گاؤں سے شہر تک ۔۔۔۔(قسط 70)

افرا میری بات سن کر ہنسنے لگی اور کہا اپنا نمبر تو دے دیا تھا مجھ سے بھی لے لیتے اگر گپ شپ کا اتنا زیادہ پتہ ہے تو۔۔۔۔

میں نے جلدی سے فون نکالا اور کہا ابھی دے دو۔۔۔

وہ نہ میں سر ہلاتے ہوئے مسکرا کر چلی گئی۔۔۔۔

میں چھٹی تک اس کے بارے میں ہی سوچتا رہا ۔۔۔

چھٹی ہوئی میں دفتر میں ہی بیٹھا رہا اور سب کے چلے جانے کا انتظار کرتا رہا کیوں کہ میں نے ہی سکول بند کرنا تھا۔۔۔۔

جب سکول میں آوازیں آنا بند ہو گئیں تو میں دفتر سے نکل کر اندر گیا۔۔۔۔

سب کمروں میں جھانک کر دیکھتا اور کمرے بند کرتا جاتا۔۔۔

ایسے ہی سارے کمرے بند کرتے کرتے میں ایک آخر میں بنے ہوئے کمرے کے سامنے پہنچا ۔۔۔

جب اس کمرے ایک لڑکی بیٹھی ہوئی تھی جس کا رخ تو دروازے کی طرف تھا لیکن آنکھیں بند تھیں۔۔۔۔

اس کا ہاتھ اس کی شلوار میں تھا اس کے چہرے سے لگ رہا تھا جیسے وہ آخری مراحل میں ہے۔۔۔۔

اس کا ہاتھ شلوار میں تیز تیز چل رہا تھا اس نے اپنی قمیض اوپر کی ہوئی تھی اور مموں کو دبا رہی تھی۔۔۔۔

ایک دم کسے ہوئے ممے جیسے سولا سترہ سال کی لڑکی کے ہوتے ہیں۔۔۔۔

صاف شفاف جسم جس پر کوئی ایک بھی داغ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔۔

وہ اپنی مستی میں لگی ہوئی تھی میں حیران ہو کر اس کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

اس کو کچھ پتہ نہیں تھا کہ وہ کیا کر رہی ہے کہاں بیٹھی ہے بس اپنے جسم کی آگ بجھانے کے چکر میں تھی۔۔۔۔

میں پہلے سوچا اس کو ڈانٹتا ہوں پھر دل میں خیال آیا اگر اس کی پیاس اس سے بجھ رہی ہے تو بجھنے دو ۔۔۔

جسم کی ضروریات ہوتی ہے جو کوئی لن لے کر پورا کرتی ہے تو کوئی اس طرح انگلی کرکے پورا کر لیتی ہے۔۔۔۔

میرے سامنے وہ زور زور سے اپنی شلوار میں ہاتھ ڈالے لگی ہوئی تھی۔۔۔۔

شاید وہ پھدی کو صرف مسل رہی تھی کیونکہ اگر وہ انگلی اندر کر رہی ہوتی تو یقیناً اس کو شلوار نیچے کرنا پڑتی۔۔۔۔

اس کے منہ سے کچھ عجیب سی آوازیں نکلیں اور پھر اس نے زور سے سانس خارج کیا۔۔۔۔

اس کے دونوں ہاتھ رک گئے کچھ لمحے اس نے خود کو پر سکون کیا۔۔۔

جیسے ہی وہ ہوش میں آئی اس نے فوراً آنکھیں کھول دیں ۔۔۔

مجھے سامنے پا کر اس کا رنگ اڑ گیا جلدی سے اپنی قمیض نیچے کی اور ڈر کے مارے کانپنے لگی۔۔۔۔

میں نے اس کو کچھ بھی نہ کہا کمرے کے دروازے میں ایک طرف ہو کر اس کو باہر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔۔

وہ اپنا بیگ اٹھا کر ڈرتی ڈرتی باہر آ گئی تو میں نے دروازہ بند کر دیا۔۔۔۔

میں واپس دفتر کی طرف جانے لگا اور اس سے پوچھا تم ابھی تک گئی نہیں۔۔۔

اس نے کپکپاتی آواز میں کہا وہ سر۔۔۔ مجھے ۔۔۔ابھی لینے نہیں آئے۔۔۔

میں نے کہا کتنے بجے لینے آتے ہوتے ہیں، اس نے جواب دیا پہلے تو جلدی آجاتے تھے آج لیٹ ہو گئے ہیں۔۔۔

میں نے کہا چلو ٹھیک ہے تم دفتر میں جا کر بیٹھو جب لینے آ جائیں چلی جانا۔۔۔

وہ حیرانی سے میرا منہ تکنے لگی تو میں نے کہا کیا ہوا اس طرح کیوں دیکھ رہی ہو۔۔۔

جاو دفتر میں بیٹھ جاؤ اس طرح اکیلے نہیں بیٹھتے ہیں۔۔۔

اس ہچکچاتے ہوئے کہا سررر وووہ آپ نے جو کچھ دیکھا ۔۔۔۔

میں نے کہا اس کو بھول جاؤ جو ہو گیا سو ہو گیا، ان باتوں کو دماغ پر سوار نہیں کرتے ہیں۔۔۔۔

میں نے پھر کہا تمہارے دل میں جو آیا تم نے کیا اپنے جسم کی ضرورت پوری کر رہی تھی اس میں غلط کیا ہے۔۔۔۔

وہ منہ کھولے دیکھنے لگی تو میں نے کہا حیران ہونے کی ضرورت نہیں ہے میں نے کچھ غلط نہیں کہا ۔۔۔۔

یہ سب انسان کے بس میں نہیں ہے ایسا ہو جاتا ہے، جاو جا کر بیٹھ جاؤ ۔۔۔

وہ سر جھکا کر دفتر کی طرف بڑھ گئی اور میں وہیں کھڑا ہو کر سوچنے لگا کہ لڑکیوں کی کتنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔۔۔۔

ہم لڑکوں کا صحیح ہے جب دل کیا کسی پر لائن ماری اگر مان گئی تو ٹھیک نہیں تو کوئی اور صحیح ، اگر یہی سب کوئی لڑکی کرے تو ہم اس کو گشتی رنڈی اور پتہ نہیں کیا کچھ کہتے ہیں۔۔۔۔

اگلے دس منٹ تک اس لڑکی کو لینے آ گئے اور وہ چلی گئی۔۔۔

میں سکول سے نکلا اور سیدھا گھر آگیا اگلے دس دن اسی طرح گزر گئے ۔۔۔

دس دنوں میں کوئی خاص بات نہ ہوئی اور نہ ہی سکول میں دوبارہ جانے کا موقع ملا گاؤں میں ایک شادی تھی وہاں کافی ہلا گلا کیا۔۔۔۔

شادی تھی تو رنگ برنگی تتلیاں دیکھنے کو ملیں۔۔۔۔

فرحی بھی گاؤں آ گئی اتنے دن بعد اس کو دیکھا تو حیران کی رہ گیا اس کی خال ڈھال ہی بدل چکی تھی۔۔۔۔

اس کے پاس اپنا موبائل تھا ماڈرن لباس پہنا ہوا تھا۔۔۔۔

اس کی گانڈ پہلے سے موٹی لگ رہی تھی مموں کا سائز بھی بڑا لگ رہا تھا۔۔۔۔

میں نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی لیکن اس نے موقع نہ دیا۔۔۔۔

