شمروز بہت بے چین تھا ہماری موت کی خبر سننے کے لیے،اس نے اپنے بندوں کو سپیشل ہمیں مارنے کے لیے بھیجا تھا۔۔۔۔
پہلے جو لگ ہمیں اٹھا کر لائے تھے ان کے علاوہ اس نے کچھ اور لوگوں کو بھیجا تھا جن کو یہ ٹاسک دیا گیا تھا کہ وہ ہمیں ان کے قبضے میں ہی ختم کر دیں،لیکن جب وہ لوگ وہاں پہنچے تو ان کو ہمارے بھاگنے کی خبر ملی۔۔۔
اس کے بعد وہ لوگ پوری تیاری کے ساتھ اور مقامی پولیس کو ساتھ لے کر زیبا کے ٹھکانے پر پہنچ گئے تھے۔۔۔۔
ان لوگوں کو ابھی تک یہ خبر نہیں پہنچی تھی کہ میں وہاں سے نکل چکا ہوں اور میں یہ نہیں جانتا تھا کہ زیبا کہاں ہے۔۔۔۔
ہماری رات کے اس پہر سپیڈ بہت تیز تھی اور ہم ہر گزرتے لمحے کے ساتھ اپنی منزل کے قریب پہنچ رہے تھے۔۔۔۔
ہمارے ساتھ رستے میں ہی بارش لوگ کا ملے اب ہماری سپیڈ اور تیز ہو گئی۔۔۔۔
جلد ہی ہم لوگ رینالہ خورد کے قریب پہنچ گئے وہاں جا کر میں نے ایک بار پھر ناصر کو فون کیا اور لوکیشن پوچھی۔۔۔۔
اس نے ایک بار پھر سے پوری تفصیل سے بتایا ڈرائیور نے پوری توجہ سے سب سنا اور پھر ہم آگے بڑھ گئے ۔۔۔۔
سنسان علاقہ تھا آبادی کا دور دور تک نشان نہیں تھا کچھ دور جا کر ہمیں ایک موڑ نظر آیا۔۔۔
اس موڑ پر جا کر گاڑیوں کی لائٹس بند کر دیں اور تھوڑا مزید آگے جا کر گاڑیوں سے اتر گئے۔۔۔۔
ہم نے ہتھیار نکالے اور پیدل چلنا شروع کر دیا،ہمیں دو فرلانگ کے فاصلے پر روشنیاں نظر آ رہی تھیں۔۔۔
اچھا خاصہ کھلا علاقہ لگ رہا تھا لیکن جیسے جیسے ہم قریب جا رہے تھے ہمیں اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ صرف ایک لمبی چوڑی عمارت ہے۔۔۔۔
کوئی بہت بڑی فیکٹری ہے جسں میں لائٹس جل رہی ہیں ایک سنسان علاقے میں فیکٹری کا ہونا ہی قابل شک تھا۔۔۔۔
ایسا علاقہ جہاں دور دور تک کوئی آبادی نہ ہوا اس علاقے میں اتنی بڑی فیکٹری کچھ تو پردہ داری تھی۔۔۔۔
جب ہم فیکٹری سے کچھ فاصلے پر رہ گئے تو ہم نے خود کو تین گروہوں میں بانٹ لیا۔۔۔۔
ایک نے سامنے نظر رکھنی تھی دوسرا گروپ دائیں طرف سے فیکٹری کی بیک سائیڈ پر جائے گا اور تیسرا بائیں طرف سے ۔۔۔
چاروں طرف سے دیکھنے کے بعد ہم نے فیصلہ کرنا تھا کہ کیا کرنا چاہئیے اندر کیسے داخل ہونا ہے۔۔۔۔
میں حیران ہو رہا تھا کہ شمروز اس فیکٹری میں کیوں بیٹھا ہے اس کو تو کسی گھر میں ہونا چاہئیے تھا اس کا اتنا بڑا نقصان ہوا ہےاس کو اپنے لوگوں کو خود کنٹرول کرنا چاہئیے تھا۔۔۔۔۔
ہم سڑک سے ایک طرف ہٹ گئے اور میں نے ایک لڑکے کو پیچھے بھیجا اور کہا کہ ڈرائیوروں کو کہے گاڑیاں چھپا کر کھڑی کریں تاکہ آنے والوں کو نظر نہ آئیں ۔۔۔۔
ہم بھی ایک طرف چھپ کر بیٹھ گئے باقی دونوں گروپ اپنی اپنی پوزیشنز کی طرف بڑھ گئے۔۔۔۔
وہ لڑکا جو ڈرائیوروں کو بتانے گیا تھا جب واپس آیا تو اس کے پاس کارتوسوں کی پیٹیاں اور ہتھیار تھے۔۔۔۔
کافی سارا اسلحہ موجود تھا اب ہمیں سگنل کا انتظار تھا کہ کیا کرنا چاہئیے۔۔۔۔
ہم انتظار کرتے ہوئے تھک گئے لیکن کوئی سگنل نہ ملا۔۔۔۔
میں نے اپنے ساتھیوں کو انتظار کرنے کا کہا اور خود فیکٹری کا چکر لگانے کے لیے نکل پڑا۔۔۔۔
فیکٹری کیا تھی وہ تو پورا کا پورا شہر لگ رہا تھا اتنی بڑی فیکٹری کہ میرے تو یہ سب دیکھ کر ہوش اڑ گئے۔۔۔۔۔
اوپر سے ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ اندر کتنے لوگ ہیں اور ان کے پاس کیا کچھ ہے اسلحہ کتنا ہے ۔۔۔۔
میں چکڑ کاٹتے کاٹتے تھک گیا لیکن چکر مکمل نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
میں نے باقیوں کو فون کرکے معلوم کیا تو انہوں نے بھی یہ ہی بتایا کہ فیکٹری سامنے سے چھوٹی نظر آتی ہے لیکن پیچھے جا کر پتہ چلا کہ یہ تو بہت بڑی ہے۔۔۔۔۔
تقریباً ایک گھنٹے میں واپس پہنچا تو سب لوگ پریشان ہو چکے تھے میں نے سب کو واپس چلنے کا کہا۔۔۔۔
ہم وہاں سے واپسی کے لیے نکل پڑے جب ہم اس سڑک سے مین پر چڑھ رہے تھے تو ہمیں دو گاڑیاں اسی سڑک پڑ مڑتی ہوئئ نظر آئیں ۔۔۔۔
ایک گاڑی کے فرنٹ پر ڈاکٹر عمائمہ موجود تھی تو دوسری کے فرنٹ پر پرویز صاحب براجمان تھے۔۔۔۔۔
میرے لیے یہ ایک بہت بڑا دھچکا تھا میں خود کو گالی دینے سے روک نہ پایا۔۔۔۔
عمائمہ کا تو مجھے علم تھا لیکن پرویز صاحب مجھے یقین نہیں آ رہا تھا کہ وہ شمروز جیسے انسان کے پارٹنر بھی ہو سکتے ہیں۔۔۔۔۔
میں اب یہ جان چکا تھا کہ اب یہ کام ناصر کے بس کا نہیں رہا وہ اس کے بارے میں معلومات نہیں دے سکتا۔۔۔۔۔
میں سوچنے لگا کہ اب کیا کرنا چاہئیے ان کے بارے میں معلومات کیسے مل سکتی ہیں۔۔۔۔
جیسے جیسے میں سوچتا جاتا میرا دماغ الجھتا جاتا، اسی الجھن میں ہم زیبا کے شہر پہنچ گئے۔۔۔۔
میں نے زیبا کا نمبر ملایا تو دوسری طرف سے ایک نئی آواز سنائی دی۔۔۔۔
ہائے صائم جان افففف کیا نام سیو کیا ہے اتنا پیار ایک گینگسٹر لیڈی اگر کسی کو کرتی ہو تو یقیناً بندے میں کچھ دم تو ہو گا۔۔۔۔۔
میں نے غصے سے کہا بکواس بند کر اور بتا یہ فون تیرے پاس کیسے آیا۔۔۔۔
اس نے ہنستے ہوئے کہا جب فون والی میرے پاس ہے تو فون کی کیا مجال کہ کسی اور کے پاس ہو۔۔۔۔۔
میں نے تھوڑا کرخت لہجہ اپناتے ہوئے کہا تو سیدھی طرح بتا تو کون ہے اور کیا چاہتا ہے۔۔۔۔
ہائے اوئے جب اتنا مست مال پاس ہو تو بندہ کیا چاہ سکتا ہے اس مال کے بدلے میں اگر مجھے کسی کی جان بھی لینا پڑے تو بھی میں کبھی پیچھے نہ ہٹوں۔۔۔۔۔
