بے شرم باپ ۔۔۔۔(قسط 1)

ڈاکٹر رشمی شرما ایک ڈاکٹرہے اور ایک سرکاری ہسپتال میں ملازمت کرتی ہے، لیکن بدقسمتی سے وہ اب بیوہ ہے۔ رشمی کی عمر 31 سال ہے، اور اس کی کوئی اولاد نہیں ہے۔ اس کے شوہر، جو خود بھی ڈاکٹر تھے، دو سال قبل ایک حادثے میں فوت ہوگئے تھے۔ اس کے شوہر راہل اس سے بہت محبت کرتے تھے۔ اس کی شادی محبت کی شادی تھی، شاید یہی وجہ ہے کہ رشمی نے اب تک دوسری شادی کے بارے میں نہیں سوچا۔ اس کے والد، مسٹر رنجیت کمار سنگھ، دہلی پولیس میں سب اسسپکٹر کے عہدے پر کام کرتے ہے۔ اس کی والدہ، ممتا، ایک گھریلو خاتون ہے۔ رشمی، اپنی واحد اولاد ہونے کی وجہ سے، اپنے والدین کے ساتھ دہلی میں رہنے لگی اور اپنی قسمت سے سمجھوتہ کرلیا۔ اس نے اپنی نوکری بھی بمبئی سے دہلی منتقل کروا لی۔ یہاں اس کی واحد دوست ڈاکٹر نیہا سودتھی ، جو شادی شدہ ہے اور اس کے ساتھ ہی ہسپتال میں کام کرتی ہے۔

مسٹر رنجیت کمار سنگھ ایک نشئی اور رنگین مزاج شخص ہے۔ جب وہ مجرموں کا پیچھا کرتے ہے تو اکثر نشے میں ہوتاہے، لیکن اپنے کام کو ہمیشہ پایہ تکمیل تک پہنچاتا ہے۔ اپنے محکمے میں اس کا ایک الگ مقام ہے، اور کامیابی ہمیشہ اس کے قدم چومتی ہے۔ اس کی ایک اور کمزوری لڑکیوں سے تعلق ہے؛ وہ ہر رات کسی لڑکی کے ساتھ وقت گزارے بغیر سوتا نہیں۔ ویسے ممتا بھی کم پرکشش نہیں ہے، لیکن وہ حدود میں رہ کر اپنی خواہشات پوری کرتی ہے۔ ممتا شادی سے پہلے بھی تعلقات رکھ چکیتھی ، اور یہ بات رنجیت کو معلوم ہے۔ ممتا شادی سے پہلے حاملہ ہوگئی تھی جب کالج کے دنوں میں اسے اپنے بوائے فرینڈ سے محبت ہوگئی تھی۔ محبت میں وہ اتنی آگے بڑھ گئیں کہ اس کا نتیجہ ڈاکٹر رشمی کی پیدائش تھی۔ اس کے بعد اس کا بوائے فرینڈ کہیں غائب ہوگیا۔ ممتا کا پیٹ بڑھتا گیا، اور اس کے والدین نے جلدی سے اس کی شادی رنجیت سے کردی۔ رنجیت اور ممتا کے والد بچپن کے دوست تھے۔ رنجیت کے والد ایک گاؤں کے زمیندار تھے، اس لیے اس کا فیصلہ حتمی تھا، جسے رنجیت بھی توڑ نہ سکتا تھا۔ اپنے والد کی خواہش پوری کرنے کے لیے رنجیت نے شادی کے لیے ہامی بھر دی۔ لیکن رنجیت بھی چالاک تھا؛ اس نے سہاگ رات کے موقع پر ہی ممتا کو اپنی عادات کے بارے میں بتا دیا اور کہا کہ وہ آئندہ بھی ایسا ہی کرتا رہے گا، جب تک کہ وہ کسی لڑکی کے ساتھ نہ سوئے، اسے نیند نہیں آتی۔ ممتا نے کہا کہ اسے کوئی اعتراض نہیں، لیکن جو کچھ بھی کریں، حدود میں رہ کر کریں۔ یہ عہد 25 سال پہلے کیا گیا تھا اور آج بھی جاری ہے۔

لیکن دونوں رشمی سے بہت محبت کرتے ہیں ۔ رشمی کی اس حالت کو دیکھ کر دونوں پریشان رہتے ہیں ۔ انہوں نے رشمی سے دوسری شادی کے لیے بھی کہا، لیکن رشمی اس کے لیے تیار نہیں ہوئی۔ زندگی اسی طرح چل رہی تھی۔

