امی جان مجھ سے ایک ماں بن کر ملیں۔ اپنی آغوش میں بھر کر دیر تک روتی ہوئی مجھے چومتی رہیں۔ میں بھی ساری ہوس بھول کر ایک ماں کے اصلی پیار کو پانے لگا۔ سب کی طرح میں بھی تو سب سے ملنے کے لیے تڑپ رہا تھا، ترس گیا تھا۔۔۔
سب بیٹھ کر مجھ سے باتیں کرنے لگے۔ میری نئی وضع قطع پر سب خوشی کا اظہار کرنے لگے۔
“میں ہیرو بن کر آیا ہوں”
، ایسا بولنے لگے۔
پھر اگلے دو دن میں نے امی جان کو وقت ہی نہیں دیا کہ وہ مجھ سے اکیلے میں بات بھی کر سکیں۔ میں تب ہی گھر میں رہتا جب سب ایک ساتھ بیٹھے ہوتے۔ جب بھی سب کمروں میں گھستے، میں گھر سے باہر نکل جاتا۔۔۔ امی جان مجھے گھورنے لگتیں۔ میں باقی امی جان سے عام طریقے سے ہنس ہنس کر اور پیار بھری باتیں کرتا۔۔۔ کچھ بھی ایسا ویسا نہیں بولا میں، نہ ہی کوئی اشارہ وشارہ کیا۔۔۔ نہ ہی کچھ اپنے چہرے سے پہلے والا ہواسی جیسا کچھ ظاہر کروایا۔
جب امی جان نے کہا تھا: “ایک مہینہ کیا، تو عمر بھر بھی ڈرامے کرتا رہے نہ، تب بھی میں من سے تیرے ساتھ جسمانی کھیل نہیں کھیلوں گی۔” پھر میں نے وہاں عیاشی اور خالہ کو چود کر اپنے جسم کی آگ بجھانے کی بات کری، تب امی جان سے میں نے کوئی بھی بات اسی موضوع سے متعلق کرنی چھوڑ دی تھی۔ ہاں، شروع شروع میں امی جان مجھ سے بحث کرتیں، مجھ سے لڑ پڑتی تھیں، پر میں یا تو کال کٹ کر دیا کرتا تھا یا موضوع بدل کر بات کرنے لگتا تھا۔۔۔
میری حرکتیں ایسی نہیں تھیں کہ امی جان خود پر قابو بنائے رکھ پاتیں۔۔۔ اب بھی گھر لوٹ کر آیا تو دو دن امی جان کے سامنے شریف بچہ بن کر رہا۔
تیسرے دن کی شام میں چھت پر گیا تو امی جان بھی میرے پیچھے پیچھے آ گئیں۔ مجھے اندازہ نہیں تھا کہ امی جان آ جائیں گی، اس وقت امی جان پڑوس کی ایک عورت کے ساتھ باتوں میں لگی ہوئی تھیں، ورنہ میں گھر سے باہر ہی رہتا۔۔۔ ابھی 4 دن اور امی جان کو پریشان کرنے کا میرا ارادہ تھا۔
قدموں کی آواز پر میں نے جو پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔
امی جان کا چہرہ دیکھ کر میں شریف بیٹوں والا چہرہ بنا کر بولا: ۔
“جی امی جان، مجھ سے کوئی کام تھا کیا آپ کو؟”
امی جان مجھے گھورتی ہوئی میرے قریب آئیں اور ایک درمیانی طاقت کا چانٹا میرے منہ پر مار گئیں۔۔۔ میں اپنے گال پر ہاتھ رکھ کر امی جان کو ایسے دیکھنے لگا جیسے میں ان کے چانٹا مارنے کی وجہ سمجھ نہیں پایا ہوں۔
امی جان دانت پیس کر بولیں:۔
“لوگ دنیا بھر کی ماؤں سے پوچھتے ہیں، جب ان کے بچے ذہین، چالاک اور شیطان پیدا ہوتے ہیں، سب پوچھتی ہیں کہ کیا کھا کر تو نے اس شیطان کو پیدا کیا تھا؟ میں نے کئی بار خود سے سوال کیا ہے کہ جب تو میرے پیٹ میں تھا تو میں نے کیا کھایا تھا جو تو ایسا پیدا ہوا؟ کتنا بڑا کمینہ ہے تو۔۔۔ کبھی کبھی میں سوچ کر پریشان ہو جاتی ہوں، کبھی شک بھی کرنے لگ جاتی ہوں کہ کہیں کسی نے تجھے بدل تو نہیں دیا تھا؟ خاندان میں تیرے جتنا کمینہ بھلا کوئی کہاں ہے۔ پھر سوچتی ہوں تو میرا ہی بیٹا ہے، گھر میں پیدا ہوا تھا، کمرے میں پیدا ہوا تھا۔ اسپتال میں پیدا ہوا ہوتا تو میں یقین کر لیتی اور تجھے دھکے دے کر گھر سے نکال باہر کرتی۔۔۔ پر نہیں نکال سکتی، کیونکہ مجھے یقین ہے تو میری ہی کوکھ کا جنما ہے، لیکن کہیں سے بھی میرے جیسا نہیں۔۔۔ اتنی چالاک, مکار، شیطان، کمینی، خبیث، کتی چیز میں بھی نہیں تھی اور نہ ہی تیرا باپ اتنا بڑا کمینہ تھا جتنا بڑا تو بن گیا ہے۔”
میرا ہنسنے کو دل چاہ رہا تھا۔ امی جان کی باتیں بڑی عجیب تھیں۔ میں ہنسا تو نہیں، لیکن میری آنکھوں میں ہنسی دیکھ کر امی جان نے ایک اور چانٹا میرے گال پر مار دیا۔
نیچے سے آواز آئی:۔
“امی! کیا آپ عمران کو مار رہی ہیں؟”
یہ حنا کی آواز تھی۔۔۔ امی جان سیڑھیوں کے پاس گئیں، پھر نیچے دیکھ کر بولیں: ۔
“ہاں۔۔۔ تو کیوں پوچھ رہی ہے؟ خبسونیار جو کوئی چھت پر آیا تو۔۔۔ ٹانگیں توڑ کر رکھ دوں گی۔”۔
سب ڈر گئے۔۔۔ پتا نہیں آج امی جان میرے ساتھ کیا کرنے والی ہیں۔ واپس میرے پاس آئیں، میں ابھی تک گال پر ہاتھ رکھ کر انہیں دیکھ رہا تھا۔ بڑی ڈراؤنی سنجیدگی امی جان کے چہرے پر سجی تھی۔ کوئی اور ہوتا تو امی جان کے پیروں میں گر کر آج تک کی ساری گستاخیوں کے لیے معافی مانگ لیتا، لیکن امی جان خود ہی مجھے وہ بول گئی تھیں جو کوئی ماں سوچ بھی نہیں سکتی تھی۔۔۔
