بھا ہاشم نے سکول جاتے ہوئے رستے میں مجھ سے پوچھا ابا جی نے یہ سب کیوں کہا۔۔۔۔
میں نے کہا مجھے خود سمجھ نہیں آئی انہوں نے ایسا کیوں کہا۔۔۔
بھا نے کہا ضرور تمہارا کوئی کارنامہ ان تک پہنچ چکا ہے جس کی وجہ سے انہوں نے ایسا کہا ہے۔۔۔۔
میں نے کہا اب میں نے ایسا کیا کر دیا ہے جو ان تک پہنچا اور انہوں نے آپ کو نصحیت کی کہ اس پر نظر رکھنا سکول میں کوئی کم نہ پا دے۔۔۔۔
بھا ہنس پڑا اور اس نے کہا ویسے ابا جی نے بات صحیح کی ہے تیرا کوئی بھروسہ نہیں کب کس کو کم پا دو۔۔۔
میں نے پوچھا کیا مطلب۔۔۔؟
بھا نے کہا میں تیرا وڈا بھرا آں تو مجھ سے کچھ نہیں لوکا سکتا، میں سب جانتا ہوں تیری بہت سی باتیں مجھ سے تک پہنچتی رہتی ہیں۔۔۔۔
میرے دل میں تو پہلے ہی چور تھا اس لیے زیادہ کریدنا مناسب نہ سمجھا اور چپ کر گیا۔۔۔
بھا نے پھر ہنستے ہوئے کہا ویسے یار تجھ میں بہت سے فن ہیں یہ تو میں مانتا ہوں ۔۔۔
میں پھر بھی کچھ نہ بولا ان کی اگلی بات سننے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔۔
بھا نے پھر کہنا شروع کیا۔۔۔
بھا نے کہا دیکھو تم نے اس گھر میں سرنگ بنا لی تھی جس گھر کی لڑکی کو باہر نکلنے کی اجازت تک نہیں تھی اور تو اور اس کا تایا ایم این اے بھی تھا جس کا شہر میں کیا پورے علاقے میں رعب و دبدبہ تھا۔۔۔۔
میں سمجھ گیا بھا ہنی کی بات کر رہے ہیں، لیکن یہ بات ان کو کس نے بتائی۔۔۔
میں اس بات پر غور کرنے کرنے لگا پھر میرے دماغ میں جھماکا ہوا مجھے بڑے مموں والی موٹی گانڈ والی لن کے لیے ترستی تہمینہ یاد آئی جس کو میں بھول چکا تھا ، ایک دفعہ مجھے ریحان نے بتایا تھا کہ بھا ہاشم نے اس کی ماری ہے بلکہ اس نے تو یہ بھی کہا تھا کہ تہمینہ کا بھا کے ساتھ کافی چکر چل رہا ہے۔۔۔۔
بھا نے میرے کندھے کو ہلا کر کہا کیا ہوا کہاں گم ہو گئے۔۔۔
میں نے جواب دیا کہیں بھی نہیں بس آپ کی بات سن رہا ہوں۔۔۔
بھا نے کہا اچھا یہ چھنو کا کیا چکر ہے سنا ہے وہ جن دو لوگوں نے تم نے ننگا باندھا تھا ان لوگوں نے اس رات کسی لڑکے کے ساتھ کچھ کرنے کی کوشش کی تھی ، چھنو کو بھی اس رات گاؤں میں داخل ہوتے دیکھا گیا تھا اس کے ساتھ کوئی اور لڑکی بھی تھی اس دوسری لڑکی کے بارے میں کوئی نہیں جانتا، ویسے وہ کون تھی۔۔۔
میں اتنا کچا تو تھا نہیں کہ بھا کو اس طرح بتا دیتا۔۔۔
میں نے کہا کس کی بات کر رہے ہیں ۔۔۔
بھا نے کہا وہ جن لوگوں نے ٹھیکے پر نمبردار کی زمین لی ہوئی ہے ان کو کسی نے ننگا کر کے باندھ دیا تھا مجھے لگا تم جانتے ہوگے۔۔۔
میں نے کہا بھا اب میں کیسے جانتا ہوں گا ۔۔۔
آپ کا کیا مطلب ہے جو کچھ بھی گاؤں میں ہو رہا ہے اس سب کے پیچھے میں ہوں۔۔۔
بھا نے ہنستے ہوئے کہا سب کچھ کے پیچھے تو نہیں لیکن کافی کچھ ایسا ہے جو تمہارے آنے کے بعد بدل گیا ہے۔۔۔
جیسے وہ کماد میں جو کچھ ہوا ، بارش اور سفارش کا تم سے ملنا، ساتھ والے گاوں میں کسی غریب کے گھر پیسوں کا پہنچنا اور جس گاؤں میں میرا سکول ہے یہاں کی ایک اغواء ہوئی لڑکی کا گھر پہنچنا اور اس کے والدین کو پیسے ملنا، اتنا کچھ ہے اس علاقے میں جو تم نے کیا ہے اور ان لوگوں کا تمہیں پہچاننے سے انکار کرنا بھی حیران کن ہے۔۔۔۔
میں لاجواب ہو گیا میری حیرانی کی انتہا تھی کہ بھا کو میرے بارے میں اتنا کچھ پتہ تھا۔۔۔
ہم سکول پہنچ چکے تھے بھا نے گارڈ کو چائے لانے کا کہا اور خود دفتر کھول کر مجھے سکول رہنے کا کہا اور مجھ سے بائیک کی چابی لے لی۔۔۔۔
میں نے ان سے کوئی سوال نہ کیا کچھ دیر بعد گارڈ چائے لے آیا ، بھا نے چائے پی اس دوران نے کہا ویسے تم نے جو کچھ بھی اب تک کیا ہے اس پر مجھے کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔۔
دیکھو جس مقصد کے لیے تم نے کالج میں سب کچھ شروع کیا تھا تم اس سے بھٹک تو نہیں رہے اس بات پر غور کرنا۔۔۔
تمہارے سب دوست مخلص اور اچھے ہیں اور سب سے بڑھ کر وہ دغا باز نہیں ہیں۔۔۔۔
بھا مجھے کافی دیر تک سمجھاتے رہے اور جاتے جاتے کہہ گئے کہ یہاں بھی تمہاری ضرورت ہے اس بات کو نہ بھولنا تم دور دور تک لوگوں کی مدد کے لیے پہنچ جاتے ہو اپنے آس پاس بھی نظر رکھو ہو سکتا ہے تمہارے آس پاس لوگوں کو تمہاری زیادہ ضرورت ہو۔۔۔۔
میں نے ہاں سر ہلایا اور بھا کی بات پر غور کرنے لگا۔۔۔۔
اپنے جاننے والوں کے بارے میں سوچنے لگا لیکن مجھے کوئی بھی ایسا نظر نہ آیا جس کو میری مدد کی ضرورت ہو۔۔۔۔
سکول لگنے تک میں انہی سوچوں میں گم رہا سکول لگ گیا تو میں مصروف ہو گیا۔۔۔
افرا نے آج بلیو رنگ کا سوٹ پہنا ہوا تھا وہ اس میں قیامت ڈھا رہی تھی۔۔۔
اس نے آتے ہی مجھے سلام کیا تھا اور اس کی آنکھوں میں میرے لیے پیار کے دیپ جگمگا رہے تھے۔۔۔
آج کا دن بڑا مصروف رہا بھا کے نہ ہونے کی وجہ سے مجھے کافی مصروف رہنا پڑا۔۔۔