ڈاکٹر رشمی زیادہ تر گھر پر ہی فارغ وقت گزارتی تھی اور اپنی تحقیق اور مریضوں کے بارے میں سوچتی رہتی تھی۔ اس کا او پی ڈی ہفتے میں تین دن ہوتا تھا، اور باقی دن وہ ایم بی بی ایس طلبہ کو پڑھاتی تھی۔ وہ اپنے بارے میں کبھی نہیں سوچتی تھی۔ کبھی کبھار وہ ڈاکٹر نیہا کے ساتھ ہنسی مذاق کرلیتی تھی۔ اپنے دل کی بات وہ صرف نیہا سے ہی شیئر کرتی تھی، جو اس کے ہی شعبے، زچہ و بچہ (Obstetrics & Gynecology) میں تھی۔

ایک دن نیہا نے اپنے گھر پر پارٹی رکھی۔ نیہا کا گھر رشمی کے گھر سے ایک کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ رشمی بھی پارٹی میں شامل ہوئی، لیکن وہ ناچ نہ سکی ۔ اسے کچھ عجیب سا لگا۔ نیہا اور اس کے شوہر روہت نے یہ نوٹس کیا۔ نیہا نے کہا، “یار، بیوہ ہونے کا مطلب یہ تو نہیں کہ تم ہنسو نہیں، مسکراؤ نہیں۔ بتاؤ، اس میں تمہارا کیا قصور ہے؟ تم اب بھی اپنا گھر بساسکتی ہو۔ اگر تم ہاں کہو تو میں بات کروں۔ میرے پاس ایک لڑکا ہے، میرے بھائی کا دوست، بہت اچھا لڑکا ہے۔ انجینئرنگ کر رہا ہے۔ کہو تو بات کروں۔ وہ تم سے کچھ سال ہی چھوٹا ہوگا، لیکن کوئی بات نہیں۔ پہلے تم اسے دیکھ لو۔ ویسے بھی وہ آنے والا ہے۔ میں تو کہتی ہوں کہ تم اس سے شادی کرلو اور بھول جاؤ کہ تم بیوہ ہو۔” نیہا کے شوہر نے بھی اس کی تائید کی۔ رشمی کچھ نہ بولی ، بس سر جھکائے ہلکی ہلکی سسکیاں لے رہی تھی۔ جب ماحول اداس ہوگیا تو نیہا نے کہا، “چلو، کھانا کھاتے ہیں ۔ مہمان بھی انتظار کر رہے ہے۔” نیہا نے تمام مہماسوں سے رشمی کا تعارف کروایا۔ رشمی اس وقت ایک خوبصورت ساڑھی میں تھی، پھر بھی وہ کسی سے کم نہ تھی۔ اس کی سب سے خوبصورت چیز اس کا جسم تھا۔ سب کی نظریں اس پر ہی تھی۔ لوگ سوچ رہے تھے کہ کیا خوبصورت عورت ہے، لیکن قدرت کا کیا کیا جائے؟

رشمی نے بھی ایک پلیٹ لی اور تھوڑا سا کھانا لے کر کھانے لگی ۔ جیسے ہی اس نے پہلا نوالہ لیا، سامنے روی آیا، نیہا کا منہ بولا بھائی، جس کے بارے میں نیہا بات کر رہی تھی۔ وہ آیا اور نیہا سے گلے مل کر اسے سالگرہ کی مبارکباد دی۔ جیسے ہی مڑا، وہ رشمی سے ٹکرا گیا، اور اس کا چمچہ نیچے گر گیا۔

روی نے معافی مانگی، “سوری، میم۔ دراصل جوش میں… تھوڑا… اور ایک بار پھر سوری۔” اس کے نرم مزاج سے رشمی متاثر ہوئی۔ وہ اسے غور سے دیکھنے لگیں۔ کیا لڑکا تھا! گورا، لمبا، خوبصورت، اور سب سے بڑھ کر نرم مزاج۔ آخر میں رشمی نے کہا، “اٹس اوکے۔” جب وہ چمچہ اٹھاسے لگی تو روی نے بھی جھک کر کہا، “رہنے دیں، میں اٹھاتا ہوں۔” ایک ویٹر آیا، چمچہ لے گیا، اور نیا چمچہ دے دیا۔ تبھی نیہا آگئی اور روی کا رشمی سے تعارف کروایا۔ “یہ میرا سب سے اچھا بھائی ہے، روی۔ فائنل ایئر انجینئرنگ میں ہے اور ابھی حال ہی میں ٹی سی ایس میں سلیکٹ ہوا ہے۔ دہلی میں ہی نوکری کرے گا۔” رشمی کبھی روی کو دیکھتی ، کبھی نیہا کو۔ وہ سوچ رہی تھی کہ یہ سب مجھے کیوں بتا رہی ہے؟ پارٹی میں اور بھی لوگ ہے، پھر روی کے بارے میں اتنی دلچسپی کیوں؟ تبھی نیہا نے آخری جملہ کہا، “جس کے لیے میں نے تم سے بات کی تھی، یہ وہی لڑکا ہے۔” رشمی چونک گئیں اور روی کو غور سے دیکھا، پھر شرما کر نظریں پھیر لیں۔ نیہا نے پوچھا، “کیسا لگا؟ سچ سچ بتاؤ۔” رشمی نے کچھ نہ کہا، بس اتنا بولیں، “مجھے نہیں معلوم۔”

