پھر تم وہ سب کچھ حاصل کر لو گی جس کی خواہش ہے تمہاری ہر مراد پوری ہو گی تم بالکل راج کماری کی طرح زندگی گزارو گی اب تم پر منحصر ہے کہ ان درندوں کی ہوس کا نشانہ بننا ہے یا اس کے بعد شاہانہ زندگی گزارنی ہے۔۔۔۔
شبو چپ ہو گئئ مطلب اس پر میری باتوں کا اثر ہو رہا تھا۔۔۔
دیکھو شبو میں بھی تمہاری طرح کا غریب انسان تھا لیکن جب مجھے ایسا موقع ملا میں نے اپنا آپ ثابت کیا اور آج دیکھ لو میڈم مجھ پر کتنا بھروسہ کرتی ہیں ۔۔۔۔
تم میڈم کے بارے میں کچھ نہیں جانتی وہ ان جیسے سینکڑوں بدمعاش پال رہی ہیں ۔۔۔
ان کے ایک اشارے پر یہاں اتنے لوگ آ جائیں گے کہ تم سمجھ نہیں پاؤ گی یہ ہوا کیسے، وہ ہمیں دودھ میں سے بال کی طرح اٹھا کر لے جائیں گے۔۔۔۔
شبو نے ہاں میں سر ہلایا اور منہ بسورتے ہوئے بولی لیکن میری عزت کا کیا جو اس کمینے نے لوٹ لی ہے۔۔۔۔
میں نے اس کس تسلی دیتے ہوئے کہا دیکھو اس نے بھی وہی کیا جو ہم کر رہے تھے بس اس نے زبردستی کیا ہوا تو وہی ہے جو میں نے کیا بس میں نے پیار سے کیا اس نے اپنے جاہلانہ انداز میں کیا اس میں شرم والی کوئی بات نہیں ہے۔۔۔۔
ہر لڑکی کی پھدی میں کوئی نہ کوئی لن جانا ہوتا ہے کئی لڑکیوں کی قسمت میں زیادہ لن لکھتے ہوتے ہیں تم بھی یہی سمجھو کہ تمہاری قسمت میں یہ بھی لکھا تھا ۔۔۔۔
شبو نے کھا جانے والی نظروں سے مجھے دیکھا اور منہ دوسری طرف کرکے لیٹ گئئ۔۔۔۔
میں کچھ اور بولنے لگا تو اس نے مجھے چپ کروا دیا اور کہا بس اب کچھ نہ بولو مجھے کچھ سوچنے دو۔۔۔۔
اس کے بعد کافی دیر تک ہمارے درمیان کوئی بات نہ ہوئی۔۔۔
رات ہو گئئ لیکن کوئی ہمارا پتہ کرنے کے لیے یا سنبھالنے کے لیے نہ آیا تو میں نے کوشش کرنے کا سوچا۔۔۔۔
میں شبو کے پیچھے گیا وہ منہ دوسری طرف کیے لیٹی ہوئی تھی۔۔۔۔
میں نے اس کے کان میں کہا شبو میں تمہارے ہاتھ کھولتا ہوں تم میرے کھول دینا پھر کچھ ترکیب لگاتے ہیں۔۔۔۔
شبو کچھ نہ بولی میں نے دانتوں کی مدد سے اس کی رسی بڑی مشکل سے کھول دی۔۔۔
باہر ناچ گانا شروع ہو گیا تھا لگ رہا تھا جیسے کوئی جشن منایا جا رہا ہو، جنگل میں منگل کئی بار سنا تھا آج دیکھنے کا موقع مل رہا تھا ۔۔۔۔
میں سیدھا ہوا شبو نے کافی محنت سے میرے ہاتھ بھی کھول دئیے۔۔۔
میں نے کمرے میں کوئی چیز ڈھونڈنے کی کوشش کی جس سے کسی پر حملہ کیا جا سکے لیکن کچھ نہ ملا۔۔۔۔
دروازے کو کھولنے کی کوشش کی تو پتہ چلا کہ دروازے پر کوئی کنڈی نہیں تھی بس ساتھ لگایا گیا تھا۔۔۔۔
میں نے تھوڑا سا دروازہ کھول کر باہر جھانکا تو ایک طرف ناچنے والی ناچ رہی تھیں اور بیس پچیس لوگ بیٹھے کباب کھانے اور شراب پینے میں مصروف تھے۔۔۔۔
میں نے آس پاس نظریں دوڑائیں اور خالی سمت دیکھ کر شبو کا ہاتھ پکڑا اور باہر نکل کر کھسکتے ہوئے کمرے کے پیچھے چلا گیا۔۔۔۔
پھر سمت کا انداز لگا کر بڑی احتیاط کے ساتھ چلنا شروع کر دیا۔۔۔۔
کانٹے پاؤں میں چبھنے لگے تھے جوتے پہنے ہوئے تھے لیکن عام جوتا تھا جو ربڑ کا تھا اس میں سے کانٹے آسانی سے گزر رہے تھے۔۔۔۔
اندھیرا جنگل اور اس جنگل میں ایک لڑکی کے ساتھ بدمعاشوں سے چھپ کر بھاگنا کیسا ہوتا ہے میں اب بھی سوچتا ہوں تو میرے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔۔۔۔
میں چلتے چلتے کافی دور نکل گئے تھے لیکن جنگل ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا۔۔۔۔
ایک یہ بھی ڈر تھا کہ جنگل میں جنگلی جانوروں کے ہتھے چڑھ گئے تو زندگی سے ہاتھ دھو بیٹھیں گے۔۔۔۔
شاید اسی وجہ سے ان لوگوں نے کنڈی لگانے کی زحمت نہ کی ہو گی کہ اس جنگل سے کوئی بھاگنے کی حماقت نہیں کرے گا۔۔۔۔
ہم حماقت کر چکے تھے اب پچھتا رہے تھے لیکن کیا کر سکتے تھے اس ساتھ بے موت مرنے سے بہتر یہ لگا کہ کوشش کرکے مرا جائے ۔۔۔۔
ہم کوشش کر رہے تھے باقی جو ہونا تھا وہ تو ہو کر ہی رہے گا ۔۔۔۔
شبو نے چلتے چلتے رک کر کہا اب بس اور نہیں چل سکتی میری بس ہو گئی ہے پاؤں درد کر رہے ہیں۔۔۔۔
ہمیں چلتے ہوئے تقریباً آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا ابھی صرف ان بدمعاشوں کی آوازیں آنا بند ہوئی تھیں۔۔۔
