br>
صائمہ ایک شادی شدہ خوبصورت لیکن شرمیلی عورت تھی۔ اگرچہ وہ اعلی تعلیم یافتہ تھی مگر شادی کے بعد اس نے گھر داری ، بچوں کی پرورش اور ایک اچھی بیوی بننے کے دوران خود کو یکسر بھلا دیا تھا۔ تین بچوں کی پیدائش کے باوجود صائمہ ایک بھرپور اور سیکسی جسم کی مالک تھی جبکہ اسکی گوری رنگت صائمہ کے سیکسی خدوخال پر سونے پر سہاگہ کا کام کرتی تھی
شادی کے دس سال بعد جب بچے سکول جانے لگے اور شوہر بھی زیادہ وقت دفتر میں گزارنے لگے تو صائمہ کو اپنی سہیلیوں سے رابطے بحال کرنے کا موقع ملا۔ انہی دنوں صائمہ نے شوہر اور بچوں کی روانگی کے بعد اپنی دوستوں سے ملنے کا سلسلہ شروع کیا۔
ایک دن گھر کی ملازمہ کو گھریلو کام کاج کی ہدایات دینے کے بعد صائمہ اپنی ایک دوست کو ملنے اس کے گھر چلی گئی تو وہاں کا نوکر صائمہ کو ڈرائنگ روم میں بٹھا کر بولا گھر والے دو ہفتے کیلئے باہر گئے ہیں ۔تو صائمہ اٹھتے ہوئے بولی اچھا؟ تو پھر میں چلتی ہوں۔ صائمہ کو اٹھتے دیکھ کر نوکر گھبرا کر بولا جی! کچھ دیر تو بیٹھیں؟ تو صائمہ نے نوٹ کیا کہ نوکر کی نظریں مسلسل اس کے سینے پر تھیں جبکہ نوکر کا لن پورا کھڑا ہوا تھا اور زور زور سے تھرک رہا تھا۔
یہ دیکھ کر صائمہ سمجھ گئی کہ نوکر کی نیت ٹھیک نہیں ہے اور وہ تنہائی کا فائدہ اٹھانا چاہتا ہے۔ تو صائمہ نے سوچا کیوں نہ آج اس نوکر کو تنہائی کا فائدہ اٹھانے دیا جائے اور دیکھا جائے کہ ایک غیر مرد اس کی خوبصورتی سے کتنا متاثر ہوتا ہے؟ تو یہ سوچ کر صائمہ دل ہی دل میں مسکرا دی اور صوفے پر بیٹھ کر مسکراتے ہوئے بولی ٹھیک ہے! تمہارے لئے کچھ دیر ٹھہر جاتی ہوں۔ صائمہ کو مسکراتے دیکھ کر نوکر کی ہمت بڑھ گئی اور وہ بھی مسکرا کر بولا جی شکریہ میڈم! تو صائمہ مسکرا کر بولی اچھا یہ بتاؤ کہ جب تمہیں پتہ تھا کہ گھر پر کوئی نہیں ہے تو پھر تم مجھے یہاں ڈرائنگ روم میں کیوں لائے؟ صائمہ کی مسکراہٹ دیکھ کر نوکر کی ہمت مزید بڑھ گئی اور وہ دھیرے سے مسکرا کر بولا جی! وہ دراصل آپ بہت خوبصورت ہیں تو آج آپ کو اکیلی دیکھ کر سوچا کہ آج موقع ہے کیوں نا آج تنہائی کا فائدہ اٹھا کر آپ کی خوبصورتی دیکھ لوں! یہ سنکر صائمہ مسکرا کر بولی کیا گھر بالکل خالی ہے؟ تو نوکر صائمہ کا مطلب سمجھ گیا اور بولا جی! آپ اور میں یہاں بالکل اکیلے ہیں۔
نوکر کا جواب سنکر صائمہ اپنے سینے سے دوپٹہ ہٹا کر مسکراتے ہوئے بولی اچھا! تمہیں مجھ میں کیا چیز خوبصورت لگتی ہے؟ نوکر صائمہ کا اشارہ سمجھ گیا اور آگے بڑھ کر صائمہ کے سینے پر ہاتھ رکھ کر بولا جی! آپ کے یہ! تو صائمہ آس پاس دیکھ کر شرماتے ہوئے بولی تم نے میرے یہ کب دیکھے؟ یہ سنکر نوکر سمجھ گیا کہ صائمہ اسے تنہائی کا فائدہ اٹھانے کا موقع دے رہی ہے تو وہ صائمہ کی قمیض کھینچ کر اوپر کرکے صائمہ کے بریزئر میں قید جوان بریسٹز دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولا! میڈم! آج موقع ہے آج خالی گھر کا فائدہ اٹھا کر اپنے یہ دکھا دیں۔
تو صائمہ شرما کر آس پاس دیکھ کر مسکراتے ہوئے بولی مجھے شرم آتی ہے! یہ سنکر نوکر صائمہ کا مطلب سمجھ گیاُاور اس نے مسکراتے ہوئے صائمہ کی بریزئر کے کپس کے نیچے اپنی انگلیاں ڈال کر صائمہ کی بریزئر بھی کھینچ کر اوپر کردی اور صائمہ کے جوان بریسٹز باہر نکال کر بالکل ننگے کرلئے۔ تو صائمہ شرم سے لال ہوگئی اور اس نے شرماتے ہوئےسر جھکا کر اپنی نظریں جھکا لیں۔ صائمہ کو اس حالت میں شرماتے دیکھ کر نوکر مسکرا کر بولا آپ واقعی بہت خوبصورت عورت ہیں۔ تو صائمہ شرماتے ہوئے سر جھکا کر بولی مجھے بھی تمہیں اپنے یہ دکھانا اچھا لگ رہا ہے۔
یہ سنکر نوکر کی ہمت بڑھ گئی اور اس نے مسکراتے ہوئے صائمہ کی قمیض اوپر کرکے اتار لی اور صائمہ کی بریزئر کھینچ کر اوپر کرکے مسکراتے ہوئے صائمہ کے ننگے نپلز چوم کر بولا آج موقع ہے میڈم! آج خالی گھر کا فائدہ اٹھا کر اپنی خوبصورتی دکھا دیں۔ تو صائمہ شرما کر سر ہلا کر بولی تم بہت شیطان ہو! ۔ نوکر صائمہ کا اشارہ سمجھ گیا اور آگے بڑھ کر مسکراتے ہوئے صائمہ کے کپڑے اتارنے لگا تو صائمہ بھی شرما کر مسکراتے ہوئے نوکر سے اپنے کپڑے اتروانے لگی۔ جونہی نوکر نے صائمہ کے سارے کپڑے اتار کر صائمہ کو بالکل ننگا کیا ، صائمہ مسکرا کر بالکل ننگی حالت میں آگے بڑھ کر نوکر کے گلے لگ گئی اور شرما کر بولی مجھے تمہارے سامنے بالکل ننگی ہونا بہت اچھا لگ رہا ہے۔ یہ سنکر نوکر صائمہ کے ننگے ہپس دبا کر مسکرا کر بولا آج موقع ہے! آج خالی گھر کا فائدہ اٹھا کر اپنا ننگا ڈانس دکھا دے رانی!
نوکر کی بات سنکر صائمہ مسکرادی اور بولی آج میں تمہاری ہوں جانو! آج تنہائی کا فائدہ اٹھا کر مجھے اپنی بیوی بنا لو! تو نوکر صائمہ کے ننگے بریسٹز پکڑ کر آہستہ سے دبا کر بولا رانی! آج سے تو دو ہفتے کیلئے میری ننگی رانی ہے۔ یہ سنکر صائمہ مسکراتے ہوئے بے اختیار نوکر کے گلے لگ گئی اور نوکر کے گلے میں بانہیں ڈال کر شرماتے ہوئے بولی جانو! مجھے تمہارے سامنے بالکل ننگی ہونا بہت اچھا لگ رہا ہے، آج موقع ہے آج مجھ سے شادی کرکے مجھے اپنی رانی بنا لو۔
نوکر صائمہ کی بات سنکر بےقابو ہوگیا اور صائمہ کے ننگے بریسٹز پکڑ کر زور زور سے دبانے لگا تو صائمہ کے ننگے نپلز سے دودھ کی دھاریں نکلنے لگیں۔ تو نوکر حیران ہو کر بولا رانی! یہ تو دودھ سے بھرے ہوئے ہیں؟ تو صائمہ شرما کر سر جھکا کر بولی جانو! یہ دودھ تمہارے لئے ہی تو ہے۔ اب تو نوکر صائمہ کے ننگے بریسٹز پکڑ کر زور زور سے دبانے لگا اور صائمہ مسکرا کر بالکل ننگی ہوکر نوکر کے گلے میں بانہیں ڈال کر اپنے ننگے بریسٹز سے اپنا دودھ نکلوانے لگی اور زور زور سے سانس لینے لگی۔ نوکر سمجھ گیا کی صائمہ بھرپور جوش میں آگئی ہے تو اس نے صائمہ کو موڑ کر صوفے پر ڈوگی سٹائل میں جھکا دیا اور خود نیچے بیٹھ کر صائمہ کی خوبصورت گلابی پھدی چاٹنے لگا۔ تو صائمہ مزید جوش میں آگئی اور نوکر کا چہرہ پکڑ کر اپنی ننگی پھدی میں گھسا کرآہیں بھرنے لگی۔
صائمہ کی حالت دیکھ کر نوکر کو شرارت سوجھی اور وہ صائمہ کے ہپس کھول کر صائمہ کی گانڈ کا سوراخ چاٹنے لگا تو صائمہ بالکل بےقابو ہوگئی اور زور زور سے آہیں بھرتے ہوئے جوش سے بولی آہ! میرے جانو! اور زور سے چاٹو! آج تم نے جو مزہ دیا ہے وہ زندگی میں پہلے کبھی نہیں ملا! آج اپنا لن مجھے دے دو! ۔ یہ سنتے ہی نوکر نے اپنی شلوار کھول کر اپنا تنا ہوا لن باہر نکالا اور صائمہ کی گیلی پھدی میں ڈال دیا اور صائمہ کے ننگے ممے پکڑ کر زور زور سے صائمہ کے ساتھ ڈوگی سٹائل میں بھرپور سیکس کرنے لگا۔ صائمہ بھی کھل کر بےشرمی سے نوکر کا پورا لن اپنے اندر لیکر جوش و خروش سے سیکس کرنے لگی۔
نوکر زیادہ دیر برداشت نہ کرسکا اور اس نے اپنی منی صائمہ کی پھدی میں ہی نکال دی۔ صائمہ کا جسم بھی پیار کے جذبات میں بےقابو ہو کر کانپنے لگا اور صائمہ بے ساختہ اپنا منہ نوکر کے منہ سے لگا کراسےبےتحاشہ کسنگ کرنے لگی۔ نوکر بھی اپنی زبان صائمہ کے منہ میں ڈال کر اسے زوردار کسنگ کرنے لگا اور اس نے صائمہ کا ہاتھ پکڑ کر اپنا ننگا لن صائمہ کے ہاتھ میں دے دیا تو صائمہ اس کا مطلب سمجھ گئی۔ اگرچہ صائمہ نے اپنے شوہر کا لن کبھی منہ میں نہیں لیا تھا لیکن آج پیار کے جذبات میں صائمہ نے تمام حدیں پار کرلیں اور بلا جھجک نوکر کا ننگا لن اپنے منہ میں لے کر زور زور سے چوسنے لگی۔ اسے نوکر کے لن سے پیار ہوگیا تھا اور وہ نوکر کا ننگا لن بےتحاشہ چوم رہی تھی۔
صائمہ کے بےتحاشہ چومنے اور چاٹنے سے نوکر کا لن چند ہی لمحوں میں پھر سے تن کر کھڑا ہوگیا اور صائمہ کے خوبصورت چہرے سے ٹکرانے لگا۔ یہ دیکھ کر نوکر نے شرارت بھری نظروں سے صائمہ کی آنکھوں میں جھانکا اور مسکرا کر بولا رانی! اب ایک راؤنڈ پیچھے سے ہو جائے؟ اگرچہ صائمہ نے کبھی اپنے شوہر کا لن پیچھے سے نہیں لیا تھا لیکن نوکر کے پیار میں صائمہ مسکرا کر بولی جانو! آئی لو یو! تم جہاں چاہو اپنا لن ڈال سکتے ہو! آج میں صرف تمہاری ننگی رانی ہوں!
