میں نے امی جان کی قمیض کا پلو سرکا کر امی کے پیٹ کو بھی آدھا ننگا کرتے ہوئے قمیض کو امی کے چُوچوں پر رکھ دیا… امی جان کانپ اٹھی تھیں، لیکن آج وہ بھی جیسے قسم کھا چکی تھیں کہ مجھے روکیں گی نہیں۔
جیسے ٹرک کی فرنٹ لائٹ اندھیرے میں ایک دم سے روشن ہو کر آنکھوں کو چندھیا دیتی ہے، ایسے ہی امی جان کی چوت چاند کی چاندنی (جو کہ زیادہ نہیں تھی، تھوڑی سی ہی روشنی تھی) میں مجھے اچھے سے دکھائی دی تو میری آنکھیں چندھیا گئیں۔ میں ایک ٹک امی جان کی چوت کو دیکھتا ہی رہ گیا۔
امی جان اب ہلکے ہلکے کانپ رہی تھیں۔ اپنی زندگی میں پہلی بار اپنے شوہر کے سوا کسی کو اپنی چوت کے درشن دے رہی تھیں، وہ بھی کوئی اور نہیں ان کا اپنا ہی بیٹا تھا۔ وہ بیٹا جو ان کی اسی چوت سے ہی نکلا تھا، جو چوت اب اسی بیٹے کے سامنے تھی…۔
میرا لنڈ ناچنے لگا۔ میرے ہاتھ نے میرے لنڈ کو مسلنا تیز کر دیا۔ ادھر امی جان کی آنکھوں سے آنسو بھی بہنے تیز ہو گئے تھے۔ میں اور امی جان دونوں ہی بھول گئے تھے کہ ابھی نیچے سب لیٹے ہی تھے، کوئی بھی نیند میں نہیں ڈوبا تھا، بھلا دیر ہی کتنی ہوئی تھی ہمیں اوپر آئے ہوئے… پھر بھی میں اور امی جان حقیقت کو بھول کر جذبوں میں ساری دنیا کو فراموش کر بیٹھے تھے۔ میں اپنے اندر مچل رہے ہوسی جذبوں کا شکار تھا اور امی جان ایک بیٹے کے سامنے اپنی چوت کھول دینے سے اندر ہونے والی ہلچل سے گزر رہی تھیں۔ ایک ماں کے لیے یہ کیسی دردناک صورتحال تھی… لیکن میں ہوس میں اندھا ہوا اپنی ماں کے آنسوؤں کو نظر انداز کرتا، اپنے لنڈ کو ہلاتا ہوا اپنی امی جان کی چوت کو تاڑ رہا تھا۔
ہاں اسے تاڑنا ہی کہیں گے۔ میں یہ نہیں کہوں گا کہ آج تک کوئی چوت نہیں دیکھی تھی، دیکھی تھی… لیکن چونکہ کہانی میری اور امی جان کی سیکس لائف سے متعلق ہے… اس لیے کسی اور کا تذکرہ نہیں کروں گا۔
آہہہ لیکن امی جان کی وہ چوت جو اب تک میری نظروں سے اوجھل رہی تھی… وہ میری نظروں کے سامنے آ رہی تھی۔ میں ہوس کے منہ زور جذبوں کی شدت سے کانپنے لگا اور امی جان شرم سے کانپنے لگیں۔
میں نے ایک ہوسی بن کر ہوس بھری نظر امی جان کے روتے ہوئے چہرے پر ڈالی۔ میں امی جان کی چوت کو دیکھ رہا تھا اور ساری دنیا کو بھول گیا تھا، لیکن امی جان مجھے اپنی چوت میں گم دیکھتی جا رہی تھیں۔
اب جیسے ہی میں نے امی جان کی چوت سے نظر ہٹا کر امی جان کے چہرے کو دیکھا… امی جان نے چہرہ پھیر لیا۔ میں جان نہیں سکا کہ امی جان رونے کے ساتھ ساتھ مجھے نفرت کی نگاہ سے بھی دیکھ رہی ہیں یا نہیں… امی نے چہرہ پھیر کر آنکھیں بند کر لیں… آنسو رکنے کا نام نہیں لے رہے تھے امی کی آنکھوں سے۔
