امی سے طوفانی عشق۔۔۔(قسط 8)

اب ذرا خالہ کی فیملی کا تعارف ہو جائے۔

خالہ کی فیملی (خاندان)
خالہ نسرین: 44 سال
الطاف: 50 سال (خالہ نسرین کا شوہر)
شازیہ: عمر 24 سال (خالہ کی بیٹی، شادی شدہ ہے اور اس شہر میں نہیں رہتی)
زبیر: 23 سال (12ویں جماعت تک پڑھا ہوا ہے۔ بارہویں پڑھنے کے بعد موبائل کی دکان بنا لی ہے)
عمیر: 20 سال
نازیہ: 19 سال

خالہ کے گھر میرا استقبال بہت شاندار طریقے سے ہوا۔ دنیا جانتی ہے کہ جتنا پیار ماں کے میکے والوں سے ملتا ہے، اتنا باپ کے خونی رشتوں سے نہیں ملا کرتا۔ خالہ اور سب مجھ سے اور ہم سب سے بہت پیار کرتے تھے۔
زبیر اور سونیا کے لیے دونوں خاندانوں کے دلوں میں نیک خیالات تھے۔ اس لیے بھی سب مجھ سے اور بھی پیار سے ملے۔ زبیر آج کے زمانے کا جدید قسم کا، مجھ سے بھی زیادہ دنیا کو سمجھنے والا لڑکا تھا۔ لیکن نہیں۔۔۔ مگر اس ہوس نے مجھے وہ بنا دیا تھا جو زبیر 7 جنم لے کر بھی نہیں بن سکتا تھا۔ امی جان کی چوت میں میرے لنڈ کے اتر جانے کے بعد میرا اعتماد کی سطح آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگا تھا۔ میں خود کو ہیرو سمجھ رہا تھا، آپ مجھے تیس مار خان بھی سمجھ سکتے ہیں۔ لیکن میں اب زمین کا انسان نہیں رہا تھا، میں ہواؤں میں اڑنے والا عقاب بن چکا تھا۔ دنیا جیسے میری مٹھی میں قید ہو کر رہ گئی تھی۔

خالہ کے پاس پہنچ کر بھی میں اپنے انگ انگ میں، اپنی نس نس میں امی جان کے جسم کی گرمی اور حرارت کو محسوس کر رہا تھا۔ 24 گھنٹے میرا جسم جھومتا رہتا تھا۔ ہر ایک سے بات کرتے ہوئے میرے چہرے کی چمک بڑھ جایا کرتی تھی۔ سب میرا یہ روپ دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔۔۔
ایسے ہی ایک مہینہ گزر گیا۔ یہاں آنے کے بعد میں نے کئی بار گھر فون کیا تھا۔
پہلی بار امی جان مجھ سے فون پر بات کرتی ہوئی لڑنے لگیں، پھر روتی ہوئی بولیں: ۔
“تو مجھ سے ملے بنا ہی کیسے چلا گیا۔۔۔ ابو اور میرے بھائی بہن حیران تھے کہ میں نے یہ کیا کیا، امی جان سے ملے بنا ہی چلا گیا تھا۔”۔
میں نے سب کو بات بنا کر سنا دی۔۔۔ لیکن اس کے بعد میں نے سب سے تو بہت باتیں کیں، لیکن امی جان سے میں بہت ہی کم باتیں کیا کرتا تھا۔ زیادہ کرتا تو میں بہک سکتا تھا۔ پورے ایک مہینے تک میں نے عام معمول کی باتوں کے سوا امی جان سے کوئی بات نہیں کی تھی۔ ہاں، لیکن میں امی جان کی باتوں میں اشاروں کا منتظر رہا تھا، لیکن امی جان بھی اپنی ضد کی پکی نکلیں۔ میرا لنڈ اپنی چوت میں لے کر فارغ جانے کے بعد بھی وہ بے شرمی والی کوئی بات اپنے منہ سے نہیں نکال پائیں۔ میں نے بھی ایک مہینے کا وقت دیا تھا امی جان کو۔۔۔ اس سے پہلے میں بھی کوئی بات کرنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔

پھر ایک مہینہ ختم ہو گیا۔ میں گھر سے باہر نکل کر قریب کے باغیچے کے ایک سنسان علاقے میں بیٹھ کر گھر پر کال ملا دی۔۔۔

سلام دعا کے بعد زیادہ بات نہ کرتے ہوئے میں نے سونیا سے کہہ دیا: ۔
“امی جان کو فون دو۔”
امی جان نے فون کان کو لگایا تو میں بولا: ۔
“مجھے آپ سے ضروری بات کرنی ہے، آپ کمرے میں جائیے۔”۔
امی جان بولیں:۔
“کونسی ضروری بات؟”
امی جان کی آواز سے مجھے لگا کہ وہ ایک مہینے والی بات بھول گئی ہیں۔ اگر میں ابھی بول دیتا تو شاید وہ فون سونیا کو واپس کر دیتیں۔
میں نے کہا:۔
“وہ زبیر کی کوئی بات کرنی ہے۔”

زبیر کی بات پر امی جان چونکیں۔۔۔ پھر موبائل لے کر کمرے میں چلی گئیں۔
امی جان بولیں: ۔
“ہاں اب بول۔”
میں نے پوچھا: ۔
“کوئی اور تو نہیں ہے آپ کے پاس؟”
امی جان نے کہا:۔
“نہیں، کوئی نہیں ہے میرے پاس۔۔۔ تم بتاؤ، کیا بات بتانے والے تھے؟”۔
میں نے ایک گہری سانس لی۔۔۔ اور بولا: ۔
“امی جان، میں نے آپ سے ایک مہینے کے لیے بولا تھا ناں ؟”۔
امی سمجھ گئیں، ان کی سانس کے تیز چلنے کی آواز سنائی دی۔۔۔
میں نے کہا: ۔
“میں وہی جاننا چاہتا ہوں، اب آپ کے کیا خیالات ہیں؟”۔

