امی سے طوفانی عشق۔۔۔(قسط 7)

امی جان بولیں:۔
“تجھے اپنی ماں کے جسم سے کھیلنے میں مزہ ملتا ہے، تو لے جتنا مزہ لینا ہے۔ کل کی رات دل پر پتھر رکھ کر تجھے دے دی تھی، تیرے ساتھ وہ سب کر گزری جو ایک ماں کبھی اپنے بیٹے کے ساتھ نہیں کرتی، لیکن میں نے کیا۔ سوچا تھا کہ ایک ہی بار زہر کا گھونٹ پینا پڑے گا، اس لیے من مار کر تیرے آگے سب کھول گئی۔۔۔ لیکن نہیں، میں بھول گئی تھی کہ تو اتنا آگے نکل چکا ہے جہاں سے تیری واپسی اب ممکن نہیں ہے۔ تو اپنی ماں کے جسم کو پانے کے لیے نئی نئی باتیں کرنا سیکھ گیا ہے۔ باتیں سے دال نہیں گلی تو میری بیٹیوں پر گندی نظر ڈالنے لگا۔ میں تیرے گندے ہاتھ کبھی اپنی بیٹیوں کے جسموں کو نہیں لگنے دوں گی، چاہے اس کے لیے مجھے کچھ بھی کرنا پڑے۔”۔

آہ! میرا لنڈ پھر سے سخت ہو گیا تھا۔ امی جان کے آنسو اور غصہ مجھے جذباتی بنا دیتے۔ اگر میرا لنڈ کھڑا نہ ہوتا، اگر امی جان پھر سے اپنی چوت پر میرا ہاتھ رکھ کر نہ رگڑتیں۔۔۔ لیکن اب تو امی جان نے میرے اندر کے ہوس پرست انسان کو پوری طرح سے جگا دیا تھا۔ اب تو میں چاہ کر بھی امی جان کے جسم سے مزے کیے بغیر نہیں رہ سکتا تھا۔

