ہماری پیاری امی۔۔ اور۔۔ ہم ان کے ۔۔بے شرم بچے۔۔۔قسط 14۔۔۔۔(سیزن ون)

میری تیز سسکی سنتے ہی کمرے میں موجود تینوں افراد ایک دم چونک گئے اور دروازے کی طرف دیکھا جہاں میں اپنا لوڑا ہاتھ میں پکڑے منی کا چھڑکاؤ کر رہا تھا۔

ارے۔۔۔ارے
روحان۔۔
بیٹا اسے کیوں ضائع کیا ۔ ۔میرے اوپر آ کر چھڑک دیتے نا۔۔
نازو نے بیتابی سے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا۔

تم کب سے کھڑے تھے یہاں روحان ؟
ابو نے مسکراتے ہوئے پوچھا۔

وہ میں تو پانی پینے آیا تھا ۔پر یہاں سے آتی آوازیں سن کر مجھ سے رہا نہیں گیا اور میں آپ تینوں کی لائیو چدائی شو دیکھتے دیکھتے خود بھی گرم ہو گیا۔
میں نے کمرے میں اندر داخل ہوتے ہوئے کہا۔

تو اسی وقت اندر آجاتے اور ہمیں جوائن کر لیتے دروازے پر کیوں کھڑے رہے؟
پھوپھا نے کہا۔۔ اور باتھ روم کی طرف بڑھ گئے۔

چلو بھئی میں بھی چلتا ہوں ۔۔۔بہت نیند آ رہی ہے ۔روحان تم بھی اپنے کمرے میں جاؤ بیٹا
نازو بھی اب آرام کریں گی یہ بھی تھک گئی ہیں بہت۔
ابو یہ کہتے ہوئے بیڈ سے اٹھے ۔۔ان کا لوڑا اب نیچے کی طرف جھکا مرجھایا ہوا لٹک رہا تھا۔
اور میرے پاس سے ہوتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئے۔

روحان ۔۔۔میری جان کیا تمہارا بھی دل چاہ رہا ہے مجھے چودنے کا؟
نازو نے میری طرف دیکھتے ہوئے مسکرا کر پوچھا۔

میں نے نازو کی طرف دیکھا۔ ۔۔۔

بکھرے بال ۔۔۔گلابی آنکھیں ۔۔۔۔ پسینہ پسینہ بدن۔۔

مموں پر ابو کے چک مارنے کے لال نشان۔۔۔

چدائی سے سرخ ہوتی چوت کے پھڑپھڑاتے لب۔۔۔

اور جسم پر پھوپھا کی منی کے چھڑکاؤ کے اثرات۔۔

صحیح معنوں میں نازو کی ٹھیک ٹھاک چدائی ہوئی تھی۔اب ایسے میں اگر میں بھی ان کی چوت مارنے لگ جاتا تو وہ حال سے بےحال ہو جاتیں اور پھر چھوٹی بچی کا بھی تو ساتھ تھا۔

میں انکار میں سر ہلاتے ہوئے ان کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا اور ان کے مموں پر سے پھوپھا کی منی کے کچھ قطروں کو اپنی انگلی سے سیمیٹا اور اس انگلی کو نازو کے لبوں پر رکھتے ہوئے بولا۔۔
نہیں نازو ۔۔۔۔ابھی نہیں ۔۔۔آپ بہت تھکی ہوئی ہیں ۔
آرام کریں ۔کل میں اور ذیشان آپ کی چوت اور گانڈ سے لطف اندوز ہوں گے۔

اچھا ۔۔۔۔چلو ٹھیک ہے ۔۔۔پر ابھی جو اتنی محنت کی ہے مٹھ مارنے میں ۔۔۔۔کمزور ہوجاؤگے ۔۔۔تھوڑا سا دودھ پی لو میرا ۔۔۔طاقت بحال ہو جائے گی۔
نازو نے میری انگلی جس پر پھوپھا کی منی لگی ہوئی تھی ۔۔چاٹتے ہوئے کہا۔۔