میں کچھ دیر خاموش رہا۔۔۔ امی جان کے بولنے کا انتظار کرتا رہا۔۔۔
پھر امی جان کی بھیگی ہوئی آواز سنائی دی: ۔
“میں تو سمجھ رہی تھی کہ اتنے دنوں میں تو سب بھلا گیا ہوگا۔۔۔ لیکن تو تو کچھ بھی نہیں بھلا ہے۔”۔
میں نے پوچھا: ۔
“کیا آپ بھول گئی ہیں؟”
امی جان بولیں:۔
“نہیں بھولی ہوں کچھ بھی۔۔۔ بھول بھی نہیں سکتی۔۔۔ لیکن بھلا دینا چاہتی ہوں۔۔۔ اور بھلا کر رہوں گی۔۔۔ نہ بھی بھلا سکی, تب بھی میرا جواب وہی ہوگا جو پہلے تھا، ہمیشہ سے تھا، ہمیشہ ایک ہی جواب رہے گا میرا۔”۔

لیجیے، میرا دل دھک سے رہ گیا۔۔۔ امی جان کے لہجے سے میں نے ان کے ارادے کی پختگی جان لی تھی۔ اففففففف! ۔
آگ میں جل رہی تھیں، بول بھی رہی تھیں، بھلا نہیں پا رہی تھیں، بھلانے کی کوشش میں ہیں، اور نہ بھی بھلا سکیں تو بھی میرے لیے کوئی انتخاب کبھی نہیں بن پائے گا۔
امی جان بولیں:۔
“میں اب فون بند کر رہی ہوں۔۔۔ تجھے بات کرنی ہو اپنی بہنوں سے، اپنے بھائی سے، تو کر لینا۔۔۔ میں ابھی تم سے بات نہیں کر سکتی۔”۔
میں جلدی سے بولا:۔
“ابھی فون کو بند مت کیجیے گا امی جان۔۔۔”
لیکن امی جان نے فون بند کر دیا۔ میں نے دوبارہ فون ملایا، گھنٹی جانے لگی، لیکن امی جان نے فون نہیں اٹھایا۔۔۔ میں بار بار کرنے لگا، پھر فون اٹھا لیا گیا۔۔۔ میں کچھ بولتا، امجد کی آواز سنائی دی:۔
“ہیلو بھائی۔۔۔”
میں امجد کی آواز سن کر سناٹے میں آ گیا۔۔۔ مجھے غصہ آنے لگا، لیکن امجد کی آواز سن کر میں خود پر قابو پاتا ہوا اس سے باتیں کرنے لگا. پھر کچھ دیر تک باتیں کرنے کے بعد میں نے فون بند کر دیا۔۔۔
وہیں بیٹھ کر سوچنے لگا کہ مجھے اب امی جان کو چودنے کا خیال دل سے نکال دینا چاہیے۔۔۔ کب تک۔۔۔ آخر کب تک؟ اتنا سب کرنے کے بعد بھی امی جان راضی ہو کر نہیں دے رہی تھیں۔ ہم کتنا آگے نکل گئے تھے،۔
چوت میں لنڈ کا گھس جانا آخری منزل ہوتی ہے، اس سے بھی آخری منزل چوت میں منی کے نکل جانے کی ہوتی ہے۔ ساری منزلیں طے کر لی تھیں، لیکن امی جان تھیں کہ ضد پر اڑی ہوئی تھیں۔۔۔

کیا میں سچ میں اپنے دل سے امی جان کی آرزو کو کچل سکتا تھا؟
میرے دل سے آواز آئی: ۔
“نہیں۔۔۔ مر کر بھی نہیں۔۔۔ اب تو کسی صورت بھی نہیں۔۔۔ آخری دو راتوں میں جتنی کچھ کرنے کو ملا، وہ نہ ملا ہوتا تو شاید میں پیچھے ہٹ بھی جاتا۔۔۔ لیکن اب۔۔۔ اب تو واپسی کے سارے راستے جیسے مٹ کر رہ گئے تھے۔۔۔ اب تو آگے ہی آگے جانا تھا، اتنا آگے کہ امی جان خود ہی میرے ساتھ ساتھ چلنے پر مجبور ہو جائیں۔”۔

ہوس نے میرے غصے کو کھا لیا، میرے دماغ کو کام پر لگا دیا۔ میں اور منصوبہ سوچنے لگا۔۔۔ سوچ تو پہلے سے ہی چکا تھا، اب نئے ڈھنگ سے سوچنے لگا۔
پھر میں لگ گیا اپنے منصوبے پر۔۔۔ جب سے یہاں آیا تھا، ہر ایک سے ہنس ہنس کر باتیں کرتا تھا، بالکل بے تکلف ہو کر باتیں کرتا تھا۔ میں اپنے ہاتھوں کو قابو میں رکھتا تھا، لیکن نہیں بھی رکھتا تھا۔ جہاں خالہ کے بیٹے زبیر اور عمیر دور رہ کر ہی اپنی ماں اور بہنوں کو پیار دیا کرتے تھے، پیار سے بات کیا کرتے تھے، میں وہیں کبھی ان کے ہاتھ پکڑ کر، کبھی کندھے پر سر رکھ کر، کبھی ناک پکڑ کر، تو کبھی بال کھینچ کر مستی کرنے لگتا تھا۔ کبھی خالہ کو گلے سے لگا کر ان کے گال کو چوم لیتا۔ خالہ کو بڑی خوشی ملتی تھی اپنے گال کے چومے جانے پر۔۔۔

