امی سے طوفانی عشق۔۔۔(آخری قسط )

میری ساری ہوس دم گھٹنے کی وجہ سے میرے اندر ہی کہیں دفن ہو کر رہ گئی۔ امی جان چدائی کے دوران میرے لنڈ کو اپنی پھدی میں لیے ہوئے اچھلتی ہوئی میرے گلے کو دبانے لگی تھیں۔
میں کچھ سمجھ پاتا۔۔ اس سے پہلے ہی امی جان جنونی ہو کر میرے گلے کو پوری شدت کے ساتھ دباتی چلی گئیں۔ میں ایسا گھبرایا، پھڑپھڑانے لگا، تڑپنے لگا اور موت کو سامنے دیکھ گیا۔ میری آنکھیں ابل کر ڈیلوں سے باہر آنے کو ہو گئی تھیں اور میری زبان میرے منہ سے پوری باہر نکل آئی تھی۔

کچھ ہی پل میں سانس نہ لے پانے کی وجہ سے میری روح میرے شہوت زدہ جسم سے نکل جاتی۔ کہ امی جان نے میرے گلے پر سے دونوں ہاتھ ہٹا لیے۔ سانس کو میرے سینے میں جانے کا راستہ ملا تو میں زور زور سے سانسیں لینے لگا۔ ہوش میں میں ابھی تک نہیں آیا تھا۔ مجھے لگ ہی نہیں رہا تھا کہ میں زندہ ہوں۔ میں خود کو مرا ہوا سمجھ گیا تھا۔

دیر تک میں سانسیں لے کر خود کو نارمل کرتا رہا۔

میرا لنڈ امی جان کی پھدی میں کب کا ڈھیلا پڑ چکا تھا۔ دماغ ہی کام کرنا چھوڑ گیا تھا تو لنڈ صاحب کیسے کھڑے رہتے۔
امی جان مجھے دیکھتی رہیں، پھر میرے گلے کو سہلانے لگیں اور میرے سینے پر پیار سے ہاتھ پھیرنے لگیں۔

میں نارمل ہوا تو امی جان دکھ سے لیکن پیار سے بولیں: ۔
“تجھے کیا لگا، میں سچ میں تیری جان لے لوں گی؟ ماں ہوں میں۔ ایک ماں کبھی بھی اپنے بیٹے کی جان نہیں لے سکتی، چاہے پھر وہ بیٹا کتنا ہی بڑا پاپی کیوں نہ ہو۔ دیکھا، تیرے جیسے کمینے بیٹے کے لیے ایک ماں کے دل میں تیرے لیے کتنا پیار ہے۔ تو جسم کا پیار بھی مانگتا تھا مجھ سے، دیکھ میں نے تجھے جسم کا پیار بھی دے دیا اور دل میں بسے تیرے پیار کو بھی تجھے دکھا دیا۔ تو نے کوئی چارہ نہیں چھوڑا میرے پاس۔۔ مجھے اتنا مجبور کر دیا، اتنا بے بس کر دیا، میرے اندر اتنی آگ بھر دی۔۔ مجھ سے میری ساری شرم بھی چھین لی۔ مجھ سے میرے ہی جسم پر سارا اختیار تو نے چھین لیا۔ تو جانتا ہے عمران۔۔ میں نے بے غیرتی کا زہر پی لیا ہے۔ ہاں عمران۔۔ یہ جو میں نے تیرے ساتھ جسم کا کھیل کھل کر کھیلا ہے ناں۔۔ یہ ایسا زہر ہے جو کسی بھی پل میری جان لے سکتا ہے۔ تو ہوس میں اندھا ہو کر سب بھول گیا۔۔ لیکن میں نہیں بھولی۔ میں جانتی ہوں، آج نہیں تو کل۔۔ کل نہیں تو ایک نہ ایک دن یہ راز ضرور کھل جائے گا۔۔ اور وہ دن میری زندگی کا آخری دن ہوگا۔ جسم کی آگ کا زہر، اپنے ہی بیٹے کے ساتھ گناہ کا زہر میرے اندر گہرائی تک اتر چکا ہے۔ اب سے میں تیرے ساتھ وہ سب کروں گی جو تو چاہتا ہے، اور اب میں بھی چاہنے لگی ہوں۔ نہ تو سالوں سے پیچھے ہٹ سکا، نہ ہی میں اب پیچھے ہٹ سکوں گی۔ کوئی بھی عورت کبھی اتنی دور جانا نہیں چاہتی لیکن جب اسکی شرم مر جاتی ہے، پھر وہ کسی بات کی پروا نہیں کرتی، واپسی کے سارے دروازے بند کر دیتی ہے۔۔ راستہ بچتا ہے تو صرف اور صرف موت کا۔۔ میں نے تیرے لیے، تیرے جسم کی گرمی اور اپنے جسم کی گرمی کے ساتھ ساتھ اپنی بیٹیوں کے سنہرے مستقبل اور تیرے پیار میں ایک دروازہ چھوڑ کر باقی سارے بند کر دیے ہیں۔ آج سے ایک اچھی سچی ماں کے ساتھ ساتھ ایک بے شرم، بے غیرت اور بے حیا ماں کا بھی جنم ہو رہا ہے۔ آج سے تجھے تیری ماں کا جسم پوری چاہت کے ساتھ ملا کرے گا۔ جس آگ میں تم جل رہے تھے، اس آگ میں تو نے مجھے بھی جلا دیا۔ سن عمران۔۔ جسم کی اس آگ کے کھیل میں نہ تو جیتا ہے اور نہ ہی میں ہاری ہوں۔۔ ہمیشہ یہی سوچنا۔۔ تیرے اندر کی ہوس نے میری شرم کو اندر سے پوری طرح چاٹ لیا ہے۔۔ بس ایک ہی التجا تجھ سے کرتی ہوں، یہ سب ایک راز بن کر ہی رہے۔ راز کھلا تو میری سانسیں بند ہو جائیں گی۔ تجھے اس لیے میں نے نہیں مارا ہے، جب کبھی راز کھلا تو تیرے ہی سامنے میں اپنی جان پر کھیل جاؤں گی۔ تب اس دن تجھے احساس ہوگا۔”۔

میں ماں سے ڈر گیا تھا۔ ماں کے چہرے میں مجھے موت کا فرشتہ نظر آ گیا تھا۔ میری ہمت ٹوٹ گئی تھی ماں کے قریب رہنے کی۔۔ موت کی پرچھائیں کیا ہوتا ہے، میں انجان تھا۔ اب جانا تو میرے اندر کی ہوس مجھ سے بھی زیادہ ڈر گئی۔ وہ کہیں بھاگنے لگی۔۔ لیکن امی جان کی بعد کی باتیں سن کر میرے اندر کی ہوس ناچنے لگی۔ ہوس جیت گئی تھی، میں جیت گیا تھا امی جان کے جسم کو آخری سانس تک کے لیے۔

میں امی جان کے چہرے کو پکڑ کر خود پر جھکاتا ہوا امی جان کو پلٹ گیا۔۔ پھر امی جان کے اوپر آ کر میں امی جان کے چہرے کو چومنے لگا۔ لنڈ پھر سے امی جان کی پھدی میں اکڑنے لگا۔ ہوس لوٹ آئی تھی، لنڈ میں کرنٹ بڑھنے لگا تھا۔ وہ خوش ہو گیا تھا اور موڈ میں آنے لگا تھا۔

میں: ۔
نہیں امی جان۔۔ دکھی مت ہوئیے۔۔ میں آپ کا بیٹا ہوں، مر جاؤں گا لیکن کبھی کچھ ایسا نہیں ہونے دوں گا جس سے آپ کی عزت پر کوئی حرف آئے۔ میں آپ سے یہ بھی وعدہ کرتا ہوں، آج کے بعد آپ کے سوا میں کسی اور کی طرف دیکھوں گا بھی نہیں۔۔ میں اپنے جسم کی گرمی سے مجبور ہوں۔۔ آپ کے دل کے ساتھ ساتھ آپ کے جسم سے پیار کر بیٹھا۔ آپ کا جسمانی پیار مجھے ملتا رہا تو میں آپ کے دل سے اپنے سچے پیار کو بھی ثابت کر دکھاؤں گا۔ میں سب کو چھوڑ دوں گا، ایک اچھا اور سچا بیٹا بن کر آپ کے راز کو راز بھی رکھوں گا اور وہ سب کچھ کروں گا جس سے آپ کو ہر پل خوشیاں ہی خوشیاں ملیں۔”۔
امی جان رونے لگیں: ۔
عمران تو خوش تو میں خوش۔ بس میں اپنے دل کو سمجھا نہیں سکوں گی۔ ایک آنچ سی ہے دل میں، دھواں سا بھر گیا ہے دل کے ایک خانے میں۔۔ تیرے ساتھ اتنا سب کر کے کہیں نہ کہیں میں خوش بھی ہوں لیکن درد بھی اتنا ہی اٹھتا ہے دل میں۔۔ یہ سب جسم کے لیے تو من پسند ہے پر دل کے لیے نہیں صحیح۔۔”۔
میں:۔
میں آپ کو اتنا پیار دوں گا امی جان، سارے درد مٹ جائیں گے۔۔”۔
پھر میں امی جان کی روتی آنکھوں کو چومتا ہوا لنڈ باہر نکال کر چدائی کرنے لگا۔ میرا لنڈ آج پہلی بار میری اور امی جان دونوں کی من مرضی سے امی جان کی پھدی میں اندر باہر ہو رہا تھا۔

امی جان نے پوری طرح خود کو میرے سپرد کر دیا تھا۔ میں امی جان کے چہرے کو چومتا رہا تھا۔۔ امی جان ریلیکس ہوتی چلی گئیں۔ پھدی کی آگ پھر سے بڑھنے لگی۔ میرا گرم اور جوان لنڈ امی جان کے دل کے درد کو نچوڑنے لگا۔

میں:۔
“اب کیسا لگ رہا ہے امی جان؟”
امی جان میری آنکھوں میں دیکھ کر بولیں:۔
اچھا، بہت اچھا لگ رہا ہے عمران۔ دکھ تو جائے گا نہیں، پھر کیوں دکھوں کو سوچ کر جو مزہ مل رہا ہے اسے کھو دوں۔ تو کر سب، اب میں تجھے کبھی نہیں روکوں گی۔”۔
میں: ۔
اب آپ پورے من سے میرا ساتھ دے رہی ہیں نا؟”
امی جان: ۔
“اب بھی شک میں مبتلا ہو عمران۔۔؟”
میں:۔
نہیں امی جان۔۔ بس آپ کے منہ سے سننا چاہتا ہوں۔”
امی جان:۔
ہاں عمران۔۔ بہت بے چین کر دیا ہے تم نے میرے جسم کو۔ تیرے جسم کی گرمی میرے بھی خون میں دوڑنے لگی تھی۔ مہینوں میں آگ میں جلی ہوں، اب اور نہیں جل سکتی۔ بجھا دو میری ساری آگ کو۔ کل میں تجھے روکتی تھی، تجھ سے دور بھاگتی تھی، آج کہتی ہوں۔۔ بجھا دے اپنی امی جان کی آگ کو۔”۔
میں امی جان کے ہونٹوں کو چوم کر: ۔
“کہاں کی آگ کو بجھا دوں؟”
امی جان: ۔
عمران، ماں بیٹے سے مل جائے تو اسکی ساری شرم مر جاتی ہے۔ ہاں جھجک باقی ہے، وہ بھی جلد ہی چلی جائے گی۔ تو میرے ساتھ جیسا کرے گا، میں تیرا ساتھ دوں گی۔ جو کہے گا میں کروں گی۔۔ آج کی رات نکل جانے دے، کل دن کی روشنی مجھے بہت کچھ سکھا دے گی۔ تو بس ابھی جو کر رہا ہے نا۔۔ وہی کرتا رہ۔۔ اور کچھ زیادہ نہ کرنا۔ آج مجھ سے اس سے زیادہ نہیں ہو پائے گا۔۔ پہلی بار دل سے ہے نا، تو بڑا عجیب لگ رہا ہے۔”۔