چھنو نے بھی مجھ سے دوری بنائے رکھی میں بھی اس سے میں نے بھی بات کرنے کی کوشش نہ کی۔۔۔

ناہید تو پہلے ہی فاصلہ بنائے رکھتی تھی اس سے میں نے بھی بات کرنے کی کوشش نہ کی۔۔۔

میرا سارا فوکس فرحی پر تھا اس کی تھرکتی گانڈ کو دیکھ کر میرا لن آہیں بھرنے لگتا تھا۔۔۔

فرحی کو بھی اس بات کا اندازہ تھا کہ میں اس پر نظریں جمائے رہتا ہوں۔۔۔

مہندی والی رات تھی جس گھر میں شادی تھی وہ گاؤں کے درمیان میں تھا۔۔۔۔

رات کو مہندی کے فنکشن میں سب اکٹھے تھے، فرحی نے اس دن بھی ڈانس کیا ۔۔۔

فرحی کا ڈانس دیکھ کر میرا لن ہنکارے بھرنے لگا تھا بار بار اکڑ رہا تھا۔۔۔

میں نے بڑی مشکل سے لن کو نیفے میں قید کیا ہوا تھا۔۔۔

فرحی مجھے دکھا کر ڈانس کر رہی تھی کم از کم مجھے تو ایسا ہی لگ رہا تھا۔۔۔۔

وہاں ایک الگ تھلگ کھڑی لڑکی پر نظر پڑی وہ سب سے معصوم لگ رہی تھی۔۔۔۔

اس کی سادگی میں حسن تھا چہرے پر معصومیت تھی تو آنکھوں میں بہت کچھ ہا لینے کی تمنا تھی۔۔۔۔

وہ بار بار میری طرف دیکھ رہی تھی میں نے اس کے دیکھنے سے اندازہ لگایا کہ وہ مجھ سے پیار چاہتی ہے۔۔۔

پیار کا مطلب اس وقت پیار ہی تھا یہ تو میرے جیسے لوڑوں نے پیار کا مطلب یہنا رکھ دیا ہے۔۔۔۔

جیسے کئی لڑکے گاؤں کی سادہ لوح لڑکیوں کو پیار کا مطلب سمجھاتے ہوئے کہتے ہیں یہ ہی تو اصل پیار ہے، اس طرح سے پیار کرتے ہیں۔۔۔۔

جب لڑکی کی پھدی میں لن وڑ جاتا ہے اور اس کی پھدی کا تیا پانچہ ہو جاتا ہے تو کہتے ہیں تمہارے پیار میں طاقت نہیں ہے۔۔۔

پھر وہ لڑکی کسی اور سے پیار کرنے لگتی ہے مطلب کسی اور کے لن کو اپنی پھدی میں واڑ لیتی ہے اسی طرح ایک کے بعد ایک لن کو پھدی میں لیتے اس کی عادت بن جاتی ہے ۔۔۔۔

میں نے دائیں بائیں نظریں گھمائیں مجھے چھنو ایک طرف کھڑی نظر آئی میں نے اس کو دیکھنا شروع کر دیا ۔۔۔۔

دو منٹ بعد اس کی اور میری نظریں ٹکرائیں نے نے سر سے ہلکا سا اشارہ کیا ۔۔۔

اس نے میرے نظروں کا تعاقب کیا اور اس لڑکی تک پہنچ گئی۔۔۔

چھنو نے مجھے غصے سے دیکھا اور ادھر ادھر دیکھتے ہوئے اس پر غور کرنے لگی۔۔۔

اس نے بھی نوٹ کر لیا کہ وہ میری طرف دیکھ رہی ہے وہ کھسکتی ہوئی اس کے پاس پہنچ گئی۔۔۔

چھنو نے اس کے کان میں کچھ کہا اس لڑکی نے چونک کر میری طرف دیکھا۔۔۔۔

اس کے دیکھنے میں حیرانی تھی چھنو نے پھر اس کو کچھ کہا۔۔۔

اس لڑکی نے نفی میں سر ہلایا ، میں نے دیکھا کہ چھنو اس کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے گئی۔۔۔

تھوڑا الگ ہو کر وہ دونوں آپس میں باتیں کرنے لگیں وہ لڑکی اب کچھ ریلیکس ہو گئی تھی۔۔۔

دونوں ہنس ہنس کر باتیں کر رہی تھیں گاؤں میں جس گھر میں شادی ہوتی تھی تقریباً سارا گاؤں وہاں جمع ہوتا تھا۔۔۔

اس دن بھی کچھ ایسا ہی تھا سارا گاؤں اکٹھا تھا چھنو نے اس کو کچھ دیر سمجھایا پتہ نہیں کیا سمجھایا۔۔۔۔

چھنو کا ہاتھ اس کے کندھے پر تھا وہ کچھ دیر انکار میں سر ہلاتی رہی پھر اس نے ہاں کر دی۔۔۔۔

چھنو نے میری طرف دیکھا اور وہاں موجود عورتوں اور مردوں پر ایک گہری نظر ڈال کر وہ دونوں ایک طرف کو چل دیں۔۔۔۔

گھر کے دروازے پر پہنچ کر چھنو نے پیچھے مڑ کر دیکھا میں ان دونوں کو ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔۔

میں یہ بھول گیا تھا کہ اتنے لوگوں میں سے مجھے بھی کوئی دیکھ رہا ہوگا۔۔۔۔

جب وہ باہر نکل گئیں تو میں اپنی جگہ سے کھسک کر ان کے پیچھے جانے لگا۔۔۔۔

میرے کندھے پر کسی نے ہاتھ رکھ کر روک لیا، میں نے رک کر دیکھا تو وہ فجا تھا۔۔۔

فجے نے مجھے بتایا کہ ابھی رک جا جب سب لوگوں کا دھیان بٹ جائے تو جانا۔۔۔

میں نے سوالیہ نظروں سے فجے کو دیکھا فجے نے میرے کان میں کہا میں نے سب دیکھ بھی لیا ہے اور سمجھ بھی گیا ہوں۔۔۔

میں نے پوچھا وہ کون ہے۔۔۔

فجے نے کہا ایک کو تو تو جانتا ہے دوسری ڈنگی کی بہن ہے ڈنگی سے چھوٹی ہے ۔۔۔

بہت کم گھر سے نکلنے دیتے ہیں اس کو نکلنے بھی کیسے دیں وہ جانتے ہیں اگر کسی کے ہتھے چڑھ گئی تو وہ اس پر چڑھ جائے گا۔۔۔

اتنی خوبصورت لڑکی ہمارے پورے گاؤں میں نہیں ہے، دھیان سے کئی لوگوں کی اس پر نظر تھی۔۔۔۔

میں نے اس کے کہنے کے مطابق وہاں کھڑے ہو کر دیکھا تو دو تین لڑکے دائیں بائیں نظریں گھما رہے تھے۔۔۔

مجھے اندازہ ہوا وہ بھی اسی کو ڈھونڈ رہے ہیں جس کو چھنو میرے لیے منانے کے لے گئی ہے یا منا کر لے گئی ہے۔۔۔