میں دھیرے دھیرے سب کے اور بھی قریب ہوتا گیا۔۔۔ 15 دن اور نکل گئے۔۔۔ ان 15 دنوں میں میں روز گھر فون کرتا تھا، لیکن امی جان سے ایک بار بھی میں نے بات نہیں کی۔ سب پوچھتے:۔
“امی سے بات کیوں نہیں کرتے؟”
میں ہنستا ہوا کہتا: ۔
“بس ایسے ہی، مجھے مزہ آتا ہے امی جان کو ستا کر۔”
ایسے ہی میں بات بنا جاتا تھا۔۔۔ پھر ایک دن میں نے امی جان سے بات کر ہی لی۔
امی جان خود ہی موبائل لے کر کمرے میں گئیں اور روتی ہوئی بولیں: ۔
“مزہ آتا ہے تجھے نئے نئے کھیل میرے ساتھ کھیل کر؟ میرے دل کو تڑپا کر تو کیا سمجھتا ہے میرے ارادوں کو بدلنے پر مجبور کر دے گا؟ نہیں۔۔۔ میں اپنے ارادوں کی پکی ہوں۔۔۔ مر جاؤں گی، لیکن تیرے ساتھ وہ سب نہیں کر سکتی جو تو کرنا چاہتا ہے۔ ہاں، پر تیرے یہ روز روز کے ڈرامے ضرور اب میری جان لے لیں گے۔”۔
میں ایک گہری اور لمبی سانس لے کر چھوڑتا ہوا بولا:۔ “یہی بات بولنے کے لیے ہی تو میں نے آپ کو فون کیا ہے امی جان۔”۔
روتی ہوئی امی جان بولیں: ۔
“ایک اور منصوبہ۔۔۔ کچھ نیا سوچ گیا ہوگا تو۔”
میں نے کہا: ۔
“صحیح کہا آپ نے۔۔۔ لیکن اس بار کچھ الگ ہوگا۔ اس بار آپ کے ساتھ میں ایک بیٹا بن کر بات کیا کروں گا۔۔۔ لیکن جیسے آپ ایک ماں ہو کر، اتنے سالوں کے تجربے کے ہونے کی بنا پر مضبوط بن چکی ہیں، میں نہیں بن پا رہا ہوں۔ اپنے اندر سے اپنی آرزوؤں کو نہیں کچل پا رہا ہوں۔ آپ کے جسم کا ایک ایک لمس جو کچھ میری ہوس کے چلتے، کچھ آپ کے غصے میں کیے گئے آخری دو راتوں کے فیصلوں کے چلتے میری نس نس میں سما چکا ہے، میں چاہ کر بھی اپنے اندر سے آپ کے جسم کی لذتوں کو مار نہیں پا رہا ہوں۔۔۔ لیکن اب میں نے راستہ تلاش کر لیا ہے، آپ کو اس لیے بتا رہا ہوں کہ اب آپ مطمئن ہو کر جی سکیں گی۔۔۔ اب سے کبھی بھی آپ کو کوئی پریشانی میری طرف سے نہیں ہوگی، اس بات پر آپ یقین کرنا چاہیں تو کر لیں، نہ کرنا چاہیں تو نہ کریں۔۔۔ وقت خود ہی آپ کو یقین دلا دے گا۔ جب کئی برس میں نے ایسا کچھ نہ کیا تو آپ یقین کرنے پر مجبور ہو جائیں گی۔”۔
امی جان کی سکھ بھری سانس ان کے منہ سے نکلتی میں نے سنی، پھر بولیں:۔
“مجھے خوشی ہے جو تو اپنی ماں کی تکلیف کو سمجھ گیا ہے، لیکن تو ایسا کرے گا کیا؟”۔
میں نے کہا:۔
“پہلے تو سوچا تھا کہ آپ کو نہ بتاؤں، لیکن پھر سوچا کہ بعد میں آپ کو پتا چلا تو آپ کو دکھ ہوگا۔ ابھی سے اس لیے بتا رہا ہوں کہ آپ خود کو میرے جینے کے نئے ڈھنگ میں ڈھالنے کی کوششوں میں لگا دیں۔”۔
امی جان گھبرا کر بولیں: ۔
“تیری باتوں سے مجھے خطرے کی گھنٹی بجتی سنائی دے رہی ہے عمران۔۔۔ تو کیا کرنے والا ہے اب؟ مجھے بتا۔ دیکھ، تو کچھ ایسا مت کر جانا کہ میں جیتے جی مر جاؤں۔”۔
میں نے کہا:۔
“پتا نہیں میں کیا کروں گا، یا مجھ سے میرے جسم کی آگ کیا کچھ کروا جائے گی۔۔۔ میرا خود پر اختیار نہیں ہے، یہ آپ جان چکی ہیں۔ آپ کی طرف سے بے اختیار ہونے سے اچھا ہے کہ میں کسی اور کو تلاش کر لوں، کسی ایسی کو جو آپ کی کمی پوری کر سکے۔”۔
امی جان ہکلا کر بولیں: ۔
“میری کمی۔۔۔ میں کچھ سمجھی نہیں۔ تو کس لائن پر چلنے کی سوچ رہا ہے عمران؟ دیکھ، میرا دل بند ہو جائے گا، تجھے قسم ہے میری، تو ایسی کسی غلط ڈگر پر نہیں چلے گا۔”۔
میں نے کہا:۔
“قسم نہ دیں مجھے۔۔۔ قسم کی بات پر میں آ جاؤں تو میں بھی آپ کو قسم دے سکتا ہوں، لیکن نہیں دوں گا۔ اس لیے آپ بھی کوئی قسم وسم مت دیجیے مجھے۔۔۔”۔
امی جان رونے لگیں۔
میں بولا:۔
“آپ کے حساب سے میں شہوت پرست ہوں، میرے جسم کی انتہا کو پہنچی ہوئی آگ کبھی میرے اندر سے جا نہیں سکتی۔۔۔ میں بھی ایسا ہی سمجھتا ہوں۔۔۔ اس لیے میں نے سوچا ہے کہ پہلے جو وہاں اپنے شہر میں، اپنے علاقے میں رہ کر میں کیا کرتا تھا، بیگانی لڑکیوں سے جسم کی آگ بجھایا کرتا تھا، اب بھی وہی کروں گا، پہلے سے زیادہ کروں گا، اتنا کروں گا کہ میرے جسم سے ساری گرمی نکل جائے۔ گرمی نکل گئی تو ہوس خود ہی میرے اندر کہیں مر جائے گی۔۔۔ پھر بھی نہ مر سکی، میرے جسم کو آپ کے جسم کی گرمی بھول نہ پائی،۔
تو یہاں ایک جسم اور ایسا ہے امی جان، جو آپ کے جسم کا دوسرا حصہ ہے۔ ایک امی جان وہاں ہیں تو ایک یہاں بھی ہیں نہ۔۔۔ خالہ بھی تو ماں ہی ہوتی ہے نہ۔۔۔ آپ دونوں ایک ہی ماں کی بیٹیاں ہیں، ایک جیسی گرمی اور مزے کا جسم لے کر پیدا ہوئی ہیں۔۔۔”۔

