آسیہ نے کہا تمہیں سب پتہ چل جائے گا تم اب جاؤ۔۔۔
میں وہاں سے نکلا اور خالا کے گھر جانے کے لیے ان کی گلی میں مڑا تو سامنے ہی آسیہ کے گھر کے پاس مجھے ککا نظر آیا۔۔۔۔
میں نے اس کی باڈی لینگویج پر غور کیا مجھے کچھ مشکوک لگا میں رک کر دیکھنے لگا میں چھپ کر دیوار کے ساتھ ساتھ آگے بڑھا تو مجھے وہاں کوئی اور بھی دروازے میں کھڑا ہوا محسوس ہوا ۔۔۔۔
یکدم دروازے میں جو بھی تھا غائب ہو گیا ککا بھی وہاں سے میری طرف آنے لگا میں نارمل انداز میں چلتا ہوا اس کے پاس گیا ۔۔۔
مجھ سے پہلے ہی ککا بول پڑا سناو کیا بنا پھر جلدی آگئے ہو ۔۔۔
میں نے کہا بس یار کچھ بھی نہیں بنا وہ نکل گیی ہاتھ سے جب کہ مجھے پتہ تھا اس نے سارا سین دیکھا ہے ۔۔۔
اس نے بھی کوئی بات نہ کی میں نے بھی وہ مجھے لے کر گھر آگیا گھر آ کر نہائے اور بیثھک میں گھس کر باتیں کرنے لگے۔۔۔۔
میں ایسے ہی باتوں باتوں میں آسیہ کی چھوٹی بہن روحی کا ذکر چھیڑ دیا کیونکہ مجھے اس پر شک تھا کہ روحی کا اور اس کا چکر ہے ۔۔۔
پھر آسیہ کی ذو معنی باتیں بھی میرے دماغ میں تھیں میں نے تو ایسے ہی کہا یار ایک بات بتا وہ جو آسیہ کی چھوٹی بہن تھی روحی وہ کیسی ہے اب اس وقت تو آسیہ سے بھی خوبصورت ہوتی تھی۔۔۔۔
اس کی آواز ہی بدل گئی بولا کون روحی شاید تم آسیہ کی بہن کا ذکر کر رہے ہو ۔۔۔
میں ہاں تمہیں کیا لگا میں کسی اور کا ذکر کر رہا ہوں۔۔۔
اچھا تو تم روحہ کی بات کر رہے ہو یار وہ تو میری جان ہے اس پر بری نظر نہ ڈالنا۔۔۔
میں نے کہا واہ استاد تو کمال نکلا بڑے نے بڑی بہن اور چھوٹے نے چھوٹی کو سیٹ کیا ہوا ہے تمہاری تو موجیں لگی ہیں کیسے ہوا یہ سب مجھے نہیں بتاؤ گے۔۔۔
ککا بولا سب بتاؤں گا لیکن ابھی نہیں پھر بتاوں گا تو سنا کوئی بچی سیٹ ہوئی یا نہیں۔۔۔
میں کہاں یار ہماری ایسی قسمت کہاں ایک سے بڑھ کر ایک پوپٹ بچی تو تمہارے گاؤں میں ہے ہمارے ہاں تو یا تو بہت اونچے سٹیٹس کی ہیں جو مجھے گھاس نہیں ڈالتی یا وہ ہیں جو بالکل ہی نچلے درجے کی ہیں ۔۔۔۔
اب تو وہ بھی گھاس نہیں ڈالتیں جن کو کوئی گھاس نہیں ڈالتا۔۔۔
ککا اب اتنی بھی نہ چھوڑ کہ تجھے کبھی کسی نے دی نہیں۔۔۔
میں قسم سے یار کوئی ہاتھ ہی پکڑاتی تو پھدی کہاں دے گی۔۔۔
ککے نے غور سے میری طرف دیکھا اور بولا مجھے نہیں لگتا ایسا ہے۔۔۔۔
میں اب کیسے یقین دلاوں کہ کوئی بھی سیٹ نہیں ہوتی ہم ٹھہرے پینڈو شہر آ پھنسے وہاں کی پوپٹ بچیوں کو ممی ڈیڈی بچے پسند ہیں ۔۔۔
ککا اوہ تو یہ بات ہے اچھا مٹی پا ہو سنا کوئی پسند بھی ہے یا نہیں۔۔۔
میں ۔۔۔ پسند تو ہر لڑکی آ جاتی ہے پر چس تو تب ہے جب نیچے بھی آجائے۔۔۔
میرا لن تو ہر وقت تیار رہتا ہے کیا پتہ کوئی مان ہی جائے لیکن کہاں لگتا ہے بس مٹھ مارنے پر ہی کام چلانا پڑے گا۔۔۔۔
ککے کیا تو ایک بار مجھے کسی کی لے دے گا میں تیرا احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔۔۔
ککا اچھا کرتے ہیں کچھ ابھی سو جاؤ صبح بات کرتے ہیں۔۔۔
وہ پہلو بدل کر سو گیا لیکن مجھے پتہ نہیں نیند نہیں آآئی پہلو بدل بدل کر تھک گیا رات کے پچھلے پہر میری آنکھ لگ گئی۔۔۔
صبح جب اٹھا تو ماموں کھیتوں میں چلے گئے تھے دونوں کزن اور مائرہ سکول چلے گئے تھے جبکہ مامی اور امی بیٹھی باتیں کر رہی تھیں۔۔۔
میں ضروری حاجات سے فارغ ہو کر آیا تو سمیرہ نے مجھے آواز دے کر کہا ادھر ہی آجاو ناشتہ کر لو۔۔۔
میں بارورچی خانے میں چلا گیا اس نے مجھے ناشتہ دیا میں ناشتہ کرنے لگ گیا تو مامی آئی اور کہا سمیرہ میں تے باجی ہمسایوں کے گھر جا رہی ہیں دروازہ بند کر لو اور مجھے تاکید کی کہ گھر میں ہی رہوں۔۔۔
امی کا پوار خاندان اسی گاؤں میں تھا اور سارے رشتہ دار ایک ہی محلے میں رہتے تھے اس لیے امی جب بھی جاتی تھیں سب سے مل کر آتی تھیں۔۔۔