امی جان بولیں: ۔
“بہت کچھ غلط کیا ہے تو نے میرے ساتھ۔۔۔ بڑا تڑپایا بھی ہے تو نے مجھے۔۔۔ رلایا تو اتنا ہے، زندگی میں کبھی اتنا نہیں روئی۔”۔
میں بولا:۔
“شکر ہے آپ نے یہ نہیں کہا کہ میں نے آپ کو جلایا کتنا ہے۔۔۔ آپ تو جنم لیتے ہی آگ سے غسل کر گئی تھیں، تب سے اب تک آگ میں جل رہی ہیں۔ جتنی آگ آپ میں ہے، وہ میری دی ہوئی نہیں ہے۔۔۔ میرے اندر جتنی آگ ہے، وہ ساری کی ساری آپ کی دین ہے۔ آپ کے دودھ کے ذریعے میرے خون میں شامل ہوئی ہے۔”۔
ایک اور چانٹا میرے گال پر نشان چھوڑ گیا: ۔
“کاش جتنی گرمی میرے اندر تھی، جتنی تیرے اندر ہے، اتنی ہی تیرے باپ کے اندر بھی ہوتی، تو آج یہ دن نہ دیکھنے پڑ رہے ہوتے مجھے۔”۔
عمران بولا:۔
“اگر ایسا ہوتا تو میں تو جل کر ہی مر جاتا۔۔۔”
ایک اور چانٹا۔۔۔
امی جان دھیرے بول رہی تھیں، دانت پیس کر بولیں تھیں، لیکن چانٹوں کی آواز کم نہیں تھی۔۔۔
امی جان بولیں:۔
“بڑا قابو میں کر لیا تو نے اپنی آگ کو۔۔۔ بڑے بڑے ڈائیلاگ بولا کرتا تھا تو۔۔۔ مہینوں سے وہیں آگ بجھاتا پھر رہا ہے۔”۔
امی جان دھیرے دھیرے اپنے من کی بات زبان پر لانے لگی تھیں۔
میں نے کہا: ۔
“آپ نے میرے پاس کوئی چارہ ہی کہاں رہنے دیا تھا؟ لیکن اچھا ہوا، اب جو میں نے اپنی لائن بدل لی۔۔۔”۔
میں امی جان کے ہاتھ تھام کر معصوم بن کر بولا:۔ “اب کبھی آپ کو مجھ سے پریشانی نہیں ہوگی امی جان۔ اب میں شریف بن کر آیا ہوں، اب سے میں آپ کا سچا بیٹا بن کر جیوں گا۔”۔
امی جان اپنے اوپر والا اور نیچے والا دونوں ہونٹ منہ میں گھسا کر دانتوں میں دبا گئیں۔ انہیں میری شریف بننے والی بات پر جیسے ہنسی آنے والی تھی، لیکن غصے میں تھیں، ہنس نہیں سکتی تھیں۔۔۔ پھر اپنے ہاتھ چھڑوا کر ایک اور چانٹا مار کر، غصے کو بڑھا کر بولیں۔۔۔
امی جان بولیں:۔
“بند کر اپنے ڈرامے، تو سمجھا؟ تو سانس بھی لیتا ہے تو میں تیری سانس سے تیرے اندر کی بات جان لیتی ہوں۔”۔
میں نے کہا:۔
“یہ تو اچھی بات ہوئی نہ امی جان، اب میں شریف بن گیا ہوں، آپ جان چکی ہیں۔ چلیے نیچے چلتے ہیں، سب پریشان ہوں گے کہ کیوں اور کس بات پر مجھے اتنے تھپڑ پڑ رہے ہیں۔”۔
امی جان بولیں: ۔
“پریشان!!۔۔۔ پریشان تو نے کر رکھا ہے مجھے۔ سانس لینا دوبھر کر رکھا ہے تو نے میرا۔”۔
میں امی جان کا ہاتھ پکڑ کر چھت سے نیچے جانے لگا۔ یہاں زیادہ دیر کھڑے رہ کر باتیں کرنا مناسب نہیں تھا۔ امی جان بھی سمجھ گئیں، مجھے غصے سے دیکھتی ہوئی میرے ساتھ نیچے جا پہنچیں۔
سب ہم دونوں کو دیکھ کر چپ تھے۔ امی جان کو کبھی کبھی ہی اتنا غصہ آتا تھا۔ ایک میں ہی تھا جس نے کبھی امی جان کے غصے کی کوئی پروا نہیں کی تھی، لیکن باقی سب کی جیسے جان نکلنے والی ہو جاتی تھی۔
امی جان سب کو دیکھ کر بولیں:۔
“کسی کو پوچھنا ہے میں نے عمران کو چانٹے کیوں مارے؟”۔
سب گھبرا کر زور سے انکار میں سر ہلانے لگے۔۔۔
امی جان بولیں: ۔
“جاؤ سب کمرے میں۔۔۔ یہ کئی مہینے مجھ سے دور رہا ہے، اس لیے میں کتنا روئی، کیا تم سب نہیں جانتے؟ مجھے غصہ آ گیا تو پیٹ ڈالا۔۔۔ تم میں سے کسی کو میرا غصہ جاننا ہے تو آ جاؤ میرے ساتھ کمرے میں۔”۔
سب بھاگ کھڑے ہوئے۔
میں ہنسنے لگا۔
امی جان بولیں:۔
“یہ بھی ایک بات ہے کمینے، تجھے میرے غصے سے ڈر نہیں لگا کبھی؟”۔
میں دھیرے سے بولا:۔
“ڈر لگتا تو کبھی چاہ بھی دل میں نہیں پلتی میرے، کاش میں پہلے ڈر گیا ہوتا، لیکن اب سچ میں ڈرنے لگا ہوں۔ ابھی کے پڑے ڈھیر سارے چانٹوں نے میرے دماغ کے ساتھ ساتھ میرے جسم کی ساری گرمی ختم کر ڈالی ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں، میں باقی کی زندگی شریف بن کر ہی جیوں گا۔”۔
میں سنجیدہ منہ بنا کر باتھ روم میں گھس کر منہ دھونے لگا۔ پھر تولیے سے منہ صاف کرنے کے بعد میں گھر سے نکل گیا۔ باہر نکل جانے کے بعد، امی جان کی نظروں سے ہٹ جانے کے بعد میں واپس پلٹا اور دروازے کے اندر سر گھسا کر امی جان کو دیکھنے لگا۔ پہلے جو غصہ امی جان کے چہرے پر تھا، میرے ان کی نظروں سے دور ہو جانے کے بعد ختم ہو گیا تھا، لیکن میں نے جیسے ہی اپنا سر دروازے سے اندر گھسا کر امی جان کو دیکھا، پھر سے غصہ ان کے چہرے پر آ گیا۔ میں ہنس پڑا، امی جان چہرہ پھیر کر اپنی گانڈ میری طرف کر کے کھڑی ہو گئیں۔
شاید ہنس رہی تھیں۔۔۔ ہیہیہی
