ تم بھی جانتی ہو صائم کو اس گھر میں صرف میں ہی ایسی ہوں جو اس کو نہیں جانتی تھی۔۔۔
عنذا مسکراتے ہوئے چلی گئی اور جاتے جاتے بولی تم نے کبھی کسی سے بنا کر رکھی ہو تو تمہیں بھی کوئی جانے۔۔۔
رباب نے برا سا منہ بنایا اور اس جگہ بیٹھ گئی جہاں مہتاب بیٹھی تھی۔۔۔
رباب نے بیٹھتے ہی کہا صائم مجھے تمہارا وہ والا روپ دیکھنا ہے جس میں آپی نے آپ کو دیکھا ہے۔۔۔
میں نے کہا مطلب۔۔۔؟؟
رباب نے کہا مطلب رعب دار جس کو دیکھ کر لڑکے ڈر جاتے ہیں۔۔۔
میں مسکرایا اور اپنے نیفے میں موجود پستول نکال کر اس کو دکھایا۔۔۔
رباب کی تو پستول دیکھ کر سٹی گم ہو گئی اس نے جلدی سے کہا اس کو چھپا لو۔۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے پستول واپس رکھ لیا۔۔۔
مہتاب آئی اور ہمیں کھانے کے بلا لیا میں اور رباب اٹھ کر ڈائننگ روم کی طرف چلے تو رباب مجھ سے کافی فاصلہ رکھ کر چل رہی تھی۔۔۔
مہتاب نے رک کر ہنستے ہوئے پوچھا کیا ہوا رباب پیسنے کیوں آ رہے ہیں۔۔۔۔
میری ہنسی نکل گئی۔۔۔
مہتاب نے پوچھا صائم کیا کہہ دیا رباب کو اس کی زبان ہی گنگ ہو گئی ہے ورنہ یہ تو ایک منٹ بھی چپ نہیں رہتی۔۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا اس کو بس ایک جھلک دکھائی ہے پستول کی۔۔۔
مہتاب زور زور سے ہنسنے لگی اور بولی بس دیکھ کر ہی ڈر گئی ۔۔۔
ہم ڈائننگ روم میں آ چکے تھے میں نے عنذا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا کئی لوگ تو پستول دیکھ بھاگ جاتے ہیں ۔۔۔۔
مہتاب نے کہا صحیح کہہ رہے ہو لوگ بڑی بڑی باتیں کرتے ہیں جب سامنے آتا ہے تو ان کہ بولتی بند ہو جاتی ہے۔۔۔۔
ایسے ہی باتیں کرتے کرتے کھانا کھایا اگر یہ کہا جائے کہ ایسا لذیذ کھانا میں نے کبھی نہیں کھایا تھا تو غلط نہ ہو گا۔۔۔۔
ان کی ہر چیزیں میں امارت جھلکتی تھی ان کا لب و لہجہ ان کا رہن سہن سب کچھ میرے حلقہ احباب میں کسی کا نہ تھا۔۔۔
میرا جن کے ساتھ تعلق رہ چکا تھا ان میں ڈاکٹر عمائمہ سب سے ماڈرن تھی لیکن ان کے گھر میں بھی ایسی نفاست نہیں تھی۔۔۔
کھانا کھانے کے بعد مہتاب کو میں نے بتایا کہ میں اسی ٹاؤن میں رہتا ہوں اگر کسی بھی قسم کا کوئی مسئلہ ہو مجھے میسج کر دینا ۔۔۔۔
کوئی پریشانی ہو یا کسی سے پریشانی ہو مجھے بتانے بالکل بھی نہ ہچکچانا۔۔۔
وہ دونوں بہنیں مجھے درواذے تک چھوڑنے آئیں میں نے بائیک سٹارٹ کی اور گھر آ گیا۔۔۔۔
میں کپڑے بدل کر بیڈروم میں آیا تو میرے موبائل پر بیپ ہوئی۔۔
میں نے چیک کیا تو رباب کا میسج تھا اس نے کہا تھا گندے ۔۔۔
میں مسکرا دیا اور سونے کے لیے لیٹ گیا۔۔۔
دس منٹ ہی ہوئے تھے کہ ڈور بیل ہوئی میں اٹھ کر باہر نکلا دروزے پر گیا ۔۔۔
دروازہ کھول کر دیکھا تو گلی میں کوئی نہیں تھا۔۔۔
ایک کاغذ پڑا ہوا تھا میں نے وہ کاغذ اٹھایا اور واپس آ گیا۔۔۔۔
کاغذ فولڈ کیا ہوا تھا میں نے کھول کر پڑھا تو اس پر چند لائینز لکھی ہوئی تھیں۔۔۔
پلیز آپی کو پتہ نہ چلے کہ آپ نے مجھے دیکھا تھا اور وہ لڑکا شہر کے ایک بزنس مین کا بیٹا ہے ہمارے کالج میں پڑھتا تھا جہاں اب آپ بھی پڑھ رہے ہیں۔۔۔۔
آپی کو مجھ پر شک ہوا تو آپی میرا کالج چھڑوا دیا اور دوسرے کالج میں داخلا کروا دیا تھا ۔۔۔
لیکن میں تب تک اس کے چنگل میں پھنس چکی تھی میں اس کے ساتھ جسمانی تعلق بنا چکی تھی۔۔۔۔
اب میں کیا کروں اس کے بغیر رہا نہیں جاتا دو دن تین دن حد سے حد چار دن برداشت کر پاتی ہوں اس کے بعد مجھ سے برداشت نہیں ہوتا۔۔۔۔