میں نے کہا بتا تو کہاں ہے تیری گانڈ پھاڑ کر رکھ دوں گا شاہی محلے کی نایاب ہستی کی اولاد تیری اگلی پچھلی ساری نسلیں یاد رکھیں گی کہ تو نے کیا غلطی کر دی ہے۔۔۔
اس نے بھی گالیوں کی اخیر کر دی وہ گالیاں دیں جو میں نے کبھی سنی بھی نہیں تھیں۔۔۔
گالیاں دیتے ہوئے اس نے کہا اگر گانڈ میں دم ہے تو ڈھونڈ لے تیری آنکھوں کے نیچے ہوں اگر ہمت ہے ڈھونڈ کر دکھا پھر تجھ سے بھی دو دو ہاتھ ہو جائیں گے۔۔۔۔
اتنا بول کر اس نے فون رکھ دیا اور میں کافی دیر تک فون کان کو لگائے بیٹھا رہا۔۔۔۔
میرا دماغ گرم ہو گیا اب یہ سالا کون آ گیا ہے جس نے زیبا کو اٹھوا لیا ہے یکے بعد دیگرے معاملات ایسے بگڑ رہے تھے کہ کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا ۔۔۔۔
میں خود کو لادھو خاں سمجھ بیٹھا تھا کہ کچھ بھی کروں کوئی میرا لوڑا نہیں اکھاڑ سکتا یہ بھول گیا تھا کہ ہر سیر کا سوا سیر ہوتا ہے اور میں تو ابھی پاؤ بھی نہیں تھا۔۔۔۔
عمائمہ، پرویز صاحب اور دارے خان کو میں نے کچھ نہیں سمجھا تھا لیکن یہاں جو کچھ دیکھ رہا تھا اس سے میں ایک بات تو جان گیا کہ یہ لوگ ایک منظم تنظیم کی صورت میں کام کرتے ہیں اور اس کے لیے میں ابھی تک تیار نہیں ہوں ۔۔۔۔
ان سب کے سامنے میں ابھی طفلِ مکتب ہوں لیکن انسان کی انا اور ضد اس کو کبھی باز نہیں رہنے دیتی وہ ہر حد پار کر جاتا ہے ۔۔۔۔۔
مجھے اسی وقت سمجھ جانا چاہئیے تھا جب زیبا کے اس اڈے پر فائرنگ ہوئی جہاں کبھی کسی نے پر نہیں مارا تھا۔۔۔۔
فائرنگ میں پولیس والے بھی تھے مطلب ہم پر کوئی کیس بھی بنا دیا گیا تھا اب کیس کی کیا نوعیت ہو گی یہ بھی معلوم نہیں۔۔۔۔
ہم زیبا کے شہر والے گھر پہنچ گئے مجھے سب نے روکا بھی لیکن میں نہ مانا میں نے وہاں پر جانے کی ضد کی اور جا کر ہی رکا۔۔۔۔۔
میرے پاس بارش رک گیا باقی سب لوگ چلے گئے میں نے بارش کو چھت پر ایک کمرے کی کھڑکی سے باہر نظر رکھنے کا کہا اور خود مخلتف کمروں کی تلاشی لینے لگا۔۔۔۔۔
کمروں میں گھومتے ہوئے مجھے کئی قسم کے کاغذات ملے جن سے پتہ چلا کہ زیبا کے اپنے خاندان والوں سے بھی معاملات چل رہے ہیں ۔۔۔۔۔
ایک الماری کھولی تو اس میں مجھے اندر ایک اور دروازہ نظر آیا میں نے وہ دروازہ کھول کر دیکھا تو وہاں سیڑھیاں تھیں جو نیچے جا رہی تھیں۔۔۔۔۔
میں ان سیڑھیوں پر اترنے لگا اندھیرے میں کچھ سجھائی نہیں دے رہا تھا اس لیے بڑا سنبھل سنبھل کر اترتا گیا۔۔۔۔
آخری سیڑھی اترا تو سامنے تین دروازے تھے جن میں سے ایک تھوڑا سا کھلا تھا جس میں سے روشنی باہر نکل رہی تھی ۔۔۔۔
میں دبے پاؤں پستول ہاتھ میں پکڑے اس دروازے کے پاس پہنچ گیا اور کان لگا کر اندر کی سن گن لینے لگا۔۔۔۔۔
اندر مجھے کوئی ہل چل محسوس نہ ہوئی میں نے دروازے کی جھری میں سے جھانک کر دیکھا اور دروازے کو دھکیل کر اندر داخل ہو گیا۔۔۔۔۔
اندر کا منظر دیکھ کر میں آنکھیں بند کرنے پر مجبور ہو گیا زیبا بالکل ننگی حالت میں لیٹی تھی اس کے ہاتھ پاؤں باندھے ہوئے تھے اس کی ٹانگوں کے درمیان پھدی والی جگہ سے خون بہہ رہا تھا۔۔۔۔۔
اس کے مموں پر کاٹنے کے نشانات تھے اور اسی طرح سارے جسم پر خراشیں تھیں۔۔۔۔
مجھے حیرت ہوئی کہ جس سے فون پر بات ہوئی تھی وہ تو کوئی بہت بڑی توپ شے لگ رہا تھا اس کی باتوں سے مجھے لگ رہا تھا کہ اس نے زیبا کو کہیں غائب کر دیا ہے۔۔۔۔
میں آگے بڑھا اور زیبا کے منہ سے ہٹی ہٹائی وہ ہڑا بڑا گئی اور چیخنی کی کوشش کی لیکن میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھ کر اس کا منہ بند کر دیا۔۔۔۔
زیبا نے مجھے دیکھا تو اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے میں نے اس کے آنسو صاف کیے اور آہستہ سے اس کے کان میں کہا وہ کون ہے اور اس وقت کہاں ہوگا۔۔۔۔
زیبا نے کہا وہ شمروز ہی ہے اور ساتھ والے کمرے میں ہوگا شراب پی رہا ہوگا اس کے ساتھ دو آدمی اور ہیں جن کو اس نے بھیج دیا تھا میرا فون بھی وہ لے گئے ہیں ان کو اس نے فون اس لیے دیا ہے کہ فون اگر ٹریس بھی کروایا جائے تو میرا پتہ نہ چلے۔۔۔۔
میں اس سالے کی ہمت اور دماغ پر اش اش کر اٹھا لیکن ایک بات میرے دماغ میں چبھ رہی تھی اگر شمروز یہاں ہے تو ناصر نے مجھے رینالہ خورد کا کیوں بتایا تھا ۔۔۔۔
اگر یہ وہاں نہیں تھا تو پھر وہاں کون ہوگا ڈاکٹر عمائمہ پرویز صاحب کس سے ملنے گئے تھے۔۔۔۔
میرے پاس زیادہ وقت نہیں تھا میں نے زیبا کو جلدی جلدی کھولا اور اس کو اس کے پھٹے ہوئے کپڑے دینے کی بجائے بیڈ کی چادر دی جس کو اس نے جسم پر لپیٹ لیا۔۔۔۔
وہ مجھ سے نظریں نہیں ملا پا رہی تھی میں نے اس کو وہیں رکنے کا کہا اور ساتھ والے کمرے کے دروازے تک گیا پھر زیبا کو باہر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
زیبا باہر آئی اور اس نے نفرت سے دروازے کی طرف دیکھا اور میرے ہاتھ سے پستول پکڑ لیا۔۔۔
میں نے اس کو روکا لیکن اس کا غصہ اس کو میری بات ماننے سے روک رہا تھا۔۔۔
میں آگے بڑھا اور دروزے کو دھکیلا تو دروازہ کھلتا چلا گیا اندر داخل ہوا اور پستول تان کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
سامنے ایک میز پر شراب کی بوتل اور بھنا ہوا گوشت پڑا تھا اور دو لوگ بیٹھے شراب پی رہے تھے۔۔۔۔
میں نے ایک کو گولی مار دی وہ وہیں دھڑام ہو گیا دوسرا ہاتھ اٹھا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔
وہ شمروز تھا اس کے رنگ اڑ گئے اس کو یقین نہیں آ رہا تھا کہ میں اس کے سامنے موجود ہوں۔۔۔
