میرے پاس چارپائی پر بہت آرام سے لیٹ گئی اس کے جسم کی چمک اس کم روشنی کے ماحول کو روشن کر رہی تھی۔۔۔
حسن کس کو کہتے ہیں اس اندھیری رات میں ٹمٹماتے دیے کی روشنی میں اس چمکتے بدن کو دیکھ کر مجھ پر یہ راز عیاں ہو رہا تھا ۔۔۔۔
میں آنکھوں بلا چھپکائے اسی کو دیکھ رہا تھا اس کا خوبصورت بدن اس کی بغیر بالوں کے ٹانگیں اس کی گوشت سے بھری ہوئی رانیں۔۔۔۔
اس کے سانس لینے کی آواز تک مجھے سنائی دے رہی تھی اس کو دیکھ کر دل کر رہا تھا ساری رات اس کے حسن کی تعریف ہی کرتا رہوں۔۔۔
سچ کہتے ہیں چھونپڑیوں میں بھی ہیرے مل جاتے ہیں یہ بھی ایک ایسا نایاب ہیرا تھی جس کو اس کی قدر کا احساس نہیں تھا۔۔۔
جب میں اس کو تکتا رہا تو اس نے اپنے شربتی لب کھولے اور بولی۔۔۔
کی اے کرنا اے تاں کر پھدی مار میری تے جاندا بن کی منہ چک کے بیٹھا ایں۔۔۔
اس کے منہ سے نکلنے والے یہ الفاظ اس کی تربیت اس کی صحبت کی عکاسی کر رہے تھے۔۔۔
میرا لن آج بیقرار تھا پھدی میں گھسنے کے لیے ابھی بھی اکڑا کھڑا تھا لیکن میں ایسے نہیں کرنا چاہتا تھا ۔۔۔
وہ چاہے جس قبیل سے تعلق رکھتی ہو اس کو میں اس کے حسن کا خراج پیش کرنا چاہتا تھا۔۔۔
میں نے اس کا ہاتھ تھاما اس کو بٹھایا اور اس کا منہ اپنی طرف گھما دیا۔۔۔۔
اپنے ہاتھ سے اس کے برا کو کھول کر اتار دیا اس کے ممے جو اس کی عمر کے لحاظ سے کافی بڑے تھے اچھل کر باہر نکلے ۔۔۔
میں نے اپنے ایک ہاتھ کو بڑھا کر ان دودھ کے چھلکتے جاموں کو تھام لیا مموں کی نرماہٹ نے لن کو اچھلنے ہر مجبور کر دیا۔۔۔
بڑے پیار سے اس کا ہاتھ تھاما اور اس کو چارپائی کے ساتھ اپنے سامنے کھڑا کر لیا۔۔۔
اس کے دودھ کے پیالے میرے منہ کے سامنے اگئے میں نے نرم ہاتھ رکھتے ہوئے دونوں پیالوں کو اپنے ہاتھوں میں بھر لیا ۔۔۔
اپنا منہ کھولا اپنے لب اس کے دودھ کے پیالوں پر رکھ دئیے اور چھوٹی چھوٹی پاریاں کرنے لگا۔۔۔۔
اس کے دودھ کے پیالوں پر جب لب رکھے تو مجھے اس کے جسم کی نزاکت کا ادراک ہوا۔۔۔
اتنے نرم اور ملائم کہ ہونٹ ہٹانے کو دل نہ کیا ہونٹوں سے مموں کے نپلز کے آ س پاس پاریاں کرتا ہوا نیچے سے اوپر جاتا ۔۔۔
ایک ممے کو چومتا تو دوسرے پر پیار سے ہاتھ پھیرتا جاتا لیکن اس بات کا خیال رکھا کہ نپل کو نہ چھو پاؤں۔۔۔۔
ایسے ہی کرتے کرتے میں نے اس کے مموں کا حدود دربعہ ماپا جب میرے ہونٹ مموں کو چومتے ہوئے ایک طرف یعنی دائیں طرف والی بغل یا بائیں طرف والی بغل کے پاس آتا تو اس کے جسم میں جھرجھری سی اٹھتی۔۔۔۔
کوئی پانچ منٹ تک جب میں صرف چومتا رہا تو اس نے اپنے جسم کو ہلانا شروع کر دیا ۔۔۔۔
اپنے سینے کر تنے دودھ کے چشموں کو میری طرف بڑھانے لگی لیکن ابھی مکمل طور کر کھل کر نہیں کر رہی تھی۔۔۔
دو منٹ اور گزرے ہوں گے کہ اس کا ہاتھ میرے سر پر آگیا اس نے میرا سر اپنے سینے پر تنے غباروں پر دبانا شروع کر دیا۔۔۔۔
اس کے جسم سے اٹھتی گرمی کی مہک نے بھی مجھے اس کے اندر کا احوال بیان کر دیا۔۔۔
میں نے ثوبیہ پر ترس کھاتے ہوئے اپنی زبان نکالی اور مموں پر اکڑے نپل کے آس پاس پھیرنی شروع کر دی ۔۔۔
ثوبیہ کا جسم تڑپنے لگا اس کے اندر آگ بھڑک اٹھی اس نے میرے سر کو دبانا شروع کر دیا۔۔۔۔
ایک ہاتھ سے ایک ممے کو اپنی مٹھی میں جکڑ لیا دوسرے پر زبان پھیرتا رہا خالی ہاتھ کو استعمال میں لایا اس کی پھدی پر رکھ دیا۔۔۔۔
اس کی پھدی آگ کا گولا بنی ہویی تھی میرا ہاتھ لگا تو اندر سے اٹھتی آگ کی تپش مجھے اپنے ہاتھ پر محسوس ہوئی۔۔۔۔
میں نے اپنی مٹھی میں اس کی پھدی کو بھر لیا اور دبانے لگا۔۔۔
ثوبیہ اس دہرے حملے سے تڑپ اٹھی اس نے اپنی دونوں ٹانگیں بھینچ لیں میرا ہاتھ دبانے لگی۔۔۔
کچھ دیر اس کے مموں پر نپل چھوڑ کر زبان پھیرتا رہا اس کے بعد زبان کو اس کے ایک ممے کے نپل پر لگایا ۔۔۔