میں نے امی جان کی قمیص کا پلو پکڑ کر اپنا ہاتھ چوت پر رکھ دیا۔ بھلے ہی شلوار نہیں اتری تھی، لیکن شلوار کے اوپر سے چوت کے لبوں میں میری انگلیاں ایسے گھس کر امی جان کی چوت کو محسوس کرنے لگی تھیں جیسے شلوار ہو ہی نہ۔ میں نے دوسرے ہاتھ سے امی جان کا ہاتھ پکڑ کر اپنی قمیص کے پلو کے نیچے سے اپنے لنڈ پر رکھ دیا۔
امی جان نے مجھے دیکھا اور پھر وہی غصے والی کیفیت میں آتی ہوئی میرے لنڈ کو پکڑ گئیں۔ میں جوش کے ساتھ، تیزی کے ساتھ، سخت انگلیوں کے ساتھ امی جان کی چوت کے لبوں میں انگلی چلانے لگا۔ اوپر چوت کے دانے کو بھی مسل رہا تھا۔
دیکھتے ہی دیکھتے امی جان رونا بھول کر جسم کی آگ میں جلنے لگیں۔ وہ کھڑے کھڑے کسمسانے لگیں، کانپنے لگیں، لرزنے لگیں، تیز تیز سانسیں لینے لگیں۔ ان کے مَمّے زور زور سے ہلنے لگے۔
لیکن میں نے امی جان کی غلط فہمی کو ابھی دور نہ کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ امی جان کی غلط فہمی نے میرے دماغ میں ایک اور ہی پلان کو جنم دے دیا تھا۔ میں جتنا آگے بڑھ چکا تھا، وہاں سے لوٹنا ہوتا تو اتنا سب نہ کرتا۔ لیکن ایک تو میں لوٹ نہیں سکتا تھا اور دوسرا میں لوٹنا ہی نہیں چاہتا تھا۔ میں تو پلان پر پلان بنا رہا تھا۔ آج امی جان غلط فہمی کا شکار ہو کر مجھے ایک اور پلان سوجھا گئی تھیں۔
جب امی جان کے جسم میں اتنی آگ بھڑک اٹھی، میں کچھ دیر اور امی جان کی چوت کو رگڑتا رہتا تو امی جان فارغ ہو جاتیں، لیکن میں نے امی جان کی چوت کی آگ کو بڑھا کر اپنا ہاتھ ہٹا لیا۔ امی جان کی چوت نے کل رات میرے لنڈ کو اچھے سے جان لیا تھا، آج ان کے ہاتھ نے بھی جان لیا تھا۔ ابھی اور بھی جان پہچان ہونی ضروری تھی، بنا جان پہچان کے امی جان میرے لیے، میرے لنڈ کے لیے بے چین نہیں ہوتیں اور میں انہیں اتنا بے چین کر دینا چاہتا تھا کہ وہ خود میرے لیے، میرے لنڈ کے لیے تڑپنے لگیں.۔
میں پیچھے ہٹ کر امی جان کو دیکھنے لگا اور امی جان اپنی آگ کے نہ بجھ پانے کی وجہ سے دیوار کا سہارا لے کر لمبی لمبی سانسیں لینے لگیں۔ ان کی آگ تو نہیں بجھی لیکن دو ہی منٹ میں وہ خود پر بہت حد تک قابو پا گئی تھیں.۔
میں ان کے قریب منہ کرتا ہوا بولا: ۔
“ٹھیک ہے، میں بھی آج کی رات برباد نہیں کرنا چاہتا۔ آپ آج کی رات میرے ساتھ چھت پر نہیں، میرے کمرے میں سوئیں گی۔ آپ اپنی بیٹیوں کے جسموں کو مجھ سے دور رکھنے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتی ہیں، تو آج کی رات خاص ہے اس بات کے لیے۔۔۔”۔
میں اتنا بول کر امی جان کو دیکھے بنا اپنے لنڈ کو ناڑے میں کستا ہوا نیچے جانے لگا۔ پھر میں بنا باتھ روم میں گئے گھر سے باہر نکل گیا۔ باتھ روم میں ماں سے ملنے کے بعد بار بار جانا شک میں ڈال سکتا تھا۔ کل سونیا نے مجھے اور امی جان کو چھت سے اترنے کے بعد باتھ روم میں جاتے دیکھ لیا تھا۔ ابھی مجھے دیکھ لیتی تو شاید زیادہ شک نہ کرتی، لیکن میں نے امی جان کی جو حالت کر دی تھی، وہ ضرور باتھ روم میں جاتیں، خود کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کرتیں، خود کو نارمل کرنے کی کوشش کرتیں۔ ایسے میں سونیا یا حنا، جو اب جوان ہو چکی تھیں، شک میں پڑ سکتی تھیں.۔
میں رات نو بجے واپس آیا۔ سب چارپائیوں پر بیٹھے باتیں کر رہے تھے۔ امی جان نے مجھے دیکھ کر نظر انداز کر دیا۔ میں ابو کے پاس گیا، انہیں پیٹ کے بل لٹا کر ان کی پیٹھ اور پاؤں دبانے لگا۔ یہ میں پہلے بھی کرتا رہتا تھا، لیکن آج مقصد کچھ اور تھا۔ میں خوب ٹائم لگا کر ابو کی خدمت اس لیے کر رہا تھا تاکہ ابو گہری نیند سو جائیں اور میرے لیے دل سے خوش ہوں۔ ٹائم بھی زیادہ لگ جاتا اور سب سو جاتے۔ پھر میں امی جان کے ساتھ کمرے میں جاتا تو کوئی پریشان کرنے نہ آتا.۔
میں نے بتا دیا تھا ابو کو کہ ابھی جیسے ان کی خدمت
کر رہا ہوں، ایسے ہی میں سکون سے پوری رات امی جان کے ساتھ لپٹ کر سونا چاہتا ہوں، پھر پتا نہیں کتنے مہینوں کے بعد ماں کی ممتا ملے۔
امی جان میری ایسی بات پر مجھے گہری اور تیز نظر سے دیکھنے لگی تھیں۔ سوچ رہی ہوں گی کہ کتنا دماغ چلنے لگا ہے میرا، ماں کے جسم کو پانے کے لیے کیسی کیسی باتیں کرنا سیکھ گیا ہے.۔
میں اور امی جان میرے کمرے میں تھے اور کمرہ اندر سے بند تھا۔ گیارہ سے اوپر کا ٹائم ہو چکا تھا اور سب کو سوئے ڈیڑھ گھنٹہ بیت چکا تھا۔ کمرے میں آتے ہی امی جان میرے بستر پر جا بیٹھیں اور مجھے دیکھنے لگیں۔ کتنی آگ تھی ان کی آنکھوں میں، کتنا دکھ بھی تھا ان کی آنکھوں میں۔ میرے لیے اداس بھی تھیں، میں کل جانے جو والا تھا۔ چوت کی آگ جو ان کے پورے جسم میں رچی ہوئی تھی، وہ بھی اتنی دور سے آنچ دے رہی تھی۔
میں امی جان کو بستر سے اٹھا کر بستر کو نیچے فرش پر بچھانے لگا۔ امی مجھے ایسا کرتے دیکھ کر ضرور حیران ہوئی ہوں گی، لیکن بولیں کچھ نہیں.۔
میں دھیرے سے بولا: ۔
“بستر آواز کرے گا تو کسی کو شک پڑ سکتا ہے۔ ہم نیچے سب کریں گے، ایسے آواز نہیں ہوگی اور ہمیں کوئی پریشانی نہیں بنے گی۔ مزہ بھی زیادہ آئے گا۔”۔
مزے والی بات بولتے ہوئے میرے ہونٹوں پر سیکسی مسکراہٹ تھی اور ہاتھ اپنے لنڈ پر تھا جو اب کھڑا ہو چکا تھا۔ میں کھڑے لنڈ کو مسلنے کے بعد اپنی شلوار اتار کر چارپائی پر رکھتا ہوا نیچے بستر پر لیٹ گیا۔ کمرے کی زیرو بلب کی روشنی میں امی جان میرے لنڈ کو صاف صاف دیکھ پا رہی تھیں، ورنہ تو رات وہ صرف چھو ہی سکی تھیں، اپنی چوت پر محسوس کر سکی تھیں، لیکن لائیو میرے لنڈ کو پہلی بار دیکھ رہی تھیں، میرے اور میرے لنڈ کے جوان ہونے کے بعد۔۔۔
میں نے اشارے سے امی جان کو اپنے قریب بستر پر آنے کے لیے کہا۔ امی جان کی سانس تیز تھی۔ کبھی وہ مجھے دیکھتیں، کبھی میرے لنڈ کو۔ ان کے چہرے پر رنگ بدل رہے تھے؛ غصے کے، جسم کی آگ کے، میرے لیے پیار اور میرے جانے پر دکھ کے۔ اپنی بیٹیوں کی فکر بھی تھی انہیں، اپنے جسم کی پامالی کا ڈر بھی، وہی جسم جسے کل رات وہ خود پامال کرنے کے لیے میرے سامنے کھول گئی تھیں، آج پھر سے کھول دینے کی بات وہ کر گئی تھیں اور میں نے مان لی تھی.
امی جان کشمکش میں بھی تھیں۔ پھر وہ جیسے آگ کے سمندر میں کود جانے کا فیصلہ کرتی ہوئی میرے لنڈ کو گہری، تیز اور غصے بھری نگاہ سے دیکھتی ہوئی میرے قریب آ کر بیٹھ گئیں.۔
امی جان عجیب سے لہجے میں بولیں: ۔
“بول، کیا کرنا ہوگا مجھے؟”
میں نے امی جان کی ایک ٹانگ پکڑ کر کھول دی۔ قمیص کے پلو کو پکڑ کر اوپر کرتا ہوا ان کے پیٹ کو ننگا دیکھ کر اپنا ہاتھ رکھ کر مسلنے لگا۔ امی جان کو میں نے کوئی جواب نہیں دیا اور نہ ہی انہیں دیکھا۔ وہ ضرور مجھے ملے جلے تاثرات کے ساتھ دیکھ رہی ہوں گی۔ لیکن آج کی گیم الگ تھی۔
پیٹ پر کچھ دیر ہاتھ پھیرنے کے بعد میں نے امی جان کی چوت پر ہاتھ رکھ دیا۔
اففففففف! ۔
امی جان کی چوت آگ میں جل رہی تھی۔ کتنی دھیٹ ہیں امی جان، چوت کی آگ میں جل رہی ہیں اور ہیں کہ مان کے ہی نہیں دے رہیں۔ بھلا ایسی بھی کیا اپنے ہی جسم کے ساتھ دشمنی۔ چوت مسلنے کے بعد میں نے امی جان کی شلوار کی ڈوری کھول دی، پھر شلوار ڈھیلی کرتا ہوا اپنا ننگا ہاتھ امی جان کی ننگی چوت پر رکھ گیا۔ اوپر اوپر سے چوت کے ساتھ کھیلتا ہوا میں نے ایک انگلی امی جان کی چوت کے لبوں کے اندر گھسا دی۔ گرم چوت کا پانی لیس دار لیکن بہت گرم تھا۔ چھت پر میں نے جو امی جان کی چوت کے ساتھ کیا تھا، امی جان ابھی تک اسی آگ میں جل رہی تھیں۔ اففففففف! کتنی دیر سے آگ کو بسونیاشت کیے ہوئے تھیں.۔
میں نے لیٹے لیٹے ہی بیٹھی ہوئی امی جان کی چوت کے سوراخ میں انگلی تھوڑی سی ڈال کر گولائی میں گھمانے لگا۔ پھر امی جان کا چہرہ دیکھا، امی جان جو میرے چہرے کو ہی دیکھ رہی تھیں، جھٹ سے اپنا چہرہ سائیڈ پر کر گئیں۔
کل رات امی جان بہت روئی تھیں، شام کے بعد چھت پر بھی روئی تھیں، لیکن اس وقت۔۔۔ اس وقت وہ رو نہیں رہی تھیں۔ عجیب سی نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھیں، میں سمجھ رہا تھا کہ امی جان کے جسم کی کل سے بڑھ چکی آگ نے ان کے اندر طوفان برپا کر دیے ہوں گے، لیکن وہ آسانی سے ماننے والی نہیں تھیں۔ شاید کبھی نہ مانتیں، لیکن میں تو منا کے ہی رہنے والا تھا۔ لیکن آج بڑھیا سے کھیل کھیلنا ہوگا، تبھی امی جان کو ہمیشہ کے لیے میں پا سکتا تھا.۔
میں نے کہا:۔
“امی جان، شلوار اتار دیجیے گا۔”
امی جان نے بنا کچھ بولے کھڑے ہو کر اپنی شلوار اتار دی، لیکن کھڑی رہیں۔ میں نیچے سے امی جان کے آدھے ننگے جسم کو دیکھنے لگا، لیکن شلوار کے اتر کر نیچے ان کے پیروں میں آ جانے سے ان کی چوت دکھائی نہیں دی تھی مجھے۔ قمیص کا پلو گھٹنوں تک آیا ہوا تھا۔ میں نے پلو اٹھا کر امی جان کی چوت کے نظارے کرنے شروع کر دیے۔ چوت پر نظر پڑتے ہی میرے لنڈ نے زور کا جھٹکا کھایا۔ قمیص کے پلو کے نیچے ہلکا اندھیرا تھا، لیکن منظر تو کمال کا تھا، دماغ میں تو یہی تھا نا کہ میں امی جان کو بنا شلوار کے دیکھ رہا ہوں اور جہاں میری نظر اٹکی ہے وہاں ان کی چوت پر کچھ بھی نہیں ہے، چوت ننگی ہے۔ میں اٹھ بیٹھا، پھر قمیص کے پلو کو سائیڈ کرتا ہوا زیرو بلب کی روشنی میں امی جان کی چوت کو دیکھنے لگا۔ پہلی بار میری نظروں کے سامنے امی جان کی چوت اتنی کلیئرلی دکھائی دے رہی تھی۔ نہ فل بلب کی روشنی تھی، نہ ہی دن کا وقت تھا، صحیح سے تو تبھی دیکھی جا سکتی تھی، لیکن کل رات سے تو بہت ہی بہتر نظارہ تھا۔ میں امی جان کو کھل کر مجھے دیکھنے کے لیے چھوڑ کر اپنی نظریں ان کی چوت پر ٹکا کر اپنے ہاتھ سے ان کی چوت کو مسلنے لگا.
زیادہ نہیں مسل پایا، مسلتا تو امی جان کی چوت برس پڑتی۔ میں پھر سے لیٹ کر اپنے لنڈ کو سہلاتا ہوا امی جان سے بولا:۔
“بیٹھ جائیے۔”۔
امی جان تیز سانس لیتی ہوئی خود کو نارمل کرنے لگیں، لیکن وہ رو نہیں رہی تھیں۔ شاید جتنا رونا تھا رو چکی تھیں، اب غصہ ہی غصہ تھا، لیکن آگ ہی آگ بھی تھی ان کے اندر۔ کچھ جسم کی تو کچھ بیٹیوں کے لیے میری طرف سے خطرے کو جان کر، اسی آگ نے امی جان کو جیسے اور ہی روپ بخش دیا تھا.۔
امی جان بیٹھ گئیں، بولیں: ۔
“کیا کروں؟”
میں نے کہا:۔
“میرے لنڈ کی مٹھ لگائیں۔”
میں فل شہوت میں ڈوب چکا تھا، فل ماہر کھلاڑی بن کر ماہرانہ چالیں چل رہا تھا۔ میں بے غیرت بھی بن چکا تھا، امی جان کے جذبات سے کھیل رہا تھا، ان کے جذبات کا فائدہ اٹھا رہا تھا۔ کل میرے لیے تو آج وہ اپنی بیٹیوں کے لیے میرے سامنے اپنا جسم کھول گئی تھیں۔ میں نے کل بھی موقع کا فائدہ اٹھایا تھا، آج بھی اٹھا رہا تھا۔ تین سال سے ایسے ہی تو موقعوں کے انتظار میں تھا میں، کیسے ہاتھ سے جانے دیتا.۔
امی جان نے کانپتے ہوئے ہاتھ سے میرے لنڈ کو پکڑ لیا۔ کچھ پل پکڑے رہیں، پھر میری آنکھوں میں دیکھ کر ایک اور گہری سانس لے کر چھوڑتی ہوئی میرے لنڈ کی مٹھ لگانے لگیں۔ ان کا ہاتھ بہت گرم تھا، اتنا گرم کہ میرا لنڈ جل کر راکھ ہو جاتا اگر زیادہ دیر ان کے ہاتھ میں رہتا تو.۔
میں نے کہا:۔
“بس، اور نہ کریے۔ کل آپ نے مجھے سب کرنے دیا تھا، آج بھی آپ نے مجھے سب کرنے کی اجازت دے دی ہے۔”۔
امی جان بولیں:۔
“تجھ جیسے بے غیرت بیٹے سے اپنی بیٹیوں کی عزت بچانے کے لیے میں کچھ بھی کر سکتی ہوں۔”۔
میں نے پوچھا: ۔
“کچھ بھی؟”
امی جان نے کہا: ۔
“ہاں، کچھ بھی۔”
میں بولا:۔
“تو پھر آج میں نہیں، آپ وہ سب کریں گی جو جسموں کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔”۔
امی جان بولیں:۔
“میں سمجھی نہیں۔”
میں نے کہا: ۔
“آپ اناڑی تو نہیں ہیں، سالوں سے ابو سے چد رہی ہیں، کیا نہیں جانتی ہیں؟ مرد ایسے میری طرح لیٹا ہو، اس کا لنڈ کھڑا ہو، پاس ہی ایک چوت ہو تو چوت کا کیا کام ہوتا ہے؟”۔