میں پہلے موت کی دہشت سے لرز اٹھا تھا، مر ہی گیا تھا، امی جان سے کون بیٹا نہیں ڈرتا؟ میں بھی ڈر گیا تھا ماں کو موت کے فرشتے کے روپ میں دیکھ کر۔ لیکن اب۔۔ اب امی جان پورے من سے میری تھی۔ میں امی جان کے ہونٹوں کو چوستا ہوا امی جان کے ساتھ چدائی کرنے لگا۔۔
دیر تک کرتا رہا، پھر میرے لنڈ نے امی جان کی پھدی میں منی اگلنی شروع کر دی۔۔
امی جان میری پیٹھ سہلانے لگیں، پھر مجھے چوم کر بولیں: ۔
“اب سو جا۔۔ رات بہت ہو چکی ہے۔”
میں:۔
“ابھی من نہیں بھرا ہے امی جان۔”
امی جان:۔
کیا آج ہی سارا من بھر لینا چاہتا ہے؟ کیا پھر سے دل نہیں کرے گا تیرا؟”۔
میں:۔
کیوں نہیں کرے گا، اب تو میں اپنی امی جان کو ڈھیر سارا پیار کروں گا۔”۔
امی جان: ۔
اور اب میں بھی کراؤں گی۔۔ لیکن تو اپنی صحت پر بھی دھیان دے۔۔ دو بار پانی نکل گیا ہے، زیادہ کرے گا تو تیری صحت گرنے لگے گی۔ تجھے صحت پر بھی دھیان دینا ہے…”۔
میں: ۔
“امی ایک بار۔۔”
امی جان:۔
“تو اپنی کرے گا، میری نہیں سنے گا؟”
میں: ۔
“چلو مان لی آپ کی۔۔ اب خوش؟”
امی جان:۔
ہاں خوش۔۔ چل اب کپڑے بدل کر سوتے ہیں…”۔

میرا اور امی جان ہم دونوں کے جسم پھول کی طرح ہلکے ہو گئے تھے۔ کپڑے بدل کر ایک دوسرے سے لپٹ کر ہم دونوں ماں بیٹا پریمی بن کر سو گئے۔۔
اگلی صبح ماں مجھ سے پہلے اٹھ کر مجھے اٹھا گئیں:۔ “چل اب اٹھ جا، صبح ہو گئی ہے۔ بستر چارپائی پر بچھانے ہیں مجھے۔”۔
میں بہت خوش تھا، امی جان کو کس کرتا ہوا اٹھ گیا۔ امی جان نے بستر بچھا دیا، میں بستر پر لیٹ گیا۔ امی جان کمرے سے نکل کر باتھ روم میں گھسیں اور نہانے لگیں، بعد میں میں باتھ روم میں گھس کر نہانے لگا۔ آج نہانے میں الگ ہی مزہ مل رہا تھا۔

ناشتے کے وقت ماں کو دیکھ کر حنا بولی: ۔
امی، عمران سے آپ کچھ زیادہ ہی پیار نہیں کرنے لگیں؟ میں آپ کی بیٹی نہیں ہوں کیا۔۔ مجھے بھی اتنا ہی پیار چاہیے آپ سے۔”۔
یہی بات سونیا، لبنیٰ اور امجد نے بھی کہی۔۔ امی جان کے ہونٹوں پر شرارت بھری میٹھی مسکان تھی۔۔ سب کو دیکھ کر بولیں: ۔
“کیا سب کو مجھ سے عمران جتنا پیار چاہیے؟”
سب نے کہا: ۔
“ہاں امی۔”
امی جان اپنے دونوں ہاتھوں کی ہتھیلیاں رگڑتیں، گرم گرم پھونک مارتیں ہوئی بولیں: ۔
پھر جتنے چانٹے عمران نے کھائے ہیں، اتنے ہی تم سب کو بھی کھانے پڑیں گے۔ آؤ اور چانٹے کھاتے جاؤ۔۔ پھر پیار بھی اتنا ہی ملے گا۔۔ جتنے زور کے اور جتنے زیادہ چانٹے ہوں گے۔”۔
سب گھبرا گئے۔۔
میں اور ابو زور سے ہنسنے لگے۔

حنا، سونیا، لبنیٰ اور امجد چانٹوں کا سن کر ڈر گئے۔ امی جان کے انگ انگ میں مستی دوڑ رہی تھی، وہ اٹھیں اور بولیں: ۔
تم نہیں مارنے دو گے مجھے چانٹے۔۔ میں ہی مار دیتی ہوں۔۔ پھر پیار بھی خوب دوں گی۔”۔
چاروں چیختے ہوئے بھاگ کھڑے ہوئے۔۔
امی جان ان کے پیچھے پیچھے۔۔

میں امی جان کا یہ بدلا ہوا روپ دیکھ کر بہت زیادہ خوش تھا، میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ امی جان کھل کر چدائی کے بعد اتنی زیادہ پیاری ہو جائیں گی۔
میں، ابو اور امی ہنس رہے تھے،۔
باقی چاروں۔۔
نہیں امی۔۔ ہم نے چانٹے نہیں کھانے۔۔
بولتے ہوئے گھر میں بھاگ رہے تھے۔

دوپہر کو امی کچن میں تھیں، میں بھی کچن میں جا گھسا۔ امی جان کی گانڈ دیکھ کر پرانا سب یاد آنے لگا۔ باقی سب کمروں میں تھے۔ میں امی جان کے قریب پہنچا تو وہ مجھے دیکھ کر مسکرانے لگیں۔ میں قریب جا کر قمیض کے پلو کے نیچے ہاتھ گھسا کر امی جان کی گانڈ میں انگلی کرنے لگا۔
امی جان “سسسس” کر اٹھیں۔۔ پھر بولیں: ۔
“تجھے مزہ آتا ہے وہاں ہاتھ لگانے میں؟”
میں:۔
“کیوں، آپ کو نہیں آتا؟”
امی جان: ۔
وہاں مزے جیسا کیا ہے، سب کچھ تو آگے ہوتا ہے۔”۔
میں: ۔
“پہلے تو آپ نے کبھی ایسا نہیں کہا۔۔”
امی جان:۔
پہلے کی بات اور تھی۔ تب مجھے غصہ آتا تھا۔”
میں: ۔
“اور اب؟”
امی جان:۔
اب عجیب لگتا ہے۔ جب وہاں کچھ کرنا نہیں ہوتا تو ہاتھ بھی کیوں لگانا۔۔ تو آگے ہاتھ لے آ۔۔ اور جتنی دیر تیرا دل کرے، رگڑ لینا۔۔”۔
میرا لنڈ امی جان کی باتوں سے کھڑا ہونے لگا۔ میں امی جان کے ہاتھ کو اپنے لنڈ پر رکھ گیا۔ امی جان نے میرے لنڈ کو پکڑ کر دبا دیا: ۔
“کیا دل کر رہا ہے تیرا؟”
میں:۔
“ہاں امی جان، بڑا دل کر رہا ہے۔”
امی جان: ۔
“باقی سب کیا کر رہے ہیں؟”
میں: ۔
“اپنے اپنے کمروں میں ہیں۔”
امی جان: ۔
جا، پھر سے دیکھ کر آ۔۔ پھر تجھے ٹائم دیتی ہوں۔ تو ڈال کر روح راضی کر لینا۔”۔
میں جانے لگا تو امی جان نے میرا لنڈ نہیں چھوڑا:۔ “کیا ایسے ہی جائے گا؟ تو ٹھہر، میں دیکھ کر آتی ہوں۔”۔
امی جان مجھے وہی چھوڑ کر سب کمروں میں سب کو دیکھنے چلی گئیں۔ پھر واپس آ کر بولیں: ۔
“چل، چھت پر چلتے ہیں۔”

میں امی جان کے ساتھ چھت پر چلا گیا۔ آج امی جان نے الاسٹک والی شلوار پہن رکھی تھی۔ چھت پر پہنچ کر امی جان نے میرے لنڈ کو مسلنا شروع کر دیا۔
میں لنڈ نکال کر بولا:۔
“امی جان، اسے چوسیں نا۔”

امی جان مجھے گھور کر دیکھنے لگیں، پھر ایک سانس لے کر بولیں:۔
تجھے پتا ہے عمران۔۔ تیرے ابو کے ساتھ میں نے کچھ بھی کھل کر نہیں کیا۔ بس وہ کبھی میرے ہونٹوں کو چوم لیا کرتے تھے، ممے چوس لیا کرتے تھے۔ پر نہ تو تیرے ابو نے کبھی میری چُوت چاٹی اور نہ ہی گانڈ۔۔ نہ ہی مجھے کبھی اپنا لنڈ چوسنے کے لیے کہا۔ پر اب ٹائم بدل گیا ہے، جذبات بدل گئے ہیں، آگ بڑھ گئی ہے۔ تو میرا بیٹا ہے، میں بے شرم بن کر تیرے ساتھ گناہ کرنے لگی ہوں۔ دیکھ، اتنی بے شرم بن کر بول سکتی ہوں تو سوچ، میں کیا کچھ نہیں کر سکتی۔۔”۔

پھر امی جان میری شلوار سے باہر نکلے لنڈ کو پکڑ کر چاٹنے لگیں۔ امی جان اناڑی تھیں، انہیں لنڈ چاٹنا نہیں آتا تھا، چوسنا تو دور کی بات تھی، پر اب سب آ جانا تھا انہیں۔
امی جان میرے لنڈ کو چاٹ کر دھیرے سے بولیں:۔
“عجیب ٹیسٹ ہے۔
میں:۔
“برا لگا کہ اچھا؟”
امی جان:۔
“ابھی بس عجیب لگا۔”
پھر سے میرے لنڈ کو چاٹنے لگیں، پھر منہ میں لے کر ایک بار چوس کر کھڑی ہوئیں اور دھیرے سے بولیں: ۔
“تجھے کیسا لگا؟”
میں: ۔
بہت اچھا، دھیرے دھیرے آپ کاریگر ہو جاؤ گی۔”۔
امی جان ہنس پڑیں:۔
شہوت پرست کی ماں ہوں، کاریگر تو بنوں گی ہی۔”۔
میں:۔
تو پھر دیر نہ کریں نا، کوئی آ جائے گا۔۔ آپ چوس کر گیلا کر دو، پھر میں آپ کی چُوت میں ڈال کر آپ کو چود سکوں گا۔”۔
امی جان اب ایک نارمل سیکس پارٹنر کی طرح میرا پورا پورا ساتھ دے رہی تھیں، پھر سے جھکتی ہوئی میرے لنڈ کو منہ میں ڈال کر چوسنے لگیں، ان کے منہ کی گرمی میرے لنڈ کو اور بھی سخت کرنے لگتی۔