وہ باہر نکل گئیں سمیرہ نے دروازہ بند کر لیا تب تک میں نے ناشتہ کر لیا تھا میں کچن سے اٹھ کر باہر آیا اور بیٹھک کی طرف جانے لگا تو سمیرہ نے آواز دی بلو۔۔۔
سمیرہ ۔۔۔۔ چائے نہیں پینی۔۔۔
میں۔۔۔ نہیں باجی میں چائے نہیں پیتا ہوتا۔۔۔
میری اچھی عادات میں سے یہ بھی ایک عادت تھی کہ چائے نہیں پیتا تھا شاید کچھ لوگوں کو یہ بات عجیب لگے لیکن ہم کزنوں میں سے صرف دو لوگ ایسے تھے جو اس وقت تک چائے نہیں پیتے تھے ایک میں اور دوسرا میری پھپھو کا بیٹا ججی تھا۔۔۔
سمیرہ ۔۔۔ اوہ واہ جی واہ چائے نہیں پیتا اچھا جی اس لیے نہیں پیتے کہ رنگ کالا نہ ہو جائے۔۔۔
میں۔۔۔ باجی ایسی بات نہیں ہے بس کبھی بھی نہیں پی ۔۔۔
سمیرہ۔۔۔ بڑے ذو معنی انداز میں گرم گرم دودھ پیتے ہو۔۔۔
میں۔۔۔ نا سمجھی میں کیا مطلب باجی دودھ تو سب ہی پیتے ہیں۔۔۔
سمیرہ ۔۔۔ کچھ نہیں مجھے پتہ ہے سب پیتے ہیں میں تو ایسے ہی کہہ رہی تھی۔۔۔
اچھا تم اب کہاں جا رہے ہو امی کہہ کر گئی ہیں میرے پاس رہنا ہے۔۔۔ اس کی آنکھوں میں عجیب سی لہر دوڑ گئی تھی۔۔۔
میں۔۔۔ کہیں بھی نہیں بس بیٹھک میں جا رہا ہوں کپیوٹر پر گیم کھیل لیتا ہوں فارغ وقت گزر جائے گا۔۔۔
سمیرہ۔۔۔گیم کھیل کر وقت کیسے گزرے گا اور بھی طریقے ہیں وقت گزارنے کے ۔۔۔
وہ مسلسل ذو معنی باتیں کر رہی تھی کہا جاتا ہے جتنے چھوٹے قد کے ہوتے ہیں وہ اتنے کی شیطان ہوتے ہیں۔۔۔
پنجابی میں چھوٹے قد والوں کے بارے میں کہا جاتا ہے ۔۔۔
اے جناں زمین دے اتے اناں ای تھلے اے(یہ جتنا زمین سے باہر ہے اتنا ہی زمین کے اندر ہے)
یہ بات سمیرہ کے لیے بالکل ٹھیک بیٹھتی تھی۔۔۔
اس نے دوپٹہ اپنی کمر سے باندھا اس ممے جو بمشکل ٹینس بال جتنے تھے کھلے گلے اور ٹائیٹ قمیض کی وجہ سے اکڑے ہوئے لگ رہے تھے اس کا پیٹ بالکل نہ ہونے کے برابر تھا بڑی گانڈ جس کا نظارہ کل میرا لن چکھ چکا تھا۔۔۔
اس نے جھاڑو اٹھایا اور مجھے کہنے لگی اچھا اس طرح کرتے ہیں تم کپیوٹر پر گیم کھیل لو میں تب تک بیٹھک کی صفائی کر لیتی ہوں۔۔۔
میں۔۔۔ جی اچھا باجی کہہ کر بیٹھک میں چلا گیا اور کپیوٹر آن کر لیا وہ بھی آگئی اس نے ابتدا میں کمرے کے ایک کونے سے صفائی شروع کی میں کپیوٹر میں مگن ہو گیا۔۔۔
وہ رک رک کر مجھ سے باتیں بھی کر رہی تھی جان بوجھ کر کبھ جھک کر صفائی کرتی کبھی بیٹھ کر جب میں نے اس پر کوئی خاص توجہ نہ دی تو کم از کم مجھے یہ ہی لگا ۔۔۔
وہ صفائی کرتی ہوئی بالکل میرے پاس آگئی اور بولی یہ گیم بھی کوئی گیم ہے بھلا تم گانے لگاؤ ۔۔۔
میں نے کہا گانے کہاں ہیں مجھے نہیں پتہ آپ بتا دو۔۔۔
اس نے میرے کندھے پر ہاتھ رکھا ماؤس پکڑا اور گانے ڈھونڈ کر سیلکٹ کر کے لگا دئیے وہ اس دوران اپنے ممے میری پیٹھ سے چپکا کر کھڑی ہو گئی تھی ۔۔۔۔
مموں کا لمس پا کر میرا لن اکڑ گیا تھا جس کو میں نے اپنی دونوں رانوں کے درمیان دبا لیا تھا۔۔۔
کسی انڈین فلم کا انتہائی بولڈ سین والا گانا تھا جس میں بہت ہی رومانوی مناظر تھے ۔۔۔۔
وہ دیکھ کر میری حالت غیر ہونے لگی اگر میں اس وقت اکیلا ہوتا تو پکی بات تھی میں اس وقت مٹھ مار رہا ہوتا۔۔۔۔
وہ بھی گانے کے ساتھ ساتھ جان بوجھ کر میرے سامنے گھومتے ہوئے اپنی کمر ہلا ہلا کر صفائی کر رہی تھی اور گنگنا بھی رہی تھی۔۔۔۔
ایسے ہی بار وہ اٹھی تو اس کی قمیض گانڈ میں پھنسی ہوئی تھی اس نے منہ دوسری طرف کر کے اپنی گانڈ میری طرف کی اور قمیض کو گانڈ سے نکالا ۔۔۔۔
یہ دیکھ کر تو میرا لن پھٹنے والا ہو گیا اگر اس وقت سمیرہ کی جگہ کوئی اور ہوتی یا سمیرہ میرے ماموں کی بیٹی نہ ہوتی تو میں اس کی گانڈ میں لن گھسا چکا ہوتا۔۔۔
میں نے برداشت کیا اور اپنی توجہ کپیوٹر سکرین پر مرکوز کر دی۔۔۔
سمیرہ نے ساری بیٹھک کی صفائی کی اور میرے پاس ہی مجھ سے جڑ کر بیٹھ گئی اور گانے سننے لگی اب ایک اور گانا شروع ہو چکا تھا ۔۔۔