جیسے کی زبان نے نپل کو چھویا ثوبیہ کے جسم کو ایک جھٹکا لگا اس نے میرا سر پورے زور سے ممے پر دبا دیا۔۔۔۔
مما جتنا میرے منہ میں جا سکتا تھا چلا گیا میں ںے مما منہ میں لے کر اپنی زبان نپل پر پھیرنا شروع کر دی دوسرے کو ہاتھ سے دبانے لگا۔۔۔۔
اس نے اپنی ایک ٹانگ دوسری کے اوپر سے گزار کر میرا ہاتھ اچھی طرح اپنی پھدی پر دبا لیا تھا۔۔۔
میں اس کے ایک ممے کو چوستے ہوئے زبان نپل پر بھی پھیر رہا تھا ساتھ ساتھ جتنا ہاتھ پھدی پر حرکت کر سکتا تھا اس کو ہلا رہا تھا۔۔۔
اپنی کوشش میں کامیاب ہوا ایک انگلی اس کی پھدی کے لبوں میں ڈال دی وہ تڑپنے لگی ۔۔۔
میں نے ایک ممے سے تسلی کرنے کے بعد دوسرے پر منہ رکھ دیا پہلے والے کو ہاتھ میں پکڑنے کی کوشش کی لیکن ہاتھ وہاں نہ پہنچ سکا ۔۔۔۔
دوسرے ممے کو اچھی طرح چوسنے لگا ثوبیہ سے جب برداشت نہ ہوا تو اس نے مجھے دھکا دے کر چارپائی پر گرا لیا ۔۔۔۔
میرا سر چارپائی کے ساتھ دیوار پر جا لگا دیوار کچی تھی درد تو نہ ہویی لیکن سر جھنجھنا گیا۔۔۔
اس نے مجھے لٹا کر خود میرے اوپر چڑھائی کر دی اور بولی لیکن ایسے لگا جیسے کنویں سے آواز آ رہی ہو۔۔۔
جلدی کرو جو کرنے آئے ہو میرے پاس اتنا وقت نہیں ہے۔۔۔
میں اس کی تڑپ سمجھ گیا وہ جو کہہ رہی تھی اس کا مطلب وہ نہیں تھا ۔۔۔
میں نے لیٹے لیٹے ہی شلوار کا ناڑا کھولا اس کو چارپائی پر آنے کا کہا وہ چارپائی پر میرے ساتھ ہی پاؤں لٹکا کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
میں نے ایک ہاتھ اس کی کمر پر پھیرنا شروع کر دیا اور دوسرے سے شلوار اتارنے لگا شلوار اتار کر میں اٹھ کر بیٹھ گیا اور اپنی قمیض بھی اتار دی ۔۔۔
اس نے جب مجھے قمیض اتارتے دیکھا تو بولی یہ کیوں اتارا پیا ایں ایندی کی ضرورت اے۔۔۔
میں نے کہا مجھے مزہ نہیں آتا یہ پہنی ہو تو بوجھ محسوس ہوتا ہے۔۔۔
وہ چپ ہو گئی اس نے اپنی نظروں کا رخ اپنے پاؤں کی طرف کر لیا ۔۔۔
میں قمیض کے بعد بنیان بھی اتار کر ساتھ والی چارپائی پر رکھی اور اس کے سینے پر ہاتھ رکھ کر اس کو لٹا لیا۔۔۔
پھر خود اس کے اوپر دونوں طرف پاؤں رکھ کر بیٹھ گیا اس طرح بیٹھا کہ اس پر میرا وزن نہ پڑے۔۔۔
میں نے اپنے دونوں ہاتھوں میں اس کے ممے پکڑے اور دبانے لگا اچھی طرح زور سے دبانے لگا میرا لن اس کی پھدی کے پاس لگ رہا تھا۔۔۔
پھر اس کے اوپر جھک کر اس کی گردن پر ہونٹ رکھے اور چومتا ہوا کان کی لو تک گیا وہاں سے اس کے گال پر آیا۔۔۔۔
گال کو چومتا ہوا اس کی ٹھوڑی اور پھر دوسرے کان کی لو تک گیا ہاتھ اس کے مموں پر ہی رکھے۔۔۔
اس نے اپنی ٹنگیں اکٹھی کرکے پاؤں چارپائی پر رکھ لیے جس سے مجھے آگے ہونا پڑا ۔۔۔
میرا لن اس کے پیٹ کر لگا اس نے اپنی ٹانگیں کھول دیں وہ اب زیادہ تڑپ رہی تھی اس کے پیٹ پر میرا لن پیٹ کی اتھل پتھل سے اوپر نیچے ہو رہا تھا۔۔۔۔
اس نے ٹانگیں کھول کر مجھے میرے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر پیچھے دھیکیلا میں اس کی ٹانگوں کے درمیان آگیا ۔۔۔
میرا منہ اس کی گردن سے اٹھ گیا میرا لن اب اس کی پھدی کو چھو رہا تھا اس کی پھدی کے لب پانی سے بھر چکے تھے جس سے میرے لن کی ٹوپی کر بھی کچھ گیلا گیلا سا لگا۔۔۔
میں نے خود کو ایڈجسٹ کرنے کے لیے اس کی کمر پر ہاتھ رکھا اور اس کو اوپر کیا وہ اوپر ہو گئی اس کا سر دیوار سے جا لگا۔۔۔
میں نے لن کو ہاتھ میں پکڑا سیدھا ہو کر بیٹھ گیا پیچھے چارپائی کا کنارا تھا اس کے ڈنڈے پر بیٹھا تھا ۔۔۔
مجھے یہ پوزیشن ٹھیک نہ لگی تو اس کے اوپر جھک کر اس کے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اس کو گھمانے لگا وہ خود کی سمجھدار تھی سب سمجھ گئی اور وہاں سے اٹھ کر اس نے دوسری طرف اپنے آپ کو کر لیا۔۔۔