میں نے شبو کو حوصلہ دیا اور کہا بس تھوڑا سا اور صبر کرو کوئی نہ کوئی حل نکل آئے گا ہم بس جنگل سے نکلنے والے ہی ہیں۔۔۔۔
شبو کو حوصلہ دے کر پھر سے چلنا شروع کر دیا اور ہم پھر ڈرتے ہوئے سہمے ہوئے آگے بڑھنے لگے۔۔۔۔
جنگل تھا ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہا تھا میں آگے کی سوچ رہا تھا کہ اگر جنگل سے نکل بھی گئے تو کہاں جائیں گے۔۔۔
ہمیں تو یہ بھی نہیں پتہ تھا کہ ہم کس علاقے میں ہیں اور کہاں ہیں ۔۔۔
پیچھے سے آوازیں آنے لگیں جیسے کوئی کسی کو ڈھونڈ رہا ہو اور گندی گالیاں بھی دے رہا ہو۔۔۔
ہماری سپیڈ یکدم تیز ہو گئی ہم تقریباً بھاگنے لگے۔۔۔
وہی شبو جو کچھ دیر پہلے ہمت ہار چکی تھی کہہ رہی تھی کہ اس سے اور نہیں چلا جایے گا اب دوڑ رہی تھی۔۔۔۔
ہم جتنا تیز چل رہے تھے وہ آوازیں اتنا ہی قریب آ رہی تھیں ہمیں سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ ہم جا کہاں رہے ہیں بس جدھر منہ تھا ادھر ہی بھاگے چلے جا رہے تھے۔۔۔۔
جس طرف ہمارا منہ تھا اس طرف سے پمیں روشنی دکھائی دی، ہم دونوں ایک ساتھ چونک گئے۔۔۔۔
میں نے شبو سے کہا لگتا ہے ہم وہیں آ گئے ہیں جہاں سے شروع کیا تھا۔۔۔
شبو نے ڈر سے کانپتے ہوئے کہا اب کیا ہو گا وہ ہمیں پھر سے پکڑ لیں گے میرے ساتھ وہ سب کریں گے اور رونے لگ گئی۔۔۔۔
میں نے اس کو حوصلہ دیا اور کندھا تھپتھپایا اور کہا میں ہوں ناں اب کچھ نہیں ہوگا۔۔۔۔
اس کو حوصلہ دے کر بڑے محتاط انداز میں ہم آگے بڑھنے لگے۔۔۔۔
جیسے جیسے آگے بڑھ رہے تھے وہ روشنی واضح ہوتی جا رہی تھی اور وہاں موجود لوگ بھی نظر آ رہے تھے۔۔۔۔
ہم ہمت کرکے آگے بڑھتے گئے جب وہاں کا منظر واضح نظر آنے لگا تو میں نے غور سے دیکھا اب وہاں کوئئ نہیں تھا صرف آگ جل رہی تھی ۔۔۔۔
ایک بات تو طے تھی یہ جگہ وہی ہے جہاں سے ہم بھاگے تھے لیکن وہ سب لوگ گئے کہاں، یقیناً ہمیں ڈھونڈنے نکلے ہوں گے ۔۔۔۔
میں نے شبو کو درخت پر چڑھایا اور خود بھی اوپر چڑھ گیا اور اس جگہ کا معائنہ کرنے لگا۔۔۔۔
وہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا آگ جل رہی تھی گوشت پڑا ہوا تھا بھنا ہوا گوشت۔۔۔۔
میں نے شبو کو کہا کہ تم رکو میں کھانے کے لیے لے کر آتا ہوں وہاں کوئی بھی نہیں ہے اگر میں پکڑا بھی جاؤں تو تم نے نیچے نہیں آنا کل یہ مجھے لے جائیں تو تم نیچے اترنا اور دن کی روشنی میں یہاں سے نکلنا تمہارے لیے بڑا آسان ہوگا۔۔۔۔
اس نے ہاں میں سر ہلایا اور میں درخت سے نیچے اترا اور دبے پاؤں اس جگہ پہنچنے لگا۔۔۔۔
میں نے پہلے کمروں اور جھونپڑیوں کا چکر لگا کر چیک کیا کہ کوئی ہے تو نہیں پھر جھونپڑیوں میں جھانکا کوئی نظر نہ آیا لیکن ایک جھونپڑی سے مجھے پستول مل گیا جس کا میگزین بھرا ہوا تھا میں نے وہ اٹھا لیا اور گوشت اور پانی کی بوتل اٹھا کر واپس درخت پر پہنچ گیا۔۔۔۔
ہمیں بھوک کافی لگی ہوئی تھی گوشت کھا کر پیٹ کی آگ بجھائی اور پانی پیا تو غنودگی سوار ہو گئی۔۔۔
درخت کی مضبوط ٹہنی پر میں ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور شبو کو اپنی گود میں بٹھا لیا دونوں ہاتھوں سے اس کو پکڑا اور کہا سو جاؤ لیکن اس نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔
تقریباً تین گھنٹوں کے بعد کچھ لوگ واپس آئے اور ایک دوسرے کو گالیاں دے رہے تھے،یہ وہ لوگ نہیں تھے جو ہمیں اٹھا کر لائے تھے یہ اور لوگ تھے یقیناً ان کا کافی بڑا گینگ تھا۔۔۔۔
وہ ایک بار پھر بیٹھ گئے اور شراب پینے لگے ان میں سے ایک نے کہا اب زیبا ہمیں چھوڑے گی اس بھینسے کو میں نے منع بھی کیا تھا کہ اس کو نہ چھیڑو لیکن یہ بہن چود کسی کی سنے تب ناں۔۔۔۔
اوپر سے اس نے اس کی پھدی بھی مار ڈالی سالے کو اتنی گرمی چڑھی ہوئی تھی کہ صبر بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔۔
ایک دوسرے آدمی نے کہا یار تو صحیح کہتا ہے صبح ہونے سے پہلے پہلے یہاں سے نکل چلو ورنہ یہاں ہماری لاشیں ہئ ملیں گی اس سالی نے یہ جگہ دیکھ لی ہے وہ ہمیں نہیں چھوڑے گی۔۔۔۔
اتنا کہنا تھا کہ سب لوگ وہاں سے اٹھ کر بھاگنے لگے ان کو یہ بھی خیال نہ آیا کہ اپنے ہتھیار اٹھا لیں خالی ہاتھ ہی وہاں سے اٹھ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔۔۔۔