شادی والا گھر چھنو کے گھر سے دو تین گھر چھوڑ کر ہی تھا۔۔۔

میں نے فجے کو کہا میں جانے لگا ہوں اگر کئی گڑ بڑ ہو تو سنبھال لینا۔۔۔

فجے نے میں بھی پیچھے پیچھے آتا ہوں مجھے پتہ تو ہوگا تو کہاں ہے۔۔۔

میں نے ہاں میں سر ہلایا اور وہاں سے نکل گیا۔۔۔

میں ابھی گیٹ سے تھوڑا دور ہی تھا کہ فرحی کی نے مجھے آواز دی۔۔۔

میں رک گیا فرحی پاس آئی اور اس نے کہا گجر جا رہے ہو۔۔۔

میں نے کہا نہیں تھوڑی دیر تک جاؤں گا ابھی تو پیشاب کرنے جا رہا ہوں۔۔۔

فرحی نے کہا جب جانے لگو تو مجھے لیتے جانا ویسے بھی مجھے تم سے ضروری کام بھی ہے۔۔۔

آخری بات اس نے بڑی ادا سے کی تھی میں نے مسکرا کر کہا کام تو مجھے بہت ضروری ہے میں لے جاؤں گا ساتھ اور کام بھی کر لیں گے۔۔۔

فرحی نے ہاتھ کے اشارے سے کہا فٹے منہ اور ہنستے ہوئے واپس چلی گئی میں باہر نکل گیا۔۔۔۔

مجھے اندازہ تھا چھنو اس کو کہا لے کر گئئ ہو گی، اس لیے میں چھنو کی بیٹھک کی طرف چل دیا۔۔۔۔

وہی ہوا میرے اندازے کے مطابق چھنو کی بیٹھک میں وہ دونوں موجود تھیں۔۔۔

میں اندر داخل ہوا تو چھنو نے دروازہ بند کر دیا اور مجھے اندر کمرے میں جانے کا کہا۔۔۔۔

میں کمرے میں گیا تو وہ چھوئی موئی لڑکی بالکل گڑیا کی طرح سہمی بیٹھی تھی۔۔۔۔

چھنو کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا تو اس نے کہا مجھے سر ہلا کر تسلی دی۔۔۔۔

میں اس کے سامنے بیٹھ گیا اور اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔۔

چھنو نے ہنستے ہوئے کہا اگر تم دونوں کا پیار ایسا ہی ہے تو پھر پوری زندگی یوں ہی گزار دو گے اور ایک دوسرے کو نہیں پا سکو گے۔۔۔۔

مجھے بھی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ بات کہاں سے شروع کروں۔۔۔

میں گلا کھنکارتے ہوئے کہا تمہارا نام کیا ہے ۔۔۔۔

چھنو نے چھیڑتے ہوئے کہا واہ کیا بات ہے پیار ہو گیا اور نام تک معلوم نہیں۔۔۔

پھر بولی کیوں عائزہ تمہیں اس کا نام پتہ ہے یا تمہیں بھی بتانا پڑے گا۔۔۔

عائزہ نام اچھا تھا اس نے ہلکی سی آواز میں کہا نہیں باجی مجھے ان کا نام پتہ ہے ان کا نام بلو ہے۔۔۔

چھنو کھلکھلا کر ہنسنے لگی اور اس کی نقل اتارتے ہوئے کہا ان کا نام واہ بڑی گل اے انی عزت بھانویں ایہنوں ایہندے گھر آلے وی نہ دیندے ہون۔۔۔۔

وہ مسکرانے لگی اور بولی میں تو عزت دیتی ہوں میرے لئی اے سب توں اچھے نیں۔۔۔

میں نے کہا میرے لیے بھی تم دنیا کی سب سے خوبصورت لڑکی ہو۔۔۔۔

اس کے جھکے چہرے پر شرم کی وجہ سے لالگی آ گئی۔۔۔

چھنو نے کہا میں باہر نظر رکھتی ہوں دروازے بند کر رہی ہوں تم دونوں پیار کر لو۔۔۔۔

اس نے فوراً نظریں اٹھا کر چھنو کی طرف ایسے دیکھا جیسے منت کر رہی ہو باجی نہ جائیں۔۔۔۔

چھنو نے اس پر کوئی دھیان نہ دیا اور دروازے کو بند کرتے ہوئے باہر نکل گئی۔۔۔۔

میں نے ہمت کرکے اس کا نرم و نازک ہاتھ پکڑ لیا اس نے ہاتھ پیچھے کھینچنے کی کوشش کی تو میں نے کہا کیا ہوا مجھ سے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔

اس نے نہ میں سر ہلایا اور بولی نہیں وہ تو بس گھبراہٹ ہو رہی ہے۔۔۔

میں ہنس دیا اور کہا اتنے خوبصورت چہرے پر ڈر اور گھبراہٹ کو نہیں آنا چاہئیے۔۔۔

وہ شرما گئی ہائے یہ شرمانا بھی غضب تھا اس کے دائیں گال میں ڈمپل پڑتا تھا۔۔۔۔

میں نے اس کے ہاتھ کو اوپر اٹھاتے ہوئے کہا اگر اجازت ہو تو اپنے پیار کی مہر لگا دوں۔۔۔۔

وہ کچھ نہ بولی تو میں نے اپنے ہونٹ اس کے ہاتھ کی پشت پر ثبت کر دئیے۔۔۔۔

اس کے جسم میں ارتعاش پیدا ہوا جیسے وہ کانپ رہی ہو۔۔۔

میں نے دو انگلیوں کی مدد سے اس کے چہرے کو اوپر اٹھایا ۔۔۔۔

اس کا سفید چہرہ لال سرخ ہو چکا تھا میں نے ہاتھ کو اس کے گال پر پھیرا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔

وہ ویسے ہی بیٹھی رہی تو میں نے اس کو کہا عائزہ ایسے شرماتی رہو گی تو ہمارا پیار کیسے پروان چڑھے گا۔۔۔۔

وہ کچھ نہ بولی میں نے بازو کو تھوڑا سا کھینچا تو وہ کھڑی ہو گئی۔۔۔۔

میں نے اس کے دونوں ہاتھ پکڑ لیے اور اس کے چہرے پر نظریں گاڑھ دیں۔۔۔

اس نے سر کو اور جھکا لیا میں نے ایک قدم آگے ہو کر اس کو گلے لگا لیا۔۔۔۔

مجھے ایسے لگا جیسے میں نے روئی کی گڑیا کو گلے لگا لیا ہو۔۔۔۔

اتنا نرم و ملائم جسم تھا اس کا اوپر سے اس کا شرما کر میرے سینے میں سر کو چھپا لیا میرے دل کے تاروں کو چھیڑ گیا۔۔۔۔

میں نے اس کے دونوں بازوؤں کو اپنی کمر پر رکھا اور اس کی کمر پر ہاتھ رکھ کر اپنے سینے میں دبا لیا۔۔۔۔

میرا لن اس کے پیٹ میں چبھنے لگا وہ نیچے سے تھوڑا پیچھے ہو گئی۔۔۔۔

میں نے اس کی کمر پر ہاتھ پھیرنا شروع کر دیا۔۔۔

اس کے ممے واحد چیز تھی پورے جسم میں جن کی سختی مجھے اپنے سینے کے نیچے حصے میں محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

اس کی جسامت کو دیکھ کر لگتا تھا کہ وہ بمشکل سولا سال کی ہو گی۔۔۔۔

سولا سال کی لڑکیوں کے بارے میں جو میں نے اپنی بعد کی زندگی میں حاصل ہونے والے تجربات سے سیکھا تھا۔۔۔