آہ۔۔ آج سے میرے اصلی مزے شروع ہوئے تھے۔ صحیح جگہ تھی، نہ صحیح ٹائم، پھر بھی بڑا مزہ آ رہا تھا۔
لنڈ چوس کر امی جان کھڑی ہوئیں، پھر اپنی قمیض کا پلو اٹھا کر تھوڑی سی شلوار نیچے سڑکا گئیں۔ میرے لنڈ کو اپنی چُوت کے سوراخ پر سیٹ کرتی ہوئی تھوڑی سی پیچھے کو جھک گئیں۔ میں بھی پیچھے کو بینڈ ہو کر اپنے لنڈ کو امی جان کی چُوت میں داخل کرنے لگا۔ کھلی اور گیلی چُوت میں میرا لنڈ، جو دھوپ میں چمک رہا تھا، پھسلتا ہوا امی جان کی چُوت میں گھسنے لگا۔ آج پہلی بار صحیح سے امی جان کا جسم دکھائی دے رہا تھا۔
لنڈ چُوت میں گھس گیا، امی جان ایک ہاتھ سے دیوار کا سہارا لے کر کھڑی ہو گئیں اور میں تھوڑا سا گھٹنے موڑ کر جھکتا ہوا امی جان کو چودنے لگا۔ ایسے بھی بڑا مزہ آ رہا تھا۔ میں غور سے اپنے لنڈ کو امی جان کی چُوت میں گھستے دیکھنے لگا۔
امی جان مزے سے مجھے دیکھنے لگیں، پھر دھیرے سے بولیں: ۔
“پہلی بار کھلے میں چدائی کا مزہ لے رہی ہوں۔۔”
میں:۔
“میں بھی امی جان، کتنا مزہ ہے نا کھلے میں۔”
امی جان: ۔
جتنا مزہ ہے، اتنا ہی خطرہ بھی ہے۔ اب جلدی کر۔۔”۔
میں اسپیڈ سے امی جان کو چودنے لگا۔
پندرہ منٹ کی مزیدار چدائی کے بعد میں نے امی کی چُوت میں ہی لنڈ خالی کر دیا۔
پھر ہم دونوں کپڑے صحیح کرنے کے بعد نیچے آ گئے۔ امی جان بولیں:۔
دیکھا، تیرے لیے میں کتنا کچھ کرنے لگی۔۔ بس تو دھیان رکھنا اور میری رات والی بات کبھی نہ بھولنا۔”۔
میں: ۔
“نہیں بھولوں گا امی جان۔”
اگلا ایک ہفتہ ایسے ہی چوری چوری موقع ملنے پر ہم دونوں ماں بیٹا چدائی کرنے لگے۔ کھل کر پوری طرح ننگے ہو کر چدائی کرنے کا موقع نہیں ملا تھا، کیونکہ ہر بار امی جان رات میرے ساتھ کمرے میں بند ہو کر نہیں گزار سکتی تھیں۔
ایک رات موسم خراب تھا، بارش کے امکانات تھے۔ دس بجے بارش ہونے لگی، ہم سب برآمدے میں بیٹھے باتیں کرنے لگے۔ اس رات پھر سے امی جان نے میرے کمرے میں سونے کا بول دیا۔
لیکن اس سے پہلے امی جان نے ابو کو خوش کرنے کے لیے اپنے کمرے میں جا کر ایک بار ابو سے چدائی کی، پھر آدھے گھنٹے بعد میرے کمرے میں آ گئیں۔
تب تک سب سو چکے تھے۔
کمرے میں ہم دونوں ننگے ہوئے تو میں نے کہا:۔ “امی جان، آج میرا ارادہ آپ کی گانڈ مارنے کا ہے۔”۔
امی جان:۔
مجھے بڑا درد ہوگا عمران۔ پہلے کبھی نہیں لیا وہاں تیرے ابو کا۔”
میں: ۔
“میرا دل ہے امی۔”
امی جان:۔
دل تو اب میرا بھی وہ سارے مزے لینے کو کرتا ہے عمران، جو تو لینا چاہتا ہے۔ پتا نہیں میرے دل کو کیا ہوتا جا رہا ہے، آگ بجھنے کی بجائے بڑھتی ہی جا رہی ہے اب تو۔”۔
میں امی جان کے ممے مسلتا ہوا بولا: ۔
“اچھی بات ہے نا۔”
امی جان: ۔
خاک اچھی بات ہوئی، اسی آگ کو بجھانے کے لیے تیرے ساتھ اتنا سب کر لیا، یہ آگ ہے کہ بجھنے کی بجائے بڑھتی ہی جا رہی ہے۔”۔
میں:۔
امی جان یہ آگ نہیں، میرے لیے آپ کا پیار ہے۔ ابو کے ساتھ آپ نے کبھی اتنا کھل کر سیکس نہیں کیا ہے نا، اب میرے ساتھ کرنے لگی ہیں، تبھی آپ کی سوئی ہوئی پیاس پوری طرح سے جاگ گئی۔ اور آپ سمجھ رہی ہیں کہ آپ کی آگ نہیں بجھی، جبکہ ایسا نہیں ہے، ہمارا پیار بڑھ رہا ہے۔”۔
امی جان:۔
“اور ہوس بھی۔”
ہم دونوں نیچے بستر بچھا کر ننگے ہو کر لیٹ گئے۔ میں خوش تھا کہ امی جان گانڈ مروانے کے لیے مان گئی
تھیں۔

ہم دونوں ماں بیٹا مادر زاد برہنہ تھے۔ ہوس میں اندھے ہم ماں بیٹا سیکس کرنے والے تھے۔ ساتھ ہی آج امی جان کی گانڈ کی سیل کھلنے والی تھی۔ شادی کے وقت سے اب تک ابو نے ایک بار بھی امی جان کی گانڈ نہیں ماری تھی۔ اور گانڈ مارنا ہمارے ہاں ہوتا ہی کہاں تھا۔ جس جسم میں آگ زیادہ ہوتی تھی، وہ میرے جیسے بن کر سارے مطلب پورے کر لیا کرتے تھے۔
میرا لنڈ تو امی جان کے قریب آتے ہی کھڑا ہو جایا کرتا تھا۔ اب تو پھر بھی امی جان میرے سامنے ننگی تھیں۔۔
میں:۔
“آپ کے ممے بڑے پیارے ہیں امی جان۔”
امی جان ہنس پڑیں: ۔
“دودھ پیو گے آج؟”
میں:۔
“آج تو میں سب کچھ کروں گا۔”
امی جان میٹھی مسکراہٹ کے ساتھ: ۔
“سب کچھ؟”
میں:۔
“ہاں، سب کچھ۔”
امی جان:۔
تو پھر آج مجھے ہوس کے سارے تماشے دکھاؤ بھی اور سکھاؤ بھی۔”۔
میں:۔
“آپ بار بار ہوس کیوں بولتی ہیں؟”
امی جان:۔
یہ ہوس نہیں تو اور کیا ہے۔۔ چل اب تو لیٹ، مجھے تیرا لنڈ چوسنا ہے۔ دو ہی بار چوسا ہے، اب اچھا لگنے لگا ہے۔ عجیب ہے، پر مزے کا ہے۔”۔

میں لیٹ گیا۔ امی جان میری ٹانگوں میں آئیں اور میرے لنڈ کو پکڑ کر پہلے تو ہلانے لگیں، پھر میرے پیٹ تک لے جا کر میرے پیٹ پر دبا کر چھوڑ گئیں۔ میرا لنڈ جھٹکے سے سیدھا ہو گیا۔
امی جان:۔
“ہہہہہ۔۔ کافی مزے کا سین بنا یہ تو۔”
میں: ۔
“تو پھر سے کر لیجیے۔”
امی جان:۔
وہ تو میں کروں گی۔۔ شہوت پرست بیٹے کی ماں ہوں، اب شہوت زدہ بن ہی رہی ہوں تو کھل کر سب کروں گی۔ شرم مر جانے کے بعد اب جھجکنے کا کوئی مطلب نہیں بنتا۔”۔
امی جان پھر سے میرے لنڈ کو پکڑ کر پیٹ پر دبا کر چھوڑ گئیں۔ امی جان کو مزہ آنے لگا، وہ بار بار کرنے لگیں۔۔ پھر میرے لنڈ پر آ کر اپنی چُوت رکھ کر چُوت گھسائی کرنے لگیں۔۔
امی جان: ۔
“بتانا تو کیسا لگ رہا ہے؟”
میں: ۔
“بہت مست۔”
میں امی جان کے ممے پکڑ گیا۔۔
“کافی سخت ہیں آپ کے ممے”۔
امی جان: ۔
“دودھ نہیں ہے ان میں، ورنہ تجھے پلا دیتی۔”
میں:۔
“میں نکالنا جانتا ہوں۔”
امی جان:۔
ہہہہہ۔۔ تم فنکار ہو، کچھ بھی کر سکتے ہو۔۔ نکال لینا۔۔ پھر جتنا دل کرے پی جانا۔ تو پیدا ہوا تھا تو تیرے ہو گئے تھے، اب تو ہوسی بنا ہے تو پھر سے تیرے بن گئے ہیں۔۔ میں پوری کی پوری تیری ہوں، جس طرح چاہے میرے جسم کے ساتھ کھیل۔”۔
میں:۔
ابھی تو آپ کھیل رہی ہیں۔ کیا مست اپنی چُوت میرے لنڈ پر گھس رہی ہیں آپ۔”۔
امی جان: ۔
ہر عورت کے دل میں بھی بہت کچھ ہوتا ہے عمران، لیکن وہ اپنے شوہر کے ساتھ اتنا کھل نہیں سکتی۔۔ شوہر اسے غلط سمجھنے لگتا ہے۔ اب ہوسی بیٹے کی ہوسی ماں بنی ہوں تو سب کروں گی میں اپنے دل کی، تجھ سے گانڈ چٹوایا بھی کروں گی اور مروایا بھی کروں گی۔”۔
میں: ۔
کیا کوئی اور بھی ہے ہمارے خاندان میں۔۔ جس کی گانڈ کی سیل کھلی ہوئی ہے؟”۔
امی جان:۔
“نہیں، تجھے میں ایسی کوئی بات نہیں بتا سکتی۔”
میں: ۔
“مطلب کوئی تو ہے؟”
امی جان: ۔
کوئی کیااااا۔۔ بہت سی ہیں، لیکن تجھے نہیں بتاؤں گی میں۔۔ تیرے مطلب کی بات بھی نہیں ہے۔”
پھر امی جان جھکتی ہوئی مجھے کس کرنے لگیں۔۔ میرے ہونٹوں کو جوش کے ساتھ چوسنے لگیں، کچھ دیر مزے لیتی رہیں۔ پھر میری ٹانگوں میں آ کر جھکتی ہوئی میرے لنڈ کو منہ میں لے کر چوسنے لگیں، کچھ دیر چوستیں ۔۔پھر سر اٹھا کر میری آنکھوں میں دیکھ کر مسکرا دیتیں۔
میں: ۔
“ہہہم پیاری لگ رہی ہیں آپ امی جان۔”
امی جان:۔
وہ تو میں لگوں گی ہی، تیرا لنڈ جو میرے منہ میں ہے۔۔”۔
میں:۔
“اب کھل کر چوس رہی ہیں تو کیسا لگ رہا ہے؟”
امی جان:۔
“امممممم مزیدار۔۔ بہت میٹھا۔”
میں:۔
“اب عجیب نہیں لگ رہا؟”
امی جان: ۔
“نہیں، اب عجیب نہیں لگ رہا۔”
میں مست ہونے لگا۔ میرا لنڈ امی جان کے منہ کی گرمی پر اور بھی پھولنے لگا۔
میں: ۔
آہ امی جان، آج تو میرے لنڈ کو چوس چوس کر ہی منہ میں خالی کر لیں۔”۔
امی جان منہ سے لنڈ نکال کر بولیں:۔
میرا بھی ایسا ہی من ہے کچھ۔۔ مجھے ٹیسٹ کرنا ہے کہ کیسی ہوتی ہے منی لنڈ کی۔”۔

امی جان فل بے شرم بن کر بول رہی تھیں، فل بے شرم بن کر میرے لنڈ کو چوس رہی تھیں۔ میرے لنڈ کی رگیں پھولنے لگیں، پھر مجھ سے کنٹرول نہیں ہوا اور میں امی جان کے منہ میں ہی جھڑنے لگا۔ اور امی جان ایک پورن اسٹار کی طرح میرے لنڈ کی منی اپنی زبان پر مجھے دکھاتی ہوئی منہ بند کر گئیں۔۔ پھر جیسے میٹھا کھانے کے بعد زبان کو منہ کے اندر پھیرتے ہیں، امی جان بھی پھیرنے لگیں، ایک بار منہ ٹیڑھا بنایا، پھر مزے سے گلے سے نیچے اتار گئیں۔