کئی والدین آئے جن سے ڈیل کرنا پڑا ، کچھ نئے داخلے کے لیے آئے تھے ، کچھ شکایات لے کر آئے سب سے نبٹنے میں میرے دماغ کا دہی ہو گیا۔۔۔
میں نے کلاسز کا وزٹ کیا ٹیچرز کو پڑھاتے دیکھا آج میں ایک پرنسپل کے بھائی کے روپ میں ان کا کردار نبھا رہا تھا۔۔۔۔
ایک کلاس میں مجھے عائزہ بھی نظر آئی مجھے دیکھ کر اس کے چہرے پر مسکراہٹ آ گئی۔۔۔۔
افرا کو پڑھاتے دیکھتا رہا اس کے پڑھانے کا انداز مجھے بہت پسند آیا۔۔۔
اس کا مٹھاس بھرا انداز ہی بچوں کو متاثر کرنے کے لیے کافی تھا۔۔۔
میں سوائے افرا کے کسی ٹیچر کو غور سے نہیں دیکھتا تھا۔۔۔
سب مجھ سے بڑے اچھے سے پیش آ رہی تھیں میں نے بھی ان کو عزت کی نگاہ سے کی دیکھا۔۔۔
یہ الگ بات تھی کہ میری نگاہیں ہر ایک کے جسم کا ایکسرے کرنے سے باز نہیں آتی تھیں۔۔۔۔
میں سب کو ایک نظر دیکھ کر سارا فگر سکین کر لیتا تھا۔۔۔۔
عائزہ بریک سے پہلے کلاس سے باہر نکلی، میں اس وقت راونڈ پر تھا وہ میرے پاس آئی اور اس نے مجھے کہا آج میں چھٹی کے بعد رکوں گی مجھے دیر سے لینے آئیں گے۔۔۔۔
میں نے ہاں میں سر ہلایا لیکن میں ڈر رہا تھا ڈر کی وجہ صرف افرا تھی اگر اس کو شک ہو گیا تو ۔۔۔۔
خیر جیسے تیسے وقت گزرتا گیا اور چھٹی کا وقت قریب آگیا۔۔۔۔
چھٹی سے کچھ دیر پہلے ہی عائزہ کو لینے اس کا بڑا بھائی آگیا۔۔۔
میری ٹینشن جو اب تک کافی بڑھ چکی تھی ایک دم ختم ہو گئی۔۔۔
عائزہ کا چہرہ اترا ہوا تھا جاتے ہوئے وہ مجھے عجیب سی نظروں سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
میں نے بھی اسے اس طرح دیکھا جیسے میں بھی اس کے جلدی جانے کی وجہ سے افسردہ ہوں۔۔۔۔
پھر چھٹی ہو گئی چھٹی کے بعد سب ٹیچرز اپنی حاضری لگاتی تھیں اور رجسٹر دفتر میں رکھا جاتا تھا۔۔۔
افرا دفتر میں آئی اور رجسٹر لے گئی سب نے حاضری لگائی اور رجسٹر لے کر افرا واپس دفتر میں آئی۔۔۔۔
میں نے اس کی طرف دیکھا آج پورا دن ہماری کوئی بات نہیں ہو سکی تھی ۔۔۔
میں نے اس سے حال چال پوچھا تو اس نے ایک ادا سے کہا اب یاد آیا ۔۔۔۔
میں نے کہا پتہ تو ہے سارا دن کیا ہوتا رہا ایک منٹ بھی فارغ نہیں تھا۔۔۔
افرا نے کہا حال پوچھنے میں کتنی دیر لگتی ہے ۔۔۔
میں نے اس کی بات کا جواب دینے کی بجائے اس سے پوچھا سب چلے گئے یا کوئی بچہ سکول میں ہے۔۔۔
اس نے مجھے حیرانی سے دیکھا اور کہا سب چلے گئے ہیں۔۔۔
میں اٹھ کر کھڑا ہوا اور اس کو کہا چلو چاہر چل کر بات کرتے ہیں۔۔۔
وہ میرے ساتھ باہر نکل آئی اور میرے ساتھ چلنے لگی۔۔۔
میں نے کہا آج بہت اچھی لگ رہی ہو یہ رنگ تم پر بہت جچ رہا ہے۔۔۔
وہ مسکرانے لگی اور کہا شکریہ ویسے مجھے امید نہیں تھی کہ تم میری تعریف کرو گے ، پھر منہ پر ہاتھ رکھ کہا سوری آپ ۔۔۔۔
میں ہنسنے لگا اور کہا تمہارے منہ سے لفظ تم بہت اچھا لگا ہے۔۔۔
میں ایک ایک کمرے میں جھانک کر دروازہ بند کرتا جا رہا تھا۔۔۔
اس نے کہا کیا کر رہے ہو۔۔۔
میں نے منہ کر انگلی رکھ کر اس کو چپ کرایا اور اس کا ہاتھ پکڑ کر دبے پاؤں چلنے کا کہا۔۔۔
وہ حیران ہو کر میرے چہرے کی طرف دیکھنے لگی میں نے چند سیکنڈ اس کو دیکھا اور پھر اس کا ہاتھ پکڑے آگے بڑھنے لگا۔۔۔۔
میں اس کو آخری کمرے میں لے گیا اس کمرے میں جہاں میں نے ایک لڑکی کو فنگرنگ کرتے دیکھا تھا۔۔۔۔
میرا ایسا کچھ کرنے کا ارادہ تو نہیں تھا یہ تو ابھی ابھی میرے دماغ میں آیا تھا۔۔۔
وہ ابھی تک حیران تھی کہ میں کیا کر رہا ہوں مجھے پکا یقین تھا کہ وہ لڑکی آج بھی وہ سب کر رہی ہو گی کیونکہ میں نے اس کو ڈانٹا نہیں تھا اور نہ ہی ایسا کرنے سے منع کیا تھا، بلکہ اس کو ایک طرح سے حوصلہ دیا تھا کہ ایسا کرنا کوئی غلط نہیں ہے۔۔۔۔
جب میں اس کمرے کے دروازے کے پاس پہنچ گیا تو میں نے اس کو اپنے پیچھے روک کر اندر جھانکا تو میری توقع کے عین مطابق وہ لڑکی وہی سب کچھ کر رہی تھی۔۔۔۔
آج اس نے شلوار بھی نیچے کی ہوئی تھی اور دونوں مموں کو پورا ننگا کیا ہوا تھا۔۔۔۔
وہ بڑی تیزی سے انگلی اندر باہر کر رہی تھی۔۔۔
میں پیچھے ہوا اور افرا کو چپ رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے آگے بڑھ کر دیکھنے کا کہا۔۔۔
اس کی آنکھوں میں حیرانی کے ساتھ ساتھ سوال بھی تھا اندر کیا ہے۔۔۔
اس نے اندر جھانکا اس کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔۔۔
وہ کچھ بولنے والی تھی میں نے اس کو پیچھے کھینچ لیا اور واپس لے گیا۔۔۔
اس نے مجھے کہا یہ سب کیا ہو رہا ہے، میں نے کہا مجھے خود سمجھ نہیں آ رہی کہ اس کو کیا کہوں۔۔۔
میں نے یہ سب کل دیکھا جب میں سارے کمرے بند کر رہا تھا تو جب یہاں آیا تو یہ سب دیکھ کر مجھے خود جھٹکا لگا۔۔۔
افرا نے میری طرف بڑی گہری نظر سے دیکھا اس کی آنکھوں میں کچھ عجیب سا تھا۔۔۔