میں نےشبو کو کہا چلو ہم بھی ان کے پیچھے چلتے ہیں یہ ضرور جنگل سے باہر نکلیں گے اس طرح ہم بھی نکل جائیں گے۔۔۔
شبو نے ہاں میں سر ہلایا اور میں اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو ساتھ لیے کچھ فاصلہ رکھ کر ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔۔۔۔۔
وہ تو اس جنگل کے چپے چپے سے واقف تھے اس لیے بڑی آسانی سے اسی جگہ پہنچ گئے جہاں ہمیں گاڑی سے اتارا گیا تھا۔۔۔۔۔
وہ اپنی مستی میں ڈرے ہوئے تیز تیز جا رہے تھے ہم بھی ان کی پیروی کرتے جا رہے تھے۔۔۔۔
جب وہ اس جگہ پہنچے جہاں انہوں نے گاڑیاں کھڑی کی تھیں تو وہاں کوئی گاڑی نہیں تھی۔۔۔۔
ان لوگوں میں سے ایک نے کہا یہ سالے چوتیے سب گاڑیاں لے گئے ہیں، بہن چود اب پتہ نہیں کہاں ماں چدوا رہے ہوں گے۔۔۔۔
ایک دوسرے آدمی نے کہا اگر اسی طرح کھڑے انتظار کرتے رہے تو زیبا کے بندے ہمیں دھر لیں گے اور ہماری بنڈ پاڑ دیں گے اس سے پہلے کہ وہ لوگ یہاں پہنچیں ہمیں یہاں سے دور نکل جانا چاہئیے۔۔۔۔۔
وہاں سے آگے کا راستہ مجھے تو سمجھ آ گیا تھا لیکن اب ان کے ویاں سے نکلنے کا انتظار تھا۔۔۔۔
وہ لوگ ایک بار پھر چل پڑے اس بار وہ بڑے محتاط انداز میں آگے بڑھ رہے تھے۔۔۔
جیسے جیسے آگے بڑھ رہے تھے میرے دل کی دھڑکنیں بھی تیز ہو رہی تھیں۔۔۔
دھندلکا ہو رہا تھا پو پھوٹ رہی تھی جنگل میں بھی اب اندھیرا نہیں رہا تھا اس لیے ہم بڑی زیادہ احتیاط سے ان کے پیچھے چھپ چھپ کر چل رہے تھے۔۔۔۔
شبو کی تو بس ہو چکی تھی ایک دو بار اس نے رک کر مجھے کہا بھی کہ اب اور نہیں چلا جاتا،لیکن میں نے اس کا حوصلہ بڑھایا ۔۔۔۔
آخر کار سورج نکلنے سے پہلے کھلے علاقے میں آ گئے تھے جہاں جنگل ختم ہو رہا تھا ۔۔۔۔
وہاں سے وہ لوگ اس راستے کی مخالف سمت چل پڑے جس طرف روڈ تھا۔۔۔۔
ہم یہاں سے ان کے پیچھے نہیں جا سکتے تھے اس طرف پتہ نہیں کوئی آبادی بھی تھی یا صرف جنگل ہی جنگل تھا۔۔۔۔
ان کے اس طرف مڑنے کے بعد میں نے شبو سے کہا اب ہم اپنے رستے چلیں گے وہ لوگ کسی اور طرف مڑ گئے ہیں۔۔۔۔۔
شبو نے بے بسی سے میری طرف دیکھا اور اپنے پاؤں کی طرف اشارہ کیا ۔۔۔۔
میں نیچے بیٹھا اور اس کے پاؤں کو دیکھا تو کئی کانٹے چبھے ہوئے تھے جو میں نے نکال دئیے لیکن شبو رونے لگ گئی۔۔۔۔۔
ایک نازک لڑکی کو کبھی اتنا پیدل چلنا تو دور کی بات ساری رات اس طرح کھجل کبھی نہ ہوئی ہو گی،وہ ساری رات میرے ساتھ ذلیل ہوتی رہی ۔۔۔۔
میں نے شبو کو ایک جگہ درخت کے سہارے بٹھایا اور پانی کی بوتل دی اس نے پانی پیا اور منہ پر بھی پانی کے چھینٹے مارے۔۔۔۔
اس کا چہرہ دھلنے سے نکھر سا گیا تھا میں ںے اس کو غور سے دیکھ کر کہا بہت پیاری لگ رہی ہو بس تھوڑی سی اور ہمت کرو پھر ہم پہنچ جائیں گے اور ان لوگوں نے جو کچھ کیا اس کا بدلا تمہاری آنکھوں کے سامنے لیں گے۔۔۔۔۔
اس نے کچھ ریسپانس نہ دیا میں نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اس کو سہارا دے کر کھڑا کیا اور پھر اس کا ایک ہاتھ اپنے کندھے پر رکھ کر اس کو ساتھ لے کر جنگل کے اندر ہی سڑک کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔۔۔۔
ہماری سپیڈ بڑی آہستہ تھی کیونکہ تھک میں بھی چکا تھا لیکن مرد ہونے کی وجہ سے میں ہمت نہیں ہارا تھا جبکہ شبو عورت زاد تھی اس لیے اس کی بس ہو چکی تھی۔۔۔
میں شبو کو کیسے بتاتا کہ میری پاٹ چکی ہے مجھ سے بھی چلا نہیں جا رہا ایک مردانہ فطرت تھی کہ عورت کے سامنے خود کو کمزور ظاہر نہیں کرنا۔۔۔۔
کافی دیر چلنے کے جب میری بھی بس ہو گئی اور شبو نے بھی کہا کہ اب اور نہیں چلا جاتا تو ہم مناسب جگہ دیکھ کر بیٹھ گئے لیکن میری نظریں مسلسل سڑک پر تھیں۔۔۔۔
ابھی تک سڑک سے ہمیں کوئی بھی گزرتا نظر نہیں آیا تھا شاید یہ رستہ ان لوگوں کے لیے ہی تھا صرف یہ غنڈے ہی استعمال کرتے تھے۔۔۔۔
شبو میرے کندھے پر سر رکھ کر بیٹھ گئی تھی میں بھی سستانے لگا۔۔۔۔
میری نظر سامنے تھے کیونکہ ہمارا رخ سڑک کی طرف تھا تو جنگل سے باہر کافی دور تک نظر پڑ رہی تھی۔۔۔۔