پارٹی کے اختتام پر نیہا نے رشمی کو گھر تک چھوڑ دیا۔ جب رشمی اپنے گھر کے دروازے پر پہنچی تو نیہا نے کہا، “رشمی، ایک بار تنہائی میں ٹھنڈے دل سے ضرور سوچنا۔ یہ تیری زندگی کا معاملہ ہے، ٹھیک ہے؟” اور وہ چلی گئی۔ رشمی گھر آگئی۔ ماں نے دروازہ کھولا۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ رنجیت کسی کیس کے سلسلے میں کہیں گیا ہے۔ رشمی سیدھے باتھ روم گئی ، فریش ہوئی، اور اپنے بستر پر لیٹ کر روی کے بارے میں سوچتے سوچتے سوگئی۔

آج پہلی بار انہوں نے کسی مرد کے بارے میں سوچا۔ روی کا جسم، اس کا نرم مزاج، اس کی تہذیب، سب کچھ اس کے ذہن میں گھوم رہا تھا۔ اس کے مضبوط جسم کو سوچتے ہی رشمی کو جوش چڑھنے لگا۔ پہلی بار وہ کسی دوسرے مرد کے بارے میں سوچ رہی تھی۔ اس کے ماں باپ نے کئی بار شادی کے رشتے پیش کیے تھے، لیکن یہ لڑکا اسے بہت اچھا لگا۔ لیکن اسے ڈر تھا کہ کہیں روی اسکار نہ کردے۔ وہ تو کنوارہ ہے، اور وہ بیوہ۔ اسی کشمکش میں تھی کہ نیہا کا فون آیا۔ “کیسی ہو؟ کیا سوچا؟” رشمی نے کہا، “کس بارے میں؟” نیہا نے کہا، “ارے، وہی روی کے بارے میں۔” رشمی شرما گئی اور کہا کہ صبح بات کریں گی، اور فون بند کردیا۔ وہ شرم سے لال ہوکر پلٹ گئی اور سوگئی۔

رات کو رنجیت کو ایک ہوٹل میں چھاپہ مارنا تھا۔ انہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ پورے ہوٹل کو گھیر لیا اور آپریشن شروع کیا۔ کئی جوڑوں کو پکڑا گیا جو غیر قانونی تعلقات میں ملوث تھے۔ اس آپریشن کی قیادت رنجیت خود کر رہا تھا ۔ سب کو گاڑیوں میں بٹھایا گیا۔ اچاسک اس کی نظر ایک نوجوان اٹھارہ انیس سالہ لڑکی پر پڑی جو اداس تھی۔ رنجیت نے اس سے پوچھا تو وہ پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ رنجیت نے اسے چپ کرایا اور کہا، “کوئی بات نہیں، تم چپ رہو۔ میں دیکھتا ہوں، اگر تم بے قصور ہوئی تو میں تمہیں گھر جاسے دوں گا۔ لیکن کارروائی تو کرنی پڑے گی۔” لڑکی رنجیت کے پاؤں پر گر گئی اور کہنے لگی، “سر، پلیز میری رپورٹ نہ کریں، بہت بدنامی ہوگی۔ میں کہیں منہ دکھانے کے قابل نہ رہوں گی۔” رنجیت اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔ وہ نیلی جینز اور ایک ٹاپ پہنے ہوئے تھی، جیسے کوئی کالج کی لڑکی ہو۔ رنجیت نے اپنے اسسٹنٹ کو کہا کہ سب کو لے جاؤ اور اس لڑکی کو چھوڑ دو۔ سب چلے گئے، اب صرف رنجیت اور وہ لڑکی رہ گئے۔