میرے لنڈ کی نسوں میں میرے جوش کو بڑھا رہی میری منی مجھے دنیا بھلانے لگی، ماں اور بیٹے کے مقدس رشتے کو بھلانے لگی۔ مقدس رشتہ تو میں ماں کو چودنے کا من بنا کر ہی پامال کر چکا تھا، اب کہاں رہا تھا میرے دل میں ماں کے لیے مقدس پیار… ماں کے جسم میں جہاں مجھے برسوں ممتا ملا کرتی تھی، اب ماں کا وہی جسم میرے لیے صرف ایک جسم بن کر رہ گیا تھا۔ اسی جسم والی کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے، اور اسی جسم والی کی ٹانگوں کے بیچ چھپا انمول خزانہ میری آنکھوں کے سامنے تھا اور میں لالچی ہوس میں اندھا، ماں کے آنسوؤں پر نہ تڑپ کر اپنے لنڈ کے ہاتھوں مجبور ہو کر، ماں کے بھیگے چہرے سے نظریں ہٹا کر ایک ہاتھ امی جان کی چوت پر رکھ گیا۔
امی جان کا جسم واضح طور پر کانپ اٹھا… ایک ہاتھ بھی وہ اپنے منہ پر رکھ گئیں تھیں کہ کہیں کوئی آواز نہ ان کے منہ سے نکل جائے۔
میں اب امی جان کی چوت کو براہِ راست چھو رہا تھا… امی جان کی چوت کے لب کے اندر ایک انگلی پھیر کر میں نے اپنی ناک سے لگائی اور سونگھنے لگا… لنڈ اور بھی ٹائٹ ہوتا چلا گیا… نشہ اور بھی میری رگوں میں بڑھنے لگا، میری مدہوشی میں اور بھی زیادہ اضافہ ہونے لگا۔ میں بیٹے سے پوری طرح ہوسی بن بیٹھا… امی جان کی چوت کی خوشبو ایسی مسحور کن تھی، میں اپنی ناک امی جان کی چوت سے لگا کر بالکل پاس سے چوت کی بو اپنے اندر اتارنے لگا۔
رہا سہا ہوش بھی جاتا رہا میرا… پھر میں امی جان کی ٹانگوں کے بیچ آیا اور جھکتا ہوا امی جان کی چوت پر منہ لگاتا ہوا منہ سے زبان نکال کر امی جان کی چوت کو چاٹنے لگا۔
شاید ابو نے کبھی امی جان کی چوت نہیں چاٹی تھی… امی جان کو جھٹکا لگا مجھے اپنی چوت پر منہ لگاتے دیکھ کر… امی جان اٹھ کر بیٹھ گئیں، میں سر اٹھا کر نشے سے چور آنکھوں سے دیکھنے لگا۔
امی جان نے میری آنکھوں میں بغور دیکھا، کچھ پل دیکھتی رہیں… پھر واپس سے پیچھے سر گراتی ہوئی تکیے پر رکھ گئیں، میں کچھ اور نہ سوچتا ہوا سیدھا امی جان کی چوت پھر سے چاٹنے لگا۔ اتنا مدہوش ہوا کہ میں نے تب تک امی جان کی چوت سے منہ نہیں ہٹایا جب تک امی جان کی چوت گرم ہو کر پانی نہیں چھوڑ گئی… جب میرے منہ نے امی جان کی چوت کا اصلی رس چکھا تو میں جیسے ہوش میں آیا… نشہ تو پہلے سے بھی زیادہ بڑھ گیا تھا… لیکن امی جان چوت چاٹے جانے سے مدہوش ہو کر خود پر کنٹرول بھول گئی تھیں، یہ بات میرے دماغ میں آئی تو میں حیرت سے سر اٹھا کر امی جان کو دیکھنے لگا۔