میں بھی ہنستا ہوا ایک طرف چل پڑا۔
رات 9 بجے کے بعد امی ابو سے بولیں: ۔
“میں عمران کے ساتھ اس کے کمرے میں سونے جا رہی ہوں۔”۔
ابو بولے: ۔
“مجھ سے کیوں پوچھ رہی ہو؟ جو دل میں آئے کرو۔ تمہارا بیٹا اتنے مہینوں بعد آیا ہے، مجھ سے بھی زیادہ اس پر تمہارا حق ہے، تم ہی اس کے لیے دن رات روتی رہی ہو۔ میں تو مرد ہوں، دل میں چاہت اور درد چھپا سکتا ہوں، لیکن تم عورت ہو کر کمزور دل والی ہو۔۔۔ جاؤ اپنی تڑپ مٹا لو۔”۔
تڑپ تو سچ میں تھی امی جان کو، ان کے جسم کو۔۔۔ ابو اصلی بات کہاں جانتے تھے۔
میں کہنے ہی والا تھا کہ نہیں میں آج باہر ہی سوؤں گا، پر امی جان نے ایک چانٹا میرے سر کے پیچھے مار دیا۔
میں نے دیکھا تو مجھے گھورنے لگیں: ۔
“چل کمرے میں میرے ساتھ۔”
میں چھوٹا بچہ بن کر ابو سے بولا: ۔
“ابو! آج امی نے مجھے بڑا مارا۔ مار مار کر میرے گال لال کر دیے۔”۔
میں جس انداز میں بولا تھا، امجد اور لبنیٰ پہلے ہنسے، پھر ابو، حنا اور سونیا بھی ہنس پڑے۔
امی جان میرے سر پر ایک اور لگا کر، سب کو گھورتی ہوئی بولیں:۔
“تم سب کو ایک ایک چانٹا چاہیے کیااااااااااا؟؟”
میرے چاروں بھائی بہنوں کے ساتھ ساتھ ابو بھی اپنے منہ پر ہاتھ رکھ کر اپنی ہنسی روک گئے۔ ایڈھر امی جان میری کلائی کس کے پکڑے مجھے میرے کمرے کی طرف لے جانے لگیں۔
ابو کی آواز سنائی دی:۔
“بیٹا عمران، صبح میں تمہارے گالوں کے لیے مرہم لا کر رکھ دوں گا۔۔۔ ہاہاہا”۔
باقی چاروں بھی ہنسنے لگے۔
“ہاہاہا۔۔۔ ہیہیہی۔۔۔ ہیہیہی۔۔۔ ہیہیہی”
امی جان نے مجھے کمرے میں دھکا دیتے ہوئے دروازے پر کھڑے ہو کر سب کو غصے سے دیکھا اور پھر زور کی آواز کے ساتھ دروازہ بند کر دیا۔۔۔ اور اندر سے کنڈی لگا دی۔
امی جان نے دروازے کو اندر سے کنڈی لگا کر مجھے گھورنا شروع کر دیا۔ میری شریفانہ اور فرمانبسونیارانہ بیٹے کی اداکاری جاری تھی۔ امی جان مجھے غصے سے گھورتی ہوئی میرے پاس آنے لگیں۔ میں دیکھتا رہا۔ وہ پاس آ کر میرے چہرے کے قریب چہرہ کر کے، سر اٹھا کر میری آنکھوں سے آنکھیں ملا کر دیکھنے لگیں۔
میں شریف بن کر بولا: ۔
کیا بات ہے امی جان۔۔۔ آپ ایسے کیوں دیکھ رہی ہیں؟ اور ابھی بھی مجھ پر غصہ کیوں ہیں؟”۔
امی جان کا غصہ اور بھی بڑھا۔ پھر وہ پیچھے ہٹیں، چارپائی کے بستر کو اٹھا کر فرش پر بچھانے لگیں۔ میں دیکھنے لگا۔ اوپر سے شریف بنا دیکھ رہا تھا، اندر سے خوش بھی تھا اور ہنس بھی رہا تھا۔۔۔
امی جان نے بستر فرش پر بچھا دیا، پھر مجھے دیکھتی ہوئی اپنے دوپٹے کو اتار کر دیوار کے ساتھ رکھی کرسی پر غصے سے پھینک گئیں، پھر اپنی قمیض کے آگے پیچھے کے دونوں پلو پکڑ کر اوپر کو اٹھاتی ہوئی اپنی قمیض اپنے جسم سے الگ کر گئیں۔ بس میرے جیسے شہوت پرست کی ساری شرافت ہوا ہونے لگی۔ امی جان کا جسم جیسے ہی میری نظروں میں کھلنے لگا، میرے وجود میں سنسناہٹ ہونے لگی۔ خون کی رفتار بڑھنے لگی۔ سرور بھی خون کی بڑھتی رفتار کے ساتھ بڑھتا ہوا ایک ایک نس سے گزرتا ہوا میرے پورے جسم میں سفر کرنے لگا۔ میرا لنڈ موڈ میں آتا ہوا کھڑا ہونے لگا۔ امی جان نے قمیض بھی کرسی پر پھینک دی۔
اب امی جان اوپر سےبریزر اور نیچے سے شلوار میں تھیں۔ گورا جسم چمکتا ہوا دکھائی دے رہا تھا۔ امی جان میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی پیچھے ہاتھ لے جا کر بریزر کا ہک کھولنے لگیں۔
میں نظریں جھکا گیا۔
امی جان دانت پیس کر بولیں:۔
“عمران! تو نے اب نظریں پھیریں یا چرائیں نہ، تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہو گا۔”۔
میں نے نظریں اٹھا دیں۔ اب مجھ سے اداکاری بھی نہیں ہو پا رہی تھی۔ امی جان کے جس جسم کے لیے میں سالوں سے پاگل تھا، وہ جسم آدھا میرے سامنے ننگا ہو چکا تھا۔ باقی کا چھپا جسم بھی میرے سامنے ننگا ہونے جا رہا تھا۔ کیسے اپنے شہوت پرست دل کو سمجھا پاتا۔
امی جان نے بریزر کا ہک کھول کر بریزر کو بھی اپنے جسم سے الگ کر دیا۔ پھر برا کو بھی کرسی پر پھینک دیا۔ امی جان کا اوپر کا آدھا جسم پوری طرح سے ننگا میرے سامنے تھا۔۔۔
افففففففففففف۔۔۔
ابو کے بعد ایک میں ہی ایسا تھا جو امی جان کو ایسی حالت میں دیکھ رہا تھا۔
کیا شکل تھی امی جان کے مموں کی، ۔
کیا رنگت تھی امی جان کے مموں کی۔۔۔
کتنے خوبصورت تھے امی جان کے نپلز۔۔۔
کتنے بھلے لگ رہے تھے امی جان کے مموں پر یہ نپلز۔۔۔