اب میں بھی اس کی ٹانگوں میں سیدھا بیٹھ گیا جگہ کھلی مل گئی تو لن کو ہاتھ۔میں پکڑ کر اس کی سختی چیک کی اور ثوبیہ کی پھدی کے لبوں میں رکھ کر اس کے اوپر جھک گیا۔۔۔
میں نے ثوبیہ کی آنکھوں میں دیکھا اس کے مموں پر داایاں ہاتھ رکھا اور اپنے لب اس کے رسیلے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔۔۔۔
اس نے تڑپ کر میرے ہونٹوں کو چومنا شروع کر دیا وہ صرف چومنا جانتی تھی۔۔۔
میں نے اس کا اوپر والا ہونٹ میرے ہونٹوں میں لیا اور چوسنے لگا اس طرح کچھ دیر کرنے سے اس نے بھی میرا ساتھ دینا شروع کر دیا۔۔۔۔
اپنے ہاتھ کی انگلیوں کی مدد سے ممے کے نپل سے کھیلتے ہوئے اس کے ہونٹوں سے رس کشید کرتا ہے۔۔۔۔
لن پھدی کے لبوں کو چھوتا رہا اس نے نیچے سے گانڈ اٹھا کر لن سے پھدی کو رگڑنا شروع کر دیا۔۔۔۔
میں نے اس کی دونوں ٹانگوں کو اپنے بازوؤں کے ساتھ لگا کر اوپر اٹھا لیا ۔۔ لن کو پھدی پررگڑنے لگا لن پھدی کے لبوں میں سیدھے رخ رگڑ کھاتا ہوا اوپر جاتا نیچے آتا۔۔۔
جب لن اس کی پھدی کے لبوں میں رگڑ کھاتے ہوئے دانے سے رگڑ کھاتا تو وہ میرے ہونٹوں کو زور سے دبا لیتی اپنی گانڈ اٹھا کر پھدی کو لن پر دباتی۔۔۔۔
ہاتھ کی انگلیوں سے نپل چھوڑ کر میں نے پورا مما ہاتھ میں لے لیا اور دبانے لگا نیچے سے لن کو زور زور سے پھدی پر رگڑنے لگا۔۔۔
اس کے جسم میں زلزلہ آگیا اس نے اپنا ہاتھ نیچے لیجا کر لن کو پکڑ کر پھدی کے سوراخ پر رکھا ہونٹوں کو چبانے کے انداز میں چوستے ہوئے اپنی گانڈ سے اوپر کی طرف زور لگایا۔۔۔۔
میں نے بھی مزید تڑپانا مناسب نہ سمجھا لن کو ایک زور دار جھٹکا دیا اففففف لن پھنستا ہوا پھدی میں گھس گیا۔۔۔
ثوبیہ مزے میں ڈوبی تھی اس جھٹکے سے اس نے میرے کندھوں پر ہاتھ رکھ کر اپنی طرف کھینچا ۔۔۔۔
لن ابھی آدھا بھی نہیں گیا تھا میں نے لن تھوڑا پیچھے کھینچا پھر پہلے کی نسبت ذرہ رک کر زور سے جھٹکا مارا اس کی گیلی پھدی میں لن اپنا رستہ بناتا اترتا گیا۔۔۔۔
اس کے دانت میرے ہونٹوں میں پیوست ہونے لگی منہ میں کڑواہٹ بھرنے لگی اس کے ہاتھ جو مجھے اپنی طرف دبا رہے تھے پیچھے دھکیلنے لگے۔۔۔۔
میں وہاں ہی رک گیا اس نے اپنا منہ میرے ہونٹوں سے ہٹایا میں اس کے چہرے پر کرب کے آثار دیکھے میرے اندر تسکین کی لہریں اترنے لگیں۔۔۔۔
میں اس کی ٹانگوں کو اسی طرح اپنے بازوؤں کے شکنجے میں لیے لن کو آہستہ آہستہ باہر کھینچا ابھی اس نے سکھ کا سانس بھی نہیں لیا تھا۔۔۔۔
میں نے ایک بار پھر لن کو ایک جاندار گھسا مارا لن اندر اپنی پوری طاقت کے ساتھ سارے کا سارا اتر گیا۔۔۔۔
اس کے منہ سے ہلکی مگر دلدوز چیخ نکلی جس کو اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر دبا لیا اور دوسرے ہاتھ سے مجھے پیچھے دھکیلنے لگی۔۔۔
لیکن اب وہ وقت گزر گیا تھا میرا شیش ناگ اس کی سرنگ میں اتر چکا تھا اب اس کی تڑپ اس کا رونا دھونا مجھے روک نہیں سکتا تھا۔۔۔
میں نے ایک دو بار پھر اسی طرح لن نکال نکال کر اندر باہر کیا لن پھدی کے پانی سے پہلے ہی تر ہو چکا تھا اس طرح کرنے سے مکمل روان تو نہ ہوا لیکن پہلے کی نسبت آسانی سے اندر جانے لگا۔۔۔۔
پھر ہوا اصل کھیل شروع لن کی سپیڈ کا پھدی کی برداشت کا مجھے ثوبیہ کے رویے کو دیکھ کر ہی پتہ چل گیا تھا کہ وہ کوئی شریف لڑکی نہیں ہے۔۔۔
اصل میں میری معلومات کے مطابق اس کی ماں کا کردار بھی ایسا ہی تھا جس کی وجہ سے ثوبیہ کا باپ گھر نہیں آتا تھا ثوبیہ کو بھی اس کی ماں نے اپنے جیسا بنا دیا یا اس کی خوبصورتی پر بھوکے کتوں کی طرح جھپٹتے ہوں گے۔۔۔
ثوبیہ کی ماں یعنی نجاں نے لوگوں کی پسند دیکھتے ہوئے اس کے اچھے دام وصول کرنے کے چکر میں اس پھول کو کیچڑ میں پھینک دیا تھا۔۔۔