دیکھا تو امی جان کے چہرے پر دوپٹہ تھا… لیکن امی جان کے ہانپنے سے آ رہی سانسوں کی آواز سے میں نے سب جان لیا۔ میں جھوم اٹھا… میں نے معرکہ سر انجام دے دیا تھا… امی جان اگر راضی نہیں ہوتیں تو ان کی چوت کبھی بھی راضی ہو کر مزے میں ڈوب کر میرے منہ پر برسات نہ کرتی۔
آہہہ عمران زندہ باد… تو کھلاڑی بن گیا رے… اپنی امی کی چوت چاٹ کر اس کی چوت سے پانی نکال کر تو نے اسے ہمیشہ کے لیے پا لیا۔
اب میرا خود پر کنٹرول اور بھی مشکل ہو گیا… میں اپنا لنڈ پہلے ہی شلوار کے اندر سے نکال چکا تھا… شلوار اتاری نہیں تھی، اتارنے میں رسک تھا، کوئی اوپر آ جاتا تو واپس سے پہننے میں دیر لگ سکتی تھی، اسی لیے میں نے لنڈ ہی باہر نکالا۔ اور پھر کام بھی تو لنڈ کا ہی تھا… ساری شلوار ابھی اتارنے کی ضرورت ہی کیا تھی… بس لنڈ کو ڈالنا تھا امی جان کی چوت میں اور میری سب سے بڑی آرزو پوری ہو جانی تھی۔
میں امی جان کے اوپر سے اٹھ کر چھت پر جہاں سیڑھیاں تھیں، وہاں کھڑا ہو کر نیچے کی سن گن لینے لگا… سب سوئے پڑے تھے، اب تک شاید سب نیند میں ڈوب چکے تھے۔ میں ریلیکس ہو کر پھر سے امی جان کے قریب آیا اور امی جان کی دونوں ٹانگوں پر آتا ہوا، اپنی دونوں ٹانگیں سائیڈز پر رکھتا ہوا اپنے لنڈ کو پکڑ کر امی جان کی چوت پر رکھتا ہوا امی جان کے اوپر جھک گیا۔
امی جان نے کہا تھا کہ آج تو اپنے من کی مار لے، میں تجھے نہیں روکوں گی… واقعی میں آج تو کمال ہی ہو گیا تھا، آج امی مجھے بالکل بھی نہیں روک رہی تھیں۔
میں اپنے لنڈ کو امی جان کی چوت پر رکھ کر جھکتا ہوا امی جان کے چہرے پر آیا اور دوپٹہ امی کے چہرے سے ہٹا کر امی جان کے چہرے کو دیکھنے لگا۔
اب میں نے قریب سے دیکھا تھا امی جان کا چہرہ۔ آہہہ آنسوؤں نے کتنا زیادہ بہہ کر امی جان کے چہرے کا نقشہ ہی بدل کر رکھ دیا تھا… میرا لنڈ امی جان کی بھیگی ہوئی چکنی چوت پر تھا… میری ٹانگیں امی جان کی ٹانگوں کے ساتھ ہی لمبی تھیں، میں پوری طرح سے امی جان پر چھایا ہوا تھا…۔
لنڈ تو چاہ رہا تھا کہ ۔۔بنا دیری کے امی جان کی چوت میں گھس جائے… وہی تو تھی اس کی جگہ، میرے ساتھ ساتھ وہ بھی اسی چوت کے اندر سے باہر نکلا تھا۔ کیا ہوا جو اب میری طرح جوان ہو گیا تھا، میں تو پورے کا پورا امی جان کی چوت میں نہیں سما سکتا تھا، لیکن میرا لنڈ تو سارے کا سارا امی جان کی چوت میں سما سکتا تھا… جہاں میں 9 مہینے رہا تھا، وہاں کے میرے ٹھکانے کو چوم سکتا تھا… ابھی امی جان کی چوت کے لبوں میں اس سوراخ کو چوم رہا تھا جہاں سے میرا لنڈ اندر جا سکتا تھا۔