اس میں سر فہرست کی چیز تھی کہ اس عمر کی لڑکیوں کو اگر چھو لیا جائے تو بھی وہ فارغ ہو جاتی ہیں۔۔۔

ان کے اندر اتنی گرمی ہوتی ہے کہ بس دو سے تین بار ان کی پھدی پر ہاتھ سے رگڑ لگاؤ تو وہ پانی چھوڑ دیتی ہیں۔۔۔

میرا ذاتی تجربہ ہے اگر سولہ سترہ سال کی لڑکی کو اپنے ساتھ لگا لو تو وہ کانپنے لگ جاتی ہے۔۔۔۔

کچھ ایسا ہی اس وقت عائزہ کے ساتھ ہو رہا تھا اس کا جسم کانپنے لگا ۔۔۔۔

ایک منٹ میں ہی اس نے اپنے ہاتھوں کو میری کمر پر دبانا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔

میں نے اس کے ہاتھوں کو اٹھا کر اپنے کندھوں پر رکھا جس سے اس کے سیب کے سائز کے ممے میرے سینے میں سیدھے آ لگے۔۔۔

میں نے تھوڑا جھک کر اپنا لن اس کی ٹانگوں میں گھسا دیا اور اس کی گانڈ پر ہاتھ رکھ لیے۔۔۔۔

اس نے گانڈ اکڑا لی تھی میں نے اس کے بعد کوئی حرکت نہ کی اس کے مموں کی گرمی میرے سینے میں آگ لگا رہی تھی۔۔۔

عائزہ کا جسم بہت گرم ہو چکا تھا اس سے پہلے ودحت کے ممے اتنے گرم تھے جن کو میں چھو سکتا تھا۔۔۔۔

علینہ کی تو بات ہی الگ تھی لیکن ان کے ممے عائزہ کے مموں سے بڑے تھے۔۔۔

عائزہ نے کوئی حرکت نہ کی بس اپنے ہاتھوں کی گرفت سخت کر لی۔۔۔۔

پھر اس نے آہستہ آہستہ نہ معلوم طریقے سے اپنی پھدی کی ہڈی کو میرے لن پر رگڑنا شروع کر دیا۔۔۔۔

میرا لن بھی ہڈی کی طرح سخت ہو چکا تھا جب دو ہڈیاں آپس میں رگڑ کھاتی ہیں تو آگ تو جلتی ہے۔۔۔

اس کے مموں کی گرمی سے میرا سینہ جلنے لگا تھا۔۔۔

میں نے سر کو تھوڑا سا پیچھے کیا اور اس کے گال پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔

اس نے اور سختی سے مجھے اپنے بازوؤں میں کس لیا۔۔۔۔

میں نے ایک ہاتھ اس کی گانڈ سے اٹھایا اور اس کے سر کو تھوڑا پیچھے کیا۔۔۔

اس کی آنکھیں بند تھیں میں نے اس کی بند آنکھوں پر اپنے ہونٹ رکھ دئیے۔۔۔

آنکھوں کو چوما پھر اس کے ماتھے کو چوما گال پر زبان سے گیلا پن چھوڑا۔۔۔۔

آخر میں ٹھوڑی کو چوما لیا اور ہونٹوں کے دائیں بائیں کس کرنے لگا۔۔۔

اس کے سرخ لرزتے ہونٹ میرے سامنے تھے میں نے ہلکا سا کس کیا۔۔۔

اس کا سارا جسم کانپ اٹھا اس نے ذور سے اپنی پھدی کو میرے لن پر دبایا۔۔۔

وہ اپنی ٹانگوں میں لن کو ایسے دبائے ہوئے تھی جیسے لن کسی شکنجے میں پھنس گیا ہو۔۔۔۔

میں نے ایک دو چھوٹی چھوٹی پاریاں اس کے ہونٹوں پر کیں اور پھر اپنے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔۔۔۔

وہ کانپ اٹھی اس نے مجھے اپنا پورا زور لگا کر اپنی باہوں میں کس لیا۔۔۔۔

میں نے کچھ دیر اس کے ہونٹوں کو چوما پھر اپنے ہونٹ کھول کر اس کے بند ہونٹوں کو چوسنے لگا۔۔۔۔

نمکن والے ہونٹ بھی قسمت سے ملتے ہیں میں بھی خوش قسمت تھا کہ مجھے عائزہ کے نمکین ہونٹوں کا رس چوسنے کا موقع مل گیا تھا۔۔۔۔

میں اس کے ہونٹ چوسنے لگا عائزہ کیونکہ اس سب سے بالکل نا واقف تھی اس لیے اس کی طرف سے کوئی ریسپانس نہیں آ رہا تھا۔۔۔۔

وہ بس لن کو اپنی ٹانگوں میں دبائے اپنے ممے میرے سینے میں رگڑ رہی تھی۔۔۔

مموں کی رگڑ مجھے پاگل کر رہی تھی مجھ سے زیادہ برداشت نہ ہو پایا۔۔۔۔

میں نے اس کو پیچھے کیا اور اس کی قمیض کو اوپر کرنے لگا۔۔۔

عائزہ نے نہ میں سر ہلایا تو میں نے ایک بار پھر اس کے ہونٹوں پر کس کرتے ہوئے کہا پیار کروں گا۔۔۔۔

لیکن وہ باضد رہی کہ نہیں ایسے ہی کرو۔۔۔

میں نے ضد نہ کی اس کے مموں پر ہاتھ رکھ دیا۔۔۔

ایک دم تنے ہوئے ممے جو برا سے آزاد تھے مطلب اس نے برا نہیں پہنا ہوا تھا۔۔۔

مجھے بعد والے ملاقاتوں میں پتہ چلا تھا کہ اس نے کبھی برا پہنا ہی نہیں تھا۔۔۔۔

میں آہستہ آہستہ ممے دبانے لگا اس کے منہ سے سییی سیی کی آوازیں نکلنے لگیں۔۔۔۔

پہلی بار کسی نے اس کے مموں کو ہاتھ لگایا تھا اس لیے اس کو مزے کے ساتھ ساتھ درد بھی ہو رہی تھی۔۔۔

اس نے اپنا ایک ہاتھ میرے ہاتھ پر رکھ دیا تھا۔۔۔۔

نیچے سے اس نے ایک بار پھر میرے لن کو پھدی پر رگڑنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔

دو منٹ بعد ہی وہ ہانپنے لگی اس پر جنون سوار ہو گیا اس نے میرے گلے میں باہیں ڈال دیں۔۔۔۔

میری گردن کو چومنے لگی نیچے سے لن پر پھدی کو فل دبا لیا۔۔۔۔

ممے میرے سینے میں دب گئے میں نے بھی ہاتھ ہٹا کر پیچھے سے اس کی قمیض کے اندر سال دئیے اور اس کی ننگی کمر پر ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔۔

اس کا جسم نرم ملائم تھا میرا ہاتھ اس پر پھسل رہا تھا۔۔۔۔

آہستہ آہستہ اس کی قمیض کو اوپر کرنے لگا اس کو کوئی اعتراض نہیں تھا میں جو بھی کروں۔۔۔۔

وہ مدہوش ہو چکی تھی اس کی مدہوشی کو دیکھتے ہوئے میں نے جلدی سے اس کی قمیض کو کندھوں تک کر دیا۔۔۔۔