میں حیران رہ گیا۔ امی جان نے یہیں پر بس نہیں کیا، میرے ہونٹوں پر آئیں اور مجھے کس کرنے لگیں۔ مجھے عجیب لگا۔۔ امی جان کے منہ سے اپنی ہی منی کی بو اور چکناہٹ سچ میں عجیب لگی۔۔ میں منہ ہٹانے لگا۔
امی جان غصے سے گھور کر بولیں: ۔
ہوسی ہو تم۔۔ اور میں ہوسی کی ماں۔۔ مجھے مزہ کرنے دو، تم بھی تو میری چُوت چاٹ کر میرے ہونٹوں کو چوستی رہے ہو، اب مجھے چوسنے دو۔”۔
اور میں مجبور ہو گیا۔ اپنے ہی لنڈ کی منی سے بھیگے امی کے ہونٹ چوسنے لگا۔۔ آہ میں ہوسی آج اپنی ہی منی چاٹ رہا تھا۔۔
امی جان نے تسلی سے میرے ہونٹ چوسے، پھر گھوڑی بن گئیں۔
امی جان: ۔
“چل آ اور چاٹ میری گانڈ۔۔ چُوت چٹوانے کا مزہ تو میں نے جان لیا، اب گانڈ چٹائی کے مزے سے مجھے روشناس کروا۔”۔
میں امی جان کے پیچھے آیا، پھر امی جان کے چوتڑوں پر ہاتھ پھیرنے لگا۔
میں: ۔
“یقین نہیں آ رہا ہے۔”
امی جان: ۔
یہی کہ تو اپنی امی کو گھوڑی بنائے اس کی گانڈ دیکھ رہا ہے؟”۔
میں:۔
“ہاں۔”
امی جان:۔
یہ نہیں کہوں گی کہ خوش نصیب ہے، بسسس تو اب چاٹ میری گانڈ، دیر نہ کر، رات نہ نکل جائے کہیں”۔
اور میں امی جان کے چوتڑ مسلتا ہوا اپنی زبان نکال کر امی جان کی گانڈ کے سوراخ پر لگا گیا۔
امی جان: ۔
آآآآہ سواد آیا۔۔ برا نہیں ہے، ایسا کر۔۔ نیچے سے اوپر تک اور راؤنڈ میں چاٹ۔۔”۔
میں:۔
“آپ تو ایسے بول رہی ہیں، جیسے آپ کھلاڑی ہوں۔”
امی جان: ۔
کھلاڑی نہیں ہوں۔۔ پر بہت کچھ الٹا سیدھا ہر وقت دماغ میں آتا رہتا ہے۔ تو باتیں نہ کر اور چااااٹ۔۔ کھل کر چاٹ۔۔ جوش کے ساتھ چاٹ، چل بن جا کتا۔۔”۔

کتا سن کر میں منہ ہٹا کر امی کی پیٹھ کو دیکھنے لگا۔ امی سر گھما کر مجھے دیکھنے لگیں، پھر مسکراتے ہوئے بولیں:۔
برا لگا تجھے۔۔ ہہہہہ۔۔ برا نہیں لگنا چاہیے تجھے، ورنہ مزہ کرکرا ہو جائے گا۔ میں نشے میں ہوں، مزے میں ہوں۔۔ میں بتا نہیں سکتی، مجھ پر سے روک اور پابندیاں ہٹا دی جائیں تو میں کھل کر چودنے لگوں، گندی گندی باتیں کرنے لگوں۔”۔

میں مسکرا پڑا، پھر امی جان کی گانڈ چاٹنے لگا۔ گانڈ کا سیل بند چھید کمال کا لذت دار تھا۔۔ میں چُوت پر زبان لا کر اوپر لانے لگا، ڈبل ٹیسٹ کا مزہ لینے لگا۔۔ پھر راؤنڈ میں چاٹنے لگا۔
امی جان: ۔
مزہ آ رہا ہے، میں جھڑنے والی ہوں۔ تو ایسا کر۔۔ ساتھ میں دو انگلیاں میری چُوت میں ڈال کر اندر باہر کر، مزہ بڑھ جائے گا۔”۔
میں دو انگلیاں چُوت میں ڈال کر گانڈ چاٹنے لگا۔ امی آہیں بھرنے لگیں، پھر وہ ہلنے لگیں۔۔
امی جان:۔
“اور تیز، اور تیز۔”
پھر امی جان جھڑتی ہوئی لمبی لیٹ گئیں۔ میں اپنے کھڑے ہو چکے لنڈ کو پکڑ کر مسلنے لگا۔
امی جان پھر سے گھوڑی بنیں:۔
“اچھی طرح گیلا کر لے۔۔”
میں:۔
“آپ تیار ہیں درد بسونیاشت کرنے کے لیے؟”

امی جان:۔
ایسے ہی درد سے میں کئی بار گزر چکی ہوں۔ پہلی بات چُوت کی سیل ٹوٹنے پر، پانچ بار تم پانچوں کو پیدا کرنے پر۔۔ تو میرے درد کی پروا نہ کر۔”۔
میں: ۔
“گانڈ کا درد الگ ہوتا ہے۔”
امی جان:۔
تو مجھے مت سکھا۔۔ چل ڈال اب اندر، کھول دے میری گانڈ کی سیل، یہ تیرے ہی نصیب میں تھی۔”۔
اور میں اپنے لنڈ کی ٹوپی کو امی جان کی گانڈ کے سوراخ میں پھنسا گیا۔
میں:۔
“تو اب؟”
امی جان:۔
“ڈر مت اور مار دے دھکا۔”
میں: ۔
“پھٹ جائے گی۔”
امی جان: ۔
پھٹنے دے، تو آج نہیں تو کبھی نہ کبھی پھاڑے گا ہی۔۔ میں بھی دیر نہیں کرنا چاہتی ہوں، تو بس گھسا دے۔”۔
میں:۔
“آپ کی چیخ نکل جائے گی۔”
امی جان:۔
“تو میری چیخ کی پروا نہ کر۔”
میں: ۔
مجھے پروا نہیں ہے، بس ڈر ہے کہ کہیں آپ کی آواز باہر نہ چلی جائے۔”۔
امی جان:۔
“تیری ماں ہوں۔۔ بڑا دل گردہ ہے میرا۔”