میں کتا کمینا فل بے شرم بن کر بول رہا تھا۔ امی جان سمجھ گئیں، ایک پل کے لیے ان کی آنکھوں میں درد دکھا، پھر وہ اپنا چہرہ پھیر کر میری کمر کے گرد دونوں ٹانگیں رکھتی ہوئی میرے پیروں کی طرف منہ کرتی ہوئی نیچے بیٹھنے لگیں۔ جب لنڈ چوت کے قریب آیا تو امی جان نے میرے لنڈ کو پکڑ کر اپنی چوت پر سیٹ کیا اور بیٹھنے لگیں.۔
میں نے کہا:۔
“ایسے نہیں، میری طرف منہ کر کے کریں۔”
امی جان بولیں: ۔
“نہیں، میں تیری طرف منہ نہیں کر سکتی۔”
میں نے کہا: ۔
“لیکن آپ نے تو آج پورے من سے میرا ساتھ دینے کا فیصلہ کیا تھا۔”۔
امی جان کے جسم میں لرزش میں نے کلیئرلی محسوس کی۔ انہیں بھی یاد آ گیا تھا، وہ اپنے ہاتھ سے میرا لنڈ چھوڑ کر سائیڈ بدل کر اپنا چہرہ میرے چہرے کی طرف کرتی ہوئی، اپنا سر جھکا کر پھر سے میری دونوں سائیڈز پر پیر رکھتی ہوئی میرے لنڈ کو تھام کر اپنی چوت پر لگا گئیں.۔
میں نے نہیں روکا۔ جیسے ہی میرا لنڈ امی جان کی چوت کے سوراخ میں تھوڑا سا داخل ہوا، امی جان نے سر اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھا۔ اب مجھے امی جان کی آنکھوں میں نمی دکھی، آنسو باہر نہیں آئے تھے، ان کا جسم آگ میں جل رہا تھا، دل بھی جل رہا تھا.۔
میں نے یہاں اپنے جبڑوں کو آپس میں کس کے دبا لیا تاکہ میرے ایکسپریشنز امی جان کو میرے اندر کا حال نہ بتا سکیں۔ میں کچھ الگ کرنے والا تھا اور لنڈ امی جان کی چوت پر تھا، جو اب چوت میں گھسنے ہی والا تھا۔ میں خود سے بھی لڑ رہا تھا ورنہ میرے اندر کی آگ، میرے اندر کا ہوسی مجھے میرے پلان کو بھول کر آج بھرپور چدائی کرنے پر بہت اکسا رہا تھا.۔
امی جان نے ایک نظر مجھے دیکھا، پھر دھیرے دھیرے نیچے ہوتی چلی گئیں۔ میرا لنڈ تھوڑا تھوڑا کر کے ان کی چوت میں گم ہونے لگا۔ میں محسوس کر پا رہا تھا کہ امی جان کی چوت ٹائٹ ہے، اندازہ لگا سکتا تھا کہ اس عمر میں اب ابو کا لنڈ زیادہ ٹائٹ نہیں رہا ہوگا، کیا پتا ابو کا لنڈ میرے لنڈ سے چھوٹا بھی ہو، تبھی امی جان کی چوت ٹائٹ تھی۔ جتنی ٹائٹ تھی، اتنی ہی گرم بھی تھا.۔
دھیرے دھیرے لنڈ امی جان کی چوت میں گم ہوتا چلا جا رہا تھا۔ مجھے امی جان کے چہرے پر اب چوت میں لنڈ کے گھسنے پر ہونے والا درد دکھائی دے رہا تھا۔ بہت وقت کے بعد لنڈ چوت میں گھسے تو درد دیتا ہے، پہلے سے بڑا لنڈ گھسے تو بھی درد دیتا ہے، عورت خود سے اپنی چوت میں لے تو بھی درد دیتا ہے۔ وہی سارے درد امی جان کے چہرے پر مجھے نظر آنے لگے.۔
میں نے سر کے نیچے تکیے کو فولڈ کرتے ہوئے اپنے سر کو اٹھا دیا تھا، اب امی جان کی چوت میں گھستا میرا لنڈ مجھے صاف دکھائی دے رہا تھا۔ کمال کا نظارہ تھا، ایسا نظارہ آج تک میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ دیکھا تھا، لیکن وہ بے حیا لڑکیوں کے نظارے تھے، میری امی جان جیسی شرم والی کی چوت میں گھستے لنڈ کا نہیں۔ کیا بات تھی، ماں تو پھر ماں ہوتی ہے.۔
دیکھتے ہی دیکھتے امی جان درد کو سہتی ہوئی میرا لنڈ اپنی چوت میں اتار گئیں۔ سارا لنڈ چوت میں گھس جانے کے بعد امی جان لمبی لمبی سانسیں لینے لگیں۔ اب ان کی آنکھوں سے دو موتی لڑھک کر ان کے گالوں سے بہتے ہوئے نیچے آن گرے تھے۔ یہ دکھ درد کے تھے یا برسوں بعد چوت میں اصلی لنڈ کے گھسنے کی خوشی کے چلتے تھے، میں نہیں جان سکتا تھا، یہ تو وقت ہی بتانے والا تھا.۔
ایسے ہی کچھ دیر سین رہا، پھر امی جان نے آنکھیں کھولیں اور روتی ہوئی آواز میں، لیکن ہلکی آواز میں بولیں: ۔
“اب خوش ہو؟ کر لی تم نے اپنی من مانی۔ گھس گئے ناں تم وہیں جہاں تم گھسنا چاہتے تھے۔ لیکن یہ تمہارے گھسنے کی جگہ نہیں تھی، دیکھ لو میں ایک ماں سے کیا بن گئی۔۔۔”۔