نوکر بھاگ کر اندر سے تیل کی بوتل لے آیا اور صائمہ کی گانڈ میں لگانے لگا۔ پھر اپنے لن پر بھی تیل لگا کر صائمہ کی گانڈ میں اپنا لن ڈالنے لگا۔
صائمہ نوکر کے پیار جذبات سے کپکپا رہی تھی اور آہیں بھر رہی تھی۔ اسی دوران نوکر نے آہستہ آہستہ اپنا پورا لن صائمہ کی گانڈ میں ڈال دیا اور آہستہ آہستہ جھٹکے مارنے لگا۔ شروع میں صائمہ کو درد محسوس ہوا لیکن کچھ ہی دیر میں اسے مزہ آنے لگا اور وہ نوکر کا بھرپور ساتھ دینے لگی۔ نوکر صائمہ کی ٹائٹ گانڈ کو زیادہ دیر برداشت نہ کرسکا اور اس کی منی نکل گئی۔ صائمہ ابھی بھی انجوائے کررہی تھی اور اس نے مڑ کر نوکر کے منہ سے منہ لگا کر اسے زوردار کس کیا اور ساتھ صائمہ کا بھی کلائمکس ہوگیا۔
صائمہ بالکل ننگی حالت میں نوکر کی بانہوں میں صوفے پر لیٹ کر اسے کسنگ کرنے لگی۔ صائمہ کا ننگا پیار نوکر کے لن کو تیسری دفعہ کھڑا کرنے میں کامیاب ہوگیا اور اس مرتبہ صائمہ نے خود ہی نوکر کا ننگا لن اپنے منہ میں لے لیا اور زور زور سے چوسنے لگی ۔ نوکر نے بھی جھک کر صائمہ کے ننگے ممے پکڑ لئے اور زور زور سے دبانے لگا۔جلد ہی نوکر نے اپنی منی صائمہ کے منہ میں ہی نکال دی اور صائمہ نے مسکرا کر نوکر کی ساری منی پی لی۔
صائمہ اسی طرح بالکل ننگی ہوکر نوکر کی آغوش میں دوپہر تک ننگا پیار کرتی رہی تو اچانک صائمہ کا موبائل فون بجا ۔ دوسری طرف صائمہ کی ملازمہ تھی جو بتا رہی تھی کہ بچے سکول سے آگئے ہیں۔ صائمہ نے اسےبچوں کو کھانا دینے کی ہدایات دیں اور فون بند کر کے نوکر کا لن چوم کر بولی جانو! تمہاری ننگی رانی بنکر تو میں سب کچھ بھول گئی تھی۔ نوکر اپنا لن صائمہ کے ہونٹوں سے لگا کر بولا رانی! تیری اصل جگہ یہاں میرے پاس ہی ہے تو صائمہ نے مسکرا کر نوکر کا تھرکتا ہوا ننگا لن چوم لیا اور بولی جانو! اب مجھے جانا ہوگا، کل صبح ہی پھر تمہاری ننگی رانی بننے کیلئے آجاؤں گی۔ صائمہ نے جلدی جلدی کپڑے پہنے اور وہاں سے نکل گئی۔
اگلے دن بچوں کے سکول جاتے ہی صائمہ صبح صبح تیار ہونے لگی تو اس کے شوہر نے پوچھا ” آج خیر ہے؟ صبح صبح کہاں کی تیاری ہے؟ ” تو صائمہ مسکرا کر بولی ” کچھ خاص نہیں! آج سعدیہ کی طرف جانے کا وعدہ کیا تھا تو رات کو اس کا میسج آیا تھا کہ صبح جلدی آ جانا! تاکہ دوپہر تک آرام سے شاپنگ کرسکیں ” ۔ یہ سنکر صائمہ کا شوہر مسکرا کر بولا ” تمہاری شاپنگ تو کبھی ختم نہیں ہوتی! ” ۔ صائمہ مسکرا کر بولی آپ کیوں جل رہے ہیں؟ تو صائمہ کا شوہر مسکراتے ہوئے بولا ” نہیں بھئی! ضرور جاؤ مجھے تو تمہیں خوش دیکھ کر خوشی ہوتی ہے ” ۔ یہ سنکر صائمہ اٹھلا کر بولی پہلے آپ آفس جائیں! ۔ صائمہ کے شوہر نے اپنا بریف کیس اٹھایا اور کار میں بیٹھ کر مسکراتا ہوا آفس کے لئے روانہ ہو گیا ۔
صائمہ نے ملازمہ کو جلدی جلدی گھر کے کام کی ہدایات دیں اور ٹیکسی لے کر اپنی دوست کے نوکر (جس کا نام بھی وہ ابھی تک نہیں جانتی تھی) اسے ملنے کے لئے روانہ ہو گئی۔ جب صائمہ اپنی دوست کے خالی گھر پہنچی تو اس نے دیکھا کہ نوکر گیٹ کے باہر ہی کھڑا ہمسایوں کے نوکر کے ساتھ سگریٹ پی رہا تھا ۔ لگتا تھا جیسے صبح سے اسی کا انتظار کررہا ہو۔ صائمہ کو دیکھتے ہی اس نے مسکرا کر دوسرے نوکر کے کان میں کچھ کہا تو ہمسایوں کا نوکر اپنے گھر کے گیٹ کی طرف چلا گیا اور صائمہ کو دیکھنے لگا۔
صائمہ نے ٹیکسی کا کرایہ ادا کیا اور جونہی ٹیکسی روانہ ہوئی، صائمہ مسکراتی ہوئی گیٹ پر کھڑے نوکر کی طرف چل پڑی۔ نوکر بھی صائمہ کو صبح اتنی جلدی آتا دیکھ کر بہت خوش نظر آرہا تھا۔ صائمہ نے نوکر کے قریب پہنچ کر گھر کے گیٹ کے باہر ہی نوکر کے گلے میں اپنی بانہیں ڈال دیں اور اس کے منہ سے اپنا منہ لگا کر سرعام سڑک پر ہی نوکر کو کسنگ شروع کر دی!