بڑے بڑے تھے، اب گلابی نہیں رہے تھے، رنگ بدل چکے تھے، پر کمال کے خوبصورت دکھ رہے تھے۔
میری سانس بھاری ہو گئی اور میرا سارا منہ کھلتا ہوا میری سانسوں کو ناک سے کھینچ کر منہ سے باہر نکالنے لگا۔ امی جان کی آنکھوں میں پانی نہیں تھا، آنسو نہیں تھے، غصہ تھا اور بھی بہت کچھ تھا۔ اب میرے اندر کی ہوس پوری طرح سے جاگ چکی تھی۔ امی جان کی آنکھوں کے سارے رنگ سمجھنے کی صلاحیت کھوتا جا رہا تھا۔ کوئی اور ہوتی تو میں اتنا کبھی نہ بہکتا، لیکن امی جان کے آگے میرا بس چل ہی نہیں پاتا تھا کبھی۔۔۔ ہاں، منصوبہ بناتے وقت ضرور چلتا تھا، لیکن جتنا جسم امی جان آج کھول رہی تھیں، اتنا بھی پہلے کھول دیتیں تو میں ہوش میں نہ رہتا اور نہ ہی منصوبہ بنا سکتا تھا۔
امی جان نے پھر اپنی شلوار کے ناڑے کو پکڑ کر ایک جھٹکے میں کھینچ کر کھول دیا۔ پھر اپنی شلوار کو چھوڑ دیا، شلوار نیچے گر کر امی جان کو پورا ہی ننگا کر گئی۔۔۔ امی جان نے شلوار سے پیر نکالے اور شلوار اٹھا کر کرسی پر پھینک دی۔
زندگی میں پہلی بار میں اپنی امی جان کو پوری ننگی دیکھ رہا تھا۔
آج مجھے کہہ لینے دیجیے، میں نے کوئی غلطی نہیں کی تھی جو سالوں سے امی جان کے جسم کے لیے پاگل رہا تھا۔ امی جان سچ میں بے مثال حسن کی مالک تھیں۔ چہرے کے نین نقش جتنے قاتل تھے، جسم چہرے سے بھی کہیں زیادہ قاتل تھا، گورا تھا، خوبصورت تھا۔۔۔ امی جان کے پہاڑوں جیسے ممے سخت اور اٹھان میں کمال تھے۔ نیچے ان کا پیٹ۔۔۔ پھر ٹانگیں اور ٹانگوں کے بیچ چوت کی لکیر۔۔۔
بس میرا لنڈ نشے کی آخری منزل پر پہنچ کر میرے سارے ہوش اڑا گیا۔۔۔ امی جان کے چہرے پر ایک عجب مسکان ابھر آئی۔ وہ میرے پاس چل کر آئیں، میرے ہاتھ تھام کر مجھے بستر پر لٹا گئیں، میں تو امی جان کے چمکدار جسم کو دیکھ کر اپنی سدھ بدھ ہی کھو چکا تھا۔ میں سحر زدہ حالت میں بستر پر لیٹ گیا۔ میری سانسیں آج میرے قابو سے باہر ہو کر عجب ڈھنگ سے چلنے لگی تھیں۔
امی جان نے مجھے لٹا کر میری قمیض کے پلو کو اٹھا کر میری شلوار کا ناڑا پکڑ کر کھینچ دیا۔
گھر آ کر میں شام کے بعد شلوار قمیض پہن لیا کرتا تھا۔
امی جان نے میری شلوار ڈھیلی کی، پھر اپنے ہاتھوں سے میری ٹانگوں سے نکال کر کرسی پر پھینک دی۔ میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئی میرے پیٹ کو ننگا کرتی اس پر اپنا گرم ہاتھ پھیرنے لگیں۔ میں امی جان کی آنکھوں میں دیکھ رہا تھا، جو کچھ دکھا میں وضاحت نہیں کر سکتا تھا، سمجھ نہیں سکتا تھا۔ آج تک کوئی بھی مرد کہاں عورت کے اندر کا سارا حال آنکھوں سے جان سکا ہے، میں بھی سارا حال نہیں جان سکا، پر لیکن غصہ اور دیوانگی میں نے ضرور جان لی تھی امی جان کی آنکھوں میں۔۔۔ آگ جو آنکھوں میں تھی، جسم میں تھی، وہ بھی میں نے جان لی تھی۔ امی جان میرے پیٹ پر اپنا ننگا اور گرم ہاتھ پھیرتی ہوئی نیچے لے گئیں، پھر میرے سیدھے کھڑے لنڈ کو اپنی مٹھی میں بھر گئیں۔
بس میرے منہ سے ایک لمبی شہوت بھری سانس خارج ہو گئی۔۔۔
امی جان میرے لنڈ کو مٹھی میں بھر کر بھینچنے لگیں۔
امی جان بولیں: ۔
“یہی چاہتے تھے ناں تم۔۔۔ دیکھ آج میں ایک ماں ہو کر اپنے بیٹے کے سامنے پوری ننگی ہو گئی۔”۔
میں نے بولنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ امی جان نے دوسرے ہاتھ سے میرے گال پر چانٹا مار دیا:۔ “بول مت۔۔۔ آج صرف میں بولوں گی، خبسونیار جو تو نے منہ سے ایک بھی لفظ نکالا تو۔۔۔”۔
میں چپ کر گیا۔
امی جان بولیں:۔
“ایک ماں مر کر بھی بیٹے کے ساتھ ایسا رشتہ نہیں بنا سکتی، لیکن تو نے مجھے مجبور کر دیا، اس حد تک لے آیا۔ میں ساری شرم بھول کر تیرے سامنے، اپنے بیٹے کے سامنے ننگی ہو گئی۔۔۔ یہی تیرے من کی سب سے بڑی آرزو تھی۔۔۔ دیکھ میں نے تیرے من کی آرزو پوری کر دی۔ اتار کر پھینک دی میں نے اپنی ساری شرم تھوڑی تھوڑی کر کے کرسی پر۔۔۔ اب دیکھ کیسے میں تیرے لنڈ کے ساتھ کھیل رہی ہوں۔ تجھے اچھا لگا ناں میرے منہ سے گندا نام سن کر؟ وہ نام جو ایک ماں کبھی بیٹے کے لنڈ کے لیے اپنے منہ سے نہیں نکالتی۔۔۔ دیکھ ایک ماں تیری آرزو پوری کرنے کے لیے کیا سے کیا بن گئی۔”۔
پھر ماں اٹھی اور اپنی ٹانگیں کھول کر اپنی چوت کے لبوں کو دونوں ہاتھوں کی انگلیوں سے کھول کر دکھاتی ہوئی بولی:۔