میں مجبور ہوں میرا اب کیے بغیر گزارا نہیں ہوتا پتہ نہیں کیا ہے اس میں کہ صرف اسی کے ساتھ کروں تو سکون ملتا ہے ورنہ میرا جسم ٹوٹنے لگ جاتا ہے۔۔۔۔
میں اس سب سے دور رہنا چاہتی ہوں اس شایان سے بھی دور رہنا چاہتی ہوں شایان سے ملنے کو دل نہیں کرتا لیکن اس کے ساتھ کرنے کو دل کرتا ہے۔۔۔۔۔
کبھی کبھی مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اگر میں نے اس کے ساتھ نہ کیا تو میری جان نکل جائے گی۔۔۔۔
پلیز آپ میری مدد کر سکتے ہیں تو کچھ کریں میری اس لت سے جان چھڑوا دیں۔۔۔۔
نیچے اس نے شایان کا نمبر ایڈریس وغیرہ لکھا ہوا تھا۔۔۔۔
میں یہ تو جانتا تھا کہ پھدی کو اگر لن کی لت لگ جائے تو لن لیے بغیر نہیں رہ سکتی۔۔۔
لیکن جس طرح اس نے بات کی تھی اس میں کچھ اور بات ہے ۔۔۔۔
ضرور شایان کچھ ایسا استعمال کرتا ہے جس کی وجہ سے عنذا کی تڑپ کم ہونے کی بجائے بڑھ جاتی ہے۔۔۔۔
شایان کو چودتے ہوئے میں نے دیکھا تھا اس کا سارا جسم ایسے چمک رہا تھا جیسے آگ دہک رہی ہو۔۔۔۔
اس کا لن بھی ٹھیک ٹھاک تھا میرے اندازے کے مطابق اس نے پھدی وجائی بھی خوب تھی کافی ٹائم لگایا تھا۔۔۔۔
اسی کے بارے میں سوچتے سوچتے نیند کی وادیوں میں پہنچ گیا۔۔۔۔
اگلی صبح اپنی روٹین کے مطابق اٹھا اور سیر کے لیے نکل پڑا ٹاؤن کے پارک میں گیا اور کچھ ورزش کرنے لگا۔۔۔۔
وہیں مجھے مہتاب کے پاپا مل گئے وہ مجھے ورزش کرتے دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔۔۔۔
انہوں نے مجھ سے پوچھا گھر میں کون کون رہتا ہے ۔۔۔۔
میں نے ان کو بتایا کہ سب گھر والے تو گاؤں میں رہتے ہیں میں صرف اکیلا رہتا ہوں یہاں وہ بھی اس لیے کہ ہوسٹل میں رہنا مجھے پسند نہیں ہے۔۔۔۔
انکل نے مجھے ناشتہ اپنے ساتھ کرنے کا کہا اور زور دے کر کہا کہ کھانا کبھی بھی باہر سے نہیں کھانا۔۔۔۔
میں نے کافی کہا کہ نہیں انکل میں ناشتہ وغیرہ باہر سے کر لیتا ہوں کھانا چاچو کے گھر سے کھا کر آتا ہوں۔۔۔
لیکن انکل نے بضد رہے کہ بیٹا بالکل بھی نہیں ہم یہاں اتنے پاس ہیں تم کہیں اور کھانا کھانے جاؤ ہمیں بالکل بھی اچھا نہیں لگے گا۔۔۔۔
میں نے کہا انکل اس طرح اچھا نہیں لگتا اور پھر لوگ کیا کہیں گے میں نہیں چاہتا کہ لوگ انگلیاں اٹھائیں میرا تو ویسے بھی امیج کافی خراب ہے۔۔۔۔
انکل نے میرا ہاتھ پکڑا اور تقریباً کھینچتے ہوئے اپنے گھر تک لے گئے۔۔۔
میں بھی چپ کر گیا کہ اتنے نکھرے اچھے نہیں ہوتے ویسے بھی دل تو میرا بھی چاہتا تھا کہ روز روز ان کے گھر جاؤں کسی طرح ان سے قربتیں بڑھاؤں۔۔۔
مروت بھی کوئی چیز ہوتی ہے اگر فوراً مان جاتا تو وہ سوچتے کہ کیسا بھکڑ انسان ہے ایک بار بھی انکار نہیں کیا۔۔۔۔
مجھے انکل کے ساتھ گھر میں دیکھ کر عنذا کے چہرے پر بارہ بج گئے۔۔۔
رباب خوشگوار حیرت سے مجھے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
مہتاب نے بھی مسکرا کر استقبال کیا۔۔۔۔
مہتاب نے ناشتہ لگایا سب نے مل بیٹھ کر ناشتہ کیا۔۔۔
میرے سامنے رباب بیٹھی تھی جو بار بار میری طرف دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
میں نے جلدی جلدی ناشتہ کیا اور گھر آ گیا نہا کر فریش ہوا پھر کالج کے لیے نکل پڑا۔۔۔۔
آج میں وقت سے پہلے نکلا تھا ایک دو کام کرنے تھے جن میں ناصر سے ملنا تھا اور میری کچھ کتابیں چاچا کے گھر رہ گئی تھیں وہ لینی تھیں۔۔۔۔
میں نے ٹاؤن سے نکل کر ناصر کو فون کیا وہ ٹیوب ویل پر تھا میں سیدھا وہاں گیا۔۔۔۔