کوئی پانچ ایکڑ دور مجھے ایک ٹیوب ویل دکھائی دیا، میں نے شبو کا چہرہ ہلا کر اس کو کہا وہ وہاں ٹیوب ویل ہے۔۔۔۔
اس نے بھی غور سے دیکھا اور کہا اب مجھ میں ہمت نہیں ہے کہ وہاں تک جا پاؤں ۔۔۔۔
میں نے اس کی ایک بار پھر ہمت بندھائی اور اس کو کھڑا کر لیا اور ہم جنگل کے ساتھ والے رستے پر آ گئے۔۔۔
میں رستے ہر جھانک کر دیکھا دور دور تک کوئی ذی روح نہیں تھا پھر شبو اور میں سڑک پار کرکے دوسری طرف گزر گئے اور ٹیوب ویل کی طرف بڑھنے لگے۔۔۔۔
ایک نالا سا تھا جس میں ہم چلنے لگے میرے آگے شبو تھی میں پیچھے اس کی گانڈ کو دیکھتے ہوئے چل رہا تھا۔۔۔۔
اس کی گانڈ سچ میں کافی بھاری تھی جب وہ لنگڑا کر چل رہی تھی تو اس کی گانڈ بھی دائیں بائیں اوپر نیچے مٹک رہی تھی۔۔۔۔
ہم ویسے تو نالے میں چلنے کی وجہ سے دور سے نظر نہیں آ سکتے تھے لیکن پھر بھی احتیاطاً میں دائیں اور پیچھے مڑ کر دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
ہم ٹیوب ویل پر پہنچے تو ہماری قسمت اچھی تھی کہ وہاں کوئی بشر نہیں تھا اور ٹیوب ویل چل بھی رہا تھا ۔۔۔۔
اب سورج بھی پوری طرح نکل چکا تھا ٹیوب ویل کے پانی کو دیکھتے ہی شبو بھاگ کر گئی اور اس کی ڈگی میں اتر گئی۔۔۔۔
میں کنارے کھڑا اس کو دیکھنے لگا وہ بڑی پرسکون ہو گئی تھی اس نے کپڑوں کو مل مل کر دھونا شروع کر دیا ۔۔۔
وہ ایسے کر رہی تھی جیسے ان کپڑوں پر گندگی لگی ہو وہ اس بات سے بھی بے فکر تھی کہ ہم کن حالات سے گزر رہے ہیں اور اس وقت کہاں ہیں ۔۔۔۔
میں نے بھی ٹیوب ویل کی نال کے پاس بیٹھ کر منہ دھویا اور بالوں کو بھی پانی سے بھگو لیا۔۔۔۔
شبو بے فکر ہو کر نہا رہی تھی میں نے بھی اس کو نہانے دیا تاکہ اس کی تھکاوٹ اتر جائے اور پھر اس کی دو بار پھدی وج چکی تھی اس لیے بھی نہانا ضروری تھی۔۔۔۔
دس منٹ تک وہ نہاتی رہی پھر میری طرف دیکھ کر کہا آ جاؤ تم بھی نہا لو۔۔۔
میرا بھی نہانا بنتا تھا تھکاوٹ نے بھی برا حال کیا ہوا تھا ۔۔۔
میں نے قمیض اتاری اور پستول کو قمیض کے نیچے رکھ کر نہانے کے لیے اتر گیا۔۔۔۔
شبو نے مجھ پر پانی کے چھینٹے پھینکے میں نے بھی جوابا اس پر پر پانی برسایا۔۔۔
ہم اٹھکیلیاں کرنے لگے اس دوران میں نے اس کو پیچھے سے جپھی بھی ڈال لی شبو نے ایک ہاتھ پیچھے لا کر میری گردن میں ڈالا اور گردن گھما کر میرے ہونٹ چوم لیے۔۔۔۔
یکدم کسی کے اونچا بولنے کی آواز آئی ہم ایک دم دور ہٹ گئے۔۔۔
میں گھوم کر دیکھا تو ایک آدمی کندھے پر کسی(کئی) رکھے کھڑا ہمیں غور رہا تھا میں جلدی سے ڈگی سے باہر نکلا اور اپنی قمیض اٹھا کر پہننے لگا۔۔۔۔
پستول کو میں نے بڑی احتیاط سے چھپا لیا تھا۔۔۔
اس آدمی نے مجھے کہا اوئے بے شرم کون ایں تے ایتھے کی کر رہیا ایں،تے آ چھوکری کون اے۔۔۔
میں نے منمناے کی ایکٹنگ کرتے ہوئے کہا او جی اسیں دونویں میاں بیوی آں، تے سانوں بدمعاشاں نے اغوا کر لیا سی بڑی مشکل نال جان بچا کے نکلے آں ساڈی شادی نوں بس چار دن ای ہوئے نیں۔۔۔۔
اس نے مجھے بڑی مشکوک نظروں سے دیکھا پھر بولا اغواء آلی گل تاں منی جا سکدی اے پڑ تسی شادی شدہ او مینوں یقین نہیں آندا۔۔۔
وہ پھر بولا۔۔۔ چلو من وی لیا کہ تسی میاں بیوی او تے اوتھوں بچ کر نکلن توں بعد آ سب کی کر دے پئے اگر اغواء کرن آلے پہنچ گئے تاں فیر کی ہووے گا۔۔۔۔
تب تک شبو بھی کپڑے ٹھیک کرکے باہر آچکی تھی،میں اس دیہاتی سے قریبی گاؤں کا پوچھنے کی بجائے سڑک کا رستہ پوچھا۔۔۔۔
اس نے ہمیں ٹیوب سے ہی سیدھا بتایا کہ اسی پگڈنڈی پر چلتے جاؤ تو سڑک پر پہنچ جاؤ گے ۔۔۔۔
ہم نے اس کا شکریہ ادا کیا لیکن مجھے اس کی نیت پر شک ہوا وہ ان لوگوں سے ملا ہوا ہے۔۔۔۔
میں چند قدم چلنے کے بعد پلٹ کر دیکھا تو وہ موبائل ہاتھ میں پکڑے کھڑا تھا۔۔۔۔
میں نے جھٹ پستول نکالا اور اس کے سر پر پہنچ گیا اور اس سے موبائل چھین لیا اور کانپنے لگا گیا۔۔۔
اس کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا کہ میرے جیسا ممی ڈیڈی نظر آنے والا لڑکا پستول نکال کر اس پر تان لے گا۔۔۔۔
آپ لوگ بھی سوچ رہے ہوں گے میں خود کو ممی ڈیڈی بول رہا ہوں تو جناب اس وقت میں ویسا ہی تھا بالکل کالج پڑھنے والے لڑکوں کا ممی ڈیڈی ٹائپ،شکل صورت اچھی تھی اوپر سے شہر کے ماحول میں جوانی دیکھی تو اس رنگ میں رنگتا چلا گیا لیکن اندر سے خالص پینڈو تب بھی تھا اور آج بھی ہوں۔۔۔۔