“یہی ہے وہ جگہ جہاں سے تو آیا ہے، یہی گھسنا بھی چاہتا ہے تو۔۔۔”۔
ماں پھر سے بیٹھ کر میرے لنڈ کو مٹھی میں بھر کر بھینچنے لگی:۔
“تجھے بڑا روکا میں نے پر تو نہیں رکا، جسم کی آگ نے تجھے پاگل کر دیا۔ اسی جسم کی آگ کو میرے جسم میں بھر کر میرے جسم کو میرے بس سے باہر کا بنا دیا۔”۔
پھر امی جان اٹھیں اور میرے چہرے کے گرد دونوں پیر رکھتی ہوئیں اپنی چوت میرے منہ پر رکھ گئیں۔ میں اتنے مہینوں کے بعد امی جان کی چوت اپنے منہ کے قریب پا کر پاگل ہو اٹھا۔ میرا لنڈ تھکمے لگانے لگا۔
میں امی جان کی باتیں سن تو رہا تھا لیکن سمجھ نہیں پا رہا تھا، میرے سمجھنے کے لیے تھی ہی کہاں یہ ساری باتیں، مجھے تو جو چاہیے تھا آج وہ سب امی جان مجھے دے گئی تھیں۔
امی جان بولیں:۔
“نکال زبان منہ سے باہر۔۔۔ بڑا مزا آتا ہے ناں تجھے میری چوت چاٹ کر۔۔۔ چل چاٹ۔”۔
میں منہ سے زبان باہر نکال گیا۔ جیسے ہی امی جان کی چوت کے لبوں کو میری زبان چھوئی ہوئی،۔
امی جان “سییییی اممممممم” سسک پڑیں۔
میں دونوں ہاتھ امی جان کے چوتڑوں کے نیچے رکھ کر امی جان کی چوت چاٹنے لگا۔ آگ نہیں تھی امی جان کی چوت میں، لاوا تھا، اففف کتنی گرمی بڑھ گئی تھی امی جان کی چوت میں۔ پھر امی جان نے میرے سر کو پکڑ کر اپنی چوت کو میرے منہ پر حرکت دینا شروع کر دیا۔ میں نے امی جان کی چوت چاٹنی بند کر دی، اپنی ساری زبان اپنے منہ سے نکال دی۔ امی جان کے حرکت کرنے پر میری زبان امی جان کی چوت اور گانڈ دونوں سوراخوں کو چاٹ رہی تھی۔
یہاں ایک بار پھر سے امی جان جلد ہی میدان چھوڑ گئیں، وہ تیزی سے اپنی گانڈ ہلاتی مجھ سے چوت اور گانڈ چٹواتی میرے منہ پر جھڑ گئیں، پھر طرف پر لیٹ کر ہانپنے لگیں۔ میں اپنے لنڈ کو مسلتا ہوا امی جان کو دیکھنے لگا۔
آہ۔۔۔ میں نے امی جان کے جسم کو فتح کر لیا تھا۔
میں امی جان کی تیز چل رہی سانسوں سے اوپر نیچے ہو رہے مموں کو پکڑ گیا۔ میں اٹھ بیٹھا تھا، ایک ہاتھ سے اپنے لنڈ کو مسل رہا تھا، دوسرے ہاتھ سے امی جان کے مموں کو باری باری پکڑ کر دبا رہا تھا۔ اتنے قریب سے ننگے ممے میرے ہاتھوں میں تھے۔
میرے اندر کا شہوت پرست انسان پوری طرح مست تھا، پھر امی جان پرسکون ہوئیں، اٹھ بیٹھیں۔ مجھے پھر سے لٹا کر میرے لنڈ پر آئیں، اپنی ٹانگیں طرف کرتی میرے لنڈ کو پکڑ کر اپنی چوت سیٹ کرنے کے بعد دھیرے دھیرے کر کے سارا اندر اتار گئیں، پھر میرے اوپر جھکتی ہوئی میرے ہونٹوں کو چوسنے لگیں،۔
آج تو امی جان کمال ہی کر رہی تھیں، سالوں سے کھلی نہیں تھیں لیکن آج۔۔۔ ایسی کھل کر میرا ساتھ دے رہی تھیں، مجھے کچھ کرنے نہیں دے رہی تھیں، سب کچھ خود ہی کیے جا رہی تھیں۔ پہلے اپنی چوت میرے منہ پر رکھ کر چٹوا کر اپنی آگ کو کچھ کم کر گئی تھیں، اب میرے لنڈ کو اپنی گرم اور پانی پانی چوت میں لے کر مجھے چومتی ہوئی چد رہی تھیں۔
میرا بھی جوش بڑھنے لگا، امی جان کے جوش اور جسم کی آگ کے آگے میں بے قابو ہونے لگا۔ میرا لنڈ امی جان کی گرم چوت کے اندر پگھلنے لگا تھا، امی جان مجھے کچھ سمجھنے یا کرنے کا موقع ہی نہیں دے رہی تھیں، ہوس زدہ ہو کر مجھ پر ٹوٹی پڑ رہی تھیں۔
پھر میرے لنڈ نے بھی امی جان کی چوت میں ہار مانتے ہوئے الٹیاں کرنی شروع کر دیں، آہ یہ کیا ہوا، اتنا سب ہو گیا اور میں اپنی مرضی سے امی جان کے جسم کو محسوس بھی نہیں کر سکا تھا، اپنی مرضی سے امی جان کی چوت کو نہ چاٹ سکا، نہ مموں سے کھیل سکا تھا، نہ ہی چوت مار سکا تھا۔ پہلے امی جان نے خود سے اپنی چوت چٹوا کر اپنی چوت کا پانی نکال لیا تھا، اب میرے لنڈ کی واٹ لگاتی ہوئیں بڑے ہی جوش کے ساتھ میرے لنڈ کا پانی اپنی چوت میں نکال گئی تھیں۔
اس وقت میں ہانپ رہا تھا اور امی جان میرے اوپر ہی میرے لنڈ کو اپنی چوت میں لیے ہوئے ہی تھم سی گئیں، مجھے دیکھنے لگیں،۔
میں بھی جلد ہی نارمل ہوا، امی جان کو دیکھنے لگا، دیکھا تو پایا امی جان آنسو بہا رہی تھیں،۔
میں بولا: ۔
امی جان! آپ رو رہی ہیں، کیا آج بھی سب میں نے ہی کیا ہے؟ آپ نے خود ہی کیا ہے سب، پھر کیوں رونے لگیں؟”۔
امی جان بولیں:۔
میں اس لیے نہیں رو رہی ہوں کہ تیرے ساتھ یہ سب کر گئی، اس سب پر دکھ بھی ہے اور دل میں بے پناہ درد بھی، لیکن بات دوسری ہے۔”۔
میں نے پوچھا: ۔
“کونسی بات؟”
امی جان بولیں:۔