اب اس کی پوری کمر ننگی تھی صرف اس کے ممے قمیض کے اندر تھے جو میرے سینے میں دبے ہوئے تھے۔۔۔۔

میں نے اس کو تھوڑا سا پیچھے کیا اور سامنے سے قمیض اوپر کر دی۔۔۔۔

اس کی آنکھیں بھی لال ہو چکی تھی سانس دھونکنی کی طرح چل رہی تھی۔۔۔

میں تھوڑا نیچے جھکا اس کے مموں کو دیکھا میرے منہ سے ںے اختیار نکل گیا واؤ اتنے پیارے ممے ۔۔۔۔

گلاب کے پھول جیسے گلابی جن پر چھوٹے چھوٹے سرخ دائرے میں لال رنگ کے نپل تھے۔۔۔۔

میں اس کو اسی طرح پکڑے ہوئے صوفے پر بیٹھ گیا اور اس کو اپنی گود میں دونوں طرف ٹانگیں کرکے بٹھا لیا۔۔۔

میرا لن اس کی پھدی پر ہی تھا۔۔۔

میں نے اپنے ہونٹ اس کے ایک نپل پر رکھ دئیے اور زبان کو نپل پر پھیرنے لگا۔۔۔۔

زبان کے لگتے ہی وہ ایک دم اچھلی اور میرے سر کو باہوں میں لے کر ممے پر دبا دیا۔۔۔۔

اسکے جسم میں ہل چل شروع ہو گئی خود کی ہلکا ہلکا ہلنے لگی۔۔۔۔

اگلے چند سیکنڈ تک یہ عمل جاری رہا میں نے بھی اس کے ممے کے نپل کو چوسنا شروع کر دیا تھا۔۔۔۔

اس نے ایک دو بار زور سے سییییی کی اور پھر اس کا جسم پہلے کی طرح نارمل ہو گیا۔۔۔۔

وہ میری گود سے نکل گئی اور دوسری طرف منہ کرکے اپنی قمیض نیچے کر لی۔۔۔۔

میں اس کے پیچھے گیا اور پیچھے سے اس کی گانڈ کے ساتھ لن لگا کر اس کو جپھی ڈال لی۔۔۔۔

وہ کچھ نہ بولی بس میرے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھ لیا۔۔۔

میں نے اس کے کان کی لو کو دانتوں سے کاٹتے ہوئے کہا مجھے پاگل کر دیا ہے تم نے اور اب ایسے منہ کر کے کھڑی ہو گئی ہو۔۔۔

باہر سے چھنو کی آواز آئی عائزہ جلدی آجاؤ مہندی لگتا ہے ختم ہو گئی ہے۔۔۔

عائزہ نے جلدی سے میرے ہاتھوں کو ہٹایا اور بولی میں چلتی ہوں۔۔۔

میں نے پوچھا کل ملو گی۔۔۔۔

اس نے کہا پتہ نہیں آپ سکول نہیں آتے اب۔۔۔۔

میں نے حیرت سے پوچھا کونسے سکول۔۔۔

اس نے کہا بھا ہاشم والے سکول۔۔۔

میں نے پوچھا تم بھی وہاں جاتی ہو۔۔۔

اس نے کہا ہاں آپ نے میری کلاس میں بھی پیریڈ لیا تھا۔۔۔

میں کچھ نہ بول سکا اب کیا کہہ سکتا تھا مجھے کیا معلوم تھا کہ یہ بھی پڑھنے جاتی ہے۔۔۔۔

میں نے بغیر سوچے ہی کہہ دیا اگر میں سکول آوں تو ملو گی۔۔۔

اس نے سوچتے ہوئے کہا اگر بھا ہاشم نہ ہوئے تو میں چھٹی کے بعد رک جاؤ گی۔۔۔

اتنا کہہ کر وہ شرماتے ہوئے باہر نکل گئئ۔۔۔

پھر باہر کا دروازہ بند ہونے کی آواز آئی چھنو نے شاید پہلے کی کھول رکھا تھا۔۔۔

ایک منٹ بعد میں بھی وہاں سے نکل گیا اور شادی والے گھر پہنچا ۔۔۔

میں گھر میں داخل ہوا ہی تھا کہ مجھے ایک بچے نے کہا بھائی فرح باجی نے کہا جب آپ آو تو ان کو گھر چھوڑ آنا آپ رکو میں ان کو بلا کر لاتا ہوں۔۔۔۔

میں وہیں رک گیا ایک منٹ بعد ہی فرحی اس بچے کے ساتھ آگئی۔۔۔

اس نے کہا چلیں میں نے کہا چلو۔۔۔

وہ بچہ واپس چلا گیا اور ہم وہاں سے اپنے گھر کی طرف چل پڑے۔۔۔۔

میں نے جان بوجھ کر وہ رستہ استعمال کیا جس سے میں سیدھا فجے کی بیٹھک میں آ سکتا تھا۔۔۔۔

رستے میں فرحی نے کہا کیا کام ہے مجھ سے ۔۔۔۔

میں نے الٹا سوال کرتے ہوئے کہا تم بھی کہہ رہی تھی تمہیں مجھ سے کوئی کام ہے پہلے تک بتاؤ تمہیں مجھ سے کیا کام ہے۔۔۔۔

فرحی نے میرے کندھے سے کندھا ٹکراتے ہوئے کہا چلو نہ بتاؤ ۔۔۔۔

میں نے بھی نہ پوچھا، تھوڑا چلنے کے بعد میں نے کہا آج تو بڑی بن ٹھن کر آئی ہو کیوں کسی کی جان نکالنی ہے۔۔۔

اس نے شوخی سے کہا تمہاری تو میں جان لے کر کی رہوں گی۔۔۔۔

میں نے کہا میرا کیا قصور ہے جو تم میری جان کے پیچھے پڑ گئی ہو۔۔۔

اس نے کہا ابھی بھی پوچھ رہے ہو قصور کیا ہے۔۔۔۔

میں نے کہا ہاں اور نہیں تو کیا میں پوچھ بھی نہیں سکتا کہ میرا قصور کیا ہے۔۔۔۔

فرحی نے کہا قصور تو تمہارا بہت بڑا ہے ۔۔۔

میں نے مسکراتے ہوئے کیا بڑا ہے قصور یا۔۔۔۔۔

فرحی نے میرے ایک چپیڑ لگائی اور ہنستے ہوئے کہنے لگی بے شرم ہو گئے ہو۔۔۔

میں نے کہا سیکھا بھی تم سے ہے ورنہ میں تو سیدھا سادہ سا بچہ تھا۔۔۔ہاہا

فرحی نے رک کر اپنی کمر پر دونوں ہاتھ رکھ کر کہا اوہ اچھا جی تم سیدھے تھے۔۔۔۔

میں نے جلدی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اس کو کھینچتے ہوئے کہا کیا ہوگیا ہے گلی ہے کوئی بھی آ سکتا ہے وہ کیا سوچے گا۔۔۔