رنجیت: تمہارا نام کیا ہے؟

لڑکی: سیما۔

رنجیت: کیا کرتی ہو؟

سیما: میں ایک طالبہ ہوں اور پاس ہی ایک ہاسٹل میں رہتی ہوں۔

رنجیت: کہاں کی رہنے والی ہو؟

سیما: جی، میں مغربی بنگال سے ہوں۔

رنجیت: تم اس ہوٹل میں کیا کر رہی تھی؟ میرا مطلب ہے، کس لیے آئی تھی؟

سیما نے کچھ نہ کہا اور نظریں نیچے کرلیں۔

رنجیت نے دوبارہ پولیس والے انداز میں پوچھا۔

سیما: جی… ایک لڑکا لایا تھا… مجھے کچھ پیسوں کی ضرورت تھی… تو…

رنجیت: ہوں، تو اس کا مطلب ہے کہ پیسوں کے لیے کسی کے پاس جا سکتی ہو؟

سیما: جی نہیں… لیکن مجھے…

رنجیت: اچھا، چھوڑو۔ تمہارے گھر میں کون کون ہے؟

سیما: میرے ماں باپ۔ پاپا ریٹائرڈ ٹیچر ہے اور ماں گھریلو خاتون ہے۔

رنجیت: تم اتنے اچھے گھر سے ہو تو پھر؟

سیما: دھیمی آواز میں بولی، میں بہک گئی تھی۔

رنجیت: وہ لڑکا کون تھا؟

سیما: میرا سابقہ کلاس فیلو تھا۔ ایک کالج پارٹی میں ملا تھا۔ اس نے کہا کہ وہ مجھے پسند کرتا ہے۔ کئی دنوں سے میرے پیچھے پڑا تھا۔ ایک دن اچانک اس کا فون آیا۔ اس وقت میں پریشان تھی کیونکہ کالج کی فیس جمع کرنے کی آخری تاریخ تھی۔ پاپا کا منی آرڈر نہیں آیا تھا۔ میں نے اس لڑکے سے مدد مانگی۔ اس نے کہا کہ کوئی بات نہیں، تم آجاؤ اور لے لو۔ اس نے ایک ہوٹل کے کمرے کا ایڈریس دیا۔ میں شام 6 بجے اس کے پاس پہنچ گئی۔ اس نے 500 کے 8 نوٹ دیے۔ جب جانے لگی تو اس نے میرا دایاں ہاتھ پکڑ لیا اور مجھے اپنے سینے سے لگا لیا۔ میں نے کچھ مزاحمت کی تو اس نے کہا، “میری جان، میں تم سے پیار کرتا ہوں۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں۔” دراصل میں بھی اس سے پیار کرنے لگی تھی، لیکن اس کا یہ انداز دیکھ کر میں چونک گئی۔ یہ تو زیادتی تھی۔ کمرے میں کوئی نہیں تھا۔ کمرے کا درجہ حرارت 22 ڈگری تھا۔ اس کے ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے ہی میرا جسم کانپ گیا۔ اب مجھے بھی مزہ اسے لگا تھا۔ میں نے مزاحمت چھوڑ دی۔ وہ مسکرایا اور میرے ہونٹوں کو چومتے ہوئے کہا، “میری جان، آج میں تمہیں بتاؤں گا کہ جوانی کیا ہوتی ہے۔ تم آج کی رات میری بیوی ہو۔ میں تمہیں ایک مرد کا پیار دوں گا۔” اس نے میرے سامنے ہی اپنے کپڑے اتارنا شروع کر دیے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس نے سب کپڑے اتار دیے۔ اس کا لن دیکھ کر میں چونک گئی۔ یہ کوئی عام لن نہیں، گدھے کا لن تھا۔ مجھے شرم آرہی تھی، لیکن مزہ بھی آرہا تھا۔ وہ میرے پیچھے آیا اور پیچھے سے میری دونوں چھاتیوں کو دبانے لگا، اور میرے گالوں اور ہونٹوں کو چومنے لگا۔ میں بھی کافی گرم ہوگئی تھی۔ اس کے بعد اس نے ایک ایک کرکے میرے سارے کپڑے اتار دیے اور مجھے گود میں اٹھا کر بستر پر لٹا دیا۔ وہ میرے اوپر چڑھ گیا۔ ایک ہاتھ سے میری چھاتیوں کو اور دوسرے ہاتھ سے میری رانوں کو سہلا رہا تھا۔ میں کراہ رہی تھی۔ میں بھی جوش میں آکر اپنی کمر اٹھاتی تھی۔ اب میں اس کے اوپر آگئی اور وہ میرے نیچے۔ اس نے میری دونوں چھاتیوں کو اپنے منہ میں لے کر چوسنا شروع کر دیا۔ مجھے بہت مزہ اسے لگا۔ اس کا لن میری چوت کے قریب دستک دینے لگا۔ اگر وہ اپنے ہاتھوں سے لگاتا تو ضرور اندر چلا جاتا، لیکن وہ تحمل میں تھا۔ اب نہ اس سے برداشت ہو رہا تھا اور نہ مجھ سے۔ تو میں نے خود کہا، “ڈارلنگ، میری جان، اب مجھے چود دو۔ میں اب برداشت نہیں کر سکتی۔” جیسے ہی اس نے مجھے پلٹایا، پولیس کی سائرن کی آواز اسے لگی۔ وہ گھبرا گیا اور مجھے چھوڑ کر اٹھ گیا اور کپڑے پہننے لگا۔ اس نے مجھ سے کہا کہ تم بھی بھاگ جاؤ، ورنہ پولیس پکڑ لے گی۔ وہ جلدی سے کپڑے پہن کر بھاگ گیا۔ مجھے زور سے باتھ روم لگا تھا ۔ میں ننگی حالت میں باتھ روم گئی اور پیشاب کرنے کے بعد کپڑے پہن رہی تھی کہ آپ کا کانسٹیبل آگیا اور مجھے پکڑ لیا۔ باقی کہانی آپ کو معلوم ہے۔ سر، یہ میرا پہلا موقع تھا۔ میں کوئی طوائف نہیں ہوں۔ پلیز مجھے چھوڑ دیں۔