پھر امی جان جیسے پاگل ہو گئیں، میرے سینے پر دونوں ہاتھ رکھ کر ایک دم سے اپنی گانڈ اٹھا کر میری چوت سے میرا لنڈ ٹوپی تک نکال کر زور سے نیچے ہوئیں اور ایسے ہی پاگل پن کا مظاہرہ کرتی ہوئی امی جان میرے لنڈ سے اپنی چوت کی ٹھکائی کروانے لگیں.۔
دیکھتے ہی دیکھتے لنڈ کا امی جان کی چوت میں اندر باہر ہونا تیز ہو گیا، لیکن کمال ہی ہو گیا.۔

امی جان کی چوت میں شام سے لگی آگ، جو اب سے کچھ پل پہلے میں نے بہت زیادہ بڑھا دی تھی، اب چوت میں لنڈ لے لینے سے آخری حد بھی کراس کر گئی تھی۔ اسی آگ میں امی جان کا پاگل پن بھی شامل ہو گیا اور اسپیڈ کے بڑھنے پر امی جان کی چوت سے پانی بہنا تیز ہو گیا.۔
کچھ بھی ٹائم نہیں لگا اور برسوں بعد ایک ٹائٹ جوان لنڈ سے چدنے کی وجہ سے امی جان اپنی چوت کی آگ پر قابو نہ پا سکیں اور جھڑتی ہوئی میرے اوپر ڈھیر ہو گئیں۔ امی جان ہانپ رہی تھیں، میں نے امی جان کو سائیڈ پر لٹا دیا، پھر اپنا لنڈ ان کی چوت سے نکال کر کمرے میں رکھے جگ کے پانی سے اپنے لنڈ کو دھونے لگا، پھر ایک کپڑے سے لنڈ کو صاف کرتا ہوا ایک پرانا کپڑا اٹھا کر امی جان کی چوت کو صاف کرنے لگا.۔