میرے ہونٹ بھی بے قرار ہونے لگے… چاہنے لگے کہ جیسے میرا لنڈ امی جان کی چوت کے لبوں کو چوم رہا ہے، ایسے ہی میں اپنے ہونٹوں سے امی جان کے ہونٹوں کو چوم لوں۔
لیکن میری نظر امی جان کے آنسوؤں سے لتھڑے گالوں پر اٹکی ہوئی تھی، سائیڈ سے کانوں کی طرف بھی بہہ چکے تھے۔ یہاں کچھ فلمی سا کرنے کو من ہوا… پھر میں نے امی جان کے ہونٹوں کو نہ چوم کر امی جان کی بند آنکھوں کو چوم لیا… میرے ہونٹوں پر امی جان کی چوت کا رس لگا ہوا تھا، بو آ رہی تھی میرے ہونٹوں سے امی جان کی چوت کے لیس دار پانی کی…۔
اپنی ہی چوت کی بو پر امی جان کسمسائیں… لیکن مجھے خود سے دور نہیں کر پائیں۔ مجھے میری من مانی کرنے دے رہی تھیں آج… آج امی جان مہربان ہوئی پڑی تھیں… پھر میں امی جان کی آنکھوں کو چوم کر جہاں جہاں سے آنسوؤں سے امی جان کا چہرہ گیلا تھا، میں وہ سارا گیلا پن اپنے ہونٹوں سے دور کرنے لگا۔
دور کیا کرنا تھا، آنسوؤں سے ہوئے چہرے کو صاف کرتا ہوا امی جان کی چوت کے رس سے ہی بھگونے لگا… امی جان کا پورا چہرہ انہی کی چوت کے پانی سے مہکنے لگا۔ امی جان بار بار اپنا سر ادھر سے ادھر کر رہی تھیں…۔
شاید انہیں اپنی ہی چوت کی بو اچھی نہیں لگ رہی تھی… لیکن مجھے تو بڑی پسند آئی تھی… میں آنسو پیتا رہا… جانے کیا ہوا… شاید امی کے آنسوؤں کا نمکین پانی میرے اندر گھلا تو میرے اندر کہیں گھنٹی سی بج اٹھی۔ ایک تو میں ہوش میں آ گیا کہ میں اگر امی جان کی مرضی سے ہی سب کر رہا ہوتا تو امی جان اتنے آنسو کیوں بہاتیں؟ دوسرا میرے اندر سے کہیں آواز ابھری:۔
“ابے بیوقوف… آج تو نے اگر اپنی امی جان کی پوری رضامندی کے بغیر انہیں چود ڈالا نا… ان کی من مرضی کی خوشی کے بغیر ان کی چوت میں اپنا لنڈ گھسا دیا نا… تو ہو سکتا ہے جس طرح سے امی آنسو بہا رہی ہیں… امی دلبسونیاشتہ ہوتے ہوئے خود کو کوئی نقصان نہ پہنچا دیں… ایسا بھی تو ہو سکتا ہے… ایک بار کے بعد کبھی پھر سے تجھے چوت نہ ملے اپنی ہی امی کی… دیکھ تو سہی کیسے رو رہی ہیں، یہ بھی تو غور کر… تجھ سے انہوں نے مزے لے لے کر چدنا ہی ہوتا تو تجھے خالہ کے پاس بھیجنے کا پلان ہی کیوں سوچتیں…”۔بہن چود ۔۔