رنجیت: ہوں… ٹھیک ہے، لیکن ایک شرط ہے۔ یہ صرف تم پر منحصر ہے۔ اگر تم اسکار کرو تو کوئی بات نہیں، تم گھر جا سکتی ہو۔

سیما: جی، سر، بولیں، میں کیا کر سکتی ہوں؟

رنجیت: سیما، تم جس مقصد سے آئی تھی، وہ تو پورا ہوگیا، لیکن جو کر رہی تھی وہ پورا نہیں ہوا۔ کیا تم میرے ساتھ…

سیما اس کی بات سمجھ کر بہت شرما گئی۔

رنجیت: یہ صرف تمہاری رضامندی پر ہے۔ میں کوئی زبردستی نہیں کروں گا۔ اور تمہیں صبح گھر بھی پہنچا دوں گا۔ ویسے بھی تم کافی گرم ہوگئی ہوگی، ہے نا؟

سیما نے اپنی آنکھیں نیچے کرلیں۔ یہ ایک لڑکی کا فطری رویہ تھا۔

رنجیت: کیا کہتی ہو؟ ہاں یا نہ؟

اور دونوں جیپ میں بیٹھ گئے۔ رنجیت نے گاڑی اسٹارٹ کی۔ سیما اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔

کچھ دور جانے کے بعد سیما نے کہا، “آپ جو بھی کرنا چاہتے ہے، کر لیں، لیکن مجھے صبح گھر پہنچا دیں۔”

یہ سن کر رنجیت خوش ہوگیا۔ آج اسے ایک نیا “مال” مل رہا تھا۔ اس نے اگلے چوراہے سے گاڑی یو ٹرن کیا اور ایک سستے ہوٹل میں پہنچ گیا۔ ساتھ میں کچھ کھاسے کا سامان بھی لے لیا۔

ہوٹل راج میں آکر رنجیت نے ریسپشنسٹ کو اپنا آئی کارڈ دکھایا اور ایک کمرہ بک کروا لیا۔ ایڈوانس میں 500 روپے ادا کیے اور پھر دونوں کمرے میں چلے گئے۔ کمرے میں آتے ہی رنجیت نے سیما کو اپنی بانہوں میں لے لیا اور اسے چومنا شروع کر دیا۔ “تم بالکل بے فکر رہو، یہاں کچھ نہیں ہوگا۔ پہلے کھانا کھاتے ہے۔” اس نے انٹرکام پر کال کی۔ ایک نیپالی ویٹر آیا۔ رنجیت نے کہا کہ ایک بوتل اور دو پلیٹیں لے آؤ۔ اس نے ویٹر کو 200 روپے دیے۔ ویٹر چلا گیا اور کچھ دیر بعد سامان لے کر آیا۔ سیما باتھ روم میں نہاسے چلی گئی۔ رنجیت نے دروازہ کھول کر سارا سامان اندر رکھوایا۔ اس نے سکاچ کی بوتل کھولی اور ایک گلاس میں ڈال کر پینے لگا۔ سیما ایک تولیہ لپیٹ کر آگئی۔ جیسے ہی وہ اپنی جینز اٹھاسے لگی، رنجیت نے منع کر دیا، “کوئی ضرورت نہیں، تم ایسی ہی خوبصورت لگ رہی ہو۔ لو، کھاؤ۔” اس نے ایک ہاتھ سے اسے کھینچ کر اپنی گود میں بٹھا لیا اور ایک بوسہ دینے کے بعد پوچھا، “تم شراب پیتی ہو؟”

سیما نے کہا کہ وہ نہیں پیتی۔ رنجیت نے کہا، “کوئی بات نہیں، تھوڑا سا چکھ لو۔”

سیما نے پھر انکار کیا، “جی، میں شراب نہیں پیتی، لیکن آپ کو روکوں گی بھی نہیں۔ میں اپنے ہاتھوں سے آپ کو پلاؤں گی۔” اس نے ایک گلاس اٹھایا اور رنجیت کے ہونٹوں پر لگایا۔ رنجیت کے گال پر بوسہ دیتے ہوئے اس نے شراب پلائی۔ جب شراب ختم ہوئی تو رنجیت نے اپنے ہونٹ سیما کے ہونٹوں پر رکھ دیے اور چوسنا شروع کر دیا۔ سیما کو اب شراب کی بو آنے لگی، اس کا دم گھٹنے لگا۔ اس نے کسی طرح خود کو چھڑایا اور کہا، “جی، مجھے آپ کی شراب کی بو آرہی ہے، مجھے الٹی ہوجائے گی۔ پلیز کسنگ نہ کریں۔”

رنجیت نے صورتحال سمجھ لی اور کہا، “ٹھیک ہے، میں بھی نہیں پیوں گا۔”