خیر بات کہیں اور نکل جائے گی آتے ہیں چدائی کے سین کی طرف میرا جب کچھ رواں ہوا تو میں نے آہستہ آہستہ اندر باہر کرنا شروع کر دیا ۔۔۔
اسی وقت دروازہ کھلنے کی آواز آئی لیکن میں نے کوئی پرواہ نہ کی لن کی سپیڈ بڑھا دی ۔۔۔
نیچے سے ثوبیہ کہ ہمممم آہہمممم کی آواز آ رہی تھی جیسے وہ اپنا منہ دبا کر برداشت ک رہی ہو۔۔۔
کچھ کی دیر میں ثوبیہ کا انداز بدلنے لگا اب وہ اپنے جسم کو ڈھیلا چھوڑ چکی تھی میں نے بھی اس کی ٹانگوں کو چھوڑ دیا ۔۔۔
لن کو ہھدی سے نکال کر ہاتھ میں پکڑا اور گھوم کر دروازے کی سمت دیکھا دروازے میں نجاں کھڑی اپنی بیٹی کو چدواتے دیکھ رہی تھی۔۔۔
اس کی نظر جب میرے لن پر پڑی تو اس نے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا آہ ایڈا وڈا ۔۔۔۔
میں نے اس کی نظروں کے سامنے ثوبیہ کی ایک وہ ٹانگ جو نجاں کی طرف تھی اٹھائی لن کو پھدی پر رکھا اور ایک ہی جھٹکے میں زور سے اندر کر دیا ۔۔۔۔
ثوبیہ کی بس ہلکی سی آہ کی آواز آئی پھر میں نے ایک ردھم سے پھدی مارنی شروع کر دی۔۔۔۔
نجاں باہر چلی گئی میں اسی پوزیشن میں بیٹھ کر لن کو پھدی کی سیر کروانے لگا۔۔۔
لن کے ہر جھٹکے کر ثوبیہ کے ممے ہل رہے تھے اسکے سفید چمکتے ممے اپنی ہوشربائی دکھا رہے ان کو ہلتا دیکھ کر میرا جوش بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔
میں نے اپنا ایک ہاتھ اس کے سینے پر دودھ کی سفید پہاڑیوں پر رکھ دیا اور ان سے کھیلتے ہوئے لن ایک سپیڈ سے اندر باہر کرنے لگا۔۔۔۔
ثوبیہ جلد ہی مزے سے سسکاریاں بھرنے لگی آہ آہ افففف ہممممممم ہممم اہ آہ آہ میں اس کی زبان سے سننا چاہتا تھا لیکن وہ صرف آہ اہ پر ہی گزارا کر رہی تھی۔۔۔۔
میں کر جھٹکا پہلے کی نسبت زور سے مارتا ہر بار اس کی ٹانگ کو آگے کی طرف لے جاتا ۔۔۔
اس پوزیشن میں بیٹھ کر زیادہ دیر نہ کر سکا میں اس کی ٹانگیں کھول کر اوپر لیٹ گیا اس کے ممے میرے سینے میں دب گئے۔۔۔۔
پھر لن کو ایک اور سے لے کے ساتھ تھوڑا ٹیڑھا کر کے پھدی میں گھسانے لگا اس انداز سے ثوبیہ کی سسکیاں بلند ہونے لگیں اس نے اپنا ہاتھ میرے پیٹ پر رکھ دیا۔۔۔
میں ٹیڑھا ہو کر لن کو زور زور سے اندر باہر کرنے کرتا رہا اس طرح ایک منٹ میں کی ثوبیہ کا جسم سخت ہونے لگا وہ اپنے پیک پوائنٹ پر پہنچ گئی ۔۔۔۔
اس کے جسم نے زوردار جھٹکا کھایا لن کو اپنی گانڈ اٹھا کر اپنی پھدی کی گہرائی تک لے گئی جب اس کے جسم سے جھٹکا کھایا ۔۔۔
اس کے منہ سے ایک غراہٹ سی نکلی وہ اچھلی اس کا پورا جسم اوپر کو اٹھا جس سے میرا توازن خراب ہوا اور لن پھدی سے نکل گیا۔۔۔۔
اس نے خود ہی لن کو جلدی سے ہاتھ کی مدد سے پھدی میں ڈالا میں جھٹکا مارا سار لن اندر اتار دیا۔۔۔
اس نے کئی جھٹکے کھائے مجھے اپنے لن پھدی بند ہوتی کھلتی محسوس ہوئی لن کو اس کی پھدی نے اپنی گرم گرم منی سے نہلا دیا۔۔۔۔
ثوبیہ تو فارغ ہو گئی تھی لیکن میرا لن آج بہت خوار ہو چکا تھا اس لیے ابھی اپنی اکڑ کے ساتھ کھڑا تھا۔۔۔۔
جب ثوبیہ کا جسم نارمل ہو گیا تو میں نے ایک بار پھر لن کا پسٹن چلانا شروع کر دیا اور انے واہ اس کی پھدی کی دھلائی شروع کر دی۔۔۔۔
ایک ہی پوزیشن میں چودتے ہوئے اب میں تھکاوٹ کا شکار ہو گیا تھا میں ثوبیہ کو چارپائی پر اس طرح کیا کہ اس کی ٹانگیں نیچے لٹک گییں۔۔۔
میں نیچے اترا کھڑے ہو کر اس کی پھدی پر لن رکھ کر ایک ہی جھٹکے میں اندر کر دیا ۔۔۔
اب ثوبیہ کی پھدی بھی رواں ہو چکی تھی اس لیے لن اندر تک جا رہا تھا۔۔۔
اس کی ٹاںگیں اٹھائے میں گھسے پر گھسا مارنے لگا ثوبیہ کی آہ آہ بند ہو چکی تھی وہ آرام سے لیٹی تھی اب میرا امتحان تھا۔۔۔
ایسے ہی کافی دیر گھسے مارتا رہا اس بار ثوبیہ کا کوئی ردعمل نہیں تھا اس کی ماں نجاں دو بار چکر لگا کر جا چکی تھی۔۔۔