امی جان چیخ پڑیں:۔
“نہیں نہیں عمران۔۔۔۔ تو ایسا کچھ نہیں کرے گا۔”۔
ادھر امی جان کا چیخنا سن کر سب دوڑتے ہوئے امی جان کے کمرے میں آ گھسے، سب کی آواز سن کر میں ہڑبڑا گیا۔۔۔ یہ امی جان کو ایسے چیخنے کی کیا ضرورت تھی؟ وہیں امی جان بھی جیسے ہوش میں آ گئی تھیں۔

اب امجد, سونیا، حنا اور لبنیٰ امی جان کا سر کھا لیتیں کہ ایسی کیا بات ہوئی جو آپ ایسے چیخیں؟ اور میں وہاں ایسا کیا کرنے والا ہوں جو امی جان کا رو رو کر برا حال ہونے لگا تھا؟
افسوس۔۔۔ کہیں میرا بنتا کام پھر سے نہ بگڑ جائے۔ ہر کامیاب چال کھٹائی میں پڑتی جا رہی تھی، کہیں یہ والی چال بھی مجھے چاروں خانے چت نہ کر دے۔۔۔

صورتحال بہت خطرناک شکل اختیار کر گئی تھی۔ سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اسے کیسے کنٹرول میں لاؤں۔
امی جان پھر سے بولیں:۔
“سنا تو نے عمران! تو ایسا کچھ نہیں کرے گا۔۔۔ کرے گا تو میں جان پر کھیل جاؤں گی۔”۔

امی جان کی بات سن کر سب کے دل دھک سے رہ گئے۔ سونیا نے موبائل امی جان سے چھین کر اپنے کان سے لگایا اور بولی:۔
“کیا بات ہے عمران؟ کیا کہا تو نے امی سے؟ اور کیوں امی ایسے چیخ رہی تھیں؟ غصے میں آ گئی ہیں، رونے لگی ہیں۔ بتا عمران۔۔۔ دیکھ، تو نے کچھ غلط غلط کہا ہے تو سچ سچ بول دے۔۔۔ میں تیری بڑی ہوں، مجھے بتا دے۔”۔

میرے پاس وقت کم تھا۔ کچھ سوجھنا ضروری تھا۔ میرا ہواسی دماغ بڑی تیزی سے چلنے لگا تھا، حالانکہ میں بہت الجھن کا شکار بھی ہو گیا تھا۔ ادھر وہ چارپائی پر بیٹھی روئے جا رہی تھیں۔ ادھر سونیا مجھ سے فون پر بات کر رہی تھی۔ باقی حنا, امجد اور لبنیٰ امی جان کے پاس بیٹھ کر کبھی امی جان کو دیکھ کر آنسو بہانے لگتے، تو کبھی سونیا کو دیکھنے لگتے۔
سونیا بولی: ۔
“تو بول کیوں نہیں رہا ہے عمران۔۔۔ بتا بات کیا ہے؟۔
اتنی دیر میں میں نے سوچ لیا تھا کہ مجھے کیا کہنا ہے:۔ “امی جان تو ایسے ہی پریشان ہو رہی ہیں سونیا۔۔۔ بات اتنی ٹیڑھی ہے نہیں، جتنی امی جان نے سمجھ لی ہے۔ میں نے تو صلاح (مشورہ) ہی مانگی تھی، اور پھر دل پر کوئی زور بھی تو نہیں چلتا نہ۔”۔
سونیا چونکی: ۔
“دل پر زور۔۔۔ تو کہنا کیا چاہتا ہے عمران؟ کھل کر بول۔”۔
میں نے کہا: ۔
“کچھ نہیں یار۔۔۔ بس ایک لڑکی ہے یہاں۔”
سونیا چیخی:۔
“لڑکیییی!”