سیما خوش ہوگئی۔ اب دونوں کھانا کھانے لگے۔ سیما نے ایک نوالہ رنجیت کو کھلایا، اور رنجیت نے وہی نوالہ اسے کھلایا۔ اسی طرح دونوں کے درمیان چھیڑ چھاڑ شروع ہوگئی۔ رنجیت نے اس کی تولیہ کھینچ کر پھینک دیا اور خود بھی مکمل ننگا ہوگیا۔ ایک ہاتھ سے اپنے لن کو سہلاتے ہوئے وہ سیما کی طرف بڑھا۔ “آؤ، ڈارلنگ۔”

سیما اپنی چوت چھپا رہی تھی، لیکن وہ رنجیت کے لن کو ضرور دیکھ رہی تھی۔ رنجیت نے اسے اپنی بانہوں میں اٹھایا اور بستر پر پٹخ دیا، اور اس کے اوپر چڑھ گیا۔ پہلے اس نے اس کی چوت کو چوما، پھر چاٹا، اور پھر زور زور سے چوسنا شروع کر دیا۔ چوسائی کی وجہ سے سیما کا جسم مستی سے لہک رہاتھا ۔ اسے بھی بہت مزہ آنے لگا۔ اب دونوں 69 کی پوزیشن میں آگئے۔ سیما نے خوب بوسوں کی برسات کی۔ رنجیت کا لن ایک دم لوہا بن گیا تھا۔ اتنی چوسائی کے بعد بھی اس کا لن مکمل کھڑا تھا، جسے سیما بھی غور سے دیکھ رہی تھی۔ وہ سوچ رہی تھی کہ اس لڑکے کا لن بھی ایسا نہیں تھا جو اسے یہاں لایا تھا۔ لیکن جب پولیس کا خیال آیا تو وہ خاموش ہوگئی۔ شاید پولیس والوں کا ایسا ہوتا ہوگا۔ وہ آگے بڑھی اور اس کے لن کے سرے کو چوما، پھر ہلکا سا منہ کھول کر چاٹنے لگی۔ اسے لن کا ذائقہ بہت اچھا لگ رہا تھا، اور سب سے اچھا اس کی بو۔ رنجیت کے منہ کے سامنے سیما کی چوت تھی۔ رنجیت نے اپنی زبان باہر نکالی اور اس کے کلٹورس کو چاٹنا شروع کر دیا۔ اسے کلٹورس کا ذائقہ بہت اچھا لگا۔ اب اس کا نشہ اتر چکا تھا، اور وہ مزے لے لے کر اس کی چوت چاٹنے لگا۔ کبھی کبھار وہ اپنی زبان کے نوک کو چوت کے اندر دبا دیتا تھا، جس سے سیما کراہ اٹھتی تھی۔ اب سیما نے بھی دل کھول کر مزے لوٹنا شروع کر دیے۔ اس نے پورا لن اپنے منہ میں لے لیا۔ ادھر رنجیت نے ایک انگلی اس کی چوت کے سوراخ میں ڈال دی اور زبان کو اس کے گانڈ کے سوراخ پر رکھ دیا۔ اسے گانڈ کا سوراخ بھی بہت اچھا لگ رہا تھا۔

دوستو، رنجیت جب بھی کسی عورت یا لڑکی کے ساتھ تعلق بناتا ہے، وہ اسے پاگل بنا دیتا ہے۔ اسے چدائی کے معاملے میں مہارت حاصل ہے۔ یہ بات ممتا بھی جانتی ہے۔ لیکن ممتا اب تک رنجیت سے ماں نہیں بن سکی۔ پتہ نہیں کیوں۔ یہ نہیں کہ رنجیت اولاد پیدا نہیں کر سکتا۔ اس کی ایک بھابی، چمپا، نے اس سے دو بچوں کو جنم دیا ہے۔ اس کی کہانی بعد میں بتاؤں گا۔

سیما بہت گرم ہوگئی تھی۔ اب اس کی چوت سے رس نکلنے لگا تھا، جسے رنجیت چاٹ چاٹ کر صاف کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد دونوں سیدھے ہوئے۔۔ اس نےسیما کی ٹانگیں اٹھائیں اور اپنے لن کو ہاتھ میں پکڑ کر سہلانے لگا۔۔اس نے سیما کی آنکھوں میں دیکھا، جیسے اجازت مانگ رہا ہو۔ سیما نے شرماتے ہوئے اجازت دے دی۔ اب رنجیت نے اپنے لن کے سرے کو ہلکا سا سیما کی چوت پر لگایا اور دبایا۔ دباؤ ہلکا تھا، لیکن چوت گیلی ہونے کی وجہ سے وہ اندر چلا گیا۔ سیما کو ہلکا سا درد ہوا۔ رنجیت تھوڑا رکا، پھر اسے پیار کرتے ہوئے ایک اور دھکا مارا۔ اب اس کا لن آدھا اندر چلا گیا، لیکن چوت سے خون نکلنے لگا۔ سیما رونے لگی، “مجھے نہیں چدوانا ، مجھے چھوڑ دو، پلیز۔ مجھے گھر جانا ہے۔”