اگرچہ نوکر کو یہ امید نہیں تھی کہ صائمہ اتنی بےشرمی سے کھلے عام سڑک پر ہی اس کے ساتھ کسنگ شروع کر دے گی لیکن صائمہ کی خوبصورت مسکراہٹ دیکھ کر وہ بھی سب کچھ بھول گیا اور صائمہ کا ساتھ دینے لگا۔
اسی دوران صائمہ نے کن اکھیوں سے ہمسایوں کے نوکر کو دیکھا تو وہ آنکھیں پھاڑ کر صائمہ کو سرعام سڑک پر نوکر کے گلے لگ کر کسنگ کرتے ہوئے دیکھ رہا تھا اور اس کا منہ حیرت سے کھلا ہوا تھا ۔ یہ دیکھ کر صائمہ کو دل میں ایک انجان سی خوشی محسوس ہوئی کہ وہ سرعام سڑک پر نوکر کے گلے لگ کر اسے کسنگ کررہی ہے اور ایک انجان نوکر اسے دیکھ رہا ہے ۔
اس نئے احساس کے ساتھ صائمہ نے نوکر کے ہاتھ پکڑ کر اپنے ہپس پر رکھے اور مسکراتے ہوئے اپنا منہ نوکر کے منہ سے لگا کر اسے بھرپور طریقے سے کسنگ کرنے لگی۔ نوکر بھی صائمہ کے سیکسی جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا اور صائمہ کے بھرے بھرے ممے پکڑ کر دبانے لگا تو صائمہ نے مسکرا کر نوکر کو نیچے دھکیل دیا ۔ نوکر صائمہ کا اشارہ سمجھ گیا اور نیچے بیٹھ کر مسکراتے ہوئے صائمہ کی شلوار کھینچ کر اتارنے لگا۔ جونہی نوکر نے صائمہ کی شلوار نیچے کی تو وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ صائمہ نے پینٹی نہیں پہنی ہوئی تھی اور صائمہ کی صاف شفاف پھدی اسکی نظروں کے سامنے تھی۔
اب صائمہ مسکرا کر سڑک پر سرعام اسے اپنی ننگی پھدی دکھا رہی تھی ۔ یہ دیکھ کر نوکر بےقابو ہو گیا اور نیچے بیٹھ کر صائمہ کی ننگی ٹانگیں کھول کر صائمہ کی ننگی پھدی چومنے لگا تو صائمہ نے مسکراتے ہوئے نوکر کا سر پکڑ کر اپنی ٹانگوں کے درمیان کھینچ لیا اور لمبی لمبی آہیں بھرتے ہوئے کن اکھیوں سے ہمسایوں کے نوکر کو دیکھنے لگی ۔ وہ ابھی بھی حیرت سے منہ کھولے صائمہ کو نوکر سے اپنی ننگی پھدی پر پیار کرواتے دیکھ رہا تھا اور اس کا لن بھی زور زور سے تھرک رہا تھا ۔
اسی دوران صائمہ نے نوکر کا ہاتھ پکڑ کر اسے کھڑا کیا اور اور اپنی پیٹھ نوکر کی طرف کر کے کھڑی ہو گئی اور سر جھکا کر شرماتے ہوئے مسکرانے لگی۔ نوکر صائمہ کا مطلب سمجھ گیا اور اس نے صائمہ کی قمیض کی پوری زپ کھول دی اور صائمہ کی خوبصورت ننگی پیٹھ پر ہاتھ پھیر کر اسے چومنے لگا تو صائمہ نے مسکراتے ہوئے مڑ کر اپنی بانہیں نوکر کے گلے میں ڈال دیں اور اس کے ہاتھ پکڑ کر اپنے مموں پر رکھ دیئے۔ نوکر صائمہ کا اشارہ سمجھ گیا اور اس نے فورا ہی صائمہ کی قمیض اوپر کر کے اتار لی اور سائیڈ پر سڑک پر ہی پھینک دی۔
قمیض اتارتے ہی نوکر صائمہ کی قیمتی بریزئر دیکھ کر حیران رہ گیا کیونکہ صائمہ نے ایک انتہائی سیکسی بریزئر پہنی ہوئی تھی جو صرف چند رسی نما پٹیوں پر مشتمل تھی اور صائمہ نے دونوں مموں کے گرد صرف رسیوں کے ایک فریم کی صورت میں پہنی ہوئی تھی جبکہ صائمہ کے دونوں ممے رسیوں کے اس بریزئر نما فریم میں سے بالکل ننگی حالت میں باہر جھانک رہے تھے۔
نوکر کو اپنے ننگے ممے دکھاتے ہوئے صائمہ نے مسکرا کر نوکر کا چہرہ کھینچ کر اپنی نہ ہونے کے برابر سیکسی بریزئر میں سے جھانکتے ہوئے ننگے مموں میں گھسا لیا ۔ نوکر بھی صائمہ کے دونوں ممے رسیوں نما بریزئر میں سے پکڑ کر چومنے لگا ۔اس دوران صائمہ نے کن اکھیوں سے ہمسایوں کے نوکر کو دیکھا تو وہ اپنا موبائل فون نکال کر صائمہ کی ننگی تصویریں کھینچ رہا تھا ۔ صائمہ کو سرعام سڑک پر نوکر کے ساتھ ننگی ہونے میں ایک نئی خوشی محسوس ہو رہی تھی تو صائمہ نے ایک قدم اور بڑھ کر مسکراتے ہوئے اپنی رسی نما بریزئر کا ہک کھولا اور اسے اتار کر گھما کر ہمسایوں کے نوکر کی طرف پھینک دیا۔
اب صائمہ اپنی سہیلی کے گھر کے باہر سڑک پر اپنی سہیلی کے نوکر کے ساتھ سرعام بالکل ننگی حالت میں نوکر کے گلے میں اپنی بانہیں ڈالے اسے چومنے میں مصروف تھی جبکہ ہمسایوں کا نوکر اپنے موبائل فون سے صائمہ کی ننگی ویڈیو بنا رہا تھا ۔
اسی دوران ایک قریبی گھر سے ایک ڈرائیور باہر نکل کر سگریٹ پینے لگا تو اس کی نظر صائمہ اور نوکر کے درمیان سڑک پر جاری ننگے پیار کے سلسلے پر پڑی، تو وہ بھی حیران ہو کر انہیں دیکھنے لگا اور اس نے اپنے موبائل سے آس پاس کے گھروں کے نوکروں اور ڈرائیوروں کو کال کرکے باہر بلا لیا ۔ ویسے بھی شہر کے اس اپر کلاس پوش رہائشی علاقے میں دن کے اس حصے میں اکثر لوگ اپنے دفتروں اور کاروبار کے لیے جا چکے تھے جبکہ بیگمات ابھی تک نیند کے مزے لوٹ رہیں تھیں لہذا اکثر ڈرائیور اور نوکر صبح کے کام کاج سے فارغ ہو چکے تھے۔
جلد ہی آس پاس کے گھروں کے نوکروں اور ڈرائیور کا ایک مجمع سڑک پر صائمہ اور نوکر کے درمیان جاری ننگے پیار کا نظارہ کر رہا تھا جس میں اگرچہ نوکر نے ابھی تک اپنے تمام کپڑے پہنے ہوئے تھے لیکن صائمہ لباس کی قید سے مکمل طور پر آزاد تھی اور بالکل ننگی ہو کر سڑک پر ہی اپنی سہیلی کے نوکر سے والہانہ پیار کررہی تھی۔
جلد ہی صائمہ نے بھی محسوس کرلیا کہ نوکروں اور ڈرائیوروں کا ایک مجمع سڑک پر اسکے ننگے پیار کا نظارہ کر رہا ہے تو صائمہ مسکرا کر نوکر کے کان میں بولی ” جانو! آج تو تمہارے دوستوں کو براہ راست ہمارے پیار کا نظارہ دیکھنے کو مل گیا ہے ۔ کیوں نہ اندر چل کر انہیں اپنے پیار کے کچھ اور سین دکھائیں؟ ” ۔ یہ سن کر نوکر نے صائمہ کو بالکل ننگی حالت میں اپنی بانہوں میں اٹھا لیا اور گیٹ کے اندر لے جاکر گھر کے ڈرائنگ روم میں لے گیا اور بولا ” رانی! ہمارے پیار کی ابتدا اس جگہ سے ہوئی تھی اور آج بھی ہم یہاں ہی اپنے ننگے پیار کو آگے بڑھائیں گے ” ۔
یہ سن کر صائمہ مسکرا کر بالکل ننگی حالت میں ہی نوکر کے گلے لگ گئی اور جلدی جلدی نوکر کے کپڑے اتارنے لگی۔ جلد ہی اس نے نوکر کے سارے کپڑے اتار کر نوکر کو بھی بالکل ننگا کرلیا۔
اسی دوران آس پاس کے نوکر اور ڈرائیور سڑک سے صائمہ کے کپڑے اور بریزئر اٹھا کر گھر کے اندر آگئے اور پھر ڈرائنگ روم میں داخل ہو گئے تو نوکر مسکرا کر بولا ” یارو! آج میری ننگی رانی، تم لوگوں کو اپنا ننگا ڈانس دکھائے گی ” ۔ یہ سن کر سب لوگوں نے نعرہ لگایا ننگی رانی! اور ایک ڈرائیور نے اپنے موبائل پر نصیبو لال کا پنجابی گانا ” دودھ چو کے پیاواں گی ” لگا دیا تو صائمہ مسکراتے ہوئے نوکروں اور ڈرائیوروں کے درمیان میں بالکل ننگی ہو کر ننگا ڈانس کرنے لگی اور وہ لوگ صائمہ کے ننگے ڈانس کی ویڈیوز بنانے لگے۔
اسی دوران کئی نوکر اور ڈرائیور اپنے کپڑے اتار کر بالکل ننگے ہو گئے اور صائمہ کو اپنے ننگے لن دکھانے لگے۔ صائمہ نے بھی مسکراتے ہوئے کئی ڈرائیوروں اور نوکروں کے ننگے لن پکڑ پکڑ کر چومنے شروع کردیئے ۔ کچھ دیر یہ سلسلہ جاری رہا اور پھر دو تین نوکروں نے صائمہ کو کمرے کے درمیان میں گھوڑی بنا کر صائمہ کی پھدی اور منہ میں اپنے ننگے لن گھسا دیئے۔