یہ ساری باتیں امی جان کے آنسو میرے گلے سے نیچے اترتے ہی میرے من میں آنے لگیں۔ اب مجھے خود پر زیادہ غصہ تو نہیں آیا کہ میں نے اپنی مرضی کرتے ہوئے امی جان کو کتنا زیادہ رلا دیا… ہاں دل میں درد ضرور اٹھا… میرے ہوسی دماغ نے مجھے سوچ سمجھ کر پہلی چدائی کے لیے بول دیا… اور میں اپنا لنڈ امی جان کی چوت پر رکھے ہوئے ہی امی جان کے چہرے پر اپنے چہرے کو کچھ انچ اوپر رکھے غور سے امی جان کا چہرہ دیکھنے لگا۔
آہہہ۔۔ اب مجھے صحیح صورتحال کا اندازہ ہو رہا تھا… لیکن لنڈ اب بھی ماننے کو تیار نہیں تھا… لیکن سالا لنڈ کی ہی تو اب تک سنتا آ رہا تھا، لنڈ بھوسڑی کا ایک بار گھسنے کے چکر میں، چوت کے نشے میں یہ بھول گیا تھا کہ اگلی بار اسے ٹھینگا بھی مل سکتا ہے… لیکن دماغ تو میرے پاس تھا، لنڈ کے پاس نہیں…۔
سو میں نے دل میں امی جان کے لیے درد کے ساتھ ساتھ دماغ سے بھی سوچنا شروع کر دیا…۔
تبھی امی جان کی درد بھری آواز سنائی دی: ۔
“رک کیوں گیا تو عمران… جہاں اٹکا ہوا ہے تو… وہاں سے تیری منزل اب دور نہیں ہے… جہاں تو پہنچ چکا ہے، وہاں تک بھی تو نہیں پہنچ سکتا تھا اگر میں تجھے اتنی اجازت نہ دیتی تو… لیکن پھر بھی ابھی تک سب کچھ سلامت ہے، تو چاہے تو اپنی من مانی کر سکتا ہے… چاہے تو واپس پلٹ سکتا ہے…”۔
میں نے ایک گہری سانس لی… اور امی جان کے چہرے کو چوم کر بولا:۔
“امی جان آنکھیں کھولیے”
امی جان:۔
“نہیں… جس حالت میں میں ہوں، جس حالت میں تو میرے اوپر ہے… میں آنکھیں نہیں کھول سکتی”۔
میں: ۔
“اگر میں جس اسٹیج تک آ گیا ہوں، اس اسٹیج سے آگے بڑھنے سے خود کو روک لوں… تب بھی کیا آپ آنکھیں نہیں کھولیں گی؟”۔
میری بات پر امی جان نے جھٹ سے آنکھیں کھول دیں… شرم سے زیادہ امی جان کی آنکھوں میں دکھ اور درد کے تاثرات تھے… ایک ماں ہو کر بیٹے کا لنڈ اپنی چوت پر جان رہی تھی… پھر بھی شرم کم اور دکھ زیادہ تھا…۔
میں: ۔
“ہاں امی… میں پتہ نہیں کیا سے کیا بن گیا ہوں… کب سے آپ کے ساتھ ایسے آگے بڑھ جانے کی سوچ بیٹھا تھا… ابھی بھی خود کو سمجھا نہیں پایا ہوں میں… اب بھی میں خود کو روک نہیں پا رہا ہوں امی جان… لیکن میں آپ کو دکھ میں نہیں دیکھ سکتا”
امی جان کی زہر میں ڈوبی ہوئی آواز سنائی دی: ۔
“اب کیا رکھا ہے ان باتوں میں… جتنا آگے بڑھ گیا ہے… اتنا آگے بڑھنے سے پہلے سے ہی یہ سب بول دیتا۔ تو خود کو نہیں روک سکتا تھا تو اب بھی مت روک… میں نے تجھے اجازت دے دی ہے… میں تجھے نہیں روکوں گی… تو مار دھکا اور ڈال دے سارا اندر… کر لے اپنی ساری حسرتیں پوری… میرا کیا ہے، پہلے بھی جی رہی تھی، اب بھی جی ہی لوں گی”۔