وہ ہکلانے لگا میں یہ تو جان گیا تھا کہ گولی کی آواز باہر نہیں جا سکتی اس لیے اس کی ٹانگ پر دو گولیاں ماریں وہ نیچے گر گیا ۔۔۔۔
پھر میں اس کے قریب گیا اور جہاں گولی لگی تھی وہاں پاؤں رکھ کر کھڑا ہوا اور کہا اب بتا کس کو فون کرے گا مجھے مارنے کے لیے ۔۔۔۔
وہ میری منتیں کرنے لگا اس کی گھگھی بند گئی تھی الفاظ اس کے منہ میں اٹک گئے۔۔۔۔
میں نے پینٹ کی زپ کھولی اور لن باہر نکل لیا مجھے پیشاب بہت دیر کا آیا ہوا تھا لیکن روکے ہوئے تھا ۔۔۔۔
مجھے اس پر جس قدر غصہ تھا میں خود ہر قابو نہیں رکھ سکا میرا بس چلتا تو اس کی گانڈ مار لیتا ۔۔۔۔
میں نے اس کی طرف پستول تانے ہوئے اس کو کہا منہ کھول اور لن اس کے منہ پر کر دیا۔۔۔۔
اس نے منہ ادھر ادھر کرنے کی کوشش تو اس کی ٹانگ پر پاؤں رکھ دیا اس کے منہ سے چیخیں نکلنے لگیں۔۔۔۔
اس نے آنکھیں بند کر لیں میں نے اس کے منہ پر پیشاب کرنا شروع کر دیا۔۔۔۔
وہ رونے لگ گیا اس کی حالت بہت بری ہو گئی تھی پیشاب کرنے کے بعد میں نے پینٹ کی زپ بند کی اور اس کو ٹھڈے مارنے لگا ۔۔۔۔
وہ درد سے چیخنے لگا جب وہ بے ہوش ہونے کے قریب گیا تو میں نے پھر شراب کی بوتل اٹھائی اور اس کے زخموں پر ڈالنے لگا۔۔۔۔۔
وہ بن پانی کے مچھلی کی طرح تڑپ اٹھا لیکن اس کو سکون نہیں مل رہا تھا ۔۔۔۔
میرا غصہ تھا کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا میں نے میز پر موجود ایک کانٹا اٹھایا اور اس کی اسی ٹانگ میں اسی جگہ جہاں گولی لگی تھی چبھو دیا ۔۔۔۔
شمروز پاگلوں کی طرح ہاتھ پاؤں مارنے لگا اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ مر جائے ۔۔۔۔
میں نے زیبا کو کہا کہ وہ اوپر اپنے کمرے میں چلی جائے اور نہا دھو کر کپڑے بدل لے اس کی گانڈ میں ڈنڈا بھی ڈالنا ہے ۔۔۔۔
زیبا نے کہا اس کو یہاں سے لے جانا ہو گا یہاں اس کے آدمی آ سکتے ہیں۔۔۔۔
میں نے کہا تم اپنی حالت ٹھیک کرو اس کا میں بندوبست کرتا ہوں ۔۔۔۔
وہ باہر چلی گئی تو میں نے بارش کو فون کیا اور کہا کہ کسی اور کو بھی بلا لو جو سب سے قابل بھروسہ ہو اور یاد رہے کسی پر بھروسہ بالکل نہیں کرنا اگر کسی پر بھروسہ نہیں ہے تو بھی مجھے بتا دو۔۔۔۔
اس نے کہا اسے کسی پر بھی بھروسہ نہیں ہے ۔۔۔
میں نے کہا اوکے پھر باہر نظر رکھو ذرہ بھی کسی پر شک ہو تو بلا دریغ اس کو وارننگ دے کر گولی مار دینا۔۔۔۔
اس نے کہا ٹھیک ہے میں نے بیڈ کی چادر اٹھائی اور شمروز کو جو اتنی دیر میں بے ہوش ہو چکا تھا اس چادر میں لپٹیٹ لیا اور اس کو کھینچتے ہوئے اوپر جانے لگا۔۔۔۔۔
بڑا وزنی تھا سالا حرام کا کھا کھا کر اس کی یہ حالت ہو گئی تھی خیر بڑی مشکل سے اس کو اوپر والے کمرے میں لے گیا پھر اس کو کندھے پر رکھا اور نیچے جانے والی سیڑھیوں کے قریب رکھ دیا۔۔۔۔
اس کے بعد بارش کو بلایا اور کہا گاڑی کا بندوبست کرو اس لاش کو لے کر جانا ہے۔۔۔۔
اس نے کہا ٹھیک ہے اور فون کرنے لگا گیا میں زیبا کے کمرے میں گیا تو وہ سی سی کرتی کپڑے پہن رہی تھی مجھے دیکھ کر پھر رونے لگ گئی۔۔۔۔
میں نے اس کو گلے لگایا اور ہونٹوں پر کس کی اور کہا کچھ بھی نہیں ہوا ابھی تو کھیل شروع ہوا ہے۔۔۔۔۔
جو کچھ اس نے تمہارے ساتھ کیا ہے اس کا بدلا اس کے جسم کے ہر حصے سے لوں گا میرا تم سے وعدہ ہے۔۔۔۔
اس کو حوصلہ دے کر چپ کروایا اور اسے کہا ایک بڑی سی چادر لے لو اور خود کو اس میں چھپا لو ہم لوگ یہاں سے نکلنے لگے ہیں۔۔۔۔
اس نے ایک بیگ لیا اور اس میں الماری سے پیسوں کی گڈیاں ڈال لیں پھر دوسرا بیگ لیا اس میں کپڑے ڈالے اور مجھے کہا پیسوں والا بیگ تم اٹھا لو دوسرا میں اٹھا لیتی ہوں۔۔۔۔
میں نے کہا اس کمینے کو کون اٹھایے گا اور ہم جائیں گے کس چیز پر وہ چپ ہو گئی تو میں نے ہنس کر اس کے گال پر ہاتھ پھیرا اور بیگ اٹھا لیا۔۔۔۔
باہر نکلے تو بارش کھڑا تھا اس نے شمروز کی لاش کو اٹھایا اور ہم سیڑھیاں اتر کر نیچے آئے اور باہر نکلے تو گاڑی کھڑی تھی۔۔۔۔
گاڑی کی ڈگی میں شمروز کو ڈالا اور ہم دونوں پیچھے والی سیٹ پر بیٹھ گئے بارش نے ڈرائیور کو کہا جہاں صاحب کہیں وہاں اتار دینا میں پیچھے پیچھے آ رہا ہوں۔۔۔۔۔
میں نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا تو اس نے فون کا اشارہ کیا۔۔۔۔
میں نے فون نکالا اس کا نمبر ملا لیا ڈرائیور نے گاڑی آگے بڑھا دی زیبا نے مجھے ایک پرچی دی جس پر ایک ایڈریس لکھا ہوا تھا۔۔۔۔۔
میں وہ ایڈریس اس کو ڈرائیور کو بول کر بتایا تو بارش نے بھی فون پر سن لیا اور ہمارے قریب سے ایک گاڑی آگے نکل گئی۔۔۔۔
وہ ایڈریس حجرہ شاہ مقیم کے قریب ایک گاؤں کا تھا جو شاید زیبا کا آبائی گاؤں تھا ۔۔۔۔
ڈرائیور نے ہمیں جلد ہی وہاں پہنچا دیا ایک بڑی حویلی کے اندر گاڑی داخل ہوئی زیبا نیچے اتری اور اندر گھس گئی۔۔۔۔
ڈرائیور نے ڈگی کھولی میں باہر نکلا تو دو لوگ آگے آئے انہوں نے ڈگی سے اس شمروز کو نکال لیا۔۔۔۔۔
یہ تو اچھا ہوا کہ اس کے جسم سے خون نہیں بہہ رہا تھا اس کی کیا وجہ تھی یا خشک ہو گیا تھا۔۔۔۔
ان دونوں آدمیوں نے ڈگی کے اندر منہ کرکے سونگھا جب باہر دیکھا تو میں نے سر کے اشارے سے پوچھا ہاں۔۔۔۔
دونوں نے نفی میں سر ہلا دیا اور ایک آدمی شمروز کو لے کر ایک طرف چل دیا اور دوسرا ڈرائیور کو ایک طرف بنے لان میں لے گیا ۔۔۔۔۔
تب میں بھی اس کی طرف بڑھ گیا تبھی وہاں بارش پہنچ گیا وہ آدمی بارش سے بڑے اچھے طریقے سے ملا۔۔۔۔