اب صائمہ بیک وقت کئی نوکروں اور ڈرائیوروں کے ساتھ سیکس کے مزے لوٹ رہی تھی اور اس کے منہ سے سیکسی آوازیں نکل رہی تھیں ” آہ میرے جانو! اور زور سے کرو! آج مجھے بہت اچھا لگ رہا ہے۔ آہ! جانو کب سے غیر مردوں کے سامنے ننگی ہونے کا سوچ سوچ کر تنہائی میں گیلی ہو جاتی تھی! آج موقع ملا ہے۔ آج تم لوگوں کے سامنے ننگی ہوکر میرا خواب پورا ہو گیا ہے۔ آہ! جانو آج مجھے اپنی ننگی رانی بنا لو! ” ۔ اس دوران کئی نوکروں نے اپنی منی صائمہ کے منہ میں نکال دی جو صائمہ نے مسکراتے ہوئے پی لی جبکہ کئی نوکروں نے اپنی منی صائمہ کی گلابی پھدی میں بھر دی۔
ڈرائیوروں کے ایک گروپ نے نوکر سے تیل لیکر صائمہ کی ass میں لگایا اور صائمہ کے ہپس میں اپنے ننگے لن ڈال کر صائمہ کے ساتھ بھرپور anal sex کے مزے لئے ۔ صائمہ نے بھی بالکل بے شرم ہو کر انکے ساتھ جوش و خروش سے سیکس کے مزے لئے ۔
جب وہ سب دو دو تین تین بار صائمہ کے اوپر اپنی منی نکال چکے اور تھک کر قالین پر لیٹ گئے تو صائمہ بھی بالکل ننگی حالت میں ہی انکی بانہوں میں لیٹ کر اپنی سانسیں بحال کرنے لگی۔ دوپہر ہو چکی تھی اور ابھی سب آرام ہی کررہے تھے کہ ایک ڈرائیور بولا رانی! آج تو کمال ہی کردیا تو نے! اور صائمہ اس کی بات سن کر اس سے لپٹ کر اپنا منہ اسکے منہ سے لگا کر اس ڈرائیور کو کسنگ کرنے لگی تو ایک دوسرا نوکر بولا رانی! اگر تو روزانہ یہاں آ جائے تو ہم روز تجھے اپنی ننگی رانی بنا کر پیار کریں گے۔ یہ سن کر صائمہ نے اٹھ کر اپنی ننگی پھدی اس نوکر کے منہ سے لگا دی اور مسکرا کر بولی جانو! ابھی تو تم آج کے مزے لوٹ لو بعد کی پھر دیکھیں گے۔
اسی طرح صائمہ بالکل ننگی ہو کر شام تک اپنی سہیلی کے خالی گھر میں اس کے نوکر کے دوستوں کے ساتھ بھرپور سیکس کرتی رہی۔ ان لوگوں نے صائمہ کو اپنی منی پلائی اور صائمہ کی پھدی اور ہپس کو خوب چودا یہاں تک کہ صائمہ کی پھدی اور ہپس سوج کر لال ہو گئے۔ شام کو صائمہ بالکل ننگی حالت میں ان نوکروں کے درمیان لیٹی ہوئی تھی کہ صائمہ کا موبائل بجنے لگا۔ صائمہ نے لیٹے لیٹے ہی کال ریسیو کی تو اس کا شوہر بول رہا تھا ” کیا ارادہ ہے بھئی؟ گھر واپس آنا ہے یا آج صرف دوستوں کو ہی وقت دینا ہے سوئیٹ ہارٹ؟ ” ۔ تو صائمہ مسکرا کر ایک قریبی نوکر کا ننگا لن پکڑ کر بولی ” دوست کے ساتھ وقت تو بہت اچھا گزرا ہے لیکن فکر نہ کریں! ایک گھنٹے تک آجاؤں گی ” ۔
تو صائمہ کا شوہر بولا ” کبھی کبھی سہیلیوں کو بھی وقت دینا اچھا لگتا ہے۔ اگر موڈ ہے تو آج رات وہاں ہی ٹھہر جاؤ ، آخر تمہیں بھی تو اپنی سہیلی کے ساتھ زندگی انجوائے کرنے کا حق ہے ” ۔ یہ سن کر صائمہ نے مسکرا کر اپنے موبائل کا سپیکر آن کردیا تاکہ سارے نوکر بھی سن سکیں۔ تو صائمہ مسکراتے ہوئے بولی ” پکی بات ہے آج رات یہاں ہی رک جاؤں؟ آپ مائنڈ تو نہیں کریں گے؟ ” ۔ تو صائمہ کا شوہر بولا ” سوئیٹ ہارٹ، اس میں مائنڈ کرنے والی کیا بات ہے؟ اگر تم اپنی دوست کے گھر ایک رات گزارنا چاہتی ہو اور اس سے تمہیں خوشی ہوگی تو مجھے کیا اعتراض ہو سکتا ہے ” ۔
شوہر کا جواب سن کر صائمہ خوشی سے کھل اٹھی اور اسے فون پر kiss دے کر بولی ” آپ بہت اچھے شوہر ہیں، تھینک یو ۔اچھا تو پھر کل آتی ہوں، اگر کوئی چیز پوچھنی ہو تو کال کر لیجئے گا ، میں رات کو جاگ ہی رہی ہوں گی ” ۔ شوہر نے آئی لو یو کہہ کر کال بند کردی ۔ کال کٹتے ہی سارے نوکروں نے مل کر صائمہ کو بالکل ننگی حالت میں ہی اپنی بانہوں میں اٹھا لیا اور خوشی میں صائمہ کو مل کر اپنے بازؤں سے اچھالنے لگے۔ صائمہ بھی خوشی سے بالکل ننگی ہو کر نوکروں کے ہاتھوں اچھالنے کو انجوائے کرنے لگی
صائمہ اپنی سہیلی کے گھر میں سہیلی کے نوکر اور آس پاس کے گھروں کے نوکروں اور ڈرائیورز کے ساتھ بالکل ننگی حالت میں تھی۔ شام کے دھندلکے چھا چکے تھے اور سارا دن نوکروں کے ساتھ بالکل ننگی ہوکر ننگا پیار کرنے کے باوجود صائمہ کی سیکس کی پیاس برقرار تھی اور صائمہ ان نوکروں کے ساتھ پوری رات بالکل ننگی ہو کر بھرپور ننگا سیکس کرنے کا سوچ کر ایک نئی خوشی محسوس کررہی تھی۔
کچھ ہی دیر پہلے صائمہ کے شوہر نے فون پر صائمہ سے بات کرکے خیریت معلوم کی تھی کیونکہ شام تک گھر سے باہر رہنا صائمہ کا معمول نہیں تھا۔ اسی دوران صائمہ کے شوہر نے صائمہ کو اپنی سہیلی کے پاس خوش محسوس کرتے ہوئے اسے رات اپنی سہیلی کے گھر گزارنے کی اجازت دی تھی جبکہ وہ اس بات سے بالکل بےخبر تھا کہ جب وہ اپنی خوبصورت بیوی سے فون پر بات کررہا تھا تو اسکی پیاری بیوی اپنی سہیلی کی بجائے آٹھ دس انجان نوکروں کے درمیان بالکل ننگی حالت میں موجود تھی اور وہ اس گھر میں اپنی سہیلی اور اسکے گھروالوں کی غیر موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے انکے نوکر اور آس پاس کے نوکروں کے ساتھ دن بھر بالکل ننگی ہوکر ننگا سیکس کرتی رہی تھی۔
جونہی صائمہ کے شوہر نے اسے رات اپنی سہیلی کے گھر گزارنے کی اجازت دی تو صائمہ پوری رات نوکروں کے ساتھ ننگی رہنے کا سوچ کر کھل اٹھی اور نوکر بھی صائمہ کو بالکل ننگی حالت میں اٹھا کر مل کر زور زور سے اوپر اچھالنے لگے۔ اسی دوران ایک ڈرائیور بولا یارو ! آج یہ عورت پوری رات کیلئے ہماری ننگی رانی ہے، تو کیوں نہ اسے کہیں باہر لے جاکر اسکے ساتھ ننگا پیار کریں ؟
یہ آئیڈیا صائمہ سمیت سب کو بہت پسند آیا اور سب لوگ صائمہ کو باہر لے جانے کو تیار ہوگئے۔ کیونکہ ابھی رات شروع ہوئی تھی اس لئے فیصلہ یہ ہوا کہ ابھی رات کا کھانا کھایا جائے اور رات گہری ہونے پر دو عدد ڈرائیورز خاموشی سے اپنی گاڑیاں لے آئیں تاکہ سب لوگ صائمہ کے ساتھ باہر جاسکیں۔ یہ فیصلہ سن کر صائمہ مسکراتی ہوئی اٹھی اور اسی طرح بالکل ننگی حالت میں کچن میں کھانا بنانے چلی گئی۔
صائمہ کی مدد کیلئے دو نوکر بھی کچن میں چلے گئے تاکہ کھانا جلدی تیار ہوجائے۔ کھانا بنانے کے دوران دونوں نوکر صائمہ کے ننگے مموں اور ننگے ہپس سے کھیلتے رہے۔ ویسے بھی ان کے لئے یہ سب ایک خوبصورت خواب سے کم نہیں تھا کہ صائمہ جیسی پڑھی لکھی ، کھاتے پیتے خاندان کی خوبصورت شادی شدہ عورت انکے ساتھ بالکل ننگی ہو کر کچن میں کھانا پکا رہی تھی۔ اس دوران کوئی لمحہ ایسا نہیں گزرا جب دونوں نوکروں میں سے کسی ایک نے صائمہ کے پیچھے کھڑے ہو کر صائمہ کے ننگے ممے نہ پکڑے ہوں۔ بلکہ دونوں نوکروں نے صائمہ کے ننگے ممے دبا دبا کر لال کر دئیے اور صائمہ بھی مسکرا کر کھانا پکاتے ہوئے درمیان میں اپنے ننگے نپلز نوکروں کے منہ سے لگا لگا کر انہیں ترساتی رہی۔
آخر ان دونوں نوکروں میں سے ایک صائمہ کے ہپس کھول کر چاٹنے لگا اور دوسرا صائمہ کی ننگی پھدی کھول کر اپنی زبان اندر ڈال کر زور زور سے چاٹنے لگا تو صائمہ کے منہ سے سسکاریاں نکلنے لگیں اور وہ اپنی آنکھیں بند کر کے آہیں بھرنے لگی۔ ابھی یہ سلسلہ چل رہا تھا کہ صائمہ کا موبائل بجنے لگا۔ صائمہ نے دیکھا تو اس کے شوہر کی کال تھی، مجبوراً صائمہ نے کال ریسیو کرلی البتہ دونوں نوکر صائمہ کی پھدی اور ہپس چاٹتے رہے۔ ہیلو سوئٹ ہارٹ ! مجھے میری نیند کی میڈیسن نہیں مل رہی ، صائمہ کا شوہر اپنی بیوی کی حالت سے بےخبر، چہک کر بولا۔ صائمہ اپنے کلائمکس کے قریب تھی اس لئے بڑی مشکل سے اپنی آواز ضبط کرکے بولی الماری کی چھوٹی والی دراز میں رکھی ہے ڈارلنگ !