یہ گانا بھی اس گانے کی طرح انتہائی رومان پرور تھا اوپر سے سمیرہ اپنا جسم مجھ سے چپکا کر بیٹھ گئی اس کا جسم بہت زیادہ گرم تھا۔۔۔ ،
سمیرہ کے جسم کی گرمی دماغ پر چڑھنے لگی میں نے بھی اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ کر اس کے ساتھ لگا لیا بلکہ اس کی طرف ڈھلک گیا۔۔۔
لن پہلے ہی تن چکا تھا جب جسم کو ڈھیلا چھوڑا تو میری گود میں تنبو بن گیا سمیرہ نے لن کو ایک جھٹکے سے میری گود میں کھڑے ہوتے دیکھا ۔۔۔
اس تیزی سے میری طرف دیکھا لیکن میں یہ ظاہر کر رہا تھا کہ میری ساری توجہ سکرین پر ہے۔۔۔
سمیرہ نے کہا بلو مجھے گانا چینیج کرنا ہے ایک منٹ اس نے اٹھنے کے بہانے میری گود میں اپنا ہاتھ رکھ دیا ۔۔۔۔
اس نے بہت ہی غیر محسوس انداز میں لن کو پکڑا تھا اور چھوڑ دیا تھا اٹھ کر میری دوسری طرف آئی جھک کر کپیوٹر کا ماوس پکڑا اور گانا بدلنے لگی ۔۔۔
میں کیونکہ کمپیوٹر سے دور ہو کر بیٹھ گیا تھا کمپیوٹر کے قریب جو کرسی رکھی تھی وہ اس جی بیک سائیڈ پر کھڑی ہو کر ماؤس استعمال کر رہی تھی۔۔۔
اس کے پورے جسم میں ایک گانڈ ہی تھی جو متاثر کر رہی تھی وہ بھی شاید یہ بات جانتی تھی اس لیے بار بار گانڈ کے درشن کروا رہی تھی۔۔۔
اب بھی وہ گانڈ کو باہر نکالے جھکی ہوئی تھی میں تو گانڈ کے نظارے میں مگن تھا اس نے گانا بدلا اور پیچھے ہٹتی ہوئی میری گود میں بیٹھ گئی ۔۔۔۔
پھر وہیں بیٹھے بیٹھے میری طرف گھوم کر منہ کر ہاتھ رکھ کر کہنے لگی آااووو یہ کیا میں سمجھی تم ادھر بیٹھے ہو ۔۔۔۔
لیکن تب تک لن اس کی گانڈ اور چوت کو چھوتے ہوئے ٹانگوں کے بیچ سے آگے نکل چکا تھا ۔۔۔
اس کی گانڈ کی گرمی مجھے اپنی گود میں اور پھدی کی گرمی لن پر محسوس ہوئئ ۔۔۔
اس کے اس طرح بیٹھنے سے میرے ہاتھ خود بخود اس کی کمر کو دونوں طرف سے تھام چکے تھے۔۔۔
وہ اٹھنے لگی تو میں نے دباؤ بڑھا دیا اس نے مجھے گردن گھما کر دیکھتے ہوئے کہا بلو ہممم ابھی حساب برابر نہیں ہوا کیا۔۔۔
میں شرمندہ ہو گیا ہاتھوں کی گرفت ڈھیلی کر دی لیکن وہ پھر بھی بیٹھی رہی۔۔۔
میرا لن مجھے مجبور کر رہا تھا کہ اس کو کسی موری میں گھساؤں اتنا سب ہونے کے باوجود بھی ہم دونوں میں ابھی جھجھک قائم تھی۔۔۔
میں نے ہمت کرکے نیچے سے تھوڑا سا ہلنے کی کوشش کی اس نے بھی خود جو ایڈجسٹ کیا لن نے شاید اس کی پھد کو ٹچ کیا تھا اس کے منہ سے سئیی کی آواز نکلی۔۔۔
میں اپنے دونوں ہاتھ آگے بڑھا کر اس کے پیٹ پر ایسے رکھ دئیے جیسے کسی بچے کو گود میں بٹھا کر رکھتے ہیں۔۔۔
اس نے میرے ہاتھوں پر اپنے ہاتھ رکھے اور گانڈ کو تھوڑا سا ہلا کر لن کو پھدی سے ٹچ کیا ۔۔۔
اب مجھ سے بالکل بھی برداشت نہیں ہو رہا تھا میں نے اس کی گردن ہر ناک رکھ دی اور کان کی لو کے نیچے رگڑنے لگا۔۔۔۔
لمبی ناک کی نوک نے اس کے جسم میں جھرجھری پیدا کی اس کا جسم کانپ کر رہ گیا اس نے اپنی پیٹھ میرے سینے سے لگا دی اب لن اس کے چڈوں میں گھسا تھا۔۔۔۔
میں نے نیچے سے آہستہ آہستہ نامعلوم طریقے سے ہلنا شروع کر دیا کچھ دیر ایسا کرنے سے اس کے جسم میں گرمی بڑھ گئی اس کی سانس بھی تیز تیز چلنے لگی۔۔۔
وہ خود کو سنبھال نہ پائی اس نے خود ہی اٹھ کر مجھے کھینچ لیا قد میں وہ میرے سینے تک ہی آتی تھی۔۔۔
مجھے گلے لگا لیا میرا لن اس کے پیٹ میں چبھنے لگا اس کے چھوٹے چھوٹے ممے بھی مجھے اس وقت مزا دے رہے تھے جو سینے سے نیچے کر کے دب گئے تھے۔۔۔
میرے ہاتھ خود بخود اس کی کمر پر چلے گئے وہ اپنی ایڑیاں اٹھا کر پھدی کو لن تک پہنچانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
میں نے خود کو تھوڑا جھکا کر لن کو اس کی پھدی سے لگایا اس نے اپنے چڈوں کو بھینچ کر دبا لیا۔۔۔