خیر شبو کو کہا اس کا صافہ لے کر اس کے ہاتھ پاؤں باندھ دے، اس نے باندھے لیکن ظاہر ہے لڑکی تھی کتنا کس کر باندھ سکتی تھی۔۔۔
میں نے شبو کو پستول پکڑایا اور خود اس کے ہاتھ پاؤں باندھے اور پھر منہ بھی اس کی جیب سے رومال نکال کر باندھ دیا۔۔۔
اس کو کھینچ کر ٹیوب ویل کے ساتھ بنے ہوئے چھوٹے سے کمرے میں پھینک دیا۔۔۔
موبائل لے کر ہم آگے بڑھ گئے میں نے موبائل پر نمبر ڈائل کرنے کے کیے شبو سے پوچھا کسی کا نمبر یاد ہے۔۔۔
اس نے پہلے تو ناں میں سر ہلایا پھر اس نے ایک نمبر دیا جو زیبا کے ملازم کا ہی تھا۔۔۔
میں نے نمبر ملایا اور فون رسیو ہونے کا انتظار کرنے لگا،میری چھٹی حس نے مجھے خبردار کیا کہ اس نمبر پر کوئی اور بھی ہو سکتا ہے میں نے سپیکر آن کر دیا۔۔۔۔
شبو کو اشارے سے سمجھا دیا کہ پہچان کر بتانا اسی کا نمبر ہے ۔۔۔
فون رسیو ہوا تو شبو نے جلدی سے نہ میں سر ہلا دیا میں نے فون کاٹ دیا اور پھر ناصر بلی کا نمبر ملایا اور اس کو کہا بارش کو بتائے کہ زیبا سے رابطہ کرکے اس کو بتا دے کہ اس نمبر پر رابطہ کر میں اور اس کی ملازمہ پھنس گئے تھے اب رستے پر بھٹک رہے ہیں۔۔۔۔
ناصر نے تفصیل پوچھنا مناسب نہ سمجھا اور فون بند کر دیا ۔۔۔
ہم تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے سڑک کی طرف بڑھنے لگے کوئی 5منٹ بعد فون کی بیل بجی۔۔۔
میں نے فون رسیو کیا جلدی میں ہیلو کیا تو دوسری طرف سے جو آواز سنی تو شبو کی بات کا یقین آ گیا۔۔۔
دوسری سے بولنے والے نے کہا کیا بات ہے میری آواز پسند نہیں آئی تھی جو فون کاٹ دیا۔۔۔۔
میں نے اوئے بہن کے لوڑے کھسرے تیرے اتنے بندوں کی گانڈ کے پیچھے سے پھررر ہو گیا ہوں تو میرا لؤڑا بھی نہیں اکھاڑ پایا اب تیری گانڈ تو میں پھاڑوں گا پھوسڑی کے تو نے غلط آدمی سے پنگا لے لیا ہے چل فون رکھ بہن چود۔۔۔
میں نے فون بند کر دیا اسی وقت پھر فون کی بیل ہوئی اور نمبر تھا میں نے فون رسیو کیا تو دوسری طرف زیبا تھی ۔۔۔۔
میں نے زیبا کو اپنی لوکیشن بتائی اس نے کہا تم لوگ سڑک سے دور رہو بس پانچ منٹ میرا آدمی تم سے رابطہ کرتا ہے اور تمہارا فون میرے پاس ہے۔۔۔
میں نے کہا اچھا ٹھیک ہے۔۔۔
زیبا نے کہا اور ہاں اس پر کسی ہنی کے اور افراسیاب کے بڑے میسج آ رہے ہیں اور ہنی کی تو کافی کالز بھی آ چکی ہیں تم آؤ پھر بات کرتے ہیں اس نے فون کاٹ دیا۔۔۔۔
ہنی اور افرا کا سن کر میرا دماغ گھوم گیا ہنی نے تو میسجز کا انبار لگا دیا ہوگا اس کی تو عادت ہی ایسی تھی کہ اگر میسج کا جواب نہ دوں تو لگاتار کرتی رہتی تھی اس کے برعکس افرا کا انداز الگ تھا وہ انتظار کرتی تھی جب تک جواب نہ آئے اور میسج نہیں کرتی تھی ۔۔۔۔
ہم دونوں آگے بڑھنے لگے میرے دماغ میں زیبا کی بات گھوم رہی تھی۔۔۔
ہم چلتے چلتے سڑک کے پاس پہنچ گئے تھے شبو سڑک پر چڑھنے لگی تو میں نے اس کو پیچھے ہی روک لیا۔۔۔۔
ایک طرف سڑک سے تھوڑا سا ہٹ کر بیٹھ گئے اور فون کا انتظار کرنے لگے۔۔۔
زیبا نے پانچ دس منٹ کا کہا تھا اور ہمیں یہاں انتظار کرتے دس منٹ ہو چکے تھے۔۔۔۔
تبھی ہمیں اپنے پیچھے شور سنائی دیا میں نے کھڑے ہو کر پیچھے دیکھا تو کافی سارے لوگ مرد اور عورتیں ہاتھوں میں ڈنڈے سوٹے اٹھائے بھاگے چلے آ رہے تھے۔۔۔۔
میں نے شبو کی طرف دیکھا اس نے میری طرف دیکھا شبو نے کہا اب کیا کریں۔۔۔۔
اس کی شکل رونے والی ہو گئی تھی ہوتی بھی کیسے ناں رات سے میرے ساتھ کھجل خوار ہو رہی تھی۔۔۔۔
میں مسکرایا اور پیچھے مڑ کر دیکھا پھر شبو کو کہا یہ لو فون اور زیبا کو فون کرو اس میں آخری کال اس کی آئی ہوئی ہے۔۔۔۔
شبو نے فون پکڑا اور نمبر ملانے لگی میں اس طرف جدھر سے ہم آئے تھے اور ابھی لوگ آ رہے تھے چلنے لگا۔۔۔۔
میں نے پستول نکالا اور گولیاں چیک کیں اور پستول تان کر ان لوگوں کی طرف دوڑ لگا دی۔۔۔۔
مجھے ہاتھ میں پستول لیے اس طرح دوڑتے دیکھ کر وہ سب رک گئے جب میں نہ رکا تو جو لوگ آگے تھے وہ مڑ کر پیچھے بھاگنے لگے۔۔۔۔