سب کے کان کھڑے ہو گئے۔ روتی ہوئی امی جان بھی سونیا کو دیکھنے لگیں۔ تبھی امی جان کو حالات کی سنگینی کا اندازہ ہوا۔ جوش میں آ کر وہ اپنے بچوں کو کمرے میں بلا گئی تھیں۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئیں۔
میں بولا:۔
“ہاں لڑکی۔۔۔ وہ مجھے یہاں ایک لڑکی سے پیار ہو گیا ہے۔۔۔ وہ بھی مجھ سے پیار کرتی ہے۔۔۔ دیکھ سونیا، میں تجھ سے ایسی کوئی بات ابھی نہ کرتا۔۔۔ لیکن میں نے امی جان سے نہیں چھپایا۔۔۔ بتا دیا امی جان کو۔۔۔ وہ تھوڑے ہم سے زیادہ پیسے والے ہیں، امی جان ڈر گئیں۔۔۔ کہیں میری جان نہ خطرے میں آ جائے۔۔۔ بس وہ چیخ پڑیں، بولیں، نہیں نہیں عمران تو ایسا کچھ نہیں کر سکتا۔۔۔”۔
میں ڈھیلا پڑتا ہوا بولا: ۔
“ٹھیک ہے۔۔۔ میرے لیے امی جان اور تم سب سے پہلے کوئی نہیں ہے۔۔۔ نہیں کرتا میں کسی سے پیار ویار۔۔۔ کوشش کروں گا اسے بھولنے کی۔۔۔ لیکن ایک بات جس پر تم نے پہلے دھیان نہیں دیا تھا، وہ یہ ہے کہ۔۔۔ آخری کے کچھ دنوں سے میں تم سب سے کتنے پیار سے اور کتنا خوش ہو کر بات کرنے لگا تھا۔ یہ یہی وجہ ہے۔۔۔ لیکن میں اب امی جان کی خوشی کے لیے، تم سب کی خوشی کے لیے اسے بھلا دوں گا۔”۔

سونیا کچھ بول نہیں پائی۔ ایک تو اپنے بھائی کے منہ سے پیار والی بات سن کر اسے شرم آنے لگی تھی۔ دوسرے، وہ امی کے سامنے کچھ کیسے بول سکتی تھی۔
امی جان نے سونیا سے موبائل لے لیا: ۔
“جاؤ تم سب کمرے سے باہر۔”

اور سونیا سب کو لے کر چلی گئی۔۔۔ حنا، لبنیٰ اور امجد تینوں سونیا سے پوچھنے لگے کہ کیا کہا ہے میں نے اور کیا چکر ہے؟
سونیا نے سب کو بتا دیا: ۔
“کچھ خاص نہیں، بس امی جان عمران سے دور ہیں ناں ، اس لیے۔”۔

امی جان کمرے کا دروازہ بند کرتی ہوئی، کمرے کے ایک کونے پر رکھی کرسی پر بیٹھ کر بولیں: ۔
“کیا کہا ہے تو نے سونیا سے؟”
میں نے امی جان کو بتا دیا۔۔۔ جو بھی سونیا سے میں نے بولا تھا، امی سے بھی بول دیا۔
امی جان نے راحت کی سانس لی: ۔
“میں جتنا سوچ رہی ہوں، تو اس سے بھی بڑا کمینہ بن گیا ہے۔۔۔ میرا دماغ کام چھوڑ گیا تھا، لیکن تو نے سب سنبھال لیا۔۔۔ اب سن، میں نے جو کہا ہے، سچ کہا ہے- تو نے باجی کے ساتھ، میرے ساتھ جیسا سب گھٹیا کیا ہے، ویسا کیا نہ تو میں سچ میں جان ہار جاؤں گی۔”۔
میں نے کہا: ۔
“اب آپ مجھے ایسی دھمکیاں دیں گی؟”
امی جان بولیں: ۔
“تو نے میرے پاس کوئی اور چارہ چھوڑا ہی کہاں ہے۔۔۔ تو کر اپنی من مانی۔۔۔ میں بھی ادھر اپنی من مانی کر جاؤں گی، کھیل جاؤں گی جان پر۔”۔

افففففففف! میرے جیسے شہوت پرست کی ماں جتنی گرم تھی، اتنی ہی ٹیڑھی بھی تھی۔ مان کے ہی نہیں دے رہی تھی۔۔۔ میں تو ساری کشتیاں جلا چکا تھا، واپسی کا کیسے سوچ سکتا تھا؟ کوئی انتخاب نہیں تھا سوائے امی جان کی چوت میں گھسنے کے۔