اس نے کہا یہ سب دیکھ کر آپ کو کچھ بھی محسوس نہیں ہوا۔۔۔
میں نے سوالیہ انداز سے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔
اس نے کہا میرا مطلب آپ کو برا نہیں لگا کہ ایک لڑکی یہ سب کر رہی ہے ۔۔۔
میں نے کہا دیکھو افرا یہ سب وہ اپنی مرضی سے کر رہی ہے میں اگر اس کو یہاں روک دوں گا تو وہ کہیں اور جا کر کرے گی باز تو وہ آئے گی نہیں اگر کسی نے اس کو دیکھ لیا تو اس کے ساتھ غلط بھی کر سکتا ہے اگر کسی اپنے نے دیکھا تو بھی اس کا نقصان اسی کو ہوگا۔۔۔۔
افرا حیرانی سے مجھے دیکھ رہی تھی ہم دفتر میں واپس آ چکے تھے ۔۔۔
اس نے کہا اس کا مطلب آپ نے اس کو اس لیے نہیں روکا کہ وہ بدنام نہ ہو جائے یا اس کے ساتھ کچھ غلط نہ ہو جائے۔۔۔
میں ہاں میں سر ہلایا۔۔۔
اس نے کہا یہ بھی ہو سکتا ہے آپ کی بات وہ سمجھ جائے اور دوبارہ ایسا نہ کرے۔۔۔
میں نے ہنستے ہوئے کہا ایسا بہت کم ہوتا ہے کہ کوئی آپ کی بات مان لے اور دوبارہ وہ سب نہ کرے جس سے آپ اس کو روکیں، ورنہ جو عادت ایک بار پڑ جاتی ہے وہ کبھی نہیں چھوٹتی، کہاوت سنی ہوئی ہے ناں چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔۔۔۔
افرا نے سر ہلایا جس کا مطلب میں نہ سمجھ سکا۔۔۔
میں نے کہا ویسے یہ سب دیکھ کر تمہیں کچھ نہیں ہوا۔۔۔
اس نے سر جھکا لیا اور کچھ بھی بولے بغیر باہر نکل گئی۔۔۔۔
میں بھی باہر نکلا اور اس کو دیکھنے لگا وہ واپس اسی کمرے کے پاس گئی اور اندر جھانکنے لگی کچھ دیر کھڑی رہی پھر واپس آنے لگی۔۔۔۔
جب وہ واپس آئئ تو اس کا چہرہ لال ہو چکا تھا۔۔۔
میں اندر ہو کر کھڑا ہو گیا وہ آئی اور میری طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔
میں نے اس کو پریشان دیکھا تو آگے بڑھ کر اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔۔۔
اس کو کرنٹ سا لگا اس کا پورا جسم کانپ گیا۔۔۔
میں سمجھ گیا وہ کیا محسوس کر رہی ہے میں نے اس کی کمر پر ہاتھ رکھے اور اس کو اپنی طرف کھینچا۔۔۔۔
وہ مقناطیس کی طرح میری طرف آئی اور میرے گلے سے لگ گئئ۔۔۔
اس کا قد تقریباً میرے جتنا تھا اس کا سینہ جب میرے سینے سے لگا تو میرے اندر ایک سکون سا اتر گیا۔۔۔۔
اس کو سینے لگا کر میرے اندر کا شیطان بھی مجھے نہیں جھنجوڑ رہا تھا۔۔۔۔
میرے اندر کا شیطان بھی سویا ہوا تھا میرے اندر کوئی ہوس نہیں تھی بس پیار کا احساس تھا۔۔۔
افرا کے ہاتھ میرے گردن کے گرد حمائل ہو گئے تھے اور وہ میرے ساتھ چپک گئی تھی۔۔۔۔
میں اپنے آپ پر فخر کر رہا تھا کہ ایک حسن کمال میرے دل کے تاروں کے سر چھیڑنے والی آج میرے سینے سے لگی کھڑی تھی۔۔۔۔
ایسی وقت باہر ہارن ہوا جیسے کوئی کسی کو لینے آیا ہو۔۔۔
ہم ایک دوسرے سے الگ ہوئے افرا کے چہرے پر مایوسی تھی۔۔۔
اس کے چہرے کو دیکھ کوئی بھی اندازہ لگا سکتا تھا کہ ابھی کچھ دیر پہلے کیا چل رہا تھا۔۔۔۔
میں نے باہر جا کر دیکھا تو دو لوگ کھڑے تھے دونوں کا رخ دوسری طرف تھا۔۔۔
میں واپس مڑا تو وہی لڑکی آ رہی تھی اس نے مجھے دیکھ کر سمائل پاس کی۔۔۔
میں نے کوئی ریسپانس نہ دیا میں نے دوبارہ باہر دیکھا۔۔۔۔
باہر جو دو بائیک کر بیٹھے تھے ان میں سے ایک کا رخ اب اندر کی طرف تھا جبکہ دوسرا ابھی بھی اسی پوزیشن میں بیٹھا تھا۔۔۔
میں ایک طرف ہوا وہ لڑکی باہر نکل گئی اسی وقت پیچھے سے افرا آتی دکھائی دی۔۔۔
افرا کے لیے بھی میں نے رستہ چھوڑا وہ باہر نکلی میں نے گیٹ سے باہر دیکھا تو میری حیرانی کی انتہا نہ رہی۔۔۔
افرا کو جو لینے آیا تھا اس کو دیکھ کر مجھے جو جھٹکا لگا وہ میرے دماغ تک کو ہلا گیا۔۔۔۔
ایسا کیسے ہو سکتا تھا وہ یہاں کیسے آ سکتا تھا اس کا یہاں ہونا پھر افرا کو لینے آنا میرے لیے بہت زیادہ حیرانی کی بات تھی۔۔۔۔
مجھے جہاں جھٹکا لگا وہیں ایک جھٹکا اس کو بھی مجھے دیکھ کر لگا تھا۔۔۔۔
اس کے چہرے پر پریشانیانی تھی تو میرے چہرے پر حیرانی تھی۔۔۔
ہم دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پہچانا تھا۔۔۔
گردش وقت نے ہمیں ایک ایسے موڑ پر آمنے سامنے کر دیا تھا جہاں کی ہمیں بالکل بھی توقع نہیں تھی۔۔۔
وہ مجھے گھورتے ہوئے وہاں سے چلا گیا میں سوچوں میں گم سکول کو تالا لگا کر گھر کی طرف چل پڑا۔۔۔۔
گھر جا کر بھی میری سوچوں کا محور وہی رہا ۔۔۔۔
میں اپنی سوچوں میں ڈوبا تھا کہ مجھے ہنی کا فون آیا اور میں فون سنتے ہوئے باہر نکل گیا۔۔۔۔۔
شام سے پہلے ہی بھا واپس آیا اور مجھے بتایا کہ میرا داخلہ ایک اور کالج میں ہو گیا ہے۔۔۔۔
کل سے مجھے کالج جانا ہوگا اور وہاں ہی ہاسٹل کی بجائے چاچا کے گھر رہنا ہے۔۔۔
میں نے کہا جی ٹھیک ہے بھا نے ابا جی کو بتایا اور ابا جی مجھے شہر جانے کا کہا کیونکہ ان کے مطابق صبح کے وقت کالج جانا مناسب نہیں ہے، مجھے دیر ہو سکتی ہے۔۔۔۔