فرحی نے چلتے ہوئے کہا تم جتنے معصوم بن رہے ہو نہ پہلے تھے اور نہ اب ہو۔۔۔

میں نے معصوم سا لہجہ بناتے ہوئے کہا میں کیا کر دیا ہے جو تم ایسا کہہ رہی ہو۔۔۔۔

فرحی نے ہنستے ہوئے کہا کوئی بات ہو تو بتاؤں تم نے کیا کچھ کر دیا ہے۔۔۔۔

میں نے سیریس انداز میں کہا اب مجھے کیا پتہ تم کیا سوچ رہی ہو میرے بارے میں۔۔۔

فرحی نے قہقہ لگایا میں نے اس کے منہ پر ہاتھ رکھا اور کہا تم مرواؤ گی رات کا وقت ہے پھر گلی ہے تم تو ایسے کر رہی ہو جیسے ہم گھر میں بیٹھے ہوں۔۔۔

فرحی نے کہا بڑی فکر ہے لوگوں کی جو اتنے دن انتظار کرتی رہتی ہے اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔۔۔

تب تک ہم بیٹھک تک پہنچ چکے تھے بیٹھک کا دروازہ باہر سے بند تھا۔۔۔

میں اور فرحی بھینسوں والے احاطے میں داخل ہوئے اور اس طرف سے ایک چھوٹا رستہ گھر کی طرف تھا جس پر کوئی دروازہ نہیں تھا۔۔۔

فرحی نے کہا جو کام مجھے تم سے ہے وہ اکیلے میں کرنے والا ہے۔۔۔

میں نے کہا مجھے بھی جو کام ہے وہ بھی اکیلے میں کرنے والا ہے۔۔۔

فرحی نے کہا پھر ادھر کہاں جا رہے ہو گھر میں تائی ہوں گی۔۔۔

میں نے کہا تم اس کی فکر نہ کرو ہم بیٹھک میں آ جائیں گے اندر سے دروازہ بند کر لیں گے جب تک مہندی والے واپس آئیں گے ہم فارغ ہو جائیں گے۔۔۔۔

فرحی کچھ سیکنڈ میرا ہاتھ پکڑ کر رک گئی پھر مجھے کہا تم جاؤ اندر سے دروازہ کھولو میں یہاں کھڑی ہوں مجھے لے جانا۔۔۔۔

میں جلدی سے گھر گیا گھوم کر بیٹھک والی سائیڈ پر آیا اور اندر سے دروازہ کھول دیا۔۔۔

پھر فرحی کو بھی وہاں لے آیا بیٹھک کے اندر والی لائٹ بند کر دی ۔۔۔۔

فرحی کو اس چارپائئ پر لے آیا جہاں میں سوتا تھا۔۔۔۔

فرحی نے کہا بلو تم بڑے بے وفا ہو میں کتںے دن انتظار کرتی رہتی ہوں، تم پتہ نہیں کہاں کہاں پھرتے رہتے ہو۔۔۔۔

میں جتنا گرم ہو چکا تھا مجھ سے اب مزید برداشت نہیں ہو سکتا تھا ۔۔۔۔

میں نے کہا ابھی یہ وقت گلے شکوے کرنے کا نہیں ہے، ہم بعد میں کر لیں گے اس سے پہلے کہ کوئی آ جائے ہمیں سب کچھ کر لینا چاہیے۔۔۔

فرحی نے کہا جو تم کچھ دیر پہلے کرکے آئے ہو وہ۔۔۔۔

میں نے کہا کیا کر کے آیا ہوں۔۔۔

فرحی نے کہا مجھے سب پتہ ہے۔

میں نے کہا کیا پتہ ہے مجھے کچھ بتاؤ بھی۔۔۔

فرحی نے کہا چھنو نے جاتے ہوئے اور پھر تمہیں اس کے پیچھے جاتے ہوئے دیکھا تھا میں نے۔۔۔۔

میں ہنس پڑا اور کہا اگر تمہیں لگتا ہے کہ میں چھنو کے ساتھ کچھ کرکے آیا ہوں تو چیک کر لو۔۔۔۔

فرحی نے کہا میں کیسے چیک کر لوں۔۔۔

میں نے ناڑا کھولا اور لن نکال کر فرحی کا ہاتھ پکڑا اور اس پر رکھ کر کہا اگر میں نے اس کے ساتھ یا کسی اور کے ساتھ بھی کیا ہوا تو اس پر اس کی پھدی کا پانی لگا ہونا چاہئیے۔۔۔۔

فرحی نے لن پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا وہ تو اب تک خشک ہو گیا ہو گا۔۔۔۔

میں نے کہا اس کے نشان تو باقی ہوں گے جب پانی خشک ہو جاتا ہے تو سفید سفید نشان بن جاتے ہیں۔۔۔۔

فرحی نے کہا اندھیرے میں کیسے نظر آئے گا تم اس لیے کہہ رہے ہو کہ اندھیرا ہے مجھے ںیوقوف بنا لو گے۔۔۔۔

میں اٹھا اور اپنی شلوار کو ہاتھ سے پکڑے ہوئے جا کر بلب آن کر دیا۔۔۔

پھر کو ہاتھ میں پکڑے اس کے پاس آیا اور اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا فرحی اگر اب بھی تمہیں یقین نہ آئے تو میں کچھ نہیں کہوں گا۔۔۔۔

میں نے لن اس کے سامنے کر دیا اس نے لن کو دونوں ہاتھوں میں پکڑا اور دبانے لگی۔۔۔

لن کو دیکھ کر وہ سب کچھ بھول چکی تھی اس نے زبان کو ہونٹوں پر پھیرا اور میری آنکھوں میں دیکھتے ہوئے بولی مجھے یقین آئے نہ آئے تم کسی اور کے ساتھ کرو یا نہ کرو لیکن مجھے کبھی نہ چھوڑنا۔۔۔۔

میں نے اس کے گال پر ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا کبھی نہیں چھوڑوں گا۔۔۔

وہ خوش ہو گئی میں نے واپس جا کر لائٹ بند کر دی۔۔۔

جب اس کے پاس آیا تو اس نے کہا کیوں بند کی دیکھ تو لینے دیتے کتنے دن ہو گئے دیکھے ہوئے۔۔۔۔

میں نے اس کو لٹا لیا اور اس کے اوپر آتے ہوئے کہا اس کو بھی کتنے دن ہو گئے ہیں تمہاری پھدی میں گئے ہوئے۔۔۔۔

فرحی نے کہا گندا ، کتنی گندی باتیں کرنے لگے ہو پہلے بھی تم ایسے بول رہے تھے۔۔۔

میں نے اس کے مموں کو دباتے ہوئے کہا اب لن کو لن اور پھدی کو پھدی نہ کہوں تو کیا کہوں۔۔۔

اس نے میرے ہونٹوں پر ہونٹ رکھ کر میرا منہ بند کر دیا ایک لمبا کس لے کر کہا بس کچھ بھی نہ بولو۔۔۔

اس نے ٹانگیں کھول دیں میں اس کے ٹانگوں میں لیٹ گیا میرا لن اس کی پھدی شلوار کے اوپر سے ہی ٹکرانے لگا۔۔۔۔

میں نے ایک ہاتھ سے اس کے ممے کو دباتے ہوئے ہونٹ اس کے ہونٹوں پر رکھ دئیے۔۔۔

پھر کسنگ کا ایک لنبا دور شروع ہوا اس کے ممے اب کافی بڑے ہو گئے تھے۔۔۔۔

میرے ہاتھ میں اس کا ایک مما بھی پورا نہیں آ رہا تھا لیکن میں پھر بھی دبا رہا تھا۔۔۔۔