“جب تو سالوں سے میرے پیچھے تھا، میرا دیوانہ تھا، میرے جسم کے لیے پاگل تھا، شیطان بن کر شیطانیاں کرتا رہا، چالاک بن کر چالاکیاں، کمینہ بن کر کمینگیاں کرتا رہا تو پھر تو ایک بیٹا ہو کر، بیٹا بن کر کیوں نہیں جیا؟ میرے لیے، اپنی امی کے لیے۔۔۔ بس یہی سب باتیں سوچ کر میری آنکھوں میں آنسو آ گئے۔”۔
میں پہلی بار اتنا زیادہ تڑپا امی جان کے لیے:۔
“نہیں نہیں امی جان، میں تو ہمیشہ سے ہی آپ کا بیٹا رہا ہوں اور آخری سانس تک بیٹا ہی رہوں گا۔”۔
امی جان بولیں: ۔
لیکن تو نہیں رہا، تو نے میری نہیں مانی اور باجی کے ساتھ منہ کالا کر لیا۔ تجھے میرا جسم پسند تھا تو ایسا کچھ نہ کرتا باجی کے ساتھ۔ میرے جسم کو پانے کے لیے جہاں تو نے اتنے برس انتظار کیا، وہیں کچھ اور وقت نکال لیتا۔ میں دھیرے دھیرے تیری طرح جسم کی آگ میں جل ہی رہی تھی، آگ میرے بھی جسم میں بڑھتی جا رہی تھی، لیکن میں تجھ سے پیار بھی تو کرتی تھی، پھر کیوں نہیں تو نے میرے ساتھ وفا کی؟ جسم کی آگ میں تو اتنا اندھا ہو گیا، تو نے باجی کے جسم کو بھی کھلونا سمجھ لیا۔”۔
میرے دل میں امی جان کے لیے پیار اور تڑپ پوری شدت کے ساتھ جاگ اٹھی۔
میں بولا:۔
نہیں امی جان، آپ پلیز ایسے دکھ کے ساتھ نہ روئیں، میں نے جو بھی کیا آپ کو پانے کے لیے کیا، منصوبے بنائے وہ بھی آپ کو پانے کے لیے، آپ بھی تو سب جانتی ہیں، لیکن قسم کھاتا ہوں میں نے خالہ کے جسم کو میلا نہیں کیا ہے۔”۔
امی جان بولیں: ۔
مجھے مت بہلا تو عمران، باجی کے ساتھ جو کھیل کھیلتا رہا ہے نا، میں عورت ہوں، ایک ایک سانس کے اتار چڑھاؤ سے سب سمجھ لیتی ہوں، تو مجھے نہیں بہلا سکتا۔ تو نے یہ کیوں نہیں سوچا جس گھر میں تیری بہن شادی کر کے جانے والی ہے، جس عورت کے بیٹے کے ساتھ تیری بہن عمر بھر جینے والی ہے، اسی کی ماں کے جسم کے ساتھ تو نے اپنی ہوس پوری کر لی۔ میں نے تجھ سے کہا بھی تھا ایسا کچھ نہ کرنا، لیکن تو نہیں مانا، میرے جسم کو پانے کے لیے چالیں چلتا ہوا گرتا ہی چلا گیا۔”۔
میں نے کہا: ۔
آپ مجھے غلط سمجھ رہی ہیں امی جان، مانتا ہوں میں نے چالیں چلی ہیں، لیکن آپ کی قسم کھاتا ہوں خالہ کے ساتھ میں نے کچھ بھی نہیں کیا ہے۔”۔
امی جان بولیں:۔
“قسم مت کھا، تو ثابت کر سکتا ہے کیا اپنی بات کو؟ دیکھ میں تو تیرے ساتھ پورے من سے سب کرنا چاہتی تھی، لیکن ایک عورت، ایک ماں تھی میں، تو جلد باز نکلا، لیکن میں تو جلدی نہیں کر سکتی تھی نا، وقت لگتا ہے خود کو بدلنے میں۔ جن سوچوں کے ساتھ آج تک جیتی آئی ہوں، ان سوچوں کو پل بھر میں تو نہیں مار سکتی تھی نا، لیکن تجھے اپنی ہوس کے سوا کچھ سجھائی ہی نہیں دیا، کچھ دکھائی ہی نہیں دیا ہے”۔
امی جان بڑے دکھ کے ساتھ رو رہی تھیں، میرا دل خون خون ہوا جا رہا تھا۔
میں بولا:۔
“میں ثابت کر سکتا ہوں امی جان، آپ جو سمجھ رہی ہیں وہ سب بس میرے ڈرامے تھے۔”۔
امی جان بولیں:۔
“رہنے دے عمران، تو ثابت نہیں کر سکتا۔”
میں نے کہا:۔
“لیکن میرے پاس ابھی بھی ثبوت ہیں۔”
امی جان بولیں:۔
تو پھر دکھا، میرے دل پر بڑے بوجھ ہیں عمران، اتار سکتا ہے تو اتار دے سارے بوجھ، میں اب تیرے ساتھ آخری سانس تک سارے رشتے نبھانا چاہتی ہوں، بس دل پر بوجھ رکھ کر میں پورے من سے تیرا ساتھ نہیں دے سکتی ہوں۔ دیکھ پھر بھی تو دیکھ، آج میں نے دل سے تیرا کتنا ساتھ دیا، دیکھ ایک تار بھی نہیں ہے میرے جسم پر، دیکھ تیرے منہ پر اپنی چوت رکھ کر میں وہ سب کر گئی جو ایک ماں کبھی نہیں کرتی۔ دیکھ میں تیرے ساتھ کتنی بے شرمی سے بات کر رہی ہوں، تو یہ بھی دیکھ آج تیرے لنڈ کو اپنی چوت میں میں خالی کر گئی، جہاں پہلے بھی ایک بار تیرا لنڈ گھس چکا تھا، پر دیکھ آج میں نے سارا پانی اپنی چوت میں اتار لیا، میں تيرے لیے کتنی پاگل ہو گئی ہوں، تیری کتنی دیوانی ہو گئی ہوں، کبھی تو نے سوچا بھی تھا۔۔۔ چل میرے دل سے بوجھ اتار دے، پھر ہم ساری رات سکون کے ساتھ دل اور جسم کا ملن کریں گے۔”۔
میں جیت گیا تھا، امی جان پورے من کے ساتھ میری ہو گئی تھیں۔ جو کسر رہتی تھی وہ بھی اب پوری ہونے والی تھی۔
میں امی جان کو خود سے الگ کرتا ہوا اپنی جیب سے موبائل نکال کر دکھانے لگا، جہاں اس لڑکی کی تصویریں تبدیل کر کے میں ایک اور منصوبے کے ساتھ امی جان کو پھنسانا چاہتا تھا، لیکن اب اس کی ضرورت نہیں رہی تھی۔