امی جی نے میرے کپڑے جو دھلے ہوئے تھے وہ نکال کر مجھے دییے میں نے بیگ میں ڈالے اور پھر اپنی تمام چیزیں جو میری تھیں وہ میں سنبھال کر بیگ میں رکھ لیں۔۔۔۔
ابا جی نے مجھے خرچہ دیا میں تیار شیار ہو کر شہر چاچا کے گھر رہنے کے لیے روانہ ہو گیا۔۔۔۔۔
صحیح کہتے ہیں انسان جتنا مرضی بڑا ہو جائے ماں باپ کے سامنے بولنے کی ہمت نہیں کر سکتا۔۔۔
جو ایسا کرتے ہیں نافرمان ہوتے جن کو ہر جگہ منہ کی کھانی پڑتی ہے۔۔۔۔
شام کا وقت تھا جب میں شہر میں داخل ہوا میرے دل میں بہت سی باتیں تھیں جن کے بارے میں سوچ رہا تھا۔۔۔۔
میں سیدھا چاچا کے گھر پہنچا دروازے پر دستک دی بالو نے دروازہ کھولا ۔۔۔
مجھے اپنے سامنے دیکھ کر حیران ہوا پھر جب اس نے میرے پاس کپڑوں والا بیگ دیکھا تو اس کی حیرانی اور بڑھ گئی۔۔۔۔
اس نے سارا دروازہ کھولا میں بائیک اندر لے گیا۔۔۔
چاچی سامنے کچن میں تھی اس کو ملا چاچی نے بالو کو کہا بیٹھک میں بلو کا سامان رکھوا دو۔۔۔
میں اندر کمرے میں گیا وہاں فرحی سے ملا وہ کھڑی ہو کر بڑے شوخ انداز سے میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔
بالو کے ساتھ میں نے بیٹھک میں بنی ہوئی شیلف میں اوپر کرکے اپنا کپڑوں والا بیگ رکھ دیا۔۔۔۔
پھر کوئی خاص بات نہ ہوئی چاچا بھی آئے چاچا نے بھی مجھے سمجھایا میں ان کی نصحیت بھی سنتا رہا۔۔۔۔
بالو مسکراتا رہا چاچا نے اس کی کافی بے عزتی کی وہ سر جھکا کر بیٹھ گیا ۔۔۔۔
چھوٹی میری گود میں آ کر بیٹھ گئی اپنے ننھے ننھے ہاتھوں سے میرے ہاتھوں کو پکڑ کھیلنے لگی۔۔۔۔
اسی طرح رات ہوئی کھانا کھا کر سو گئے اب کچھ یوں سین تھا کہ بیٹھک میں میں اور بالو نے سونا تھا۔۔۔۔
بالو کے خراٹوں نے میرا جینا حرام کر دیا بڑی مشکل سے رات کے پچھلے پہر جا کر نیند آئی۔۔۔
دیر سے سویا تو دیر سے اٹھا وہ بھی مجھے فرحی نے آ کر اٹھایا۔۔۔
فرحی کے اٹھانے کا انداز بھی غضب تھا وہ اپنے بڑے بڑے سینے کے ابھار میرے منہ پر رکھ کر لیٹ گئی۔۔
کچھ مموں کے گرم گرم لمس اور کچھ دباؤ نے مجھے جاگنے پر مجبور کر دیا۔۔۔۔
میں نے آنکھیں کھولیں تو اپنا منہ دو نرم نرم غباروں میں دبا ہوا پایا۔۔۔
میں نے دونوں ہاتھوں سے غباروں کو پیچھے دھکلینا چاہا تو مجھے احساس ہوا کہ یہ غبارے نہیں ہیں۔۔۔
میرے ہاتھوں کے لگتے ہی فرحی پیچھے ہو گئی اور مسکرائی پھر اپنے پیچھے دیکھ کر میرے اوپر جھکی اور میرے ہونٹ چوم کر بولی اٹھ جاؤ میرے شہزادے۔۔۔
میں مسکراتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گیا وہ میرے سامنے کھڑی مجھے دیکھ کر رہی تھی۔۔۔
میں جب چارپائی سے اترا تو میرا ببر شیر سیدھا تن کر کھڑا تھا ۔۔۔
میں نے فرحی کو بانہوں میں بھرنا چاہا تو وہ پیچھے ہوتے ہوئے بولی امی آ جائیں گی چلو نہا لو پھر ناشتہ کرواتی ہوں۔۔۔
وہ وہاں سے چلی گئی میں لن کو ہاتھ میں پکڑے وہیں کھڑا رہا۔۔۔
جب واش روم میں سے ہو کر نہانے کے غسل خانے میں گیا تو وہاں میرے لیے نیا صابن تولیہ شیمپو سب موجود تھا۔۔۔۔
میں دل ہی دل میں بھا ہاشم کا شکریہ ادا کرنے لگا جو اس نے میرے لیے اتنا اچھا سوچا۔۔۔۔
میں نہا کر باہر نکلا واپس بیٹھک میں کنڈی لگائی ایک نئی پینٹ شرٹ نکال کر پہنی اور پھر جب باہر آیا تو فرحی ناشتہ لے آئی۔۔۔
چاچی چھوٹے کو کھانا کھلا رہی تھی چھوٹی میری طرف دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔
چاچا اور بالو دونوں جا چکے تھے میرے لیے کوئی حیرانی کی بات نہیں تھی۔۔۔۔
چاچا ہمیشہ سے ہی جلدی چلے جاتے تھے میں چونکہ دیر سے اٹھا تھا اس لیے بالو بھی سکول جا چکا تھا۔۔۔
فرحی آگے پڑھ نہیں رہی تھی اس لیے وہ گھر میں ہی رہتی تھی۔۔۔
چاچی نے مجھ سے پوچھا لگتا ہے رات نیند پوری نہیں ہوئی۔۔۔
میں نے کہا نہیں ایسی بات نہیں ہے بس بالو کے خراٹوں نے سونے نہیں دیا۔۔۔
چاچی ہنسنے لگی یہ بھی اپنے ابا پر گیا ہے وہ بھی ایسے ہی ساری رات خراٹوں کی مشین چلائے رکھتے ہیں۔۔۔۔
ایسے ہی باتیں کرتے کرتے ناشتہ ختم کیا اور میں نے کتابیں اٹھائیں کالج کے لیے نکل پڑا۔۔۔
شاہد کو فون کرکے ساری بات بتائی کس طرح میرا ایڈمیشن ایک پرائیویٹ کالج میں ہو گیا ہے۔۔۔
شاہد نے مجھے کہا کوئی بات نہیں وہاں کونسا کوئی تمہیں تنگ کرے گا ویسے بھی یہاں کافی زیادہ پنگے ہو گئے تھے۔۔۔
میں اب شاہد کو کیا کہتا کہ کہہ تو وہ بھی ٹھیک رہا تھا اس نے مزید کہا کہ ہم کالج سے کافی آگے نکل رہے تھے اس لیے یہ اچھا ہی ہوا ہے۔۔۔۔
کچھ ہی دیر میں کالج کے لیے نکل چکا تھا کالج جانے تک مجھے ارشد، ناصر اور عاذب تک کا فون آ چکا تھا۔۔۔۔
میں نے سب کو یقین دلایا کہ میں یہاں ہو کر آپ لوگوں کے ساتھ ہوں۔۔۔
شاہد کی نسبت ان کی سوچ مختلف تھی یہ لوگ نہیں چاہتے تھے کہ میں کالج چھوڑ کر کسی دوسرے کالج جاؤں۔۔۔