میں:۔
“لیکن میں اپنی من مرضی سے نہیں، آپ کی مرضی سے بھی سب کرنا چاہتا ہوں”۔
امی جان: ۔
“میری مرضی کبھی ٹیری مرضی کے ساتھ شامل نہیں ہو سکتی”۔
میں:۔
“میں اپنی کوششیں کبھی نہیں چھوڑوں گا امی جان… مجھے یقین ہے ایک نہ ایک دن میں آپ کو راضی کر ہی لوں گا”۔
امی جان: ۔
“وہ دن کبھی نہیں آئے گا عمران… آج ہی وہ دن ہے، جب تو میرے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے… جا تجھے ساری رات دی… یہاں نہیں تو چل نیچے میرے کمرے میں… میں ساری کی ساری تیری ہو جاؤں گی… تو کہے گا تو سارے کپڑے اتار کر ساری شرم بھی اتار دوں گی… لیکن یہ جو تو سوچے ہوئے ہے نا کہ میری مرضی کو شامل کر کے تو یہ گناہ میرے ساتھ کر سکتا ہے، تو یہ تیری بھول ہے…”۔
میں:۔
“تو پھر کچھ دیر پہلے جب میں نے آپ کی چاٹی تھی تو آپ مست ہو کر مزے سے چور ہو کر پانی میں نہا کیوں گئی تھیں؟”۔
امی جان کے چہرے پر شرم کے کئی رنگ آئے… لیکن جلد ہی چلے بھی گئے…۔
امی جان: ۔
“جو ہوا… وہ من مرضی سے نہیں، زور زبردستی سے ہوا ہے”۔
میں: ۔
“ایسی زور زبردستی تو ہو ہی نہیں سکتی…”۔
امی جان: ۔
“تو ابھی بچہ ہے عمران… تو سب نہیں جانتا… کبھی کبھی جسم دل اور دماغ کے قابو سے باہر ہو جاتا ہے… تو کچھ بھی اور مت سمجھ”۔
میں: ۔
“میرے دل نے تو کہہ دیا ہے کہ آپ راضی ہیں”
امی جان: ۔
“اچھا… تجھے ایسا لگتا ہے تو چل پھر مار دھکا۔ جیسی راضی تجھے میں پہلے دکھ رہی تھی، اب بھی ویسی ہی راضی دکھ رہی ہوں… کر لے اپنی چاہ پوری”۔
میں اپنا لنڈ اٹھا کر امی کا ایک ہاتھ اپنے لنڈ پر لے گیا… امی نے تو جیسے سچ میں قسم کھا لی تھی کہ میں کیسے بھی کچھ بھی کروں، وہ دل سے تو نہیں میرا ساتھ دیں گی… لیکن جیسا میں چاہوں گا وہ کرتی رہیں گی۔
امی نے میرے لنڈ کو پکڑ لیا… پھر اپنی چوت کے سوراخ میں میرے لنڈ کو کو پھنسا کر بولیں:۔
“اسی لیے تو نے پکڑایا ہے نا… لے اب میں نے خود سے سیٹ کر دیا ہے… چل مار دھکا”۔
میں دھیرے سے ہنس پڑا…۔
امی: ۔
“ہنس مت، کر اور کر وہی جو تیرے دل میں ہے”
میں: ۔
“وہی کروں جو میرے دل میں ہے؟”
امی جان: ۔
“ہاں وہی کر”
میں: ۔
“تب کیا آپ میرا ساتھ دیں گی؟”
امی جان:۔
“ہاں، دل سے تیرے ساتھ راضی نہیں ہو سکتی، ورنہ تو جیسا آج مجھ سے کروائے گا… میں ویسے ہی کروں گی”۔
میں امی کے ہونٹ کو چوم کر بولا: ۔
“تو پھر ایسا کریں… اپنی چوت پر ایسے ہی میرے لنڈ کو رکھ کر میرے لنڈ سے منی نکال دیں”۔