میرا لن ننگا تھا میں نے اس کی قمیض میں ہاتھ ڈال کر قمیض کو اوپر کرنا شروع کیا تو اس نے گانڈ اٹھا کر میری مدد کی اور خود اپنی شلوار نیچے کر دی۔۔۔۔

میں اس کی قمیض کو ممے سے اوپر لے گیا اس نے ایک ٹانگ سے شلوار اتار دی۔۔۔۔

مموں سے برا ہٹا کر میں نے ایک ہاتھ میں اس کا ایک ننگا مما پکڑا اور دوسرے ممے پر منہ رکھ دیا۔۔۔۔

اس کے دونوں ہاتھ میرے سر پر آ گئے میں نے منہ کھول کر اس کے ممے کو خوسنا شروع کر دیا۔۔۔۔

وہ میرا سر اپنے ممے پر دبانے لگی نیچے سے لن اس کی ننگی پھدی پر ٹکریں مار رہا تھا۔۔۔۔

اس کی پھدی اتنا پانی چھوڑ رہی تھی کہ لن کی ٹوپی اس سے بھیگ گئی تھی۔۔۔۔

میں نے مما چوستے ہوئے اس کی ایک ٹانگ اٹھا کر کندھے پر رکھ لی۔۔۔۔

پھر مما منہ میں دبا کر ایک ہاتھ نیچے لے گیا اور لن کو پکڑ کر پھدی کے لبوں میں سیٹ کیا۔۔۔۔۔

وہ بھی لن اندر لینے کے لیے مچل رہی تھی میں نے لن پر دباؤ ڈالا لن اندر جانے لگا۔۔۔۔

میں نے اب دانتوں میں نپل کو لے لیا تھا کھینچ رہا تھا۔۔۔

ایک ٹانگ کو اوپر اٹھائے لن کو بھی اندر کر رہا تھا۔۔۔

فرحی کے منہ سے آہہہہ سییی کی آواز نکل رہی تھی۔۔۔

تھوڑا سا لن اندر کرکے میں نے لن کو پیچھے کیا پھر زور کا جھٹکا مارا ۔۔۔۔

لن پہلے سے زیادہ اندر تو چلا گیا لیکن فرحی کے منہ سے لمبی آہہہہہہہہہ نکلی اس کے ہاتھ میرے پیٹ پر آ گئے۔۔۔۔

میں نے لن کو پیچھے کیا تو اس کے ہاتھوں نے میرے پیٹ کو دھکیلا۔۔۔۔

اس کے ہاتھوں کے روکنے کی وجہ سے میں زور کا جھٹکا نہ مار سکا۔۔۔

آرام ارام سے لن اندر کیا , دو بار ایسا کرنے کے بعد سارا لن اندر چلا گیا۔۔۔

میں نے ممے سے منہ اٹھایا اور اس کے ہونٹوں کے پاس لے گیا۔۔۔

فرحی نے کہا سب مجھے سے کہہ رہی تھیں اتنی بڑی ہو گئی ہے کیا کرنے لگی۔۔۔

میں نے پوچھا کیا بڑی کر لی ہے، ساتھ ساتھ لن کو اندر باہر کر رہا تھا۔۔۔

فرحی نے میری بیک بڑی ہو گئی ہے اور میرا سینہ بھی پہلے سے بڑا ہو گیا پہلے والے کپڑے تنگ ہو گئے ہیں۔۔۔۔

میں نے زور کا گھسا مارتے ہوئے کہا نام لے کر بتاؤ کیا بڑی ہو گئی ہے ۔۔۔۔۔

فرحی نے میری کمر پر دونوں ہاتھوں سے گرفت بناتے ہوئے کہا میری بنڈ موٹی ہو گئی ہے سب کہہ رہی تھیں۔۔۔۔

میں نے کہا تم ان کو بتا دیتی کہ بلو نے موٹی کی ہے مار مار کر۔۔۔۔

اس نے کہا دل میں تو یہ ہی کہا تھا میرا دل کیا ان کو بھی بتا دوں لیکن ہمت نہ کر سکی۔۔۔۔

میں نے ایک جاندار گھسا مارتے ہوئے کہا اور کیا چیز بڑی ہو گئئ ہے۔۔۔

اس نے کہا میرے ببے موٹے ہو گئے ہیں اور بڑے بھی ہو گئے ہیں۔۔۔۔

میں نے گھسے مارتے ہوئے اس سے پوچھا تو یہ کس نے موٹے کیے ہیں۔۔۔

فرحی نے آہہہ سییی کرتے ہوئے کہا جس نے میری بنڈ موٹی کی ہے مار مار کر اسی نے ببے بھی چوس چوس کر بڑے کر دئیے ہیں۔۔۔۔

آہہہہ آہہہہہ بلووووو زور نال مار ۔۔۔۔آہہہ سیییییی۔۔۔۔

میں نے گھسوں کی سپیڈ تیز کر دی تھی ایسے ہی گھسے مارتے ہوئے کہا جس نے پوچھا تھا اس کو کہتی بلو کر دیتا ہے سب کچھ بڑا اس سے کروا لو۔۔۔۔

آہہہہ اہہہہہ بلوووو ٹھیک کہا تم نے ۔۔۔میری خالا کو بھی بڑی آگ لگی رہتی ہے۔۔۔۔

افففففف ایسے ہی مار چس آندی اے۔۔۔آہہ

سئیییی۔۔۔ وہ بڑے چسکے لے رہی تھی اس کی بھی بنڈ موٹی کر دے اندر وڑی ہوئی اے ۔۔۔۔اہہ اہ آااااااہہہہہہ۔۔۔

کیوں خالو مارا دا نہیں۔۔۔میں نے زور سے پھدی میں لن کو گھساتے ہوئے کہا۔۔۔

فرحی نے سیییی افففففف آہہہہہہہہ کرتے ہوئے کہا وہ ایک دن امی کو بتا رہی تھی خالو اب اس کی پھدی بھی نہیں مارتا اور خالو کا لن بھی ڈھیلا ہو گیا ہے۔۔۔۔

بلووووو ہائے جان کڈ دتی میری آہہ اہہ آہ آہ آہ آہہہہہہ امییییی میری پھدی پاڑ دتییییی۔۔۔۔

میں نے گھسوں کی مشین چلا دی تھی۔۔۔

فرحی نے کہا بلو خالا کی پھدی بھی مار کر اس کی آگ ٹھنڈی کر دے۔۔۔۔

آہ آہ ۔۔۔۔۔

میں نے گھسے مارتے ہوئے کہا میں تیری خالا کی پھدی بھی ماروں گا اس کی بیٹی کی بھی سیل بھی کھول دوں گا ۔۔۔۔

ہاں ہاں ہاں بلووووو۔۔۔ میری بڑی خالا کی بھی پیاس بجھا دینا اس کے شوہر نے اس کو چھوڑ ڈیا ہے ۔۔۔۔

وہ پھدی میں گاجر لیتی ہے ۔۔۔آہہہہ آہہہہ اس کو گاجر کی نہیں تیرے موٹے لن کی ضرورت ہے ۔۔۔

میں ماروں گا اس کی بھی ماروں گا۔۔۔میں نے بھی آج گھسے مارنے کی کوئی کسر نہیں چھوڑی تھی۔۔۔

فرحی نے کہا اس کی بھی جوان بیٹی ہے میری یہ خالا بڑی گشتی ہے اس کو نئیے نئے لن چاہییے ہوتے ہیں۔۔۔