خیر میرے لیے یہ اچھا ہی ثابت ہو گا اس امید پر میں کالج پہنچ گیا۔۔۔
ایڈمن آفس میں جا کر اپنا نام بتایا تو وہاں موجود بندے نے مسکرا کر کہا تمہیں کون نہیں جانتا ۔۔۔
اس نے مجھے ایک چٹ دی جس پر کلاس کا نام اور میرا رول نمبر لکھا ہوا تھا۔۔۔۔
میں وہ چٹ لے کر کلاس روم کی تلاش میں سر گرداں تھا کہ ایک من موہنی سی صورت میرے سامنے آئی اور میں اس کو دیکھتا رہ گیا۔۔۔۔
وہ ایک ماڈرن ٹائپ کی لڑکی تھی جس نے سر کو سکارف میں چھپایا ہوا تھا نیچے ایک چست پاجامہ لمبا کرتا وہ بھی کافی مہنگا لگ رہا تھا۔۔۔۔
میں آنکھیں پھاڑے اس کو دیکھ رہا تھا وہ کوریڈور میں میرے سامنے سے آ رہی تھی۔۔۔
اس نے میرے پاس آ کر مجھے سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔۔۔
میں نے بغیر آنکھ جھپکائے اس کے سامنے اپنے ہاتھ میں موجود چٹ اس کی طرف بڑھائی۔۔۔
اس نے چٹ پڑھ کر مجھے اپنے پیچھے آنے کا کہا۔۔۔
میں کسی مجنوں کی طرح اس کے پیچھے سر اٹھائے چلنے لگا۔۔۔۔
وہ ایک کلاس کے سامنے جا کر رکی اور مجھے اشارے سے اندر جانے کا کہا۔۔۔
اس لڑکی کا قد بھی اچھا خاصہ تھا جسم کا فگر کمال تھا۔۔۔
دوپٹہ گلے میں ڈال کر اس نے اچھے سے اپنے سینے کو چھپایا ہوا تھا۔۔۔
وہ کہتے ہیں ناں کہ چھپائے نہ چھپے ایسا حسن تھا اس کا۔۔۔
چست پاجامے میں اس کی گوشت سے بھری ٹانگیں لمبے کرتے کے چاکوں کے درمیان سے جھانکتی اس کی رانیں اور پاجانے میں پھنسے اس کے چوتڑ میرے اندر کے شیطان کو بتا رہے تھے کہ یہ ہی وہ مقام ہے جہاں تم نے اپنا لاوا ڈالنا ہے۔۔۔۔
میں کلاس کے سامنے جا کر رکا اندر ایک فی میل لیکچرار پڑھا رہی تھیں۔۔۔
اس نے مجھے اگنور کرتے ہوئے میرے ساتھ کھڑی اس قیامت خیز حسن کی مالک دوشیزہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا رباب گل کلاس میں کیوں نہیں ہو آپ۔۔۔
رباب گل میرے دماغ میں وہ نام چھپ گیا اس حسین مورت کا نام رباب گل ہی ہونا چاہئے تھا۔۔۔۔
اتنا خوبصورت تو کوئی پھول ہی ہو سکتا ہے میرے ساتھ کھڑی تھی اس کے جسم سے بھینی بھینی خوشبو میرے نتھنوں میں گھس کر مجھے بتا رہی تھی کہ یہ پھول ہے جس کی پنکھڑیوں سے کھیلنے میں جو سرور آئے گا وہ کبھی بھول نہیں پاؤ گے۔۔۔۔
میڈم میں فیس جمع کروانے گئی تھی وہاں ٹائم لگ گیا تھا اس لیے لیٹ ہو گئی۔۔۔
وہ بولی تو ایسے لگا جیسے کوئل نے کوئی گیت چھیڑ دیا ہو۔۔۔
اس کے لبوں سے لفظ موتی بن کر نکل رہے تھے۔۔۔
میں دیکھ میڈم کی طرف رہا تھا لیکن میرا سارا دھیان اس رخ ماہتاب کی طرف تھا۔۔۔۔
میڈم نے کچھ کہا لیکن میں سن نہ پایا رباب گل آگے بڑھی اس کی خوشبو کے پیچھے کسی بھنورے کی طرح میں بھی کمرے میں داخل ہو گیا۔۔۔
پھر مجھے غصے بھری آواز سنائی دی کدھر منہ اٹھائے چلے جا رہے ہو ۔۔۔
میں سٹپٹا کر ہوش کی دنیا میں واپس آیا اور میڈیم کے پاس جا کر اس کو وہ چٹ دکھائی۔۔۔
میڈیم نے چٹ دیکھ کر مجھے ایک طرف بیٹھنے کا اشارہ کیا۔۔۔
وہ ایک مخلوط کالج تھا جس میں لڑکے اور لڑکیاں اکٹھے پڑھتے لیکن ایک ہی کلاس میں بیٹھنے کے لیے لڑکوں اور لڑکیوں کے لیے الگ الگ کرسیاں تھیں۔۔۔
میں جس کرسی پر بیٹھا اس کے ساتھ اور پیچھے سب لڑکے ہی تھے۔۔۔
میں بیٹھا تو میڈم نے مجھے کھڑا ہو کر اپنا تعارف کروانے کا کہا۔۔۔
میں کھڑا ہوا اور اپنا نام اور سابقہ کالج کا نام بتایا۔۔۔۔
میرے منہ سے صائم نواز ڈانگرا عرف بلو نکلنے کی دیر تھی کہ لڑکوں میں چے مگوئیاں ہونے لگیں۔۔۔۔
کچھ لڑکیاں بھی بولنے لگی تھیں میڈم کو یہ پسند نہ آیا اس نے غصے سے ڈانٹتے ہوئے سب کو خاموش کروایا۔۔۔
پھر میری طرف دیکھتے ہوئے کہا تم وہ صائم تو نہیں ہو سکتے۔۔۔
میں مسکرایا اور کہا میڈم اس ناچیز کو آپ صائم سمجھو بلو سمجھو یا کوئی اور جو بھی سمجھو وہ آپ پر منحصر ہے۔۔۔
میرا نام بس اتنا سا ہے صائم نواز اور بس باقی جو کچھ آپ سن چکی ہیں یا میرے بارے میں لوگ کہتے ہیں اس پر جب میں خود یقین کر چکا ہوں تو آپ کو بھی کر لینا چاہئیے۔۔۔
میڈم نے مشکوک نظروں سے مجھے دیکھا اور ایک ایسا سوال کیا جس کی مجھے ان سے توقع نہیں تھی ۔۔۔۔
میڈم نے کہا ڈاکٹر عمائمہ کہاں ہیں اور پرویز صاحب کا کیا حال ہے۔۔۔
میں ہنس پڑا اور کہا اب وہ کیسے ہیں یہ تو وہ ہی بتا سکتے ہیں، میں بس اتنا کہہ سکتا ہوں وہ دونوں خوش ہوں گے ۔۔۔۔
میڈم ہنس پڑی اور بولی بڑے چالاک ہو سب کہہ کر بھی کچھ نہیں کہا۔۔۔
میڈم نے اس دن جو پڑھانا تھا وہ پڑھا چکی تھیں ان کا لیکچر ختم ہوا وہ باہر نکل گئیں۔۔۔
ان کے جاتے ہی آخری لائن سے کچھ لڑکے اٹھ کر میرے پاس آئے اور مجھ سے ہاتھ ملایا۔۔۔
اسی طرح تقریباً سب لڑکوں نے مجھ سے ہاتھ ملایا، سب نے مجھے اپنے کالج میں خوش آمدید کہا۔۔۔