میں بولا:۔
“اور میں یہاں جان پر کھیل جاؤں گا۔۔۔ میں صرف اتنا کروں گا، خالہ پر کوشش کروں گا۔۔۔ اگر انہیں برا لگا تو پیچھے ہٹ جاؤں گا۔ میں جانتا ہوں آپ کی طرح وہ بھی بہت گرم ہیں اور وہ بھی اب چوت کی آگ میں ابل رہی ہوں گی۔۔۔ میں تو صرف آپ کو پانا چاہتا تھا، لیکن آپ نہیں مان رہی ہیں۔۔۔ میرے پاس دو ہی راستے ہیں، یا تو میں باہر ملنے والی ہر لڑکی پر چڑھ جاؤں۔۔۔ یا پھر خالہ سے پیار کر کے ان کے جسم کو پا جاؤں۔۔۔ خالہ سے ویسے بھی مجھے آپ کی خوشبو آتی ہے۔۔۔ خالہ کو پا لیا تو سمجھ لوں گا آپ کو پا لیا۔۔۔ اب آپ کچھ نہیں کہیں گی، میں فون رکھ رہا ہوں۔”۔
امی جان بولیں: ۔
“رک رک میری بات سن۔۔۔”
لیکن میں نے کال کٹ کر دی۔ امی جان کی طرف سے واپس کال آنے لگی۔ پہلے میں نے اٹھائی نہیں، دوسری بار آئی تو میں نے کال اٹھا لی۔
امی جان کی غصے بھری آواز سنائی دی: ۔
“تو اپنی ماں کے ساتھ یہ چکربازی ختم نہیں کرے گا کیا؟”۔
میں نے کہا: ۔
“آپ اپنے جسم کے ساتھ زیادتی ختم کر دیں، میں بھی اپنی ساری ضدیں چھوڑ دوں گا۔ قسم کھاتا ہوں، آپ کے بعد کسی کے جسم کو سوچوں گا بھی نہیں بالکل۔”۔
امی جان اور بھی غصے سے بولیں:۔
“میرا جواب تجھے معلوم ہی ہے۔ اب تو فون رکھ چاہے نہ رکھ۔۔۔ میں اب تجھ سے بات نہیں کروں گی۔۔۔ لیکن اتنا یاد رکھ، میں نہ تو اپنی بہن کو دکھی دیکھ سکتی ہوں، نہ ہی اس کے آگے شرمندہ ہو سکتی ہوں، نہ ہی اپنی بیٹی کی زندگی میں کوئی انہونی یا دکھ بسونیاشت کر سکتی ہوں۔ تو اپنی مرضی کر۔۔۔ تو نے کچھ غلط کیا تو پھر میں کیا کروں گی۔۔۔ اب تجھے میں کوئی دھمکی نہیں دوں گی۔۔۔ براہ راست تجھے خبر ہی ملے گی۔”۔

امی جان نے کال کٹ کر دی اور میں موبائل کو گھورنے لگا۔۔۔ پھر ایک لمبی سانس لے کر منہ کے راستے چھوڑتا ہوا خود کو گالی دینے لگا:۔
“بہن چود! ایک امی جان ہی تھی کیا دنیا میں سب کچھ کرنے کے لیے؟ اور بھی تو تھیں نہ۔۔۔ اور بھی جانے کتنی آنے جانے والی تھیں- چھوڑ دے امی جان کی چاہ۔”۔
لیکن نہیں چھوڑ سکتا تھا۔۔۔ ہاں پا سکتا تھا، اور پائے بنا رہنے کو تیار بھی نہیں تھا۔ کچھ خاص منصوبہ بنانا پڑے گا۔

میں وہی سوچنے لگا اور پھر میرے ہونٹوں پر مسکان ابھرتی چلی گئی۔۔۔ ہاں یہ صحیح رہے گا۔۔۔ آگ جلے گی بھی نہیں اور ادھر امی جان کا جسم پک کر میرے آگے آ جائے گا۔۔۔ اب تو ایسا ہی کروں گا۔۔۔
اپنے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے میں خالہ کے اور بھی قریب ہونے لگا- وہ مجھ سے پیار تو پہلے سے ہی بہت زیادہ کرتی تھیں۔ جب میں نے ان کی خدمت کرنی شروع کی، ان کے پاؤں دبانے شروع کیے، خالہ کی بھی خدمت میں دن رات ایک کرنے لگا، تو میں خالہ، خالہ کے شوہر اور سب کی نظروں میں اچھے سے اچھا بنتا چلا گیا۔
پھر میں نے خالہ کی لڑکی کے سامنے پہلی بار خالہ کے سائیڈ میں بیٹھ کر، دونوں بانہوں کے گھیرے میں لے کر خالہ کے گال کو چوم لیا- وہ دیکھ کر حیران ہوئی۔
خالہ شوخی سے بولیں: ۔
“کيا کر رہا ہے تو عمران؟”
میں پھر سے خالہ کے گال کو چوم کر بولا:۔
“پیار۔”
ایسے ہی میں موقع ملتے ہی خالہ کے گالوں کو چومنے لگا۔ خالہ کو برا نہیں لگا۔ کمرے میں ہوتیں تو پیچھے سے خالہ کے گلے میں بانہیں ڈال کر خالہ کے گال چوم لیتا۔ اب خالہ کو بھی عادت پڑتی جا رہی تھی۔
یہاں میرا خالہ کو پٹانے کا من تھا بھی اور نہیں بھی۔ میرا اصل مقصد امی جان کی ضد کو توڑنا تھا، انہیں اتنا مجبور کرنا تھا کہ وہ خود سے کہیں: ۔
“میں ہار گئی، تم جیت گئے۔۔۔ ہاں، میں بھی تم سے پورے من سے، پوری چاہت کے ساتھ چدوانا چاہتی ہوں۔”۔

میں خالہ کے بے تکلف ہوتا چلا گیا۔ ساتھ ہی ایک پڑوس کی غیر برادری کی آنٹی جو اکثر وہاں آیا کرتی تھیں، میں ایک بیٹے کے جیسا بن کر ان کی بھی خدمت کرنے لگا۔ خالہ کے سامنے ان کے گال چومنے لگا۔ یوں مجھ پر سب کا اعتماد بھی بڑھتا گیا اور پیار بھی۔
یہ سب امی جان کے لیے ایک جال تھا، ورنہ مجھ جیسے شہوت پرست جسے جسم کی چاہت کے سوا کسی اور چیز کی چاہت نہیں رہتی تھی۔ ہاں، اس بیچ مجھے خالہ یا آنٹی کے جسم میں بڑھتی اور مچلتی گرمی کا پتا چلتا تو میں ضرور کوشش کرتا۔۔