تبھی ایک ملازمہ وہاں آئی اس نے ہمیں گڑم گرم چائے پینے کے لیے دی۔۔۔۔
ہم چائے پینے لگ گئے دوسرا آدمی آیا اور گاڑی کی ڈگی میں کچھ کرنے لگا گیا ۔۔۔۔
چاہے پینے کے بعد ڈرائیور کو میں نے پیسے دئیے اور وہ وہاں سے رخصت ہو گیا۔۔۔۔
مجھے اسی ملازمہ عورت نے کہا بی بی آپ کو اندر بلا رہی ہیں۔۔۔۔
میں اندر چلا گیا زیبا نے مجھے ایک کمرہ دکھایا اور کہا کہ آرام کر لو تھک گئے ہو گے رات کا بس کچھ حصہ ہی رہتا ہے کمر سیدھی کر لو اس کے بعد اس کے بارے میں بھی کچھ سوچتے ہیں۔۔۔۔
میں نے ہاں میں سر ہلایا اور کمرے میں چلا گیا تھوڑی دیر بعد باہر نکلا اور اس طرف چل دیا جدھر شمروز کو لے کر گئے تھے۔۔۔۔
میں نے دیکھا کہ وہاں بارش بھی کھڑا ہے اور اس جیسے کئی لوگ وہاں موجود تھے۔۔۔۔
میں جب ان کے پاس پہنچا تو میں نے شمروز کا پوچھا مجھے ان لوگوں نے بتایا کہ اس کا علاج کر رہے ہیں بس پانی گرم ہو جائے پھر اس کو اس میں ڈالتے ہیں۔۔۔۔
میں اندر بڑھ گیا کمرے کے بیچ میں شمروز بالکل ننگا فرش پر پڑا ہوا تھا اور اس کے جسم کے ہر حصے پر چاقو سے نشان لگے ہوئے تھے۔۔۔۔
میں نے آگے بڑھ کر چاقو اٹھایا اس کا لن چاقو سے کاٹ دیا,پھر اس کی زبان کو کھینچ کر کاٹا ۔۔۔۔
لیکن مجھے حیرت ہوئی کہ ہو تو مر چکا ہے میں نے ان کو کہا یہ تو مر چکا ہے اس کو ایسی جگہ پھینکو جہاں اس کو کتے ہی کھائیں اس کتے کی نسل کو۔۔۔۔
میں ان کو کہہ کر واپس آ گیا بارش کو میں نے کہا ابھی اس کو پھنکوا دو اگر لیٹ ہو گئی تو بات بگڑ سکتی ہے اور اس کی جیبوں کی تلاشی لو اگر فون ہو تو فون کو بند نہ کرنا جہاں پھینکو اس کے قریب ہی فون پھینکنا۔۔۔۔
اس نے کہا اس کے پاس فون نہیں ہے میں اندر چلا گیا اور جا کر بستر پر لیٹ کر گذرے وقت کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔۔
جو کچھ آج تک ہو چکا تھا اس سب کے بارے میں سوچتے ہوئے پتہ ہی نہ چلا کب آنکھ لگ گئئ۔۔۔۔
جب آنکھ کھلی تو دن کا وقت تھا میں فریش ہو کر باہر نکلا تو ہال میں زیبا بیٹھی تھی جس کے آس پاس کافی عورتیں موجود تھیں۔۔۔۔
زیبا نے مجھے اپنے پاس بلایا اور پاس پڑی کرسی پر بٹھا لیا پھر ان عورتوں سے تعارف کروایا کہ یہ میری رشتہ داری میں سے ہے اور بڑے صاحب اس کو اپنا بیٹا مانتے تھے اب یہ ان سے ملنے کے لیے آیا ہے لیکن ان کی حالت کافی خراب تھی اس لیے ملنے نہیں دیا گیا۔۔۔۔
میں یہاں آ رہی تھی تو اس کو بھی ساتھ لے آئی بڑا فرمانبردار بچہ ہے۔۔۔۔
یہ کہہ کر زیبا نے میرے گال پر ہاتھ پھیرا عورتیں ایک ایک کرکے جانے لگیں ۔۔۔۔
زیبا نے میرے لیے ناشتہ لگانے کا کہا،ناشتہ لگا ناشتہ کیا اور پھر میں نے کہا مجھے اجازت دو میں گھر چلا جاؤں اتنے دن ہو گئے ہیں یہاں پیچھے پتہ نہیں کیا کچھ ہو رہا ہوگا۔۔۔۔۔
زیبا نے میری طرف دیکھا اور کہا ایسے جیسے جانے دوں ابھی کچھ دن اور رکو یہاں اس کے بعد سوچوں گی کہ تمہیں جانا چاہئیے یا نہیں۔۔۔۔
میں نے پھر کہا سمجھنے کی کوشش کرو معاملات کافی الجھ گئے ہیں وہاں بھی جو کھلار ڈالا ہوا ہے وہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا۔۔۔۔
اس نے ایک پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ کہا اور جو کچھ میرا کھلرا ہوا ہے اس کا کیا میرا اندر تک تباہ ہو چکا ہے، تم کچھ نہیں جانتے اس کمینے نے میرے ساتھ کیا کچھ کیا ہے اور کیسے کیسے کیا وہ تو وہ اس کے گھٹیا بندوں نے بھی ۔۔۔۔
زیبا منہ پر ہاتھ رکھ کر رونے لگی میرا پارہ ہائی ہو گیا لیکن میں کر بھی کیا سکتا تھا جو اس کا مین کردار تھا اس کا کام تمام ہو چکا تھا۔۔۔۔
میں نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور اس کو حوصلہ دینے لگا لیکن میرے چپ کروانے پر وہ اور زور سے رونے لگتی ۔۔۔۔
کافی دیر بعد وہ رونا بند کرتی ہے اور اٹھ کر اندر کمرے میں چلی جاتی ہے میں وہیں بیٹھا رہ گیا۔۔۔۔
میں نے جیب سے موبائل نکالا جس کو بھول ہی چکا تھا ایسے ہی مسیج پڑھنے لگا۔۔۔۔
ہنی کے لو یو جانو میری جان کہاں گم ہو میں یہاں آ رہی ہوں پھر سے امی بھی ساتھ ہوں گی۔۔۔
اب ہم مستقل یہاں رہیں گے کل تک ہم پہنچ جائیں گے میں نے امی کو کہا ہے میں تمہیں گھر بلاؤں گی امی بڑی مشکل سے مانی ہیں اب بھول نہ جانا میں انتظار کروں گی۔۔۔۔
اس کے بعد اس نے دل والی ایموجیز بھیجی ہوئی تھیں کافی ساری۔۔۔
میں یہ سب دیکھ رہا تھا کہ ایک ملازمہ نے آ کر مجھے کہا کہ بی بی جی آپ کو اوپر کمرے میں بلا رہی ہیں۔۔۔۔
میں اٹھ کر زیبا کے کمرے کی طرف بڑھ گیا دروازے پر دستک دی اندر سے اجازت ملنے پر میں اندر داخل ہو گیا۔۔۔۔
اپنے پیچھے دروازہ بند کرنے کے بعد میں زیبا کے پاس گیا جو آئنیے کی طرف منہ کیے کھڑی تھی۔۔۔۔
میں نے اس کے ساتھ لگتے ہوئے کندھوں پر ہاتھ رکھے اور بڑے ہی رسیلے لہجے میں کہا کیوں پریشان ہوتی ہو۔۔۔۔
اس نے سسک کر میری طرف دیکھا اور روتے ہوئے بولی میں کیسے بتاؤں میرے ساتھ کس کس نے ظلم کیا ہے۔۔۔۔
وہ زار و قطار رونے لگی میں پریشان ہو گیا اور اس کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا مجھے کچھ بھی نہ بتاؤ بس ان کے نام بتا دو پھر میں جانو اور وہ جانیں۔۔۔۔
وہ میری طرف گھومی اور میرے گلے لگ کہنے لگی میرے شوہر کا کزن اور میرا دیور بھی ملوث تھے، تہہ خانے میں لے جانے کا مشورہ بھی ان کا تھا ورنہ کسی تیسرے کو کیا پتہ کہ ہمارے گھر تہہ خانہ بھی ہے۔۔۔۔