جس کی میں توقع کر رہا تھا وہ نہ آئی جس کو دیکھ کر میں مبہوت ہو گیا تھا اس نے آنکھ اٹھا کر بھی میری طرف نہ دیکھا۔۔۔۔
اگلے استاد جب کلاس میں آئے تو میرے آس پاس لڑکوں کا ایک جمگھٹا لگا ہوا دیکھ کر وہ سب پر برس پڑے۔۔۔
سب بھاگ کر اپنی اپنی جگہ پر چلے گئیے۔۔۔
جب سب بیٹھ گئے تو وہ پروفیسر میری طرف متوجہ ہوئے اور مجھے کہا صائم نام ہے تمہارا۔۔۔
میں نے کھڑے ہو کر کہا جی ۔۔۔
اس نے بڑے عجیب سے انداز میں کہا یہاں صرف پڑھائی ہوتی ہے اس لیے صرف پڑھنے کا سوچ کر ہی آنا۔۔۔۔
یہ گورنمنٹ کالج نہیں ہے جہاں تمہاری حرکتوں کو دیکھ کر بھی ان دیکھا کر دیا جائے گا۔۔۔۔
میں نے ان کی کسی بات کا برا نہ مانا جی جی کہتا رہا۔۔۔
وہ شاید میرے بارے میں جو کچھ جانتے تھے اس میں میرا کردار بڑا ہی غلط تھا۔۔۔
لڑکیوں کی طرف میں نے نظریں گھما کر دیکھا تو کچھ لڑکیاں میری طرف دیکھ کر ایسے مسکرا رہی تھیں جیسے ان کی دلی مراد صرف میری انسلٹ ہی تھی۔۔۔
لیکن جس کو میں دیکھ رہا تھا اس کے چہرے پر ردعمل صفر تھا۔۔۔۔
میں پروفیسر صاحب کی باتیں ہنس کر سن رہا تھا جس سے وہ بھی الجھ کر رہ گئے۔۔۔
انہوں نے مجھے ڈانٹ کر بٹھا دیا میں چپ چاپ بیٹھ گیا۔۔۔
میں نے ساتھ والے لڑکے کو فزکس کی کتاب کھولے دیکھ کر فزکس کی کتاب کھول لی۔۔۔
پچھلے ایک سال میں یہ پہلا موقع تھا کہ کلاس میں بیٹھ کر کتاب کھولی تھی۔۔۔
ان کے پڑھانے کا انداز مجھے بڑا پسند آیا اور جو کچھ انہوں نے پڑھایا سب کچھ سمجھ میں آگیا۔۔۔۔
پڑھانے کے بعد سوال جواب کا سلسلہ شروع ہوا ۔۔۔۔
ان کو حیرت کے جھٹکے لگے لگنے لگے جب وہ مجھ سے سوال کرتے تو میں فوری جواب دے دیتا۔۔۔۔
سب لڑکوں کو بھی اس بات پر حیرانی ہو رہی تھی کہ یہ تو غنڈا ٹائپ لڑکا مشہور ہے جس کے نام سے کئی لڑکے جگہ جگہ رعب جھاڑتے پھر رہے ہیں۔۔۔۔
کولمب کا قانون ٹاپک تھا جو میں پہلے ہی پچھلی کلاسوں میں پڑھ چکا تھا اس لیے کوئی مشکل نہیں تھی۔۔۔
لیکن ان سب کے دماغ میں میری جو تصویر چھپ چکی تھی وہ غلط تھی۔۔۔
پہلی بار مجھے لڑکیوں کی طرف سے بھی تعریفی نظروں کا ریسپانس ملا تھا۔۔۔
اسی طرح سارے لیکچر ہوئے آج ہاف ڈے تھا اس لیے کوئی بریک وغیرہ نہ ہوئی۔۔۔
میں تب تک وہاں گھل مل چکا تھا سب سے اچھی بات یہ ہوئی کہ ہمیں جو مطالعہ پاکستان پڑھانے آئی وہ ایک سمارٹ خوبصورت اور جوان پروفیسر تھی۔۔۔
اس کے چہرے کی مسکان کمال تھی اس کو دیکھ کر میں مڑ کر رباب کی طرف دیکھنے پر مجبور ہو گیا۔۔۔
اس کی شکل رباب سے ملتی تھی میں کیوں کہ نیا تھا اس لیے اس نے بھی میرا تعارف لیا ۔۔۔۔
جب میں نے اس کو اپنا تعارف کروایا تو اس نے چونک کر میری طرف نہ دیکھا۔۔۔
اس نے گہری نظروں سے مجھے دیکھا اور مسکرا دی اور کہا اوہ ہاں آپ کو تو میں جانتی ہوں۔۔۔۔
میں صرف مسکرایا ساتھ بیٹھے لڑکے نے مجھے کہنی ماری اور کان میں پوچھا کیا بات ہے آج تو ہر طرف آپ کے ہی چرچے ہیں۔۔۔۔
میں اب اس کو کیا بتاتا کہ اس سب کے لیے کتنی گانڈ مروانی پڑی ہے۔۔۔
اگر میرے بارے میں اس کالج کو پتہ چل جاتا کہ میں لڑکیوں کے معاملے میں کیسا ہوں تو میرے بارے میں جو کچھ یہ سب سوچ رہے تھے سب لوڑے لگ جانا تھا۔۔۔۔
جیسے تیسے پہلا دن گزرا کالج سے چھٹی ہوئی تو مجھے پرنسپل نے اپنے دفتر میں بلا لیا۔۔۔
میں نے اجازت لی اور اندر داخل ہو گیا پرنسپل نے مجھے بٹھایا ۔۔۔
پرنسپل شکل سے ہی بڑا شاطر اور کاروباری سوچ والا لگ رہا تھا۔۔۔
اس نے گلا کھنکار کر کہا دیکھو صائم تم یہاں آئے تمہارا داخلہ ہوا اگر میں سچ بتاؤں تو جب کل تمہارا بھائی اس سلسلے میں یہاں آیا تھا تو مجھے بالکل نہیں پتہ تھا کہ جس صائم کا وہ داخلہ کروانے آئے ہیں وہ تم ہو۔۔۔۔
آپ کو یہ پتہ ہونا چاہئیے کہ پرائیویٹ اور گورنمنٹ کے اداروں میں فرق ہوتا ہے۔۔۔۔
جو کچھ وہاں ہوتا رہا اس سب کو بھول کر یہاں شروعات کرو۔۔۔۔
جیسا ماحول وہاں تھا وہ یہاں نہیں مل سکتا ہم نے والدین کو جواب دینا ہوتا ہے اگر کچھ گڑ بڑ ہو جاتی ہے تو ہمارے کالج می بدنامی ہو گی۔۔۔۔
میں ساری باتیں سنتا رہا جب وہ چپ ہوئے تو مجھے جانے کہا اور ساتھ ہی یہ کہہ دیا کہ اگر کچھ ایسی ویسی حرکت یہاں ہوئی تو پھر نہ کہنا کہ میں نے کوئی زیادتی کی ہے۔۔۔
میرے بارے میں یہ نہ سمجھ بیٹھنا کہ میں سوٹڈ بوٹڈ ہوں تو شریف آدمی ہوں گا۔۔۔۔
میری ہنسی نکل گئی کیونکہ وہ مجھے ڈرانے کی کوشش کر رہا تھا مجھے صائم نواز ڈانگرا کو خود سوچیں ایک کالج کا پرنسپل مججے دھمکی دے رہا تھا جو ایک پڑھا لکھا اور میرے بارے میں زیرو نالج رکھنے والا اچھا شہری تھا۔۔۔۔
میری ہنسی دیکھ کر اس کو غصہ تو آیا لیکن جانے کے لیے اٹھ چکا تھا اس لیے بغیر کچھ بولے وہاں سے نکل گیا۔۔۔۔
کالج گیٹ کی طرف جاتے ہوئے ہماری مطالعہ والی پروفیسر نے مجھے آواز دی۔۔۔
میں رک گیا اس نے مجھے اپنی طرف بلایا میں آہستہ آہستہ چلتا ہوا اس کی طرف گیا۔۔۔۔