میں کچھ اور دور تک دوڑا جب دیکھا کہ ان لوگوں میں ہڑبڑی مچ گئی اور وہ گرتے ڈھتے واپس بھاگ رہے ہیں میں رکا اور واپس چل پڑا۔۔۔۔
جب شبو کے پاس آیا تو وہ غائب تھی میں بھاگ کر سڑک پر گیا لیکن وہاں کوئی ذی روح نہیں تھی۔۔۔۔
میں نے دائیں بائیں ہر طرف دیکھا مجھے کوئی دکھائی نہ دیا۔۔۔
میں سے پر کافی آگے تک گیا اور دیکھا لیکن مجھے کوئی بھی نظر نہ آیا۔۔۔۔
میں جب ڈھونڈ ڈھونڈ کر تھک گیا تو اندازے سے ایک طرف کو چل پڑا کہ شاید زیبا کے لوگ اس رستے سے آئیں گے۔۔۔۔
تھوڑا دور گیا تھا کہ مجھے سڑک کے ساتھ دوپٹہ پڑا ملا، میرے دماغ میں خطرے کی گھنٹی بجی۔۔۔۔
جو دوپٹہ دیکھ کر میں چونکا تھا وہ دوپٹہ شبو نے اوڑا ہوا تھا اور اب یہاں پڑا تھا تو ضرور کوئی نہ کوئی گڑ بڑ ہے۔۔۔۔
میں نے وہ دوپٹہ اٹھایا اور اردگرد دیکھنے لگا لیکن مجھے کوئی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کدھر ڈھونڈوں۔۔۔۔
میں نے جہاں سے دوپٹہ ملا تھا وہاں نیچے بیٹھ کر اندازہ لگانے کی کوشش کی لیکن ککھ پلے نہ پڑا ۔۔۔۔
پھر میں نے ارگرد دیکھنا شروع کر دیا ایک ایکڑ آگے فصلوں میں گیا سڑک کی ایک طرف گیا مجھے کچھ نظر نہ آیا پھر دوسری طرف گیا وہاں بھی مجھے کچھ نہ ملا۔۔۔۔
میں تھک ہار کر اسی جگہ بیٹھ گیا جہاں دوپٹہ پڑا تھا وہاں بیٹھ کر فصلوں کی طرف جاتے رستے پر دیکھنے لگا ۔۔۔
زمین پر نظریں گاڑھ دیں غور کرنے پر مجھے کسی کو گھسیٹنے کے نشانات مل گئے میں اٹھ کھڑا ہوا۔۔۔۔
ان نشانات کی سیدھ میں چل پڑا مکئی کی فصل تھی درمیان میں نالا تھا اس نالے پر چلنے لگا۔۔۔۔۔
کافی آگے جا کر مجھے نالے میں سے اسی طرح کے کھینچنے کے نشانات ملے جو کہ کیچڑ سے لگے ہوئے تھے۔۔۔
وہ نشانات فصل میں جا رہے تھے میں نے پستول نکال لیا اور فصل میں داخل ہو گیا ۔۔۔۔
میں بڑی احتیاط سے اندر آگے بڑھ رہا تھا اور دائیں بائیں بھی دیکھتا جا رہا تھا۔۔۔
کوئی بیس قدم اندر جانے کے بعد مجھے مکئی کے پتوں کی سرسراہٹ سنائی دینے لگی جیسے کوئی کسی سے گتھم گتھا ہو۔۔۔
میرا ہاتھ پستول پر سخت ہو گیا اور مزید احتیاط سے آگے بڑھنے لگا۔۔۔۔
مزید دس قدم چلا تو مجھے درمیان میں کھلی جگہ بنی ہوئی نظر آئی۔۔۔
فصل کو کاٹ کر صاف کیا ہوا تھا اور درمیان میں ایک چادر بچھی تھی جس پر شبو کو تین لوگوں نے پکڑ کر لٹایا ہوا تھا ایک نے بازور پکڑے ہوئے تھے اور دو نے ٹانگیں پکڑی ہوئی تھی۔۔۔۔
ایک چوتھا آدمی اس کی ٹانگوں کے درمیان لیٹا زور زور سے اوپر نیچے ہو رہا تھا اس کے اوپر نیچے ہونے سے شبو زور سے خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔۔
اس کے چہرے سے اس کی تکلیف عیاں تھی میرے ان کے سر پر پہنچنے تک وہ آدمی لگا رہا۔۔۔۔
میں نے کچھ لمحے رک کر ان سب کو باری باری دیکھا سب نے شلواریں اتاری ہوئی تھیں اور لن ہاتھ میں پکڑے ہوئے تھے اور مٹھ لگا رہے تھے۔۔۔۔
جن دو نے ٹانگیں پکڑی ہوئی تھیں انہوں نے ٹانگوں کو ایک ایک بازو میں لیا ہوا تھا اور اس نے ہاتھ پکڑے ہوئے تھے اس کو دیکھا تو اس کا بھی یہی سین تھا لیکن دونوں ہاتھ بندھے ہوئے تھے ۔۔۔۔۔
وہ اپنے کام میں اتنے مست تھے کہ ان کو میرے آنے کا بھی احساس نہ ہوا۔۔۔۔
یکدم ایک کے چھوٹے سے لن سے منی گرنے لگی اور وہ زور زور سے سانس لینے لگا۔۔۔۔
اس سے پہلے کہ وہ مجھے دیکھتا میں نے پستول تان کر اونچی آواز میں کہا اوئے تہاڈی ماں نوں لن ۔۔۔۔
سب ایک دم چونک اٹھے انہوں نے آنکھیں کھولیں جب میرے ہاتھ میں پستول دیکھا تو ان کی بولتی بند ہو گئی اور ڈر سے کانپنے لگے۔۔۔۔
میں نے کہا بہن چودو اس ماں کو کھولو نہیں تو میں تم لوگوں کی گانڈ کھول دوں گا۔۔۔۔
ان سب نے جلدی جلدی شبو کو چھوڑ دیا شبو جب کھڑی ہوئی تو اس کی حالت بہت خراب تھی۔۔۔۔
اس سے کھڑا نہ ہوا گیا اور وہ گر گئی اس چہرہ آنسوؤں سے بھیگا ہوا تھا اس کی نظریں جھکی ہوئی تھیں۔۔۔۔
اس کی حالت دیکھ کر میرا دماغ گھوم گیا میں نے ان سب کو ایک لائن میں کھڑا کیا اور ہاتھ اوپر کرنے کا کہا۔۔۔۔
شبو کو کہا ان کو سبق سکھانا ہے خود کو سنبھالو ان کی گانڈ تو میں پھاڑتا ہوں،تم اٹھ کر کھڑی ہو جاؤ اور یہاں سے نکلو اور زیبا کو فون کرو۔۔۔۔