میں نے دھکا مار دیا، امی جان کے منہ سے “اوووووہ” کی آواز نکل گئی۔ امی جان آگے کو سرک گئیں، میرے لنڈ کی ٹوپی امی جان کی گانڈ میں پھنس گئی تھی۔ امی جان تڑپ رہی تھیں، ان کا بدن کانپ رہا تھا درد کی وجہ سے۔
میں:۔
“درد ہوا نا؟”
امی جان کی درد بھری آواز سنائی دی:۔
“تو رک مت۔۔ سارا ڈال کر رکنا۔”
میں نے ایک دھکا اور مار دیا، میرا لنڈ گرم سوکھی گانڈ کے اندر گھستا چلا گیا۔ امی جان درد سے تڑپ اٹھیں، لیکن مجال ہے جو وہ چیخی ہوں، ہاں کراہ ضرور رہی تھیں۔
میں نے 3 دھکے اور مارے اور سارا لنڈ امی جان کی گانڈ میں اتار کر رک گیا۔
میں: ۔
“چلا گیا سارا۔”
امی جان نے سر میری طرف گھما کر مجھے دیکھا، امی جان کی آنکھوں میں آنسو تھے۔
میں: ۔
“آپ تو رو رہی ہیں۔”
امی جان آنسو بھری آنکھوں کے ساتھ مسکرانے لگیں: ۔
“میں رو نہیں رہی، درد آنکھوں میں اتر آیا تھا۔۔ دیکھ میں کتنے آرام سے بول رہی ہوں، تو بتا۔۔ کیا سچ میں سارا میری گانڈ میں گھس گیا ہے؟”
میں: ۔
“ہاں۔”
امی جان نے ایک ہاتھ پیچھے لا کر میرے لنڈ کو جڑ سے پکڑ لیا، پھر چیک کرنے لگیں، پھر ہنستی ہوئی بولیں: ۔
دیکھا، میں کتنی بہادر ہوں۔۔ تو ڈر رہا تھا، چل اب باہر نکال کر آرام آرام سے اندر باہر کر۔”۔
میں لنڈ نکال کر اندر باہر کرنے لگا۔ میرا لنڈ پھنس پھنس کر امی جان کی گانڈ میں اندر باہر ہونے لگا۔ تھوڑی دیر اور امی جان کراہتی رہیں، پھر بولیں:۔ “اب مجھے ایسے ہی لیٹنے دے، تو میرے اوپر لیٹ کر کر۔۔ میں اب ایسے تھک گئی ہوں، کمر درد کرنے لگی ہے میری۔”۔
میں نے لنڈ نکال دیا۔ امی جان الٹی ہی لیٹ گئیں، میں امی جان کی گانڈ میں لنڈ ڈال کر ان کے اوپر ہی لیٹ گیا، امی جان کا چہرہ ایک سائیڈ پر تھا۔ میں گال کو چومتا ہوا لنڈ گانڈ میں اندر باہر کرنے لگا۔
میں:۔
“امی جان، آپ بہت پیاری ہیں۔”
امی جان: ۔
ہاں، اب تو تو کہے گا ہی، چُوت مار لی، اب گانڈ مار رہا ہے۔ تیرے تو وارے نیارے ہو گئے ہیں، کون ماں بیٹے کو اپنی چُوت اور گانڈ دیتی ہے، چل اب اسپیڈ بڑھا، آج ہی اتنی کھلی کر دے کہ بعد میں کبھی پریشانی نہ بنے۔”۔
میں خوش ہو کر بولا:۔
اب تو میں دن کے وقت بھی آپ کی گانڈ مار سکتا ہوں۔”۔
امی جان: ۔
اسی لیے تو کھلوائی ہے، ما بھی اب دونوں میں لیا کروں گی۔”۔
میں: ۔
“مزہ آ رہا ہے؟”
امی جان: ۔
“گناہ کا کوئی بھی کام کرو بیٹا، مزہ تو آتا ہی ہے۔”
میں:۔
“کیا آپ بار بار ایسی باتیں کرتی رہتی ہیں؟”
امی جان:۔
میں نے تجھے کتنا بسونیاشت کیا، پھر تجھے اپنا جسم من مرضی سے دے دیا۔ تو کیا میری ایسی باتیں بھی نہیں سن سکتا، اب تو باتیں ہی ہیں، نہیں کروں گی تو گھٹن بڑھتی جائے گی۔”۔
میں:۔
“کیسی گھٹن؟”
امی جان: ۔
جو ہم کر رہے ہیں، کہیں سے بھی یہ صحیح نہیں ہے۔۔ جسم کی آگ بجھانے کے لیے ہوسی بن گئے ہیں ہم۔۔ سوچ کبھی دنیا والوں کو خبر ہو گئی، کبھی ہمارا یہ سیکریٹ سیکریٹ نہ رہا، تب سوچ کیسی قیامت نہیں آ جائے گی۔ بس ایسی ہی باتیں نہ پہلے کبھی میرے اندر سے گئی ہیں اور نہ ہی کبھی جائیں گی، گھٹن بھی اسی وجہ سے ہے، تو چھوڑ یہ سب۔۔ تو مزے کر اور مجھے مزہ دے۔۔ مار اسپیڈ سے اپنی امی جان کی گانڈ”۔
اور میں مارنے لگا۔۔ امی جان کی باتیں تو کبھی ختم نہیں ہونی تھیں، میں کیوں اپنے مزے کو برباد کرتا۔۔
دیر تک میں امی جان کی گانڈ مارتا رہا، پھر امی جان کی گانڈ میں ہی میں ڈھیر ہو گیا۔
ہم دونوں ہانپنے لگے۔۔
پھر جب ڈھیلا ہونے پر میں نے اپنا لنڈ نکالا، امی جان اٹھ کر بیٹھنے لگیں تو درد سے تڑپ اٹھیں۔
امی جان:۔
“افففففف اب درد کر رہی ہے گانڈ۔۔”
میں: ۔
“کیا زیادہ درد ہے؟”
امی جان:۔
“بیٹھا نہیں جا رہا ہے۔”
میں:۔
پھر تو صبح پرابلم ہو سکتی ہے، کسی نے پوچھا تو کیا کہیں گی آپ؟”۔
امی جان: ۔
تو فکر نہ کر، میں کچھ نہ کچھ سوچ لوں گی۔۔ چل سائیڈ ہٹ، مجھے سیدھا ہونے دے، پھر میرے ممے چوس۔۔ آج سب کرنا ہے۔”۔
امی جان سیدھی لیٹ گئیں، میں ان کے اوپر آ کر ان کے ممے پکڑ کر مسلنے لگا۔
میں:۔
کبھی سوچا نہیں تھا، یہ پھر سے میرے ہاتھ میں آئیں گے کبھی۔”۔
امی جان: ۔
“صرف ہاتھ میں؟”
میں ہنس پڑا، امی بھی ہنس پڑیں۔
میں کچھ دیر امی جان کے ممے مسلتا رہا، پھر سے جسم گرم ہونے لگے۔ پھر میں جھکا اور ایک نپل منہ میں لے کر چوسنے لگا۔۔ امی جان میرے سر پر ہاتھ پھیرنے لگیں، تھوڑی دیر بعد میرے سر کو اپنے مموں پر دبانے لگیں: ۔
آہ عمران بیٹا، تھوڑا سا کاٹ، بڑا مزہ آئے گا تجھے بھی اور مجھے بھی”۔
میں کاٹ گیا، امی جان کے نپل کو دانتوں میں لے کر کاٹ گیا۔
امی جان: ۔
زیادہ مت کاٹنا، نشان نہ پڑ جائے، تیرے ابو کو شک پڑ جائے گا۔”۔
میں کاٹنا چھوڑ کر چوسنے لگا، پھر دوسرے ممے کو چاٹتا ہوا دوسرے نپل کو منہ میں لے کر چوسنے لگا۔ ادھر امی جان نے میرے لنڈ کو اپنی چُوت پر رگڑنا شروع کر دیا تھا۔۔
جلد ہی میرا لنڈ امی جان کی چُوت میں تھا اور میں امی جان کو کس کرتا ہوا انہیں چودنے لگا۔۔
رات بھر ہم نے 4 راؤنڈ چدائی کی، پھر تھک گئے۔
امی جان: ۔
اتنی چدائی میں نے تیرے ابو کے ساتھ بھی کبھی نہیں کی۔”۔
میں: ۔
“اور اتنا مزہ بھی نہیں آیا ہوگا کبھی آپ کو۔”
امی جان:۔
پہلے بتایا ناں میں نے، گناہ میں بڑی لذت ہوتی ہے۔”۔
میں بھی بولا:۔
یہی گناہ ہی تو ہیں، جس کی وجہ سے یہ دنیا ہری بھری اور رنگین ہے، ورنہ تو سب پھیکا ہوتا۔”۔
بعد میں ہم نے کپڑے پہن لیے، باہر اب ہلکی بارش ہو رہی تھی۔ امی جان کپڑے پہننے کے بعد دروازے کھول کر باہر جانے لگیں۔ میں بستر چارپائی پر بچھا چکا تھا۔
میں بستر پر بیٹھا ہوا تھا، باہر پہلے گرنے، پھر امی جان کے چیخنے کی آواز سنائی دی۔ میں ہڑبڑا کر اٹھ کھڑا ہوا اور بھاگ کر باہر جانے لگا۔ دیکھا تو امی جان کچے اور کیچڑ بھرے صحن پر ایک جگہ گری کراہ رہی تھیں۔
امی جان کا چیخنا سن کر سب بھی کمروں سے نکل پڑے تھے۔ امی جان دھیرے سے بولیں:۔
اب کوئی صبح مجھ سے یہ نہیں پوچھے گا کہ میں لنگڑا کر کیوں چل رہی تھی۔۔”۔
میں حیران رہ گیا امی جان کی اسکیم جان کر۔ ادھر امی جان پھر سے کراہنے لگیں، سب بھی بھاگ کر آ رہے تھے۔
میں نے امی جان کو اٹھا کر کھڑا کر دیا۔
ابو نے نیند سے بوجھل آواز میں کہا: ۔
پتا بھی تھا کہ بارش ہو رہی ہے تو صحن کی لائٹ آن تو کر لیتی۔”۔
امی بھی نیند جیسی آواز میں بولیں:۔
“نیند میں تھی، دماغ سے نکل گیا۔”
سونیا، حنا اور لبنیٰ، امجد سب پریشان تھے۔ امی جان کھڑی ہوئیں، پھر لنگڑا کر دو قدم چلیں اور گرنے لگیں، میں نے تھام لیا۔ میرے بھائی بہن رونے لگے۔
امی جان: ۔
مجھے باتھ روم تک لے جا عمران بیٹا، وہیں میرے ساتھ رہنا۔۔ پھر مجھے کمرے میں چھوڑ آنا، مجھ سے چلا نہیں جائے گا اب، ایسا لگتا ہے۔”۔سال میں دو عیدیں ہوتی ہیں، لیکن میرے لیے ہر دن عید بن گیا تھا۔ امی جان کے جسم کو میں روز ہی چھو لیا کرتا تھا، موقع ملنے پر چود لیا کرتا تھا۔ کبھی جب دوپہر کو سب سو رہے ہوتے، بنا کپڑے اتارے میں اپنا لنڈ نکال لیتا، امی جان کبھی آگے سے شلوار نیچے کر کے میرا لنڈ چُوت میں لے کر چودنے لگتیں۔۔ کبھی پیچھے سے گانڈ ننگی کر کے میرا لنڈ گانڈ میں لے کر مجھ سے گانڈ مروانے لگتیں۔

امی جان بھی باقاعدہ چدائی کی عادی ہوتی چلی گئیں۔ کبھی موقع ملتا تو میرے کمرے میں آ کر میرے لنڈ کو چوس کر خود ہی چوت میں لے لیتیں اور مجھ سے چدوانے لگتیں ۔

ایک بار امی جان کی ماہواری لیٹ ہو گئی، تب امی جان گھبرا گئیں۔
میں نے شرارت سے کہا:۔
تو کیا ہوا۔۔ اگر آپ میرے بچے کی ماں بن جاتی ہیں تو؟”۔
امی جان مجھے گھور گئیں:۔
بیٹیاں جوان ہو جائیں، شادی کے لائق ہو جائیں تو شریف عورتیں بھی مائیں بنتے ہوئے شرم محسوس کرتی ہیں۔ میں تو پھر بھی بے شرم ماں ہوں، جو بھی ہوں، میں پھر سے ماں نہیں بننا چاہتی۔ جتنا گناہ تیرے ساتھ کر رہی ہوں، تیرے بچے کی ماں بننے جیسا گناہ تو کبھی سوچ بھی نہیں سکتی۔۔ تو اب سے میری چُوت میں منی مت چھوڑنا، جھڑتے وقت میری گانڈ میں ڈال کر جھڑنا تم۔”۔

اور میں ہر بار چدائی کرتے ہوئے امی جان کی گانڈ میں لنڈ خالی کر دیا کرتا۔
یوں وقت گزرتا رہا۔۔ ایک سال کے اندر سونیا کی شادی زبیر سے ہو گئی۔ پھر اگلے سال ماما کے بیٹے سے حنا کی شادی بھی ہو گئی۔۔ یوں ہمیں چدائی کے لیے گھر خالی مل گیا۔ لبنیٰ اور امجد پڑھ رہے تھے، وہ ٹیوشن جاتے، ابو دکان پر ہوتے، ایسے میں ہم کھل کر چدائی کیا کرتے۔

امی جان کا رنگ اور بھی نکھر گیا تھا۔ سب امی جان کو دیکھ کر اس سے پوچھتی تھیں:۔
“نی پروین، تو اینی سوہنی کیویں ہوون لگ پئی ایں؟ اسی تے نہیں ہوئیاں سوہنی” (اے پروین، تو اتنی خوبصورت کیسے ہونے لگی ہے؟ ہم تو نہیں ہوئیں اتنی خوبصورت)۔

امی کیا بتاتیں کہ اس عمر میں اب وہ اپنے ہی بیٹے کے جوان لنڈ سے چدوانے لگی ہیں۔ میں کچھ مہینے ہی خالہ کے شہر رہا تھا، پھر سے واپس اپنے شہر میں پڑھنے لگا تھا۔ اب میں پڑھائی پر اور اپنی صحت پر بہت دھیان دینے لگا تھا، چدائی کرنے میں مزہ بھی تب ہے جب صحت اچھی ہو، ورنہ چدائی بیمار کر دیتی ہے۔ اس معاملے میں امی بھی کوئی سمجھوتا نہیں کرنا چاہتی تھیں۔
امی جان بہت خوش تھیں، میں من لگا کر انہیں چود رہا تھا تو من لگا کر پڑھ بھی رہا تھا۔ میرے مارکس اچھے آنے لگے، میں لبنیٰ اور امجد کو گھر پر ٹائم نکال کر پڑھانے لگا۔ ابو کی صحت دن بہ دن گرتی جا رہی تھی، لیکن وہ دکان چلاتے رہے۔
امی جان کی ریگولر چدائی نے مجھے وہ بنا دیا تھا جو زبیر بھی نہیں بن سکا تھا۔ پوری برادری میں میرے چرچے ہونے لگے، میں خوبصورت تو تھا ہی، کئی پڑھے لکھے دوست بنا کر میں ان کے جیسا ہی تیز، چالاک اور ذہین بننے لگا۔

آج 11 سال بیت چکے تھے۔ 4 سال پہلے ابو دنیا چھوڑ کر چل بسے۔

میں 19 کا تھا جب امی جان کو پہلی بار چودا تھا میں نے۔ ان 11 سالوں میں میں نے ہزاروں بار امی جان کو چودا، اتنا چودا، اتنا چودا۔۔ امی جان کہتیں:۔ “بس کر دے عمران، تو کمزور پڑ جائے گا”۔
اور میں ہنس پڑتا۔
میں: ۔
“کیا آپ تھک گئی ہیں؟”
امی جان ہنستی ہوئی بولیں:۔
پچاس سے اوپر کی ہو چکی ہوں، پر اب بھی خود کو جوان ہی سمجھتی ہوں۔”۔
میں:۔
جب جوان سمجھتی ہیں تو پھر جوانی میں تو چدائی کبھی رکتی نہیں ہے۔”۔
امی جان سنجیدہ ہو کر بولیں: ۔
بس کر دے عمران۔۔ اب تیری شادی ہو چکی ہے، تیرا ایک بیٹا ہے، تیری بیوی کتنی اچھی ہے، کتنا پیار کرتی ہے تجھ سے، کتنا بھروسا کرتی ہے تجھ پر۔۔ اب مجھے نہ تو چودا کر۔۔”۔
میں:۔
“کیا میرے بنا اب رہ سکتی ہیں امی جان؟”
امی جان: ۔
تو نے مجھے عادت لگا دی ہے عمران، نہیں رہا جاتا اب مجھ سے بھی۔۔ لیکن کب تک۔۔ آخر ایک دن یہ سب بند ہونا ہی ہے، تو ابھی سے کر دیتے ہیں۔ دیکھ عمران، آج تک ہمارا سیکریٹ سیکریٹ ہی رہا ہے، لیکن ہمیشہ رہے گا، یہ ضروری نہیں ہے۔۔ تو باز آ جا، میں تجھ سے دور چلی جاؤں گی، امجد کے پاس اب رہ لوں گی، تو وہاں آ کر مجھ سے مل جایا کرنا۔۔ پر تو اب یہ سب بند کر دے۔ تو بند کر دے گا تو مجھے بھی صبر آ جائے گا۔”۔