ادھر ابھی امی جان ہانپتی ہوئی آنکھیں بند کیے پڑی تھیں، میں نے اس بیچ امی جان کی چوت کو صاف کرنے کے بعد انہیں ان کی شلوار پہنا دی، پھر اپنی شلوار پہن کر امی جان کے اوپر لیٹ گیا۔ میرا لنڈ ابھی بھی کھڑا تھا اور امی جان کی چوت پر دبا ہوا تھا.۔
امی جان نارمل ہو کر مجھے دیکھنے لگیں۔ وہ کچھ بولتیں، میں نے اپنے ہونٹ ان کے ہونٹ پر رکھ دیے اور ان کے ہونٹ چوسنے لگا۔ اب میں اپنے پلان پر عمل کر رہا تھا، میں اس ٹائم پوری فارم میں رہتے ہوئے، پورے ہوش میں رہتے ہوئے ایک ایک جملہ اپنے منہ سے نکالنا چاہتا تھا، یہی جملے میرے اور امی جان کے ریلیشن کو کسی کنارے لگانے والے تھے.۔

امی جان نے میرے چہرے کو پکڑ کر اوپر اٹھا کر اپنے ہونٹ میرے ہونٹوں سے الگ کیے۔
“آج کی پوری رات تیری ہے عمران، تو ہونٹ کیا میرے پورے جسم کے ساتھ کچھ بھی کر سکتا ہے۔ لیکن پہلے مجھے میری بات کا جواب دے، تو نے یہ کیا کیا؟ اپنی شلوار پہن کر مجھے میری شلوار کیوں پہنا دی؟”۔
میں بولا: ۔
“وہ اس لیے کہ میں آپ سے بہت پیار کرتا ہوں امی جان۔”۔
امی جان زہریلی ہنسی ہنسیں: ۔
“اب بھی امی جان ہی کہو گے تم مجھے عمران؟ بیٹے سے چد کر میں اب امی جان نہیں رہی، ایک طوائف بن گئی ہوں۔”۔
میرے دل پر گھونسا لگا، پہلی بار درد ہوا، میں کچھ بھی امی جان کے منہ سے سن سکتا تھا لیکن طوائف جیسا لفظ۔۔۔
میں نے کہا: ۔
“نہیں امی جان، خود کے لیے ایسا لفظ کا استعمال نہ کریں۔”۔
امی جان پہلے سے بھی زہریلے لہجے میں بولیں: ۔
“اب تو میں طوائف بن ہی گئی ہوں عمران، کہلائے جانے میں کیسی شرم۔ دیکھ، میرے جسم پر اب پورے کپڑے ہیں لیکن میری نظر میں اپنی قدر کھو چکے ہیں۔ میں ہمیشہ کے لیے تہی آنکھوں میں ننگی ہو گئی ہوں اور جو اپنی نظروں میں عمر بھر کے لیے ننگی ہو جائے، وہ تو طوائف سے بھی بڑھ کر ہو جایا کرتی ہے۔”۔
مجھے اور غصہ آیا، لیکن ہوس جو سب کے دماغوں میں زہر بھر دیا کرتی ہے۔ جب سے امی جان کے جسم کو اپنا آئیڈیل جسم بنایا تھا، تب سے میری سوچوں میں بھی امی جان کے لیے سوائے ہوس کے کچھ نہیں تھا، ہاں لیکن ایک ماں ہونے کے ناطے ان کے دل میں جو پیار اور محبت تھی وہ جوں کی توں تھی، پھر بھی میں ایسا سن نہیں پایا۔ ہوس نے میرے دماغ کو گرمایا تو ضرور لیکن میں خود کے قابو سے باہر نہیں ہوا.۔
میں نے کہا: ۔
“طوائف پیسوں کے لیے ایسا کرتی ہے ماں اور آپ نے اپنے بچوں کے لیے ایسا کیا ہے، یہ صرف اور صرف پیار ہے۔”۔
امی جان بولیں: ۔
“ہونہہ۔۔۔ پیار۔۔۔ پیار میں اتنی ہی طاقت ہوتی تو کیا تیرے دل میں جو پیار ہے وہ کیسے مر گیا ہوتا؟”۔
میں نے کہا: ۔
“اب بھی پیار ہے امی جان آپ کے لیے میرے دل میں۔ نہ ہوتا تو کیا کل میں آپ کی ضد پر، جب آپ نے اپنے جسم کو میرے لیے کھول دیا تھا، تب میں آپ کے لیے اپنے دل میں پیار کو مار کر اپنی ہوس پوری نہیں کر لیتا؟”۔
امی جان بولیں:۔
“وہ تو تو نے کر ہی لی تھی، جیسے بھی کی، تھوڑی کی یا زیادہ کی، لیکن تو بہت تیز ہے، کچھ ہٹ کر، کچھ بڑا تیرے دماغ میں چل رہا ہے۔”۔
میں نے کہا: “۔
صحیح کہا آپ نے امی جان، میرے دل میں ایسا ہی کچھ ہے۔”۔
امی جان میرے ایسے بولنے پر کچھ الجھیں، میں نے امی جان کو بولنے نہیں دیا.۔
میں بولا:۔
“جسم کی آگ صرف ہوس کو جنم دیتی ہے لیکن پیار۔۔۔ پیار ہوس کو اگر مٹا نہیں سکتا تو پیار پر غالب بھی نہیں آ سکتا، کیا آپ اس بات سے انکار کریں گی؟ کل آپ نے میری محبت میں میرے سامنے اپنے جسم کو کھول دیا تھا، پھر مجھے وہ سب کرنے کی اجازت دے دی تھی جو ایک ماں کبھی اپنے بیٹے کو نہیں دیتی۔ میں آپ کا بیٹا ہوں، میں تیز دماغ کا ہوں، میرے دماغ میں آپ کے جسم کو پانے کے لیے روز نئے نئے پلان بنتے ہیں تو کیا ہوا، پلان تو بنیں گے ہی، آپ نے بھی پلان بنایا تھا۔”۔
امی جان بولیں:۔
“میں نے پلان بنایا تھا؟ میں نے کب پلان بنایا تھا، ذرا بتاؤ تو مجھے۔”۔
میں نے کہا: ۔
“یہ پلان نہیں تو اور کیا ہے امی جان؟ کل آپ نے مجھے کھل کر سب کرنے کو اکسایا، لیکن جیسے ہی میں اندر ڈالنے لگا، یاد ہے آپ نے کیا کہا تھا؟”۔
امی جان نے پوچھا:۔
“کیا کہا تھا؟”
میں بولا: ۔
“اب بھولی مت بنیں امی جان، آپ کو کچھ بھی بھولتا نہیں ہے، میں اچھے سے جانتا ہوں، آپ کی یادداشت بہت اچھی ہے۔ آپ نے بظاہر نارمل بات کی تھی، لیکن جو دھمکی آپ کی بات میں چھپی تھی میں نے وہ سمجھ لی تھی۔ مجھے صرف آپ کے جسم سے ہی محبت ہوتی تو پھر میں کیوں آپ کے دل کے بارے میں سوچتا؟ آپ کے لیے میرے دل میں اگر محبت رتی برابر نہ ہوتی تو آپ مجھے کب کا اپنی نظروں سے دور کر چکی ہوتیں۔ میرے دل میں اپنے لیے محبت کو آپ بھی اچھے سے جانتی ہیں امی جان، اسی محبت کی وجہ سے آپ مجھے تین سال سے بسونیاشت کرتی چلی آ رہی ہیں۔ اسی محبت کی وجہ سے آپ نے مجھے کل بدلنے کے لیے خود کو اس حد تک لے آئیں، جو ماں کبھی اپنے بیٹے کا ہاتھ اپنی گانڈ پر بسونیاشت نہیں کر سکتی تھی، اسی بیٹے کے آگے اپنی چوت کھول کر رکھ دی۔ پھر اسی بیٹے نے کتنا کچھ آپ کے ساتھ کیا، کیا کوئی ماں ایسا کرتی ہے؟ نہیں کرتی، یہ محبت ہی ہے اور جسم کی آگ کی بات کرتا ہوں، میرے جسم میں جو آگ ہے وہ تین سال سے آپ کے جسم میں اترنے کے لیے مچل رہی ہے۔ میں آپ سے پوچھتا ہوں، میرے جسم کی آگ مجھے بہکاتی آ رہی ہے تین سال سے، آپ کیوں بہک گئیں، کل بھی اور آج بھی؟ میں نے تو سنا ہے کہ جب دل میں درد بڑھ جاتا ہے تو جسم کام چھوڑنے لگتا ہے، آپ کے دل میں کیسا درد ہے امی جان جو آپ کے جسم کی آگ پر بھی قابو پانے میں کام نہیں آ سکا؟ امی جان، میں آپ کا ہی بیٹا ہوں، جتنی آگ میں آپ عمر بھر جیتی آئی ہیں، میں بھی اتنی ہی آگ کے ساتھ جی رہا ہوں۔ میں بہکا، آپ بہکیں، لیکن جسموں کی اس آگ میں ہمارے دلوں سے ایک دوسرے کے لیے پیار نہیں مرا۔ مر گیا ہوتا تو میں کل ہی ہمیشہ کے لیے ہوسی بن گیا ہوتا اور آپ ایسا درد بسونیاشت نہ کر پاتیں اور آپ کا دل درد سے پھٹ جاتا، لیکن نہیں پھٹا۔ جانتی ہیں آپ ایسا کیوں؟ کیونکہ۔۔۔ آپ کے جسم سے پچھلے تین سالوں سے میرے جسم کی گرمی رچ گئی ہے۔”۔