اس نے مجھے ساتھ لیا اور سٹاف روم میں لے گئی وہاں تقریباً دس کے قریب پروفیسرز موجود تھے۔۔۔
اس نے ان سب کو میرے بارے میں بتانا شروع کیا اور کہا جو کچھ آپ لوگ اس کے بارے میں سوچ رہے ہیں وہ سب غلط ہے۔۔۔
یہ اکلوتا لڑکا ہے جس نے میرے گورنمنٹ کالج کے دو سالوں پرانے دوران وہاں کے پرانے لچوں لفنگوں کو سیدھا کیا۔۔۔
کالج کی لڑکیوں کو تنگ کرنے والے اس وجہ سے ڈرنے لگ گئے کہ اگر بلو کو پتہ چلا تو ان کی خیر نہیں۔۔۔
اگر آپ لوگ سمجھ رہے ہو یہ کوئی غنڈہ ہے یا غلط انسان ہے تو آپ لوگ غلط ہو۔۔۔
میں نے اپنی آنکھوں سے کالج کے گراؤنڈ میں لڑکوں کو سگریٹ پیتے نشہ کرتے دیکھا ہے۔۔۔
پھر وہ وقت بھی آیا جب صرف کالج ہی نہیں بلکہ شہر سے منشیات فروشوں کا صفایا ہونے لگا۔۔۔۔
کئی ایسے لوگ دم دبا کر بھاگ گئے جو کالج کے پرنسپل کو ڈرایا کرتے تھے۔۔۔
یہاں تک کہ کالج کے اندر کھلے عام نشہ فروخت ہوتا تھا وہاں پڑھنے والی کئی لڑکیاں تک عادی ہو چکی تھیں۔۔۔
میں نے اپنے ساتھ پڑھنے والی لڑکیوں کو نشہ فروخت کرتے دیکھا ہے کالج کی کینٹین میں بیٹھ کر منشیات فروشوں کی ڈیلنگ ہوتی تھی۔۔۔
ہم لڑکیاں وہاں جانے سے کتراتی تھیں پھر وہ ہوا جو شاید اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔۔۔۔
ایک فرسٹ ائیر کا لڑکا ان سب کے سامنے ڈھال بن کر کھڑا ہو گیا۔۔۔
میں نے کہا ایک منٹ آپ کچھ زیادہ ہی بول رہی ہیں میں نے ایسا کچھ نہیں کیا۔۔۔
میں یہاں پڑھنے آیا ہوں اگر مجھے پڑھنے دیں گے تو ٹھیک ہے ورنہ میں کسی اور کالج میں چلا جاؤں گا۔۔۔۔
باقی رہی بات آپ کی تو آپ شاید میرے بارے کچھ نہیں جانتی اس لیے یہ سب کہہ رہی ہیں۔۔۔
میں چلتا ہوں مجھے عام انسان ہی رہنے دیں مجھے کسی اور دنیا کا انسان یا ہیرو بنا کر پیش نہ کریں تو مہربانی ہو گی۔۔۔
میں اتنا کہہ کر سٹاف روم سے باہر نکلا نکلتے ہوئے میں کسی سے ٹکرا گیا۔۔۔
جس سے ٹکرایا وہ کوئی اور نہیں بلکہ رباب گل تھی۔۔۔
میں نے اس سے سوری بولا اور آگے بڑھ گیا اس کے چہرے پر واضح طور پر حیرانی تھی۔۔۔۔
میں اسے اگنور کرتے ہوئے باہر کی طرف بڑھ گیا ۔۔۔۔
گیٹ سے باہر نکلا تو ایک دم کئی آوازیں گونجیں۔۔۔
میں نے نظریں اٹھا کر سامنے دیکھا لیکن اس پر غور کیے بغیر واپس مڑا۔۔۔
میرے واپس مڑنے کی وجہ وہ آوازیں ہرگز نہیں تھیں بلکہ میں جلدی نکلنے کے چکر میں یہ بھی بھول گیا تھا کہ بائیک پر آیا ہوں۔۔۔
میں پارکنگ سے بائیک نکالی اور پھر سے باہر نکلا بائیک چلاتے ہوئے جب گیٹ سے باہر نکلا تو پھر شور شروع ہو گیا۔۔۔۔
کالج کے کافی سارے لڑکے وہاں موجود تھے جو مجھے دیکھنے یا مجھ سے ملنے کے لیے کھڑے تھے یا ان کا مقصد کچھ اور تھا مجھے اس بات سے کوئی غرض نہیں تھی۔۔۔
میں جلد از جلد وہاں سے نکل جانا چاہتا تھا میرا موڈ عجیب سا ہو گیا تھا۔۔۔۔
میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا تھا میں یہاں نہیں پڑھ سکوں گا کیونکہ جو کچھ آج پہلے ہی دن ہوا اس سب سے جو نتیجہ اخذ کیا جا سکتا تھا وہ یہ ہی تھا۔۔۔
اگر کالج کی انتظامیہ کو مجھ سے پرابلم تھی تو کالج میں پڑھنے والے مجھے یہاں دیکھ کر خوش ہو رہے تھے۔۔۔
پرنسپل کو مجھ سے ڈر تھا کہ میں کالج کی بدنامی کا باعث بنوں گا۔۔۔۔
میں بائیک کو چلاتے ہوئے اپنی سوچوں میں گم جا رہا تھا۔۔۔
میں نے سوچا اس وقت گھر جا کر کیا کروں گا میں نے ایک پارک کا رخ کیا۔۔۔
پارک میں داخل ہوا اور بائیک ایک طرف کھڑی کرکے ایک بینچ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
اسی وقت دس بارہ بائیکس پارک میں داخل ہوئیں اور میری بائیک کے پاس رک گئیں۔۔۔
ان پر سوار لڑکے اتر کر میرے پاس آئے اور میرے دائیں بائیں کھڑے ہو گئے۔۔۔
وہ سب اسی کالج سے تھے جس میں ابھی داخلہ لیا تھا۔۔۔
میں نے ان سب کی طرف دیکھا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔۔۔
ایک لڑکا اگے بڑھا اور مجھے کہا کیا بات ہے بھائی آپ کو کالج میں کوئی پریشانی ہوئی ہے۔۔۔
میں نے ان سب کو بڑے غور سے دیکھا بالکل ممی ڈیڈی سے بچے تھے جو ابھی بھی بچے ہی لگ رہے تھے۔۔۔
ان کا موازنہ میں اپنے سابقہ کالج کے پینڈو لڑکوں سے کرنے لگا کہاں وہ مضبوط ہڈ کاٹھ کے اور کہاں یہ دبلے پتلے لڑکے۔۔۔
میں نے بولتے ہوئے کہا ایسا کچھ نہیں ہے میں اکثر یہاں آتا ہوں تنہائی میں بیٹھ کر پڑھتا ہوں۔۔۔
ایک لڑکے نے قہقہ لگاتے ہوئے کہا اوہ تو جناب پڑھتے بھی ہیں۔۔۔
مجھے اس کی بات ناگوار گزری ایک تو میں پرنسپل کی باتوں سے تپا ہوا تھا دوسرا ان لوگوں کے انداز پر مجھے تپ چڑھ گئی۔۔۔
میں اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا میں بڑے اچھے اچھے سبق پڑھاتا بھی ہوں، ایسے سبق جو کسی کتاب میں نہیں ملیں گے بلکہ تمہارے جیسے کاکے اپنے کاکوں کو بتائیں گے۔۔۔۔