لیکن مجھ سے اس ظرح زیادہ دیر کھڑا نہ ہوا گیا میں نے اس کو دھکیل کر دیوار کے ساتھ لگا لیا نیچے ہو کر لن اس کی پھدی پر کپڑوں سمیت ہی لگا کر رگڑنے لگا۔۔۔۔
وہ اپنی ساری طاقت لگا کر مجھے اپنے آپ سے دبا رہی تھی میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے مموں پر رکھ دیا اس کے ممے پکے ہوئے امرود کی طرح تھے نرم لیکن چھوٹے میں ان کو دبانے لگا۔۔۔
مموں کو جتنی زور سے دباتا وہ اتنے کی زور سے مجھے اپنے ساتھ دباتی میرا لن بھی اس کی پھدی سے ویسے ہی رگڑ کھاتا۔۔۔
اس نے خود اب پھدی کو لن پر رگڑنا شروع کر دیا مجھے بھی مزہ آنے لگا تھا لیکن کپڑے رکاوٹ بن رہے تھے۔۔۔
میں نے ہاتھ نیچے لیجا کر اپنا ناڑا کھولا لن پیچھے ہو کر لن کو شلوار سے نکال لیا پھر اس کی شلوار کو پکڑ کر نیچے کیا۔۔۔
اپنا ہاتھ اس کی پھدی پر لگایا جو پانی سے سے تر بتر ہو چکی تھی اپنے ہونٹ اس کی گردن کر رکھ دیئیے لن کو ہاتھ سے پکڑ کر اس کی پھدی کے لبوں پر رگڑنے لگا۔۔۔۔
اپنی زبان نکال کر گردن کو چاٹنے لگا ساتھ ساتھ لن کو بھی رگڑ رہا تھا اس کی سانسیں تیز سے تیز ہو رہی تھیں۔۔۔
جسم کپکپا رہا تھا یہ ڈر کی وجہ سے تھا یا وہ مزے سے کانپ رہا تھا لیکن میں فل موڈ بنا چکا تھا کہ لن اس کی پھدی میں گھسا کر ہی رکوں گا۔۔۔۔
مزے میں ڈوبے میں نے لن کی ٹوپی اس کی پھدی کے لبوں سے لگائی انگلی سے پھدی کی موری کو ٹٹولا لن کا ٹوپا موری پر رکھا ۔۔۔۔
تھوڑا اور جھکا گانڈ اپنی گانڈ کو سخت کیا لن ہر دباؤ بڑھایا لیکن لن پھسل کر اوپر نکل گیا ۔۔۔۔
مجھے سمجھ آگئی اس پوزیشن میں لن نہیں گھسے گا اس لیے اس کو لے کر چارپائی پر آیا ۔۔۔
چارپائی پر لٹایا اس نے اپنی قمیض سے پھدی کو ڈھانپ لیا میں لن کو ہاتھ میں پکڑے اس کے اوپر آیا اس کی ٹانگوں کو کھولا اور اٹھا کر اپنے کندھے پر رکھ لیں۔۔۔۔
لن کو ہاتھ سے پکڑ کر اس کی پھدی پر رکھا لبوں میں گھسایا اس کے اوپر لیٹنے سے پہلے میں نے سوچا کچھ اندر کر لوں ۔۔۔
زور ڈالا تو پھدی نے کھلنے سے انکار کر دیا اس کی پھدی اتنی ٹائیٹ تھی میں نے پھر دباؤ بڑھایا ٹوپی کو ہاتھ کی مدد سے اندر گھسانے لگا لیکن بے سود۔۔۔۔
لن کو پیچھے کیا اپنے ہاتھ کی انگلی کو پھدی میں ڈالا تو انگلی کے جانے سے اس نے سییی کی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔۔
کچھ دیر انگلی کو اندر گھماتا رہا پھدی کی گرمی کو انگلی پر محسوس کرتا رہا انگلی گرم ہو گئی۔۔۔
انگلی باہر نکالی اس کا پانی لن کی ٹوپی پر لگایا ٹوپی کو تر کیا پھر ٹوپی کو پھدی کے لبوں میں رگڑنے لگا ۔۔۔۔
لن کو نیچے سے اوپر کی طرف جب رگڑتا تو وہ اپنا سر دائیں بائیں مارتی میں ایسا کرنا جاری رکھا وہ نیچے سے اپنی گانڈ اٹھا اٹھا کر لن لینے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔
لن کی ٹوپی اب پھدی کے پانی سے بھیگ چکی تھی میں نے لن کو پھدی کے لبوں میں گھسایا سوراخ کا نشانہ لیا ۔۔۔
اب میں یہ سمجھ چکا تھا ابھی سیل پیک ہے اس لیے اس کے اوپر آکر ہونٹوں پر ہونٹ رکھ دئیے اس نے صدیوں کے پیاسے کی طرح میرے ہونٹوں کو چومنا شروع دیا میں نے لن پر دباؤ بڑھایا ۔۔۔
ٹوپی اندر اتر گئی اس نے میرےہونٹوں زور سے کاٹ لیا اس کے چہرے کے ایکسپریشن بدل گئے وہاں درد کی لہریں نظر آنے لگیں۔۔۔
میں نے تھوڑا اور دباؤ ڈالا اس نے اپنا ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ لیا مجھے رکنا پڑا لیکن لن ٹوپی سے کچھ زیادہ اندر چلا گیا۔۔۔
میں نے لن کو وہیں روکا اور اس کے مموں کو دبانے کے ساتھ ساتھ ہونٹوں کو چوسنے لگا ۔۔۔
ہونٹ چوسنے سے مجھے نمکیں سا ذائقہ محسوس ہوا جو بعد میں پتہ چلا کہ میرا ہونٹ کٹ گیا تھا۔۔۔۔
کافی دیر ہونٹ چوسنے اور ممے دبانے کے بعد جب اس نے اپنا جسم ڈھیلا چھوڑ دیا تو میں نے کہا باجی اب آگے کروں ۔۔۔
اس نے مدہوشی میں ڈوبے ہاں میں سر ہلایا دیا۔۔۔