امی جان کچھ بولنے لگیں، میں نے ان کے منہ پر ہاتھ رکھ دیا:۔
“نہیں، آج آپ کچھ نہیں بولیں گی، صرف میں بولوں گا، آپ بس سنتی رہیے۔ امی جان، دل آرزوؤں کا گھر ہوتا ہے، ہر دل میں کئی طرح کی آرزوئیں پلتی رہتی ہیں۔ کچھ آرزوئیں کبھی پوری نہیں ہوتیں، کچھ ایسی ہوتی ہیں جنہیں ہم چاہ کر بھی پورا نہیں کر سکتے کیونکہ ان کا پورا ہونا ممکن نہیں ہوتا۔ اگر زور زبردستی یا بنا سوچے سمجھے ان آرزوؤں کو پورا کر لیا جائے تو پھر عمر بھر کے لیے یا تو روگ بن
جایا کرتی ہیں یا پھرکسی کے علم میں آ جانے سے حالات قابو سے باہر ہونے لگتے ہیں۔ ایسی ہی آرزو جسموں کی آگ بھی ہوتی ہے امی جان، جیسے آپ کے جسم کی آگ، جیسے میرے جسم کی آگ۔ کئی گھروں میں لڑکے جوان ہو کر الٹا سیدھا کر جاتے ہیں، ان گھروں میں بھی مائیں بہنیں گرم ہوتی ہیں، کچھ بہک جاتی ہیں تو کچھ پہلی ہی کوشش میں سنبھال جاتی ہیں اور اپنے بیٹے یا بھائی کو سختی سے روک دیتی ہیں، لیکن کچھ اپنی آرزو کو پورا کر گزرتی ہیں۔ آپ نے پہلی بار مجھے ایک چانٹا مارا تھا، دوسری بار بھی غصہ دکھایا لیکن میں باز نہیں آیا۔ آپ نے کیوں تین برس لگا دیے مجھے بدلنے میں؟ دیر کر دی آپ نے، آپ چاہتیں تو مجھے تب ہی کہیں بھیج دیتیں، شاید میں بدل جاتا۔”۔

امی جان نے منہ سے میرا ہاتھ ہٹا کر کچھ بولنا چاہا، لیکن میں آج اکیلا بولنا چاہتا تھا، میں بہت سے سوال امی جان کے دماغ میں چھوڑ جانا چاہتا تھا.۔
میں بولا: ۔
“لیکن آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا، کیونکہ آپ کے جسم کی آگ ابو سے صحیح سے بجھا پانے میں ناکام ہو رہے تھے، آپ کا گرم جسم میرے ہاتھ کے لگتے ہی جھوم اٹھتا تھا۔ اوپر سے آپ غصے میں آ جاتی تھیں لیکن اندر سے آپ کو سرور ملتا تھا۔ آپ انکار کریں گی؟ میں آپ کو قسم کھانے کے لیے کہوں گا، کہوں گا قسم کھائیں میری بات کو سچ یا جھوٹ بتائیں۔ میں جانتا ہوں آپ قسم نہیں کھائیں گی۔ آپ کو میری حرکت بری لگ سکتی ہے، لیکن میرا لمس آپ کے جسم کو بعد میں اچھا ضرور لگنے لگا تھا، جیسے رات کو لگا، جیسے ابھی کچھ دیر پہلے۔ امی جان، آپ نے غصے میں آ کر مجھے کل اور آج چھوٹ دی، دونوں ہی بار آپ کے جسم نے پوری پوری لذت کشید کی۔ آپ کے چہرے پر میرے لیے درد ہے، لیکن جسم کے ہلکا ہو جانے پر آپ کے چہرے پر چمک بھی آ گئی ہے۔”۔