میں نے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کو کہا یہ دونوں کہا ملیں گے مجھے ان کا پتہ بتاؤ میں سب دیکھ لوں گا۔۔۔۔
زیبا نے ان کا پتہ بتایا اور ان دونوں تصویریں بھی مجھے دکھائیں جن کی میں نے بھی تصویریں بنا لیں۔۔۔۔
میں نے اس کے ہونٹوں پر ایک بھرپور کس کیا اور کہا کچھ بھی ہو جائے میں کبھی بھی تمہارا ساتھ نہیں چھوڑوں گا یہ ایک مرد کا وعدہ ہے۔۔۔۔
اس نے مجھے اپنے بازوؤں میں کس لیا اور سسکنے لگی۔۔۔
کچھ دیر ایسے کھڑا رہا پھر اس نے کہا رات کو میں تمہارے کمرے میں آؤں گی تم سے بات کرکے دل ہلکا ہو جاتا ہے۔۔۔۔
میں نے اس کی پیشانی چوم کر کہا زہے نصیب آپ جگ جگ آؤ میں انتظار کروں گا۔۔۔۔
میں اس سے الگ ہو کر نیچے آیا اور پھر باہر نکل کر ڈیرے والے حصے میں گیا جہاں بارش موجود تھا میں نے اس سے کہا دو کام ہیں اور دونوں ایک ساتھ کرنے ہیں اور بڑی ہوشیاری سے کرنے ہیں۔۔۔۔
اس کو میں دونوں کی تصویریں دکھائیں اور پتے بھی بتائے انہیں اٹھا کر لانے کا کہا کسی بھی حال میں وہ زندہ چاہئیں ۔۔۔۔
بارش نے میری بات سنی اور ٹھیک ہے کہتا ہوا ایک بائیک لے کر نکل گیا میں وہیں زیبا کے ملازموں کے پاس بیٹھ کر ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگا۔۔۔۔
انہوں نے بھی مجھے بتایا کہ بی بی جی کے رشتہ دار بہت گھٹیا لوگ ہیں وہ ان کی ساری جائیداد پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں یہ تو بی بی جی ہیں جو ان کا ڈٹ کر مقابلہ کر رہی ہیں۔۔۔۔
کافی کچھ اس ملازم نے مجھے بتایا اور میں بھی جان بوجھ کر اس کو اکسا رہا تھا۔۔۔۔
اسی سے مجھے پتہ چلا کہ زیبا کے شوہر کو اس حال تک پہنچانے والے بھی یہ لوگ ہی ہیں انہوں نے ہی اس پر حملہ کروایا تھا۔۔۔۔
میں نے ہنکارہ بھرا اور اس کو کہا یہاں کوئی ایسی جگہ نہیں ہے جہاں سے کوئی مزے دار بکرے کی کڑاہی ملتی ہو۔۔۔۔
اس نے مسکرا کر کہا اگر آپ نے باہر سے کھانا کھایا تو بی بی جی ناراض ہوں گی آپ نے جو کچھ کھانا ہے بتا دیں آپ کو یہاں سے مل جائے گا۔۔۔۔
میں نے کہا چلو ٹھیک ہے یہ تو میں اس لیے کہہ رہا تھا کہ باہر گھومنے پھرنے کا موقع مل جائے گا گھر میں سارا دن رہنا بڑا اوکھا کام ہے، میں گھومنے پھرنے انسان ہوں قید میں نہیں رہ سکتا۔۔۔۔۔
اس نے کہا لو بس اتنی سی بات ہے چلو جی میں آپ ہو لے چلتا ہوں جہاں جہاں آپ جانا چاہتے ہیں۔۔۔۔
اس نے گاڑی نکالی اور مجھے گاؤں گھمانے لگا اس نے سارا رقبہ دکھایا اور میں اس سے پوچھتا رہا یہ کس کا گھر ہے ۔۔۔۔
پھر اچانک میں نے اس سے زیبا کے رشتہ داروں کا پوچھا ان کے گھر کہاں ہیں۔۔۔۔
اس نے بڑے فخر سے مجھے ان کے گھر دکھائے جو ساتھ والی آبادی میں تھے جو زیبا کے گھر سے پانچ چھ کلومیٹر دور تھی۔۔۔
میں نے اس سے ایک ایک کے گھر کا پوچھا سب سے پہلے زیبا کے دیور کا گھر تھا اس کے بعد اسی آبادی کے اندر تھوڑا دور اس کے کزنوں کا گھر تھا۔۔۔۔
وہاں لوگوں کا رش لگا ہوا تھا جیسے کوئی مسئلہ ہو گیا ہو میں نے ڈرائیور سے پوچھا لگتا ہے یہاں کچھ ہو گیا ہے پتہ تو کرو کیا ہوا ہے۔۔۔۔
اس نے ایک گزرتے ہوئے آدمی کے پاس رک کر اس سے پوچھا کیا ہوا ہے تو اس نے بتایا کہ میاں صاحب کو کسی نے اغواہ کر لیا ہے گھر سے اٹھا کر لے گئے ہیں اور ان کے بھائی کو گولی بھی لگ گئی ہے۔۔۔۔
میری توقع کے عین الٹ بارش نے اتنی جلدی کام دکھا دیا تھا۔۔۔۔
بارش نے کیا یا اس سے پہلے ہی کسی نے کام دکھا دیا اس بات کا مجھے کوئی علم نہیں تھا۔۔۔۔
میں تو صرف یہ سمجھ رہا تھا کہ یہ سارا کارنامہ بارش کا ہے کیونکہ میں نے اس کے ذمہ یہ کام لگایا تھا۔۔۔۔
میں نے ڈرائیور کو مزید آگے جانے کا کہا وہ مجھے سارا علاقہ دکھاتا رہا اور بتاتا رہا یہ اس کا ہے یہ اس کا ہے وغیرہ ۔۔۔۔
میرا مقصد پورا ہو چکا تھا میں نے کافی معلومات حاصل کر لی تھیں جو میں چاہ رہا تھا وہ مجھے پتہ چل چکا تھا۔۔۔۔
واپس حویلی آئے اور میں نے بارش کو فون کیا تو اس نے بتایا کہ میں تو ابھی سوچ ہی رہا تھا کہ کیا کروں کوئی کام دکھا گیا۔۔۔۔
میں اس سے لمبی بات نہ کی اور زیبا کا نمبر ملایا اور اس کو بتایا کہ اس کے شوہر کے کزن کو اغواہ کر لیا گیا ہے اور گولی بھی چلی ہے۔۔۔۔
زیبا صرف مسکرائی اور بولی اچھا مجھے اس کا علم نہیں ہے۔۔۔
میں نے مسکرا کر کہا چلیں دیکھتے ہیں اس کے ساتھ کیا کرنا ہے۔۔۔
میں نے فون بند کیا اور ڈیرے والی سائیڈ پر چلا گیا اور وہاں موجود چار آدمیوں سے پوچھا جو آج زیبا کے حکم پر گئے تھے وہ کہاں ہیں۔۔۔
ایک نے بے دھیانی میں کہا وہ تو کب کے آچکے ہیں اور اندر مصروف ہیں۔۔۔
میں اندر کی طرف بڑھ گیا اور وہ بھی میرے ساتھ اندر گیا اور پریشان ہو گیا مجھے روکے یا آگے جانے دے۔۔۔
میں نے اندر جا کر پوچھا کس طرف ہیں میرا انداز بڑا سنجیدہ اور لہجہ سخت تھا۔۔۔
اس نے مجھے ایک کمرے کی طرف اشارہ کیا میں آگے بڑھا اندر داخل ہوا تو کمرہ خالی تھا۔۔۔۔
اس کمرے میں ایک اور دروازہ تھا میں نے وہ کھولا تو سامنے دو آدمی جو شکل سے کی غنڈے لگ رہے تھے۔۔۔۔
انہوں نے ایک بڑے ہی خوبصورت جوان آدمی کو باندھ رکھا تھا اور اس پر مکے برسا رہے تھے۔۔۔۔
دروازہ کھلا تو انہوں نے چونک کر میری طرف دیکھا اور رک کر سوالیہ نظروں سے مجھے دیکھنے لگے۔۔۔۔
اس شخص کو دیکھ کر میرا خون کھول اٹھا میں نے آگے بڑھ کر اس کے منہ پر لات ماری وہ کرسی سمیت پیچھے جا گرا۔۔۔۔
ان دونوں نے اس کو کرسی سمیت اٹھا کر پھر بٹھایا میں نے اس کے بال پکڑ کر ان دونوں سے پوچھا یہ وہی ہے انہوں نے ہاں میں سر ہلا دیا۔۔۔۔