اس پرنسپل کے بارے میں معلومات کا بولا اس نے ایک منٹ میں اس کی جنم کنڈلی نکال کر دے دی۔۔۔۔
وہ پہلے سے ہی اس کو جانتا تھا اس کی پوری ہسٹری اس نے مجھے سنا دی۔۔۔۔
پرنسپل اصل میں کالج کا مالک نہیں تھا کالج کا مالک کوئی اور تھا سارے اختیارات پرنسپل کے پاس تھے۔۔۔۔
شادی شدہ تھا انتہا کا عیاش تھا اس کی بیوی بہت خوبصورت اور کسی دوسرے شہر کی تھی ۔۔۔۔
اس کو باہر نکلنے سے چڑ تھی با پردہ عورت تھی اسی بات کا فائدہ وہ بندہ اٹھا رہا تھا۔۔۔۔
دو بیٹیاں تھیں ایک دسویں کلاس میں پڑھتی تھی دوسری اس سے چھوٹی تھی۔۔۔
میں نے اس کی بیٹی کے سکول کا بھی پوچھ لیا اور وہاں سے چاچا کے گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔۔
میں چاچا کے گھر پہنچا دروازے پر دستک دی حالانکہ دروازہ کھلا تھا لیکن پھر بھی دستک دی۔۔۔۔
اس سب کے پیچھے چاچی اور فرحی کا رویہ تھا میرے دل میں کہیں یہ بات تھی کہ ان کو میرا وہاں آنا پسند نہیں ہے۔۔۔۔
دوسری دستک سے پہلے ہی دروازہ کھل گیا اور سامنے فرحی کھڑی تھی۔۔۔
اس نے حیرت سے مجھے دیکھا اور کہا دروازہ کھلا تھا تو اندر کیوں نہیں آئے۔۔۔۔
میں نے اس کی بات کو اگنور کرتے ہوئے کہا کتابیں رہ گئی تھیں وہ لینے آیا ہوں۔۔۔
وہ ایک طرف ہو گئی میں اندر داخل ہوا اور سیدھا بیٹھک میں چلا گیا۔۔۔۔
میں نے اپنی کتابیں اکٹھی کیں اور سکول بیگ جو میرے پاس تھا اس میں ڈالنے لگا۔۔۔۔
میں اپنے کام میں مگن تھا کہ اپنے کمر پر نرم نرم گیندوں کی رگڑ محسوس ہوئی۔۔۔
میں نے اس کو اپنا وہم سمجھا کتابیں بیگ میں ڈال کر زپ بند کرنے لگا۔۔۔
اب مجھے کافی دباؤ کے ساتھ اپنے کمر پر رگڑ محسوس ہونے لگی۔۔۔۔
میں نے گردن گھما کر دیکھا تو فرحی آگے کو ہو کر اپنے ممے میرے کمر پر رگڑ رہی تھی۔۔۔۔۔
جو بھی ہو ناراض ہوں یا غصہ ہوں لیکن جب مجھے پھدی مارنے کا موقع مل رہا ہو تو میں خود کو روک نہیں پاتا۔۔۔۔
میں نے گھوم کر فرحی کی طرف دیکھا اور اس کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو گیا۔۔۔
فرحی کی آنکھوں میں چمک پیدا ہوئی جو لن ملنے کی امید میں پیدا ہوتی ہے۔۔۔۔
چند لمحے اس کی آنکھوں میں دیکھتا رہا پھر اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں میں پکڑ کر اس کے اس کے اوپر جھکا اور ہونٹ چوسنے لگا۔۔۔۔
فرحی بھی بھوکی بلی کی طرح مجھ پر جھپٹ پڑی اور نیچے سے اٹھ کر اپنے پاؤں کی انگلیوں پر کھڑی ہو گئی اور میری گردن میں بازو ڈال کر ہونٹ چوسنے میں ساتھ دینے لگی۔۔۔۔
کئی دن سے میں بھی پیاسا تھا اس لیے بڑی بے تابی سے اس کے ہونٹ چوس رہا تھا۔۔۔
اس کے ساتھ ساتھ میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے بھاری بھرکم چوتڑوں پر رکھ دیا اور دبانے لگا۔۔۔۔
جب میں اس کی گانڈ کی پھاڑی کو دباتا تو وہ گانڈ کو اکڑا لیتی اور اس کے ہونٹ میرے ہونٹوں کو کھانے کی حد تک چلے جاتے۔۔۔۔
پینٹ میں لن ایسی پھنسا ہوا تھا جیسے پٹاری میں سانپ قید ہوتا ہے۔۔۔۔
نہ میں نے یہ جاننے کی کوشش کی چاچی کہاں ہے اور باہر والا گیٹ بند ہے یا نہیں اور نہ ہی اس نے مجھے یہ موقع دیا۔۔۔۔
ہم ایک دوسرے پر ایسے ٹوٹ پڑے جیسے صدیوں کے پیاسے ہوں۔۔۔۔
آنکھوں میں جھانک کر ہی اندر کی ساری تمناؤں ،خواہشات کا اظہار کر دیا تھا۔۔۔۔
آنکھوں سے نکلنے والی لہریں ایک دوسرے کی آنکھوں میں جا کر دماغ کو دماغ سے جوڑ چکی تھیں۔۔۔۔
جو میں کرنا چاہ رہا تھا وہ بھی اسی رو میں جا رہی تھی۔۔۔
جو وہ چاہ رہی تھی میرا جسم بھی اس سمت رواں دواں تھا۔۔۔۔