میں لگا رہا جب تھکنے لگا تو خود چارپائی پر لیٹ گیا اور ثوبیہ کو کہا میرے اوپر آجاؤ وہ چپ کرکے میرے اوپر آئی اور ٹانگیں دونوں سائڈ پر رکھ کر لیٹ گئی۔۔۔
میں نے ہاتھ سے لن پکڑ کر اس کی پھدی ڈالا اور نیچے سے گھسے مارنے لگا ثوبیہ کے ممے میرے سینے میں دب گئے تھے۔۔۔
میں اس کی گانڈ پر ہاتھ رکھے ہوئے تھے گاند کو بھی دبا رہا تھا اس کی گردن پر ہونٹ رکھے اور چومنے لگا۔۔۔۔
ثوبیہ کی سانس تیز چلنے لگی میرا سپیڈ بڑھنے لگی لن پھدی میں گھپا گھپ جا رہا تھا۔۔۔
کچھ ہی دیر میں ثوبیہ نے خود ہی میرے اوپر ہلنا شروع کر دیا وہ لیٹے لیٹے آگے پیچھے ہونے لگی۔۔۔
مجھے بھی لگنے لگا کہ اب پیک پوائنٹ آ رہا ہے اس لیے میں نے ثوبیہ کو اٹھا کر اپنے نیچے کیا اور اوپر ا کر اس کی ٹانگیں اٹھا کر کندھوں پر رکھیں اور لن کو پھدی پر رکھ کر ایک زوردار جھٹکا مارا لن پھدی کی گہرائی میں اتر گیا ۔۔۔
ثوبیہ کی پھر آہ آہ نکلی لیکن اس بار میں مزے میں ڈوبا تھا اس لیے کوئی رعایت نہ دی اور جھٹکے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔۔
ثوبیہ کا بھی جسم اکڑنے لگا میرا لن بھی ہھولنے لگا جس کی وجہ سے پھدی تنگ محسوس ہو رہی تھی۔۔۔
سپید میں کویی کمی نہ انے دی ثوبیہ کی آہ آہ ہمممممم آہہہ ہائے امیییی کی آوازیں اب مسلسل انے لگیں۔۔۔
ثوبیہ نے اپنے ہاتھ میرے کندھوں پر رکھ لیے میں اور جھک گیا تو اس نے مجھے اپنے اوپر گرانے کی کوشش کی لیکن ٹانگیں بیچ میں تھیں نہ گرا سکی۔۔۔
لن کو اپنے اخری جھٹکوں میں فل سپیڈ سے اندر باہر کرتے میں نے اس کے مموں کو دونوں ہاتھوں میں دبانا شروع کر دیا۔۔۔
ثوبیہ نے اپنی انکھیں بند کیں میں نے بھج سرور میں ڈوبتے آنکھوں کو بند کیا اور لن کے اندر جانے کے منظر کو ذہن میں لاتے اس کے دودھ دباتے ہوئے آخری جاندار گھسے مارنے شروع کر دئیے۔۔۔
میرے منہ سے بھی آہ ہممم اور غوں غوں کی آوازیں آنے لگیں میرا لن فل اکڑ گیا ایسے لگا جیسے پھٹ جائے گا ۔۔۔
ثوبیہ کی پھدی بھی تنگ ہوتی گئی اس نے اہنی گانڈ اٹھا کر ہھدی کو لن پر مارنا شروع کیا ۔۔۔
چند سیکنڈ میں ہی لن لن ایک پچکاری اس کی پھدی میں ماری میں اس کے اوپر لیٹتا چلا گیا۔۔۔
ثوبیہ کی پھدی نے بھی اپنا پانی لن کے پانی میں ملا دیا جیسے ہی لن کو پھدی کے پانی کا ذائقہ ملا لن بے قابو ہو گیا۔۔۔
لن نے پھدی کے اندر پھول پھول کر اپنا پانی نکالا اور میں نڈھال ہوتا گیا اس کی ٹانگوں کو چھوڑ کر اس کے بھرے بھرے سینے پر لیٹتا چلا گیا۔۔۔
کچھ دیر فارغ ہوتے رہے اس کے بعد ثوبیہ نے مجھے اپنے اوپر سے اتار کر ایک طرف کیا اور اپنے کپڑے پہننے لگی میں نے بھی کپڑے پہنے۔۔۔
باہر آئے ساتھ والے کمرے میں نجاں اور فجا بیٹھے باتیں کر رہے تھے فجے نے مجھے دیکھا اور ثوبیہ کو پھر بولا ایسا کبھی پہلے لیا ہے۔۔۔
ثوبیہ نے میری طرف دیکھا اور مسکرا دی ہھر آہستہ سے میرے کان میں بولی پھر کب آو گے ۔۔۔
میں نے بھی اسی طرح کہا ابھی چلتے ہیں اندر آجاؤ۔۔۔
ثوبیہ نے مجھے دیکھا اور مسکرانے لگی نجاں کی آنکھیں میرے لن کی جگہ کو دیکھ رہی تھیں جو شلوار کے اندر چھپا ہوا تھا۔۔۔
ٹائم دیکھا تو 2 بج رہے تھے میں نے کہا فجے چلیں صبح اٹھنا بھی ہے پھر کام بھی ذمے لگیں گے۔۔۔
ہمارے ہاں ایک رواج ہے جو اب بھی اسی طرح جاری و ساری ہے باقی دنیا بارات کے بعد ولیمہ کرتے ہیں ہمارے ہاں اس کا الٹ ہوتا ہے۔۔۔
اگلے دن ولیمہ تھا جس کی وجہ سے ہمیں یقین تھا سارا دن ہماری پاٹنی ہے اس لیے میں نے فجے کو چلنے کا کہا۔۔۔
ہم واپس آئے اور سو گئے وہی ہوا جس کا مجھے رات کو سونے سے پہلے ڈر تھا ۔۔۔
ہمیں 5 بجے اٹھا لیا گیا اور ہماری ڈیوٹی شہر سے سامان لانے کی تھی جس کے لیے ہمیں ایک موٹر سائیکل دی گئی جو کہ مجھے چلانی نہیں آتی تھج فجا چلا لیتا تھا۔۔۔
پھر سارا دن اسی طرح گزر گیا رات کو مہندی تھی جس میں کافی ہنگامہ ہونے والا تھا۔۔۔