اور مجھے کسی چھوٹے بچے کی طرح اپنی گود میں لٹا لیا۔ ۔۔۔۔پھر اپنے ہاتھ میں اپنا ایک مما پکڑا اور اس کے نپل کو دو انگلیوں کے بیچ میں دبایا تو نپل ابھر سا گیا ۔۔۔نازو نے اس نپل کو میرے ہونٹوں سے لگایا ۔۔

میں نے اپنے ہونٹ کھولتے ہوئے نپل کو منہ میں لے لیا ۔۔۔نازونے ممے کو دبایا تو دودھ نپل سے نکلتا ہوا میرے منہ میں آنے لگا اور میں نازو کا دودھ پینے لگا ۔۔۔اتنے میں پھوپھا بھی باتھ روم سے فریش ہو کر آگئے تھے ۔۔۔مجھے نازو کا دودھ پیتا دیکھ کر مسکراتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گئے۔کچھ دیر تک نازو کا دودھ پینے کا بعد میں بھی انکی گود سے اٹھا۔۔۔میرا لوڑا ابھی تک میرے پاجامے سے باہر تھا اور اس پر میرے جوس کے کچھ قطرے ابھی لگے ہوئے تھے ۔

نازو نے ایک ہاتھ میں میرے لوڑے کو پکڑا جو مرجھا کر سکڑا پڑا تھا اور جھکتے ہوئے اسے اپنے منہ میں لے لیا اور اسکے ٹوپے کو کچھ لمحے چوسا پھر اسے منہ سے باہر نکال لیا ۔

سواد بہت اچھا ہے تمہارے جوس کا روحان ۔۔۔تمہارے ابو سے بھی اچھا۔۔۔
نازو نے اپنے ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا

میرا لوڑا نیم کھڑا ہوتا ہوا جھٹکے مارنے لگا ۔۔۔نازو کے گرم گرم منہ کی سیر جو کر کے آیا تھا۔

بس۔۔۔بس۔۔۔ اسے ابھی سلا کر ہی رکھو۔۔۔جاگ گیا تو میری بری حالت کر دے گا۔
نازو نے پیار سے میرے لوڑے پر تھپڑ مارا۔۔۔

اور خود بھی اٹھ کر باتھ روم کی طرف جانے لگیں ۔۔۔میں نے پھوپھا کی طرف دیکھا تو وہ سو چکے تھے۔

میں بھی نازو کے کمرے سے نکل کر اپنے کمرے میں جا کر لیٹ گیا اور پھر نہ جانے کب نیند کی وادیوں میں کھو گیا۔

اگلے دن میری آنکھ دیر سے کھلی۔۔کمرے سے باہر آیا تو دیکھا کہ ابو اور پھوپھا آفس جا چکے ہیں اور امی کچن میں کھانا بنانے کی تیاریاں کر رہی ہیں ۔۔ذیشان مجھے کہیں نظر نہیں آیا۔۔۔

امی یہ ذیشان کہاں غائب ہے؟
میں نے امی سے پوچھا۔۔

بیٹا ابھی تو یہیں تھا ۔۔۔کہیں نازوکے پاس نہ ہو
امی نے جواب دیا۔

اچھا مجھے ناشتہ تو بنا دیں ۔۔۔بہت بھوک لگ رہی ہے۔
میں نے امی کے قریب آتے ہوئے کہا۔

ناشتے میں تو تمہارے لیے۔ انڈا بریڈ ۔کر دیتی ہوں۔ یہ بتاؤ چائے پیو گے یا دودھ ؟
امی نے اپنے کام میں مگن مجھ سے پوچھا۔ ۔

دودھ پیوں گا ۔۔اور وہ بھی خالص۔
میں نے آگے بڑھتے ہوئے امی کی گانڈ پر اپنا لوڑا دباتے ہوئے جواب دیا۔

کبھی بھینس کا بھی پی لیا کرو۔۔ بس مجھے ہی بھینس بنا کر رکھا ہوا تم سب نے۔
امی نے اپنی گانڈ پر میرا لوڑا محسوس کیا تو اپنی گانڈ کو پیچھے کرتے ہوئے میرے لوڑے پر دبایا۔۔