میرا ہاتھ اس کی گانڈ کی ڈراڑ میں پھرتے ہوئے قمیض میں گھس گیا۔۔۔
افففف ننگے دہی کی طرح ملائم کمر تک ہاتھ لاتے لاتے میں فیصلہ کر چکا تھا۔۔۔۔
فرحی بھی میرے اندر کی بات جان چکی تھی اس نے میری گردن سے بازو ہٹائے اور پیچھے ہو کر قمیض کو اوپر اٹھا دیا۔۔۔۔
میں چارپائی پر بیٹھا وہ مممے ننگے کر کے میرے سامنے آئی ۔۔۔
میں نے ٹانگوں کو کھولا وہ میری طرف منہ کر کے میرے پٹ پر اپنی نرم گرم موٹی فوم جیسی گانڈ رکھ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
اس نے اپنا ایک بازو میرے سر کے پیچھے کیا اور دوسرے ہاتھ سے اپنا ایک مما پکڑ کر میرے منہ کے سامنے لائی۔۔۔۔
میں نے اس کی کمرے کے پیچھے ایک ہاتھ رکھا دوسرے سے اس کی قمیض کو پکڑ کر اوپر کرتے ہوئے اپنا منہ کھولا اور ممے کو منہ میں لے لیا۔۔۔۔
نپل کو ہونٹوں سے پکڑ کر کھینچا اس کے منہ سی کی آواز نکلی میں نے زبان نکال کر نپل کے ساتھ چھیڑخانی شروع کر دی۔۔۔۔
وہ میرا سر اپنے ممے پر دبانے لگی میں سر کو دائیں بائیں کرکے صرف زبان کو ممے پر پھیر رہا تھا۔۔۔۔
فرحی نے کہا بلو امی آنے والی ہوں گی جلدی کرو ۔۔۔۔
میں نے اس کو گود سے اٹھایا وہ کھڑی ہوئی اور اپنی شلوار کو نیچے کرنے لگی۔۔۔۔
میں نے بھی پینٹ کی زپ کھولی انڈروئیر سے لن نکال لیا۔۔۔
لن باہر نکل کر لہرانے لگا فرحی کی نظر لن پر پڑی اس نے لن کو ہاتھ میں پکڑا اور میری طرف دیکھ کر نشیلی آنکھوں سے بولی بلو میرا بس چلے تو اس کو کبھی اپنی اس سے باہر نکلنے ہی نہ دوں۔۔۔۔
یہ پہلی بار تھا کہ فرحی اس طرح کھل کر بات کر رہی تھی۔۔۔
میں نے اس کی پھدی پر ہاتھ پھیر کر کہا تمہاری پھدی بھی تو ایسی ہے کہ میرا لن اس میں گھسنے کے لیے کر وقت تیار رہتا ہے۔۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ ہم کچھ اور بات کرتے میں نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا اور اس کو گھما لیا۔۔۔۔
وہ بلا کسی مزاحمت کے جھک کر چارپائی پر الٹی ہونے لگی۔۔۔
میں نے اس کی گانڈ کی پھاڑیوں کے نیچے سے اس کی پھدی کو چھو کر دیکھا تو پانی اس کی ٹانگوں تک آیا ہوا تھا۔۔۔۔
میں نے ہاتھ پر تھوک پھینکا اور لن پر مسل کر لن کی ٹوپی کو اس کی پھدی کے لبوں میں رکھ دیا۔۔۔۔
اس کا جسم ایک دم اکڑ گیا ۔۔۔
گانڈ کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر میں نے لن پر دباؤ بڑھایا تو ٹوپی بلا رکاوٹ کے اندر اتر گئی۔۔۔۔
اس کے بعد بغیر انتظار کیے میں نے گانڈ کو پکڑے ہوئے تھوڑا زور سے گھسا مارا اور لن اندر کر دیا۔۔۔۔۔
لن آدھا اندر گھس گیا تھا فرحی کے منہ سے ایک لمبی آہہہہہہہ نکلی اس نے کہا آرام نال وی کر لیا کر ۔۔۔۔
میری پاڑن دی قسم کھادی ہوئی اے تو کوئی دشمنی اے۔۔۔۔
میں نے کوئی بات کیے بغیر لن کو باہر کھینچا اور پھر پہلے سے بھی زیادہ زور سے گھسہ مارا۔۔۔۔
لن ٹھا کرکے اس کی پھدی میں گھسا اور میرا اگلا سارا حصہ اس کی گانڈ کے ساتھ ٹکرایا۔۔۔۔
فرحی کے منہ سے پہلے سے بھی زیادہ لمبی آہہہہہہہہہہہہ نکلی اور اس نے کہا کتے بغیرت آرام سے نہیں کر سکتا۔۔۔۔
میرا دماغ فرحی کے منہ سے یہ سب سن کر تپ گیا۔۔۔۔
میں نے اگلے پانچ منٹ تک اس کی پھدی ایسے بجائی کہ اس کے چیخیں نکل گئیں۔۔۔۔
فرحی مسلسل مجھے گالیاں دے رہی تھی میں اس کے اوپر گر چکا تھا اور اس کو اپنے قبضے میں لے کر اس کی پھدی بجا رہا تھا۔۔۔۔
فرحی گالیاں دیتے ہوئے کہہ رہی حرامی کنجر آرام سے کر آہہہہ۔۔۔اففففف۔۔۔ ہائے امیییییی ۔۔۔۔