اس نے بمشکل خود کو کھڑا کیا اور لڑکھڑاتی ہوئی جہاں سے میں آیا تھا اس طرف چل پڑی۔۔۔۔
پانچ منٹ بعد میں نے پستول سے یک بعد دیگرے چار فائر کیے اور ان چاروں کو ڈھیر کر دیا اور پھر وہاں سے بھاگ کر شبو کے پیچھے پہنچ گیا۔۔۔۔
شبو لڑکھڑاتے ہوئے جا رہی تھی میں نے اس کس سہارا دیا اور سڑک تک لے آیا سڑک پر آتے ہی میں دوسری طرف گزر گئے اور قدرے گنجان درختوں کی اوٹ میں ہو کر چلنے لگے۔۔۔۔
ہم دونوں خاموش تھے مجھے کچھ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ شبو کو کیا کہوں اس کو کیسے دلاسہ دوں۔۔۔۔
کہیں نہ کہیں میں خود کو اس کا قصوروار سمجھ رہا تھا نہ میں اس کو زیبا کے کپڑے پہناتا نہ وہ اس کو زیبا سمجھتے اگر میں اس کو زیبا کی ایکٹنگ کرنےکو نہ کہتا تو ہو سکتا ہے وہ بچ جاتی اس کے ساتھ یہ سب نہ ہوتا۔۔۔۔
جب ہم کافی دور نکل آئے تو میں نے اس سے پوچھا زیبا سے رابطہ ہوا۔۔۔۔
اس نے نہ میں سر ہلایا اور کہا فون تو ان لوگوں چھین کر توڑ دیا تھا۔۔۔۔
ہمیں گاڑیوں کا شور سنائی دیا میں بھاگ کر سڑک کے قریب آیا دور سے کچھ گاڑیاں آتی دکھائی دیں۔۔۔
میں نے غور سے دیکھا تو وہ زیبا کے لوگ تھے میں سڑک پر آ گیا انہوں نے بھی شاید مجھے دیکھ لیا تھا اس لیے گاڑیاں میرے قریب آ کر رک گئیں۔۔۔۔
میں نے ان کو رکنے کا کہا اور زیبا کو لینے چلا گیا۔۔۔
زیبا کو سہارا دے لایا اور ایک گاڑی میں بٹھا کر روانہ کر دیا اور ان سے کہا اور لوگوں کو بھی بلا لو۔۔۔۔
ان میں سے ایک نے مجھے میرا فون دیا میں نے فون لے کر زیبا کو کال کی اور ساری بات ایک طرف جا کر بتائی۔۔۔۔
زیبا نے کہا بارش اور اس کے ساتھ کچھ اور لوگ بھی آئے ہیں وہ بھی پہنچنے والے ہوں گے،تم لوگ ان کا کام تمام کرکے آ جانا شبو کو بھیج دو۔۔۔
میں نے شبو کی حالت کے بارے میں بتایا اور کہا اس کو کسی ہسپتال داخل کروانا پڑے گا۔۔۔۔
زیبا نے تسلی کروائی میرے فون بند کرنے تک ایک اور گاڑی ہمارے پاس آ کر رکی اس میں سے بارش، سفارش،ناصر،ارشد، شاہد باہر نکلے ۔۔۔۔
مجھ سے ملے شاہد نے مجھے نئے کپڑے دئیے میں نے ایک طرف جا کر کپڑے بدلے اور ناصر سے کہا آج ان سب کا کام تمام کرنا ہے وہ بیس سے اوپر لوگ ہیں اور اس وقت جنگل میں ہوں گے یا نہیں یہ بھی معلوم نہیں ہے۔۔۔۔۔
اسی وقت زیبا کا فون آیا اس نے مجھے بتایا کہ وہ لوگ وہاں نہیں ہیں ان کو باہر نکالنے کے لیے دوسرا طریقہ اپنانا پڑے گا۔۔۔۔
اس نے ہمیں کچھ لوکیشنز بتائیں اور کہا یہاں اگر اج کا نقصان ہوگا تو وہ لوگ سامنے آئیں گے۔۔۔۔
میں نے سب کچھ سارے لوگوں کو بتایا ہم کل ملا کر پندرہ لوگ تھے سب کو تین حصوں میں بانٹ کر ہم الگ الگ جگہ پہنچ گئے۔۔۔
فون پر رابطے میں تھے سب سے پہلے ایک جگہ دھاوا بولا اور وہاں موجود لوگوں کو مار بھگایا اور اس جگہ کو آگ لگادی۔۔۔۔
پھر دوسری، تیسری اور جب چوتھی جگہ بھی وہی سب کیا تو میرا فون بجنے لگا۔۔۔۔
میں فون اٹھایا تو دوسری طرف شمروز تھا اس نے بکواس شروع کر دی اور دھمکیاں دینے لگا۔۔۔
میں اس وقت ایک اور جگہ تھا جس کو تباہ کرنا تھا یہ بالکل بارڈر کے قریب تھی خطرہ بھی تھا لیکن کرنا تو تھا ہی میں نے اس کو بتاتے ہوئے کہا بکواس کرنی تو کرتا رہے تیری سب سے محفوظ جگہ کو بھی تباہ کر رہا ہوں جہاں سے تو سارے ملک میں مال سپلائی کرتا ہے۔۔۔۔
تبھی دھماکے شروع ہو گئے اندر شراب کی بوتلیں کوکین اور پتہ نہیں کیا کچھ تھا آگ لگتے ہیں دھماکے ہونے لگے تھے۔۔۔۔
شمروز کی گانڈ پھٹ گئی تھی یہ سب سن کر میں نے فون بند کیا اور ہم زیبا کے اڈے کی طرف چل پڑے۔۔۔۔
زیبا سے رابطہ ہوا تو اس نے کہا یہاں محفوظ رہو گے ورنہ وہ شمروز اپنے سارے تعلقات اور طاقت کا استعمال کر کے تمہیں پکڑنے کی یا مروانے کی کوشش کرے گا۔۔۔۔
زیبا کی بات سن کر میں ہنس پڑا لیکن کچھ کہا نہ ۔میرے بھی دل میں کہیں نہ کہیں یہ بات تھی کہ شمروز ہر لحاظ سے مجھ سے کئی گنا زیادہ طاقتور ہے۔۔۔۔۔
اس کا جس طرح کا کردار ہے وہ کچھ کر گزرے گا اس لیے میں نے زیبا کی بات مانی اور اس کے اڈے پر چلا گیا۔۔۔۔
ہم لوگوں کو گئے کافی دیر ہو گئی تھی لیکن زیبا کا کچھ پتہ نہیں تھا ہمیں وہاں کھانا کھلایا گیا اور ہم الگ الگ کمروں میں آرام کرنے کے لیٹ گئے۔۔۔۔