اسی دوران ایک نوکر نے اپنی زبان صائمہ کے ہپس میں گھسانے کی کوشش کی تو صائمہ کے منہ سے بےساختہ نکلا “آہ ! جانو آرام سے پلیز ! “۔ یہ سن کر صائمہ کا شوہر حیران ہوکر بولا “کیا ہوا سوئٹ ہارٹ ؟”۔ تو صائمہ گھبرا کر بولی “ کچھ نہیں ڈارلنگ ! میں تو تمہیں کہہ رہی تھی کہ ذرا آرام سے دیکھو گے تو میڈیسن مل جائے گی”۔ تو اس کا شوہر بولا “وہ تو ٹھیک ہے لیکن ابھی ابھی تم نے مجھے *جانو* کہا حالانکہ تم مجھے کبھی بھی جانو نہیں کہتی؟ کیا ایک رات اپنی سہیلی کے پاس رہ کر اتنی بدل گئی ہو؟” تو صائمہ سنبھل کر بولی “نہیں نہیں ڈارلنگ ! ایسی کوئی بات نہیں ! تم اب بھی میرے ڈارلنگ ہو”۔ ساتھ ہی ساتھ اپنے دل میں اپنے شوہر کے بارے میں سوچنے لگی “ انہیں کیا پتہ ! ڈارلنگ اور جانو میں کتنا فرق ہے ! جو پیار جانو میں ہے وہ ڈارلنگ میں کہاں؟ اور جو مزہ ان نوکروں کے ساتھ ننگی ہونے میں ہے، وہ شوہر کے ساتھ معمول کے سیکس میں کہاں؟”۔
دوسری طرف سے صائمہ کے شوہر کی آواز سنائی دی “ اوکے سوئٹ ہارٹ ! میڈیسن مل گئی ہے تھینک یو ! “۔ صائمہ نے اطمینان کا سانس لیا اور اوکے بائے کہتے ہوئے کال بند کردی۔ دونوں نوکر جو صائمہ کو گبھراتے دیکھ کر رک گئے تھے، پریشان ہو کر بولے کیا ہوا رانی ؟ تیرے شوہر کو شک تو نہیں ہوگیا؟ تو صائمہ مسکرا کر بولی “تم لوگوں کی شرارتوں نے تو مروا ہی دیا تھا، وہ تو میرے شوہر کو مجھ پر بہت بھروسہ ہے اس لئے بچت ہو گئی ورنہ بڑی مشکل ہو جاتی”۔
یہ سنکر دونوں نوکروں نے سکون کا سانس لیا اور مزید وقت ضائع کیے بغیر صائمہ کو کچن کے ریک کے سہارے جھکا دیا۔ ایک نوکر نے صائمہ کے ننگے ہپس میں ہلکا سا تیل لگا کر اپنا تنا ہوا لن صائمہ کے ہپس میں ڈال دیا جبکہ دوسرے نوکر نے اپنا لن صائمہ کے منہ میں ڈال دیا۔ صائمہ بھی مسکرا کر کچن میں ان دونوں نوکروں کے ساتھ بیک وقت Anal sex اور Oral sex کے مزے لینے لگی۔
کچن سے صائمہ کی آہوں کی آوازیں سنکر باقی نوکر بھی وہاں آگئے اور صائمہ کو دونوں نوکروں کے ساتھ سیکس کرتے دیکھ کر ظاہری ناراضگی دکھانے لگے۔ صائمہ کی سہیلی کا نوکر بولا “رانی ! ہم نے تجھے کھانا بنانے بھیجا تھا اور تو ان دونوں کمینوں کو مزے دے رہی ہے؟ “۔ یہ سنکر باقی نوکر بھی اس کی ہاں میں ہاں ملانے لگے اور بولے “بس رانی ! بہت ہو گیا ! اب تو ہمارے لئے ڈرائنگ روم میں ننگا ڈانس کرے گی اور یہ دونوں کمینے یہاں کھانا بنائیں گے”۔
صائمہ مسکرا کر بالکل ننگی حالت میں نوکروں کے ساتھ ڈرائنگ روم میں آگئی اور کمرے کے درمیان میں ننگا ڈانس کرنے لگی۔ نوکر صائمہ کے ننگے ٹھمکے دیکھ دیکھ کر عش عش کر اٹھے۔ صائمہ بھی مسکرا مسکرا کر اپنے ننگے ہپس نوکروں کے سامنے ہلا ہلا کر ننگے ٹھمکے لگاتی رہی اور جھک جھک کر اپنے ننگے ممے نوکروں کے چہروں سے ٹکراتی رہی ! ۔
ابھی یہ سلسلہ چل رہا تھا کہ کچن سے دونوں نوکر کھانا لے آئے۔ لہذا صائمہ کا ننگا ڈانس روک کر سب نے کھانا کھایا البتہ صائمہ کی سہیلی کے نوکر کی فرمائش پر صائمہ نے اپنی پلیٹ میں تمام نوکروں کے سپرمز نکال کر نوکر کے لئے اپنا پیار ثابت کرنے کے لئے اپنی روٹی نوکروں کے سپرمز کے ساتھ لگا کر کھائی اور مسکرا کر بولی “ جانو ! آج میں تمہاری وجہ سے یہ سب انجوائے کررہی ہوں اس لئے تم کہو تو میں تمہارا ننگا لن اپنے گلاس میں دھو کر اس پانی کو بھی پی سکتی ہوں”۔
یہ سنکر صائمہ کی سہیلی کے نوکر نے اٹھ کر مسکراتے ہوئے اپنا ننگا لن صائمہ کے پانی کے گلاس میں ڈبو دیا تو صائمہ نے بھی مسکراتے ہوئے اس کا لن اپنی نازک انگلیوں سے گلاس کے اندر ہی رگڑ رگڑ کر صاف کیا اور پھر سب کے سامنے وہی گلاس اٹھا کر سارا پانی پی لیا اور مسکرا کر بولی “جانو ! تمہارے پیار میں یہ سب کچھ معمولی باتیں ہیں ، اگر تم کہو تو میں تمہارے پیار میں آج رات پورے شہر میں بالکل ننگی گھوم سکتی ہوں”۔ تو صائمہ کی سہیلی کا نوکر بولا “ٹھیک ہے رانی ! آج رات تو ہمارے لئے شہر کی سڑکوں پر ننگا ڈانس کرے گی”۔
نوکر کی بات سنکر صائمہ نے اٹھ کر اپنا منہ نوکر کے منہ سے لگا دیا اور اسے kiss کر کے مسکراتے ہوئے اپنا بایاں ممہ نوکر کی طرف کر کے بولی “ جانو ! تم میرے دل میں رہتے ہو ، تمہارے لئے میں اپنا سب کچھ چھوڑ سکتی ہوں”۔ نوکر نے آگے بڑھ کر صائمہ کا ننگا ممہ منہ میں لے لیا اور زور زور سے چوسنے لگا تو صائمہ بھی اپنی آنکھیں بند کر کے اپنی سہیلی کے نوکر سے اپنے ننگے ممے چوسوانے لگی اور آہیں بھرنے لگی۔
یہ دیکھ کر ایک ڈرائیور نے صائمہ کے پیچھے سے اپنا آٹھ انچ لمبا لن صائمہ کی پھدی میں ڈال دیا اور صائمہ کو چودنے لگا۔ اب صائمہ اپنی سہیلی کے نوکر کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اپنے خوبصورت ننگے ممے نوکر سے چوسوا رہی تھی اور دوسری طرف ڈرائیور صائمہ کے پیچھے سے اس کی پھدی میں لن ڈال کر صائمہ کو چود رہا تھا۔ جلد ہی ڈرائیور اور صائمہ کا کلائمکس ہوگیا اور صائمہ اپنے محبوب نوکر کی بانہوں میں سما گئی۔
اب رات گہری ہو چلی تھی اور آس پاس کے اکثر گھروں کی روشنیاں گل ہو چکی تھیں۔ نوکروں کا پورا گروپ اب کھانے سے فارغ ہو چکا تھا اور چند ایک نوکر جو اپنا کام مکمل کرنے کے لئے آس پاس اپنے مالکوں کے گھروں میں گئے تھے، کام ختم کر کے واپس آ چکے تھے۔ تو سب نے فیصلہ کیا کہ اب صحیح وقت ہے صائمہ کو ننگی حالت میں باہر لے جاکر شہر میں گھمانے کا۔اگرچہ تمام نوکروں اور ڈرائیوروں نے اپنے کپڑے پہن لئے تھے تاہم اس بات کا فیصلہ نہیں ہو سکا تھا کہ صائمہ کو کپڑے پہنا کر لے جایا جائے یا پھر اسی طرح بالکل ننگا ہی رہنے دیں !