میرا سوال وہ سمجھے تھے یا ایسے ہی بول دیا تھا لیکن جو بھی تھا میرا خون تو انگارا بن چکا تھا۔۔۔۔
میں نے پستول نکالا اور اس کے پاؤں میں گولی مار دی۔۔۔۔
وہ ہڑبڑا گئے اور میری طرف دیکھنے لگے میں نے ان کو کہا اس کے کپڑے اتارو اور ننگا کرکے لٹکا دو سالے حرام خور کو۔۔۔۔
وہ دونوں اس کو کھولنے لگے تو میں نے کہا کپڑے پھاڑ دو اور اسی طرح کرسی سمیت اوپر لٹکا دو اور اس کا لوڑا کاٹ کر اس کو باہر کسی جگہ پھینک آؤ۔۔۔۔
وہ ایسا کرنے سے ہچکچانے لگے تو میں نے آگے بڑھ کر اس کے کپڑے پھاڑ دئیے اور اس کو ٹھڈے مارنے لگا۔۔۔۔
وہ پہلے ہی تڑپ رہا تھا اس کے منہ بندھا نہ ہوتا تو آواز سے کمرہ پھٹ جاتا جس طرح وہ پھڑپھڑا رہا تھا مجھے یہ دیکھ کر سکون مل رہا تھا۔۔۔۔
پچھلے 72 گھنٹوں میں جو کچھ میں دیکھ چکا تھا اس کے بعد میرا یہ ری ایکشن میری اپنی ذہنی حالت کا پتہ دے رہا تھا۔۔۔۔
میں نے بارش کو فون کیا اور کہا کہ یہاں ڈیرے کے اندر آؤ ۔۔۔۔
پانچ منٹ میں ہی بارش اندر موجود تھا اس نے آتے ہی جب اندر کی حالت دیکھی تو میری طرف دیکھ کر بولا جی بھائی بولیں کیا کرنا ہے ۔۔۔۔
میں نے اس کو کہا اس کے لوڑے کو کاٹ کر کتوں کو کھلا دو اور اس کو باہر کسی گندی نالی میں پھینک دو۔۔۔۔
بارش نے جیب سے چاقو نکالا اور آگے بڑھ گیا وہ آدمی حیران رہ گئے کہ بارش نے ذرہ بھی اوں آں نہیں کی۔۔۔۔
بارش نے چاقو سے اس کی شلوار کو کاٹا اور ایک طرف ہو کر اس کے لن کو کاٹ دیا۔۔۔
خون کا ایک فوارا ابل پڑا سالے کے جسم میں بڑا گندہ خون تھا جو ابل ابل کر نکل رہا تھا ۔۔۔۔
اس حرامی کے چہرے پر درد ہی درد تھا اور آنکھیں پھٹ رہی تھیں۔۔۔
بارش نے ایک کپڑا اٹھایا اور اس میں لن کو لپیٹ کر باہر جا کر پھینک دیا اور ہم پانچ منٹ تک کھڑے اس کو دیکھتے رہے۔۔۔
زیبا کے آدمی باہر نکل گئے تھے ان سے یہ سب دیکھا نہیں جا رہا تھا۔۔۔
جب خون نکلنا بند ہو گیا تو میں نے بارش کو کہا کہ اس کو کسی ایسی جگہ پھینک آؤ جو یہاں سے کافی دور ہو اور زیبا کا جو دیور ہے اس کو اٹھا کر کسی محفوظ مقام پر لے جاؤ اور اس کا بھی یہ ہی حال کرکے کتوں کے آگے پھینک دو۔۔۔۔
میں وہاں سے نکل کر حویلی میں داخل ہوا وہاں صرف ایک ہی عورت کی حکمرانی تھی اور وہ تھی زیبا ۔۔۔۔
گھر میں اس وقت صرف ملازمہ تھیں اور زیبا تھی زیبا اس وقت اپنے کمرے میں تھی میں بھی اپنے کمرے میں چلا گیا۔۔۔۔
میرے دماغ میں شبو کا خیال آیا تو میں نے زیبا ہو فون کرکے اس کے بارے میں پوچھا ۔۔۔۔
زیبا نے بتایا کہ اس کا علاج ہو رہا ہے اس کی حالت بہت خراب تھی آج کافی بہتر ہے اس کو یہاں ہی رکھا ہوا ہے۔۔۔۔
میں نے پوچھا اور تمہارے زخموں کا کیا ہوا ابھی کیسی حالت ہے۔۔۔۔
زیبا نے کہا آ گیا خیال میرا بھی میں تو سمجھی تھی اب تم میرے زخموں کے بارے میں بھول گئے ہو گے۔۔۔۔
میں نے کہا بھولنا کہاں ہے میں نے اس لیے نہیں پوچھا تھا کہ تمہیں اس سے زیادہ تکلیف ہو گی جب زخم تازہ ہو تو درد بھی زیادہ ہوتا ہے اور میں پہلے ان زخموں کے ذمہ داروں کو سبق سکھانا چاہتا تھا جس کی ابتدا ہو گئی ہے شام تک سب کا ویسا ہی حال ہوگا جیسا شمروز کا ہوا ہے۔۔۔۔
زیبا نے کہا مجھے پتہ چل گیا ہے اور ایک بات بتاؤں میرے دیور کے ساتھ خصوصی محبت کا مظاہرہ کرنا آخر میرا دیور ہے اس کو بھی پتہ چلنا چاہیے اس کی بھابھی کو اس کا کتنا احساس ہے۔۔۔۔
میں نے کہا جو حکم ملکہ عالیہ جیسا آپ حکم دیں گی ویسا ہی ہوگا۔۔۔۔
زیبا نے ہنس پڑی اور کہا اگر گھر میں ہو تو آ جاؤ تمہارے لیے ایک سرپرائز ہے۔۔۔۔
میں نے فون بند کر دیا اس کی بات بھی پوری نہ سنی اس کے کمرے کے دروازے پر جا کر دستک دی۔۔۔۔
اندر سے آواز آئی دروازہ کھلا ہے اندر آ جاؤ ، میں اندر داخل ہو گیا اور سامنے بیڈ پر زیبا لیٹی تھی اس کو دیکھ کر بالکل بھی نہیں لگ رہا تھا کہ اس کو کوئی پریشانی ہے یا اس کے ساتھ کی قسم کی کوئی زیادتی ہوئی ہے ۔۔۔۔۔
اس کا ہشاش بشاش چہرہ دیکھ کر میں حیران تھا۔۔۔۔
اس نے مسکرا کر میرا استقبال کیا اور اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔
میں اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا اس نے میرا ہاتھ پکڑا اور بولی ایک بات بتاؤں ۔۔۔
میں نے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا ہاں جی بولیں۔۔۔
اس نے کہا وہ سب ابھی پلاننگ کر رہے تھے کہ میرے ساتھ زیادتی کریں اس تیاری سے پہلے اس شمروز نے ان کو ڈبل کراس کیا تھا۔۔۔۔
اس نے میرے ساتھ زیادتی کی یہ بولتے ہوئے اس کی آواز رندھ گئی میں نے اس کو چپ رہنے کا کہا تو اس نے کہا جو حقیقت ہے اس کو تسلیم کر لینا چاہئیے ۔۔۔۔
میرے ساتھ زیادتی ہوئی ہے تو ہوئی ہے میں لاکھ انکار کروں یا خود کو سمجھاؤں لیکن حقیقت بدل نہیں سکتی ۔۔۔۔
جو خون تم نے دیکھا تھا وہ شمروز کے گارڈ کا تھا اس نے کرنے کی کوشش کی تھی تو میرا دیور اوپر سے آ گیا اس کو ایسا کرتے دیکھ کر اس نے اس کا وہ کاٹ دیا تھا جس کا خون وہاں لگا تھا ۔۔۔۔
شمروز اس وقت بھی دوسرے کمرے میں تھا جب تم گئے تھے تب وہ لوگ شمروز کے گارڈ کو اٹھا کر لے گئے تھے کسی جگہ پھینکنے کے لیے۔۔۔۔
میں نے زیبا کو بٹھایا اور اس کا ماتھا چوم لیا اور کہا دیکھو جو بھی ہو جائے میرے لیے تم ہمیشہ مقدم رہو گی تمہارا حساب چکتا کر کے ہی رہوں گا چاہے مجھے موت کا ہی سامنا کیوں نہ کرنا پڑے۔۔۔۔