میں لیٹا اور نیند کی دنیا میں ڈوب گیا ۔۔۔۔
پھر جیسے اس جنگل میں بھونچال آ گیا میں ہڑ بڑا کر اٹھ بیٹھا مجھے کچھ نہیں آ رہی تھی کہ ہو کیا رہا ہے۔۔۔۔
اتنی شدید فائرنگ ہو رہی تھی کہ کانوں کے پردے پھٹ رہے تھے،فائرنگ کا طوفان آ گیا تھا ہر طرف جیسے بم پھٹ رہے تھے۔۔۔۔
بڑی زور شور سے فائرنگ ہو رہی تھی اور یہ دو طرفہ تھی۔۔۔
میں نے بھی اپنا پستول اٹھایا میگزین چیک کی ابھی اٹھنے کر باہر نکلنے ہی لگا تھا کہ ناصر ناصر اندر داخل ہوا۔۔۔۔
ناصر نے آتے ہی مجھے کہا بلو کم پیا گیا ای ہن ایتھوں نکلن دی سوچ نہیں تاں ایتھے ای یدھے جاں گے۔۔۔۔
میں نے اس کی طرف دیکھا اور پوچھا زیبا کہاں ہے۔۔۔
ناصر نے کہا وہ تو یہاں آئی ہی نہیں اور مجھے اس کے بندے نے ہی کہا ہے کہ پیچھے جنگل میں نکل جاؤ اس کے بعد وہ لوگ بھی اسی راستے سے ایک ایک کرکے نکل جائیں گے ۔۔۔۔
جنگل سے نکلتے ہی زیبا کا گاؤں ہے وہاں سے ہم کسی اور محفوظ مقام پر پہنچ جائیں گے۔۔۔۔
میں نے اس سے باقی لوگوں کا پوچھا تو اڈ نے بتایا شاہد لوگوں کو نکال کر آیا ہے کافی دور پہنچ گئے ہوں گے۔۔۔۔
میں اٹھ کھڑا ہوا اور اس کو پستول دکھایا اور باہر نکل کر وہاں موجود ایک بندے سے اسلحے کا پوچھا تو اس نے ایک طرف اشارہ کیا۔۔۔۔
میں اس کمرے میں پہنچ گیا اور وہاں سے دو لوڈڈ پستول اور اضافی میگزین لے کر ناصر کے ساتھ چل پڑا۔۔۔۔
ناصر ایک کمرے میں گیا اور اور وہاں موجود تہہ خانے میں اتر گیا ہمارے پیچھے تین اور لوگ تھے جن میں ایک عورت اور دو مرد تھے۔۔۔۔
ہم تہہ خانے کے اندھیرے میں آگے بڑھنے لگے گھپ اندھیرا تھا ہاتھ کو ہاتھ سجھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔۔
ناصر کے پاس لائٹ تھی جس کی مدھم روشنی میں ہم آگے بڑھتے جا رہے تھے۔۔۔۔
آدھا پونا گھنٹہ پیدل چلنے کے بعد وہ سرنگ ختم ہو گئی اور ہم جنگل میں نکل گئے باہر نکلے تو ہمیں ہلکی ہلکی فائرنگ کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔۔۔۔
وہاں سے آگے کی ذمہ داری اس عورت نے سنبھال لی اور ناصر سے لائٹ پکڑ کر وہ ہماری رہنمائی کرنے لگی ۔۔۔۔
ہم کافی دیر تک چلتے رہے میں حیران ہو رہا تھا کہ دن کا وقت تھا جب ہم یہاں آئے تھے اور اب رات گہری ہو چکی تھی پتہ نہیں کتنی دیر تک میں سویا رہا۔۔۔۔
مزید آدھا گھنٹہ پیدل چلنے کے بعد جنگل سے نکل گئے ہمیں وہاں گاڑیاں کھڑی نظر آئیں۔۔۔۔
ہم سب ان گاڑیوں میں بیٹھ گئے ان میں پہلے بھی کچھ لوگ موجود تھے۔۔۔۔
گاڑیاں چل پڑیں جلد ہی ہی وہ گاڑیاں وہاں سے دور نکل چکی تھیں ہم جنگل کے علاقے سے باہر تھے۔۔۔۔
باہر نکلتے ہی میں نے ناصر سے کہا اس کا پتہ کرو کہاں ملے گا ابھی اسی وقت اس سے دو دو ہاتھ ہو جائیں تو بہتر ہے ورنہ اس طرح کتنے دن چھپیں گے۔۔۔۔
ناصر نے فون گھمانا شروع کیا گاڑیاں اپنی رفتار سے چلتی گئیں ناصر نے جو پہلے بتایا تھا اس کے مطابق ہمیں جنگل سے نکلتے ہی زیبا کے گاؤں لے جایا جائے گا لیکن یہ گاڑیاں تو کسی اور طرف ہی جا رہی تھیں ۔۔۔۔
ہم بھی چپ چاپ بیٹھے رہے پندرہ منٹ میں ہی ناصر نے شمروز کا پتہ لگا لیا کہ وہ کہاں ہے۔۔۔۔
ناصر نے مجھے بتایا اور میں نے ڈرائیور کو اس طرف چلنے کا کہا۔۔۔
شمروز اس وقت رینالہ خورد کے قریب کسی جگہ موجود تھا اور ہم لوگ پتہ نہیں کہاں تھے۔۔۔
ڈرائیور کو میں نے جب کہا تو اس نے بغیر کسی ہچکچاہٹ کے گاڑی گھما دی اور ہم اس طرف چل پڑے۔۔۔۔
ڈرائیور سے میں نے پوچھا ہمیں کتنا وقت لگے گا وہاں پہنچنے میں تو اس نے جو وقت بتایا اس کے حساب سے میں نے بارش کو بتایا اور جگہ بھی بتا دی۔۔۔۔
یکدم میرے ذہن میں ندیم آگیا جو اسی علاقے میں شفٹ ہو گئے تھے اس کے یاد آتے ہی علینہ اور ودحت بھی یاد آئیں۔۔۔۔
لیکن میں کیا کر سکتا تھا وہ تو سالا گانڈو تھا اس پر بھروسہ کرنا تو بیوقوفی کی انتہا ہوتی۔۔۔۔
کچھ دیر بعد مجھے بارش کا فون آیا کہ وہ لوگ بھی اس طرف آ رہے ہیں اور جلد ہی پہنچ جائیں گے۔۔۔۔
اسی طرح ہم لوگ اس علاقے میں پہنچ گئے تو ایک بار پھر ناصر نے پتہ کروایا وہ وہیں موجود تھا اور انتظار میں تھا کہ زیبا اور میری موت کی خبر اس تک پہنچ جائے۔۔۔