مجھے کنجری سمجھ رکھا ہے کیا آرام سے مار میری اففففف آہ اہ اہ اہ۔۔۔۔۔اوئیییی۔۔۔
میں نے اس کے کان کو دانتوں میں لے کر کاٹتے ہوئے کہا تو میرے لن کی غلام ہے تیری پھدی میں میرا موٹا لوڑا گھسا ہوا ہے تیرے جیسے کو کنجری ہی بنا کر چودنا چاہئیے۔۔۔۔
فرحی نے میرے لن کے جھٹکوں کو برداشت کرتے ہوئے مچل کر کہا میری پھدی تیرے لن کی غلام ہے مان لیا لیکن میں کنجری ہوں تو یہ سوچ کر میری بجا رہا ۔۔۔۔آہہہہہہ۔۔۔۔امممم امییییی۔۔۔
پھاڑ دے میری پھدی اج پاڑ امیییی ۔۔۔افففف ویکھ امی تیڑے بلوووو نے میری پھدی مار رہا ہے۔۔۔۔
ہائےےےے میری بھولی امییی تینوں کی پتہ میری پھدی تاں پہلاں ای بلو دا موٹا لن لے چکی سی۔۔۔۔
آہہہہ بلو مار زور نال مار میری پھدی آہہہہہ افففف ائییییی ا۔۔۔۔۔۔اووووہہہ۔۔۔۔ آہہ اہہ اممممممما۔۔۔۔
بلو امی کہتی ہیں بلو کے پاس نہ جایا کر آہہہہہہ افففف۔۔۔۔۔
میں نے زور سے گھسے مارتے ہوئے کہا اس کو بتانا تھا بلو نے تیری پھدی دی سیل کھولی اے۔۔۔۔
فرحی نے اہ آہ اہ آاااااااہ کرتے ہوئے کہا وہ کہہ رہی تھی کہ بلو نال گل کیتی تاں میرے ابے نوں دس دے گی۔۔۔۔۔
میں نے ہاتھ اس کے نیچے لے جا مما پکڑ لیا جس سے اس کا اگلا حصہ اوپر اٹھ گیا اور گانڈ اور واضح ہو گئی۔۔۔۔
لن ٹھپ ٹھپ کے آواز کے ساتھ پھدی میں گھس رہا تھا۔۔۔۔
فرحی نے کہا بلو امی نے اس دن ہمیں دیکھ لیا تھا جب میں تمہیں جگانے آئی تھی اففففف کاش ابھی امی دیکھ لیں۔۔۔۔
امییییی یہ دیکھووووو تیری بیٹی کیسے گندی رن کی طرح پھدی مروا رہی ہے۔۔۔۔
بلووووو آئی لو یووووووو اس کا جسم اکڑنے لگا تھا۔۔۔۔
اس نے زور زور سے کرنے کا کہنا شروع کر دیا میں تو پہلے ہی تپا ہوا تھا اس لیے اپنی سپیڈ کو بڑھاتا گیا۔۔۔۔۔
پھدی میں لن گھساتے گھساتے اوپر اٹھتا گیا اور اس کی گانڈ کے پیچھے رانوں پر بیٹھ کر گھسے مارنے لگا۔۔۔۔
اس کی گانڈ کی دراڑ کو کھول کر چھوٹی سی موری پر تھوک دیا اور انگلی سے سہلانے لگا ۔۔۔۔۔
فرحی پر تو جیسے کوئی جن سوار تھا اس نے تقریبآ چیختے ہوئے کہا بلوووو میری بنڈ وی پاڑ دے اج ۔۔۔۔
فیر پتہ نہیں کدوں موقع لبھے اج ساریاں کسراں کڈ دے ۔۔۔آففففففف۔۔۔۔۔
میں دو بار اور گانڈ پڑ تھوکا پھر پھدی سے لن نکال کر اس کی گانڈ کی موری پر رکھ دیا۔۔۔۔۔
میں بھی فارغ ہونے کے قریب تھا اس لیے اس کی گانڈ میں گھسا کر پانی نکالنا چاہتا تھا۔۔۔۔
فرحی فارغ ہو چکی تھی اس نے گردن موڑ کر مجھے دیکھا اس کے چہرہ چیخ چیخ کر کہہ رہا تھا کہ اس نے دل کھول کر پھدی مروائی ہے۔۔۔۔
میں اس کے اوپر جھکتا گیا اور لن کو گانڈ میں گھساتا گیا۔۔۔
جیسے جیسے لن گانڈ میں اتر رہا تھا ویسے ویسے فرحی کے ایکسپریشن بدل رہے تھے۔۔۔۔
اس کی ساری مستی کو بریک لگ گئی تھی وہ ہونٹ میچ کر منہ نیچے دبا چکی تھی۔۔۔۔
میں نے اس کے ہاتھوں کو دیکھا تو وہ چادر کع کھینچ رہی تھی۔۔۔
جب آدھا لن اندر ہو گیا تو میں نے پیچھے کرکے اتنے کو ہی اندر باہر کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔
اب فرح بالکل خاموش لیٹی تھی میں نے گھسے مارنے شروع کر دئیے ۔۔۔۔
میرے پورے جسم میں خون کی گردش تیز ہونے لگی۔۔۔
خون کی گردش کے ساتھ میرے گھسے بھی تیز ہو گئے اور لن سارا اندر گھس گیا۔۔۔۔
فرحی کے جسم کو ایک دم جھٹکا لگا اس نے اففف تک نہ کی برداشت کر گئی۔۔۔۔
میں نے چند گھسے پوری طاقت سے مارے تو اس کی دبی دبی سی سسسسییی کی آواز سنائی دی۔۔۔۔
ساری منی لن کی ٹوپی کی طرف دوڑنے لگی تھی لن پھنکار رہا تھا۔۔۔