میں سب تصویریں امی جان کو دکھا کر ساتھ ساتھ بتانے بھی لگا، امی جان ایک ایک تصویر دیکھ کر مجھ سے سوال کرتیں اور میں سب بتاتا چلا گیا۔
سب تبدیل شدہ تصویریں دیکھ لینے کے بعد امی جان بولیں:۔
تو تو میری سوچ سے بھی بڑا کمینہ نکلا عمران، ادھر میں سوچ سوچ کر پل پل مرتی رہی کہ تو ادھر باجی کے ساتھ ہوس پوری کر رہا ہے، اپنی بہن کے گھر کو بننے سے پہلے ہی اجاڑ رہا ہے، ہزاروں بار میں مری ہوں عمران۔۔۔ لیکن تو۔۔۔۔”۔
امی جان گہری سانس لیتی ہوئیں بولیں: ۔
“تو نے بہت غلط بھی کیا، یہاں مجھے تڑپایا اور رلایا بھی ہے، لیکن تو نے خاندان کی عزت کو مٹی میں ملانے میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی، وہاں تجھے کوئی اس کمینی لڑکی کے ساتھ دیکھ لیتا تو سب یہ کہتے پروین کی پرورش میں ہی کمی تھی، پھر کون تجھے, مجھے، میری بیٹیوں کو اپنے گھروں میں گھسنے دیتا، پر تجھے ہوس کے سوا کچھ دکھائی نہیں دیا۔”۔
میں نے کہا:۔
“آپ پہلے ہی مان جاتیں تو میں اتنی دور تک نہیں جاتا۔”۔
امی جان میری بات کو نظر انداز کرتی ہوئیں بولیں:۔ “کیا تو اب ان ساری گندی تصویروں کو سنبھال کر رکھے گا؟”۔
میں بولا: ۔
“نہیں، اب ان کی ضرورت نہیں رہی۔”
امی جان بولیں:۔
ایسی گھٹیا اور بے شرمی والی تصویریں جھوٹی بھی ہوں تو بھی اپنے پاس نہیں رکھنی چاہئیں عمران، کسی کے ہاتھ لگ جائیں تو کچھ سلامت نہیں رہتا، تو اسے مٹا دے، اگر دل مانے تو۔ ورنہ میں تو اب تیری ہو ہی چکی ہوں، وہ سب کچھ تجھے دے چکی ہوں جو کبھی دینے کا سوچ بھی نہیں سکتی تھی، اب جھوٹی عزت بچی ہے، وہ بھی میری بہن کی، اسے تو بچا سکتا ہے تو۔”۔
میں بولا: ۔
“مجھے بھی اب اس کی کوئی ضرورت نہیں رہی امی جان، میں سب تصویریں مٹا دیتا ہوں۔”۔
پھر میں وہ ساری تصویریں مٹانے لگا جو 1فیصد بھی شک میں ڈالنے والی تھیں۔ اس لڑکی کی تو کوئی بھی تصویر میں نے نہیں رہنے دی، سب مٹانے کے بعد بولا،۔
ہو گئیں ۔سب مٹا دیں۔
امی جان میری آنکھوں میں دیکھتی ہوئیں بولیں:۔ “دھیان سے دیکھ، کوئی رہ نہ گئی ہو، تو لڑکا ہے، مرد ہے، تجھے کوئی فرق نہیں پڑے گا، میں ماں ہوں، عورت ہوں، میری بیٹیوں کی زندگیاں بھی ہیں، تو سب مٹا۔”۔
میں نے کہا: ۔
“سب کر دیا امی جان۔”
امی جان نے میرا ہاتھ پکڑ کر اپنے سر پر رکھ دیا، پھر بولیں: ۔
“کھا میرے سر کی قسم۔”
میں نے قسم کھا لی۔۔۔
امی جان کے سینے سے جیسے کب کی رکی سانس اب جا کے کہیں نکلی تھی۔ امی جان نے مجھے پھر سے لٹا دیا، میرے ہاتھ سے موبائل پکڑ کر طرف پر رکھتی ہوئیں میرے لنڈ کو پکڑ کر مٹھ مارنے لگیں،۔
پھر میرے لنڈ کو دیکھتی ہوئیں بولیں:۔
“تیرے ابو کا بھی اتنا سخت نہیں تھا کبھی، اتنا بڑا اور موٹا بھی نہیں تھا، تیرا کیسے اتنا بڑا اور لوہے جتنا سخت ہو گیا؟”۔
میں ہنسنے لگا،۔
امی جان اب شرمانہیں رہی تھیں، کھل کر بات کر رہی تھیں، میں بولا:۔
“مجھے کیا پتا، آپ نے ہی کچھ کھا کر مجھے پیدا کیا تھا، کیا کھا کر پیدا کیا تھا وہ تو آپ مجھے بتائیں گی۔”۔
امی جان مجھے میٹھے غصے سے دیکھنے لگیں، میرا لنڈ ایک بار پھر سے کھڑا ہو چکا تھا۔
امی جان بولیں: ۔
“اب بھی تو ہی سب کچھ کرنا چاہتا ہے یا میں آج سب اپنے من سے کروں؟”۔
میں نے کہا:۔
“آپ کی رات آپ کی ہے امی جان، باقی کی ساری راتیں بھی آپ ہی لے لیں، مجھے تو بس آپ کا پیار پانا ہے، سو وہ میں پا رہا ہوں، مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں چاہیے۔”۔
امی جان میرے لنڈ میں ناخن گاڑتی ہوئیں بولیں:۔ “پیار!! کمینے یہ پیار نہیں ہوس ہے، جسم کی آگ ہے، دل کی آرزو بھی ہوس میں بدل گئی ہے، پہلے تیرے دل میں، اب میرے دل میں۔”۔
پھر امی جان میرے اوپر آئیں اور میرے لنڈ کو پکڑ کر اپنی چوت میں ڈال کر چدنے لگیں، میں دھیرے دھیرے جوش میں آنے لگا۔ امی جان میرے سینے پر ہاتھ رکھ کر اوپر نیچے ہو کر میرے لنڈ کو اپنی چوت میں گہرائی تک لیتی ہوئی چدنے لگیں،۔
کبھی میں آنکھیں کھول کر امی جان کے مموں کو پکڑ کر مسل دیتا، کبھی ممے چھوڑ کر کمر کو تھام لیتا، کبھی آنکھیں بند کرتے ہوئے امی جان کی چوت میں گھستے لنڈ کو محسوس کرنے لگتا،۔
میری آنکھیں بند تھیں، امی جان کے دونوں ہاتھ میرے گلے پر آئے، میں نے دیکھا امی جان کی آنکھوں میں رنگ بدل رہے تھے، میں سمجھ گیا امی جان پھر سے جھڑنے والی ہیں،۔
امی جان بولیں: ۔