یہ مشکل صائمہ کے محبوب نوکر نے حل کردی جب اس نے کہا “کیوں نہ ہم صائمہ کو صرف بریزئر اور پینٹی پہنا کر لے جائیں ؟ یہ سنُکر سب خوش ہوگئے اور صائمہ سے اس کی رائے پوچھی ؟ تو صائمہ شرما کر اپنی سہیلی کے نوکر کے گلے میں بانہیں ڈال کر مسکراتے ہوئے بولی “ جیسے جانو چاہے ، مجھے کوئی اعتراض نہیں”۔ یہ سنتے ہی نوکروں نے نعرہ لگایا ننگی رانی ! ۔
تبھی صائمہ کی سہیلی کے نوکر نے اپنی مالکن کی الماری سے ایک پینٹی نکال کر صائمہ کو دی (کیونکہ صائمہ صبح نوکر کو سرپرائز دینے کے لئے بغیر پینٹی پہنے صرف شلوار پہن کر آئی تھی) ساتھ ہی صائمہ کی باریک ڈوریوں پرمشتمل فریم نما بریزئر بھی دی جس کا پہننا یا نہ پہننا برابر تھا کیونکہ وہ بریزئر کم اور فریم زیادہ تھی ۔ اس میں کوئی کپڑا استعمال نہیں ہوا تھا بلکہ دونوں مموں کو ایڈجیسٹ کرنے کیلئے باریک پٹیوں کے بنے ہوئے دو عدد دائرے تھے جن میں سے صائمہ کے دونوں ممے مکمل طور پر باہر جھانکتے رہتے تھے۔ اس کا فائدہ صرف اتنا تھا کہ صائمہ کے بھاری مموں کو کھینچ کر ذرا ٹائٹ کر دیتی تھی اور صائمہ اسے پہن کر زیادہ سیکسی لگتی تھی۔
سب تیاری کرنے کے بعد تمام نوکر اور ڈرائیور پہلے سے لائی گئی دو کاروں میں بیٹھ گئے۔ صائمہ صرف بریزئر اور پینٹی پہنے اپنی سہیلی کے نوکر کی گود میں بیٹھ گئی اور دونوں گاڑیاں شہر کی طرف روانہ ہو گئیں۔ سب سے پہلے انہوں نے صائمہ کو اسی حالت میں شہر کی مین سڑک پر اتارا اور کہا کہ جو بھی ایک دو گاڑیاں سڑک پر آئیں ، ان سے قریبی مارکیٹ کا راستہ پوچھنے کے بہانے انہیں اپنے بریزئر میں سے جھانکتے مموں سے کھیلنے کا موقع دے۔
اگرچہ شروع میں صائمہ کو گزرتی ہوئی کاروں کو روکنے میں کچھ شرم محسوس ہوئی لیکن جب پہلے کار سوار آدمی نے بڑے آرام سے اسے راستہ بتایا اور اس کے بریزئر میں سے لٹکتے ہوئے ننگے مموں کو اپنے ہاتھوں سے پکڑ کر پیار سے دبایا اور جاتے جاتے اپنے موبائل فون سے صائمہ کے ننگے مموں کی ایک تصویر بھی بنائی تو صائمہ کو بھی یہ انوکھا تجربہ بہت اچھا لگا۔
اگلی گاڑی ایک سوزوکی وین تھی جسے ایک لمبی داڑھی والا مولوی ٹائپ شخص چلا رہا تھا۔ اس نے بھی بغیر شور کئے آرام سے صائمہ کو پورا راستہ سمجھایا اور اس دوران صائمہ کے دونوں مموں کو پکڑ کر صائمہ کے ننگے نپلز چوسنے لگا۔ صائمہ بھی اسکی گاڑی کے پاس جھکی رہی اور اسے آرام سے اپنے ننگے ممے چوسنے دئیے لیکن جب اس شخص نے صائمہ کو اپنی وین میں بیٹھنے کی پیشکش کی تو صائمہ نہیں تھینک یو کہہ کر پیچھے ہٹ گئی۔ اس پر اس مولوی نما آدمی نے جاتے جاتے صائمہ کی پینٹی نیچے کروا کر صائمہ کی ننگی پھدی کی تصویر کھینچ لی۔
اس دوران نوکروں کا گروپ کچھ فاصلے سے سب کاروائی دیکھتا رہا اور اکثر نوکروں نے تو مٹھ مار کر اپنی منی بھی نکال دی۔ یہاں سے نکل کر وہ لوگ صائمہ کو ایک مارکیٹ میں لے گئے جہاں صرف ایک پان سگریٹ کی دکان کھلی تھی اور چند نوجوان لڑکے وہاں کھڑے سگریٹ پی رہے تھے۔ نوکروں کی ہدایت کے مطابق یہاں بھی صائمہ نے دکان سے کوک کی ایک بوتل خریدی اور اسی طرح ان لڑکوں سے قریبی پیٹرول پمپ کا راستہ پوچھا۔ لڑکوں نے راستہ بتانے کے دوران صائمہ کی پینٹی نیچے کرکے صائمہ کی ننگی پھدی دیکھی اور اندر انگلیاں ڈال کر صائمہ سے ہلکی پھلکی چھیڑ چھاڑ بھی کی۔
صائمہ یہ سب مسکرا کر کرواتی رہی اور ایک لڑکے کو تو اپنے ننگے ممے چومنے کا بھی موقع دیا۔ جب لڑکوں نے اسے رنڈی سمجھ کر ساتھ چلنے کو کہا تو صائمہ نے مسکرا کر انگریزی میں انہیں بتایا کہ I am married and I am doing it just to enjoy myself. لڑکے بھی کاروں میں موجود ڈرائیوروں اور نوکروں کا گروپ دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔
وہاں سے روانہ ہو کر صائمہ نے نوکروں سے ان کی اگلی فرمائش پوچھی تو ان کا جواب سن کر ایک لمحے کے لئے تو صائمہ خود بھی گھبرا گئی کیونکہ فرمائش صائمہ کے محبوب نوکر نے کی تھی اور تھی بھی انتہائی خطرناک۔ دراصل نوکر نے فرمائش کی تھی کہ صائمہ اپنی بریزئر اور پینٹی اتار کر بالکل ننگی ہو کر ان سب کو اپنے گھر لے کر جائے اور اپنے گھر کے لان میں ان کے ساتھ بالکل ننگی ہو کر سیکس کرے !
پلان انتہائی خطرناک تھا اور اگر یہ فرمائش صائمہ کے فیورٹ نوکر نے نہ کی ہوتی تو صائمہ صاف انکار کر دیتی مگر نوکر نے اپنی فرمائش کو صائمہ کے پیار کا امتحان قرار دیا تو صائمہ اس پر بھی راضی ہو گئی۔ لہذا دونوں کاریں صائمہ کی گائیڈنس میں اس کے گھر کی سٹریٹ میں پہنچ گئیں۔ آس پاس کا جائزہ لینے کے بعد صائمہ اور اس کا محبوب نوکر کار سے اتر کر صائمہ کے گھر کا گیٹ کھول کر گھر کے لان میں پہنچ گئے۔ صائمہ لباس کی قید سے آزاد تھی جبکہ نوکر نے پورے کپڑے پہن رکھے تھے ۔ لان کے درمیان میں پہنچ کر صائمہ مسکراتے ہوئے لان میں موجود ایک کرسی پر جھک گئی اور اپنی ننگی پھدی اور ننگے ہپس نوکر کی طرف کرکے مسکرانے لگی۔
نوکر صائمہ کا سیکسی انداز دیکھ کر جوش میں آگیا اور جھک کر پیچھے سے صائمہ کی گلابی پھدی چاٹنے لگا۔ صائمہ بھی اپنی آنکھیں بند کر کے آہیں بھرنے لگی۔ جلد ہی صائمہ کا کلائمکس ہوگیا تو نوکر نے اپنا لن نکال کر صائمہ کی گیلی پھدی میں ڈال دیا۔ صائمہ بھی جوش وخروش سے نوکر کا لن اپنی پھدی میں لیکر اپنے ہی گھر کے لان میں زوروں سے چووانے لگی جبکہ باقی تمام نوکر اور ڈرائیور صائمہ کے گرد دائرہ بنا کر کھڑے ہو گئے اور اپنے لن نکال کر اپنی اپنی مٹھ مارنے لگے۔
ایک ڈرائیور نے آگے بڑھ کر اپنا لن صائمہ کے خوبصورت ہونٹوں سے لگا دیا تو صائمہ اس کا پورا لن اپنے منہ میں لیکر چوسنے لگی۔ اسی دوران نوکر نے صائمہ کی پھدی میں اپنے سپرمز نکال دئیے تو پاس کھڑے دوسرے نوکر نے اپنا لن صائمہ کی پھدی میں ڈال دیا۔ اس طرح باری باری سارے نوکروں اور ڈرائیورز نے صائمہ کے ساتھ اس کے اپنے گھر کے لان میں ننگا سیکس کیا اور صائمہ کے ساتھ ننگی تصویریں بنوائیں۔
آخر جب صبح کے آثار نظر آنے لگے تو صائمہ گھبرا کر بولی جانو ! اب بہت ہو گیا ! اب اگر کوئی جاگ گیا تو بہت مشکل ہو جائے گی، ویسے بھی میں ابھی تمہارے پیار کو کھونا نہیں چاہتی ! اس لئے بہتر ہے کہ اب ہم واپس چلیں ! ۔ صائمہ کی بات سن کر اس کے محبوب نوکر نے ایک آخری فرمائش کردی ۔ وہ بولا ٹھیک ہے رانی لیکن پہلے تو اپنے کمرے کی کھڑکی کے سامنے میرے ساتھ بالکل ننگی ہوکر ایک تصویر کھینچوائے گی پھر ہم سب واپس چلیں گے۔
یہ سن کر صائمہ بہت گھبرائی اور بولی جانو بہت مشکل فرمائش ہے تمہاری ! ہو سکتا ہے کھڑکی کا پردہ کھلا ہو ؟ اور ہو سکتا ہے اندر سے میرا شوہر مجھے تمہارے ساتھ بالکل ننگا دیکھ لے ؟ مگر نوکر نہ مانا۔ آخر صائمہ کو ہی ہار ماننی پڑی اور وہ نوکر کو لیکر اپنے کمرے کی کھڑکی کے پاس پہنچ گئی۔ انہوں نے دیکھا کہ کھڑکی کا پردہ ہٹا ہوا تھا اور کمرے میں لیمپ کی مدھم روشنی میں بیڈ پر صائمہ کا شوہر سو رہا تھا۔ وہ اس حقیقت سے بےخبر تھا کہ اس کی بیوی اپنی سہیلی کے نوکر کے ساتھ کھڑکی کے باہر بالکل ننگی کھڑی اسے دیکھ رہی ہے ۔
نوکر نے مسکرا کر صائمہ کا ایک ننگا ممہ پکڑ کر دبایا اور پوچھا رانی ! کیسا لگ رہا ہے ؟ نوکر کا ہاتھ اپنے ننگے ممے پر محسوس کرتے ہی صائمہ کے ننگے جسم میں نوکر کے پیار کا کرنٹ دوڑنے لگا اور وہ نوکر کے منہ پر اپنا منہ رکھ کر اسے ایک بھرپور kiss کرکے بولی جانو ! اب بھی کیا کوئی کسر رہ گئی ہے کہ میں تمہارے لئے اپنا پیار ثابت کروں ؟ تو نوکر صائمہ کو اپنا موبائل پکڑا کر بولا رانی میں پیچھے سے تیرے ممے پکڑوں گا اور تو ہم دونوں کے پیار کی سیلفی لے گی ! تو صائمہ نے مسکرا کر نوکر کا موبائل لیا اور سیلفی لینے لگی تو نوکر نے صائمہ کے پیچھے سے ہاتھ ڈال کر صائمہ کے ننگے ممے پکڑ لئے ۔ اسی پوز میں صائمہ نے نوکر کے ساتھ اپنی ننگی سیلفیاں بنائیں اور موبائل نوکر کو دے کر بولی جانو پلیز اب واپس چلو !