لاوا اگلنے کے لیے اکڑ چکا تھا میں نے ایک دم سارا وزن فرحی کی گانڈ پر ڈال دیا اور اس کے اوپر لیٹ گیا۔۔۔۔
لن نے اپنے پانی سے فرحی کی گانڈ کے مورے کو بھرنا شروع کر دیا۔۔۔۔
جیسے جھٹکے کھا کر لن منی چھوڑ رہا ٹھا ویسے ہی فرحی کے جسم کو جھٹکے لگ رہے تھے۔۔۔۔
میں اس دھواں دھار چودائی کے بعد تھکاوٹ کا شکار ہو گیا تھا۔۔۔۔
جب لن نے ساری منی نکال دی تو مجھے یاد آیا کہ میں تو اپنی کتابیں لینے آیا تھا۔۔۔
فرحی کی گانڈ سے لن نکالا تو پچک کی آواز سے چھوارے جیسا لن باہر نکلا جس کے ساتھ اس کی گانڈ میں سے منی بھی باہر نکلنے لگی۔۔۔۔
فرحی نے گردن گھما کر میری طرف دیکھا اس کی آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں۔۔۔۔
اس نے نڈھال سی آواز میں کہا کوئی کپڑا دو۔۔۔۔
میں نے ادھر ادھر دیکھ کر کپڑا ڈھونڈا اور اس کی گانڈ کو بڑے پیار سے صاف کیا وہ سیدھی ہوئی میں نے لن کو بھی صاف کیا اور پینٹ میں ڈال کر زپ بند کرلی۔۔۔۔
فرحی نے کپڑا لے کر پھدی صاف کی اور مجھے کہا اب تم جاؤ میں جب موقع ملا تمہیں فون کروں گی۔۔۔۔
میں نے بیگ اٹھایا اور بیٹھک والے دروازے سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
بائیک کو کک مار کر سٹارٹ کیا اور حمام ڈھونڈ کر وہاں گیا نہا کر کالج چلا گیا۔۔۔
کالج میں جب داخل ہوا تو بیل ہو رہی تھی جلدی سے بائیک کھڑی کی اور کلاس میں چلا گیا۔۔۔۔
کلاس میں داخل ہوا اور پڑھنے لگا۔۔۔۔
پیریڈ پر پیریڈ لگتے رہے کوئی بات نہ ہوئی لیکن ایک بات میں نے نوٹ کی آج لڑکیوں کا رجحان میری طرف تھا جس کو سب ٹیچرز نے بھی محسوس کیا۔۔۔۔
مہتاب جب پڑھانے آئی تو اس نے بھی یہ بات نوٹ کی اور مجھے دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا کیا بات ہے آج سب تمہیں مڑ مڑ کر دیکھ رہے ہیں، ان کو کیا کہا ہے تم نے ۔۔۔۔
میں نے ایک نظر کلاس میں دوڑائی اور مسکرا کر کہا کچھ بھی نہیں میڈیم ۔۔۔۔
ان کا لیکچر ختم ہوا تو اگلے پروفیسر کو آنا چاہئیے تھا لیکن کلاس میں دو عجیب سی شکل والے لڑکے داخل ہوئے ان کے ساتھ اس دن والا لڑکا بھی تھا۔۔۔۔
انہوں نے کلاس میں ایک نظر دوڑائی اور پھر بولے یہ ہمارا بھائی ہے اگر کسی نے اس کے ساتھ کوئی بدتمیزی کی تو اس کے ساتھ اچھا نہیں ہو گا۔۔۔۔
میں نے بس ایک نظر ان پر ڈالی تھی اور پھر کتاب کھول کر پڑھنے لگا گیا تھا حالانکہ پڑھائی سے اتنا لگاؤ نہیں تھا صرف ان کو اہمیت نہیں دینا چاہتا تھا۔۔۔۔
مجھے ایسا لگا کہ کوئی میرے سامنے کھڑا ہے میں نے سر اٹھا کر اوپر دیکھا تو وہ دونوں میرے سامنے کھڑے تھے۔۔۔۔
ان میں سے ایک نے مجھ سے میرا نام پوچھا ۔۔۔۔
میں اس کے سامنے کھڑا ہو گیا اور اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا خیریت ہے اتنی کلاس ہے صرف میرا ہی نام پوچھنا ہے جناب کو۔۔۔۔
اس نے گھورتے ہوئے کہا جو پوچھا ہے وہ بتاؤ بات کو گھمانے کی ضرورت نہیں اگر ایک بار پھر تم نے کوئی اور بات کی تو۔۔۔۔
اس کی بات درمیان میں ہی رہ گئی کیونکہ اس کے پیچھے سے کسی کی آواز آئی جس پر مجھے یقین نہیں آیا۔۔۔۔
وہ آواز شاہد کی تھی جو کہہ رہا تھا بلو نام ہے اس کا بولو کیا کام ہے کوئی مسئلہ ہے تو باہر چل کر حل کرتے ہیں کلاس کا ماحول خراب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔
میں نے آواز کی سمت دیکھا تو شاہد فل سوٹڈ بوٹڈ ہو کر چشمہ لگا کر کھڑا تھا۔۔۔۔
ساری کلاس اس کو دیکھ کر کھڑی ہو گئی وہ لگ بھی ایسا رہا تھا جسامت قد کاٹھ اوپر سے اپنی عمر سے زیادہ لگتا تھا۔۔۔