وہ کھسیا سا گیا میں اٹھ کر جانے لگا تو ایک لڑکا آگے کھڑا ہو گیا اور کہا دیکھ بھائی تو یہاں پڑھنے آیا ہے پڑھ ہمیں کوئی اعتراض نہیں لیکن اگر تو نے پچھلے کالج والا کوئی سین یہاں دہرانے کی کوشش کی تو پچھتاؤ گے۔۔۔۔
میں نے ایک اچٹتی سی نظر اس پر ڈالی اور اس کو کندھے سے پکڑ کر ایک طرف کرتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
مجھے کوئی فرق نہیں پڑھتا تھا وہ کون ہے میں چند قدم ہی چلا ہوں گا کہ اس نے پیچھے سے کہا میرے بارے میں پوچھ لینا کسی سے کہ میں کس کا بیٹا ہوں۔۔۔۔
میرے پورے جسم میں خون آگ بن گیا میں تیزی سے پیچھے مڑا اور اس کے سامنے جا کر کھڑا ہو گیا۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں گھور کر دیکھا اور تڑاخ تڑاخ اس کے منہ پر تھپڑ برسانا شروع کر دئیے۔۔۔
وہاں موجود لڑکوں میں سے کسی میں ہمت نہ ہوئی کہ آگے بڑھ کر کچھ کرے۔۔۔
تھپڑ مار مار کر جب اس کے گال لال کر دئیے تو میں نے رک کر اس سے کہا اپنے باپ کا نام لے کر ڈرانے کی کوشش نہ کرنا ۔۔۔
تم صرف یہ یاد رکھو کہ میرا نام بلو ہے اور بس مجھے کسی کو بتانے کی ضرورت نہیں ہے کہ میرا باپ کون ہے۔۔۔
تیری بنڈ میں کتنا دم ہے وہ بتا اور اگر تو کچھ نہیں کر سکتا تو بھونکنے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔۔
اگر گانڈ میں ذیادہ کھجلی ہے تو مجھے بتاؤ میں وہ کھجلی مٹا دیتا ہوں۔۔۔۔
وہ ہکا بکا مجھے دیکھ رہا تھا میں واپس مڑا پھر ایک دم گھوم کر اس کے منہ پر ایک تھپڑ مار کر اپنی بائیک کی طرف بڑھ گیا۔۔۔۔
میں بائیک نکال رہا تھا کہ میرے کانوں میں ایک آواز پڑی۔۔۔
شیر اگر کتوں سے الجھنے لگ جائے تو لوگ اس کو شیر کہتے ہوئے شرمانے لگ جاتے ہیں۔۔۔
میں نے آواز کی سمت میں دیکھا تو ایک نیا چہرہ تھا جس کو میں نے کبھی نہیں دیکھا تھا۔۔۔۔
وہ چلتا ہوا میرے پاس آیا اور کہا ان بچوں پر اپنی انرجی ویسٹ مت کرو، تمہاری منزل کچھ اور ہونی چاہئیے۔۔۔۔
وہ اتنا کہہ کر ایک طرف کو بڑھ گیا لیکن میں وہیں کھڑا اس کے بارے میں سوچنے لگا۔۔۔۔
مجھے اس کی باتوں میں چھپا پیغام سمجھ آ گیا تھا وہ سب کچھ جو مجھے گاہے بگاہے کسی نہ کسی طرح سمجھایا جا رہا تھا۔۔۔۔
میں نے سر جھٹکا اور گھر کی طرف چل پڑا سارا رستہ مجھے اب تک کے سارے واقعات یاد آنے لگے۔۔۔۔
وہ ایک شخص بھی یاد آیا جو کالج میں ملا تھا بڑی بڑی مونچھوں والا جس کی مدر سے دارے خاں کو سائیڈ لائن کیا تھا۔۔۔
پھر وہ آنٹی یاد آئی اس کی یاد آتے ہی میرا اس کو ملنے کا دل کیا۔۔۔
خود بخود بائیک کا رخ اس کے پرانے گھر کہ طرف ہو گیا۔۔۔
جب میں وہاں پہنچا تو اس گھر کے سامنے ایک عورت کھڑی تھی جو نئی تھی۔۔۔۔
میں نے اس کو سلام کیا ۔۔۔
اس نے مجھے بڑے غور سے دیکھا اور کہا تم صائم ہو ناں۔۔۔
میں نے ہاں میں سر ہلایا ۔۔۔
اس نے کہا مجھے تمہارے بارے میں شمیم نے سب بتایا تھا۔۔۔
وہ کہہ کر گئی تھی کہ تم یہاں آؤ گے اگر آو تو میں تمہارا خیال رکھوں اور تمہیں تمہاری امانت لوٹا دوں۔۔۔
میں نے اس سے پوچھا آنٹی کہاں ہیں ۔۔۔
اس نے کہا وہ مان بننے والی ہے اس لیے وہ اپنے شہر گئی ہوئی ہے اس کا شوہر اور وہ دونوں گئے ہوئے ہیں۔۔۔
مجھے اس مکان کی ذمہ داری دے گئے ہیں ابھی کچھ دیر پہلے اس کا فون آیا تھا کہ آج تم یہاں آ سکتے ہو ۔۔۔۔
میرے دماغ میں صرف آنٹی کے ماں بننے والی بات گونج رہی تھی۔۔۔
میں نے اس سے ان کے شہر کا پوچھا اور جاننے کی کوشش کی کہ اگر ان سے ملنا ہو تو کیا کرنا پڑے گا۔۔۔
اس نے کوئی جواب نہ دیا بات کو ٹال گئی اور مجھے اندر لے گئی۔۔۔
میں اندر داخل ہوا تو گھر کی اندرونی حالت بدل چکی تھی ۔۔۔
وہ کمرہ جو ہمیشہ بند رہتا تھا اب کھلا ہوا تھا۔۔۔۔
فرش پکا تھا واش روم ما دروازہ بھی نیا لگ چکا تھا۔۔۔
میں سمجھ چکا تھا کہ اب وہ یہاں واپس نہیں آئے گی۔۔
وہ عورت اندر گئی اور ایک منٹ بعد واپس مڑی تو اس کے پاس ایک بیگ تھا اس نے وہ بیگ مجھے دیا اور کہا یہ شمیم مجھے دے کر گئی تھی کہ جب تم یہاں آو تو تمہیں دے دوں۔۔۔۔
میں نے اس سے بیگ لیا تو اس نے مجھے ایک چابی دی اور کہا یہ چابی بھی تمہیں دے دوں ۔۔۔۔
چابی کسی گھر کی تھی میں نے چابی بھی پکڑ لی اور وہاں سے چل پڑا۔۔۔۔
میرا رخ اب اس گھر کی طرف تھا جہاں آخری بار میں آنٹی کے ساتھ رات گزار چکا تھا۔۔۔۔
میں کالونی میں داخل ہوا اور دائیں بائیں دیکھتے ہوئے اس گھر کے سامنے جا کر بائیک روک دی۔۔۔
کالونی ابھی بھی سنسان تھی گنتی کے ہی گھر بنے ہوئے تھے۔۔۔
میں نے چابی نکال کر گھر کا گیٹ کھولا اور بائیک اندر لے گیا۔۔۔
اندرونی دروازہ کھول کر گھر میں داخل ہو گیا۔۔۔
سامنے ہی میز پر ایک فولڈڈ کاغذ پڑا تھا۔۔۔
میں نے وہ کاغذ اٹھا لیا۔۔۔۔