مہندی کے لیے کوئی تیاری شیاری نہیں تھی سارا دن ہمیں بھگا بھگا کر ہماری بنڈ پاڑ دی تھی اب ہم نے لن کرنا تھا ۔۔۔
پھر بھی ہمیں جو چیز پسند تھی اور ان سب کزنوں سے ہٹ کر مجھے جو اچھا لگتا تھا وہ تھا لڑکیوں کا لچکتا بل کھاتا بدن اتھل پتھل ہوتے ان کے ممے اور مٹکتی گانڈ۔۔۔
یہ سب میں دیکھ سکتا تھا تو مہندی میں ہی کیونکہ یہ ایک آخری رات تھی جس رات دیر تک شور شرابہ چلتا تھا۔۔۔۔
لڑکیاں ساری ساری بھی اپنے اپنے فن کا مظاہرہ ایک دوسرے سے بڑھ کر کرتی ہیں۔۔۔
مجھے تو فرحی باجی کا بھرا بھرا جسم بھاری گانڈ اور بڑے بڑے دودھ افففف ان سب کا اچھلنا دیکھنے کی چاہ ہو رہی تھی۔۔۔
ایک نظارہ کیا دیکھ لیا تھا میں تو بار بار وہ دیکھنے کی خواہش کر رہا تھا سارا دن جیسے بھی مصروف رہا بار بار فرحی باجی کے جسم کی لچک اور ان کے ڈانس کا ہوش ربا انداز بار بار آنکھوں کے سامنے آرہا تھا۔۔۔۔
خیر میں بھی نہایا اور قدرے اچھا سوٹ پہن لیا پھر مہندی دیکھنے کے لیے میں بھی سب کزنوں میں شامل۔ ہو گیا۔۔۔
مہندی کی ایک رسم یہ بھی ہوتی ہے کوئی ایک دولہا کی مہندی سجا کر لاتا ہے جس میں زیادہ تر لڑکیاں ہی ہوتی ہیں۔۔۔
اس دن جن کی طرف سے مہندی آنی تھی وہ میرے تایا کا بیٹا تھا میری بھابی یعنی کزن کی بیگم نے لانی تھی۔۔۔
اس لیے میری سب کزنز شامل تھیں جن میں فرح باجی بھی شامل تھی مجھے بھی انہوں نے ایک پلیٹ میں موم بتی جلا کر پکڑا دی۔۔۔۔
میں نے نظریں گھما کر فرحی باجی کو ڈھونڈ لیا اور ایک دو کزن جن میں بالو اور ججی بھی شامل تھا ان کے ایک طرف فرحی باجی تھی ۔۔۔۔
میں فرح باجی والی سائیڈ پر ہو گیا اب ہوا تھا ٹھرک پن کا کا اثر مجھ پر میں نے جان بوجھ کر وہ جگہ چنی تھی۔۔۔
فرحی باجی کے قریب کھڑے ہونے کا ایک خاص مقصد تھا کہ میں بہانے سے ان کے جسم سے اپنا جسم ٹچ کر سکوں گا۔۔۔۔
میں اس مقصد میں کامیاب بھی ہوا کیونکہ جب مہندی لے کر چلے تو ایک ہلچل سی مچ گئی جس میں فرحی باجی خود ہی میرے ساتھ ٹچ ہو گییں۔۔۔
ان کے بھاری ممے مجھے اپنے بازو پر محسوس ہوئے میں نے جان بوجھ کر اپنے بازو کو پیچھے کی طرف حرکت کی تو فرحی باجی نے میرے کندھے پر تھپڑ مار کر کہا بلو آرام نال چل پلیٹ گر جائے گی۔۔۔
میں نے ان کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے کہا کیوں جی میں کی کیوں آرام سے چلوں پیچھے آپ ہو آپ سنبھل کر چلیں۔۔۔
فرح باجی نے میرے کندھے پر ہاتھ کا دباؤ ڈال کر کچھ کہا جو مجھے سنائی نہ دیا لیکن ان کے مموں کا بازو پر بڑھتا دباؤ میرے لن میں کرنٹ دوڑا گیا تھا۔۔۔۔
میں نے گردن گھما کر اپنا چہرہ ان کے پاس کرتے ہوئے کہا مجھے کچھ سمجھ نہیں آئی۔۔۔
فرحی باجی نے میرا منہ اپنے ہاتھ سے سیدھا کرتے ہوئے کہا کچھ نہیں سیدھا دیکھو۔۔۔
اسی طرح ان کے جسم سے ٹچ ہوتے آگے بڑھتے گئے کچھ دیر بعد فرح باجی میرے آگے آگئیں کیونکہ ہم رک گئے تھے ۔۔۔
فرح باجی کا آگے آنا تھا کہ میرا لن مجھے مجبور کرنے لگا کہ لگا دے گانڈ کے ساتھ لیکن ان کی گانڈ بھی تو نیچے تھی ۔۔۔
فرح باجی کا قد مجھ سے کافی چھوٹا تھا جس وجہ سے جب میں نے لن ان کی گانڈ سے ٹچ کرنے کی کوشش کی تو وہ ان کی کمر میں لگا۔۔۔
فرحی باجی نے گھوم کر میری طرف دیکھا میں ایسے کی ادھر ادھر نظریں گھمانا شروع کر دیں۔۔۔
ساتھ کی اونچی آواز میں بولا جلدی چلو اتنی دیر ہو گیی ہے اب کھڑا نہیں ہوا جارہا اور اتنہ دیر ہو گئی ہے ابھی مہندی کی باقی رسمیں بھی ہیں ۔۔۔
فرح نے میرے قریب ہو کر پیچھے کو گردن گھما کر دیکھا اور بولی تینوں زیادہ جلدی اے۔۔۔
میں ہنس کر رہ گیا کیونکہ میں سمجھا کہ اس نے میری چوری پکڑ لی ہے۔۔۔
اسی طرح ہم مہندی لے کر پہنچ گئے تو میرا سارا مزہ کرکرا ہو گیا ۔۔۔