اب میں خود اپنے گھر کم اور خالہ، ان کی بیٹیاں اور پڑوس والی آنٹی زیادہ امی جان اور میرے بھائی بہنوں سے میری باتیں کرتی تھیں۔ میرے بھائی بہن میری تعریفیں سن کر خوش ہوتے تھے اور امی جان حیران اور پریشان۔ وہ سوچ رہی ہوں گی کہ میں کیسی کیسی خطرناک چالیں چلنے لگا ہوں، صرف اور صرف اپنی امی جان کا جسم پانے کے لیے۔

پھر ایک دن خالہ امی جان کو فون پر کال کر رہی تھیں، وہ کمرے میں تھیں۔ میں کمرے میں گیا اور دروازے کو بنا کنڈی لگائے بند کرتا ہوا خالہ کے قریب جا کر خالہ کے گال پر ہلکے سے کاٹ گیا۔
خالہ بولیں:۔
“آآآآئیییییی۔۔۔ کاٹو مت بیٹا۔”
ادھر سے ماں خالہ کے منہ سے یہ سن کر چونک گئیں:۔
“کیا ہوا باجی؟”
خالہ بولیں: ۔
“عمران ہے، ہر ٹائم مستی کرتا رہتا ہے۔۔۔ باؤلا ہو گیا ہے۔ کہتا ہے خالہ آپ خالہ نہیں ہو ماں ہو۔۔۔ پھر خالہ میرے گال کو چوم کر بولیں:۔
پروین، عمران بہت پیارا ہے، اتنا پیارا ہے، دل چاہتا ہے اسے خود میں سما لوں۔”۔
خالہ اور حساب سے بولی تھیں اور ماں کچھ اور سمجھیں۔
ماں کی سانس بھاری ہونے کی آواز سنائی دی۔ میں نے فون کو لاؤڈ اسپیکر پر ڈال دیا تھا۔ پھر میں نے خالہ کی ناک پکڑ کر دبا دی۔ ادھر امی کوئی بات کر رہی تھیں، خالہ بول نہیں پائیں، ان کی ناک بند تھی لیکن منہ سے عجیب سا سانسوں کا شور سنائی دیا۔
امی جان بولیں: ۔
“ب۔۔۔ باجی، م۔۔۔ میں پھر بات کرتی ہوں۔”

تبھی میں نے خالہ کی ناک چھوڑ دی۔ خالہ زور کی سانس اندر کھینچتی ہوئی بولیں: ۔
“عمران بیٹا، کبھی کبھی تم عجیب ڈھنگ سے مجھے پریشان کرنے لگتے ہو۔ پریشان کرنا ہی ہے تو فون پر بات کرتے وقت تو کچھ لحاظ کر لیا کرو۔”۔
میں خالہ کے گال کو چوم کر بولا: ۔
“ادھر بھی ایک ماں ہے، ادھر بھی ایک ماں ہے۔۔۔ پھر سوچنا کیسا؟”۔
خالہ بولیں:۔
“وہ تو ٹھیک ہے، لیکن۔۔۔”
میں نے پوچھا:۔
“لیکن کیاااااااا؟”
خالہ بولیں:۔
“کچھ نہیں۔”

ایسے ہی میں آئے دن فون پر خالہ اور ماں کی بات چیت کے دوران خالہ کو پریشان کرنے لگا۔ خالہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ میں یہ سب اپنی ہی امی جان کے جسم کو پانے کے لیے کھیل کھیل رہا ہوں، چال چل رہا ہوں۔ جان جاتیں تو شاید مجھے اپنے گھر سے بھی نکال دیتیں۔۔۔
اتنے دنوں میں میں نے مشاہدہ کر لیا تھا کہ خالہ بھی امی جان کی طرح بہت گرم عورت ہیں، اس عمر میں پیار اکثر ادھوری رہ جاتی ہے۔ ادھر پڑوس والی آنٹی کے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا۔
میری خالہ اور پڑوس والی آنٹی کے ساتھ پیار بھی جاری رہا اور میں شکاری بن کر موقع ملنے پر یہاں وہاں ہاتھ لگا کر ان کی دوسری سوچوں کو بھی ابھارنے کی کوشش کرتا رہا۔۔
اسی بیچ میں خالہ کو لے کر اکثر سیر پر بھی نکل جاتا۔ جہاں میں خالہ کو لے جاتا، جیسے کپڑے پہنا کر لے جاتا۔۔۔ میں نے ایک اور لڑکی سیٹ کر رکھی تھی جو صحت میں خالہ جتنی تھی۔ پیچھے سے دیکھ کر کوئی بھی کہہ سکتا تھا کہ یہ خالہ ہی ہے۔
بس میں ایک دن خالہ کے ساتھ سیر پر نکلتا، پھر خالہ کا وہی لباس گھر سے لے کر اس لڑکی کے ساتھ اسی جگہ جا پہنچتا۔ وہ میرے جیسے شہوت پرست کے چکر میں بری طرح پھنس چکی تھی۔ میں جیسا کہتا، وہ ویسا ہی کرتی۔۔۔
زبیر بھائی نے مجھے ایک قیمتی فون تحفہ کر دیا تھا، اسی موبائل میں تصویریں بنانے والی ایپس انسٹال کر کے میں خالہ اور لڑکی کی تصویر کو ترتیب دیتا۔ میرے پاس امی جان کے لیے بہت سی چالیں اکٹھی ہوتی جا رہی تھیں۔۔
ادھر میں نے پڑوس والی آنٹی کو اتنا گرم کر دیا کہ وہ گرم ہونے کے بعد میرے نیچے لیٹ کر مجھ سے سب کرانے لگیں۔ جب پڑوس والی آنٹی قابو آ گئیں تو میں نے خالہ پر کوشش چھوڑ دی، زیادہ کے چکر میں اکثر تھوڑے سے بھی ہاتھ دھونے پڑتے ہیں، اور میں تو امی جان کو پانے کے لیے سب چھوڑنے کو تیار تھا بالکل۔
ایسے ہی میرے امتحانات ہو گئے اور میں آزاد ہو گیا۔۔