میں تب تک سمیرہ کو باجی ہی کہتا تھا اس لیے بچپن سے کہنے کی عادت تھی تو اسی عادت کی وجہ سے منہ سے نکل جاتا تھا۔۔۔
اس نے ہاں میں سر ہلایا میں لن پر زور لگایا لن ابھی ایک انچ بھی نہیں گیا تھا کہ سمیرہ نے پھر سے میرے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر مجھے روک دیا اور میری پیٹھ کر اپنے ہاتھوں سے شکنجہ کس لیا۔۔۔
میں نے ایک بار صبر کا مظاہرہ کیا اور ہونٹ چوسنے کے ساتھ ساتھ ممے دبانے لگا لیکن میں اب اس تھوڑے تھوڑے سے کن گھسانے کے عمل سے الجھن کا شکار ہو رہا تھا۔۔۔
لیکن ایک بات تھی اب جب کبھی مجھے سمیرہ کی پھدی یاد آتی تو یہ کہتے ہوئے ذرہ بھی نہیں ہچکچاتا کہ سمیرہ کی پھدی ٹائٹ پھدی مجھے آج تک نہیں ملی۔۔۔۔
ایک تو اس کی عمر کافی ہو گئی تھی دوسرا اس کے قد کی وجہ سے عجیب بے ڈھنگے جسم کی وجہ سے کویی اس کو گھاس نہیں ڈالتا تھا ۔۔۔۔
زیادہ عمر ہونے کی وجہ سے اس کی ہھدی بھی زیادہ ٹائٹ ہو چکی تھی لیکن گرم وہ عام لڑکیوں سے زیادہ تھی ۔۔۔۔
میں نے کوئی پانچ منٹ پھر اس کو چوما چاٹا اس نے جب فل موڈ میں گانڈ اٹھا اٹھا کر لن کو اندر لینے کی کوشش شروع کی تب بھی میں نے لن پر دباؤ نہ بڑھایا اب میں اس انتظار میں تھا کہ وہ اپنے آخری لمحات میں داخل ہو تو ایک ہی بار میں سارا لن ٹھوک دوں۔۔۔۔
اس دوران میں نے اس کی قمیض کو اوپر کیا جو اس نے بہت آسانی سے کر دی اس کے چھوٹے چھوٹے ممے جو کسی 14 سال کی لڑکی جتنے تھے ۔۔۔
میں نے اپنے منہ میں بھر کر چوسنے شروع کر دئیے وہ میرا سر پکڑ کر اپنے مموں کر دبانے لگی ۔۔۔
ممے جتنی چھوٹے تھے نپل اس حساب سے بڑے تھے لیکن تھے ایک دم دودھ جیسے سفید گول مٹول ۔۔۔
میں نے اپنی زبان نکال کر اس کے دائیں ممے کے نپل کے گرد پھیرنی شروع کی تو اس کے پھدی میرے لن ہر تڑپنے لگی ۔۔۔
اس کا پورا جسم کانپ اٹھا میں نے اس کی بے چینی کو دیکھتے ہوئے ذبان کو مسلسل اس کے نپل کے گرد پھیرا شروع کر دیا۔۔۔
اس کا ہاتھ میرے سر کو اپنے مموں پر دبا رہا تھا نیچے سے وہ اپنی گانڈ کو اٹھا کر لن کو اور اندر لینے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔
میں ہر بار اس کی کوشش کو ناکام کر رہا تھا جب دونوں مموں کے ساتھ اچھا خاصہ انصاف کر لیا تو اپنے ایک ہاتھ کی دو انگلیوں میں ایک ممے کے نپل کو لے کر میں نے اس کے ہونٹ چوسنے شروع کر دئیے کیوں کہ اب مجھے اندازہ ہو گیا تھا کہ وہ آنے والی ہے۔۔۔
میں نے لن کو تھوڑا سا باہر نکالا ٹوپی کو اندر رہنے دیا پھر جتنا پہلے تھا اتنا اندر کیا اسی طرح چار پانچ بار کرنے کے بعد میں نے اپنی کمر کس کی۔۔۔۔
میں نے اس کو ہونٹوں کو مکمل اپنے قبضے میں لے لیا اپنے دونوں بازو اس کی کمرکے نیچے سے گزار کر اس کو پکڑ لیا۔۔۔
جیسے ہی میں نے جھٹکا مارنے کا ارادہ کیا زور دار آواز کے ساتھ بیٹھک کا دروازہ ناک ہوا ۔۔۔۔
دروازے پر دستک سن کر میری بنڈ پھٹ گئی میں نے جلدی سے لن پھدی سے نکالا اور اپنا ناڑا باندھا ۔۔۔
جب ناڑا باندھ کر سیدھا ہوا تو دیکھا سمیرہ غائب تھی وہ شاید اندر بھاگ گئی تھی۔۔۔
اب میں نے اپنا چہرہ صاف کیا میں نے آںکھیں ملنا شروع کر دیں اور اسی طرح دروزے کے پاس گیا اس وقت تک ایک بار اور دروازہ زور سے بجا۔۔۔۔
میں آنکھیں ملتے ہوئے دروازہ کھولا تو سامنے مامی اور امی کھڑی تھیں ۔۔۔
میں نے کسملندی کا ڈرامہ کرتے ہوئے ایک انگڑائی لی اور واپس اندر ہو کر چارپائی کر گرنے کے انداز میں لیٹ گیا۔۔۔
مامی نے کہا میرا ستا پیا سی مجھے پتہ ہوتا میں یہ دروازہ نہ کھڑکاتی۔۔۔
پھر بولی سمیرہ کہاں ہے ۔۔۔
میں پتہ نہیں میں تو یہاں آ کر سو گیا تھا وہ یہاں صفائی کرکے چلی گئی تھی شاد نہا رہی ہو۔۔۔
یہ میں نے جان بوجھ کر اونچی آواز میں کہا کہ اگر سمیرہ یہاں اگر قریب ہی ہے تو سن لے اور واشروم میں گھس جائے۔۔۔۔