اس نے کئئ لن لیے ہیں اس کا دل نہیں بھرتا اس کی بھی بنڈ مارنا اور پھاڑ دینا پھر وہ کسی اور کا لن نہیں مانگے گی۔۔۔

میں گئی۔۔۔ آہہہ ۔۔۔بلووو میری پھدی رونے والی ہے۔۔۔

زور زور زور زور سے اندر باہر کر ۔۔۔افففففف اہہہہہہہہہہہہہ میری پھدی کی آگ بجھ گئئ۔۔۔۔

اس نے اپنے ناخن میری کمر میں گاڑھ دئیے تھے۔۔۔

فرحی کی ان گندی باتوں کی وجہ سے میں بھی جلدی فارغ ہونے والا ہو گیا۔۔۔

میں نے کہا فرحی میں بھی ہونے والا ہوں الٹی ہو جاؤ ۔۔۔۔

فرحی جلدی سے الٹی ہو گئئ میں نے لن اس کی گانڈ پر رکھا اور دبا دیا۔۔۔

خشک لن تھوڑا سا ہی اندر جا سکا اور پھر پھنس گیا۔۔۔

اسی وقت لن نے اپنا لاوا اگلنا شروع کر دیا۔۔۔

میں نے فرحی کی بنڈ کو اپنے لن کی منی سے بھر دیا۔۔۔

کچھ دیر ہم اسی طرح لیٹے رہے پھر میں اس کے اوپر سے اترا اور فجے کے بستر کی چادر سے لن کو صاف کیا۔۔۔۔

فرحی بھی اٹھ کر سیدھی ہوئی مجھے گلے ملی۔۔۔

گلے لگ کر اس نے کہا بلو اپنا نمبر دو مجھے جب گھر میں کوئی نہیں ہوا کرے گا میں تمہیں بلا کیا کروں گی۔۔۔۔

میں نے اس کو اپنا نمبر دیا اور اس سے نمبر لیا۔۔۔

اس نے میرے ہونٹ چومتے ہوئے کہا اب تمہارے بغیر رہا نہیں جاتا ۔۔۔

میں نے کہا میرا بھی کچھ ایسا حال ہے تمہاری مارنے کو دل کرتا رہتا ہے لیکن کیا کروں، اباجی گاؤں واپس لے آئے ہیں اگر شہر ہوتے تو میں روز ہی آتا۔۔۔

فرحی نے کہا میں جب بھی تمہارے بارے میں سوچتی ہوں تو میری گیلی ہو جاتی ہے پھر تمہارے اس موٹے کی بڑی یاد آتی ہے کئی بار تو میں نے اس کا تصور کرکے مولی سے کام چلایا ہے۔۔۔۔

اس سے پہلے کہ ہم کچھ اور باتیں کرتے گھر میں آوازیں آنے لگیں۔۔۔۔

فرحی میرے ہونٹ چوم کر اندر والے دروازے سے گھر چلی گئی۔۔۔

میں بھی فرحی آج فرحی کے منہ سے نکلی باتوں پر غور کرنے لگا۔۔۔

میں نے اس کی خالا کے بارے میں سوچنا شروع کر دیا۔۔۔

پھر انہی خیالوں میں سو گیا خواب میں بھی اس کی بڑی خالا کے بنڈ مارتا رہا۔۔۔

صبح اٹھا تو فجا بستر پر موجود تھا اس نے میرے اٹھنے کے بعد مجھے گھور کر دیکھا اور کہا تو باز نہیں آیا پھر۔۔۔

میں نے کہا کہا ہوا۔۔۔

اس نے کہا میرا لوڑا ہویا اے ۔۔۔

میں ہنس پڑا کدوں دی گل اے میں تے سمجھیا سی تیرے کول نہیں ہیگا اگر ہن اگیا اے تاں خوش ہو۔۔۔

اس نے کہا لن تے ناں چڑھ رات تو ایتھے کندی پھدی ماری اے۔۔۔

میں ہنسنے لگا۔۔۔

اس نے غصے سے میری طرف دیکھا اور کہا چلو پھدی ماری ٹھیک اے لیکن لن میرے بستر نال صاف کرن دا کی مطلب اے۔۔۔

اس کی بات سن کر میری ہنسی نکل گئئ۔۔۔۔

میں ہنستے ہوئے اٹھا اور جا کر نہایا اور نہانے کے بعد ناشتہ کرنے لگا۔۔۔

ناشتہ کرنے کے بعد ابا جی نے مجھے بلایا اور بھا ہاشم کو بھی بلا لیا۔۔۔

ابا جی نے بھا ہاشم کو کہا تم اس کے ساتھ کالج جاؤ اور وہاں سے اس کی مائیگریشن کسی جگہ کروا دو۔۔۔۔

یہ اب اس کالج میں نہیں پڑھے گا اس کی وہاں جو صحبت ہے وہ غلط ہو چکی ہے اگر یہ ابھی بھی وہاں رہا تو یہ مزید خراب ہو جائے گا۔۔۔۔

ہاشم نے کہا ٹھیک ہے ابا جی جب تک یہ فارغ ہے اس کو میں اپنے ساتھ سکول لے جاتا ہوں۔۔۔

یہ سکول جائے تو میرے سامنے رہے گا اور مصروف رہنے سے یہ ان لڑکوں سے بھی دور رہے گا۔۔۔۔

ابا جی نے میری طرف دیکھ کر کہا اگر وہاں اس نے کوئی نواں چن چڑھا دتا تے فیر مینوں نہ کجھ نہ آکھیں۔۔۔

بھا ہاشم ہنس پڑے اور کہا ابا جی آپ بلا وجہ اتنا سوچنے لگے ہیں، میرا بھائی ہے میں اس کو جانتا ہوں یہ ایسا کچھ نہیں کرے گا۔۔۔۔

میں جو بھا کے سکول کا کہنے کی وجہ سے دل ہی دل میں خوش ہو رہا تھا کہ کسی نہ کسی طرح عائزہ کے ساتھ کوئی گیم چلا لوں گا, ابا جی بات نے مجھے پریشان کر دیا۔۔۔۔

میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ ضرور ابا جی کو میرے کرتوتوں کا علم ہو چکا ہے۔۔۔۔

سارا نہ سہی کسی نہ کسی حد تک وہ میرے بارے میں جان گئے ہیں اسی لیے وہ یہ سب کہہ رہے ہیں ورنہ ابا جی کبھی بھی ایسی بات نہ کرتے۔۔۔۔

خیر بھا ہاشم نے مجھے کہا بلو چلو تیار ہو جاؤ سکول چلتے ہیں۔۔۔۔

ابا جی بھا ہاشم کو بھی کہا جو میں نے کہا اس بات کا بھی خیال رکھنا اور اس کی مائیگریشن کا بھی انتظام کرو۔۔۔۔

میں سر جھکائے سب سنتا رہا، ابا جی کے اندر جانے کے بعد بھا ہاشم نے مجھے کہا اب تیار بھی ہو جاؤ۔۔۔

میں نے کپڑے بدلے اور باہر آگیا بھا نے مجھے بائیک نکالنے کا کہا۔۔۔

میں نے بائیک نکالی اور بھا ہاشم کو پیچھے بٹھا کر سکول چلا گیا۔۔۔​​





Source link

Leave a Comment