صائمہ کی گھبراہٹ دیکھ کر نوکر مسکرایا اور اس نے صائمہ کے ننگے بریسٹز پکڑ کر کھڑکی کی طرف کر کے زور سے دبائے تو صائمہ کے ننگے نپلز سے دودھ کی دھاریں نکل کر کھڑکی کے شیشے پر قطروں کی صورت میں بہنے لگیں تو نوکر مسکرا کر صائمہ کی طرف دیکھ کر بولا رانی ! کل دن میں تیرے دودھ کی دھاروں کے یہ نشان تجھے ہمارے پیار کی یاد دلائیں گے۔ صائمہ نے نوکر کا ہاتھ پکڑا اور اسے زبردستی کھینچ کر گیٹ کی طرف چل پڑی ! اب دن کا اجالا پھیلنے لگا تھا اور اخبار والے کوٹھیوں میں اخبار پھینک رہے تھے۔
صائمہ اسی طرح بالکل ننگی ہی جلدی سے نوکروں کے ساتھ کار میں بیٹھی اور دونوں کاریں تیزی سے صائمہ کی سہیلی کے گھر کی طرف روانہ ہو گئیں !
صبح کی روشنی آہستہ آہستہ چاروں طرف پھیل رہی تھی۔ دونوں کاریں تیزی سے صائمہ کی سہیلی کے گھر کی طرف واپس جارہیں تھیں۔ رات بھر جاگنے کی وجہ سے صائمہ کے محبوب نوکر سمیت کئی نوکر اور ڈرائیورز اونگھ رہے تھے۔ البتہ ساری رات نوکروں اور ڈرائیورز کے ساتھ ننگا سیکس کرنے کے باوجود صائمہ کو تھکن محسوس نہیں ہو رہی تھی بلکہ وہ اپنے اندر ایک نئی تازگی اور سیکس کی چاہت محسوس کررہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے وہ ایک نئی نویلی دلہن ہے اور اپنے ہنی مون کو انجوائے کررہی ہے۔
نوکر کے پیار نے صائمہ کو ایک بہت ہی خوبصورت اور جوانی سے بھرپور احساس دیا تھا اور وہ یہ حقیقت بالکل بھول چکی تھی کہ وہ تین بچوں کی ماں ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شریف اور وفادار بیوی بھی ہے جسے اپنے شوہر سے محبت تھی اور جسے پچھلے دو دنوں کے واقعات سے پہلے کسی غیر مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا تھا۔ البتہ اس وقت وہ بالکل ننگی حالت میں انجان نوکروں اور ڈرائیوروں کے درمیان کار میں اپنی سہیلی کے نوکر کی گود میں بیٹھی اسی سہیلی کے گھر واپس جارہی تھی اور صائمہ کو اپنے گھر اور شوہر کی بجائے ان نوکروں کے ساتھ بالکل ننگی حالت میں گزرے ہوئے پیار کے لمحات یاد آرہے تھے۔
جونہی کاریں صائمہ کی سہیلی کے گھر پہنچیں ! تمام نوکر اور ڈرائیورز باری باری صائمہ کے ننگے مموں کو دبا کر اپنے اپنے مالکوں کے گھروں کی طرف چلے گئے اور دونوں کاروں والے ڈرائیورز بھی صائمہ اور اسکی سہیلی کے نوکر کو اتار کر اپنے گھروں کی طرف چلے گئے۔ نوکر اور صائمہ بھی گیٹ کا تالا کھول کر صائمہ کی سہیلی کے گھر میں آگئے ۔ صائمہ ابھی تک لباس کی قید سے بالکل آزاد تھی اور اسے اپنی سہیلی کے نوکر کے ساتھ بالکل ننگی رہنا ہی اچھا لگ رہا تھا۔
نوکر کچن میں جاکر چائے بنانے لگا تو صائمہ نے موقعے کا فائدہ اٹھایا اور باتھ روم میں گھس گئی۔ نیم گرم پانی کے شاور نے رات بھر جاری رہنے والے سیکس کے اثرات زائل کرکے صائمہ کو تازہ دم کردیا اور وہ اپنا بدن خشک کرکے اسی طرح ننگی ہی باہر آگئی۔
ناشتہ تیار تھا اور نوکر اپنی ننگی محبوبہ کا انتظار کررہا تھا۔ صائمہ مسکراتی ہوئی آئی اور نوکر کی گود میں بیٹھ کر اس کی گردن میں اپنی نازک بانہیں ڈال کر نوکر کی آنکھوں میں جھانک کر مسکراتے ہوئے بولی جانو ! تمہیں چھوڑ کے اپنے گھر واپس جانے کا خیال بھی بہت برا لگتا ہے۔ نوکر نے شرارت سے صائمہ کے ایک نپل پر چٹکی لی اور مسکرا کر بولا” تو یہاں ہی رک جا رانی ! تیرا شوہر تو تیرے بغیر بھی آرام سے سو رہا تھا لیکن میرا لن تیرے بغیر کیسے رہے گا ؟”۔
نوکر کی بات سن کر صائمہ کی آنکھوں میں پیار کا نشہ چھا گیا اور صائمہ اپنا منہ نوکر کے منہ لگا کر اسے بےتحاشہ کسنگ کرنے لگی۔ یہ سلسلہ کئی منٹ تک جاری رہا اور صائمہ اور نوکر ایک دوسرے کے منہ سے منہ لگا کر آپس میں زوردار کسنگ کرتے رہے۔ اسی دوران صائمہ نے ناشتے کا ایک لقمہ اٹھا کر اپنے منہ میں لے کر نوکر کے منہ میں دے دیا تو نوکر صائمہ کے منہ سے لقمہ لے کر کھانے لگا۔ یہ ایک نیا تجربہ تھا جو صائمہ کے ننگے بدن میں نوکر کے لئے پیار کا ایک نیا جذبہ۔ پیدا کررہا تھا۔
صائمہ نے مسکرا کر آنکھوں سے نوکر کو ناشتے کی پلیٹ کی طرف اشارہ کیا تو نوکر صائمہ کا مطلب سمجھ گیا۔ اس نے پلیٹ سے ایک لقمہ اٹھایا اور اپنے منہ میں ڈال کر اپنا منہ صائمہ کے منہ سے لگا دیا۔ صائمہ نے مسکراتی آنکھوں کے ساتھ نوکر کے منہ سے لقمہ اپنے منہ میں لیا اور مسکرا کر نگل گئی ۔ اسی طرح نوکر اور صائمہ محبت سے ایک دوسرے کو ناشتہ کروا کر فارغ ہوئے جبکہ نوکر اس دوران صائمہ کے ننگے مموں سے کھیلتا رہا۔
ناشتے سے فارغ ہو کر صائمہ نے بالکل ننگی حالت میں ہی نوکر کی گود میں بیٹھے بیٹھے اپنے شوہر کو فون کر کے یوں ظاہر کیا جیسے وہ ابھی ابھی نیند سے جاگی ہو جبکہ نوکر اس دوران صائمہ کے ننگے بدن سے کھیلتا رہا۔ شوہر نے بتایا کہ بچے تیار ہو کر سکول جا چکے ہیں اور وہ خود بھی ناشتہ کرکے دفتر کیلئے نکلنے ہی والا ہے۔ صائمہ نے ذرا سست سی آواز میں شوہر کو آئی لو یو کہا تو وہ بولا “لگتا ہے رات بھر گپ شپ چلتی رہی ہے اور نیند پوری نہیں ہوئی ہے”؟ تو صائمہ بھی اپنا ایک ننگا ممہ نوکر کے منہ سے لگا کر بولی “ ٹھیک کہا آپ نے ! رات بھر جاگتی رہی ہوں اور اب نیند آرہی ہے”۔
یہ سن کر صائمہ کا شوہر بولا ٹھیک ہے تم آرام کرلو پھر گھر آؤ گی تو شام کو ملتے ہیں۔ صائمہ نے شوہر کو فون پر kiss کیا اور کال بند کردی۔ اس دوران نوکر مسلسل صائمہ کے ننگے بدن سے کھیلتا رہا، کبھی صائمہ کے ممے چوسنے لگتا تو کبھی صائمہ کو کھڑا کرکے اس کی پھدی چومنے لگتا اور کبھی صائمہ کو موڑ کر اس کے ننگے ہپس کھول کر ان میں پیار کرنے لگتا۔ صائمہ بھی مسکرا کر چپ چاپ نوکر کی شرارتیں برداشت کرتی رہی اور فون بند کرتے ہی بھوکی شیرنی کی طرح نوکر پر جھپٹ پڑی ! ۔ اس نے نوکر کی شلوار کھول کر نوکر کا کھڑا ہوا لن باہر نکال لیا اور مسکراتے ہوئے اپنی زبان نوکر کے ننگے لن پر پھیرنے لگی۔
نوکر نے اپنا لن صائمہ کے خوبصورت ہونٹوں سے لگا دیا تو صائمہ اسے منہ میں لیکر جوش و خروش سے چوسنے لگی۔ نوکر بھی صائمہ کے گرم گرم پیار کا مزہ لینے لگا اور بے ساختہ بولنے لگا “ آہ ! میری رانی ! اور زور سے چوس ! اور زور سے ! آج میری ساری منی چوس لے رانی ! کب سے تیرے بارے میں سوچ سوچ کر مٹھ مارتا تھا ! میں نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ کبھی تو سچ مچ میرے سامنے ننگی ہوگی اور میری ننگی رانی بنے گی۔ چند ہی لمحوں میں نوکر نے صائمہ کے منہ میں اپنے سپرمز نکال دئیے اور صائمہ نے مسکراتے ہوئے نوکر کے سارے سپرمز پی لئے۔
اس بھرپور سیکس کے بعد صائمہ بالکل ننگی حالت میں ہی نوکر کے گلے لگ گئی اور اٹھلا کر بولی جانو ! اب میں تم سے دور نہیں رہ سکتی ! ۔ پلیز مجھ سے شادی کرلو ! ۔ نوکر صائمہ کے ننگے ممے پکڑ کر بولا رانی ! اب تو میری رانی ہے اور ہم دونوں کھل کر ایک دوسرے سے پیار تو کررہے ہیں ! ۔ تو صائمہ منہ پھلا کر بولی مجھے نہیں پتہ ! جب تک تم مجھے اپنی بیوی نہیں بناؤ گے مجھے سکون نہیں ملے گا۔ نوکر صائمہ کا مطالبہ سن کر بولا رانی ! تو پہلے ہی شادی شدہ ہے اور تین بچوں کی ماں ہے ! جبکہ میں تو ایک معمولی نوکر ہوں ، تو بھلا میری بیوی کیسے بن سکتی ہے؟
نوکر کی بات سن کر صائمہ ناراضگی سے بولی جانو ! تمہارے پیار میں کل رات بھر تمہارے دوستوں کے ساتھ پورے شہر میں ننگی ہوکر گھومتی رہی ہوں ، یہاں تک کہ اپنے گھر کے لان میں تمہارے ساتھ اور تمہارے دوستوں کے ساتھ بالکل ننگی ہوکر سیکس کرتی رہی ہوں ! اب اور اپنے پیار کا کیا ثبوت دوں ؟ تو نوکر صائمہ کے ننگے نپلز چوم کر بولا رانی ! میں بھی یہی کہہ رہا ہوں کہ تو میرے ساتھ اور میرے دوستوں کے ساتھ اسی طرح ننگی ہو کر پیار کرتی رہنا اور بس !