مامی نے اچھا کہا اور امی اور وہ اندر چلی گئیں میں بھی اٹھ کر ان کے پیچھے گیا تاکہ اندر کیا سین ہے وہ دیکھ سکوں۔۔۔
اندر جا کر پتہ چلا سمیرہ واشروم میں ہے تو تسلی ہو گئی میں منہ دھویا اور واپس بیٹھک میں آنے کی بجائے امی کو بتا کر کھیتوں میں چلا گیا۔۔۔
وہاں ماموں کے ساتھ ایسے ہی باتیں کرتا رہا ماموں لوگوں کے کھیت میں لوکاٹ ،آم اور امرود کے درخت لگے ہوئے تھے۔۔۔
میں نے لوکاٹ توڑ توڑ کر کھائے ماموں بھی کام سے فارغ ہو گئے پھر میں ان کے ساتھ بیل گاڑی (ریڑھا) پر بیٹھ کر گھر آگیا اصل میں ماموں کام کرتے اور ساتھ ہی بھینسوں کے لیے چارہ بھی کاٹ لیتے تھے اور چارہ گھر لانے کے لیے بیل گاڑی تھی۔۔۔
گھر آتے آتے دوپہر گزر گئی گھر آ کر نہایا کھانا کھانے کے لیے کچن میں گیا تو وہاں مائرہ بھی بیٹھی کھانا کھا رہی تھی ۔۔۔
اس کو دیکھا ایک نظر روٹیاں پکاتی سمیرہ باجی کو دیکھا پھر یہ سوچنے لگا یہ دو بہنوں میں اتنا فرق کیسے ہو سکتا ہے۔۔۔۔
کہاں ماموں اور مامی کے قد کہاں مائرہ کی خوبصورتی اور یہ سمیرہ اب ایک بار مجھے خود پر حیرت ہو رہی تھی کہ میں سمیرہ کی پھدی میں لن گھسا رہا تھا۔۔۔۔
لیکن سمیرہ کے چہرے پر مجھے دیکھ کر مسکراہٹ پھیل گئی تھی جب کہ مائرہ مجھے منہ چڑا رہی تھی۔۔۔
کھانا کھا کر میں بیٹھک میں جانے لگا تو مامی نے کہا بلو مائرہ کو کچھ سوال وغیرہ کروا دو یہ کہہ رہی تھی اس کو نہیں آتے اس نے اپنی سہیلی کے پاس پڑھنے جانا ہے۔۔۔
میں کہا اب پتہ نہیں کونسے سمجھنے ہیں مجھے آتے بھی ہیں یا نہیں ۔۔
مامی نے کہا باجی تو کہہ رہی تھی کہ تم سے تمہارے ہمسائیوں کی لڑکی روز پڑھنے آتی ہے تمہیں آتے ہوں گے۔۔۔۔
مامی کے منہ سے ہمسائیوں کی لڑکی کا ذکر ان کر مجھے وہ پرشباب جسم مچلتے ہوئے جذبات وہ آہیں وہ سسکیاں وہ پیار و محبت کے دعوے وہ پر شہوت لمحات وہ خون سے بھری پھدی افففف سب ایک ہی جھٹکے میں یاد آگیا۔۔۔
شانزل یاد ائی تو اس کی کہی گئئ باتیں بھی یاد آگئیں اس کا پیار کا اظہار بھی یاد آیا ۔۔۔
مجھے خود پر گھن آنے لگی کہاں شانزل کا سچا پیار اور کہاں میرے لن کی پیاس ۔۔۔
میں کتنا بے حس ہو گیا تھا مجھے خود بھی نہیں پتہ تھا مجھے کل آنے سے پہلے صبح کے وقت اس سے ہونے والی ملاقات میں اس کی کہی گئی باتیں یاد آنے لگیں۔۔۔
میں چپ سا ہر کر شانزل کے بارے میں سوچ رہا تھا کہ مامی کی آواز مجھ واپس حال میں لے آئی۔۔۔
مامی بولی بلو کی ہویا ۔۔۔
اسی دوران مائرہ بھی ٹپک پڑی اس نے بھی لقمہ دینا اپنا فرض سمجھا۔۔۔۔
وہ بولی امی آپ بھی کمال کرتی ہیں اس کو کہاں آتے ہوں گے ۔یہ تو شکل سے ہی نالائق لگتا ہے۔۔۔
میں نے کہا تمہاری ظرح نہیں ہوں اس بار بھی اچھے نمبرون سے پاس ہوا ہوں تم اتنے نمبر لے کر دکھانا آئی بڑی افلاطون۔۔۔
مائرہ کونسا کم تھی آ ہو مجھے پتہ ہے کیسے نمبر آئے ہوں گے کسی اور کے پیپر دیکھ کر کرتے رہے ہو گے ۔۔۔
اپنی عادتیں نہ بتاؤ نقلیں لگانا تمہارا کام یے مجھے آج پتہ چلا۔۔۔
اوہ اچھا میں نقلیں لگاتی ہوں تم تو بڑے ذہین ہو تو چلو مجھے پڑھاؤ مجھے ریاضی کے کچھ سوال نہیں آتے وہ سمجھاو۔۔۔
میں بھی ضد میں آگیا ویسے بھی ریاضی میرا پسندیدہ مضمون تھا میں کہا چل آجا تمہیں سمجھاتا ہوں تمہاری استانی بھی ویسے نہیں سمجھا پائے گی۔۔۔
وہ اندر کمرے میں جاتے ہوئے بولی آجا پھر ابھی دودوھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو جائے گا۔۔
امی اور مامی ہماری نوک جھونک پر ہنس رہی تھیں۔۔۔
میرے لیے اب انا کا مسئلہ بن گیا تھا میں بھی مائرہ کے پیچھے پیچھے تیز تیز چلتا ہوا اندر داخل ہوا ۔۔۔
جیسے ہی میں اندر داخل ہوا مائرہ سے جا ٹکرایا وہ دروازے کی طرف پیٹھ کر کے جھکے ہوئی کوئی چیرز اٹھا رہی تھی۔۔۔
میں بے دھیانی میں اس کے پیچھے جا لگا مطلب میرا اگلا حصہ یعنی لن اس کی گانڈ سے جا ٹکرایا۔۔۔