زیبا نے میرے ہونٹوں پر کس کیا اور بولی تو پھر آج رات سے پہلے پہلے سب کر لو اگر ایسا کر لیا تو یہ زیبا اپنا تن من دھن سب کچھ تم پر وار دے گی ۔۔۔۔
عورت کی زندگی میں سہاگ رات اس کے شوہر کے ساتھ آتی ہے لیکن میں آج یہ رواج یہ رسم یہ روایت ختم کر دوں گی آج میں تمہارے ساتھ سہاگ رات مناؤں گی۔۔۔۔
میں تمہارے لیے بن بیاہی دلہن بن کر تمہارا دلہن کی سیج پر انتظار کروں گی اپنا جسم تمہارے لیے سنواروں گی اپنے جسم کو خوشبوؤں سے مہکا کر تمہارے جسم کا پسینہ اپنے ماتھے پر اپنی مانگ میں لگاؤں گی۔۔۔۔
صائم تم میرے شوہر کے علاوہ پہلے غیر محرم ہو جس کے ساتھ میں نے جسمانی تعلق قائم کیا۔۔۔۔
تمہاری اور میری عمر کا اتنا فرق ہونے کے باوجود اگر یہ کہا جائے کہ مجھے تم سے عشق ہو گیا ہے تو غلط نہ ہوگا۔۔۔۔
رات ہوتے ہی تم میری باہوں میں ہوتے ہو دن چڑھتے ہی میرے سامنے ہوتے ہو میری سانسوں میں بسنے لگے ہو۔۔۔۔
آنکھیں بند کروں تو تم مسکراتے نظر آتے ہو خاموشی ہو تو تمہاری آواز میرے کانوں میں گونجتی ہے۔۔۔۔
میرے ارد گرد تمہارے جسم کی خوشبو پھیلی رہتی ہے میرے دل کے تار ہر لے پر تمہارا نام جپتے ہیں ۔۔۔۔
یہ عشق نہیں ہے تو کیا، یہ دیوانگی کی آخری حد ہے ،ایسا پیار ہے جس کی کوئی حد نہیں۔۔۔۔
میں اس کی باتیں سن کر ماننے پر مجبور ہو گیا کہ۔۔۔
عشق نہ ویکھے ذات۔۔۔۔
یہ کیسا پیار تھا جس میں ہر طرف خون ہی خون تھا جس کے لیے میں نے ایک دن میں کیا کچھ کر ڈالا یہ کیسا جنون سوار ہو گیا تھا کہ میں انسان کی تذلیل کرنے لگا تھا۔۔۔۔
ایک پڑھا لکھا طالب علم جو کتابوں میں کھونے کی عمر میں قتل کرتا پھر رہا تھا جس کی لڑکوں کے ساتھ مستیاں کرنی کی عمر تھی اور وہ کن کاموں میں پڑ گیا ۔۔۔۔
مجھ میں غصہ بھرا تھا ان لوگوں کے لیے جو ظلم کر رہے تھے، جو زیادتیاں کرتے پھرتے تھے ، جن لوگوں نے نوجوانوں کو نشے پر لگایا تھا۔۔۔۔
ایسا تو میں نے اس وقت بھی نہیں کیا تھا جب عنذا کے ساتھ شایان اور اس کے ساتھیوں نے زیادتی کی تھی۔۔۔
اس کے نازک اعضا پر پاوڈر لگا کر سن کیا تھا اور اس کو عادی بنا دیا تھا۔۔۔۔
میں کیا بن گیا تھا ان چند دنوں میں جو کچھ کر بیٹھا تھا وہ کبھی تصور میں بھی نہیں سوچا تھا۔۔۔۔
میں نے زیبا کو بیٹھے بیٹھے گلے لگایا اور اٹھ کر باہر نکل گیا ۔۔۔۔
باہر نکل کر شبو کا خیال آیا میں نے ملازمہ سے اس کا پوچھا تو اس نے مجھے شبو کے کمرے میں پہنچا دیا۔۔۔۔
شبو کی حالت کافی خراب لگ رہی تھی اس کے پاس ایک ملازمہ اور بھی موجود تھی جو شاید اس کی دیکھ بھال کر رہی تھی۔۔۔۔
شبو اس وقت سو رہی تھی میں اس کو دیکھ کر واپس نکل گیا اور سیدھا ڈیرے میں گیا۔۔۔۔
وہاں جا کر بارش کا پوچھا وہ موجود نہیں تھا میں نے اس کو فون کیا تو اس نے بتایا کہ ایک کو بہا دیا ہے اور دوسرا میرے آگے ہے میں اس تک پہنچ رہا ہوں ۔۔۔
میں نے ایک بائیک لی اور بارش سے اس کی لوکیشن پوچھی اور اس کی طرف چل پڑا۔۔۔۔
علاقہ تو تقریباً سارا دیکھ لیا تھا اس لیے مجھے زیادہ مشکل پیش نہ آئی ۔۔۔۔
میں جب اس کے قریب پہنچا تو مجھے پتہ چلا کہ وہ جس گاڑی کا پیچھا کر رہے تھے وہ گاڑی ابھی ایک ٹیوب ویل پر جا کر رکی ہے۔۔۔۔
میں نے بائیک سے اترا اور بارش سے پوچھا اس نے مجھے اشارے سے بتایا کہ اس طرف گیا ہے اس کے ساتھ دو لوگ اور ہیں اب آگے پتہ نہیں کتنے لوگ ہوں گے۔۔۔۔
میں نے فون بارش کا نمبر ملا کر فون کان کو لگایا اور کہا میں آگے جا رہا ہوں سب بتاتا ہوں وہاں کتنے لوگ ہیں بارش نے فون کان سے لگایا اور کہا ٹھیک ہے۔۔۔۔
میں نے بائیک ٹیوب ویل کی طرف بڑھا دی جو ٹیوب ویل کم ڈیرہ تھا وہاں بس وہی تین لوگ موجود تھے میں نے بائیک ان کے قریب لے جا کر روکی اور فون پر بولا جی جی یہاں تین لوگ ہیں کیا نام بتایا آپ نے ، او اچھا اچھا چلیں ٹھیک میں ان کو دے دیتا ہوں ۔۔۔
بارش فون بند کر چکا تھا لیکن میں نے جان بوجھ کر بات لمبی کی تاکہ ان کو یہاں پہنچنے کے لیے وقت مل جائے ۔۔۔۔
وہاں موجود تین لوگ تھے میں نے زیبا کے دیور کا نام لے کر بڑی عزت سے پوچھا ان سے ملنا ہے۔۔۔۔
ان میں سے ایک نے کہا ہاں بول میں ہوں، کیا کام ہے۔۔۔
میں نے ہنس کر کہا اور اچھا تو آپ ہیں اور اس کے ساتھ ہی میں نے پستول نکال کر اس کے ساتھ بیٹھے آدمی کو گولی مار دی۔۔وہ اچھل پڑے اور کھڑے ہو گئے تب تک بارش لوگ بھی پہنچ چکے تھے بارش نے للکار کر کہا خبردار اگر کسی نے ہلنے کی کوشش بھی کی تو بھون کر رکھ دیں گے۔۔۔۔
وہ دونوں ہاتھ اٹھا کر کھڑے ہو گئے بارش آگے بڑھا اور ان دونوں کو پستول کے زور پر اپنے آگے لگا لیا۔۔۔۔
ان کو گاڑی میں بٹھانے سے پہلے ان کے ہاتھ اور منہ باندھ دئیے اور پھر ہم وہاں سے چل پڑے۔۔۔۔
وہاں سے آبادی گوکہ کافی دور تھی پھر بھی جب ہم وہاں سے نکلے تو ہمیں لوگ اس طرف بھاگ کر آتے نظر آئے۔۔۔۔
کچھ آگے جا کر میں نے بائیک چھوڑی اور گاڑی میں بیٹھ گیا زیبا کے دیور کے علاوہ جو بندہ تھا اس کو گاڑی سے باہر پھینک دیا۔۔۔۔
چلتے چلتے میں نے گاڑی کے اندر کی اس کی کلائی کاٹ دی اور اس کا خون اس کے منہ پر لگانے لگا۔۔۔۔
وہ تڑپ رہا تھا خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن وہ اس قابل نہیں تھا۔۔۔۔
جب ہم ایک زیادہ ویران علاقے میں آ گئے تو میں نے گاڑی روکنے کا کہا اور اس کی دوسری کلائی کاٹ دی۔۔۔۔
پھر اس کو گاڑی سے باہر نکالا اور کھول کر کہا بھاگ جاؤ ، وہ سرپٹ بھاگنے لگا لیکن لڑکھڑا کر گر گیا۔۔۔۔