میں لاہور شہر میں ایک بڑی گارمنٹ فیکٹری میں مینیجر کی پوسٹ پر تھا اب۔ ایک بڑا گھر، ایک گاڑی میرے پاس تھی۔ ہماری ہی برادری کے سب سے امیر گھر کی سب سے سلجھی ہوئی، سب سے پڑھی لکھی لڑکی جس کا نام شبنم تھا، میری بیوی تھی۔

میں، ماں، میری بیوی اور میرا بیٹا، ہم چاروں ایک ساتھ رہتے تھے۔ میں نے اتنی ترقی کی تھی، اپنی سبھی بہنوں کی شادیوں کے بعد بھی ان کی مالی طور پر خوب مدد کری تھی۔ امجد بھی اب ایک سرکاری ملازم تھا اور خوب پیسہ کما رہا تھا، یہ سب میری محنت کا نتیجہ تھا۔
میں امی جان سے بولا: ۔
میں شبنم کو تو چھوڑ سکتا ہوں ماں، لیکن آپ کو نہیں۔ ہزار بار کہا ہے میں نے، آج بھی کہتا ہوں، آپ کے جسم جیسی لذت مجھے کسی جسم سے نہیں مل سکتی۔ شبنم اچھی بیوی ہے، اچھی زندگی جی رہا ہوں میں اس کے ساتھ، لیکن وہ آپ سے بڑھ کر نہیں ہو سکتی میرے لیے۔”۔
امی جان:۔
تو ضرور قیامت سے پہلے قیامت لے آنا چاہتا ہے عمران۔۔”۔
میں: ۔
میں اب روز روز تو آپ کو پریشان نہیں کرتا ہوں ناں”۔
امی جان میری ضد کے آگے ہار مان گئیں ۔پھر رات کو شبنم میرے ساتھ ہوتی، جب وہ کبھی گھر سے باہر جاتی، میں موقع دیکھ کر امی جان کو چودنے لگتا۔ ایسے ہی کچھ مہینے اور گزر گئے۔۔

پھر ایک دن۔۔۔ آہ میں امی جان کے کمرے میں لیٹا ہوا تھا، میرا لنڈ امی جان کے ہاتھوں میں تھا، وہ کبھی جھک کر میرا لنڈ چوسنے لگتیں، کبھی مجھ سے باتیں کرنے لگتیں۔۔
امی جان کی آج بھی وہی بات تھی:۔
عمران بیٹا۔۔ مان جا میری بات، بس کر دے۔۔ دیکھ میرے اندر اب گھٹن بڑھنے لگی ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ میری سانس رک جائے”۔
میں ہنستا ہوا بولا:۔
سالوں سے آپ یہی کہہ رہی ہیں، لیکن نہیں رکی ناں۔۔ چلیے اب میرا جوش بڑھنے لگا ہے، آپ میرا لنڈ چوس کر گیلا کیجیے، پھر اپنی گانڈ میں خود سے لے کر گانڈ مروائیے۔”۔
امی جان میرا لنڈ چوسنے کے بعد جیسے ہی اپنی گانڈ میں لینے لگیں، امی جان چیخ پڑیں۔ وہ دروازے کی طرف دیکھ کر چیخی تھیں، میں نے بھی وہیں دیکھا۔۔۔۔

“بسسسس۔۔ مسٹر عمران بسسسس۔
ایک عورت کی آواز۔۔۔
عورت نے منع کرنے کے لیے ہاتھ اٹھایا۔
تم نے جتنا بولنا تھا۔۔ بول لیا۔۔ اس سے آگے میں بولوں گی۔۔ جتنی کہانی تم نے سنانی تھی، سنا لی، اس سے آگے کی کہانی میں تمہیں سناؤں گی۔ میں تمہیں وہ بھی سناؤں گی جو تم نے مجھے نہیں سنایا۔۔ 11 سالوں سے بھی زیادہ دیر تک رہنے والا تمہارا “خفیہ راز ” اب راز نہیں رہا تھا۔۔ تمہاری بیوی شبنم نے تمہارے اس راز کو جان لیا تھا۔ جس راز کو تم اپنے گھر والوں سے، ساری برادری سے، ساری دنیا سے چھپاتے آ رہے تھے۔۔

کیوں میں صحیح کہہ رہی ہوں ناں مسٹر عمران جمشید!۔”۔

میں لندن میں تھا۔ اپنی عالیشان کوٹھی میں بنے اپنے عالیشان بیڈ روم میں بیڈ پر لیٹا ہوا تھا۔ میں نوشین عادل کو اپنی کہانی سناتے سناتے ماضی میں اتنی دور نکل گیا تھا کہ حال کو بھول گیا تھا۔

اب وہ بولی ۔۔تو مجھے کچھ لمحے لگے واپس لوٹنے میں۔
نوشین لندن میں ہی اپنے خاندان کے ساتھ رہتی تھی۔ وہ جتنی دیکھنے میں شریف اوربامروت لگتی تھی، اتنی تھی نہیں، مجھے خبر ملی تھی کہ اس کی پوری فیملی انسیسٹ ریلیشن رکھنے والی ہے۔ میں بھی پیچھے پڑ گیا۔ دو مہینے لگے مجھے اس کو پٹانے میں، اسے اپنے نیچے لانے میں۔ پھر جب وہ مجھ سے چد گئی تو اس کے پورے خاندان کی چوتیں اور گانڈ مجھے ملنے لگیں۔ اکثر گروپ سیکس کرنے کو ملتا رہتا تھا۔ لندن کی لائف بھی بڑی مست گزر رہی تھی۔
کبھی میں اس کی کوٹھی پر چلا جاتا، کبھی وہ میری کوٹھی پر آ جاتی۔ اس نے مجھے اپنے بارے میں تفصیل سے سب بتا رکھا تھا کہ کیسے اس کے خاندان میں انسیٹ کی شروعات ہوئی۔ کیسے پہلے ایک گھر کے ایک فرد کے اندر ہوس جاگی، پھر دوسرے کے اندر، پھر دیکھتے ہی دیکھتے کیسے سارے ایک ساتھ مل کر سیکس کرنے لگے۔
نوشین میرے پیچھے بھی پڑی ہوئی تھی مہینے بھر سے، مجھ سے میری انسیٹ لائف کے بارے میں جاننے کو بڑی بیتاب تھی ۔ پھر میں نے بھی اسے اپنی زندگی کے روز و شب کی کہانی سنانی شروع کر دی۔
امی جان کے بعد ایک نوشین کا جسم ہی تھا، جو مجھے میری زندگی میں آنے والے ہزاروں جسموں میں سب سے زیادہ پسند آیا تھا۔ کہا جائے تو غلط نہیں ہوگا، امی جان کی کمی نوشین کا جسم پوری کر رہا تھا۔ جو نشہ اور سرور مجھے امی جان کے جسم سے ملا کرتا تھا، وہی نشہ اور وہی سرور اور لذتیں مجھے نوشین کے جسم میں ملی تھیں۔

نوشین مجھے ٹوک گئی تھی، میں اس کے پہلے لفظ سن نہیں پایا تھا، لیکن اس نے جو بعد میں کہا، میں نے سن بھی لیے اور سمجھ بھی لیے۔
میں نوشین کو دیکھ کر حیرانی سے بولا: ۔
تم۔۔ تم کیسے جانتی ہو؟ ہمارے خفیہ راز کو جاننے والی پہلی اور آخری میری بیوی شبنم ہی تھی!”۔
تبھی نوشین جو میرے پیٹ پر بیٹھی تھی، اس نے ایک زوسونیار چانٹا (تھپڑ) میرے گال پر مار دیا۔ میرا گال جھنجھنا گیا، مجھے طیش آ گیا۔
میں غصے سے: ۔
“نوشین۔۔ یہ کیا بدتمیزی ہے؟”
نوشین نے ایک نہیں کئی چانٹے دونوں ہاتھوں سے میرے دونوں گالوں پر مارنے شروع کر دیے۔
پھر بڑی ہی نفرت کے ساتھ میرے منہ پر تھوکتی ہوئی بولی:۔
مسٹر عمران! تیرے منہ پر تھوک کر بھی مجھے چین نہیں ملے گا۔ میں تمہارے ساتھ وہ کروں گی، جو تو سوچ بھی نہیں سکتا۔”۔

میرا غصہ میرے قابو سے باہر ہو گیا، میں ایک جھٹکے میں اٹھ بیٹھا، لیکن یہ کیااااااا۔۔ میں اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگا۔ میرے دونوں ہاتھ بیڈ کے ساتھ زنجیروں کے ساتھ بندھے تھے۔ میں نے غور کیا تو ایسا ہی حال میرے پیروں کا بھی تھا۔ میں ماضی سےحال میں اتنا دور نکل گیا تھا کہ جان ہی نہیں پایا کہ میرے ننگے پیٹ پر نوشین ننگی گانڈ رکھے کب مجھے باندھ گئی تھی۔
میں غصے سے: ۔
یہ کیا حرکت ہے نوشین؟ مجھے باندھا کیوں ہے؟”۔
نوشین نے میرے گال پر ایک اور چانٹا مارا، پھر بولی: ۔
بتا دوں؟ سب بتا دوں گی، پہلے کہانی تو پوری کر لوں۔ جہاں تک تم نے سنائی، اس سے آگے کی کہانی اور بیچ میں جو تم نے نہیں سنائی، وہ سناؤں گی۔”۔
اب میں نوشین کو غور سے دیکھنے لگا۔ نوشین وہ نہیں تھی، جسے میں اب تک جانتا آیا تھا۔
میں:۔
“کون ہو تم؟”
نوشین :۔
بتا دوں گی، پہلے کہانی سنو۔۔۔۔۔
ہاں تو تمہاری امی جان تمہاری منتیں کرتی ہوئی کہہ رہی تھیں:۔
بس کر دے عمران، بڑی ہوس دکھا دی تو نے، اپنے ساتھ ساتھ مجھے بھی ہواسی بنا دیا۔ اب بس۔ تیری بیوی جتنی خوبصورت ہے، اتنی ہی تجھ سے وفا بھی کرتی ہے، پیار بھی کرتی ہے۔ تھا تیرا ایک بیٹا ہے، اس کے ساتھ اچھی زندگی گزار’۔
پر تو ایسا ہواسی تھا، تو اپنی امی جان کا جسم مر کر بھی نہیں چھوڑ سکتا تھا!۔
رنگے ہاتھوں پکڑے جانے پر بھی تم نہیں ڈرے، ہوس نے تجھے اتنا بہادر بنا دیا تھا کہ تو اپنی ہی امی جان کے ساتھ منہ کالا کرتا پکڑا گیا، پھر بھی تجھے شرم نہیں آئی۔ تو سوچنے لگا کہ کیسے اس سچویشن کا سامنا کر سکتا ہے۔ تو شاید اپنی بیوی شبنم کو جان سے بھی مار دیتا، لیکن شبنم نے جو کہا، تو نے اپنا ارادہ بدل دیا۔
شبنم نے کہا تھا:۔
مجھے شک تو پہلے سے ہی تھا، لیکن دل نہیں مانتا تھا۔ امی جان اتنی اچھی ہیں، ان پر میں شک کر ہی نہیں سکتی تھی۔ میرے جسم سے لذت کشید کرتے وقت بھی تم اکثر غائب رہا کرتے تھے، لیکن میں نے زیادہ دھیان نہیں دیا۔ پھر میرا شک بڑھا، ایک بار مجھے دکھا کہ تو نے امی جان کے ہونٹوں کو چوسا ہے، بس اس دن کے بعد سے میں نے دھیان بڑھا دیا، پلان بنانے لگی کہ کیسے تم دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑو۔ اور قسمت سے آج موقع میرے ہاتھ آ ہی گیا۔ میں گھر سے باہر گئی ہی نہیں تھی عمران، میں نے ایسا ظاہر کروایا تھا۔ تم دیر سے دروازےکو بند کرنے گئے، تم سمجھے میں باہر چلی گئی ہوں، اس لیے تم نے کمرے کے دروازے کو بند کیے بغیر ہی امی جان کے ساتھ منہ کالا کرنا شروع کر دیا۔
میں پہلے ہی لمحے تمہیں پکڑ لیتی، لیکن امی جان کی باتیں سن کر میں رک گئی۔ پہلے تو میں سمجھی کہ امی جان ہی ہوس میں اندھی ہیں، پھر پتہ چلا کہ تو ایسا زہریلا شہوت کا مارابیٹا ہے، جس نے امی جان کو مجبور کر کے ان کے ساتھ گناہ کرتا رہا۔ امی جان مجبور تمہاری محبت میں اندھی بن گئیں، ہر پل گھٹن میں جیتی رہیں، آج مجھے بڑا دکھ ہو رہا ہے امی جان کی حالت دیکھ کر کہ ایک ماں ہو کر اس کے بیٹے نے اس کے ساتھ کتنا گھناؤنا گناہ کر ڈالا۔ میں سب کو بتا دیتی، لیکن نہیں بتاؤں گی، میں امی جان کو رسوا نہیں کروں گی عمران۔ لیکن اب میں تم جیسے مرد پر تھوکوں گی بھی نہیں۔۔ ہاں لیکن اب تم امی جان کے ساتھ کبھی کچھ گھٹیا نہیں کر سکتے، میں جا رہی ہوں آج سے ہی، ابھی سے ہی۔ امی جان کو بھی اپنے ساتھ لے جاؤں گی، یہ سونیا کے پاس، اپنی بہن کے پاس رہ لیں گی، پر اب سے یہ تمہارے ساتھ نہیں رہیں گی۔ میرے ساتھ رہنے کی تو تم بھول ہی جاؤ عمران۔ اور آخری بات، کبھی بھول کر بھی اپنی بہنوں کی طرف یا برادری میں کسی کی طرف بھی رخ مت کرنا۔ ہواسی بن کر جہاں دل کرے منہ مارنا، پر خبسونیار جو مجھے تمہاری صورت بھی کہیں دکھائی دی تو۔ شبنم نام ہے میرا، نام سے ہی میں شبنم ہوں، ورنہ میری ایک کال پر میرے بھائی تیرے اتنے ٹکڑے کر دیں گے کہ گنتی ممکن نہیں رہے گی’۔