اس کی گانڈ کی نرمی ایک لمحے میں مجھے وہ دن یاد آگیا جس دن اس کی گانڈ میں لن ڈالنے کی کوشش کرتا رہا تھا۔۔۔
وہ ایک دم سیدھی ہوئی اور میری طرف غصے سے گھومی میں اس کو دیکھ کر مسکرانے لگا۔
اس کےچہرے پر ناگواری کے تاثرات تھے اس نے مجھے کہا کچھ نہیں جا کر بیڈ پر بیٹھی اور کتابیں نکالنے لگی۔۔۔
بیگ سے ریاضی کی کتاب نکالی وہ اس وقت ہشتم کلاس کی طالب علم تھی لیکن لگتی وہ دسویں کی تھی۔۔۔
وقت سے پہلے ہی اس کے ممے بڑے ہو گئے تھے جسامت میں بھی وہ بھاری تھی چہرے کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ جوانی کے سنہری دور میں ہے۔۔۔۔
خیر اس نے الجبرا کا ایک مشکل سوال جو اس کے خیال میں تھا مجھے سمجھانے کو کہا۔۔۔۔
میں ریاضی میں اچھا تھا مجھے وہ سوال دیکھ کر ہنسی آگئی کیونکہ میں اس سے دو سال سینئر تھا میرے لیے وہ سوال مذاق ہی تھا۔۔۔
میں بہت آسانی سے وہ اس کو کروا دیا اس نے اپنے چہرے پر سنجیدگی سجا رکھی تھی۔۔۔
اسی سنجیدہ چہرے کے ساتھ اس نے ایک اور سوال سمجھانے کو کہا جو کہ مجھے ابھی یاد ہے سچ میں مشکل تھا ۔۔۔۔
الجبرا کا عبارتی سوال ہو اور آسان لگے تو اس کا مطلب ہے بندے کو ریاضی سچ میں آتی ہے۔۔۔۔
میں نے عبارت پڑھی اس کو بھی عبارت کا مفہوم سمجھایا سوال کروانا شروع کیا سوال حل کر لیا تو اس نے سوال کا جواب چیک کیا اور قہقے لگا کر ہنسنے لگی۔۔۔۔
ساتھ میری طرف اشارہ کرتی اور ہنسی سے لوٹ پوٹ ہو رہی تھی میں شرمندہ ہونے لگا میں نے اس سے کتاب پکڑی اور جواب چیک کیا تو میں نے اس کو منہ چڑایا اور کہا آئی وڈی پروفیسر سوال دا جواب تاں ویکھنا نیں آندا تے ہاسے ہاہاہاہاہاہاہا۔۔۔۔
اس نے میرے ہاتھ سے کتاب چھین لی پھر سے سوال کا نمبر چیک کیا پھر جواب دیکھا تو شرمندہ ہو گئئ۔۔۔۔
میں نے کہا اور کوئی سوال ہے تو وہ بھی سمجھ لو اس نے کہا بس اور نہیں ہے اس کی ٹون یکدم بدل گئی ۔۔۔۔
وہ سجنیدہ ہو کر بیٹھ گئی اور سوال کرنے لگی میں اس کو سوال کرتے دیکھ کر اپنی آنکھوں کی پیاس بجھانے لگا۔۔۔
اس نے میری آنکھوں کی تپش محسوس کر کی نظریں اٹھا کر مجھے گھورتے ہوئے کہا کیا ہے ایسے کیا دیکھ رہے ہو۔۔۔۔
میں نے مسکراتے ہوئے ناں میں سر ہلایا ۔۔۔
اس نے ایسے ہی غصے سے سر جھٹکا اور پھر کام کرنے لگی۔۔۔۔
میں اپنے کزن کے ساتھ گراؤنڈ کرکٹ کھیلنے چلا گیا وہاں خوب جم کر کرکٹ کھیلی ان کا گراؤنڈ تو بڑا تھا لیکن سامنے کی باونڈری کی لمبائی کم تھی ۔۔۔۔
اس کم لمبائی کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مخالف ٹیم کے باؤلروں کی خوب درگت بنائی۔۔۔
میری وہاں واہ واہ ہو گئی جیسے بھی ہو مزہ مجھے بھی بہت آیا جب بندہ اچھا پرفارم کرتا ہے تو اندر کی فیلنگ ہی کمال ہوتی ہیں۔۔۔۔
شام کو گھر آئے کھانا کھایا تو مامی نے اپنے دونوں بیٹوں کو ساتھ لیا اور اپنے بھایی کے گھر دوسرے گاوں چلی گئیں وہاں کوئی شادی کا فنکشن تھا۔۔۔
پیچھے رہ گئے ماموں میں اور سمیرہ ماموں چھت پر سونے چلے گئے میں بیٹھک میں اور امی سمیرہ اور مائرہ ایک کمرے میں سو گئیں۔۔۔۔
رات کا پتہ نہیں کونسا پہر تھا کہ میری آنکھ کھل گئی مجھے پیاس لگی تھی میں اٹھ کر پانی پیسنے صحن میں گیا۔۔۔۔
وہاں مجھے مائرہ بھی پانی پیتی ملی میرے اندر بچپن والا شیطان گھس گیا اس کا منہ دوسری ظرف تھا میں دائیں بائیں دیکھا کسی کو نہ پا کر لن تو پہلے ہی سو کر اٹھنے کی وجہ سے کھڑا تھا۔۔۔۔
لن کی کس کو پرواہ تھی وہ تو ویسے بھی کھڑا ہونے کے لیے تیار رہتا تھا۔۔۔۔
میں نے مائرہ کے پیچھے جا کر اپنا لن اس کے گانڈ سے لگا دیا وہ کرنٹ کھا کر دور ہو گئی۔۔۔
اس نے پھٹی پھٹی آنکھوں سے مڑ کر دیکھا اس کا ایک ہاتھ اپنے سینے پر تھا دوسرے ہاتھ میں جو گلاس تھا وہ نیچے گر گیا ۔۔۔۔