اس بیچ وہاں امی جان کی حالت دن بہ دن خراب ہوتی جا رہی تھی۔ میں یہاں مزے کر رہا تھا، وہ وہاں تڑپ رہی تھیں۔ میں نے جو کہا تھا، جسموں کی گرمی ایک دوسرے میں منتقل ہو جانے کے بعد بھلا پانا ممکن نہیں رہتی۔ امی جب بھی ابو کے آگے ننگی ہو کر ٹانگیں کھولتیں، پھر ابو کا لنڈ اپنی چوت میں گھستے پا کر میرے سب کچھ کو یاد کرنے لگتیں۔ جب ابو کا لنڈ امی جان کی چوت کی آگ بجھانے میں ناکام رہتا تو امی جان میرے جسم کی گرمی، میرے لنڈ کی سختی اور مزے کو یاد کرنے لگتیں۔۔۔ جب بھی وہ اپنے سینے پر نہاتے وقت ہاتھ لگاتیں تو وہاں میرے ہاتھ کے لمس کو محسوس کرنے لگتیں۔۔۔ فارغ ہونے کے بعد اپنی پچھلی جگہ پر انگلیاں لگاتیں تو میری انگلیوں کی گرمی ان کے جسم کی گرمی کو بڑھا دیتی۔۔۔ پھر جب وہ فارغ ہونے کے بعد اپنی چوت پر ہاتھ لگاتیں تو وہاں میری زبان کی گرمی، میرے لنڈ کی گرمی انہیں پاگل کرنے لگتی۔۔۔ ان کے جسم کی گرمی بڑھتی ہی جا رہی تھی۔ دل میں چاہ نہ ہوتی تو میرے ساتھ کبھی اتنی بھی آگے نہ بڑھتیں۔۔۔ ہاں دماغ ضرور انہیں روکتا تھا۔

اب ادھر ان کے حساب سے میں خالہ اور پڑوس والی آنٹی کے ساتھ ضرور جسمانی کھیل کھیل رہا تھا، وہ سوچ رہی تھیں کہ وہ وہاں تڑپ رہی ہیں اور عمران کے ساتھ مل کر اس کی بہن اور پڑوس والی بیگانی آنٹی مفت میں ہی مزے کیے جا رہی ہیں۔

امی جان رات دیر تک جاگتی رہتیں، کبھی نیند آ جاتی تو ہڑبڑا کر اٹھ جاتیں۔ چوت کی آگ انہیں چین سے سونے بھی نہیں دیتی تھی اب۔ مجھ سے دوری بھی ایک درد تھا ان کے دل کا۔۔۔ وہی درد میں ان سے دور رہ کر مزے کے دن رات جی کر بڑھا رہا تھا۔ امی جان اٹھ کر 2 گلاس پانی پی کر ٹہلنے لگتیں۔ پھر تھک ہار کر چارپائی پر لیٹ جاتیں۔ کبھی نیند آ جاتی، کبھی ایسے ہی جاگتی آنکھیں صبح کی روشنی دیکھ جایا کرتی تھیں۔۔۔

اور پھر میں کئی مہینوں بعد اپنے شہر، اپنے گھر واپس لوٹ گیا۔۔۔۔۔ میں بنا بتائے حیران کرنے کا پورا پورا منصوبہ بنا کر آیا تھا۔ میں اب پینٹ شرٹ پہنا کرتا تھا، پہلے شلوار قمیض پہنتا تھا۔ اب تو میں پورا شہری بابو بن کر گھر لوٹا تھا، سب سے پہلے میں دکان پر ابو سے ملا۔ وہ مجھے دیکھ کر بڑے خوش ہوئے، ان کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔۔

پھر میں بیگ وہیں دکان میں رکھ کر گھر میں جا گھسا۔ سب سے پہلے مجھ پر نظر پڑی لبنیٰ اور امجد کی، دونوں چارپائی پر بیٹھ کر گھر کا کام کر رہے تھے۔

“عمررررررررااااااااان بھاااااااااائییییییییی!۔
” چیختے ہوئے چارپائی سے اتر کر میری طرف بھاگ پڑے۔ حنا، سونیا اور امی جان کمروں کے اندر تھیں۔ میرا نام سن کر بنا چپل پہنے ہی بھاگتی ہوئی کمروں سے نکل آئیں۔ پھر مجھ پر نظر پڑتے ہی حنا اور سونیا تو بھاگ کر میرے پاس آنے لگیں، امی جان حیران و ششدر کھڑی مجھے دیکھتی رہ گئیں۔

ادھر میں امجد اور لبنیٰ دونوں کو ایک ساتھ اپنی بانہوں میں بھر کر گلے سے لگا گیا تھا۔ اتنے وقت کے بعد میں گھر لوٹا تھا، میری آنکھوں میں بھی پانی اتر آیا تھا۔ لبنیٰ اور امجد رو رہے تھے خوشی سے، حنا اور سونیا بھی آنکھیں نم لیے سسک رہی تھیں۔۔۔

جاری ہے ۔





Source link

Leave a Comment