امی جان کے لیے وہ دن جیسے موت کا دن تھا، انہیں ایسی چپ لگ گئی کہ پھر کبھی وہ بول نہیں پائیں۔ تم نے امی جان کو وہاں سے جانے سے بہت روکا، پر وہ نہیں رکیں، ان کے اندر زندگی جیسے ختم ہو گئی تھی۔ بعد میں تم بھی یہ بات سمجھ گئے تھے۔
تم بھی بڑے چالاک نکلے عمران۔ امی جان کی زندگی تب ہی ختم ہو گئی ہوتی، جب تمہارے ابو نے تمہیں تمہاری امی جان کے ساتھ پرانے گھر کے کمرے میں چدائی کرتے دیکھ لیا تھا۔ وہ کچھ بول نہیں پائے، تم انہیں اپنی امی کے ساتھ چدائی کرتے دیکھ کر ڈر گئے، لیکن اپنے ابو کو چپ چاپ جاتے دیکھ کر تم نے اپنی امی کی گانڈ مارنی بند نہیں کی۔
تمہارے ابو اپنے کمرے میں جا کر روتے رہے، پھر اسی حالت میں انہیں دل کا دورہ پڑا اور وہ مر گئے۔ ایک شہوت پرست بیٹے کو اپنی امی جان کے جسم سے ہوس پوری کرتے دیکھ کر وہ شرم والے چپ چاپ مر گئے۔ کوئی شور شرابا نہیں ہوا، کوئی کہرام نہیں مچا، نہ تیری ہوس بارے کسی کو بتا سکے، نہ ہی اپنی بیوی کے بارے میں کسی کو کچھ بتا سکے۔

صبح تمہارے گھر میں قیامت چھائی ہوئی تھی، لیکن تم ریلیکس تھے، تمہارے ابو تمہارا راز کسی کو بتانے سے پہلے ہی مر گئے تھے۔ تمہاری امی جان کچھ دن غم میں ڈوبی رہیں، لیکن تیری بخشی ہوس نے انہیں پھر کھل کر تیرے ساتھ جسم کا کھیل کھیلنے کا موقع فراہم کر دیا۔ جسم کی آگ کبھی بڑھتی رہی، کبھی بجھتی رہی، یوں ان کے دل سے تیرے ابو کے مرنے کا غم جلد ہی چلا گیا۔ وہ خوشی خوشی تیرے ساتھ چدائی کرنے لگیں، لیکن اندر سے گھٹن کو بھگا نہیں سکیں۔

اب آگے سنو۔ تمہارا راز جاننے والی تمہاری بیوی ہی پہلی نہیں تھی، شبنم کے تمہارا راز کے جان لینے سے 7 مہینے پہلے ہی امجد نے جان لیا تھا۔ وہ حیران و پریشان تھا، امی جان سے بات کرنے سے پہلے اس نے تم سے بات کری، تم سب جان کر حیران ہو گئے۔ پھر تم دونوں کے بیچ ہاتھا پائی ہوئی، جس میں تم زور آور ٹھہرے اور تمہارے ہاتھوں امجد کی جان چلی گئی!”۔

نوشین اتنی تفصیل کے ساتھ وہ سارے سچ بتاتی جا رہی تھی، جس سے میرے سوا باقی سب بے خبر تھے۔ میں اب اس سے ڈرنے لگا تھا۔

نوشین آگے بولی: ۔
تمہاری ماں جوان بیٹے کی موت کا غم بسونیاشت نہیں کر پا رہی تھیں، لیکن تمہاری ہوس یہاں بھی جیت گئی۔ تم نے اپنی امی جان کو غم سے نکالنے کے لیے اپنی بیوی شبنم کے ساتھ ساتھ اپنے بیٹے کو بھی اپنے سسرال بھیج دیا، پھر اپنی امی جان کو لے کر کراچی چلے گئے۔ وہاں سمندر کے کنارے تم نے اپنی امی جان کے جسم سے ایسے ماہرانہ طریقوں سے کھیلا کہ وہ امجد کی موت کے غم سے بھی باہر نکل گئیں۔”۔
میں ہکلا کر بولا:۔
“ت۔۔ تم۔۔ تم یہ سب کیسے جانتی ہو؟”
نوشین نے ایک چانٹا اور میرے گال پر مار دیا:۔ “سوال نہیں، ابھی میری کہانی ختم نہیں ہوئی ہے کتے! چپ چاپ سنتے رہو بس۔۔۔۔ ہاں تو میں کہہ رہی تھی، تمہاری بیوی تمہیں چھوڑ کر چلی گئی، تم نے اس کے ارادوں سے جان لیا تھا کہ وہ سچ میں کسی کو نہیں بتائے گی۔ تم اسے تین بار لینے گئے، اسے منانے کی بہت کوششیں کیں تم نے، لیکن اس نے تیرے جیسے شہوت پرست کو کوئی اہمیت نہیں دی۔
پھر تم اپنی امی جان کو لینے گئے، ایک بار نہیں 4 بار تم گئے، ہوس تھی کہ تمہارے اندر سے جا ہی نہیں رہی تھی۔۔۔۔ پھر پتہ ہے کیا ہوا؟۔
ہاہاہا۔۔۔۔ شبنم نے تمہاری خالہ کو بتا دیا۔ وہ راز جو پہلے کوئی نہیں جانتا تھا، وہ تمہارے ابو کے ساتھ ساتھ امجد، پھر شبنم، پھر تمہاری خالہ جان گئیں۔ لیکن خالہ بھی اپنی بہن پروین کی طرح شرم والی تھی۔ جب سے تمہاری امی جان اس کے پاس گئی تھیں، وہ گم سم تھیں۔ بہت پوچھنے پر بھی جب اسے کچھ معلومات نہیں ملی تو دکھی رہنے لگی، پھر شبنم سے سب معلوم پڑا تو اپنی بہن سے اسے نفرت نہیں ہوئی۔ پتہ ہے کیوں نہیں ہوئی؟ کیونکہ اس کے دل میں اپنی بہن کے لیے سچا پیار تھا۔ خالہ نے تجھے پھر سے وہاں آنے سے منع کر دیا۔ دیکھ اس نے تجھ سے کچھ نہیں کہا۔

تو اس کے بعد وہاں نہیں جا سکا۔ تو جس کمپنی میں ملازمت کر رہا تھا، تو نے وہاں کروڑوں کا گھپلا کیا اور سارا پیسہ لے کر لندن آ گیا۔ تو اتنا بڑا شہوت پرست بن گیا تھا، تو نے کوئی کام دھندا نہیں کیا، تو کھلاڑی بھی بن گیا تھا، آخر تو نے بڑی ماہرانہ چالیں چل چل کر اپنی امی جان کے جسم کو پایا تھا، پھر کیسے تو پیچھے رہتا۔ پاکستان میں بھی تو نے کتنوں کے ساتھ جسمانی تعلقات بنائے، پھر انہیں بلیک میل کرتا رہا، آج بھی تجھے بلیک میلنگ سے ڈھیروں پیسے ملتے ہیں، تو عیش کی زندگی جی رہا ہے۔ تو نے واپس پلٹ کر یہ بھی نہیں جانا کہ تیری ماں کب تک زندہ رہی، اس نے آخری سانسیں سکھ کی لیں کہ دکھ کی، وہ مہینوں گھٹ گھٹ کر جیتی رہی اور ایک رات چپ چاپ مر گئی۔
اس کے بعد کی تو سنے گا کتے، تیری بہن لبنیٰ کے ساتھ کیا ہوا؟”۔
میں لبنیٰ کا سن کر چونک گیا:۔
“کیا ہوا میری لبنیٰ کے ساتھ؟”
نوشین نے میرے ایک اور چانٹا مار دیا:۔
کتے! اسے اپنی لبنیٰ مت کہہ۔ تو نے جو حرام کا پیسہ کما کما کر سب کو کھلایا تھا، حرام کے پیسے سے کبھی خوشیاں بھی ملا کرتی ہیں؟ تیری بہن بھی تیرے پیسوں سے پیٹ بھرتی آئی تھی۔ بلیک میلنگ کا بہت پیسہ تو نے اسے دیا تھا، کیسے پھر وہ تیری ہوس کی لپیٹ میں نہیں آتی۔ خیر تیری ہوس کا تو وہ شکار نہیں ہوئی، تیرے ہی جیسے ایک نہیں 4، 4 کمینوں نے اسے اغوا کر کے اس کے جسم کو نوچ ڈالا۔ وہ بیچاری 4 مہینے کی حاملہ تھی، بسونیاشت نہیں کر پائی اور مر گئی۔۔۔۔”۔
میں چیخ پڑا:۔
“تو بکواس کرتی ہے، میری لبنیٰ نہیں مر سکتی!۔”
نوشین:۔
تو چیخ کیوں رہا ہے؟ تو نے اپنے ہاتھوں اپنی امی جان کو قبر میں اتار دیا، اپنے بوڑھے اور کمزور باپ کو موت کے حوالے کر دیا، اپنے سگے بھائی امجد کو اپنے ہی ہاتھوں سے مار ڈالا، پھر لبنیٰ کے لیے کیسا درد تیرے دل میں؟ اور سن، تیری بہن حنا تیسرے بچے کو جنم دیتے وقت مر گئی۔”۔
میں پھر سے چیخ پڑا: ۔
“بند کر تو اپنی بکواس!۔”
نوشین: ۔
سونیا کی نہیں سنے گا تو؟ وہ بیچاری کچھ ہی پلوں کی مہمان ہے، اسے بلڈ کینسر ہے، تیرے ہی دیے حرام کے پیسے وہ بھی کھاتی آ رہی ہے نا۔ دیکھ ایک تو زندہ بچا ہے، ایک تیری بہن سونیا، باقی سب دنیا چھوڑ چلے گئے۔”۔