سب نے سمجھا وہ کوئی نیا پروفیسر ہے میں تو پہلے سے اس کو جانتا تھا اس لیے مجھے کوئی حیرانی نہیں ہوئی۔۔۔
میرا نام سن کر ان دو لڑکوں کو کوئی خاص فرق نہ پڑا لیکن شاہد کو دیکھ کر وہ چپ ہو گئے اور باہر جانے لگے۔۔۔
شاہد نے روک کر کہا میری بات کا جواب نہیں دیا آپ لوگوں نے ٹیل می وٹس دا میٹر وائے آر یو ڈسٹربنگ دا ہول کلاس۔۔۔۔
شاہد تو آج فل فارم میں لگ رہا تھا اسی وقت اس کے پیچھے ہمارے پروفیسر کلاس میں داخل ہوئے ۔۔۔
وہ دونوں کلاس سے نکل گئے رو پروفیسر نے شاہد سے پوچھا آپ کی تعریف۔۔۔
شاہد نے اوپر انگلی اٹھا کر کچھ کہنا چاہا تو میں نے کہا سر یہ ہمارے کالج میں نیا ایڈمیشن ہے۔۔۔
ساری کلاس نے چونک کر میری طرف دیکھا اور پھر شاہد کو دیکھا۔۔۔۔
پروفیسر نے بھی سر سے پاؤں تک اس کو دیکھا اور بولے اچھا تو یہاں کیوں کھڑے ہیں، جو لوگ ابھی باہر گیے ہیں وہ کیا اس کے باڈی گارڈ تھے۔۔۔۔
ساری کلاس نے بیک زبان کہا جی سر۔۔۔
شاہد مسکرا دیا اور میری طرف آیا۔۔۔
میرے ساتھ والے لڑکے نے اس کو جگہ دی اور خود پیچھے چلا گیا۔۔۔
سب کو بٹھا کر پروفیسر نے شاہد سے تعارف لیا۔۔۔
اس کے بعد کوئی خاص بات نہ ہوئی شاہد سے سب بڑے خوش دلی سے ملے ۔۔۔
میں نے اس سے کچھ نہ پوچھا کیونکہ میں جانتا تھا وہ خود ہی سب بتا دے گا۔۔۔۔
وہ یہاں آیا ہے تو یقیناً کوئی بڑی بات ہو گی ورنہ وہ تو مجھے سمجھا رہا تھا کہ اس سب سے دور ہو جانا چاہئیے۔۔۔۔
بریک ہوئی سب کینٹین میں جانے لگے تو میں نے شاہد کو ساتھ لیا اور ہم ایک طرف گراؤنڈ میں چلے گئے۔۔۔
شاہد نے بتایا کہ اس نے اسی دن یہاں ایڈمیشن لے لیا تھا جس دن اس کو میں نے اپنے ایڈمیشن کا بتایا تھا۔۔۔
وہ صرف جاننا چاہتا تھا کہ یہاں کی صورتحال کیا ہے۔۔۔
اس نے جو مجھے بتایا وہ بھی حیران کن تھا اس نے بھی گورنمنٹ کالج کے بارے میں مجھے وہی باتیں بتائیں۔۔۔۔۔
وہ ہمارے کالج کے پرنسپل کو بھی جانتا تھا اس کو اس کی جنم کنڈلی کا بھی پتہ تھا۔۔۔۔
کیونکہ اس کی لڑکی کے ساتھ اس کا چکر چل رہا تھا۔۔۔
میرے لیے ایک اور حیرانی کی بات تھی ساتھ ساتھ میرے لیے ایک فائدے مند بات بھی تھی۔۔۔۔
ہم وہیں بیٹھے تھے کہ رباب اپنے گروپ کی لڑکیوں کے ساتھ آ گئی۔۔۔
رباب نے آتے ہی مجھے کہا تم ہو کیا اور تمہارے دوست توبہ توبہ، ہم سب سچ میں یہ سمجھ رہے تھے کہ شاہد کوئی پروفیسر ہے۔۔۔
ہم دونوں اس کی بات سن کر ہنسنے لگے اس کا بات کرنے کا انداز ہی ایسا تھا۔۔۔۔
اس نے اپنی دوستوں کو بتایا کہ صائم ہمارے ٹاؤن میں ہی رہتا ہے یہ مجھے بھی آج پتہ چلا جب پاپا کے ساتھ اس کو دیکھا۔۔۔
اس کی دوستوں نے منہ گول کرکے بڑے معنی خیز انداز سے کہا اوووووو۔۔۔
رباب نے ان کو کچھ کہنے کی بجائے ان کے ہی انداز میں آہوووووو۔۔۔۔
شاہد ان سب چیزوں کا عادی نہیں تھا اور میں کہا عادی تھا ایسی باتوں کا۔۔۔۔
ہم وہیں بیٹھے تھے کہ مہتاب وہاں آ گئی اس نے رباب کو کہا رباب میں جا رہی ہوں ہمارا دوستوں کا ایک گیٹ ٹو گیدر ہے تم اس طرح کرنا بلو کے ساتھ آ جانا۔۔۔۔
رباب نے منہ بناتے ہوئے کہا بلوووو آپی کتنا عجیب سا لگتا ہے یہ نام ایسا لگتا ہے جیسے کسی پالتو۔۔۔۔۔
اتنا کہہ کر وہ چپ ہونے والی نہیں تھی اس کو مہتاب نے ڈانٹ کر چپ کروا دیا۔۔۔۔
رباب نے کہا ٹھیک ہے آپی میں تو تیار ہوں آپ بلو سے کہہ دیں مجھے ساتھ لیتا جائے، ویسے یہ بلو ہے کہاں اور کون ہے۔۔۔۔