میں امی سے اور چپک گیا اور اپنے ہاتھ ان کی بغلوں سے گزارتے ہوئے ان کے مموں پر رکھے دیے۔

ناشتہ تو بنانے دو روحان ۔۔
امی نے چہرہ پیچھے موڑ کر کہا۔۔۔

جیسے ہی امی نے اپنا چہرہ پیچھے موڑا میں نے امی کے ہونٹوں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے اور کس کرنے لگا ۔۔۔۔میرے ہاتھ امی کے مموں کو دبا رہے تھے اور کپڑوں کے اوپر سے ہی ان کے مموں کو ٹٹول رہے تھے۔ میرا لوڑا فل کھڑا ہوا امی کی گانڈ میں چبھ رہا تھا۔۔

ارے۔۔۔۔۔کک کیا کررہے ہو ۔۔۔ جل جائے گا ناشتہ ۔۔۔
ذرا بھی صبر نام کی چیز نہیں ہے اس لڑکے میں
جہاں ماں کو دیکھا فوراً لوڑا کھڑا کر لیا۔
امی اپنے آپ کو چھڑاتے ہوئے بولیں۔

جب ماں ہی اتنی سیکسی اور بمباٹ ہو تو کس بچے کا دل چاہے گا کہ ماں چودے بغیر رہ سکے۔
میں نے پیچھے ہٹتے ہوئے کہا۔۔

اچھا ناشتہ تو کر لو پھر جتنا دل چاہے چود لینا مجھے۔۔
امی نے مسکراتے ہوئے کہا ۔۔۔۔

میں نازو کے پاس جا رہا ہوں ۔۔۔وہاں ہی ناشتہ لے آئیے گا ۔
میں نے نازو کے کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے کہا۔۔

میں نازو کے کمرے میں داخل ہوا ہی تھا کہ ٹھٹک کر رک گیا۔

میری نظروں کے سامنے ذیشان پاجامہ اتارے کھڑا تھا اور نازو نیچے اسکے گھٹنوں کے پاس بیٹھی تھیں۔۔ان کے ہاتھ ذیشان کے اکڑے ہوئے لوڑے پر تھے اور منہ میں لوڑے کا ٹوپا۔۔

نازو بڑے مزے سے ذیشان کے چوپے لگا رہی تھیں۔ اور ذیشان کے ہاتھ نازو کے سر پر تھے جسے وہ اپنے لوڑے پر دباتے ہوئے ہلکے ہلکے سسکیاں بھر رہا تھا۔

واہ بھئ ۔۔۔ میرے بغیر ہی شروع ہوگئے۔۔۔۔
مجھے بھی بلا لیا ہوتا۔۔۔
میں نے بھی اپنا پاجامہ اتارتے ہوئے کہا۔ ۔

اور سیدھا لوڑا لہراتا ہوا نازو کے پاس جا پہنچا۔

نازو نے مسکراتی نظروں سے میرے لوڑے کو دیکھا اور ذیشان کے لوڑے کو منہ سے نکال کر میرالوڑا منہ میں لے لیا اور چوسنے لگیں۔

ابھی نازو کو میرا لوڑا چوستے ہوئے کچھ ہی دیر ہوئی تھی کہ امی ناشتے کی ٹرے لیے اندر داخل ہوئیں۔۔۔

ہاااااائیں۔۔۔۔ یہ میں کیا دیکھ رہی ہوں۔۔۔۔
تم دونوں بھائیوں کو اور کوئی کام نہیں بس ہر وقت چدائی سر پر سوار رہتی ہے۔
امی نے ناراض لہجے میں کہا۔

ناراض تو نہ ہوں آپ امی ۔۔ آپ کو بھی چودیں گے ۔۔مگر آج تو نازو کو مزا دیناہے۔
ذیشان نے امی کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔

ناشتہ تو کر لو تم لوگ ۔۔۔پھر کر لینا مزے
امی نے منہ بناتے ہوئے کہا۔

اچھا۔۔۔اچھا۔۔۔ناشتہ بھی کر لیں گے ۔آپ ادھر تو آئیں ۔
نازو نے امی سے کہا۔

اف۔۔۔۔
کتنے سخت ہورہے ہیں ان دونوں کے لوڑے۔۔
دیکھیں نا بھابھی
نازو نے ہمارے لوڑوں کو دبایا۔۔