میں اب پاگلوں کی طرح چیخنے چلانے لگا تھا: ۔
تو سب من گھڑت بکواس کیے جا رہی ہے، تو میری کوئی نہیں ہے، پھر تو کیسے اتنا سب جانتی ہے؟ تو ضرور میرے ساتھ کوئی دماغی کھیل کھیل رہی ہے، میں کہتا ہوں بند کر دے یہ سارے کھیل، ورنہ میں تجھے کتے کی موت مار دوں گا!۔”
نوشین ہنسنے لگی، میرے پیٹ سے اتر کر فرش پر ننگی کھڑی ہو کر وحشیانہ قہقہے لگانے لگی: ۔
“تو جانتا ہے میں کون ہوں؟”
میں:۔
“کون ہو؟”
نوشین: ۔
“بتانے سے پہلے ایک چھوٹی سی کہانی اور سنے گا؟”
وہ سنانے لگی: ۔
میری ایک ماں تھی، ایک بھائی تھا۔ ہم دونوں جوان ہوئے تو پتہ چلا کہ ہمارے اندر ایک دوسرے کے لیے پیار ہو کہ نہ ہو، لیکن ہوس بہت زیادہ تھی، اتنی زیادہ کہ ایک دن میرے بھائی نے میرے جسم کو چھو لیا۔ اور کیا بتاؤں میں تجھے، میں اس پر غصہ نہیں ہوئی، مجھے اتنا مزہ آیا، میں بولی:۔ ‘بھا‌ئی کتنا مزہ ہے تیرے جسم میں’۔
بس پھر کیا تھا، اس دن کے جو ہم دونوں بھائی بہن کے جسم آپس میں ملے تو ملن ہو گیا۔ پھر نہ دن دیکھتے نہ رات، ننگے ہو کر ہوس کا ننگا کھیل کھیلنے لگتے۔ ہم سمجھ رہے تھے کہ ہمارا یہ رازکبھی کسی پر نہیں کھلے گا، اور قسمت تو دیکھو، راز کھلا بھی تو امی جان کے سامنے۔ میری ہی امی جان نے ہم دونوں بھائی بہن کو چدائی کرتے دیکھ لیا۔ ہم دونوں بھائی بہن ڈر گئے، امی جان کچھ بولتیں، ہمیں مارتیں پیٹتیں، ہم دونوں بھائی بہن ہوس میں اندھے ہوئے امی جان کو اپنے ساتھ ملا گئے۔
میں نے اور بھائی نے مل کر امی جان کو ننگا کیا، پھر میرے سامنے بھائی نے امی جان کو چودنا شروع کر دیا۔ ہم ہوس میں اندھے سمجھ رہے تھے کہ امی جو برسوں سے لنڈ سے دور ہیں، لنڈ مل جانے پر ان کے اندر بھی چدائی کا شوق جنم لے جائے گا۔ پر ہم سے یہاں غلطی ہوئی۔
امی جان نے روتے ہوئے کہا: ۔
مآخر نکلا ناں تم دونوں کے اندر شہوت پرست کا خون۔ اس سے تم دونوں کو میں اتنی دور لے آئی، سوچا تھا کہ دور رکھوں گی تم دونوں کو اس ہواسی سے تو میرے دودھ کی طاقت تم دونوں کے اندر کے ہواسی خون کو دھو ڈالے گی، لیکن میرا دودھ ہار گیا اور ہواسی کی ہوس جیت گئی’۔”۔
نوشین میرے اوپر آ کر پھر سے بیٹھ گئی اور زور زور سے روتی ہوئی میرے گالوں پر چانٹوں کی برسات کر دی، پھر چیخ کر بولی: ۔
کتے! جانتے ہو وہ امی جان کون تھی؟ کتے جانتے ہو میں کون ہوں؟ کتے جانتے ہو وہ بھائی کون تھا؟ وہ امی میری امی جان تھی،۔
وہ شبنم تھی، وہ تمہاری بیوی تھی! وہ بھائی تمہارات بیٹا تھا اور میں کوئی نوشین نہیں ہوں، میں شگفتہ ہوں، تمہاری بیٹی! تمہارا ہی خون! کاااااش میں اس دنیا میں نہ آئی ہوتی۔
کاش امی جان نے تمہارا یہ راز کچھ مہینے پہلے ہی جان لیا ہوتا تو نہ وہ تم سے چدائی کرتیں، نہ ہی تمہارے لُنڈ سے نکلی منی امی جان کی چوت میں جا کر میری پیدائش کی وجہ بنتی۔ آج میں کسی اور گھر میں ایک خوشحال اور عزت والی زندگی جی رہی ہوتی۔”۔
میں نوشین عرف شگفتہ جو کہ میری ہی بیٹی تھی، کی باتیں سن کر شاکڈ تھا، ایسا شاک مجھے آج تک نہیں لگا تھا۔
وہ پھر سے مجھے پیٹتی ہوئی بولی: ۔
امی جان کی جب میں نے بھائی سے چدائی کروا دی تو وہ روتے ہوئے مجھے اور بھائی کو تمہارے بارے میں سب بتا گئیں، پھر اس رات امی نے ڈھیر ساری نیند کی گولیاں کھا کر خود کو موت کے حوالے کر دیا۔ بڑی شرم والی تھیں میری امی، بیٹے سے بیٹی کی آنکھوں کے سامنے چد کر جی نہیں سکیں اور مر گئیں۔
اس کے بعد پتہ ہے کیا ہوا؟ میں تو خود کو سنبھال گئی، پر میرے بھائی کے اندر کی ہوس نہیں گئی، وہ مجھے پھر سے چودنے لگا۔ میں نے اسے بڑا روکا، پر وہ تیری طرح کا ہواسی بنتا جا رہا تھا، پھر۔۔۔۔ پھر میں نے تنگ آ کر اسے جان سے مار دیا۔۔۔۔
سنا تو نے ہواسی کتے! میں نے، تیری بیٹی نے تیرے بیٹے یعنی کے اپنے سگے بھائی کو جان سے مار دیا۔ نہ مارتی تو وہ پتہ نہیں کس کس کو ہوس کا نشانہ بناتا۔۔۔۔

پھر میں بھی گھر سے بھاگ نکلی، اب میرے دل میں انتقام تھا، امی جان مر گئی تھیں، بھائی کو میں نے اپنے ہاتھوں سے مار دیا تھا، یہ سب تیری وجہ سے ہوا ہے کتے۔ تیری وجہ سے اتنے سارے مر گئے، پھر تو کیوں زندہ ہے؟ تو بھی سسک سسک کر ہی مرے گا، میں نے ایسی قسم کھا لی۔ بڑی محنت کرنی پڑی مجھے تجھے ڈھونڈنے میں، تیرے ذریعے جو ہوس میرے خون میں شامل ہو گئی تھی ناں، اسی ہوس نے مجھے رنڈی بنا دیا، میں بازاری بن گئی۔۔۔ پھر میں تیری تلاش کرتی کرتی یہاں لندن آ پہنچی، تیرے بارے سب پتہ کیا، پھر ایک فیملی سے سیکس ریلیشن بنا کر تجھے پھنسایا۔ میں تجھے مار سکتی تھی، لیکن مجھے سب شروع سے جاننا تھا اور اب میں سب جان چکی ہوں۔

پہلے سوچا تھا کہ تجھے تلاش کر کے جان سے مار کر میں خود مر جاؤں گی، لیکن تیری ہوس نے ایسی تباہی مچائی ہے، تیری موت آسان نہیں ہو سکتی۔ تو جو درد سب کو دیتا آیا ہے، تو بھی اسی درد سے گزرے، یہی میرا انتقام ہو گا۔۔۔”۔

شگفتہ بول بول کر تھک گئی تھی، وہ ننگی ہی باہر چلی گئی۔ پانی پی کر خود کو ریلیکس کر کے وہ پھر سے میرے پاس آئی اور مسکرا کر بولی:۔
تو نے اب تک مجھے یعنی کہ شگفتہ کو چودا بھی ہے اور چدتے دیکھا بھی ہے، لیکن آج سے تو صرف اور صرف اپنی بیٹی شگفتہ کو چدتے ہی دیکھے گا۔۔۔۔
تجھے میں مرنے نہیں دوں گی، تجھے تیری ہوس کی کرنی کا پھل دکھا دکھا کر گھٹ گھٹ کر مرنے پر مجبور کروں گی، جیسے میری دادی گھٹ گھٹ کر مریں، ساری عمر بنا شوہر کے گھٹ گھٹ کر جیتی رہیں، تو بھی ایسے ہی گھٹ گھٹ کر جیے گا کتے!۔”

شگفتہ نے مجھے میری کوٹھی سے نکال کر ایک اور کوٹھی، جو اس نے رنڈی بن کر پیسے کما کر خریدی تھی، وہاں ایک ہال میں مجھے قید کر دیا۔ اس کمرے کی ایک پوری دیوار شیشے کی تھی، دوسری طرف ایک عالیشان کمرہ تھا، عالیشان بیڈ تھا۔

وہ اب روز میرے سامنے ہوس کا ننگا کھیل کھیلا کرتی تھی اور میں ہواسی سے ایک باپ بن کر اپنی بیٹی کو روز نئے نئے مردوں سے چدتے ہوئے دیکھنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔

میں نے سوچا تھا کہ میں اپنی زندگی کی آخری سانسوں تک مزے کی زندگی جیوں گا، لیکن میری بیٹی شگفتہ نے مجھے کچھ اس طرح سے آئینہ دکھایا تھا، مجھے میری ہوس کے ایسے نتائج سے آگاہ کیا تھا جن کے بارے میں میں کچھ نہیں جانتا تھا۔ اب جانا تو جو گھٹن برسوں امی جان کے سینے میں پلتی رہی، وہ گھٹن میرے حصے میں آ گئی۔

میرے کمرے میں ایک کمپیوٹر رکھ دیا گیا تھا، جس سے پوری دنیا سے رابطے میں رہ سکتا تھا۔ چاہتا تو کسی کو بتا سکتا تھا کہ میری بیٹی نے مجھے اغوا کر رکھا ہے، لیکن قید ایسی تھی کہ میں اب آزاد ہو کر بھی آزاد نہیں رہ سکتا تھا۔ میں اپنے ہی ضمیر کی عدالت کا مجرم بن گیا تھا، گھٹن ہر لمحہ بڑھتی ہی جا رہی ہے، کم ہونے میں ہی نہیں آ رہی۔

آج مجھے مہینے ہو چکے ہیں ایک بند کمرے میں قیدی کی زندگی جیتے ہوئے، اپنی بیٹی کے جسم کو روز نئے نئے مردوں سے کچلتے دیکھتا رہتا ہوں۔
میں نے سوچا بھی نہیں تھا کہ میری ہوس مجھے ایسے دن بھی دکھائے گی، اپنی ہی بیٹی کو رنڈی کے روپ میں دیکھنا پڑے گا۔۔

کوئی ہے کیااااااااا جو مجھے زندگی کی اس قید سے آزاد کر دے؟ میں آج موت کا تمنائی ہوں۔ کوئی ہے کیااااااا مجھے موت دے دے، موت ہے کہ آتی ہی نہیں۔

(ختم شد)





Source link

Leave a Comment