میں اس کے پیچھے بھاگا اور اس کے پاس جا کر اس کے کندھے پر چاقو سے وار کیا۔۔۔۔
وہ لڑکھڑا کر گرا میں نے پھر اس کو کھڑا کیا اور کہا ابھی بھی وقت ہے مجھ سے تیز بھاگ کر اس فصل تک جاؤ چھوڑ دوں گا۔۔۔۔
وہ خود کو سنبھال کر لڑکھڑاتے قدموں سے کھڑا ہوا اور پھر بھاگنے لگا میں پھر اس کے پیچھے بھاگا اور جا کر اس کے آگے ہو گیا اور اس کی دونوں ٹانگوں کے درمیان اپنی طرف سے نشانہ لے کر چاقو گھسا دیا۔۔۔۔
چاقو اس کے مثانے میں گھس گیا وہ بلبلانے کی کوشش کرنے لگا لیکن منہ بندھا ہونے کی وجہ سے کچھ نہ بول سکا بس تڑپ محسوس ہوئی اور وہ دھڑام سے نیچے گر گیا۔۔۔۔
میں نے چاقو کھینچا اور پھر نکال کر اس کے سینے میں گھونپ دیا میرے سارے کپڑے خون سے بھیگ گئے۔۔۔۔
میرے منہ پر بھی خون کے دھبے لگ گئے تھے بارش بھاگ کر میرے پاس آیا اور مجھے اٹھا کر ساتھ لے گیا۔۔۔
میں نے بارش کو چاقو نکالنے کا کہا اس نے چاقو نکال لیا جو میں نے اپنے کپڑوں سے صاف کیا اور اپنے نیفے میں اڑس لیا۔۔۔۔
گاڑی پھر چل پڑی اور کافی تیز چل رہی تھی رستے میں جا کر میں نے بارش سے پوچھا یہ گاڑی کس کی ہے تو اس نے جس کو پہلے اٹھایا تھا اس کی ہے۔۔۔۔
ایک جگہ نالہ بہتا نظر آیا تو بارش نے گاڑی روک دی اور مجھے کہا خون صاف کر لیں بھائی۔۔۔۔
میں گاڑی سے اترا اور نالے میں اتر کر نہانے لگا مل مل کر خون صاف کرنے لگا ۔۔۔
بارش کو میں نے کہا وہ یہ گاڑی کہیں ٹھکانے لگا کر مجھ سے رابطہ کرے میں تب تک نہا کر یہاں سے پیدل نکل آتا ہوں۔۔۔۔
بارش نے مجھے سمجھانے کی کوشش کی لیکن جب بندے کا برا وقت شروع ہوتا ہے تو کچھ سمجھ نہیں آتی ایسی ایسی غلطیاں کر جاتا ہے جو کبھی وہ سوچ بھی نہیں سکتا۔۔۔۔
بارش کو میں نے زبردستی بھیج دیا صرف اس لیے کہ مجھے اس پانی میں نہانے کا بڑا مزہ آ رہا تھا۔۔۔۔
میں نے چاقو کنارے پر رکھا ہوا تھا اور قمیض کو دھو کر سوکھنے کے لیے پھیلا دیا تھا خود نالے میں ڈبکیاں لگا رہا تھا۔۔۔۔
تبھی کسی نے مجھے بالوں سے پکڑ کر باہر کھینچا، میں ہڑبڑا کر باہر دیکھا تو پولیس کھڑی تھی۔۔۔
ان لوگوں نے مجھ ہر بندوقیں تان رکھی تھیں ان کے ہاتھ میرا پستول اور چاقو دونوں لگ گئے تھے۔۔۔۔
مجھے ہتھکڑی لگا کر وہ لوگ وہاں سے تھانے کی طرف روانہ ہو گئے ۔۔۔
میں جو ہواؤں میں اڑ رہا تھا خود کو ناقابل تسخیر سمجھ بیٹھا تھا یہ بھول گیا تھا یہاں قانوں نام کی بھی کوئی چیز ہوتی ہے آج قانون کی گرفت میں تھا ۔۔۔۔
مجھے پولیس والے ٹھڈے مارتے ہوئے گاڑی میں جس وقت ڈال رہے تھے مجھے خود پر ترس آ رہا تھا۔۔۔۔
میں اپنے برے مستقبل کے بارے میں سوچ رہا تھا میں سمجھ گیا تھا کہ بلو بیٹا اگ تیرا ان سے بچنا ممکن نہیں۔۔۔۔
ان کے ہاتھ تو بے گناہ لگ جائے تو اس کو قصوروار ثابت کر دیتے ہیں اور تو نے تو خون کی ہولی کھیلی ہے۔۔۔۔
تھانے پہنچنے تک میری درگت بن چکی تھی میرا انجر پنجر ہل چکا تھا۔۔۔۔
اس کے بعد مجھے باقاعدہ پانجا لگایا گیا جس سے میری کھال ادھڑ گئی تھی۔۔۔۔
میں بے ہوش ہو چکا تھا مجھے یقین ہو گیا کہ اب میرا بچنا ناممکن ہے ۔۔۔
مجھ پر پانچ لوگوں کے قتل کا کیس دائر کیا گیا اور بربریت کی انتہا بتائی گئی مجھے سفاک قاتل بنا کر پیش گیا اور ایک عادی مجرم کے روپ میں عدالت میں پیش کیا گیا۔۔۔۔۔
وہ دن اور اج کا دن میں ابھی تک اس دن کو بھول نہیں پایا میں خود کو کوستا رہا میں نے کیا کر دیا ۔۔۔۔
میں جو خود کو بہادر سمجھتا تھا گڑگڑا کر روتا رہا دن رات آنے والے وقت کے بارے میں سوچ سوچ کر پاگل ہو گیا۔۔۔۔
پھر وہ دن بھی آیا جب عدالت نے مجھے قاتل سمجھتے ہوئے اہنی منصفی کا بیانیہ جاری کرتے ہوئے سزائے موت سنا دی ۔۔۔۔
میں اس رات رو رو کر ہلکان ہو گیا نائٹ ڈیوٹی پر موجود پولیس والے نے مجھے گالیاں دیں بیرک کھول کر لاٹھی برسائی لیکن میں چپ نہ ہوا۔۔۔۔
میری موت کا دن متعین ہو گیا میں دن گننے لگا موت کا فرمان جاری ہو چکا تھا بس اتنظار تھا تو اس تاریخ کا جس دن مجھے پھانسی دی جانی تھی۔۔۔۔
جس دن سے میں گرفتار ہوا تھا کسی کو بھی مجھ سے ملنے کی اجازت نہ دی گئی یہاں تک کہ میرے اباجی بھی تھانے آئے لیکن کسی نے ان کی حالت پر ترس نہ کھایا ۔۔۔۔۔
وہ ترس کھاتے بھی کیوں مجھ جیسے سفاک قاتل کا باپ ہونا ہی خود میں ایک بہت بڑا گناہ تھا۔۔۔۔
میری جیل میں اور اس دنیا میں آخری رات تھی مجھے بتا دیا گیا تھا جو معافی مانگنی ہے مانگ لو، مجھ سے میری آخری خواہش پوچھی گئی میں نے کوئی خواہش نہ بتائئ۔۔۔۔
میری داڑھی بڑھ چکی تھی بال کندھوں تک پہنچ چکے تھے جو کبھی ہر وقت بن ٹھن کر رہتا تھا آج اس کو دیکھ کر کوئی بھی یقین سے کہہ سکتا تھا کہ یہ پاگل ہے۔۔۔۔
رات کا پچھلا پہر شروع ہو چکا تھا لیکن نیند میری آنکھوں سے کوسوں دور تھی میں چپ چاپ بت بنا بیٹھا تھا۔۔۔۔
آب تو آنکھیں بھی خشک ہو چکی تھیں پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں بہہ رہا تھا ۔۔۔۔
میری بیرک کا دروازہ کھلا کسی نے میرے اوپر کپڑا ڈالا اور مجھے اٹھا کر کندھے پر لاد لیا اور بھاگ کھڑا ہوا ۔۔۔
میرا وزن بھی کتنا ہو گا کوئی تیس کلو ہوگا مجھے کوئی بھی آسانی سے اٹھا کر لے جا سکتا تھا ۔۔۔۔
پتہ نہیں کون لوگ تھے جو مجھے یوں اٹھا کر لے جا رہے تھے۔۔۔
میں نے اپنا آخری وقت سمجھ لیا تھا اور یہ سمجھ رہا تھا کہ میرا آخری وقت شروع ہو گیا ہے ۔۔۔۔
میرا سانس رک چکا تھا اور میں دنیا سے بیگانہ ہوتا گیا ۔۔۔۔۔
ختم شد۔۔۔۔۔