آااااااااااہہہہہہہہہہہہ
آہستہ سے ۔۔۔۔۔۔نازو
کیا لوڑے کو جڑسے اکھاڑنا ہے؟

میرے منہ سے درد بھری آواز نکلی ۔۔

جڑ سے اکھاڑنا نہیں بلکہ جڑ تک اتارنا ہے وہ بھی یہاں۔۔
اب کی بار امی نے نازو کی چوت پر کپڑوں کے اوپر سے ہی ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔

نازو نے سسک کر امی کو اپنے سینے سے لگایا اور امی کے ہونٹوں سے اپنے ہونٹ جوڑ لیے۔۔
امی نے بھی نازو کی کمر کے گرد اپنے ہاتھ گھمائے اور اپنے ساتھ چپکا لیا۔

اب امی اور نازو کے ممے ایک دوسرے میں جیسے پیوست تھے۔ دونوں ہی کسکنگ کرتے ہوئے ہل رہی تھیں جس سے دونوں کے ممے ایک دوسرے سے رگڑ کھا رہے تھے۔

نازو نے اپنی زبان باہر نکالی اور امی کے گال کو چوسا۔۔۔پھر دوسرے گال کو منہ میں لیکر ہلکے سے بائٹ کیا۔
امی نے بھی اپنی زبان باہر نکالتے ہوئے نازو کی زبان سے زبان ٹکرائی اور نازو کی زبان کو اپنے ہونٹوں میں لیتے ہوئے چوسنے لگ پڑیں۔

اب میں آگے بڑھا اور ان دونوں کے چہروں سے اپنا چہرہ ملا کر ان کے ہونٹوں کو چاٹنے لگا
دوسری طرف سے ذیشان قریب آیا اور اس نے بھی یہی عمل دہرایا ۔

اب ہم چاروں آپس میں کسنگ اور چوما چاٹی کر رہے تھے ۔

میں نے ایک ہاتھ میں امی کا مما اور دوسرے ہاتھ میں نازو کامما پکڑا اور دھیرے دھیرے دبانے لگا۔۔۔
جب کہ ذیشان امی اور نازو کو چومتے چومتے نیچے جھکا اور امی اور نازو کے مموں میں اپنا چہرہ گھسا لیا اور رگڑنے لگا۔۔

ابھی میں امی اور نازو کے ممے دبا ہی رہا تھا کہ مجھے اپنے لوڑے پر کسی ہاتھ کی گرفت محسوس ہوئی ۔میں نے نظریں گھما کر دیکھا تو وہ نازو کا ہاتھ تھا جو میرے لوڑے کو مسل رہا تھا ۔

مجھ پرشہوت نے غلبہ طاری کردیا ۔۔اور میں بےساختہ ہی نازو کے ہونٹوں اپنے ہونٹوں میں لیکر چوسنے لگا۔ میرا لوڑا اکڑ کر اب درد کرنے لگا تھا اور مجھے یقین تھا کہ ذیشان کا بھی اتنا ہی برا حال ہو رہا ہوگا جتنا میرا ہو رہا تھا ۔تبھی ذیشان امی کی شرٹ کو اوپر کرنے لگا ۔امی نے ہاتھ اوپر کر کے اسے شرٹ اتارنے دی۔۔۔۔اب امی ایک نیٹ کی بریزر پہنے ہوئے ہمارے سامنے تھیں جس میں سے امی کے براؤن براؤن ایرولا اور ان پر سجے موٹے موٹے تیز چاکلیٹی کلر کے نپل جھانک رہے تھے۔

نازو کے منہ سے امی کے سیکسی ممے دیکھتے ہی ایک سیٹی کی آواز نکلی اور انہوں نے میرے ہونٹ چوسنے چھوڑ کر امی کے مموں پر اپنے ہونٹ رکھ دیے





Source link

Leave a Comment