سیما کی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے رنجیت نے اور زور سے چدائی شروع کر دی۔ اب پورا لن اندر چلا گیا۔ سیما کو لگا جیسے وہ بےہوش ہوگئی ہو۔ لیکن کچھ دیر بعد اسے اچھا لگنے لگا۔ رنجیت اسی طرح پڑا رہا، وہ ہل نہیں رہا تھا۔ کئی چوتوں کو چودنے کے بعد اسے کافی تجربہ ہوگیا تھا کہ کنواری چوت کو کیسے چودا جاتا ہے۔ وہ کچھ دیر خاموش بیٹھنے کے بعد آہستہ آہستہ اپنے لن کو آگے پیچھے کرنے لگا۔ اب سیما کو بھی مزہ اسے لگا تھا۔ ساتھ ساتھ رنجیت اسے بوسہ دیتا رہا اور اس کی چھاتیوں کو سہلاتا اور مسلتا رہا۔ لن کی رفتار بڑھنے لگی۔ کچھ دیر بعد رفتار اور تیز ہوگئی۔ لن کی رفتار اتنی تیز ہوگئی کہ ہوٹل کا صوفہ بھی کھٹ کھٹ کرنے لگا۔ اب سیما نے بھی جی بھر کر ساتھ دینا شروع کر دیا۔ وہ رنجیت کی بانہوں میں اپنی بانہوں کا ہار پہناکر دھکوں کا جواب دھکوں سے دینے لگی۔ کافی گتھم گتھا کے بعد رنجیت نے منی کی برسات کر دی۔ ساری منی سیما کی چوت میں چلی گئی۔ اس نے اپنا لن 10 سیکنڈ تک اندر ہی رکھا۔ جب اس نے لن نکالا تو “پک” کی آواز ہوئی اور لن باہر نکل آیا۔ لن کے ساتھ ساتھ منی اور رس کا سنگم بھی ہوگیا۔ سیما کی گانڈ بھی منی اور رس سے نہا گئی تھی۔ اس کے بعد رنجیت سیما کے اوپر گر گیا اور ہانپتے ہوئے اس کے اوپر سو گیا۔

آدھے گھنٹے کے بعد وہ اٹھے اور ننگے ہی باتھ روم چلے گئے۔ پیچھے پیچھے سیما بھی چلی گئی۔ جب وہ باتھ روم میں گئی تو رنجیت باتھ ٹب میں بیٹھا تھا۔ سیما بھی اسی باتھ ٹب میں بیٹھ گئی اور دونوں نے اپنی ٹانگیں باہر نکال دیں۔ رنجیت نے دونوں ہاتھوں سے اس کی دونوں چھاتیوں کو دباتے ہوئے بوسہ دینا شروع کر دیا۔ سیما نے بھی بوسوں کا جواب بوسوں سے دیا۔

رنجیت: “کیسا لگا میری جان؟”

سیما شرماتے ہوئے: “بہت اچھا۔ پہلی بار میں نے اتنا مزہ لیا۔”

رنجیت: “لیکن تم تو کنواری ہو؟”

سیما: “جی، میں کنواری ہوں۔ کئی بار سیکس کا موقع ملا، لیکن ناکام رہی۔ پہلی بار آپ جیسا کوئی ملا ہے۔ میں آپ سے پیار کرنے لگی ہوں۔ جب بھی آپ کا دل کرے، مجھے بلا لیجیے گا۔ آپ کے لیے میں رنڈی بننے کو بھی تیار ہوں۔”

اور دونوں ہنسنے لگے۔ اب دونوں باتھ ٹب سے باہر آئے اور فلش آن کر دیا۔ دونوں ننگے ہوکر نہائے۔

تازہ دم ہوکر دونوں نے کافی کا آرڈر دیا۔ اب سیما جینز پہن چکی تھی، اور رنجیت اسی حالت میں تھا۔ تبھی رشمی کا فون آیا۔ “پاپا، آپ کہاں ہے؟ ہم کھانے پر آپ کا انتظار کر رہے ہے۔”

رنجیت: “بیٹے، آج میں نہیں آسکتا۔ ایک آپریشن کیا ہے، صبح 3 بجے تک چلے گا۔ فون بھی نہ کرنا، ڈسٹرب ہوتا ہے۔ صبح 5 بجے آؤں گا۔ تم لوگ کھا کر سو جاؤ۔”

سیما سب کچھ سن رہی تھی۔ جب بات ختم ہوئی تو اس نے پوچھا، “سر، یہ آپ کی بیٹی تھی؟”

رنجیت: “ہاں، یہ میری اکلوتی بیٹی ہے۔ لیکن قسمت نے اس کے ساتھ برا کیا۔”