نوکر کی بات سن کر صائمہ بولی مجھے نہیں پتہ ! جب تک تم مجھ اے شادی نہیں کرو گے میں یہاں سے نہیں جاؤں گی ! اور یہ میرا آخری فیصلہ ہے ! ۔ اب نوکر کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا ! وہ صائمہ کے ننگے بدن کو ہاتھ لگا کر صائمہ کو۔ پیار سے سمجھانے کی کوشش کرتا تو صائمہ اس کا ہاتھ یہ کہہ کر جھٹک دیتی کہ پہلے شادی کرو ! پھر ہاتھ لگانے دوں گی۔ نوکر بھی اس اچانک تبدیلی پر حیران تھا کہ صائمہ نے کیا شادی کی ضد لگا رکھی ہے !
آخر اس نے تھک ہار کر ہمسائے والے نوکر دوست کو فون کیا اور ساری صورتحال بتائی۔ دوست بولا تو فکر نہ کر میں نواز اور شیرو کو لے کر آتا ہوں ، تو جاکر مولوی کو بلا لے ! بس ہم گواہ بن جائیں گے اور شادی کا ڈرامہ کرکے اسے کہہ دیں گے کہ اب وہ تیری بیوی ہے ! نوکر یہ سن کر بہت خوش ہوا اور صائمہ سے بولا رانی ! تو دلہن بن کر تیار ہو جا میں گواہوں اور مولوی کو لے کر آتا ہوں ۔
صائمہ نوکر کی بات سن کر کھل اٹھی اور اپنی سہیلی کے کمرے میں جاکر تیار ہونے لگی۔ اسی دوران ہمسایوں کا نوکر اپنے دو عدد دوستوں کو لے کر وہاں پہنچ گیا۔ انہوں نے کال کرکے علاقے کے مولوی کو بھی بلا لیا تو صائمہ بھی ایک خوبصورت جوڑا پہن کر ڈرائنگ روم میں آکر گھونگٹ نکال کر دلہن کے روپ میں بیٹھ گئی۔ جب مولوی ایجاب و قبول کروانے لگا تو صائمہ اپنی قمیض کھینچ کر اوپر کرکے اپنے جوان ممے باہر نکال کر ننگے کر کے نوکر سے بولی جانو ! ایسے نہیں ! بلکہ میرے یہ پکڑ کر مجھے قبول کرو ! تو نوکر نے صائمہ کے ننگے ممے پکڑ کر ایجاب و قبول کیا اور صائمہ نے بھی اپنے ننگے ممے نوکر کو پکڑوا کر نوکر سے ایجاب و قبول کیا۔
دلہن کے خوبصورت ننگے ممے دیکھ کر مولوی بھی برداشت نہ کرسکا اور اس نے اٹھ کر صائمہ کے ننگے ممے پکڑ لئے اور زور زور سے دبانے لگا۔ یہ دیکھ کر صائمہ نے بھی مسکراتے ہوئے مولوی کو اپنی گود میں لٹا لیا اور اپنے ننگے ممے مولوی کے منہ میں دے دئیے۔ ساتھ ہی مولوی کی شلوار کھول کر اس کا کھڑا ہوا لن باہر نکال کر مولوی کی مٹھ مارنے لگی اور اسے اپنے ننگے مموں سے اپنا دودھ پلانے لگی۔
مولوی یہ منظر برداشت نہ کر سکا کہ صائمہ جیسی خوبصورت عورت دلہن کے روپ میں بیٹھی اپنے ننگے مموں سے اسے اپنا دودھ پلا رہی ہے اور اپنے نازک ہاتھوں سے اس کی مٹھ مار رہی ہے۔ تو مولوی نے صائمہ کے ہاتھوں میں ہی اپنی منی نکال دی جو صائمہ نے مسکرا کر چاٹ چاٹ کر صاف کردی۔ مولوی بھی شرمندہ شرمندہ صائمہ کی گود سے اٹھا اور وہاں سے روانہ ہوگیا تو نوکر کے دوست اٹھ کر صائمہ کے ننگے ممے پکڑ کر کھینچنے لگے اور اس کے ننگے ممے کھینچ کھینچ کر لال کر کے اسے شادی کی مبارکباد دینے لگے۔ تو صائمہ نے مسکرا کر ان کا شکریہ ادا کیا اور بولی اپنے جانو کو خوش رکھنے کے لئے میں جانو کے سب دوستوں کے سامنے بالکل ننگی رہوں گی۔
یہ سن کر نوکر اور اس کے دوستوں نے صائمہ کے سارے کپڑے اتار کر اسے ایک بار پھر بالکل ننگا کرلیا اور صائمہ انکے ساتھ بالکل ننگی ہو کر پھر سے سیکس کے مزے لینے لگی۔ نوکر نے قالین پر لیٹ کر صائمہ کو اپنے کھڑے ہوئے لن پر بٹھا لیا اور اپنا لن صائمہ کی پھدی میں ڈال دیا جبکہ اسکے ایک دوست نے اپنا لن آہستہ آہستہ صائمہ کے ہپس میں ڈال دیا باقی دونوں دوست صائمہ کے دائیں اور بائیں طرف کھڑے ہوگئے اور صائمہ انکے کھڑے ہوئے لن پکڑ کر باری باری منہ میں لیکر بیک وقت چار مردوں کے ساتھ سیکس کرنے لگی۔ یہ سلسلہ شام تک وقفے وقفے سے چلتا رہا یہاں تک کہ صائمہ کے شوہر کی کال آگئی۔
صائمہ اس وقت بھی نوکر کے ایک دوست کے لن پر سواری کررہی تھی اور وہ صائمہ کے دونوں مموں کو پکڑ کر زور زور سے دبا کر صائمہ کے نپلز سے نکلتی ہوئی دودھ کی دھاریں اپنے منہ میں لیکر صائمہ کا دودھ نکال رہا تھا جبکہ صائمہ کے ممے لال ہو رہے تھے۔ موبائل بجتے ہی صائمہ نے کال ریسیو کی تو دوسری طرف اس کا شوہر پوچھ رہا تھا “ سوئٹ ہارٹ ! یہ تمہاری سہیلی نے کیا جادو کردیا ہے کہ تم ابھی تک وہاں ہی ہو؟ لگتا ہے تم اپنا گھر بھول گئی ہو ! ۔ شوہر کی بات سنکر صائمہ گھبرا کر شرماتے ہوئے بولی نہیں نہیں ڈارلنگ ! میں بس آنے ہی والی تھی۔ یہ کہتے ہوئے بھی صائمہ مسکرا کر اپنا ایک ننگا ممہ پاس کھڑے نوکر کی طرف بڑھا کر اسے اپنا نپل چوسنے کی دعوت دے رہی تھی۔
جونہی ! نوکر نے آگے بڑھ کر صائمہ کا نپل منہ میں لیا تو صائمہ مسکرا کر بولی آہ ! جانو ! ذرا آہستہ سے ! ۔ یہ سن کر صائمہ کا شوہر ذرا سخت لہجے میں بولا تم نے پھر مجھے جانو کہا ؟ تو صائمہ گھبرا کر بولی نہیں ڈارلنگ ! دراصل میں تو یہاں سعدیہ کو کہہ رہی تھی کیونکہ میرے پیر میں موچ آگئی ہے اور یہ پیر کو پکڑ کر سیدھا کررہی تھی ۔
صائمہ کے جھوٹ سے شوہر کا لہجہ دوبارہ نرم ہو گیا اور وہ پریشان ہوکر بولا اچھا تم فکر نہ کرو ! میں تمہیں آکر پک کرلیتا ہوں ، تم کہاں اس حال میں ٹیکسیوں میں دھکے کھاتی آؤ گی ! ۔ تو صائمہ گھبرا کر بولی نہیں ڈارلنگ اتنی زیادہ تکلیف نہیں ہے اور ویسے بھی ٹیکسی گیٹ پر آ چکی ہے، آپ فکر نہ کریں میں پہنچ جاؤں گی۔ تب کہیں صائمہ کے شوہر کی تسلی ہوئی اور اس نے کال بند کی۔ کال بند ہوتے ہی صائمہ نے بے چینی سے نوکر اور اسکے دوستوں کی طرف دیکھا اور بولی پلیز جلدی سے ایک ایک راؤنڈ اور لگا لو ! پلیز ! ! ! ! صائمہ کی دعوت سنتے ہی چاروں صائمہ پر ٹوٹ پڑے اور دھڑادھڑ صائمہ کے منہ ، ہپس اور پھدی میں اپنے لن ڈال کر اسے چودنے لگے۔ صائمہ اب بھی گھر واپس نہیں جانا چاہتی تھی لیکن جونہی نوکروں کا کلائمکس ہوا انہوں نے صائمہ کو باتھ روم میں لے جاکر اپنے ہاتھوں سے نہلایا۔
باتھ روم سے نکل کر نوکر اور اسکے دوستوں نے جلدی جلدی صائمہ کو اسکی واجبی سی بریزئر پہنائی اور باقی کپڑے پہنا کر جلدی جلدی Uber سے کار منگوا کر صائمہ کو وہاں سے روانہ کیا۔ صائمہ بھی پورے دو دن اپنی سہیلی کے نوکر اور اسکے دوستوں کے ساتھ بالکل ننگی حالت میں گزارنے کے بعد ان سے اگلے ہی دن دوبارہ ملنے کا وعدہ کر کے آنکھوں میں پیار بھرے آنسو لئے اپنے گھر کی طرف روانہ ہو گئی۔