میں نے آگے کہا: ۔
“اب آتا ہوں اصلی بات پر۔۔۔ امی جان، آپ عورت ہیں، مخالف جسم کے ٹچ کے بارے میں بخوبی جانتی ہوں گی۔ ایک عورت کو کوئی بھی پرایا مرد پہلی بار ٹچ کرتا ہے تو جسم کے جس حصے پر اس مرد کا ہاتھ لگتا ہے نا، تو جسم کا وہ حصہ جلن کرنے لگتا ہے، کیوں میں نے صحیح کہا نہ؟”۔
امی جان موٹی موٹی آنکھیں ساری ہی کھول کر مجھے حیرانی سے سن رہی تھیں۔ نیچے لنڈ نے جیسے آج قسم کھا لی تھی کہ وہ سوئے گا نہیں.۔
میں بولا: ۔
“آپ کا جسم تین سال سے میرے ہاتھوں کا لمس پا رہا ہے، آپ کی گانڈ پر میرے ہاتھ کی جلن کبھی جائے گی ہی نہیں۔ ایسے ہی میرے ہاتھوں نے آپ کی گانڈ کے لمس کو پا کر بھولنا بھلا دیا ہے۔ کل رات سے اب تک ہمارے جسم جتنے قریب آ گئے ہیں، جتنے زیادہ ایک دوسرے کے جسم کو جان گئے ہیں، جتنی زیادہ گرمی ایک دوسرے کے جسموں میں سما چکی ہے۔ امی جان، آپ تین سال سے میرے ہاتھوں کی جلن کو نہیں بھول سکی ہیں، اب اپنے ہونٹوں پر میرے ہونٹوں کی گرمی، اپنے چوچے پر میرے ہاتھ کی گرمی، اپنی چوت پر میری زبان اور میری تھوک کی گرمی، اپنی چوت کے اوپر اور اندر میرے لنڈ کی گرمی کو کبھی بھول نہیں سکیں گی۔ میں بھی آپ کے جسم کو جتنا چھو گیا ہوں، جتنا پا گیا ہوں، جتنی آپ کے جسم کی گرمی اپنے جسم میں اتار گیا ہوں، کچھ بھی نہیں بھول سکتا۔ جب ہم کچھ بھی بھول نہیں سکتے، تو پھر سب کچھ بھول کر پورے من سے ایک ہو جاتے ہیں نا۔ دیکھو نہ امی جان، آپ نے غصے میں آ کر مجھ سے چدوا لیا، خود سے میرے لنڈ کو اپنی چوت میں لے لیا، میں نے تو نہیں گھسایا تھا نا۔ آپ کے پاس موقع تھا، آپ کچھ بھی کر کے مجھے کل کی طرح جذباتی باتوں میں الجھا کر سب روک سکتی تھیں، لیکن نہیں، آپ نے ایسا کچھ نہیں کیا۔”۔

امی جان زور لگا کر میرے ہاتھ کو اپنے منہ سے ہٹا کر تیز سانس لیتی ہوئی بولیں: ۔
“میں اتنا سب نہیں کرتی، صحیح کہا تو نے۔ کل جو بھی ہوا، تیرے لیے میرے دل میں پیار تھا، اسی پیار کو پوری طرح تیرے اندر جگانے کے لیے میں حد سے گزر گئی تھی، لیکن آج۔۔۔ آج میں تجھ سے اپنی بیٹیوں کی عزت بچانے کے لیے اتنی آگے بڑھ گئی، ورنہ میں اتنی ہی ہوش سے بیگانہ نہیں ہوئی تھی۔”۔