سیما: “کیا ہوا، سر؟”

رنجیت: “بیچاری بیوہ ہوگئی ہے۔ دو سال پہلے ایک کار حادثے میں۔ میری بیٹی ڈاکٹر ہے، اور میرا داماد بھی ڈاکٹر تھا۔ دونوں ایک دن کار سے آرہے تھے۔ بارش ہوئی تھی، ٹائر پھسل گیا اور… میری بیٹی تو بچ گئی، لیکن داماد چلا گیا۔ تب سے وہ اداس رہتی ہے۔ بہت کوشش کی، دوسری شادی کے لیے بھی کہا، لیکن وہ نہیں مانتی۔ خیر، اوپر والے نے اسے نوکری دی ہے، ورنہ پتہ نہیں کیا ہوجاتا۔”

سیما کو رشمی سے ہمدردی ہوگئی۔ وہ آگے بڑھی اور رنجیت کے گلے لگ گئی اور کہا، “کوئی بات نہیں، سر۔ اوپر والا سب ٹھیک کر دے گا۔ چلیں، اب چلتے ہے۔ کل میرا کالج میں پیپر ہے، اس لیے اب جاؤں گی۔ 11 بج رہے ہے۔”

رنجیت: “ٹھیک ہے۔ یہ لو، 2000 روپے۔”

سیما نے پیسے نہیں لیے۔ “نہیں، سر، میں یہ سب پیسوں کے لیے نہیں کر رہی۔ پلیز مجھے رنڈی نہ بنائیں۔”

رنجیت نے پیسے واپس رکھ لیے اور اسے ایک قلم دیا۔ “یہ لو، یہ رشوت تو نہیں۔ اسے لینے سے تم رنڈی تو نہیں بنو گی؟ اسے رکھو اور خوب دل لگا کر پڑھنا۔ جب بھی پیسوں یا کسی چیز کی ضرورت ہو، مجھے یاد کرنا۔ یہ میرا کارڈ ہے۔ اور ہاں، اتوار کو میرے گھر آجانا ، میری بیٹی کا سالگرہ ہے۔”

رنجیت نے ایڈریس نوٹ کروایا، اسے گلے لگایا، اور اسے کالج ہاسٹل چھوڑ دیا۔ پھر وہ اپنے گھر کی طرف چلا گیا۔

آج زندگی میں پہلی بار چدائی میں اسے مزہ آرہا تھا۔ واقعی بہت خوبصورت چوت تھی۔ سیما بھی بہت خوبصورت تھی۔ جھرجھرا بدن، ہلکا سا سانولا رنگ، اور پتلی۔ اسے بار بار سیما کی یاد آرہی تھی۔ اس نے فون کیا۔ “کیسی ہو؟ پہنچ گئی؟”

سیما: “جی، آپ نے ہی تو چھوڑا ہے۔”

رنجیت: “ہاں، معلوم ہے۔ تو رات کیسی رہی؟”

سیما شرما گئی۔ “اچھی تھی۔ اور آپ کو کیسی لگی؟”

رنجیت: “بہت اچھا، ڈارلنگ۔ تم بہت نمکین ہو۔ دیکھو، تیری یاد آتے ہی یہ کھڑا ہوگیا۔ اسے سنبھال کر رکھو، کسی اور دن کام آئے گی۔”

سیما: “ٹھیک ہے، میں رکھتی ہوں، میری کلاس میٹ آگئی ہے۔ گڈ نائٹ۔”

رنجیت: “گڈ نائٹ ٹو۔”

رنجیت گھر پہنچ گیا۔ ممتا نے گیٹ کھولا۔ “ارے، آگئے؟ آپ تو کہہ رہے تھے کہ صبح آئیں گے؟”

رنجیت: “ارے، پولیس والوں کو کیا رات اور کیا دن؟ ہر وقت کام۔ دراصل معلومات غلط تھی۔ ایس پی صاحب نے کہا کہ غلط انفارمیشن تھی۔ چلو، کھانا لگاؤ۔”

ممتا: “کھانا تو میں نے بنایا ہی نہیں۔ سوچا کہ آپ آئیں گے ہی نہیں، تو میں اور رشمی کھا کر سو گئے۔ لیکن بنا دیتی ہوں، جیسا آپ کہو۔”

رنجیت: “نہیں، نہیں، رہنے دو۔ میں سنبھال لوں گا۔”

ممتا: “ایسے نہیں سوتے۔ میں دودھ گرم کر دیتی ہوں۔”

ممتا دودھ گرم کرکے لائی اور دو سلائس بریڈ۔ “لو، کھاؤ اور پی کر سو جاؤ۔ دو بج رہے ہے۔”

رنجیت نے جلدی سے بریڈ کھائی، دودھ پیا، اور اپنی بیوی کے گلے لگ کر سو گیا۔





Source link

Leave a Comment