مہتاب نے اس کو گھوری ڈالی تو وہ ہنسنے لگی اور کہا سوری سوری آپی میں مذاق کر رہی تھی۔۔۔۔
میں اس کے ساتھ آ جاوں گی۔۔۔
میں نے کہا لیکن مجھے تو کالج کے بعد ایک ضروری کام سے جانا ہے۔۔۔
رباب نے کہا واہ جی واہ نواب صاحب نکھرے کر رہے ہیں، مجھے بھی بتائیں ذرہ آپ کے ایسے کون سے ضروری کام ہیں ۔۔۔۔
مہتاب کہہ کر جا چکی تھی میں نے شاہد کی طرف دیکھتے ہوئے کہا اگر میں بتا دوں تو تم میرے پیچھے بائیک پر بیٹھنے کی بجائے پیدل جانے کو ترجیح دو گی۔۔۔۔
رباب نے کہا ویری فنی میں اتنی بزدل نہیں ہوں ۔۔۔
میں نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا ہاں وہ تو میں بہت اچھی طرح جان گیا تھا۔۔۔۔
رباب نے آنکھیں پھاڑ کر مجھے دیکھا اور چپ ہو گئئ۔۔۔
بریک بند ہو گئئ لیکن میں اور شاہد کلاس میں نہ گئے وہیں بیٹھے رہے۔۔۔
میں نے شاہد کو شایان کا بائیو ڈیٹا دیا اور پتہ کرنے کا کہا ۔۔۔
شاہد نے ہنستے ہوئے کہا یار تو بھی نرا پھدو ہی ہے۔۔۔۔ہاہا
میں نے اس کو بڑے غور سے دیکھا اور پوچھا کیا مطلب۔۔۔
اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے کھڑا ہونے کا کہا ۔۔۔۔
میں کھڑا ہوا تو اس نے مجھے پکڑا اور کالج کے گیٹ پر لے گیا۔۔۔۔
وہاں کھڑے ہو کر اس نے کالج کے نام کو دیکھنا شروع کر دیا۔۔۔۔
میں اس کی بات نہ سمجھ سکا اور نہ ہی اس کا انداز۔۔۔
شاہد نے کہا لوڑو تم نے نام نہیں پڑھا کیا کالج کا۔۔۔۔
تب مجھے پتہ چلا جس شایان کی عنذا بات کر رہی تھی وہ تو اسی کالج کا طالب علم ہے۔۔۔۔
میں نے شاہد کا بازو پکڑا اور شایان کی کلاس کا پتہ کرنے ایڈمن آفس میں چلا گیا۔۔۔۔
ایڈمن آفس میں ایک بڑی پٹاخہ لڑکی بیٹھی تھی۔۔۔
میں نے اس سے شایان کی کلاس کا پوچھا تو اس نے کچھ پل غور سے مجھے دیکھا پھر بغیر چیک کیے مجھے اس کی کلاس کا بتا دیا۔۔۔۔۔
شاہد نے مجھے اور میں نے شاہد کو دیکھا دونوں کو اس کے رویے سے حیرت ہوئی تھی۔۔۔۔
میں نے پوچھ ہی لیا کہ میڈیم آپ کو انداز کیوں اس طرح کا ہے۔۔۔
اس نے پوچھا کیا مطلب میرا انداز۔۔۔۔
میں نے کہا جب ہم نے شایان کی کلاس کا پوچھا تو آپ نے جس طرح ہمیں دیکھا اور پھر چیک کیے بغیر اس کی کلاس کا بتانا سب عجیب نہیں ہے۔۔۔۔
اس نے تھوڑے سخت لہجے میں کہا جب مجھے زبانی یاد ہے تو میں چیک کیوں کروں، مجھے کالج کے کئی لڑکوں اور لڑکیوں کا علم ہے تو کیا سب کے بارے میں ںتانے سے لوگ اسی طرح سوچیں گے۔۔۔۔۔
میں نے کہا سوری میرا وہ مطلب نہیں تھا ۔۔۔
اتنا کہہ کر ہم وہاں سے نکل آئے اور شایان کی کلاس کے سامنے جا کر کھڑے ہو گئے۔۔۔۔
وہ آرٹس ڈیپارٹمنٹ میں تھا اس لیے مجھے اس کا نہیں پتہ تھا۔۔۔۔
ہم اس کی کلاس کے سامنے کھڑے ہو گئے اور لیکچر ختم ہونے کا انتظار کرنے لگے۔۔۔۔
لیکچر ختم ہوا پروفیسر باہر نکلے تو ہم نے کلاس میں جھانک کر دیکھا تو ہمیں کلاس میں شایان نظر نہ آیا۔۔۔۔
ایک لڑکا اٹھ کر ہمارے پاس آیا اس نے ہم سے پوچھا جی بھائی سب خیریت ہے۔۔۔۔
میں نے اس سے کہا شایان اسی کلاس میں پڑھتا ہے۔۔۔
اس نے ادھر ادھر دیکھ کر مجھے باہر چلنے کا کہا۔۔۔
ہم کلاس سے باہر آگئے تو اس نے بڑے رازدارانہ انداز سے کہا شایان پڑھتا تو یہاں ہے لیکن آتا کبھی کبھی ہے۔۔۔
سنا ہے وہ اپنے گھر میں ہی رہتا یے یا اس نے ایک کمرہ کرائے پر لیا ہوا ہے وہاں اس کے کچھ آوارہ دوست ہوتے ہیں وہ ان کے پاس رہتا یے۔۔۔۔
اس کی صحبت ٹھیک نہیں ہے وہ سب کے سںب لڑکی باز نشے باز اور ایک نمبر کے حرامی ہیں۔۔۔۔
میں نے اس سے اس کے کمرے کا ایڈریس پوچھا اور وہاں سے آ گئے۔۔۔۔۔