امی جان کے چہرے پر پھر سے شرم بڑھی… میرے منہ سے ننگے لفظ سن کر…۔
امی نے پہلے تو آنکھیں بند کیں، جیسے خود کو میری بات کے لیے تیار کر رہی ہوں… پھر آنکھیں کھول کر عجیب سی چمک کے ساتھ میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئیں میرے لنڈ کو مسلنے لگیں۔
اتنا بھی اسٹیمنا نہیں تھا میرا… اتنی دیر سے کھڑے لنڈ کے ساتھ تھا، اوپر سے میرا لنڈ امی جان کی چوت پر تھا… پہلے ہی اتنی دیر سے ہوتا تو کب کا منی سے خالی ہو چکا ہوتا… وہ تو میں امی جان کی چوت کی خوشبو سونگھ کر پاگل ہو گیا تھا، اس لیے ہوش کھو بیٹھا تھا، لنڈ پر سے دھیان ہٹا بیٹھا تھا…۔
اب امی کے ہاتھ میں میرا لنڈ تھا اور چوت کے لبوں میں اندر اس کی ٹوپی تھی… کیسے لنڈ قابو میں رہ سکتا، اوپر سے امی جان کا نرم اور گرم ہاتھ… یہ سوچ بھی تھی کہ امی جان اپنی چوت پر میرے لنڈ کو رکھ کر مٹھ لگا رہی ہیں…۔
میں اپنی گانڈ اٹھائے ہوئے ہی، اپنے لنڈ سے امی جان سے مٹھ لگواتے ہوئے ہی امی جان کے ہونٹوں کو چوسنے لگا۔ یہاں ایک بار پھر سے امی جان نے اپنے ہونٹ سائیڈ کرنے کی کوشش کی، میرے ہونٹوں سے ابھی بھی چوت کے رس کی بو نہیں گئی تھی…۔
لیکن امی جان نے خود کو سنبھال لیا… مجھے اپنے ہونٹ چوسنے دیے… میرے لنڈ کی مٹھ لگاتی رہیں… کتنی دیر… آخر کتنی دیر میں بسونیاشت کر پاتا… کس کرنی بھول گیا… امی جان کے اوپر گرا میں امی جان کی چوت پر اپنے لنڈ کو رگڑنے لگا… پھر ایک نہر کا بند ٹوٹنے پر جیسے پانی زور کے ساتھ باہر نکل پڑتا ہے، ٹھیک ویسے ہی میرے لنڈ سے بھی منی کے کئی قطرے نکل نکل کر امی جان کی چوت پر اکٹھے ہونے لگے۔
پہلے امی جان ہانپی تھیں چوت کے جھڑنے سے… اب میں ہانپ رہا تھا لنڈ سے منی کے نکل جانے کے بعد…۔
امی جان نے بھی اپنا ہاتھ نکال کر بستر سے صاف کرنا شروع کر دیا تھا…۔
آہہہ امی جان کی چوت نے اور میرے لنڈ نے جیسے بھی سہی، لیکن رس نکال لیا تھا… ہمارے رشتے کی بنیاد رکھی جا چکی تھی، بھلے ہی امی جان کچھ بھی کہتیں…۔
میں گہری گہری سانسیں لیتا ہوا خود کو ہواؤں میں اڑتا ہوا محسوس کر رہا تھا…۔
اب تک یہی دیکھا تھا کہ مرد کے فارغ ہونے کے بعد، مرد کے نیچے دبی ہوئی عورت مرد کے سر کو سہلانے لگتی تھی یا پھر اس کی پیٹھ کو۔۔۔ لیکن امی جان نے میرے سر یا میری پیٹھ کے ساتھ ایسا کچھ نہیں کیا۔ میرا سخت اور اکڑا ہوا عضوِ تناسل امی جان کی پھدی پر منی چھوڑنے کے بعد ڈھیلا ہو گیا تھا۔ میں ہانپتا رہا اور امی جان بے سدھ لیٹی رہیں۔