کیونکہ وہاں ہمیں الگ کھڑا ہونا پڑا جہاں صرف لڑکے تھے۔۔۔
لیکن میں آج سب لڑکیوں کو دیکھ رہا تھا بار بار کوئی نہ کوئی مجھے اچھی لگتی پھر جب دوسری کو دیکھتا تو مجھے پہلی والی کی نسبت وہ اچھی لگتی۔۔۔۔
آخر میں میری نظر ناہید پر جا کر اٹک گئی وہ تو حسن کی جوالا مکھی لگ رہی تھی۔۔۔
شوخ رنگ کے سوٹ میں کھلے بال نفاست سے کیا گیا میک اپ کھلے گلے میں سے جھلکتے اس کے ممے افففف میں دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔۔
وہ بھی میری طرف ہی دیکھ رہی تھی میں اگ اس کوشش میں تھا کہ کسی طرح اس سے بات کر سکوں ۔۔۔
موقع ملنا مشکل لگ رہا تھا آخر ناہید وہاں سے پیچھے ہٹی مجھے دیکھتے ہوئے اس نے چھنو سے کچھ کہا چھنو کو بھی میں نے ابھی دیکھا تھا۔۔۔
آج تو مجھ پر ہر طرف سے بجلیاں گر رہی تھیں چھنو بھی خوب بن ٹھن کر آئی تھی۔۔۔
ناہید چھنو سے بات کرکے آہستہ آہستہ پیچھے ہٹتے ہوئے باہر نکلی ۔۔۔
رش سے دور ہو کر وہ ہمارے گھر والی طرف چل دی میں بھی اس کے پیچھے چل پڑا۔۔۔
وہ آگے چلتی ہوئی ادھر ادھر دیکھ کر کنارے گھر کے میں گیٹ کے پاس جا کر رکی پیچھے مڑ کر دیکھا۔۔۔۔
گیٹ کا چھوٹا دروازہ کھول کر باہر دیکھا اور باہر نکل گئی میں بھی تیزی سے اس کے پیچھے گیا۔۔۔
ہمارے گیٹ کے سامنے کی ڈیرہ بنا ہوا تھا جو آج ویران تھا ڈیرے کے ساتھ والا گھر ناہید کا تھا۔۔۔
ناہید نہ تو اپنے گھر کی طرف گئی نہ ہی ڈیرے کی طرف وہ کھیت میں اتر گئی ۔۔۔
کھیت ان دنوں خالی تھا رات میں کونسا دور سے کچھ نظر آتا تھا ۔۔۔
یہ وہ ہی کھیت تھا جس میں ناہید اور میں نے پہلی بار بھا کو عاصمہ کی پھدی مارے دیکھا تھا۔۔۔
ناہید چلتے چلتے اس کھیت کے دوسرے کنارے جا کر رک گئی میں اس سے کچھ ہی فاصلے پر جا رہا تھا۔۔۔
میں بھی اس کے پاس جا پہنچا میں نے ناہید کو جاتے ہی گلے لگا لیا ناہید نے بھی مجھے اپنی باہوں میں بھرلیا۔۔۔۔
کچھ دیر کس کر گلے ملے میں نے اس کے کان میں پوچھا کیا حال ہیں۔۔۔
ناہید۔۔۔ ٹھیک ہوں لیکن تم تو بھول ہی گئے ہو۔۔۔
میں۔۔۔ میں بھلا تمہیں بھول سکتا ہوں۔۔۔
ناہید۔۔۔ مجھے سب پتہ ہے جو تم کرتے ہو اب ایسے نہ کہو بھول نہیں سکتے۔۔۔
میں۔۔۔ کیا پتہ ہے۔۔؟۔
ناہید ۔۔۔ وہ سب جو تم کرتے پھرتے ہو ۔۔۔
میں۔۔۔ کیا کرتا پھرتا ہوں میں نے اس بار بات کرتے کرتے اس کے کان کی لو چوم لی۔۔۔
ناہید سئیی کیا اور بولی۔۔
ناہید۔۔۔ بلو جو کچھ میں نے سنا ہے چھنو نے بتایا ویسے تو مجھے اس پر یقین نہیں لیکن جو اس نے کہا اور جس کے بارے میں کہا مجھے اس پر بھی یقین نہیں ۔۔۔
میں ناہید کی اس الجھی ہویی کو سن کر خود الجھ گیا۔۔۔
میں۔۔۔ کھل کر بتاو کیا کہا چھنو اور کس کے بارے میں کہا۔۔۔
ناہید۔۔۔ کچھ سوچتے ہوئے تمہیں برا لگے گا رہنے دو۔۔۔
میں۔۔۔ ناہید بتاو مجھے برا نہیں لگے گا۔۔۔
ناہید۔۔۔ مجھے وہ بات کرنا ہی اچھا نہیں لگ رہا چھنو ایسے ہی کہتی ہو گی۔۔۔
میں ۔ ۔۔۔ اب بتانا پڑے گا اس نے جو بھی کہا ہے مجھے سب بتاؤ۔۔۔
ناہید۔۔۔ مجھے وہ سب کہتے ہوئے شرم آ رہی ہے اس کو تو کوئی فرق ہی نہیں پڑتا چھوڑو اس بات کو۔۔۔
میں۔۔۔ نہیں پہلے تم بتاؤ نہیں تو میں بات نہیں کروں گا ۔۔۔
ناہید۔۔۔ بلو تمہیں میری قسم تم مجھ سے ناراض نہیں ہو گے۔۔۔
میں۔۔۔ نہیں ہوتا ناراض بتاؤ ۔۔۔
ناہید ۔۔۔ نہیں قسم کھاؤ۔۔
میں۔۔۔ تمہاری قسم ناراض نہیں ہوتا بس اب بتا دو ۔۔۔
ناہید۔۔۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی کیسے بتاؤں وہ بڑے دعوے سے کہہ رہی تھی کہ یہ سب سچ ہے۔۔۔
میں۔۔۔ اس طرح پہیلیاں نہ بجھاؤ ساری بات بتاؤ۔۔
ناہید ۔۔۔ بتا رہی ہوں مجھے سمجھ نہیں آ رہی کہاں سے شروع کروں۔۔۔
میں۔۔۔ جہاں سے مرضی شروع کرو بس بتا دو۔۔۔
ناہید۔۔ چھنو نے مجھے بتایا ہے جب تم پچھلی بار آئے تھے ۔۔۔
