امی نےبیڈ پر لیٹ کر اپنے دونوں بازو پھیلائے
اور کہا۔۔
آؤ میرے بے شرم بچوں ۔۔اب آرام سے میرا دودھ پی لو۔۔
ہم دونوں بھائیوں نے اپنی۔۔ اپنی ٹانگیں امی کی ٹانگوں کےاوپر رکھ دیں۔۔
اب ہمارے لن سائیڈوں سے امی کی رانوں سے ٹکرا رہے تھے۔
امی کے مموں سے آنے والی مہک ہمیں دیوانہ بنا رہی تھی۔
میں نے امی کا دایاں مما اپنے ہاتھ میں تھاما اور اس کے موٹے سے نپل کو اپنے ہونٹوں میں بھر لیا
اور چوسنا شروع کیا۔۔
اففففففف
کیا بتاؤں دوستوں ۔۔۔
بہت ہی۔۔ میٹھا میٹھا۔۔ مزے دار دودھ ۔۔۔
دودھ کی ایک دھار میرے ہونٹوں سے ہوتی ہوئی میرے حلق کو تر کر گئی ۔۔
میں نے ذیشان کی طرف دیکھا تو وہ بھی امی کے بائیں ممے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں دبائے نپل کو منہ میں لیے بری طرح چوس رہا تھا۔
ہم تقریباً پندرہ منٹ تک خوب مزے سے امی کے ممے چوستے رہے۔
کبھی کبھی امّی سسکیاں لیتیں اور اپنے جوش کو چھپانے کی کوشش کرتیں ۔۔۔لیکن وہ واضح طور پر ناکام ہو رہی تھیں۔
میں نے دیکھا۔۔
کہ ان کی آنکھیں بند تھیں اور وہ اپنے ہونٹ کاٹ رہی تھیں۔
میرا لن میرے ٹراؤزر کے اندر فل کھڑا تھا اور مجھے لگ رہا تھا کہ میرے لن سے مذی نکل رہی ہو میں بہت گرم ہو رہا تھا۔۔
میں نے امی کا مما چوستے چوستے ان کے نپل کو ہلکا سا۔۔ کاٹا
“آہ!۔۔۔ روحان بیٹا۔۔۔۔۔ ایسا مت ۔۔۔۔کرو”۔
امی سسکتے ہوئے بولیں ۔۔۔
امی کے دودھ کا ذائقہ بھینس کے دودھ جیسا تو نہیں تھا لیکن بہت اچھا تھا۔
میں امی کے ممے کو چومنے لگا اور پورے ممے کو اپنی زبان سے چاٹنے لگا۔۔۔
امّی ہمارے سروں کو پیچھے سے پکڑ کر اپنے مموں پر دبا رہی تھیں۔
میں نے جوش میں آتے ہوئے امی کے ممے کو دونوں ہاتھوں سے پکڑا اورلن کو دھیرے دھیرے۔۔
ان کی رانوں پر دبانے لگا اور ساتھ ہی ممے کو زور زور سے دبانے لگا جس سے امی کے دودھ کی دھاریں نپل سے نکل کر بہنے لگیں اور دودھ بہہ کر ممے سے ہوتا ہوا ان کے پیٹ پر جانے لگا۔ میں اب آہستہ آہستہ امی کے ممے کو چومتا اور چاٹتا چاٹتا نیچے پیٹ کی طرف جانے لگا۔
میں امی کے پورے پیٹ کو چوم اور چاٹ رہا تھا۔
ذیشان ابھی تک امی کے بائیں ممے کو چوسے ہی جا رہا تھا ۔ اس نے جب دیکھا کہ میں امی کے پیٹ کو چومنے میں لگا ہوا ہوں اور امی کا دایاں مما میری گرفت سے آزاد ہے تواس نے امی کے دونوں مموں کو آپس میں ملایا اور دونوں نپلز کو ایک ساتھ اپنے منہ میں بھر لیا ۔۔
آاااااااااہ
اففففففففف
ذیشان ۔۔۔میرے بچے۔۔۔۔۔۔
امی کے منہ سے زوردار سسکی نکلی۔۔
میں مستقل امی کے پیٹ کو چومے جا رہا تھا پھر میں اور مزید نیچے ہوا اور امی کی چوت کے اوپر ان کی شلوار کے اوپر سے ہی اپنے ہونٹ رکھ دیے۔
تو امّی ایکدم سےہوش میں آئیں۔۔ اور مجھے روک دیا۔
اوکے۔۔۔ بھئی بچوں۔۔ چلو اب بس ۔۔آج کے لیے اتنا کافی ہے۔
امی یہ کہہ کر اٹھنے لگیں۔۔ ذیشان ابھی تک ان کے ممے چوس رہا تھا۔
امی نے پیارسے ذیشان کو دھکیلا۔۔
امی۔۔ پلیز ۔۔۔۔ایک منٹ اور پینے دیں نا۔۔۔
ذیشان بیٹے ۔۔بس کردو ۔۔۔۔۔
امی نے اپنے نپلز سہلاتے ہوئےکہا
اور اپنی قمیض پہننے لگیں۔
اچانک ہم دونوں بھائیوں کی نظر امی کی۔ برا ۔پر پڑی جو ابھی بھی بیڈ کےسائیڈ پر پڑی تھی۔۔ تو ہم دونوں نے برا کواکھٹے اٹھایا اور اس کو چومنا شروع کر دیا۔۔
امی جو کمرے سےباہر جانے لگی تھیں یہ دیکھ کر رکیں اور برا کو ہمارے ہاتھوں سے کھینچتے ہوئے بولیں ۔۔۔
او۔۔ بے شرموں ۔۔گندے بچوں۔۔۔ کچھ شرم کرو ابھی تو میرے دودھوؤں سے سارا دودھ پیا ہے اب اس گندے برا کو تو چھوڑ دو۔۔
اور برا لےکر کمرے سے باہر نکل گئیں۔
میں نے اور ذیشان نے محسوس کیا کہ ہم بہت آگے چلے گئے ہیں۔ مگر ہم امی پر حیران تھے کہ وہ ہمیں دودھ پلانے پر۔۔ اور وہ بھی اپنے مموں سے
کیسے راضی ہوگئیں۔۔
اس رات ہم نے آپس میں کوئی بات نہیں کی۔
اگلی صبح امّی بالکل نارمل
تھیں ۔اور کچن میں تھیں ۔۔ مجھے لگا کہ کوئی اور بھی ہے امی کے ساتھ کچن میں۔۔ تو میں بھی کچن میں چلا گیا تو دیکھا کہ امی ٹراؤزر اور ایک ڈھیلی اور کھلی ٹی شرٹ
(جو کہ وہ سلیپنگ سوٹ کے طور پر پہنتی ہیں)
میں تھیں۔۔ اور برتن واش کر رہی تھیں ۔
میں نے جب نیچے دیکھا تو حیران رہ گیا۔۔
کیو نکہ۔۔
ذیشان امی کے آگے کی طرف گھٹنوں کے بل بیٹھا ہو ا تھا ۔۔اور اس کا سر امی کی ٹی شرٹ کے اندر تھا۔