یہ تو فرش کچا تھا جس کہ وجہ سے آواز نہ آئی ورنہ اب تک سب لوگ جا چکے ہوتے۔۔۔
اس نے کھا جانے والی نظروں سے مجھے دیکھا اور بدتمیز ذرہ بھی تمیز نہیں ہے تم میں گھٹیا انسان ہو یہ کہتی ہوئی وہ اندر چلی گئی۔۔۔۔
میں جو یہ سمجھ رہا تھا کہ اس سے تو بچپن سے ہی گٹی جڑ چکی ہے اس کو پٹانا آسان ہو گا اس سب سوچ کو اس نے ایک ہلے میں بہا کر رکھ دیا۔۔۔۔
میں نے پانی پیا اور واپس بیٹھک میں آ کر لیٹ گیا کافی دیر جاگنے کے بعد نیند آئی ۔۔۔
صبح دیر سے اٹھا وہ بھی سمیرہ نے آ کر جگایا کہا لاٹ صاحب اٹھ جاو اور ناشتہ کر کو میں نے اور کام بھی کرنے ہیں۔۔۔۔
میں اٹھ کر واش روم تازہ دم ہو کر واپس باہر آیا تو سمیرہ کچن میں بیٹھی تھی اس نے مجھے ناشتہ دیا میں ناشتہ کرنے لگا۔۔۔
ناشتہ کرتے کرتے مجھے احساس ہوا کہ گھر
میں کچھ زیادہ کی خاموشی ہے میں نے سمیرہ سے پوچھ ہی لیا کہ امی کہاں ہیں۔۔۔
اس نے بتایا کہ وہ ابو یعنی میرے ماموں اور خالا کے ساتھ کسی کام سے گئی ہیں شام تک آئیں گی اور میں نے مائرہ کا پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ سکول گئی ہے اس کا آج ٹیسٹ تھا۔۔۔۔
میرے ذہن میں کوئی اور بات نہ آئی نہ ہی سمیرہ نے کوئی اور اشارہ دیا ناشتہ کیا اور واپس بیٹھک میں گھس کر کمپیوٹر پر ایک انڈین فلم لگا لی۔۔۔
فلم انڈین اداکار عمران ہاشمی کی تھی جس کے سین دیکھ کر لن تن گیا میرا اندر شہوت جاگ گئئ۔۔۔
میں نے ادھر کا سوچا نہ ادھر کا سوچا اٹھا اور اندر گھر والے حصے میں جا گھسا ادھر ادھر دیکھنے پر سمیرہ مجھے کمرے میں صفائی کرتی ملی۔۔۔۔
میں نے جا کر اس کو پکڑ لیا اپنے گلے لگایا تنا ہوا لن اس کے پیٹ میں جا لگا جھک کر اس کے لبوں پر لب رکھ کر رس کشید کرنے لگا۔۔۔۔
ساتھ ہی خود بخود میرے ہاتھ اس کے مموں پر چلے گئے وہ پسینے میں ڈوبی ہوئی تھی اس کے جسم سے پسینے کی بو آ رہی تھی ۔۔۔
مجھ تو شہوت سوار ہو چکی تھی مجھے وہ بو بھی اچھی لگ رہی تھی میں نے کسی بات کی پرواہ نہ کی مموں کو زور زور دبانے لگا ۔۔۔۔
ہونٹ چومتے چومتے میں اس کی گردن پر آتا گردن کو چومتا پھر ہونٹوں پر ہونٹ لے جاتا ۔۔۔۔
کبھی اس کی گال چومتا کبھی ٹھوڑی پر کس کرتا بے حد جنون میں مبتلا ہو گیا۔۔۔۔
اس کو بیڈ پر گرا لیا اور خود اوپر سوار ہو گیا اپنا ناڑا کھولا اس کی شلوار نیچے کی لن کو پھدی کے لبوں میں پھنسایا تو ٹوپی پر اس کی پھدی کا پانی لگنے سے ٹوپی گیلی ہو گئی۔۔۔۔
لن پر دباؤ بڑھایا ٹوپی اندر اتر گئئ میں نے کچھ توقف کیا پھر اور دباؤ بڑھایا لن کچھ مزید اندر گیا ۔۔۔۔
آج سمیرہ باجی کی پھدی کچھ زیادہ ہی گیلی تھی لن اندر اتر رہا تھا اور وہ روک بھی نہیں رہی تھی۔۔۔۔
میں نے مزید زور لگایا لن کچھ اور آگے چلا گیا یہاں سمیرہ باجی نے اپنا ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ کر مجھے مزید آگے کرنے سے روک دیا۔۔۔۔
میں نے لن کو جتنا اندر ہو چکا تھا اندر باہر کرنا شروع کیا کچھ دیر ایسے ہی کرنے کے بعد جب سمیرہ باجی نے اپنا ہاتھ میرے پیٹ سے ہٹا کر کمر پر رکھا ۔۔۔۔
میں نے لن کو آرام سے پیچھے کیا پنی گانڈ کو کس کر ایک زوردار گھسا مارا لن آدھے سے زیادہ پھدی میں اتر گیا ۔۔۔۔
لن کیا اترا سمیرہ کی حالت ذبح ہوتی بکری جیسی ہو گئئ اس نے دائیں بائیں سر گھماتے ہوئے چیخ ماری اور رونا شروع کر دیا۔۔۔۔
اس کی حالت دیکھ کر میری حالت پتلی ہونی چاہیے تھی لیکن میں نے لن کو آرام سے پیچھے کھینچا اور پھر ایک زور دار گھسا مار دیا ۔۔۔۔
یہ انسان کی فطرت ہے جب سیکس کر رہا ہوتا ہے اس کو مخالف جنس کو تکلیف دے کر تسکین ملتی ہے مجھ پر بھی اس وقت وہ ہی تسکین کے حصول کی خوہش حاوی ہو چکی تھی۔۔۔
لن تو پتہ نہیں کتنا اندر گیا لیکن سمیرہ باجی کی آنکھیں بند ہونے لگیں وہ نیم بے ہوشی کی کیفیت میں آگئی۔۔۔