میں۔۔۔ ہاں کیا بتایا ہے۔۔۔
ناہید ۔۔۔اب تم بیچ میں نہ بولو نہیں تو میں نے نہیں بتانا۔۔۔
میں۔۔۔ ٹھیک ہے نہیں بولتا۔۔۔
ناہید۔۔۔ جب تم آئے تو تم مجھ سے نہیں ملے تھے اتنی بار آئے ہو ایک بار بھی مجھ سے نہیں ملے ۔۔۔
ایک دو بار تو میں تمہارے پاس سے بھی گزری تم نے مجھے دیکھا بھی نہیں۔۔۔
میں نے چھنو کو یہ بتایا تو اس نے مجھے جو کہا مجھے اس پر یقین تو نہیں ہے لیکن جب میں نے وہ بات سنی تو مجھے اچھا نہیں لگا ۔۔۔
مجھ سے نہ رہا گیا میں پھر بول پڑا یار صاف صاف بتاؤ اصل بات کیا ہے مجھ سے برداشت نہیں ہو رہا ۔۔۔
ہم ابھی بھی ایک دوسرے کے گلے لگے کھڑے تھے۔۔۔
ناہید نے پھر بولتے ہوئے کہا تم مجھے بات کرنے نہیں دو گے تو میں کیسے بتاؤں گی۔۔۔
میں کچھ بولنے ہی لگا تھا کہ ناہید نے مجھے خود سے الگ کیا ایک دم تیزی سے نیچے بیٹھتے ہوئے میرا بازو پکڑ کر نیچے بٹھا لیا۔۔۔
میں بھی خاموشی سے نیچے بیٹھ گیا میں پیچھے مڑ کر دیکھا تو ہم سے دور کھیت میں کوئی آ رہا تھا۔۔۔۔
آ رہا نہیں تھا بلکہ آ رہی تھیں دو لڑکیاں تھیں یا عورتیں ناہید کو میں نے دیکھا تو وہ بیٹھے بیٹھے مجھ سے کافی اگے جا چکی تھی۔۔۔
وہ کھیت کے کنارے کے ساتھ ساتھ ہمارے گھر کے پچھلے حصے کی طرف جا رہی تھی جبکہ جو عورتیں آ رہی تھیں وہ ہمارے گھر کے سامنے والی سائیڈ سے آ رہی تھیں۔۔۔
ناہید کھیت سے نکل گئی میں کھیت کے کنارے پر بیٹھا رہا جب وہ آگے ہی چلتی آئیں تو میں نے کھیت کے ساتھ والے میں کھالے میں اپنے آپ کو لٹانے کا فیصلہ کیا۔۔۔
پھر کچھ سوچ کر میں نے ناڑا بیٹھے بیٹھے ہی کھولا اور جنگل پانی کرنے کا سین بنا لیا تاکہ جب کویی پاس آئے تو یہ ہی سمجھے کہ میں جنگل پانی کر رہا ہوں۔۔۔۔
مجھ سے تھوڑے فاصلے ہر ہی وہ دونوں رک گئیں اور ان کی آواز مجھ تک انے لگی۔۔۔
ان میں ایک آواز تو چھنو کی تھی دوسری آواز کی مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔۔
چھنو نے کہا یہاں ہی کر لو اور خود کھڑی ہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگی وہ دوسری لڑکی ہی تھی یہ بات تو کنفرم ہو گئی۔۔۔
وہ لڑکی اپنی شلوار نیچے کرکے بیٹھ گئی میں ویسے ہی سر نکالے ان کو دیکھنے لگا۔۔۔
دوسری لڑکی بولی تم بھی کر لو اس وقت تو کہہ رہی تھی کہ تم نے بھی کرنا ہے۔۔۔
چھنو پہلے تم کر لو میں دیکھتی رہتی ہوں کوئی آ نہ جائے۔۔۔
کیونکہ ہمارے گھر میں واش روم تھا اس کے باوجود اگر وہ دونوں باہر پیشاب کرنے ائی ہیں تو کوئی نہ کوئی گڑ بڑ تو تھی۔۔۔
یہ بات تو مجھے پتہ چل گئی تھی کہ وہ پیشاب کرنے آئی ہیں لیکن چھنو اس کو لے کر آئی ہے تو کوئی نہ کوئی بات ضرور ہے۔۔۔
چھنو کچھ دیر کھڑی رہی پھر وہ بھی اپنی شلوار نیچے کر کے بیٹھ گئی میں نے دوسری طرف گردن گھما کر دیکھا تو ناہید غائب ہو چکی تھی۔۔۔
مطلب کہ ناہید گھر پہنچ چکی تھی میں کچھ دیر اور بیٹھا رہا وہ دونوں اٹھیں تو چھنو نے کہا نی تو کدی پھدی مروائی اے۔۔۔
دوسری لڑکی نہیں مروائی اک واری موقع ملیا سی پر درد بڑی ہویی اس کے بعد میں نہیں کیتا۔۔۔۔
چھنو نے پوچھا کون سی جنے کیتا سی ۔۔
دوسری لڑکی وہ ہمارا ہمسایہ تھا ایک لڑکا جس کو مجھے لگتا ہے کرنا ہی نہیں آتا تھا ۔۔۔
چھنو ۔۔۔نی تینوں اک گل دساں ۔۔۔
دوسری لڑکی۔۔۔ ہاں دس ۔۔
چھنو۔۔۔ مینوں کسی نے دسیا اے بلو نوں بڑا تجربہ اے ایس کم دا۔۔ بڑی چس کروانا دا اے۔۔۔
دوسری لڑکی۔۔۔ بلو نوں تجربہ اے تینوں کنے دسیا۔۔۔
چھنو۔۔۔ لو جی کر لو گل تمہیں نہیں پتہ بلو نے کنیاں ای لڑکیاں دی لئی اے۔۔۔
دوسری لڑکی۔۔۔ قسم کھا مجھے نیں یقین ۔۔۔
چھنو۔۔۔ قسم نال میں سچ آکھ رہی ہوں۔۔۔
دوسری لڑکی۔۔۔ کس کس کی لی ہے۔۔۔
چھنو ۔۔۔ جس کی لی ہے مجھے اس نے بتایا ہے ۔۔۔
دوسری لڑکی۔۔۔ کس نے بتایا تم بتاؤ گی تو ہی پتہ چلے گا۔۔۔