“تیرا یہ گلا بڑا نرم ہے عمران، میرے ہاتھوں کی سختی کیا یہ بسونیاشت کر پائے گا؟”۔
میں نشے میں تھا، بولا: ۔
گلا کوئی سا بھی ہو، ہاتھوں میں دبے تو سارے راستے بند ہو جاتے ہیں، سانسیں سینے میں جانے سے رک جاتی ہیں۔”۔
امی جان چدتی ہوئی میرے لنڈ پر اچھلتی ہوئیں مجھے ایک چمی کرتی میری آنکھوں میں دیکھ کر میرے گلے پر دونوں ہاتھوں سے تھوڑا سا دباؤ ڈال کر بولیں:۔
“کیا میں تیرا گلا دبا دوں؟”
میں امی جان کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا: ۔
اسے اذیت ناک سیکس بھی کہتے ہیں اور ایسے ہی انداز میں زبردستی کا سیکس بھی ہوتا ہے، کئی اور قسمیں ہوتی ہیں ایسے سیکس کی، اس میں بھی بڑا مزا ہوتا ہے امی جان۔”۔
امی جان حیرانی سے بولیں: ۔
“کیا سچ میں؟”
میں نے کہا:۔
“ہاں امی جان۔”
امی جان بولیں:۔
“پھر تو میں ضرور کوشش کروں گی، دیکھنا چاہوں گی کتنا مزا آتا ہے۔”۔
میں شہوت کی آگ میں امی جان کے ارادوں کو نہیں جان سکا تھا،۔
میں بولا: ۔
“ہاں ضرور کوشش کیجیے۔”
اور پھر امی جان نے اپنی گانڈ کس کے میرے لنڈ پر دبا دی، لنڈ کو اپنی چوت میں لینا بند کرتی ہوئی امی جان جنونی ہو کر میرے گلے کو دونوں ہاتھوں سے پورے زور اور پورے جوش کے ساتھ دبانے لگیں،۔
امی جان کی حیوانیت سے بھرپور آواز میرے کانوں میں پڑی:۔
کہا تھا تجھ سے حد سے آگے نہ بڑھ، میں جان پر کھیل جاؤں گی، لیکن تو نہیں مانا، تو ہوس میں اتنا آگے نکل گیا، سب صحیح غلط بھول کر آگے اور آگے بڑھتا چلا گیا، جسم کی آگ سب برباد کر دیا کرتی ہے، تو برباد ہو رہا تھا، تو مجھے برباد نہ کرتا، میں برباد ہو جاؤں گی، تیرے ساتھ جسم کی آگ میں جل کر اندھی ہو کر ہواسی بن جاؤں گی۔ ایک شہوت زدہ بھائی کی بہنیں اور بےغیرت ماں کی بیٹیاں کبھی شریف بن کر زندگی نہیں گزار سکتیں، جن بہنوں کا بھائی بےغیرت بن کر دوسرے بھائیوں کی بہنوں کو ہوس بھری نظروں سے دیکھتا ہے، پھر دنیا اسی بھائی کی بہنوں کو ہوس بھری نظروں سے دیکھتی ہے۔ تو کیا سمجھتا ہے جسم ہے تو آگ نہیں ہوگی اس کے اندر؟ ہر جسم میں آگ ہوتی ہے، کہیں کم تو کہیں زیادہ، لیکن جسموں کی آگ پر قابو پانا سیکھنا پڑتا ہے، جب آگ قابو سے باہر ہو جائے تو پھر ایک کمینے کا جنم ہوتا ہے، تو بےغیرت بن کر مجھے بھی بےغیرت بنے دیکھنا چاہتا ہے، تو چاہتا ہے تیرے بعد میں اور میرے بعد میری بیٹیاں بھی جسم کی آگ میں بے قابو ہو کر ہواسی بن جائیں۔”۔
نہیں! آج میں نہ تجھے چھوڑوں گی اور نہ ہی تیرے اندر کی ہوس کو۔ جب تک تیرے ہاتھ میرے جسم سے دور رہے تو میرا بیٹا میرا عمران رہا، جیسے ہی تیرے ہاتھ میرے جسم پر بری نظر کے ساتھ ایک شہوت کے ہاتھ بن کر چھو گئے، تو تو بیٹے سے ہوس زدہ بن گیا۔۔۔ مر جا تو، تیرا مرنا ہی ٹھیک ہے۔۔۔”
میں سمجھ ہی نہیں پایا تھا کچھ، امی جان مجھ سے چدتی ہوئی میرے لنڈ کو اپنی چوت میں مزے سے لے رہی تھیں، یہ ایک دم سے کیا ہو گیا تھا؟ ماں نے میرے گلے کو اپنے دونوں ہاتھوں میں اتنی زور سے دبایا تھا کہ میرے اندر کا سانس اندر ہی کہیں دفن ہو کر رہ گیا تھا، امی جان کی جنونی حالت، پھر جنونی باتیں، اوپر سے موت کے فرشتے کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لینے پر میں اتنا زیادہ گھبرا گیا۔ مرد ہو کر ایک عورت پر بھاری پڑ سکتا تھا، اسے اچھال کر خود سے دور کر سکتا تھا، لیکن ایسی کوئی صورتحال آج سے پہلے میری زندگی میں کبھی نہیں آئی تھی۔ سانس کا رکنا ایسی بات تھی، امی جان کی باتیں ایسی تھیں، میرا دماغ کام کرنا چھوڑ گیا، میں امی جان کو خود سے الگ کرنا بھول کر اپنی جان بچانے کے لیے الٹی حرکت کرتا ہوا اپنے دونوں ہاتھوں سے امی جان کے ہاتھوں کو پکڑ گیا،۔
کچھ بھی میرے دماغ میں نہیں آ رہا تھا، بس موت کی پرچھائیں تھی جسے میں اپنی طرف بڑھتا ہوا دیکھ رہا تھا، پھر میرے حواس کام چھوڑنے لگے، میرا جسم جس کے اندر ہوس ہی ہوس تھی، تڑپنے لگا، پھڑپھڑانے لگا۔۔۔ اپنے اندر کہیں اٹکی سانسوں کو باہر نکالنے اور دوسری سانس لینے کے لیے مچلنے لگا،۔
یہی زندگی کی ضمانت بھی بن جاتا، پر میرے مدِ مقابل ایک عورت نہیں ایک ماں تھی، ایسی ماں جو برسوں سے میرے جسم کی آگ غیر قانونی، غیر رسمی اور غیر اخلاقی طور پر اپنے جسم پر بسونیاشت کرتی چلی آ رہی تھی۔۔۔
مزے دار جنس کا کھیل زندگی اور موت کا کھیل بن کر رہ گیا تھا۔۔
جاری ہے ۔