میں نے کہا: ۔
“میں نے کب کہا کہ آپ ہوش سے بیگانہ ہو گئی تھیں، آپ تو جسم کی آگ اور میرے لیے دل میں پیار کے آگے مجبور ہو گئی تھیں۔”۔
امی پھر کچھ بولنے والی تھیں، میں نے اپنے ہونٹ امی جان کے ہونٹوں پر رکھ دیے اور چوسنے لگا۔ دونوں ہاتھوں سے امی جان کے چوچے مسلنے لگا۔ نیچے لنڈ جوش میں آنے لگا، میں اوپر اوپر سے ہی دھکے مارتا ہوا، ممے مسلتا ہوا کس کرنے لگا.۔
پھر الگ ہو گیا۔ امی جان تیز سانس لینے لگیں.۔
میں اپنے لنڈ کو پکڑ کر دباتا ہوا امی جان کی چوت پر رکھ کر دبا گیا.۔
میں بولا:۔
“دیکھا میرا لنڈ کتنا بے چین ہے امی جان، آپ کی چوت میں گھسنے کے لیے بے تاب ہے، کیا اب بھی میں آپ کی شلوار اتار کر آپ کو چود نہیں سکتا؟ اب تو میرا پورا لنڈ آپ کی چوت میں گھس کر آپ کی چوت سے پانی نکال چکا ہے۔ دیکھا امی جان میری اپنے لیے محبت کو، میرے لنڈ نے کل رات اوپر اوپر سے ہی اور آج آپ کی چوت کے اندر گھس کر آپ کی چوت کی آگ کو بجھا دیا، لیکن میں ایک بار بھی ٹھنڈا نہیں ہو سکا. “۔
میں نے آگے کہا: ۔
“امی جان، میں دل سے آپ کے ساتھ سب کرنا چاہتا ہوں اور اب سب سے آخری بات، سونیا کے ساتھ میں نے کبھی کچھ نہیں کیا۔ آج بھی بس وہ میرے جانے سے رونے لگی تو اسے ہنسانے کے لیے میں نے زبیر کی باتیں شروع کر دی تھیں، وہ شرما کر نیچے بھاگ گئی اور آپ سمجھیں میں نے اس کے ساتھ بھی وہی کیا ہے جو آپ کے ساتھ کرتا رہتا ہے۔”۔
میں نے امی جان کے سر پر ہاتھ رکھ دیا:۔
“آپ کے جسم سے پیار ہے مجھے، لیکن آپ کے سر کی میں جھوٹی قسم نہیں کھا سکتا۔ ہاں مانتا ہوں، میرے اور لڑکیوں سے تعلقات رہے ہیں، لیکن اپنی بہنوں کے لیے ابھی تک میرے دل میں کبھی ایسا خیال نہیں آیا۔ آپ کے لیے بھی تبھی آیا کیونکہ میں جتنی بھی محبت اپنے بھائی بہنوں سے کر لوں، ابو سے کر لوں، جتنی محبت مجھے آپ سے ہے، کسی سے نہیں ہو سکتی۔ کیا ہوا جو میری آپ کے لیے محبت جسمانی شکل اختیار کر گئی ہے؟”۔
اب امی جان بہت زیادہ حیران تھیں.۔
میں بولا:۔
“آپ نے کچھ غصے میں آتے ہوئے میرے لنڈ کو اپنی چوت میں لیا، کچھ جسم کی آگ سے بے قابو ہو کر اور کچھ اپنے دل کی آرزو کو پورا کرنے کے لیے۔ آپ کچھ بھی کہیں، کھل کر میرے ساتھ سیکس کرنے کے لیے آپ نہ بھی راضی ہوں، لیکن دل سے اب آپ میرے ساتھ سب کرنا چاہتی ہیں کیونکہ جتنا ہو چکا ہے، اتنے ہو جانے کی سوچ کر آپ اب خود کو روک نہیں سکیں گی۔”۔
امی جان بولیں:۔
“تم کچھ بھی کہہ لو، میں کبھی تیرے ساتھ اتنی آگے نہیں بڑھ سکتی۔ تہی کچھ باتیں میں مانتی ہوں، مانتی ہوں میرے جسم کی آگ بہت زیادہ ہے، مانتی ہوں میں تیرے جسم کی عادی ہوتی جا رہی ہوں، مانتی ہوں جسم سے جسم ٹکرائے تو چنگاری بھڑک کر آگ میں بدل جاتی ہے، لیکن تو یہ بھی جانتا ہوگا کہ میں چاہ کر بھی تیرے ساتھ ایسا رشتہ دل سے نہیں بنا سکتی۔ میں آخری سانس تک خود سے لڑتی رہوں گی، اندر ہی اندر جلتی رہوں گی، لیکن تجھے دل سے قریب نہیں آنے دوں گی۔ میں ہی نہیں، میرے جیسی نجانے کتنی جسم کی آگ میں جل رہی ہیں، تو کیا وہ سب اپنے اپنے بیٹوں کے ساتھ جسمانی تعلقات قائم کر لیں؟ نہیں، کوئی ماں ایسا نہیں چاہتی۔ غصے میں آ کر تجھے بدلنے کے لیے، تجھ سے اپنی بیٹیوں کی عزت کا ڈر ہوا تو اتنا سب کر گئی، میں بہکنے والی ہی ہوتی تو کب کی بہک چکی ہوتی عمران، لیکن تو دیکھے گا میں ساری عمر آگ میں جلتی رہوں گی لیکن کبھی بہکوں گی نہیں۔ آج تو نے میرے سر کی قسم کھا کر میرے دل سے ایک بوجھ اتار دیا، میں سونیا کا شرمایا چہرہ دیکھ کر ڈر گئی تھی، ورنہ رات میں نے سمجھ لیا تھا کہ تجھے بدلنے میں اب مجھے زیادہ دیر نہیں لگے گی، لیکن میں غصے میں آ کر ایک بڑی غلطی کر گئی، پھر سے نہیں کروں گی۔”۔
میں نے کہا:۔
“وہ تو آپ کر چکی ہیں، آپ نے جو مجھے کل نہیں کرنے دیا تھا وہ آج آپ نے خود سے کر لیا ہے۔”۔
امی جان بولیں:۔
“تو اب کچھ بھی کہہ، لیکن میں اب تمہاری کسی بات میں نہیں آنے والی۔”۔
میں بولا: ۔
“لیکن آپ نے آج کی پوری رات میرے نام کر دی ہے۔”۔
امی جان بولیں:۔
“کر دی تھی، لیکن اپنی پہن کر اور میری شلوار مجھے پہنا کر رات تو اپنے نام ہی رکھی ہے، لیکن بات کو بدل دیا ہے۔ اب نہ تو میں تجھے کچھ کرنے دوں گی، نہ ہی خود کچھ کروں گی۔ ہاں تو ضد پر آیا تو میرے جسم کو صرف جسم سمجھ کر روند سکتا ہے، چاہے تو مجھے پھر سے ننگا کر کے اپنی ہوس مٹا سکتا ہے۔”۔
میں ہنسنے لگا، پھر سنجیدہ ہوتا ہوا بولا:۔
“میں کل جا رہا ہوں، ایک مہینے بعد میں آپ سے پوچھوں گا کہ آپ میرے ساتھ دل سے سب کرنا چاہتی ہیں یا نہیں؟ کرنا چاہتی ہیں تو میں ایک ہفتے کے لیے آ جاؤں گا۔”۔
امی جان بولیں: ۔
“تو ایک ہفتے کی بات نہ کر، تو سال بعد، دس سال بھی بولے گا تو بھی میرا جواب ایک ہی ہوگا، کبھی بھی نہیں، کسی بھی قیمت پر نہیں۔”۔
میں نے کہا: ۔
“وہ بعد میں دیکھتے ہیں، ابھی جسم کی آگ کو بھول کر پیار کو محسوس کرتے ہیں۔ کل میں جا رہا ہوں، مجھے آپ کی ممتا درکار ہے۔”۔
امی جان بولیں: ۔
“کمینے! ماں کو ننگا کر کے چود کر، اب ممتا کی تلاش میں ہے؟”۔
میں ہنس پڑا، ہنستا ہوا امی جان کے ہونٹوں کو چوس گیا، پھر امی جان کے اوپر ہی لیٹے لیٹے سونے کی کوشش کرنے لگا.۔
بڑی مشکل پیش آ رہی تھی سونے میں، لیکن میں سچ میں سونا چاہتا تھا، ایک بار گھس تو چکا تھا میرا لنڈ امی جان کی چوت میں، اور کیا چاہیے تھا مجھے؟ مجھے یقین تھا کہ امی جان میرے لنڈ کی سختی اور گرمی کو اب کبھی بھی بھول نہیں پائیں گی، یہی تو میں چاہتا تھا۔ اپنے جسم کی گرمی اور لذت سے امی جان کو پوری طرح متعارف کروا دینا چاہتا تھا اور امی جان نے غصے میں آ کر میرا کام آسان بنا دیا تھا.۔
میں تو جلدی سو گیا، لیکن امی جان کو جلدی نیند نہیں آئی۔ صبح میری آنکھ جلدی کھل گئی، دیکھا تو امی جان کے اوپر ہی میں لیٹا ہوا تھا اور امی جان کی نیند میں ڈوبی سانسوں کی آواز سنائی دے رہی تھی.۔
میں آرام سے امی جان کے اوپر سے اٹھ کھڑا ہوا، امی نہیں ہلیں، چدائی کے بعد کی مزے والی نیند لے رہی تھیں، ہاہاہا.۔

میں کمرے میں سب دیکھتا ہوا، رات والے گندے کپڑے کو اٹھا کر اپنی جیب میں ڈالا اور سب اچھے سے چیک کرنے کے بعد کمرے سے نکل پڑا.۔
باہر کوئی نہیں اٹھا تھا ابھی، سب سو رہے تھے، یہ اچھا ہوا تھا کہ میری آنکھ کھل گئی تھی، میں باتھ روم میں گھس کر فریش ہونے لگا.۔
اتنی دیر میں سب اٹھنے لگے۔ میں نے گندا کپڑا پہلے ہی دھو کر ایک جگہ تار پر ٹانگ دیا تھا، وہ ایسا کپڑا تھا جسے دھلا ہوا دیکھ کر کوئی شک نہیں کر سکتا تھا.۔
میں پھر سب سے ملا اور امی جان کے اٹھنے سے پہلے سے ہی سب سے مل کر اپنا سامان اٹھا کر نکل پڑا۔ سب نے کہا: ۔
“ناشتہ کر کے جاؤ، امی سے تو مل کے جا۔”
میں نے کہہ دیا: ۔
“میں تو سویا ہی نہیں ہوں، امی ابھی بھی سوئی ہیں، انہیں نہ اٹھایا جائے، بہت تھکی ہوئی ہیں۔”۔
اصل میں میں امی سے ملے بنا ہی جانا چاہتا تھا، ایسا کرنے سے امی جان کو دکھ بھی ہوتا اور غصہ بھی آتا۔ میں چاہتا تھا کہ امی جان مجھے زیادہ سے زیادہ یاد کریں؛ کبھی غصے سے، کبھی میرے لیے دکھ سے، تو کبھی پیار سے۔ ایسے ہی تو کام بننے والا تھا.۔
میں اڈے پر پہنچا، بس میں بیٹھا اور نکل پڑا خالہ کے شہر کی طرف۔۔۔

جاری ہے۔



Source link

Leave a Comment